یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں دعوتِ اسلامی کا” گرینڈ
سنتوں بھرا اجتماع “
دعوتِ
اسلامی کے زیر اہتمام 27 ستمبر 2026ء کو یونان
کے دارالحکومت ایتھنز کے مشہور ایلیوناس فٹ بال کلب (Eleonas
Football Club, Makrigianni 46, Ag. Ioannis Rentis 182 33, Athens, Greece) میں
ایک عظیم الشان ”گرینڈ سنتوں بھرے اجتماع“ کا انعقاد کیا گیا۔ اجتماع کا
باقاعدہ آغازتلاوت قرآن مجید سے ہوا جبکہ نعت خواں اسلامی بھائیوں نے بارگاہِ
رسالت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ہدیۂ
نعت پیش کیا۔ اس روحانی اجتماع میں یونان
کے مختلف شہروں اورجزیروں سے بزنس مین اور مختلف کمیونٹی سے عاشقانِ رسول نے شرکت
کی۔
اجتماع
میں دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری مُدَّ ظِلُّہُ العالی نے ایمان افروز اور رقت انگیز بیان فرمایا۔
مولانا
عمران عطاری نے خطبہ مسنونہ کے بعد درودِ پاک کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ارشادِ
نبوی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نقل کیا کہ
جو شخص ایک بار درودِ پاک پڑھتا ہے، اللہ پاک اس پر 10 رحمتیں نازل فرماتا ہے، 10
گناہ معاف فرماتا ہے اور 10 درجات بلند فرماتا ہے۔
نگرانِ
شوریٰ نے حضرت سیدنا ذوالنون مصری رحمۃُ اللہِ
علیہ
کا واقعہ بیان کیا کہ کس طرح اللہ پاک نے ایک بچھو کے ذریعے شراب کے نشے میں دھت
نوجوان کی بڑے سانپ (اژدھے) سے حفاظت فرمائی۔ غیب سے آواز
آئی کہ اللہ پاک گناہگاروں کو بھی مہلت اور تحفظ دیتا ہے۔ اس واقعے سے متاثر ہو کر
اس نوجوان نے سچی توبہ کی اور ولی اللہ کے مقام پر فائز ہوا۔
انہوں
نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت نہایت وسیع ہے۔ ہم تنہائیوں میں گناہ کرتے ہیں لیکن
اللہ پاک ہماری پردہ پوشی فرماتا ہے۔ انسان آنکھ، زبان، کان اور اعضاء سے گناہ
کرتا ہے لیکن اللہ پاک فوراً نعمتیں نہیں چھینتا بلکہ بندے کو توبہ کی مہلت دیتا
ہے۔
سورۂ
تحریم کی آٹھویں آیت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ”توبۃ النصوح“(خالص
توبہ) یہ
ہے کہ گناہ چھٹنے کے بعد بندہ دوبارہ اس کی طرف نہ لوٹے۔ توبہ کرنے والے کے تمام
سابقہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور قیامت کے دن اس کے اعضا اور زمین اس کے خلاف
گواہی دینے سے آزاد کر دیئے جاتے ہیں۔
بیان
میں قیامت کے دن کی شدت، سوا میل پر سورج، تانبے کی زمین اور گناہوں و زکوۃ نہ دینے
کے عذاب کا تفصیلی ذکر کیا گیا۔ ساتھ ہی بخاری شریف کی حدیث کی روشنی میں ان 7 خوش
نصیبوں کا ذکر کیا جنہیں اللہ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگا، جن میں عادل حکمران، جوانی
میں عبادت کرنے والا نوجوان، اور تنہائی میں اللہ کے خوف سے رو دینے والا شخص شامل
ہیں۔
نگرانِ
شوریٰ نے یونان و یورپ میں مقیم اسلامی بھائیوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کتنے
پردیسی روزگار کی خاطر آئے مگر ان کے جنازے اور تابوت وطن واپس گئے۔ انسان کو چاہیے
کہ دنیاوی مال و دولت کی تلاش کے ساتھ ساتھ آخرت، نماز اور موت کو ہرگز نہ بھولیں۔
بیان
کے اختتام پر نگرانِ شوریٰ نے نماز کی پابندی کرنے،گناہوں سے بچنے، سنتوں کی پیروی
کرنےاور اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کے عقائد کی حفاظت کرنے کی ترغیب دلائی۔
اجتماع
کے آخر میں مولانا عمران عطاری نے بارگاہِ الٰہی میں عاجزانہ اور رقت انگیز دعا
فرمائی جس سے حاضرین کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور صلوۃ وسلام پر تقریب کا اختتام
ہوا۔
Dawateislami