رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلمِ انسانیت بنایا، اور آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لیے ایسے اسلوب اختیار فرمائے جو نہایت حکمت بھرے، بلیغ اور دل نشین تھے۔ آپ ﷺ کی تعلیم دینے کا انداز سادہ بھی ہوتا اور مؤثر بھی، تاکہ ہر سننے والا بآسانی سمجھ سکے۔ انہی اسالیب میں آپ ﷺ کا سوالیہ انداز ایک خاص امتیاز رکھتا ہے۔ آپ ﷺ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے سوال کر کے ان کی توجہ اپنی طرف مبذول فرماتے، ان کو سوچنے پر آمادہ کرتے اور جواب دینے کی ترغیب دیتے۔ جب وہ جواب دیتے تو آپ ﷺ یا تو ان کے جواب کی تصحیح فرما دیتے یا اس میں مزید وضاحت اور تکمیل فرما کر اصل حقیقت واضح کر دیتے۔ اس طریقے سے نہ صرف ان کی علمی بصیرت بڑھتی بلکہ بات دل میں اتر کر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاتی۔

1. "قیامت کے دن حقیقی خسارہ کس کا ہوگا (سوالیہ انداز سے تربیت) رسول اللہ ﷺ کا انداز تعلیم نہایت حکیمانہ اور پر اثر تھا۔ آپ ﷺ اکثر سوال کے ذریعے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی توجہ اپنی طرف مبذول کراتے تاکہ وہ بات کو زیادہ گہرائی سے سمجھیں اور ہمیشہ یاد رکھیں۔

عَنْ أبي هريرة؛ أن رسول الله ﷺ قال «أتدرون ما المفلس» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع. فقال «إن المفلس من أمتي، يأتي يوم القيامة بصلاة وصيام وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا. فيعطى هذا من حسناته وهذا من حسناته. فإن فنيت حسناته، قبل أن يقضى ما عليه، أخذ من خطاياهم فطرحت عليه. ثم طرح في النار».

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا: “کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے” صحابہ کرام نے عام دنیاوی تصور کے مطابق جواب دیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے ایک نہایت اہم حقیقت واضح فرمائی کہ میری امت کا حقیقی مفلس وہ ہوگا جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسے نیک اعمال لے کر آئے گا، لیکن دنیا میں اس نے لوگوں کو گالی دی ہوگی، تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، خون بہایا ہوگا یا کسی کو تکلیف پہنچائی ہوگی۔ یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی، یہاں تک کہ جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور آخرکار وہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم، ج ۴، ص ۱۹۹۷، حدیث ٢٥٨١)

اس واقعے سے یہ حقیقت نمایاں ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز محض گفتگو کا ایک طریقہ نہیں تھا بلکہ ایک مؤثر تعلیمی حکمت عملی تھی۔ جب آپ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے پوچھا کہ “مفلس کون ہے آپﷺ نے اصل حقیقت بیان فرمائی کہ حقیقی مفلس وہ ہوگا جو عبادات تو لے کر آئے گا لیکن دوسروں کے حقوق ادا نہ کرنے کی وجہ سے اپنی نیکیاں کھو بیٹھے گا، تو یہ بات ان کے ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگئی۔ اس سوال و جواب کے انداز نے نہ صرف ان کی توجہ کو مرکوز کیا بلکہ تعلیم کو زیادہ بامقصد، اثر انگیز اور دیرپا بنا دیا، تاکہ وہ اپنی عملی زندگی میں اس سے سبق حاصل کریں اور دوسروں کے حقوق کے معاملے میں زیادہ محتاط رہیں۔

2. "رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز میں کبیرہ گناہوں کی وضاحت: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ، قُلْنَا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ، فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى قُلْتُ: لَا يَسْكُتُ.

ترجمہ: ’’ کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں ‘‘ ہم نے عرض کی:’’جی ہاں ! یارسول اللہ ﷺ !(ضرور بتائیے)۔‘‘ارشاد فرمایا:’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا:’’خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی(بھی سب سے بڑے گناہ ہیں )۔‘‘ آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بار بار یہ فرماتے رہے یہاں تک کہ ہم کہنے لگے:’’کاش! آپ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خاموش ہو جائیں۔‘‘ ۔( صحيح البخاري، ج ٨، ص ۴، حدیث ٥٩٧٦)

اس اسلوب سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا نہایت حکیمانہ اور بامقصد طریقہ تھا، جس نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دلوں میں نہ صرف علم و بصیرت کو راسخ کیا بلکہ گناہوں کی سنگینی کا احساس بھی بٹھایا۔ بلکہ وہ سوچنے، سمجھنے اور عمل کرنے والے بن گئے۔ یوں سوالیہ انداز محض تدریسی طریقہ نہیں بلکہ ترغیبِ عمل اور اصلاحِ کردار کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہوا۔

3. "اخلاص سے کیے گئے چھوٹے اعمال کی بڑی حقیقت: عن أبي هريرة؛ أن رسول الله ﷺ قَالَ:أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى مَا يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا وَيَرْفَعُ بِهِ الدَّرَجَاتِ قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عَلَى الْمَكَارِهِ. وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى الْمَسَاجِدِ. وانتظار الصلاة بعد الصلاة. فذلكم الرباط

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا '' کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عزوجل گناہوں کو مٹادیتاہے اور درجات کو بلند فرمادیتا ہے۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا ''یا رسول اللہ ﷺ ! کیوں نہیں ،ضرور بتایئے۔'' فرمایا،'' مشقت کے وقت کامل وضوکرنا اور مسجد کی طرف کثرت سے آمد ورفت رکھنا اور ایک نَماز کے بعد دوسری نَماز کا انتظار کرنا، یہی جہاد ہے ، یہی جہا د ہے ۔ (صحيح مسلم، ج ١، ص ٢١٩، حدیث ٢٥١)

رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ذریعے امت کو یہ پیغام دیا کہ دین پر ثابت قدمی صرف بڑے بڑے کارناموں یا مشکل ترین عبادات میں نہیں بلکہ بظاہر آسان اور روز مرہ کے معمولات میں بھی پوشیدہ ہے، بشرطیکہ انہیں اخلاص اور استقامت کے ساتھ انجام دیا جائے۔ وضو کو درست طور پر ادا کرنا، مسجد کی طرف قدم بڑھانا اور نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔یہ سب اعمال انسان کو اللہ کے قریب کرنے اور اس کے ایمان کو مضبوط بنانے والے عظیم اسباب ہیں۔

یوں یہ رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک نہایت مؤثر اور کامیاب طریقہ تھا، جس سے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دل و دماغ منور ہوئے اور ان کی علمی و عملی زندگی میں انقلاب آیا۔ یہ اسلوب آج بھی اہلِ علم اور معلمین کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے کہ بات کو بامقصد اور دیرپا اثر کے ساتھ کس طرح پہنچایا جائے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نبی کریم ﷺ کے اس حکیمانہ اسلوبِ تعلیم سے رہنمائی لینے اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین