عشق حقیقی کے معنی: اللہ
تعالیٰ سے کی جانے والی محبت۔
عشق مجازی کے معنی: محبوب
سے کی جانے والی محبت۔
انسان اپنے لئے منزلیں اور راستے خود چنتا ہے اس کے
خود چننے پر صرف اسکا خود کا اختیار ہے اگر وہ چاہے تو اپنے لیے اچھا راستہ بھی
اختیار کرسکتا ہے اور برا بھی اسی طرح وہ چاہے تو عشق حقیقی کی منزل کو بھی چن
سکتا ہے اور عشق مجازی کی منزل کو بھی۔
آخرت میں کام آنے والا عشق عشق حقیقی ہی ہے، عشق
حقیقی صحیح معنوں میں ہے کیا؟ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطلب اس سے شدید محبت ہے
اللہ کا عشق اور ایمان لازم و ملزوم ہے عشق حقیقی اللہ سے محبت کا نام ہے، انسان
جب اپنی ذات سے بڑھ کر کسی سے محبت کرنے لگتا ہے تو اسے عشق کا نام دیا جاتا ہے
اور انسان عشق صرف خدا ہی سے کرتا ہے اور خدا سے کیا ہوا عشق انتہائی بے لوث ہوتا۔
انتہائی شدت سے بھرپور عشق جو انسان صرف اپنے اللہ سے کرتا ہے حقیقت میں وہی عشق
حقیقی کہلاتا ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان سچے دل سے عشق صرف اپنے
اللہ سے ہی کرتا ہے، بے شک اللہ تعالی کی تو ذات ہی اتنی بے نیاز ہے محبت بھری ہے
کل کائنات کے خالق و مالک ہے بے شک ! ایک بشر کی ذات کے لیے اس سے بڑھ کر تو کچھ
بھی نہیں۔
یہ ایک واضح سی حسین حقیقت ہے کہ انسان جب اپنے
اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے تو فقط کامیابی ہی حاصل کرتا ہے جب اللہ سے دل لگاتا ہے
تو کامیابی کو ہی خود کی منزل پاتا ہے وہ جب اپنے ہر کام کو اللہ تعالیٰ کی مرضی
سے کرتا ہے تو اسکے سارے کام اچھے ہونے لگتے ہیں اور کامیابی ہی اسکا مقدر بن جاتی
ہے سو عشق حقیقی کی واضح منزل کامیابی ہی کامیابی ہے۔
بے شک! اللہ تعالیٰ تو ستر ماؤں سے بڑھ کر اپنے
بندوں سے محبت کرتا ہے، عشق حقیقی دراصل حقیقت سے محبت ہے اور حقیقت ابدی شے ہوتی
ہے جو ہمیشہ زندہ یا موجود رہتی ہے۔ حب الٰہی اور حب رسول حقیقی ہیں جن کی نوعیت
ابدی ہے جبکہ دنیا کی ہر شے مثلاً حسن، دولت، اقتدار وغیرہ وغیرہ محض فریب نظر ہیں
اور سب فانی ہیں یعنی فنا ہونے والی ہیں اس لئے عشق مجازی غیر حقیقی شے ہے جس کی
کوئی اصلیت نہیں۔
عشق حقیقی انوار الٰہی میں سے ایک نور ہے، ایک ایسا
عظیم نور کہ اس سے بڑھ کر کوئی نور نہیں، کیونکہ جسم سے روح کا مرتبہ اونچا ہے،
روح سے عقل کا درجہ بلند تر ہے اور عقل سے عشق ارفع و اعلیٰ ہے۔
اللہ پاک دل سے دنیاکی محبت نکال کر اپنا عشق عطا
فرمائے۔
محبت میں اپنی گما یاالہی نہ پاؤں میں اپنا پتہ
یاالہی
رہوں مست وبےخد میں ولا میں پلا جام ایسا پلا یاالہی
محبت و عشق کیا ہے؟ دل
اگر کسی کی جانب مائل ہوجائے تو اسےمحبّت کہا جاتا ہے اور یہی محبت اگر شدّت
اختیار کرلےتو عشق کہلاتی ہے۔ عشق دو طرح کا ہوتا ہے، مجازی(یعنی انسانوں کا
انسانوں سے عشق) اور حقیقی (یعنی محبت خداومصطفٰی) عشق مجازی اکثرراہ دوزخ پر لے
جاتاجبکہ عشق حقیقی شاہراہ جنّت پر گامزن کرتا ہے، عشق مجازی تباہ وبرباد کرتا ہے
اور عشق حقیقی شاد وآباد کرتا ہے۔ عشق حقیقی میں بڑی قوت ہوتی ہے، یہ کبھی سخت
طوفان کا سامنا کرتا، کبھی فرعون کا مقابلہ کرتا،کبھی حکم الٰہی پرقربانی کے لئےسر
رکھ دیتا اور کبھی بے خطر آگ میں کود پڑتا ہے جبکہ عقل تکتی رہ جاتی ہے۔
بے خطرکود پڑا آتش نمرود میں عشق عقل
ہے محو تماشائے لب بام ابھی
اصل محبت
صرف اللہ پاک کی ہے اس کے سوا جس سے بھی محبت کی جائے صرف اللہ پاک کی رضا کے لیے
کی جائے امام غزالی نے احیاء العلوم میں تحقیق کی ہے کہ محبت کا مستحق صرف اور صرف
اللہ پاک ہے یعنی نادان جو کہتے ہیں کہ عشق مجازی یعنی گناہوں بھرا دنیاوی عشق عشق
حقیقی تک پہنچنے کا ذریعہ ہے یہ سخت خطا پر ہیں، والد اعلی حضرت مولانا نقی علی
خان فرماتے ہیں:شریعت میں غیر اللہ کے سامنے سر جھکانا منع ہے تو غیر اللہ کے لیے
دل جھکانا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ ہاں محبت مصطفی غیر اللہ کی محبت نہیں بلکہ محبت
الہی ہے کیونکہ جسے محبت مصطفی نصیب نہ ہو وہ ہرگز ہرگز محبت الہی حاصل نہیں کر
سکتا، قرآن کریم میں الله پاک ارشاد فرماتا ہے: قُلْ
اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (پ
3، اٰل عمران: 31) ترجمہ: اے حبیب فرما دو کہ اے لوگو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو
تو میرے فرمانبردار بن جاؤ اللہ تم سے محبت فرمائے گا۔
حدیث پاک میں ہیں: اللہ پاک سے محبت کرو کہ وہ
تمہیں نعمتیں عطا فرماتا ہے اور اللہ پاک کی محبت کے لیے مجھ سے محبت کرو اور میری
محبت کے لیے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔ مفسر قرآن مفتی احمد یار خان نعیمی فرماتے
