حضور نبی کریم  ﷺ اللہ پاک کے آخری نبی ہونے کے ساتھ ساتھ معلم کائنات بھی ہیں۔ حضور علیہ السلام نے اپنے امتیوں کی مختلف مواقع پر مختلف انداز میں اصلاح و تربیت کی ہے۔ نبی کریم علیہ السلام نے اپنے امتیوں کی تربیت کبھی اپنے قول سے کبھی فعل سے کبھی سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ۔

آئیے ہم بھی کچھ احادیث پڑھتے ہیں ۔

( 1 ) نماز کا انتظار : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور انور ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل خطاؤ ں کو مٹاتا اور گناہوں کومعا ف فرماتا ہے۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،'' یا رسول اللہ! ضرور بتائیے۔''ارشاد فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضو کرنا اور مسجدکی طرف کثر ت سے آمد ورفت رکھنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔

(الترغیب والترہیب ،باب : کتاب الطھارۃ ، جلد نمبر :1 ، صفحہ نمبر : 174 ، حدیث نمبر : 305 ، مکتبہ شبیر برادرز )

( 2 ) اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا : حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں وہ اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہے۔(ارکان اسلام ، باب : ایمانیات قرآن وحدیث کی روشنی میں ، صفحہ نمبر : 14 ،مکتبۃ المدینہ )

( 3 ) نیک اعمال : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے حوالے سے نہ بتاؤں لوگوں نے عرض کیا : ہاں ’ آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگوں میں سے بہترین وہ لوگ ہیں'جن کی عمر طویل اور اعمال اچھے ہیں۔(الترغیب والترہیب ، باب : کتاب التوبہ ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 540 ، حدیث نمبر : 5069 ، مکتبہ شبیر برادرز )

(4) جنتی کلمہ :حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔(صحیح مسلم شریف ، کتاب الذکر،باب استحباب،جلد نمبر : 1 ، حدیث نمبر : 2704 )

اختتامیہ : اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے ہر طریقے پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


پیارے پیارے اسلام بھائیو! اللہ پاک کے پیارے آخری نبی محمد عربی ﷺ  نے ہماری ہر طرح سے تربیت فرمائی کبھی اشارے کے ساتھ اور کبھی خط کھینچ کر تربیت فرمائی کبھی مثال کے ذریعے تربیت فرمائی اور کبھی سوالوں کے ذریعے تربیت فرمائی ۔آئیے چند احادیث مبارکہ کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1)کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی:عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! اَخْبِرْنِيْ بِعَمَلٍ يُّدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدُنِيْ مِنَ النَّارِ. قَالَ: ’’لَقَدْ سَاَلْتَ عَنْ عَظِيْـمٍ وَّاِنَّهٗ لَيَسِيْرٌ عَلٰى مَنْ يَسَّرَهُ اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ؛ تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهٖ شَيْئًا وَّتُقِيْمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَصُوْمُ رَمَضَانَ وَتَحُجُّ الْبَـيْتَ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَااَدُلُّكَ عَلٰى اَبْوَابِ الْخَيْرِ؛ اَلصَّوْمُ جُنَّةٌ وَّالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيْئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَآءُ النَّارَ وَصَلَاةُ الرَّجُلِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ.‘‘ ثُمَّ تَلَا: ’’ تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ‘‘ حَتّٰی بَلَغَ ’’ یَعْمَلُوْنَ ‘‘. ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِرَاْسِ الْاَمْرِ وَعَمُوْدِهٖ وَذِرْوَةِ سَنَامِهٖ‘‘ قُلْتُ: بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم ! قَالَ: ’’رَاْسُ الْاَمْرِ اَلْاِسْلَامُ وَعَمُوْدُهٗ اَلصَّلَاةُ وَذِرْوَةُ سَنَامِهٖ اَلْجِهَادُ.‘‘ ثُمَّ قَالَ: ’’اَلَا اُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذٰلِكَ كُلِّهٖ‘‘ قُلْتُ:بَلٰى يَا رَسُوْلَ اللهِ صلّی اللہ علیہ وسلّم !. فَاَخَذَ بِلِسَانِهٖ. ثُمَّ قَالَ: ’’ كُفَّ عَلَيْكَ هٰذَا.‘‘ قُلْتُ :يَا نَبِيَّ اللهِ! وَاِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهٖ فَقَالَ: ’’ثَكِلَتْكَ اُمُّكَ؛ وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ فِيْ النَّارِ عَلٰى وُجُوهِهِمْ. اَوْ قَالَ: عَلٰى مَنَاخِرِهِمْ اِلَّا حَصَائِدُ اَلْسِنَتِهِمْ.‘‘

حضرت سیِّدُنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم ! مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور آگ (جہنم) سے دور کردے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے ارشاد فرمایا:’’تم نے بہت بڑی بات کے بارے میں پوچھا ہے بےشک وہ اسی پر آسان ہے جس کے لئے اللہ پاک آسان فرمادے۔ (وہ یہ ہے)تم اللہ پاک کی عبادت اس طرح کرو کہ کسی کو بھی اس کا شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور بَیْتُ اللہ کا حج کرو۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں بھلائی کے دروازوں کی طرف تمہاری راہ نمائی نہ کروں روزہ ڈھال ہے اور صدقہ خطاؤں کو ایسے مٹادیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اور بندے کا رات کے درمیانی حصہ میں نماز پڑھنا۔‘‘ پھر آپ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم نے یہ آیات مبارکہ تلاوت فرمائیں:تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا-وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ(۱۶)فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍۚ-جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۷) (پ ۲۱، السجدة:۱۶، ۱۷)ترجمہ کنزالایمان: ان کی کروٹیں جدا ہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اور امید کرتے اور ہمارے دیئے ہوئے میں سے کچھ خیرات کرتے ہیں تو کسی جی کو نہیں معلوم جو آنکھ کی ٹھنڈک ان کے لئے چھپا رکھی ہے صلہ اُن کے کاموں کا۔

پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں معاملے (یعنی دین)کی اصل، اس کے ستون اور اس کی بلندی کے بارے میں نہ بتاؤں‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں (ضرور بتائیے)۔ ارشادفرمایا: ’’معاملے کی اصل اسلام، اس کا ستون نماز اور اس کی بلندی جہاد ہے۔‘‘ پھر ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ان سب کی اصل کے بارے میں نہ بتاؤں‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیوں نہیں۔ آپ نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر ارشاد فرمایا: ’’اسے قابو میں رکھو۔‘‘ میں نے عرض کی: یارسولَ اللہ صلّی اللہ علیہ والہ وسلّم! کیا گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی ارشاد فرمایا: ’’اے معاذ! تیری ماں تجھے روئے! لوگوں کو ان کے منہ کے بل یا فرمایا ان کے نتھنوں کے بل ان کی زبانوں کی کھیتی ہی جہنم میں گرائے گی۔(اس حدیث کو حضرت سیِّدُنا امام محمد بن عیسیٰ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے (جامع ترمذی میں) روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)(اربعین نوویہ , حدیث نمبر:29)

(2)پہلوان کون ہے: عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَعُدُّونَ الرَّقُوبَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا: الَّذِي لَا يُولَدُ لَهُ، قَالَ:لَيْسَ ذَاكَ بِالرَّقُوبِ وَلَكِنَّهُ الرَّجُلُ الَّذِي لَمْ يُقَدِّمْ مِنْ وَلَدِهِ شَيْئًاقَالَ:فَمَا تَعُدُّونَ الصُّرَعَةَ فِيكُمْ قَالَ قُلْنَا: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ: «لَيْسَ بِذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ.

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگ رقوب کا کیا معنی سمجھتے ہو ہم نے عرض کیا جو شخص لاولد ہو آپ نے فرمایا یہ رقوب نہیں ہے رقوب وہ شخص ہے جس نے (آخرت میں پیشوائی کے لیے )پہلے اولاد کو نہ بھیجا ہو آپ نے فرمایا تم پہلوان کسے کہتے ہو ہم نے کہا جس کو لوگ بچھاڑ نہ سکیں آپ نے فرمایا وہ پہلوان نہیں پہلوان تو وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے اپ کو قابو میں رکھ سکے۔(مسلم شریف ،کتاب البر و الصلہ و الادب ، باب فضل من یملک نفسہ عند الغضب وبای شیء یذھب الغضب، جلد 2، الحدیث 6641،)

(3)تم نے اس پر بہتان لگایا ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں مدینے کے تاجدار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اِستِفسار فرمایا :کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے عرض کی گئی :اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا:(غیبت یہ ہے کہ)تم اپنے بھائی کا اِس طرح ذکرکرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی :اگر وہ بات اس میں موجود ہو توفرمایا :جو بات تم کہہ رہے ہو اگر وہ اُس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں نہ ہو تو تم نے اُس پر بہتان باندھا۔(مسلم شریف کتاب البر و الصلہ و الادب ، باب تحریم الغیبۃ ، جلد 2 حدیث نمبر 6593،)

( 4)وارث کا مال کیا ہے: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ. قَالَ: فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِهِ مَا أخر رَوَاهُ البُخَارِيّ.

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں، فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تم میں کون ہے، جسے اپنے وارث کامال اپنے مال سے زیادہ پیارا ہو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی نہیں مگر اسے اپنا مال ہی زیادہ پیارا ہے، اپنے وارث کے مال سے فرمایا تو اس کا مال وہ ہے جو آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو چھوڑ جاوے ۔(بخاری)(مشکاۃ المصابیح (مترجم) کتاب الرقاق ،الفصل الاول ، جلد 7، حدیث نمبر 4937، )

(5) درگُزر کرنے والے پر آگ حرام ہے: عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ:قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم:اَلَا اُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ اَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ النَّارُ تَحْرُمُ عَلٰى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ ليِّنٍ سَهْلٍ.

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے والا۔ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:5 , حدیث نمبر:642 )

اللہ پاک سے دعا ہیں کہ وہ ہمیں حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔امین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنایا، اور آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لیے ایسے اسلوب اختیار فرمائے جو نہایت حکمت بھرے، بلیغ اور دل نشین تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیم دینے کا انداز سادہ بھی ہوتا اور مؤثر بھی، تاکہ ہر سننے والا بآسانی سمجھ سکے۔ انہی اسالیب میں آپ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک خاص امتیاز رکھتا ہے۔ آپ ﷺ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے سوال کر کے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول فرماتے، ان کو سوچنے پر آمادہ کرتے اور جواب دینے کی ترغیب دیتے۔ جب وہ جواب دیتے تو آپ ﷺ یا تو ان کے جواب کی تصحیح فرما دیتے یا اس میں مزید وضاحت اور تکمیل فرما کر اصل حقیقت واضح کر دیتے۔ اس طریقے سے نہ صرف ان کی علمی بصیرت بڑھتی بلکہ بات دل میں اتر کر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی۔

1. "قیامت کے دن حقیقی خسارہ کس کا ہوگا (سوالیہ انداز سے تربیت) رسول اللہ ﷺ کا انداز تعلیم نہایت حکیمانہ اور پر اثر تھا۔ آپ ﷺ اکثر سوال کے ذریعے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے تاکہ وہ بات کو زیادہ گہرائی سے سمجھیں اور ہمیشہ یاد رکھیں۔

عَنْ أبي هريرة؛ أن رسول الله ﷺ قال «أتدرون ما المفلس» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع. فقال «إن المفلس من أمتي، يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا. فيعطى هذا من حسناته وهذا من حسناته. فإن فنيت حسناته، قبل أن يقضى ما عليه، أخذ من خطاياهم فطرحت عليه. ثم طرح في النار».

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا: “کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے” صحابہ کرام نے عام دنیاوی تصور کے مطابق جواب دیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت اہم حقیقت واضح فرمائی کہ میری امت کا حقیقی مفلس وہ ہوگا جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے نیک اعمال لے کر آئے گا، لیکن دنیا میں اس نے لوگوں کو گالی دی ہوگی، تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، خون بہایا ہوگا یا کسی کو تکلیف پہنچائی ہوگی۔ یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور آخرکار وہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم، ج ۴، ص ۱۹۹۷، حدیث ٢٥٨١)

اس واقعے سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز محض گفتگو کا ایک طریقہ نہیں تھا بلکہ ایک مؤثر تعلیمی حکمت عملی تھی۔ جب آپ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا کہ “مفلس کون ہے آپﷺ نے اصل حقیقت بیان فرمائی کہ حقیقی مفلس وہ ہوگا جو عبادات تو لے کر آئے گا لیکن دوسروں کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے اپنی نیکیاں کھو بیٹھے گا، تو یہ بات ان کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔ اس سوال و جواب کے انداز نے نہ صرف ان کی توجہ کو مرکوز کیا بلکہ تعلیم کو زیادہ بامقصد، اثر انگیز اور دیرپا بنا دیا، تاکہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے سبق حاصل کریں اور دوسروں کے حقوق کے معاملے میں زیادہ محتاط رہیں۔

2. "رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز میں کبیرہ گناہوں کی وضاحت: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ، قُلْنَا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ: لَا يَسْكُتُ.

ترجمہ: ’’ کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ‘‘ ہم نے عرض کی:’’جی ہاں ! یارسول اللہ ﷺ !(ضرور بتائیے)۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:’’خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی(بھی سب سے بڑے گناہ ہیں )۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بار بار یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگے:’’کاش! آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو جائیں۔‘‘ ۔( صحيح البخاري، ج ٨، ص ۴، حدیث ٥٩٧٦)

اس اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا نہایت حکیمانہ اور بامقصد طریقہ تھا، جس نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دلوں میں نہ صرف علم و بصیرت کو راسخ کیا بلکہ گناہوں کی سنگینی کا احساس بھی بٹھایا۔ بلکہ وہ سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے والے بن گئے۔ یوں سوالیہ انداز محض تدریسی طریقہ نہیں بلکہ ترغیبِ عمل اور اصلاحِ کردار کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔

3. "اخلاص سے کیے گئے چھوٹے اعمال کی بڑی حقیقت: عن أبي هريرة؛ أن رسول الله ﷺ قَالَ:أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ. وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ. وانتظار الصلاة بعد الصلاة. فذلكم الرباط

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا '' کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل گناہوں کو مٹادیتاہے اور درجات کو بلند فرمادیتا ہے۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ''یا رسول اللہ ﷺ ! کیوں نہیں ،ضرور بتایئے۔'' فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضوکرنا اور مسجد کی طرف کثرت سے آمد ورفت رکھنا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا، یہی جہاد ہے ، یہی جہا د ہے ۔ (صحيح مسلم، ج ١، ص ٢١٩، حدیث ٢٥١)

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذریعے امت کو یہ پیغام دیا کہ دین پر ثابت قدمی صرف بڑے بڑے کارناموں یا مشکل ترین عبادات میں نہیں بلکہ بظاہر آسان اور روز مرہ کے معمولات میں بھی پوشیدہ ہے، بشرطیکہ انہیں اخلاص اور استقامت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ وضو کو درست طور پر ادا کرنا، مسجد کی طرف قدم بڑھانا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔یہ سب اعمال انسان کو اللہ کے قریب کرنے اور اس کے ایمان کو مضبوط بنانے والے عظیم اسباب ہیں۔

یوں یہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک نہایت مؤثر اور کامیاب طریقہ تھا، جس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دل و دماغ منور ہوئے اور ان کی علمی و عملی زندگی میں انقلاب آیا۔ یہ اسلوب آج بھی اہلِ علم اور معلمین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ بات کو بامقصد اور دیرپا اثر کے ساتھ کس طرح پہنچایا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کے اس حکیمانہ اسلوبِ تعلیم سے رہنمائی لینے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


رسولِ اکرم صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی تعلیمات سراپا حکمت، دانائی، اور فہم و فراست کا کامل نمونہ تھیں۔ آپ ﷺ نہ صرف وحی الٰہی کے امین تھے بلکہ بہترین معلم، مربی اور مصلح بھی تھے۔ آپ ﷺ کی تربیت کا انداز نہایت مؤثر، نفسیاتِ انسانی سے ہم آہنگ اور قلب و ذہن کو جھنجھوڑنے والا ہوتا تھا۔ آپ ﷺ کے اندازِ تربیت میں شفقت، نرمی، بصیرت، تدبر اور حکمت کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک خاص انداز جو ہمیں احادیثِ مبارکہ میں بارہا نظر آتا ہے آیئے ہم احادیث مبارکہ کو جانتے ہیں اور ان سے تعلیمات حاصل کرتے ہیں ۔

حدیث نمبر 1:وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔

ترجمہ :روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا در از خاموشی اور اچھی عادت سے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)

شرح حدیث:یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں، چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے، نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہر حال کلام بڑا صحیح ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔

یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تو لی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہو جائیں گے ، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہو گا۔

خاموشی سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔ اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق ادا کرنا، نرم و گرم حالات میں شاکر و صابر رہنا، چونکہ خاموشی اور صبر و شکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔ کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔ واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں، یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے (كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)

حدیث نمبر 2: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلْقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ : الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَابْنُ ماجه

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت ! کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیز یں منہ اور شرمگاہ ۔(ترمذی، ابن ماجہ ) نہیں) یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے، نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں، شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بد ترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4832)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا سوالیہ اندازِ تربیت محض ایک طرزِ گفتگو نہیں، بلکہ ایک جامع، بامقصد اور بصیرت افروز طریقہ تھا جس سے دلوں میں اثر، ذہنوں میں سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے سوالات، مخاطب کو غور و فکر پر آمادہ کرتے اور اسے خود اپنی اصلاح کی طرف مائل کرتے تھے۔ یہ اندازِ تربیت آج کے تعلیمی اور تربیتی نظام میں بھی رہنمائی کا عظیم ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے بچوں، شاگردوں اور معاشرے کے افراد کی تربیت میں اس سنتِ نبوی ﷺ کو اپنائیں، تاکہ ہمارا انداز تعلیم، نرمی، حکمت اور اثر انگیزی سے بھرپور ہو۔

دعا ہے اللہ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمیں حکمت و دانائی کے ساتھ دوسروں کی تربیت کرنے والا بنا دے۔ اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور سنت پر استقامت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔


نبی کریم ﷺ کی بعثت کا ایک عظیم مقصد لوگوں کی تعلیم و تربیت تھا۔ آپ ﷺ نے جس انداز سے انسانوں کے اخلاق، کردار، عقائد اور عبادات کو درست فرمایا، وہ انتہائی حکمت اور دانائی پر مبنی تھا۔ آپ ﷺ کی تربیت کے مختلف انداز تھے جن میں سے ایک مؤثر ترین انداز "سوالیہ انداز" تھا۔ سوالیہ طرزِ مخاطب انسان کی توجہ کو مرکوز کرتا ہے، سوچنے پر آمادہ کرتا ہے، اور سیکھنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اکثر اوقات سوال کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو متوجہ فرماتے اور پھر ان کے جوابات یا وضاحت کے ذریعے تعلیم دیتے۔ یہ انداز نہ صرف تربیت کے اصولوں پر مبنی تھا بلکہ سننے والے کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتا تھا۔

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔ (مرات المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 6( 4867)

ترجمہ : روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه ۔ ( مرات المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد 6) حدیث نمبر(4832)

ترجمہ: روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔(ترمذی، ابن ماجہ)

رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک حکیمانہ اور مؤثر تربیتی اسلوب تھا، جس کے ذریعے نہ صرف مخاطب کی توجہ حاصل کی جاتی بلکہ اس کی سوچ، فہم اور شعور کو بیدار کیا جاتا۔ آپ ﷺ نے سوالات کے ذریعے نہ صرف تعلیم دی بلکہ دلوں میں علم و حکمت کی شمع روشن کی۔ آج بھی اگر اس نبوی انداز کو اپنایا جائے تو تعلیم و تربیت کے میدان میں بہترین نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ انداز ہمیں سکھاتا ہے کہ بات صرف معلومات دینے کی نہیں، بلکہ دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور حقیقت کی طرف رہنمائی کرنے کی ہونی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


رسول اکرم ﷺ نے دعوت و تربیت کے میدان میں مختلف حکیمانہ انداز اختیار فرمائے، جن میں سے ایک نہایت مؤثر اور بامقصد طریقہ سوال و جواب کا تھا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی توجہ کسی خاص نکتے کی طرف مبذول کرانے اور ان کے اندر غور و فکر کی عادت پیدا کرنے کے لیے اکثر سوالیہ انداز اختیار فرماتے۔ یہ اسلوب نہ صرف ان کے دلوں میں علم کو راسخ کرتا بلکہ سننے والوں کو سوچنے اور عمل کرنے پر بھی ابھارتا۔ سوالیہ تربیت کا یہ طریقہ اسلام کے تعلیمی و تربیتی اصولوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جو آج بھی ہر معلم اور داعی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔آئیے اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں۔

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(مشکوۃ المصابیح جلد 6 حدیث نمبر:4867)

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔(مشکوۃ المصابیح جلد 6 حدیث نمبر:4832)

رسول اکرم ﷺ کا سوالیہ اندازِ تربیت دراصل حکمت و بصیرت سے بھرپور ایک ایسا تعلیمی طریقہ تھا جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں اور ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ ﷺ نہ صرف سوال کرتے بلکہ ان کے ذریعے شعور بیدار کرتے، فکر کی راہیں کھولتے اور سیکھنے والوں کو خود حق تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام محض سننے والے نہیں بلکہ علم و عمل میں پختگی حاصل کرنے والے تھے۔ آج کے معلمین، والدین اور داعیانِ دین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اسی حکیمانہ انداز کو اپنائیں تاکہ نصیحت اور تعلیم محض الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ قلوب و اذہان میں جاگزیں ہو جائے۔


دین اسلام ایک ایسا کامل و اکمل دین ہے جو زندگی کی ہر ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرماتا ہے لہذا رہنمائی فرمانے کے کئی طریقے ہیں انہی میں سے ایک بہترین طریقہ سوالیہ انداز میں تربیت کرنا بھی ہے جیسا کہ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے بارہا مقامات پر سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی۔

عَنْ مَعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أنَّ رَسُوْلَ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَہٗ إِلَی الْیَمَنِ قَالَ کَیْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَکَ قَضَآءٌ قَالَ أَقْضِيْ بِکِتَابِ اﷲ ِ قَالَ فَإنْ لَّمْ تَجِدْ فِيْ کِتَابِ اﷲ ِ قَالَ فَبِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ فَإنْ لَّم تَجِدْ فِيْ سُنَّۃِ رَسُوْلِ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَجْتَھِدُ رَأیِيْ وَلا اٰلُوْا قَالَ فَضَرَبَ رَسُوْلُ اﷲ ِ صَلَّی اﷲ ُ تَعالیٰ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِيْ صَدْرِہٖ قَالَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِيْ وَفَّقَ رَسُوْلَ رَسُوْلِ اﷲ ِ لِمَا یَرْضٰی بِہٖ رَسُوْلُ اﷲ ِ ۔رَوَاہُ الْتِّرْمِذِیُ وَ أَبُوْ دَاؤُدَ وَالْدَّارَمِيُّ .

