اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسانیت کے لیے نمونۂ کامل ہے۔ آپ ﷺ نے کبھی کسی انسان کی عزت و وقار کا معیار مال و دولت، حسب و نسب یا ظاہری شان و شوکت کو نہیں بنایا، بلکہ تقویٰ، اخلاص اور کردار کو اصل معیار قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ غریب، کمزور اور محروم صحابۂ کرام آپ ﷺ کے دل کے نہایت قریب تھے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف ان سے محبت فرمائی بلکہ ان کی عزت، دل جوئی اور ضروریات کا بھی خاص خیال رکھا۔

مشرکین و کفار نے حضور ﷺ سے کہا کہ آپ غربا و مسکین لوگوں کو چھوڑ دیں ہم اسلام لے آئیں گے کیونکہ انکی وجہ سے ہماری شان میں فرق آتا ہے اس کے متعلق قرآن کریم میں فرمایا گیا: وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ (پ 15، الکہف: 28) ترجمہ کنز الایمان: اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے۔

نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں، پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں،پھر جو لوگ ان کے قریب ہیں۔ (بخاری، 2/194،حدیث: 2652)

صحابۂ کرام وہ مقدس ہستیاں ہیں جن کے صدقے بعد میں آنے والےمسلمانوں تک دین اسلام کی تعلیمات پہنچی،ان کی شان وعظمت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ ربّ کریم نےاپنےپاکیزہ کلام میں ان کو رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کےلقب سے یاد فرمایا اور اللہ کے آخری نبی ﷺ نے انہیں ہدایت کے ستارے قرار دیا۔ (مشکاة المصابیح، 2/ 414، حدیث: 6018)

یہی وہ مبارک ہستیاں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا، یہ وہ خوش نصیب افراد ہیں جنہیں اللہ پاک نے اپنے محبوب کی صحبت اختیار کرنے کے لئے منتخب فرمایا، جنہوں نےدین اسلام کی ترویج و اشاعت کےلئے کفار کےظلم و ستم کو برداشت کیا، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابتدائے اسلام کے مشکل دور میں بھوک پیاس برداشت کرکے، پیٹ پر پتھر باندھ کر عزیز واقارب کو خطرے میں ڈال کر بھی پرچم اسلام کو سربلند رکھا یقیناً ان کی ان تھک محنتوں اور لازوال قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم اللہ پاک اور اس کے پیارے رسول کےنام لیوا ہیں۔

ویسے تو تمام صحابۂ کرام حضور کے پیارےاور ہمارے دل کا سرور ہیں لیکن ان میں کچھ ایسے صحابہ ٔ کرام بھی ہیں جن سے خاص نبی کریم ﷺکو محبت تھی اور آپ کی بارگاہ میں جب بھی کوئی چیز لائی جاتی تو آپ اس کو اپنےان اصحاب میں تقسیم فرماتےجنہیں آج اصحاب صفہ کے نام سے یادکیا جاتا ہے۔ یہ وہ خوش نصیب صحابہ ٔکرام تھے جنہوں نے اپنا گھر بارچھوڑ کر مسجدنبوی میں ڈیرے ڈالے تھےاورمحبوب خدا کی زبان سے نکلنے والے جملوں کو اپنے دلوں کے نگینوں میں بساتے تھے، انہی اصحاب میں شامل چند مشہور صحابہ ٔکرام جن میں حضرت ابو ہریرہ، حضرت بلال حبشی،حضرت ابوذرغفاری، حضرت عمار بن یاسر،حضرت سلمان فارسی،حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم کے نام نمایاں ہیں۔

یادرکھئے! بظاہراصحاب صفّہ بہت غریب تھے،اکثر فاقوں بھری زندگی میں رہتے، نبی کریم، رسول عظیم ﷺ کے پاس جب کوئی تحفہ،صدقہ یا مال غنیمت آتا توآپ اسےاصحاب صفہ پرخرچ فرماتے تھے اور کبھی کبھی ان عظیم لوگوں کے کئی کئی دن فاقوں میں گزر جاتے تھے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ شدید بھوک سے نڈھال تھے۔ مدد کی امید میں انہوں نے پہلے حضرت ابوبکر اور پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے قرآن کی آیت پوچھی تاکہ وہ انہیں کھانا کھلائیں، مگر دونوں گزر گئے۔ پھر نبی کریم ﷺ کا گزر ہوا۔ آپ ﷺ نے ان کی بھوک بھانپ لی اور گھر لے گئے۔ وہاں دودھ کا ایک پیالہ موجود تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اہل صفہ کو بلاؤ۔ حضرت ابو ہریرہ نے سب کو بلا کر ایک ایک کو وہی پیالہ دیا۔ سب نے سیر ہو کر پیا لیکن دودھ ختم نہ ہوا۔ آخر میں آپ ﷺ نے خود پیا اور حضرت ابو ہریرہ کو بھی فرمایا پیو۔ وہ بھی خوب سیر ہو کر پیے یہاں تک کہ مزید گنجائش نہ رہی۔ پھر باقی دودھ آپ ﷺ نے خود نوش فرمایا۔ (بخاری،4/223، حدیث:6452)

معلوم ہوا کہ نبی ﷺ کی برکت سے تھوڑا رزق بھی سب کے لیے کافی ہو گیا، اور آپ ﷺ نے ہمیشہ دوسروں کو خود پر مقدم رکھا۔

حضور نبی کریم ﷺ اپنی ضرورت کی چیزیں بھی حاجت مندوں کو دے دیا کرتے تھے، خود بھوکے رہ کر دوسروں کو کھلایا کرتے تھے،صدقے میں سے کچھ نہ لیتے البتہ ہدیہ قبول فرمالیا کرتے تھے۔

صحابہ کرام کئی دن تک بھوک کی تکالیف برداشت کرتے تھے انکی ایسی حالت ہوجاتی تھی کہ کھڑے کھڑے گر جاتے، ضعف اور کمزوری کی وجہ سے ان میں کھڑے ہونے کی طاقت نہیں ہوتی تھی۔علّامہ محمّد بن علّان شافعی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:اصحاب صفہ بھوک کی وجہ سے دوران نماز غش کھا کر گرجاتے۔ نبی کریم ﷺ نماز سے فارغ ہوکرانہیں تسلی دیتے ہوئےفرمایا:اگر تمہیں پتا چل جائے کہ اللہ کے ہاں تمہارے لیے کیا اجر وثواب ہے تو تم خواہش کروکہ تمہارا فاقہ ومحتاجی مزید بڑھ جائے۔ (ترمذی،4/162، حدیث:2375)

یہاں سے معلوم ہوا کہ آپ نے غریب و نادر صحابہ کرام کی دلجوئی فرمائی نیز نبی کریم ﷺ نے غربا لوگوں کے لیے تعلیم ارشاد فرمائی کہ روایت ہے حضرت ابوموسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: بھوکوں کوکھلاؤ بیماروں کی مزاج پرسی کرو قیدی چھوڑاؤ۔ (بخاری،4/5، حدیث:5649) ہمیں چاہیے کہ اصحاب صفہ کی سیرت مبارکہ پر عمل کرتے ہوئے فاقہ و تنگدستی پر بے صبری اور شکوہ و شکایت نہیں سے کام نہ لیں بلکہ صبر کر کے اس پر ملنے والے اجر عظیم کے حصول کے لیے کوشش کریں۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی نفس کی مخالفت کرتے ہوئے بھوک کی صعوبتیں برداشت کرنے کی توفیق و ہمت عطا فرمائے اور اس پر ملنے والے اجر سے مستفیض فرمائے۔ آمین