ہیں: اللہ پاک کی محبت کے لیے اس کے رسول سے محبت ضروری ہے اور رسول اللہ سے محبت
کے لیے حضور ﷺ کے تمام صحابہ سے اور حضور کے اہل بیت اولاد پاک ازواج مطہرات سے
محبت لازم و ضروری ہے یہ تمام محبتیں ایمان میں داخل بلکہ عین ایمان یعنی ایمان کی
بنیاد ہے۔ (عثمان غنی اور محبت الہی، ص 6)
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے اسی میں ہو اگر خامی تو سب کچھ
نامکمل ہے
عشق رسول تو ایمان کی جان اور روح ایمان ہے میرے
امام نے اس عشق کا جا بجا اظہار فرمایا:
پارہ دل بھی نہ نکلا دل سے تحفے میں
رضا ان سگان کو سے اتنی جان
پیاری واہ واہ
شرح کلام رضا: یعنی اے رضا
مدینے کے کتوں کو نذر کرنے کے لیے تجھ سے سینہ چیر کر دل کا گوشت کیوں نہ پیش ہوا
تمہیں کوچہ حبیب اور مدینہ منورہ کے کتوں سے اپنی جان اتنی پیاری ہے۔
مکاشفۃ القلوب میں ہے: محبت کا صدق تین چیزوں سے
ظاہر ہوتا ہے: 1۔ محب، محبوب کی باتوں کو سب سے اچھا سمجھتا ہے 2۔ اس کے لیے محبوب
کی مجلس سب سے بہتر مجلس ہوتی ہے 3۔ اس کے نزدیک محبوب کی رضا سب سے عزیز ہوتی ہے۔
(مکاشفۃ القلوب، ص 33) حضرت سہل تستری فرماتے ہیں: اللہ سے محبت کی علامت یہ ہے کہ
وہ شخص قرآن پاک سے محبت کرے محبت الہی اور محبت رسول کی نشانی قرآن کریم سے محبت
اور حضور اکرم ﷺ کی سنت سے لگاؤ رکھنا ہے۔ (مکاشفۃ القلوب، ص 37)
قرب الہی کا ذریعہ: حضرت
ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبیوں کے تاجدار ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ ارشاد فرماتا ہے:
جس نے کسی ولی کو اذیت دی میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں اور بندہ میرا قرب سب سے
زیادہ فرائض کے ذریعے حاصل کرتا ہے اور نوافل کے ذریعے مسلسل قرب حاصل کرتا رہتا
ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ (بخاری، 4/248، حدیث:6502)
اللہ کے ذکر میں مشغول رہنا محبت الہی کی علامت بھی
ہے اور محبت الہی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی فرمان خداوندی ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا
كَثِیْرًاۙ(۴۱) وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۴۲) (پ 22، الاحزاب: 41،42) ترجمہ کنز
الایمان: اے ایمان والو اللہ کو بہت یاد کرو اور صبح و شام اس کی پاکی بولو۔
فرمان آخری نبی ﷺ ہیں: جوشخص جس سے محبت کرتا ہے
اکثر اسی کا ذکر کرتا ہے۔ (کنز العمال، 1/217، حدیث: 1825)
اپنا دل دنیا کی محبت سے خالی کر کے کلی طور پر
اللہ کے حضور جھکائے رکھنا، منقول ہے: اللہ نے حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف وحی
نازل فرمائی: کہ اے عیسی! میں دیکھتا ہوں کہ جب کسی بندے کا دل دنیا و آخرت کی
محبت سے پاک و صاف ہو جائے تو اسے اپنی محبت سے بھر دیتا ہوں ایسے تمام کاموں سے
دور رہنا جو اللہ کا قرب حاصل ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ حضرت ذالنون مصری فرماتے
ہیں: اللہ سے محبت کرنے والوں کی علامت یہ بھی ہے کہ ہر اس چیز کو چھوڑ دے جو اللہ
کی یاد سے غافل کر دے اور اپنے آپ کو اللہ کی رضا والے کاموں میں مصروف رکھے۔ (الزہد
الکبیر، ص 78)
مروی ہے کہ حضرت عیسی کا تین آدمیوں پر گزر ہوا جن
کے بدن کمزور اور رنگ بدلا ہوا تھا آپ علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے اس حال کا
سبب کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: دوزخ کی آگ کا خوف۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ پر حق
ہے کہ خائفین کو جہنم سے امان نصیب کرے پھر آپ علیہ السلام کا گزر ان کے علاوہ
دیگر تین اشخاص پر ہوا جو ان سے بھی زیادہ کمزور تھے اور رنگ ان سے بھی زیادہ بدلا
ہوا تھا استفسار فرمایا: تمہاری اس حالت کا سبب کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا جنت کا
شوق ارشاد فرمایا اللہ پر حق ہے کہ تمہیں وہ عطا فرمائے جس کے تم امیدوار ہو پھر
آپ تین اور آدمیوں کے پاس سے گزرے جو سابقہ دونوں گروہوں سے زیادہ کمزور اور متغیر
رنگ والے تھے اور ان کے چہروں پر گویا نور کے آئینے تھے جب حضرت عیسی علیہ السلام
نے ان سے فرمایا تمہاری اس حالت کا سبب کیا ہے ؟انہوں نے جواب دیا ہم اللہ سے محبت
کرتے ہیں آپ نے تین بار کہا: تم ہی لوگ مقرب ہو یعنی اللہ کا زیادہ قرب تم لوگوں
کو ہی حاصل ہے۔(اللہ سے محبت کرنے والوں کے واقعات ص 10)
قلب میں یاد تیری بسی ہو ذکر لب پر
تیرا ہر گھڑی ہو
مستی و بے خودی اور فنا کی میرے مولا
تو خیرات دے دے
پارہ 2 سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 165 میں ارشاد ہوتا
ہے: وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- ترجمہ کنز الایمان: اور ایمان والوں کو اللہ کے
برابر کسی کی محبت نہیں۔تفسیر صراط الجنان میں ہے: اللہ تعالی کے مقبول بندے تمام
مخلوقات سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں محبت الہی میں جینا اور محبت الہی میں
مرنا ان کی زندگی کا مقصد ہوتا ہوتا ہے دل کو غیر کی محبت سے پاک رکھنا اللہ تعالی
کے محبوبوں سے محبت اور اللہ کے دشمنوں سے نفرت کرنااللہ کے سب سے پیارے رسول کو
دل و جان سے محبوب رکھنا اللہ کے مقرب بندوں کو اپنے دلوں کے قریب رکھنا ان سے
محبت رکھنا محبت الہی میں اضافے کے لیے ان کی صحبت اختیار کرنا اللہ کی تعظیم
سمجھتے ہوئے ان کی تعظیم کرنا یہ تمام امور اور ان کے علاوہ سینکڑوں کام ایسے ہیں
جو محبت الہی کی دلیل ہیں اور اس کے تقاضے بھی ہیں۔ (الله پاک کی محبت حاصل کریں،
ص3)
خلاصہ یہ کہ اللہ تک پہنچنا چاہتے ہیں کسی کامل پیر
کی صحبت اختیار کریں جو آپ کے دل سے دنیا کی رنگینیوں کو نکالے احمد رضا کے دروازہ
عشق تک لے جائے احمد رضا غوث اعظم کے قدموں تک پہنچا دیں غوث پاک علی المرتضی شیر
خدا تک اور مولائے کائنات جان عالم کے دروازہ رحمت تک پہنچا دیں محبوب خدا کا قرب
مل جائے تو یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ کی معرفت حاصل نہ ہو سکے تو کیوں نہ ولی کامل
شیخ طریقت امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کے ہاتھ پر بک جائیں تا کہ معرفت
الٰہی حاصل ہو جائے اللہ ہمیں اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین
عشق حقیقی ازبنت میاں محمد یوسف قمر، جامعۃ المدینہ پاکپورہ
جیل روڈ سیالکوٹ
عشق حقیقی انوار الٰہیہ میں سے ایک نور ہے۔ نور کسی
چیز کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے اسی طرح نور عشق عاشق کے جسم،روح اور عقل کے مسلسل
جلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پ
2، البقرۃ: 165) ترجمہ کنز الایمان: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت
نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے تمام مخلوقات سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے
ہیں۔ محبت الٰہی میں جینا اورمحبت الٰہی میں مرنا ان کی حقیقی زندگی ہوتا ہے۔اپنی
خوشی پر اپنے رب کی رضا کو ترجیح دینا، نرم وگداز بستروں کو چھوڑ کر بارگاہ نیاز
میں سر بسجود ہونا، یاد الٰہی میں رونا، رضائے الٰہی کے حصول کیلئے تڑپنا، سردیوں
کی طویل راتوں میں قیام اور گرمیوں کے لمبے دنوں میں روزے، اللہ تعالیٰ کیلئے محبت
کرنا، اسی کی خاطر دشمنی رکھنا، اسی کی خاطر کسی کو کچھ دینا اور اسی کی خاطر کسی
سے روک لینا، نعمت پر شکر، مصیبت میں صبر، ہر حال میں خدا پر توکل، اپنے ہر معاملے
کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا، احکام الٰہی پر عمل کیلئے ہمہ وقت تیار رہنا، دل
کو غیر کی محبت سے پاک رکھنا، اللہ تعالیٰ کے محبوبوں سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے
دشمنوں سے نفرت کرنا، اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا نیاز مندرہنا،اللہ تعالیٰ کے سب سے
پیارے رسول و محبوب ﷺ کو دل و جان سے محبوب رکھنا، اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت،
اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں کو اپنے دلوں کے قریب رکھنا، ان سے محبت رکھنا، محبت الٰہی
میں اضافے کیلئے ان کی صحبت اختیار کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم سمجھتے ہوئے ان کی
تعظیم کرنا،یہ تمام امور اور ان کے علاوہ سینکڑوں کام ایسے ہیں جو محبت الٰہی کی
دلیل بھی ہیں اور اس کے تقاضے بھی ہیں۔
انسان کو بہت سے رشتوں اور اشیاء سے محبت ہوتی ہے
مثلاً اللہ تبارک و تعالیٰ سے محبت، جان کائنات ﷺ سے محبت، ماں، باپ،بیوی،بچے،دوست
جائیداد وغیرہ سے محبت۔جس محبت میں شدت اور جنون پیدا ہو جائے اور وہ باقی تمام
محبتوں پر غالب آجائے اسے عشق کہتے ہیں۔
آقا کریم ﷺ نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مومن نہیں
ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے اہل، مال اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ
ہو جاؤں۔ (مسلم، ص 47، حدیث: 168)
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی اس وقت
تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب نہ
ہو جائیں۔ (مسند امام احمد، 4/ 412، حدیث:13150)
عاشق کی اصل منزل وصالِ حق ہے جو صرف عشق حقیقی سے
حاصل ہوتی ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: عشق ایک لطیفہ ہے
جو غیب سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور معشوق کے سوا کسی چیز سے قرار نہیں پکڑتا۔
عشق حقیقی کیا ہے؟ سادہ
الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:1) ہر چیز کو محبوب کے لیے خاص کر دینے کا نام
عشق ہے۔ 2) محبوب کے لیے ترک آرام کا نام عشق ہے۔3) محبوب پر جاں نثاری کا نام عشق ہے۔ 4) عشق خمار
ہے اور اس خمار کا مداوا دیدار یار ہے۔ (شمس الفقراء، ص 322،323)
لہذا ہماری سوچوں کا محور عشق رسول ﷺ بلکہ ہر انسان
کی زندگی کا ماحصل عشق الٰہی و عشق رسول ﷺ ہی ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر اقبال نے عشق
حقیقی کی یوں تصور کشی فرمائی ہے:
عشق دم جبرائیل، عشق دل مصطفیٰ عشق خدا کا رسول، عشق خدا کا
کلام
عشق ہی سے حق کی پہچان ہوا کرتی ہے اور عشق کی
بدولت ہی حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ نے دور رہ کر بھی حضور ﷺ کو پہچان لیا۔ عشق
حقیقی تک پہنچنے کے لیے کامل مرشد وسیلہ ہوا کرتے ہیں۔
امیر اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:
غم عشق نبی ایسا عطا فرما پئے مرشد
ہو نعت مصطفٰے سنتے ہی میری آنکھ نم
مولیٰ
آخر میں رب کریم سے دعا ہے کہ ہمیں عشق حقیقی کی
لذت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
اللہ پاک کے ساتھ محبت تو ہر مسلمان کو ہوتی ہے مگر
جب یہ محبت حد سے تجاوز کر جائے تو اسے عشق کہتے ہیں۔ اللہ کے ساتھ اس کے بندے کو
جو عشق ہوتا ہے وہ عشق حقیقی کہلاتا ہے۔ اگرکوئی شخص عشق مجازی میں گرفتار ہو جائے
وہ اسی عشق میں مرا بشرطیکہ پاکدامن ہو اور اپنا عشق چھپایا ہو تو وہ شہید ہے۔ لمحۂ
فکریہ ہے کہ وہ جس سے اس نے محبت کی تھی وہ مخلوق ہے تو اس کو شہید کا ثواب ملتا
ہے تو اگر اس مخلوق کے خالق سے عشق کر لیا جائے تو اس کا درجہ کیا ہو گا؟ اللہ
قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: وَ
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِؕ- (پ
2، البقرۃ: 165) ترجمہ کنز الایمان: اور ایمان والوں کو اللہ کے برابر کسی کی محبت
نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے تمام مخلوقات سے بڑھ کر
اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں۔ محبت الٰہی میں جینا اورمحبت الہی میں مرنا ان کی
حقیقی زندگی ہوتا ہے۔اپنی خوشی پر اپنے رب کی رضا کو ترجیح دینا، دل کو غیر کی
محبت سے پاک رکھنا، اللہ تعالیٰ کے محبوبوں سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے دشمنوں سے
نفرت کرنا، اللہ تعالیٰ کے پیاروں کا نیاز مندرہنا،اللہ تعالیٰ کے سب سے پیارے
رسول و محبوب ﷺ کو دل و جان سے محبوب رکھنا، اللہ تعالیٰ کے کلام کی تلاوت، اللہ
تعالیٰ کے مقرب بندوں کو اپنے دلوں کے قریب رکھنا، ان سے محبت رکھنا، محبت الٰہی میں
اضافے کیلئے ان کی صحبت اختیار کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم سمجھتے ہوئے ان کی
تعظیم کرنا،یہ تمام امور اور ان کے علاوہ سینکڑوں کام ایسے ہیں جو محبت الٰہی کی
دلیل بھی ہیں اور اس کے تقاضے بھی ہیں۔
ایمان کیا ہے؟ حضرت ابو رزین
عقیلی رضی اللہ تعالی عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ایمان کیا
ہے؟ ارشاد فرمایا: ایمان یہ ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تمہارے نزدیک سب سے زیادہ
محبوب ہو جائیں۔ (مسند امام احمد، 4/ 412، حدیث: 13150)
محبت باری تعالیٰ کے لیے دعا: حضور
ﷺ اس طرح دعا کیا کرتے تھے: اے اللہ! مجھے اپنی محبت عطا فرما اور جو تجھ سے محبت
کرتا ہے اس کی محبت اور جو تیری محبت کے قریب کر دے اس کی محبت عطا فرما اور اپنی
محبت کو میرے نزدیک ٹھنڈے پانی سے بھی محبوب بنا۔ (ترمذی، 5/ 692، حدیث: 3501)
آج کل لوگ بہت سے باتوں میں بدشُگونی لیتے ہیں
جیساکہ سفر کے دوران کالی بلی کا سامنے سے گزر جانا اور صفر المظفر میں شادی نہ کرنا ، 13 کے عدد کو منحوس سمجھنا وغیرہ۔
لیکن یاد رہے! دینِ اسلام کی تعلیمات کے مطابق بدشگونی حرام ہےاور غیر مسلموں کا طریقہ
ہے۔
بدشگونی جیسے گناہوں سے لوگوں کو بچانے اور اُن
کی اصلاح و رہنمائی کرنے کے لئے خلیفۂ
امیرِ اہلِ سنت مولانا حاجی عبید رضا عطاری مدنی مُدظلّہ الْعَالَیْ نے اس ہفتے عاشقانِ رسول کو 14 صفحات کا رسالہ ”امیرِ اہلِ سنت سے بَدشُگونی
کے بارے میں 20 سوال جواب“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے/ سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازاہے۔
دعائے خلیفۂ عطار
یارب المصطفےٰ! جو کوئی 14 صفحات کا رسالہ ”امیرِ اہلِ سنت سے بَدشُگونی کے
بارے میں 20 سوال جواب“ پڑھ یا سن لے اُسے بَدشُگونی اور تَوَہُّمات سے
محفوظ فرمااور اس کی ماں باپ سمیت بے حساب مغفرت فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ
النّبیّٖن صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کیجئے:
اسلام میں جہاں بے زبان جانوروں کے حقوق بیان ہوئے
ہیں، پھر اس اسلام میں مسلمانوں کے کتنے زیادہ حقوق ہوں گے۔ نبی پاک ﷺ نے فرمایا
مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں،ویسے تو بے شمار حقوق ہیں مگر یہاں مراد وہ حقوق
ہیں جن کی عادت ڈالی جائے یعنی مسلمان کے مسلمان پر حق ہیں ان کی ادا کی عادت
ڈالنی چاہیے۔
(1) سلام کا جواب دینا:سلام
کرنا سنت ہے اور جواب دینا فرض مگر ثواب سلام کا زیادہ ہے،گھر میں ماں باپ یا بیوی
بچے ہوں بہرحال سلام کر کے داخل ہو اس سے گھر میں اتفاق اور روزی میں بڑی برکت
ہوتی ہے۔
(2) بیمار کی عیادت کرنا:
مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرتا ہے تو جنت کے باغ میں رہتا ہے حتی کہ لوٹ
آئے،جو کسی مسلمان کی صبح کے وقت بیمار پرسی کرے 70 ہزار فرشتے اسے شام تک دعائیں
دیتے ہیں اور اگر شام کو بیمار پرسی کرے تو صبح تک 70 ہزار فرشتے دعائیں دیتے ہیں
اور اس کے لیے جنت میں باغ ہوگا،بیمار پرسی معمولی سی نیکی معلوم ہوتی ہے مگر یہ
لاتعداد فرشتوں کی دعا ملنے کا ذریعہ ہے اور جنت ملنے کا سبب بشرطیکہ صرف رضا الہی
کے لیے ہو۔
(3) جنازے کے ساتھ جانا:
جنازے کے ساتھ عام حالات میں سنت ہے،جب جنازہ رکھا جاتا ہے پھر اسے لوگ اپنے
گردنوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے مجھے لے چلو اور اگر بد ہو
تو اپنے گھر والوں سے کہتا ہے ہائے اسے کہاں لے جاتے ہو اس کی آواز انسان کے سوا
ہر چیز سنتی ہے اگر انسان سنے تو بے ہوش ہو جائے۔
(4) دعوت قبول کرنا:دعوت
میں شرکت کھانے کے لیے یا وہاں انتظام و کام وکاج کے لیے سنت ہے،کبھی فرض لیکن اگر
خاص دسترخوان پر ناجائز کام ہوں جیسے شراب کا دور یا ناچ گانا تو شرکت ناجائز
ہے،عام دعوت میں انتظام کے لیے ضرور جاؤ کوئی معذوری یا مجبوری نہ ہو تو۔
(5) چھینک کا جواب دینا:
چھینک اللہ تعالی کی نعمت ہے لہذا اس پر اللہ کی حمد کرنی چاہیے،چھینکنے والا
الحمدللہ کہے تو سننے والے سب یا ایک جواب میں کہیں يرحمك الله پھر چھینکنے والا
کہے يہديكم الله و یصلح بالكم اور اگر حمد نہ کرے یا اسے زکام ہے کہ بار بار
چھینکتا ہے تو وہ پھرجواب ضروری نہیں۔
اللہ پاک
ہمیں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاه الامين
عام مسلمانوں کے 5 حقوق از بنت محمد جاوید اقبال،جامعۃ
المدینہ چباں فیصل آباد
پیارے قارئین! اسلامی تعلیمات میں تمام مسلمان ایک
ملت اور ایک قوم کی طرح ہیں سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں شریعت اسلامیہ نے
اخوت و ہمدردی کو قائم کرنے کے لیے ایک مسلمان کےدوسرے مسلمان پر کئی حقوق عائد
کیے ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے ان میں سے پانچ درج ذیل ہیں:
1۔ محبت کرنا: نبی کریم ﷺ نے
ارشاد فرمایا: تم ایک دوسرے سے مصافحہ کیا کرو اس سے تمہارے درمیان بغض و کینہ ختم
ہو جائے گا اور ایک دوسرے کو ہدیہ دیا کرو اس سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو گے
تمہارے درمیان دشمنی ختم ہو جائے گی۔(موطا امام 2/407، حدیث: 1731)
2۔ مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں: 1-جب وہ بیمار
ہو تو عیادت کرے 2-جب وہ مر جائے تو اس کے جنازے پر حاضر ہو 3-جب دعوت کرے تو اس
کی دعوت کو قبول کرے4-جب وہ ملاقات کرے تو اسے سلام کرے5- جب وہ چھینکے تو جواب دے
6- اس کی غیر حاضری اور موجودگی دونوں میں اس کی خیر خواہی کرے۔ (ترمذی، 4/338، حدیث:
2746 )
3۔ غم خواری کرنا: رسول
اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کی تو اسے مصیبت زدہ کے
برابر اجر ملے گا۔ (ترمذی، 2/338، حدیث: 1075)
4۔ عیادت کرنا: محمد
عربی ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان جب اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کو گیا تو واپس
ہونے تک ہمیشہ جنت کے پھل چننے میں رہا۔ (مسلم، ص 1066، حدیث: 6554)
5۔ کسی کی عزت بچانا: جس
نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا اللہ تعالی روز قیامت اسے جہنم کا عذاب دور کر
دے گا۔ (ترغیب و ترہیب، 3/334، حدیث:37)
دین اسلام میں جہاں والدین، اولاد، استاد،رشتہ
داروں، پڑوسیوں، مزدوروں، جانوروں اور دیگر طبقات کے حقوق بیان فرمائے اسی طرح ایک
مسلمان پر بھی دوسرے مسلمان کے حقوق مقرر فرمائے جن کا ادا کرنا ہر مسلمان پر لازم
و ضروری ہے۔ انہی حقوق میں سے 5 حقوق ملاحظہ ہوں:
1۔ مسلمان کے حقوق میں سے ہے کہ اپنی زبان اور کسی
فعل سے دوسرے مسلمان کو دکھ نہ پہنچائے۔ فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: مسلمان وہ ہے جس کے
ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (مسلم، ص 41،
حدیث: 65)
ایک طویل حدیث مبارکہ ہے جس میں آقا ﷺ نے لوگوں کو
اچھی عادات اپنانے کے متعلق حکم ارشاد فرمایا: اگر تم یہ نہیں کر سکتے ہو تو لوگوں
کو اپنے شر سے محفوظ رکھو یہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو تم نے اپنی ذات کے لیے دیا ہے۔(بخاری،
2/150، حدیث: 2518)
2۔ مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ بھی حق ہے کہ جو
کچھ اپنے لیے پسند کرتا ہے وہی اپنی مسلمان بھائی کے لیے پسند کرے اور جو چیز اپنے
لیے بری سمجھتا ہے دوسرے مسلمان کے لیے بھی اسے برا سمجھے۔ فرمان آخری نبی ﷺ ہے: تم
سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی وہی
چیز پسند نا کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ (مسلم،ص 47، حدیث: 170)
3۔ مسلمانوں کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ لوگوں کی
باتیں ایک دوسرےکو نہ بتلائی جائیں اور کسی کی بات سن کر دوسرے کو نہ سنائی جائے
یعنی کسی مسلمان کی چغلی نہ کھائی جائے۔ چنانچہ آقا جان ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: چغل
خور جنت میں نہیں جائے گا۔ (بخاری، 4/115، حدیث: 6056)
4۔ حقوق مسلم میں سے ہے کہ غصے کی حالت میں اپنے
مسلمان بھائی سے تین دن سے زائد ترک تعلق نہ رکھا جائے۔ اپنے مسلمان بھائی کی
لغزشوں کو معاف کرنے پر میٹھے میٹھے آقا ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: جس نے کسی مسلمان
بھائی کو اس کی لغزش کے سبب چھوڑ دیا اللہ پاک قیامت میں اسے چھوڑ دے گا۔ (ابن ماجہ،
3/36، حدیث: 2199)
5۔ ایک مسلمان کے دوسرے پر جو حقوق ہیں ان میں سے
یہ بھی ہے کہ مسلمان کے عیبوں کی پردہ پوشی کی جائیں اور اخلاص کے ساتھ دوسروں کو
بھی اس کی ترغیب دلائی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا اللہ قیامت کے دن اس کے
عیوب کا پردہ رکھے گا۔(بخاری، 2/126، حدیث:2442)
اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ
ساتھ حقوق العباد کی بھی اچھی طرح ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
خاتم النبیین ﷺ
قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمان کو
مسلمان کا بھائی قرار دیاہے تمام مسلمان دینی رابطےاوراسلامی محبت کےذریعےآپس میں
جڑےہوئےہیں۔ قدرتی طور پر زمین اور جو کچھ اس کے اندر موجود ہے وہ اللہ تعالیٰ کے
تمام بندوں کے استفادے کے لیے ہے اس لیے تمام انسانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ
اللہ تعالی کی عطا کی ہوئی نعمتوں سے خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسرے انسانوں کو
بھی فائدہ پہنچائیں دوسرے انسانوں کے مفاد کا، ان کے حصے کا اور ان کی ضرورتوں کا
خیال رکھنا ہی حقوق العباد کی ادائیگی ہے۔
حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں اسلام پہلا اور آخری
دین ہے جس نے انسانوں کے مختلف رشتوں کو فطری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی
اولیت متعین کر دی ہے۔
امام غزالی
نے کیمیائے سعادت میں مسلمانوں کے 23 حقوق بیان کئے ہیں۔ اگر ان تمام حقوق کو ایک
لفظ میں بیان کرنا چاہیں تو وہ لفظ محبت ہے یعنی ہر مسلمان پر لازم ہے
کہ وہ دوسرے مسلمان کو اپنا بھائی سمجھے اور اس سے محبت کرے۔ جہاں سچی محبت ہوتی
ہے وہاں باہمی جنگ و جدل اور خون خرابہ نہیں ہوتا۔ وہاں ایک دوسرے کی عصمت و آبرو
اور عزت و عفت کی حفاظت کی جاتی ہے۔ جہاں سچی محبت ہوتی ہے وہاں نسلی اور لسانی
تعصبات نہیں ہوتے، جہاں سچی محبت ہوتی ہے وہاں بغض و عناد اور حسد اور کینہ نہیں
ہوتا۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کا ایمان اس وقت تک کامل
نہیں ہو سکتا جب تک وہ دوسرے مسلمان کے لیے وہ چیز پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا
ہے۔ (مسلم،ص 47، حدیث: 170)
محبت کے بعد ہر مسلمان کا دوسرا حق یہ ہے کہ اس کی
جان کو تحفظ دیا جائے۔
تیسرا حق یہ ہے کہ اس کے مال کی حفاظت کی جائے۔
چوتھا حق یہ ہے کہ بیماری تکلیف، بھوک اور پریشانی
میں اس کی مدد کی جائے۔
مسلمان کا ایک حق یہ بھی ہے کہ جب اس سے کوئی غلطی
سرزد ہوجائے تو اس کو معاف کردیا جائے کیونکہ اگر آج ہم اس سے درگزر کریں گے تو
قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ہم سے درگزر فرمائے گا۔
كوئى
مسلمان یتیم ہوجائے تو اس سے پیار محبت کا برتاؤ کیا جائے، اس کے مال میں خیانت نہ
کی جائے، اسے احساس کمتری کا شکار نہ بنایا جائے، اس کی صحیح تربیت اور پرورش کی
جائے۔
مسلمان پڑوسی کا حق یہ ہے کہ اسکی خبر گیری کی جائے۔
مسلمان خادم اور نوکر کا حق ہے کہ اسے اچھا کھانا
اور لباس دیا جائے، اس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لیا جائے اور اسے معقول
معاوضہ دیا جائے، اسے بھی اپنے جیسا انسان سمجھا جائے۔ مسلمان عالم دین کا حق یہ
ہے کہ اس کا ادب و احترام کیا جائے اور دینی مسائل میں اس سے استفادہ کیا جائے۔
مسلمان مزدور کو اس کا معقول معاوضہ جلد سے جلد ادا کیا جائے اور اس کے ساتھ کوئی
ایسا معاملہ نہ کیا جائے جس سے اس کی عزت نفس مجروح ہو۔
روایت کا مفہوم ہےکہ کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں
ہوتا جب تک اپنے بھائی کیلئےوہی چیزپسندنہ کرےجووہ اپنےلئےکرتاہے۔(مسلم،ص 47،
حدیث: 170)
مسلمان کےساتھ خیرخواہی کرنا بھی مسلمان کاایک حق
ہےکہ فرمان مصطفیٰ ﷺ ہے: اللہ پاک فرماتا ہے کہ میرے نزدیک بندے کی سب سے پسندیدہ
عبادت لوگوں سے خیرخواہی کرنا ہے۔ (کنز العمال، 3/166، حدیث: 7197)
اللہ کریم ہمیں اخلاص کے ساتھ مسلمانوں کے حقوق
درست انداز سے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین
عام مسلمانوں کے 5 حقو ق از بنت طارق محمود فیضان ام
عطار گلبہار سیالکوٹ
جان لیجئے کہ انسان یا تو اکیلا رہتا ہے یا کسی کے
ساتھ اور چونکہ انسان کا اپنے ہم جنس لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے بغیر زندگی
گزارنا مشکل ہے سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا ہر مسلمان پر اس میل
جول کے حقوق کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ ان حقوق کو حدیث مبارکہ کی روشنی میں
ملاحظہ فرمائیں:
1۔ سرکار مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے تم
پرچار حقوق ہیں: (1)نیکی کرنے والے کی مدد کرو (2) گناہ کرنے والوں کے لئے بخشش
طلب کرو (3) رخصت ہونے والے کے لئے دعا کرو (4) توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھو۔ (فردوس
الاخبار، 1/ 215، حدیث: 1502)
2۔ رسول اکرم ﷺ کا ارشاد پاک ہے: مسلمان وہ ہے جس
کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔ (مسلم، ص 41،
حدیث: 65)
3۔ رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا: باہمی محبت اور
رحم دلی میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی طرح ہے جب جسم کے کسی عضو کو تکلیف ہوتی
ہے تو تمام جسم بخار اور بیداری کی تکلیف برداشت کرتا ہے۔ (بخاری، 4/103، حدیث:
6011)
4۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی اس
وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنے (مسلمان)بھائی کے لئے بھی وہی
چیز پسند نہ کرے جووہ اپنے لئے پسند کرتا ہے۔ (مسلم،ص 47، حدیث: 170)
5۔ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان، مسلمان کا
بھائی ہے وہ اس پر ظلم کرے نہ اس کو رسوا کرے، جو شخص اپنے بھائی کی ضرورت پوری
کرنے میں مشغول رہتا ہے الله تعالیٰ اس کی ضرورت پوری کرتا ہے اور جو شخص کسی
مسلمان سے مصیبت کو دور کرتا ہے تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب میں سے
کوئی مصیبت دور فرما دے گا اور جو شخص کسی مسلمان کا پردہ رکھتا ہے قیامت کے دن الله
تعالیٰ اس کا پردہ رکھے گا۔ (بخاری، 2/126، حدیث:2442)
مسلمانوں کے ایک دوسرے کے ذمے ان حقوق و فرائض کا
مقصد یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل کر رہیں ہر مسلمان اپنے بھائی کی
خوشی کو اپنی خوشی اور اسکے دکھ کو اپنا دکھ تسلیم کرے اور تمام مسلمان متحد ہو کر
زندگی گزاریں۔
الله پاک ہم سب مسلمانوں کو دوسروں کے حقوق کا خیال
رکھنے اور آپس میں مل جل کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
عام مسلمانوں کے 5 حقوق از ہمشیرہ محمد آصف،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
انسان معاشرے میں رہتا ہے تو اس کا بہت سے لوگوں
کے ساتھ واسطہ پڑتا ہے۔ ہر کسی کے ایک دوسرے کے ساتھ کچھ نہ کچھ حقوق ہیں۔اگر درست
انداز سے حقوق کی ادائیگی نہ کی جائے تو معاشرتی نظام تباہو برباد ہو جائے،انسان
چونکہ شریعت کا مکلف(پابند) ہے اور بندوں پر پہلا حق اگر کسی کا واجب ہوتا ہے تو
وہ اللہ کا ہے جس نے تمام چیزوں کو عدم سے وجود بخشا ہے۔
حق اللہ سے مراد وہ حقوق جو بندے پر اللہ کی طرف سے
ہیں، اور انسان کی وہ ذمہ داریاں جنہیں انسان نے خود سرانجام دیناہوتا ہے،انہیں
حقوق العباد کہتے ہیں۔
بندوں کے بندوں پر بہت سے حقوق ہیں اس ضمن میں حدیث
رسول اللہ ﷺ ملاحظہ فرمائیے:
مسلمانوں کے حقوق: نبی
کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں: سلام کا جواب دینا، بیمار
کی عیادت کرنا، جنازوں کے ساتھ جانا، دعوت قبول کرنا، چھینک کا جواب دینا۔ (مسلم، ص 1192، 2162)
انسان پر اپنے رشتہ داروں کے علاوہ دوسرے مسلمانوں
کے بھی حقوق ہوتے ہیں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے حقوق صرف ہمارے رشتہ داروں پر
ہی ہیں بلکہ یہ بات غلط ہے کیوں کہ مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارے حقوق دوسرے
مسلمانوں پر بھی ہیں چند حقوق ملاحظہ ہوں:
1۔ سلام کرنا: ملاقات کے
وقت پہلے سلام کرے اور اگر سلام کرنے والے دونوں مرد ہیں تو آپس میں مصافحہ کریں
اور اگر دونوں عورتیں ہیں تو وہ بھی آپس میں مصافہ کریں کیونکہ مصافحہ کرنا اچھی
عادت ہے اور اس سے مسلمان کے دل میں خوشی داخل ہوگی۔
2۔ سلام کا جواب دینا: جب
کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دے کیونکہ سلام کا جواب دینا واجب ہے اگر آپ مسلمان
کے سلام کا جواب دیں گے تو اس سے وہ خوش ہوگا اور کسی کے دل میں خوشی داخل کرنا
ثواب کا ذریعہ ہے۔
3۔ چھینک کا جواب دینا:
اگر کسی مسلمان کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے تو سننے والا مسلمان یرحمک اللہ
کہہ کر اس کا جواب دیں۔
4۔ جنازہ پڑھنا:
اگر کسی مسلمان کے ہاں کسی کی وفات ہو جائے تو دوسرا مسلمان اس کے جنازہ اور دفن
میں شریک ہو۔
5۔ صلح کروانا: اگر دو
مسلمانوں کا اپس میں جھگڑا ہو جائے تو کوئی دوسرا مسلمان ان میں صلح کروائے کیونکہ
صلح کروانا سنت ہے۔
6۔ بروں کا ادب واحترام کرنا: مسلمان
اپنے بروں کا ادب و احترام کریں اور اپنے چھوٹوں سے محبت شفقت کرے کیونکہ چھوٹوں
سے محبت اور شفقت کرنا حضور ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔
7۔ تیمارداری کرنا: اگر
کوئی مسلمان بیمار ہو جائے تو اس کی تیمارداری کرے اور دوسرے مسلمان اس کی عیادت
کو جائیں۔
8۔ تہمت لگانے سے بچنا:
کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر تہمت یا بہتان نہ لگائے۔
9۔ غیبت سے بچنا:
کسی مسلمان کی غیبت دوسرے مسلمان بھائی سے نہ کرے۔
10۔ اپنے جیسی چیز پسند کرنا: جو
چیز اپنے لیے پسند کرے وہی دوسرے مسلمان کے لیے پسند کرے۔
یاد رکھئے کہ حقوق العباد (یعنی بندوں کے حقوق) کی
معافی صرف بندے ہی دے سکتے ہیں حقوق العباد کی حق تلفی اللہ پاک بھی معاف نہیں
فرماتا جب تک وہ انسان معاف نہ کرے جسکا حق تلف کیا ہو۔
عام مسلمانوں کے 5 حقوق از بنت متین سرمد،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر بہت حقوق ہیں قرآن و
احادیث میں بھی اس کے بارے میں بہت تاکید آئی ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم مسلمانوں
کے حقوق کا خیال رکھیں آئیے عام مسلمانوں کے چند حقوق ملاحظہ ہوں:
رشتہ داروں سے حسن سلوک: رشتے
داروں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ان کے ساتھ صلہ رحمی کریں اور قطع تعلقی سے
بچیں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: جسے یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں وسعت ہو اور اس کی
عمر لمبی ہو تو اسے چاہیے کہ رشتے داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرے۔ (بخاری، 4/10، حديث:
4067)
ہمسائیوں سے حسن سلوک: ان
کے حقوق کا خیال بھی رکھا جائے ان کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آئیں ان کی ضروریات
کا خیال رکھیں خوشی اور غم میں ان کے ساتھ شریک ہوں، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ
رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل علیہ السلام
مجھے پڑوسی کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث
بنا دیں گے۔ (بخاری، 4/104، حديث: 6014)
مسلمان بھائی کو سلام کرنا: مسلمان
کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرے، رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: لوگوں میں اللہ کریم کے زیادہ قریب وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔ (ابو
داود، 4/449، حدیث: 5197)
چھینک کا جواب دینا: جب
کوئی مسلمان چھینکے تو دوسروں کو چاہیے کہ اس کی چھینک کا جواب دے اتنی آواز میں
جواب دے کے سامنے والا سن لے، پیارے آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کسی کو
چھینک آئے تو اس کو الحمدللہ کہنا چاہیے اور اس کا بھائی یا ساتھی کہے یرحمک اللہ
پھر وہ کہے یہدیکم اللہ و یصلح بالکم کہ اللہ کریم تم کو ہدایت عطا فرمائے اور
تمہارے حال کو درست کردے۔ (بخاری، 4/163، حدیث: 6224)
مسلمانوں کو تکلیف پہنچانے سے باز رہے: مسلمانوں
کے حقوق میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کو تکلیف پہنچانے سے بچے کیونکہ مسلمانوں کو
دکھ دینا بہت بڑا گناہ ہے۔ ارشاد فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے
دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔(مسلم، ص 41،
حدیث: 65)
اللہ کریم ہمیں مسلمانوں کے حقوق کا خیال رکھنے کی
توفیق عطا فرمائے۔
Dawateislami