عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت
عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 26 ستمبر 2026ء (بمطابق
14 ربیع الآخر 1448ھ) کو ہفتہ وار
مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے عاشقانِ
رسول کی ایک کثیر تعداد براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شریک ہوئی۔
مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا
گیا جس کے بعد بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم میں عقیدت و احترام
کے ساتھ نعت شریف پیش کی گئی۔ مذاکرے کے دوران سوال و جواب کی نشست بھی ہوئی جس میں مختلف دینی، فکری، اخلاقی اور
تنظیمی مسائل پر گفتگو کی گئی۔
شیخِ
طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد
الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے شرکا کی
جانب سے کیے گئے سوالات کے انتہائی فہم و فراست، علم و حکمت اور شرعی دلائل کے
ساتھ جوابات ارشاد فرمائے ۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: کیا خواب کی تعبیر بتانا بھی کوئی فن ہے ؟
جواب: جی ہاں! اور یہ فن سیکھنے سے آتا ہے ،ہر”مدنی“
(دعوتِ اسلامی کے
جامعۃ المدینہ سے درسِ نظامی کرنے والوں کو مدنی کہا جاتاہے) بھی اسے نہیں
جانتا۔ تعبیر وہ بتائے جو عالم ہو، قرآن و
حدیث پر اس کی نظر ہو، چلتے پھرتے کسی سے پوچھا بھی نہ جائے۔مَیں نے یہ فن نہیں
سیکھا ،اس لیے میں خواب کی تعبیر نہیں بتاتا۔
سوال:ا یک پوسٹ میں لکھا تھا:”اچھے لوگوں کی سنگت میں رہا کرو کیونکہ سُنار(یعنی سونے Gold
کا کام کرنے والے) کا
کچرا بھی بادام سے مہنگا ہوتا ہے“۔
جواب: اچھی مثال دی ہے ۔سُنار کے کچرے
میں سونے(Gold) کے ذرات ہوتے ہیں ،اس لیے وہ بادام سے مہنگا ہوتا ہے ۔حدیث پاک میں اچھی
صحبت کی مثال عطر والے کی دی ہے کہ عطر والے کے پاس جاؤ گے تو وہ یا
تو تمہیں عطر دے گا یا اس کی خوشبو تمہیں پہنچے گی۔اچھے
بندے کی صحبت بہت بڑی نعمت ہے ۔حضرت سفیان بن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ عِنْدَ ذِکْرِ الصَّالِحِیْنَ تَنَزَّلُ الرَّحْمَۃ یعنی نیک لوگوں کے ذِکر کے وقت رحمت نازل ہوتی ہے۔(حلیۃ الاولیاء، رقم10750، ج7 /335) امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ نیک بندے کے ذکر سے رحمت اُترتی
ہے تو اس نیک بندے پر کتنی رحمت اُترتی ہو گی اور جو اس کی صحبت میں رہے گا اس پر
کتنی رحمت اُترے گی ۔صحبت اچھی ہونی چاہئے ،صحبتِ صالح تُرا صالح کُنَدْ یعنی
نیکوں کی صحبت تجھے نیک بنا دے گی ،صحبت ِطالح تُرا طالع کُنَدْ یعنی بُرے کی صحبت
تجھے بُرا بنا دے گی ۔
سوال: کس کی صحبت
اختیار کی جائے، کیا اس کا کوئی معیار (Standard) بھی ہے ؟
جواب: اس دور میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کو اپنا معیار بنا لیں ،ان کا ذکر سُن کر جس کا چہرہ کِھل اُٹھے اس کی صحبت اختیار کرو اور جس کا
چہرہ مُرجھا جائے اس سے دُور بھاگو۔
سوال: غربت سے نجات کا
روحانی علاج کیا ہے ؟
غُربت سے نجات کا روحانی علاج
يَا مَلِكُ 90 بار روزانہ جو پڑھ لیا کرے وہ اِنْ شَاءَ اللہِ الکریم غُربت و تنگدستی
سے نجات پائے۔
یقیناً اللہ
پاک چاہے تو ہی فائدہ ہو۔
مشورہ کسی قاری صاحب کو سنا دیجئے۔
تاکید نمازوں کی پابندی کیجئے اور لوگوں کی ناحق دل آزاری
سے بچئے۔
فائدے کی بات روزانہ صبح صدقہ نکال دیجئے چاہے ایک روپیہ ہی ہو۔
سوال: لوگوں میں محبت
و خیر خواہی کم اور حسد و دشمنی زیادہ کیوں نظر آتی ہے ،دل کو صاف اور خوف والی
زندگی کے لیے کیا کرنا چاہئے ؟
جواب: علمِ دین کی کمی اور اچھی صحبت نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں
محبت و خیر خواہی کم اور حسد و دشمنی زیادہ ہے ۔علمِ دین حاصل نہ کرنے کی وجہ سے غیبت اور چغلی کے بارے میں معلومات نہیں ۔جھوٹ اتنا بولا جا رہا
ہے کہ سمجھ نہیں پڑتی ہے کہ یہ جھوٹ ہے یا نہیں ۔علمِ دین اور اچھی صحبت ہو گی تو
نیکی اور گنا ہ کی پہچا ن ہو گی، گناہوں میں کمی آئے گی اور خوفِ خدا پیدا ہو گا۔
اس کے لیے دینی کتابیں پڑھیں۔سوشل میڈیا پر اُلٹے سیدھے کلپ دیکھنا گویا کیچڑ میں
لَوٹ پَوٹ ہونا ہے ۔پھر کہنا کہ کپڑے کیوں صاف نہیں رہتے ۔کپڑے صاف رکھنا چاہتے
ہیں تو کیچڑ سے جان چھڑانا ہو گی۔گھر میں
درس دیں ، صرف مدنی چینل دیکھیں۔
سوال: جس کو ہر ایک
پر تنقید کرنے کی عادت ہو تو اس کی اصلاح
کیسے ہو؟
جواب: اسے قفلِ مدینہ لگانا (یعنی اپنی زبان کی حفاظت کرتے ہوئے حتی الامکان فضول
گفتگو سے بچنا) چاہئے اور حُسنِ
ظن کے جام پینا(یعنی کسی کے بارے میں ہمیشہ اچھا
سوچنا،اچھا خیال رکھنا) سیکھنا چاہئے ،حدیثِ پاک ہے کہ اچھا خیال اور گمان کسی کے لیے قائم کرنا
اچھی عبادت سے ہے ۔وہ شخص یہ عبادت اپنا لے ۔ہر ایک کو اپنے سے بہتر سمجھے ،بڑی
عمر والا ہے تو اسے بہتر سمجھے کہ اسے عبادت کا زیادہ موقع ملا ہے ،چھوٹا ہے تواسے
بہتر سمجھے کہ اس کے گناہ مجھ سے کم ہوں
گے۔ سنجیدگی سے حُسنِ ظن(یعنی ہمیشہ اچھا
گُمان رکھنے ) کی عادت بنائیں
گے توتنقید کی عادت بدل جائے گی ۔کوشش
کریں گے تو کامیابی ہو گی ۔ تنقید کرنے والے کی مثال مکھی کی طرح ہے جو پورے درست
بدن کو چھوڑ کر زخم پر ہی بیٹھتی ہے ۔
سوال: علمِ دین حاصل
کرنا کتنا اہم ہے ؟
جواب:علمِ دین حاصل کرنا ،علمِ دین کی باتیں سننا عبادت ہے ۔یہ
ذکرو اذکار سے بڑی عبادت ہے۔اس سے ہماری دِینی معلومات ،اپنی اصلاح ،ایمان کی
حفاظت کی صورتیں بنتی ہیں ،نفل روزے رکھنے
سے علمِ دین حاصل کرنے میں رکاوٹ ہو تو نفل روزے نہ رکھے جائیں ۔نوافل کی مصروفیت
اچھی چیز ہے مگر علمِ دین حاصل کرنے کی مصروفیت اس سے افضل ہے ۔دینی کتاب پڑھ کر بھی علمِ دین حاصل ہوتا ہے ۔نیکی کی دعوت پر مشتمل دعوتِ اسلامی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے جاری ہونے والے مختلف کلپس سننے سے بھی علمِ دین حاصل ہو گا۔
سوال: دُرودِ پاک کس نیت سے پڑھنا چاہئے کہ ثواب زیادہ ملے ؟
جواب: سرکار صلی
اللہ علیہ و الہ وسلم کی تعظیم کی نیت سے دُرود شریف پڑھیں ۔حقیقت میں یہ
دعا ہے اور سب سے افضل دعا ہے اور سرکار صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر دُرود پڑھنا،نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا اُمّت پر حق ہے ۔
سوال: مسکین کو اپنے
ہاتھ سے صدقہ دینے کا کیا فائدہ ہے؟
جواب: مسکین کو اپنے ہاتھ سے صدقہ دینا بُری موت سے بچاتا ہے ،اس لیے اپنے ہاتھ سے کچھ نہ کچھ خیرات کرنی چاہئے ۔
سوال: صَحَاحِ سِتَّہ سے کیا مراد ہے ؟
جواب: صَحَاحِ سِتَّہ حدیث پاک
کی 6 مشہور کتابوں کو کہتے ہیں (بخاری، مسلم
،ترمذی ، ابنِ ماجہ ،ابو داؤد اور نِسائی) ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” گیارہویں
شریف کی برکتیں‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی
؟
جواب: یا اللہ پاک! جو کوئی 28 صفحات کا رسالہ”گیارہویں شریف کی برکتیں“پڑھ یا سُن لے ،اُسے ہر ماہ گیارہویں شریف
منانے کی سعادت عنایت فرما ، اس کو قیامت میں غوث پاک کے غلاموں میں اُٹھا اور ماں
باپ سمیت جنت الفردوس میں بے حساب داخلہ نصیب فرما ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami