اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو سراپا رحمت بنا کر دنیا میں بھیجا۔ آپ ﷺ کی مبارک زندگی محبت، شفقت، عفو و درگزر اور حسن اخلاق کا حسین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے بے حد محبت فرماتے تھے، لیکن غریب، نادار اور کمزور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر آپ ﷺ کی خصوصی شفقت ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کبھی کسی کی عزت و مرتبے کا معیار مال و دولت کو نہیں بناتے تھے بلکہ تقویٰ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کو اصل فضیلت قرار دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ غریب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آپ ﷺ کی بارگاہ میں بے حد عزت و محبت پاتے تھے اور آپ ﷺ انہیں اپنے خاندان کے افراد کی طرح عزیز رکھتے تھے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔

حضور اکرم ﷺ کی محبت کا انداز یہ تھا کہ آپ ﷺ غریب صحابہ کرام کے ساتھ بیٹھنے میں کبھی عار محسوس نہ فرماتے۔ ان کی خیریت دریافت کرتے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھتے، ان کے ساتھ نہایت محبت سے گفتگو فرماتے اور ان کے دلوں کو خوش کرنے کی کوشش فرماتے۔ اصحاب صفہ جو انتہائی غریب تھے، حضور ﷺ ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ جب کبھی کھانا آتا تو پہلے انہیں یاد فرماتے، اگر کچھ ہدیہ آتا تو ان میں تقسیم فرما دیتے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی ان کی خدمت کی ترغیب دیتے تھے۔

ایک نہایت ایمان افروز واقعہ حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ پہلے غلام تھے اور دنیاوی اعتبار سے غریب تھے، لیکن حضور ﷺ کے نزدیک ان کا مقام بہت بلند تھا۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بلال! میں نے جنت میں اپنے آگے تمہارے قدموں کی آہٹ سنی۔ یہ سن کر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت و مرتبہ مال و دولت سے نہیں بلکہ ایمان، اخلاص اور نیک اعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ (بخاری، 1/393، حدیث: 1149)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی فقر و تنگ دستی میں زندگی گزارتے تھے، مگر حضور ﷺ ان سے بڑی محبت فرماتے، ان کی تعلیم و تربیت فرماتے اور ان کے لیے دعائیں بھی کرتے تھے۔ اسی محبت کی برکت سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ امت کے سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی بنے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: تمہیں رزق اور مدد تمہارے کمزور لوگوں کی وجہ سے ملتی ہے۔ (ابوداود، 3/39، حدیث: 2594)

آج ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے پیارے آقا ﷺ کی اس مبارک سنت کو اپنائیں، غریبوں اور ناداروں سے محبت کریں، ان کی مدد کریں، ان کی دلجوئی کریں اور انہیں کبھی حقیر نہ سمجھیں۔ یہی حقیقی عشق رسول ﷺ اور سنت نبوی پر عمل ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