ترجمہ:حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میں اﷲ عزوجل کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر اﷲ عزوجل کی کتاب میں تو اس کا حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ رسول کریم صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر تو رسول علیہِ السّلام کی سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا انہوں نے عرض کی کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔ حضرت سیّدنا معاذرضی اﷲ عنہ کہتے ہیں پھررسول کریم رؤف رحیم صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا اور فرمایاالحمد ﷲ عزوجل کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے قاصد کو اس چیز کی توفیق دی جس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ عزوجلکا رسول صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم راضی ہے۔ (کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ , حدیث نمبر:2)

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ قَالَ:کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰٰلِہٖ وَسَلَّمَ بَارِزًا یومًا لِلنَّاسِ فَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ:مَا الْاِیْمَانُ قَالَ:اَلْاِیْمَانُ اَنْ تُؤْمِنَ بِ اللہ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَبِلِقَائِہٖ وَرُسُلِہٖ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ قَالَ:مَا الْاِسْلَامُ قَالَ:اَلْاِسْلَامُ اَنْ تَعْبُدَ اللہ وَلَا تُشْرِکَ بِہٖ وَتُقِیْمَ الصَّلَاۃَ وَتُؤَدِّیَ الزَّکَاۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ قاَلَ: مَا الْاِحْسَانُ قَالَ: اَنْ تَعْبُدَ اللہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ قَالَ: مَتٰی السَّاعَۃُ قَالَ:مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْہَا بِاَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَسَاُخْبِرُکَ عَنْ اَشْرَاطِھَا اِذَا وَلَدَتِ الْاَمَۃُ رَبَّھَا وَاِذَا تَطَاوَلَ رُعَاۃُ الْاِبِلِ الْبُھْمُ فِی الْبُنْیَانِ فِیْ خَمْسٍ لَا یَعْلَمُھُنَّ اِلَّا اللہ ثُمَّ تَلَا النَّبِیُّ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ اَلْاٰیَۃُ، ثُمَّ اَدْبَرَ فَقَالَ: رُدُّوْہُ فَلَمْ یَرَوْا شَیْئًا فَقَالَ:ھٰذَا جِبْرِیْلُ جَائَ یُعَلِّمُ النَّاسَ دِیْنَھُمْ۔

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک دن حضور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں سے ملاقات کے لئے مکان سے باہر تشریف فرما تھے تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ایمان کیا ہے حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی ملاقات کو اور اس کے رسولوں کو اور موت کے بعد اُٹھنے کو تو دل سے مان لے ۔اس نے کہا: اسلام کیا ہے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تو خاص اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کرے اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائے اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے جو فرض ہے اور رمضان کے روزے رکھے ۔ اس نے کہاکہ احسان کیا ہے تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا کہ تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے پس اگر تو اس کو نہیں دیکھتاتو (اس طرح عبادت کرکہ ) وہ تجھ کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے کہا کہ قیامت کب آئے گی تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ۔ ہاں میں ابھی تجھ کو قیامت کی کچھ نشانیاں بتاتاہوں (جو یہ ہیں ) جبکہ باندی اپنے مولیٰ کو جنے گی اور اونٹوں کے چرواہے کالے کالے رنگ والے بڑی بڑی عمارتوں میں فخر و گھمنڈ کرنے لگیں گے۔ یہ (علم ِقیامت ) ان پانچ چیزوں میں سے ہے جن کوخدا کے سوا کوئی نہیں جانتا پھر حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِنَّ اللہ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ ( ترجمۂ کنز الایمان:بیشک اللہ کے پاس ہے قیامت کا علم۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)کی آیت تلاوت فرمائی (جس میں قیامت وغیرہ پانچ چیزوں کا ذکر ہے ) پھر وہ (سائل) واپس چلا گیا۔ اس کے بعد حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کو واپس بلالاؤ ۔ تو لوگوں کو کچھ نظر نہیں آیا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ یہ حضرت جبریل تھے جو لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئے تھے ۔ (منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:2)

عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی الْاَشْعَرِیِّ قَالَ:قَالُوْا:یَارَسُوْلَ اللہ اَیُّ الْاِسْلَامِ اَفْضَلُ قَالَ:مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہٖ وَیَدِہٖ۔ ترجمہ: حضرت ابو موسٰی اَشْعَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ ! عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون سا اسلام افضل ہے تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام مسلمان سلامت رہیں ۔(منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:4)

عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ مَالِِکِ بْنِ اُھَیْبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ زُھْرَۃَ بْنِ کِلابِ بْنِ مُرَّۃَ بْنِ کَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّالْقُرَشِيِّ الزُّہْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ، اَحَدِالْعَشَرَۃِ الْمَشْھُوْدِ لَہم بِالْجَنَّۃِ رَضِیَ اللہُ عَنْہم ۔قَالَ:جَائَ نِیْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَعُوْدُنِیْ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ اِشْتَدَّبِیْ فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنِّيْقَدْ بَلَغَ بِیْ مِنَ الْوَجَعِ مَاتَرٰی،وَاَنَا ذُوْمَالٍ وَلَایَرِثُنِيْ اِلَّا ابْنَۃٌ لِیْ،اَفَاَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْ مَالِیْقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالشَّطْرُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:لَا،قُلْتُ:فَالثُّلُثُ یَارَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِیْرٌ اَوْ کَبِیْرٌ اِنَّکَ اَنْ تَذَرَ وَرَثَتَکَ اَغْنِیَائَ خَیْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَہم عَالَۃً یَتَکَفَّفُوْنَ النَّاسَ، واِنَّکَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَۃً تَبْتَغِیْ بِہَا وَجْہَ اللہِ اِلَّا اُجِرْتَ عَلَیْہَا حَتّٰی مَا تَجْعَلُ فِیْ فِیِّ امْرَاَتِکَ،قَالَ: فَقُلْتُ:یَارَسُوْلَ اللہِ اُخَلَّفُ بَعْدَ اَصْحَابِیْقَالَ اِنَّکَ لَنْ تُخَلَّفَ فَتَعْمَلَ عَمَلًا تَبْتَغِیْ بِہٖ وَجْہَ اللہِ اِلَّاازْدَدْتَّ بِہٖ دَرَجَۃً وَرِفْعَۃً۔وَلَعَلَّکَ اَنْ تُخَلَّفَ حَتّٰی یَنْتَفِعَ بِکَ اَقْوَامٌ وَیُضَرَّبِکَ اٰخَرُوْنَ، اللہم اَمْضِ لِاَصْحَابِیْ ہِجْرَتَہم ،وَلَا تَرُدَّہم عَلٰی اَعْقَابِہم ،لٰکِنِ الْبَائِسُ سَعْدُ بْنُ خَوْلَۃَ۔یَرْثِیْ لَہٗ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنْ مَاتَ بِمَکَّۃَ۔مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ۔

ترجمہ حدیث : حضرتِ سَیِّدُنا ابو اسحاق سَعْد بن اَبی وقَّاص مالک بن اُھَیْب بِنْ عَبْد مَنَاف بِنْ زُہْرَہ بِنْ کِلَاب بِنْ مُرَّہ بِنْ کَعْب بِنْ لُؤَیّ قُرَشِی زُھْرِی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہ ُجو اُن دس حضرات میں سے ہیں جنہیں جنت کی خوشخبری دی گئی فرماتے ہیں : حَجَّۃُالوَدَ اع کے موقع پررَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری عِیادت کے لئے تشریف لائے مجھے سخت دردتھا میں نے عرض کی: یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !میری بیماری شدت اختیار کرچکی ہے جیسا کہ آپ ملاحظہ فرمارہے ہیں ، میں ایک مالدار شخص ہوں اور ایک بیٹی کے سوا میرا کوئی وارث نہیں ، کیا میں دوتہائی مال صَدَقہ کردوں فرمایا: نہیں ، میں نے عرض کی: یَا رَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !نصف مال صَدَقہ کر دوں فرمایا:نہیں۔ میں نے عرض کی: ایک تہائی فرمایا: ایک تہائی ٹھیک ہے اور تہائی بھی زیادہ ہے،(سنو!)تمہارا اپنے وارثوں کومالدار چھوڑ جاناان کو مفلس چھوڑنے سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز کرتے پھریں ، بے شک تم جوکچھ بھی اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے خرچ کرو گے اس کاثواب پاؤ گے یہاں تک کہ تم جو لقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ،اس کا بھی اجر ہے۔ فرماتے ہیں :میں نے عرض کی :’’یَا رَسُوْ لَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا میں اپنے اصحاب سے (ہجرت کے معاملہ )میں پیچھے چھوڑدیا جاؤنگا‘‘ فرمایا:’’ تم ہرگز پیچھے نہ چھوڑے جاؤگے کیونکہ تم اللہ عزَّوَجَلَّ کی رضا کے لئے جو بھی عمل کرو گے اس سے تمہارا مرتبہ بڑھے گا اور پھر تم یقینا لمبی عمر دئیے جاؤگے یہاں تک کہ کچھ لوگوں کو تم سے فائدہ پہنچے گا جب کہ کچھ لوگ تمہاری وجہ سے نقصان اٹھائیں گے۔‘‘ (پھرحضورصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ دعا کی): یا اللہ عزَّوَجَلَّ! میرے صحابہ کی ہجرت کو پورا فرما اور انہیں ان کی حاجت سے نہ پھیر! البتہ سعد بن خولہ کی حالت قابلِ رحم ہے۔ نبیِّ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاحضرت سَعَدبن خَولہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہُ کے لئے اظہارِ افسوس کر نا اس لئے تھاکہ وہ مَکَّۂ مُکَرَّمَہ میں ہی فوت ہوئے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:1 , حدیث نمبر:6)

عَنْ جَابِرٍ بْنِ عَبْدِ اﷲ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُوْلَ اﷲِ عَنْ وَقْتِ الصَّلوٰۃِ فَلَمَّا دَلَکَتِ الشَّمْسُ أَذَّنَ بِلاَلٌ الظُّھْرَ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعَصْرِ حِیْنَ ظَنَنَّا أَنَّ ظِلَّ الرَّجُلِ أَطْوَلُ مِنْہُ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اﷲ ِ فَأَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَصَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَأَمَرَہُ رَسُوْلُ اﷲ ِ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْعِشَآءِ حِیْنَ ذَھَبَ بَیَاضُ النَّھَارِ وَ ھُوَ الشَّفَقُ ثُمَّ اَمَرَہُ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَ صَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ اَذَّنَ بِلاَلُ الْغَدَ لِلظُّھْرِ حِیْنَ دَلَکَتِ الشَّمْسُ فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ حَتّٰی صَارَ ظِلُّ کُلِّ شَیئٍ مِّثْلَیْہِ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲ فَأَقَامَ وَ صَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَأَخَّرَھَارَسُوْلُ اﷲ حَتّٰی کَادَ یَغِیْبُ بِیَاضُ النَّھَارِ وَھُوَ الشَّفَقُ فِیْمَا یُرٰی ثُمَّ اَمَرَہٗ رَسُوْلُ اﷲِ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَلَّی ثُمَّ أَذَّنَ لِلْعِشَاءِ حِیْنَ غَابَ الشَّفَقُ فَنُمْنَا ثُمَّ قُمْنَا مِرَارًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَیْنَارَسُوْلُ اﷲ ِ فَقَالَ مَا اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ یَنْتَظِرُ ھٰذِہِ الصَّلوٰۃَ غَیْرُکُمْ فَاِنَّکُمْ فِيْ صَلوٰۃٍ مَاانْتَظَرْتُمُوْھَا وَلَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلیٰ اُمَّتِي لَاَمَرْتُ بِتَأخِیْرِ ھٰذِہِ الصَّلوٰۃِ إِلَی نِصْفِ الَّیْلِ اَوْ اَقْرَبَ مِنَ اللَّیْلِ ثُمَّ اَذَّنَ لِلْفَجْرِ فَأَخَّرَھَا حَتّٰی کَادَتِ الشَّمْسُ اَنْ تَطْلُعَ فَأَمَرَہٗ فَأَقَامَ الصَّلوٰۃَ فَصَلّٰی ثُمَّ قَالَ، اَلْوَقْتُ فِیْمَا بَیْنَ ھٰذَیْنِ۔ رَوَاہٗ الطَّبرَانِيُّ فِی الْاَوْسَطِ وَ إسْنَادُہٗ حَسَنٌ مَجْمَعُ الزَّوَائِدِ۔

ترجمہ :حضرتِ جابر بن عبد اﷲرضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اﷲصلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔تو جب آفتاب ڈھل گیا تو بلال رضی اﷲ عنہ نے ظہر کی اذان دی اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو اس نے تکبیر کہی تو آپ نے نماز پڑھی اس نے عصر کی اذان اس وقت کہی جب کہ ہم نے سمجھا کہ آدمی کاسایہ اس سے بڑھ گیا ہے ۔ اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھی پھر نماز مغرب کی اذان اس وقت دی جبکہ آفتاب غروب ہوگیا۔ اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اسے حکم دیا تو اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز مغرب پڑھی ۔پھر عشاء کی اذان اس وقت دی جبکہ دن کی سفیدی یعنی شفق جاتی رہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا۔ اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز عشاء پڑھی پھر فجر کی اذان دی اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھی پھر اگلے دن بلال رضی اﷲ عنہ نے ظہر کی اذان اس وقت دی جبکہ آفتاب ڈھل گیا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے برابر ہوگیا ۔اس کے بعد آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حکم دیاتو اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے عصر کی اذان دی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ ہر شے کا سایہ اس کے دو مثل یعنی دو گنا ہوگیا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے امر کیا (حکم دیا)تو اس نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز پڑھ لی۔ پھر اس نے مغرب کی اذان اس وقت دی جبکہ سورج غروب ہوگیا تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر فرمائی کہ دن کی سفیدی غائب ہونے کے قریب ہوگئی اور وہ شفق ہے۔ پھر آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کو حکم دیا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلم نے نماز پڑھی پھر عشاء کی اذان اس وقت دی جب شفق یعنی دن کی سفیدی غائب ہوگئی پھر ہم سوگئے پھر جاگے ۔ کئی بار ایسا ہوا۔ پھر رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہارے سوا کوئی آدمی اس نماز کا انتظار نہیں کررہا۔ پس تم نماز میں ہی ہو جب تک نماز کے انتظار میں رہو۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں تاخیر کا حکم کرکے اپنی امت کو مشقت میں ڈال دونگا تو اس نماز کو نصف شب یا قریب نصف شب تک تاخیر کا حکم دیتا ۔پھر انہوں نے فجر کی اذان دی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے یہاں تک تاخیر کی کہ آفتاب قریبِ طلوع تھا۔ تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے امر فرمایا تو انہوں نے تکبیر کہی تو آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نماز فجر پڑھی ۔ پھر فرمایا کہ وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں روایت کیا ۔ ( مجمع الزوائد ۱/۳۰۴ ،معجم الاوسط ۷/۴۰ کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ )


یوں تو آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی ہر بات ہر ادا ہر کام حکمت سے بھرپور ہے کہیں پر آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا اشارے سے تربیت فرمانا کہیں پر فرمان کے ذریعے تربیت فرمانا کہیں پر تشبیہات کی تربیت فرمانا اور اسی طرح آقا علیہ الصلوۃ والسلام کا سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا احادیث مبارکہ میں ملتا ہے چنانچہ  جن احادیث کریمہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی مکی مدنی ﷺ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ان کو ملاحظہ کرتے ہیں:

1:کیا تم جانتے ہو:اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے سوالیہ انداز سے پوچھا کہ جنت میں اور دوزخ میں کون سی چیز جلدی پہنچا دے آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے اس حوالے سے فرمایا: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه ترجمہ:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔ (مراةالمناجیح شرح مشکاۃالمصابیح باب: زبان کی حفاظت کا بیان اور غیبت اور گالی کا بیان جلد نمبر :6 حدیث نمبر :4832)

2:خاموشی اور اچھی عادت:اس حدیث مبارکہ میں اللہ کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے خاموشی اور اچھی عادت کے حوالے سے سوالیہ انداز سے تربیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (مراةالمناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح باب: زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان جلد نمبر:6حدیث نمبر :4867)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے ان احادیث مبارکہ میں جو کچھ پڑھا اور بیان کیا اور جو کچھ سیکھا اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فرامین پر دل و جان سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جن جن چیزوں کے بارے میں اقا علیہ الصلوۃ والسلام نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ان کو خود سیکھنے اور دوسروں کو سکھانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ النبی الکریم ﷺ 


رسول پاک  ﷺ کا تربیت فرمانے کا انداز بہت ہی عمدہ تھا ، آپ دوسرے شخص کی رہنمائی کے لیے اس کی عقل کے مطابق مختلف انداز اپناتے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام کسی بات کو سمجھانے کے لیے سوالیہ انداز اپناتے اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہو۔

پانچ نمازیں دن میں پانچ بار نہانے کی مانند:حضور جان عالم ﷺ نے صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا: بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر نہرہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہےگا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(بخاری،ج 1،ص196، حدیث:528)

اس حدیث مبارکہ میں نبی پاک ﷺ نے تربیت فرمانے کے لیے سوالیہ انداز اپنایا کہ جس طرح دن میں پانچ بار نہانے والے کے جسم پر کوئی میل نہیں رہتی اسی طرح دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے پر گناہ نہیں رہتے۔

کہا تم اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرو گے:آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار) آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2403]

اس حدیث مبارکہ میں نبی پاک ﷺ نے تربیت فرمانے کے لیے سوالیہ انداز اپناتے ہوئے فرمایا۔

یہ تھی حضور جان عالم ﷺ کا تربیت کا انداز اللہ ہمیں سچ و پکا عاشق رسول ﷺ بنائے ۔ آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔


انسانی ذہن کا یہ خاصہ ہے کہ وہ سنی ہوئی بات جلد بھول جاتا ہے، مگر جو بات سوال کے ذریعے سمجھائی جائے وہ دیر تک یاد رہتی ہے۔ سوال دماغ کو جگاتا ہے، سوچنے پر مجبور کرتا ہے، اور جواب سننے کے بعد انسان کے دل پر وہ بات زیادہ گہری نقش ہو جاتی ہے۔

ہمارے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے معلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعلیم و تربیت کے لیے کئی بار سوالیہ انداز اختیار فرمایا تاکہ وہ نہ صرف بات سنیں بلکہ سوچیں، غور کریں اور پھر حقیقت کو پوری طرح سمجھیں۔ ان میں سے چند احادیث ملاحظہ کیجئے:

1. اصل مفلس کون ہے: أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہے نہ سامان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لائے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم الظلم، حدیث: 2581، ج2، ص 563)

یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کے ذریعے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذہن کو سوچنے پر لگایا اور پھر اصل حقیقت واضح فرمائی کہ اصل مفلس وہ ہے جس کی نیکیاں دوسروں پر ظلم کر کے برباد ہو جائیں۔

2. مسلمان کی مثال کون سا درخت ہےإِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ مسلمان کی مثال ہے۔ مجھے بتاؤ وہ کون سا ہے" صحابہ کرام علیہم الرضوان مختلف درختوں کے بارے میں سوچنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب طرح الإمام المسألة، حدیث: 61، ج1، ص 36)

مذکورہ حدیث مبارکہ میں :یہ سوال نہ صرف ذہن کو حرکت دیتا ہے بلکہ غور و فکر کی عادت بھی ڈالتا ہے۔ مسلمان کی زندگی کو کھجور کی طرح ہونی چاہیے، جو ہر حال میں فائدہ دیتا ہے اور مضبوط کھڑا رہتا ہے۔

3. سب سے افضل عمل کیا ہےسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّم: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ: إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 151، ج1، ص 108)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: "سب سے افضل عمل کون سا ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔"

مذکورہ حدیث مبارکہ میں :سوال و جواب کے ذریعے ایمان کی بنیاد ذہن میں مضبوطی سے بٹھا دی گئی کہ ہر نیکی کی جڑ ایمان ہے۔

4. سب سے بڑے گناہ کون سے ہیں أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ نہ بتاؤں" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔(صحیح البخاری، کتاب الشهادات، باب ما قيل في شهادة الزور، حدیث: 2654، ج2، ص 673)

مذکورہ حدیث مبارکہ میں یہ سوال سننے والوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور گناہوں کی سنگینی ذہن پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

5. بہترین مسلمان کون ہےسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّم : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ: مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔یعنی:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: "سب سے اچھا مسلمان کون ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث: 11، ج1، ص 17)

مذکورہ حدیث مبارکہ میں :یہ سوال اور جواب ہمیں سمجھاتا ہے کہ اصل نیکی صرف عبادت نہیں بلکہ دوسروں کو اپنی زبان اور ہاتھ کے شر سے بچانا بھی ہے۔

پیارے اسلامی بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوالیہ انداز تعلیم دلوں کو زندہ کرنے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پوچھتے: "کیا تم جانتے ہو"، کبھی فرماتے: "تمہیں نہ بتاؤں"… اور پھر ایسی حقیقت سامنے رکھتے کہ سننے والے کے دل میں وہ بات ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی۔آج اگر والدین بچوں کی تربیت میں، اساتذہ طلبہ کو پڑھانے میں، اور خطباء و واعظین اپنے بیان میں سوالیہ انداز اختیار کریں تو علم بھی زیادہ پختہ ہوگا اور سننے والے کے دل پر بھی زیادہ اثر ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیتی اسلوب پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم 


رسول اللہ ﷺ  نے کئی طریقوں سے صحابہ کرام علیہم رضوان کی تربیت فرمائی اور وہی تربیت آج تک ہم سب کو مل رہی ہے جیسا کہ رسول ﷺ کا اشارے سے تربیت فرمانا مثال دے کر تربیت فرمانا اسی طرح حضور ﷺ نے کئی جگہ پر صحابہ کرام علیہم رضوان اور اپنی امت کی سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے ۔جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے۔

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔( مرآۃ المنا جیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد:6 حدیث نمبر 4832)

جیسا کہ اس حدیث مبارکہ میں حضور ﷺ نے تربیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کون سی چیز جنت میں لے جاتی ہے اور کون سی چیز دوزخ میں لے جاتی ہے یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے 90 فیصد گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ۔

ایک اور حدیث مبارکہ میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے ابوذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکے ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(کتاب مرآۃ الماجیح شرح مشکاۃالمصابیح جلد 6 حدیث نمبر 4867)

یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا مراد ہے زبان کی پیٹھ۔

یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔

خاموشی سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔

کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔

جو کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آخری نبی پیدا فرمایا اور آپ پر سلسلہ نبوت کو ختم فرما دیا .آپ صلی  اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے پاس بہت سے کمالات اور معجزات موجود تھے. جو کسی کو بھی عطا نہ ہوئے تھے. جیسے چاند کے دو ٹکرے کرنا,انگلیوں سے چشمے جاری کرنا اسی طرح آپ بہت سے انداز میں تربیت فرماتے جیسے قول کے ذریعے,فعل کے ذدیعے,اور ایسے ہی آپ سوالیہ انداز سے تربیت فرماتے. آئیے ہم چند احادیث ذیل میں پیش کرتے ہیں ۔

(1) خاموشی اور اچھی عادت کا کمال : وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ: بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا ۔

ترجمہ : روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , اچھی باتوں کا بیان ، باب زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان ،حدیث نمبر:4867)

(2) اللہ پاک سے ڈرو: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَتَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ وَالْفَرْجُ .رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه۔ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ (ترمذی، ابن ماجہ) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح،اچھی باتوں کا بیان ،باب زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان ،جلد:6 , حدیث نمبر:4832)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین