19 ستمبر 2026ء بمطابق 07 ربیع الآخر 1448ھ کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرونِ ملک سے عاشقانِ رسول کی ایک بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور بارگاہِ رسالت مآب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں نعت شریف پیش کر کے کیا گیا جس کے بعد سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا نیز شرکا نے مختلف دینی، شرعی اور تنظیمی موضوعات پر سوالات پیش کیے۔

مدنی مذاکرے کے دوران شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے عاشقانِ رسول کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے علم و حکمت سے بھرپور جوابات ارشاد فرمائے۔ امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے شرکا کی دینی، اخلاقی اور تنظیمی تربیت کرتے ہوئے انہیں مدنی پھولوں سے بھی نوازا۔

مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب

سوال: حضور غوث ِاعظم شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بہت زیادہ اللہ پاک کا ذِکر کرنے والے،راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والے اور اچھی صفات اور عادات والے تھے ،ہم ان صفات و عادات کو کیسے اپنا سکتے ہیں ؟

جواب: دعوتِ اسلامی کے دینی ماحول سے وابستہ رہیں گے، مکتبۃ المدینہ سے نیک اعمال کا رسالہ لے کراس کے مطابق زندگی گزاریں گے، روزانہ اپنے اعمال کا جائزہ لے کر اپنے ہاں کے نیک اعمال ذمہ دار کو ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو نیک اعمال کا رسالہ جمع کرواتے رہیں گے تو اچھی اچھی عادات اور نیکیوں کا جذبہ اپنے اندر پائیں گے ۔ ان شاء اللہ الکریم

سوال: فیضان آن لائن اکیڈمی میں بذریعہ انٹرنیٹ پڑھنے والے اپنے استاد (Teacher) سے دُور ہوتے ہیں، وہ اپنے استاد کا ادب کس طرح کر سکتے ہیں؟

جواب: اُستادصاحب جو اچھی اچھی باتیں بتائیں ،ان پر عمل کریں،اُن کی غیر موجودگی میں بھی مذاق نہ اُڑائیں اور نہ ہی کسی طرح کی بے ادبی کریں ۔کسی سے استادصاحب کی بُرائی نہ کریں ، اگر استاد صاحب کی کوئی بات پسند نہ آئے تو کسی سے بھی اس کا تذکرہ نہ کریں،بہت ساری باتیں وقت کے ساتھ سمجھ میں آتی ہیں ، ادب کے ساتھ استاد کے سامنے صرف ہاتھ باندھنا ہی ادب نہیں اور بھی صورتیں ہیں،جتنا ادب کریں گے اُتنا زیادہ فائدہ ہو گیا ۔با ادب بانصیب ۔

سوال: دعوتِ اسلامی کا معنی ٰ کیا ہے ؟

جواب: دعوت معنی بُلانا ،دعوتِ اسلامی کا معنی ہے اسلام کی طرف بُلانا،اسلام کے اصولوں کی طرف، عبادات اور اسلامی آداب کی طرف بلانا، دعوت دینا سب اس میں شامل ہے ۔ عملی طور پر دعوتِ اسلامی کے معنی سمجھ آ بھی رہے ہیں ،ہزاروں غیر مسلم دعوتِ اسلامی کی برکت سے مسلمان ہو چکے ہیں ،لاکھوں بے نمازی، نمازی بن گئے ہیں ،بے شمار بھٹکے ہوئے راہِ راست پر آگئے ہیں،گناہوں سے توبہ کرکےنیکیوں کے راستے پرچل پڑے ہیں ۔یوں دعوتِ اسلامی اِسْمِ بَامُسَمٰی ہے(یعنی جیسااس دِینی تنظیم کا نام ہے،دعوتِ اسلامی والے اِسی طرح دینی کام کر بھی رہے ہیں) مدنی چینل پر بھی اورآپ کے اپنے علاقوں میں بھی نظر آ جاتا ہو گا کہ ماشاءاللہ الکریم دعوتِ اسلامی والے اسلام پر عمل کر رہے ہوتے ہیں ۔

سوال: خوداعتمادی(Self-confidence) اور تکبر کے درمیان کیافرق ہے؟ تربیت کے دوران بچوں کو تکبر سے بچاتے ہوئے خود اعتمادی اپنانا کیسے سکھایا جائے؟

جواب: خود اعتمادی (Self-confidence) کا مطلب یہ ہے کہ اپنے آپ پر اتنا اعتماد ہونا کہ مَیں یہ کام کر سکتا ہوں،جوکر نے والا کام ہو وہ کر سکتا ہو تو ڈرے نہیں ۔یہ سمجھنا کہ مَیں یہ کام کر ہی نہیں سکتا، والدین یا دیگر لوگوں کا کہنا کہ تم یہ کام کر ہی نہیں سکتے، بعض استاد بھی نادانی میں کہتے ہوں گے جس سے بچہ احساس ِکمتری(Inferiority Complex) کا شکار ہو جاتا ہو گا کہ مَیں تو نہیں کر سکتا۔ اللہ پاک کے بھروسے پر اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کی جائے، جو کرنے والے کام ہیں ،جو وہ کر سکتا ہے ،اس سے پیچھے نہ ہٹے اور بھر پور کوشش کرے اور بھرو سہ اللہ پاک پر اور اس کی مدد پر رکھے ۔تکبر تو باطنی امراض میں سے ایک خطرناک مرض ہے اور عام ہے۔ تکبر کا معنیٰ ہے کسی کو اپنے آپ سے گھٹیا(کمتر)سمجھنا۔خود اعتمادی اور تکبر دونوں الگ چیزیں ہیں ۔

سوال:ختمِ قادریہ شریف مختلف کتابوں میں الگ الگ انداز سے لکھا ہو تا ہے، اس میں ہمیں کیسے معلوم ہو کہ کون سا درست ہے ؟

جواب: ان میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو تو سبھی درست ہیں ۔یہ بزرگوں سے چلا آ رہا ہے ۔کسی مُستند عالم کی کتاب میں لکھا ہو تو اس پر عمل کریں ۔مکتبۃ المدینہ کی کتاب مدنی پنج سورہ میں بھی ختمِ قادریہ لکھا ہوا ہے۔اس کی کئی برکتیں ہیں ۔اچھے عقیدے اور اللہ پاک کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے اس کو پڑھنے سے بندے کے کام بن جاتے ہیں ۔

سوال: UK میں 3دن کا اجتماع ہو رہا ہے ،شرکائے اجتماع کو کچھ مدنی پھول عطا فرما دیں ؟

جواب: ہرحال میں نماز کی پابندی کریں ،نمازوں میں بہت سُستی پائی جاتی ہے ۔ نماز نہیں آتی تو سیکھنی ہے ،اَب تو بہت آسانیاں ہو گئی ہیں ۔آن لائن سیکھ سکتے ہیں ۔قرآن پاک بھی سیکھنا بہت ضروری ہے ،دنیا کی کئی ڈِگریاں تو حاصل کر لی جائیں مگر قرآن ِپاک دیکھ کر بھی نہ پڑھنا آئے تو یہ بدنصیبی ہے ۔اللہ پاک نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔دولت اور ڈِگریاں جمع کرنا منع نہیں ہے مگر جو بھی کر نا ہے جائز و حلال طریقے سے اور اللہ و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے تحت کرنا ہے ۔ ہم اللہ پاک کی نافرمانی کے لیے دنیا میں نہیں آئے ۔جو اللہ پاک کی نافرمانی کر رہے ہیں ،ربّ کی ناراضی کی صورت میں ان کا انجام اچھا نہیں ہے ۔جتنا ہمارے اختیار میں ہے، نیکیاں کرنی ہیں گناہوں سے تو بچنا ہی بچنا ہے ،اگر کوئی گناہ کر رہا ہے تو فوراً اس سے توبہ کرنی اور مکمل چھوڑنا ہے۔ یہ نہیں کہ گناہ آہستہ آہستہ چھوڑوں گا ۔نیکیاں کریں گے اور گناہوں سے بچیں گے تو ہم اچھے مسلمان رہیں گے ۔اللہ کریم کے اولیائے کرام مثلاً حضور غوثِ پاک شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد آج کل ہم منا رہے ہیں ،یہ کہیں کے بادشاہ نہیں تھے مگر ہمارے دل کے بادشاہ ہیں ،آج بھی ان کی عقیدت ہمارے دل میں ہے، مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اللہ پاک کی فرمانبرداری کی تو آج بھی ہم ان کا تذکرہ کر رہے ہیں ۔اپنے اخلاق کو بھی اچھا کرنا ہے ۔اجتماع کے بعد قافلوں میں بھی سفر کریں ،3 دن کے قافلے میں تو سفر ضرور کریں ۔

سوال: موت کو کس طرح یاد کیا جائے ؟

جواب: مثال کے طور پر ایک ماہی گیر(یعنی مچھلیاں پکڑنے والے/Fisherman)نے رسی کے ساتھ ایک کانٹا دریا میں ڈالا تو اسے ایک مچھلی نے نگل لیا ،ماہی گیر جس وقت چاہے اسے دریا سے نکال لے گا۔ اسی طرح ہم میں سے ہر ایک نے موت کا کانٹا نگل لیا ہے ۔یہ رسی کسی اور کے ہاتھ میں ہے، جس دن وہ رسی کھینچے گا ،ہم دھڑام سے گِریں گے اور قبر میں جا پڑیں گے ۔اللہ پاک ہمارے ایمان کی حفاظت فرمائے ،ہمیں ہر وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اللہ کریم کو راضی کرنے والا ہو۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”بے ادبی کی سزا ‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یااللہ پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”بے ادبی کی سزا“پڑھ یا سُن لے، اُس کو اور اس کی آنے والی نسلوں کو اولیائے کرام کی بے ادبی اور بے ادبوں کے شَر سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم