10 اکتوبر 2026ء بمطابق 28 ربیع الاٰخر 1448ھ
کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ
ملک سے ہزاروں عاشقانِ رسول نے براہِ راست اور مدنی چینل کے ذریعے شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے دوران بانیِ دعوتِ اسلامی، امیرِ
اہلِ سنت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف
دینی، اخلاقی، سماجی اور اصلاحی سوالات کے تفصیلی جوابات ارشاد فرمائے۔
مدنی
مذاکرے کے بعض سوال وجواب
سوال: سوشل میڈیا کی اس پوسٹ ’’ چہرے کی چمک اور محلوں کی اونچائی پر مت جانا جس گھر میں ماں
باپ اور بچے ہنستے نظر آئیں سمجھ جانا کہ وہ گھر امیروں کا ہے‘‘کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: اس پوسٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ عموماً کھاتے پیتے لوگ بالخصوص نوجوانوں کے چہرے سُرخی مائل ہوتےہیں ،ان کے چہرے کی چمک
اور ان کے محلوں میں اونچی اونچی عمارتوں اور بنگلوں کی وُسعت سے دھوکا نہ کھانا کہ یہ لوگ سکھی (خوش، پُرسکون) ہیں، سکھی وہ ہوتے ہیں جن کے گھر میں ماں باپ خوش اوربچے ہنستے مسکراتے نظرآئیں اور وہاں خوشیاں
ہوں، ماحول اچھا ہو، فرمانبردار اولاد ہو، والدین بچوں پر شفقت کرتے ہوں، وہ گھر
اچھا اور امن کا گہوارہ ہے ۔بعض اوقات ظاہری دولت ہوتی ہے مگرحُسنِ اخلاق
کی دولت سے محرومی ہوتی ہے ۔ایسی صورت میں گھریلوجھگڑے ہوتے ہیں ۔گھرکا سکون دولت
سے نہیں بلکہ حُسنِ اخلاق، اعلیٰ کردار، دِین پر عمل کرنے سے آتاہے، جس گھر سے
تلاوتِ قرآن، دُرُود و سلام اور نعتوں کی آوازیں آئیں، جس میں نیک
نمازی،پرہیزگارعاشقانِ رسول ہوں وہ اچھا ہے اور ایسے گھر میں رحمتوں کا
نزول ہوگا۔
سوال: حج میں لوگ ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے ہیں، کیا
آپ کا بھی کوئی واقعہ ہے؟
جواب:
1980ء میں مَیں حج کے لیے اکیلا گیا تھا،
وہاں میرے کراچی کے ایک دوست مل گئے
جن کے ساتھ حج کیا، منی ٰیا عرفات میں اس سے بچھڑ گیا ،اس
حج کے دوران منیٰ کے خیموں میں آگ بھی لگ گئی تھی ،افراتفری بھی ہو گئی مگر اس میں بھی میری ظہر کی نماز
قضا نہ ہوئی ،وقت پر ادا کی، اس میں سُرور اور لُطف تھا ۔الحمد للہ ! اس دوران مَیں بد دل نہیں ہوا۔ آزمائش و مصیبت آئے تو نماز ہر گز نہ چھوڑیں ،گِلے
شکوے نہ کریں ،بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں، ہر حال میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہیں ۔
سوال:
امام مہدی کو ن ہیں اور یہ کب آئیں گے؟
جواب:قِیامت سے پہلے ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ دُنیا میں کُفر
پھیل جائے گا، زمین ظُلْم اور سَرکشی سےبھر جائے گی، اسلام حَرَمَین شریفَین کی طرف سمٹ جائے گا، اولیا و اَبْدال
وہاں ہجرت کر جائیں گے۔ پھر حضرت فاطمۃُ الزَّہراء رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ایک شخص پیدا ہو گا جو
زمین کو عَدْل و انصاف سے بھر دے گا۔ یہی تمام رُوئے زمین پر حکومت کرنے والے
پانچویں بادشاہ ہوں گے جنہیں حضرت امام مہدی کہا جاتا ہے۔ رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: دنیا ختم نہ ہو گی حتّٰی کہ عَرَب
کا بادشاہ ایک شخص بنے گا۔ جو مجھ سے یا میرے گھر والوں سے ہے، اس کا نام
میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے والد کے نام کے موافق ہوگا۔وہ زمین
کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و زیادتیوں سے بھری تھی۔(ابوداؤد،ج4،ص144،حدیث:4282،
4283ملخصاً)
سوال: لفظ مہدی کوکس طرح بولیں گے؟
جواب: مہدی عربی زبان کا لفظ ہے ،عربی میں یہ لفظ مَہدی یعنی میم پر زبر ہے اور اردو میں اِما م مِہدی کہیں گے جس طرح عربی میں اَہلسُنّت ہے یعنی الف پر زبر ہے اردو میں اِہل
سُنّت یعنی الف پر زیر کے ساتھ پڑھیں گے۔
سوال: بال جھڑنے کا روحانی علاج کا بتا دیجئے؟
بال جھڑنے کا
روحانی علاج
اگر
بال جھڑتے ہوں تو، جب جب کنگھا کرنا
چاہیں تو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ پڑھ کر اسے اٹھائیں اور بِسْمِ
اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
پڑھ کر یَا اللّٰہُ یَا بَارِیُ سات بار پڑھ کر کنگھا کریں۔ اگر بال جھڑتے ہوں گے یا
ٹوٹتے ہوں گے بلکہ سر کے بیچ میں گنج ہوگا تب بھی اِنْ
شَآءَ اللّٰہُ الْکَرِیْم فائدہ
ہوگا اور بال گھنے بھی ہو جائیں گے۔
یقیناً:اللہ
چاہے تو ہی فائدہ ملے۔
برائے کرم!: کسی قاری صاحب کو سنا دیجیے۔
تاکید: نماز کی پابندی کیجیے اور دوسروں کو تکلیف نہ دیجیے۔
مدت: شفا ملنے تک جاری رکھیے۔
کام کی بات: تکلیف دور ہو تب بھی ہمیشہ عمل کرتے رہنے سے بالوں کی
حفاظت ہوگی اِنْ شَآءَ اللّٰہُ الْکَرِیْم۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”دل
بدلنے والی 41باتیں“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب: یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ’’دل بدلنے والی
41 باتیں‘‘پڑھ یا سُن لے، اس کا دل نیکیوں سے بھر پور اور گناہوں سے دُور کر کے اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس
میں بے حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami