اللہ تبارک و تعالی نے اپنی مخلوق کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مختلف اوقات میں اور مختلف زمانوں میں رسول اور انبیاء بھیجے تاکہ وہ انبیاء اور رسول علیہم الصلوۃ والسلام انہیں اللہ تبارک و تعالی کے عذاب سے ڈرائیں اور ایمان لانے کا حکم دیں اور وہ ان کو کفر و شرک سے باز رکھیں ان میں سے حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہیں۔

(1)وَ اِنَّ یُوْنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَؕ(۱۳۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے شک یونس پیغمبروں سے ہے۔(سورۃ الصفت:139)

حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام کا تعارف: آپ علیہ الصلوۃ والسلام کا نام یونس بن متی ہے آپ حضرت ہود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد میں سے ہیں آپ کا لقب ذالنون اور صاحب الحوت ہے ۔آپ بستی نینوی کے رہنے والے نبی تھے جوموصل کے علاقے دجلہ کے کنارے پر واقع ہے۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے 40 سال تک اپنی قوم کو بت پرستی چھوڑنے اور اللہ تعالی کی وحدانیت کا اقرار کرنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلا دیا اور اپنے شرک سے باز نہ آئے تب آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالی کے حکم سے انہیں تین دن کے بعد عذاب آجانے کی خبر دی ۔(تفسیر صراط الجنان)

(2) فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِۘ-اِذْ نَادٰى وَ هُوَ مَكْظُوْمٌؕ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو تم اپنے رب کے حکم کا انتظار کر واور اس مچھلی والے کی طرح نہ ہونا جب اس حال میں پکارا کہ اس کا دل گھٹ رہا تھا۔(سورۃ قلم:48)

اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ثقیف والوں کے خلاف دعا کا ارادہ کیا تو یہ آیت نازل ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ اے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام آپ اپنی قوم کے بارے میں عذاب نازل کرنے کے معاملے میں مچھلی والے کی طرح نہ ہونا تاکہ کہیں آپ بھی آزمائش میں مبتلا نہ ہو جائیں اور آپ وہ وقت یاد کریں کہ جب اس نے اس حال میں اپنے رب کو پکارا کہ وہ مچھلی کے پیٹ میں غمگین تھا اس میں مچھلی والے سے مراد حضرت یونس علیہ الصلوۃ والسلام ہیں ۔(تفسیر صراط الجنان)

(3) فَاسْتَجَبْنَا لَهٗۙ-وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ(۸۸)

ترجمۂ کنزالایمان: تو ہم نے اس کی پکار سن لی اورا سے غم سے نجات بخشی اور ایسی ہی نجات دیں گے مسلمانوں کو۔(سورۃ الانبیاء:88)

اس آیت میں فرمایا جا رہا ہےکہ ہم نے یونس علیہ الصلوۃ والسلام کی پکار سن لی اور اسے تنہائی اور وحشت کے غم سے نجات بخشی اور مچھلی کو حکم دیا تو اس نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو دریا کے کنارے پر پہنچا دیا اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی مصیبت و تکلیفوں سے نجات دیتے ہیں جب وہ ہم سے فریاد کریں اور دعا کریں ۔

حضرت سعد بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ،رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کیا میں تمہاری اللہ تعالیٰ کے اس اسمِ اعظم کی طرف رہنمائی نہ کروں جس کے ساتھ جب بھی دعاکی جائے تو وہ قبول ہوجائے اورجب سوال کیاجائے توعطاہوجائے، وہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعا ’’لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘ ہے جو انہوں نے اندھیروں میں تین بار کی تھی ۔ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، یہ حضرت یونس عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ خاص تھی یاتمام مسلمانوں کے لیے ہے ؟ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم َنے ارشادفرمایا’’ کیاتم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادنہیں سنا’’وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّؕ-وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘اور اسے غم سے نجات بخشی اور ہم ایمان والوں کو ایسے ہی نجات دیتے ہیں ۔( مستدرک ، کتاب الدعاء و التکبیر و التہلیل ۔۔۔ الخ ، ایّما مسلم دعا بدعوۃ یونس علیہ السلام ۔۔۔ الخ ، ۲ / ۱۸۳ ، الحدیث: ۱۹۰۸)