فراز
احمد (درجہ دورۃالحدیث جامعۃ المدینہ فیضان
غوث اعظم ،کراچی،پاکستان)
تحریر
بظاہر تو الفاظ کی ترتیب ہی ہے مگر در حقیقت یہ معانی کی ایک دنیا ہوتی ہے جس میں
درست راہ پانے کے لئے ایک راہنما کی ضرورت ہوتی ہے کہ جو آپ کو صحیح فہم دے کر
بھٹکنے سے بچاتا ہے ۔ بسا اوقات ایک اجنبی لفظ آپ کے مطالعہ کی راہ میں دیوار کی
طرح حائل ہو جاتا ہے اور آپ کی روانی کو توڑ دیتا ہے ، ایسے مواقع پر لغت ہی آپ کے
لئے مشعل راہ بن کر ان تاریک مقامات کو روشن گزر گاہوں میں تبدیل کر دیتی ہے ۔
حصول علم
میں مطالعہ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے ، لیکن حقیقی طور پر یہ اسی وقت مفید ہوتا ہے
جب قاری تحریر کے مفہوم تک درست رسائی حاصل کرے ۔ اگر دورانِ مطالعہ پیش آنے والے
مشکل مقامات یا نامانوس الفاظ کو بے معنی ہی چھوڑ دیا جائے تو نہ صرف قاری کا فہم
متاثر ہوتا ہے بلکہ غرض مصنف بھی مفقود ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مطالعہ کا لطف ماند
پڑ جاتا ہے اور قاری فہم کے بجائے الجھن کا شکار ہو جاتا ہے ، شاعر کی شعر ہے
"آگہی دام شنیدن جس قدر چاہے بچھائے مدعا عنقاء ہے اپنے عالم تقریر کا"
اسی حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ محض
پڑھنا اور اپنی سمجھ پر اکتفاء کرنا کافی نہیں ہوتا کیونکہ بعض اوقات مصنف اپنے کلام
میں ایسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے جو اپنی نایابی یا گہرائی کے باعث
"عنقاء" کی حیثیت رکھتے ہیں اور عام فہم قاری کے لئے براہ راست رسائی
ممکن نہیں ہوتی ۔ ایسے میں لغت ہی وہ ذریعہ بنتی ہے جو پوشیدہ معانی کو ظاہر کرکے
اصل مفہوم تک رہنمائی فراہم کرتی ہے
اصل تو یہ
ہے کہ عبارت کا درست فہم لغت پر ہی منحصر ہوتا ہے ۔ ایک لفظ محض چند حروف کا
مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے جملے کو روح بخشنے والا ہوتا ہے اگر اس کی تفہیم کو
محض اپنی آگہی تک محدود رکھا جائے تو ممکن ہے کہ مفہوم اپنی اصل سمت سے ہٹ کر کسی
اور جانب مڑ جائے اور آپ آگے بڑھنے کے ساتھ حقیقت سے دور ہوتے چلے جائیں ، خاص
طور پر دینی کتب کے مطالعے میں درست تفہیم انتہائی ضروری ہوتی ہے کہ اگر الفاظ کے
سیاق و سباق دیکھ کر ان کے معانی متعین نہ کئے جائیں تو بعیدنہیں کہ آپ کسی مسئلے
کو اس کے اصل مفہوم کے برعکس سمجھ بیٹھے لغت آپ کو صحیح معنی کی طرف راہ نمائی کر
کے اس انحراف کو روکتی ہے اس لئے لغت کا محتاط استعمال انتہائی ناگزیر ہے تاکہ
عبارت کا درست فہم حاصل ہو سکے ۔
مزید یہ
کہ لغت ہی وہ رفیق ہوتی ہے جو مطالعہ میں دلچسپی برقرار رکھنے میں آپ کی مدد کرتی
ہے ۔ ظاہر ہے جب الفاظ اجنبی نہ رہیں تو عبارت مانوس ہوجاتی ہے ، اور انسیت پیدا
ہو جائے تو قاری ایک خاص دلچسپی کے ساتھ معانی و مفاہیم کی دنیا میں محوِ سفر رہتا
ہے ۔
خلاصۂ
کلام یہ کہ لغت محض ایک کتاب نہیں بلکہ یہ مطالعہ کی روح ہے جو قاری کو مفاہیم کی
گہرائیوں تک رسائی فراہم کرتی ہے ۔ اگر اسے اپنا رفیق مطالعہ بنا لیا جائے تو فہم
کے در وا ہو جاتے اور سفر علم کی جہتیں روشن ہو جاتی ہیں ۔
Dawateislami