قرآنِ کریم جہاں اپنے فصیح و بلیغ ہونے اور رموز و اشارات سے بھرپور ہونے کے اعتبار سے منفرد ہے، اسی طرح اس میں لوگوں کی اصلاح اور رہنمائی کے لیے واقعات کا بھی ذکر ہے۔ اللہ پاک نے قرآنِ پاک میں جن انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے واقعات اور قصص کا تذکرہ فرمایا، ان میں ایک منفرد اور دلچسپ واقعہ حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کا بھی ہے۔

تعارف و مسکن:آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نام یونس بن متیٰ ہے۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے ہیں۔ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا لقب ذُو النُّون اور صَاحِبُ الْحُوْت ہے۔ آپ بستی نِیْنَوٰی کے نبی تھے جو مُوصَل کے علاقہ میں دجلہ کے کنارے پر واقع تھی۔ (صراط الجنان ،پ 23 ،سورۃ الصافات،آیت 139)

حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اللہ تعالیٰ کے نبی برحق ہیں۔اور آپ عذابِ الٰہی کی خبر دینے کے بعد اپنی بستی سے چل بسے اور دریا کی طرف کشتی میں سوار ہو گئے:

وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹) اِذْ اَبَقَ اِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُوْنِۙ(۱۴۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا۔ (پ23،الصفت، آیت 139،140)

مچھلی کے پیٹ میں تشریف لے جانا:قوم کو دعوتِ حق دینے اور وحدانیتِ الٰہی کا درس دینے کے بعد بھی قوم کا اپنے کفر پر ڈٹے رہنے سے آپ دل برداشتہ ہو کر بغیر حکمِ الٰہی اپنے علاقے سے تشریف لے جانا سبب بن گیا۔ تو قرآن نے آپ کو مچھلی والا کہہ کر ذکر فرمایا: وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ذوالنون کو (یاد کرو) جب وہ غضبناک ہوکر چل پڑے تواس نے گمان کیا کہ ہم اس پر تنگی نہ کریں گے ۔(پ17،الانبیاء، آیت 87)

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام نے جو دعا مچھلی کے پیٹ میں مانگی وہ آپ کے نکلنے کا سبب بن گئی:

فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ(۸۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو اس نے اندھیروں میں پکاراکہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو ہرعیب سے پاک ہے ، بیشک مجھ سے بے جا ہوا ۔ (پ17،الانبیاء، آیت 87)

حضرت یونس عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم نے عذابِ الٰہی کی خبر سننے کے بعد آپ عَلَیْہِ السَّلَام کو تلاش کیا تاکہ وہ غضبِ الٰہی سے بچ جائیں اور توبہ کر کے ایمان قبول کر لیں:

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَؕ-لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ(۹۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیوں ایسا نہ ہوا کہ کوئی قوم ایمان لے آتی تاکہ اس کا ایمان اسے نفع دیتا لیکن یونس کی قوم جب ایمان لائی توہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ہٹادیا اور ایک وقت تک انہیں فائدہ اٹھانے دیا۔(سورۃ یونس :98)

(1)اللہ پاک کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔

(2)آزمائشیں اللہ پاک کی طرف سے آتی ہیں۔

(3) انسان اس وقت بھی اللہ پاک پر امید رکھیں اللہ پاک کے نام کی برکت سے ہی بگڑے کام سنورتے ہیں۔