رسول
پاک ﷺ کا تربیت فرمانے کا انداز بہت ہی عمدہ تھا ، آپ دوسرے شخص کی رہنمائی کے لیے
اس کی عقل کے مطابق مختلف انداز اپناتے۔ اسی طرح آپ علیہ السلام کسی بات کو
سمجھانے کے لیے سوالیہ انداز اپناتے اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہو۔
پانچ
نمازیں دن میں پانچ بار نہانے کی مانند:حضور جان عالم ﷺ نے
صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا: بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر
نہرہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی
رہ جائے گاصحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہےگا۔ حضورِ
اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی
ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(بخاری،ج 1،ص196، حدیث:528)
اس
حدیث مبارکہ میں نبی پاک ﷺ نے تربیت فرمانے کے لیے سوالیہ انداز اپنایا کہ
جس طرح دن میں پانچ بار نہانے والے کے جسم پر کوئی میل نہیں رہتی اسی طرح دن میں
پانچ وقت کی نماز پڑھنے والے پر گناہ نہیں رہتے۔
کہا
تم اللہ کے رسول کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرو گے:آپ ﷺ نے
فرمایا: ”کیا تم اللہ کے رسول ﷺ سے بیعت نہیں کروگے“ اور ہم نے ابھی نئی نئی بیعت
کی تھی۔ تو ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے
فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے“ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم
آپ سے بیعت کر چکے ہیں۔ آپ ﷺ نے پھر فرمایا: ”تم اللہ کے رسول سے بیعت نہیں
کرو گے“ تو ہم نے اپنے ہاتھ بڑھا دیے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم (ایک بار)
آپ سے بیعت کر چکے ہیں، اب کس بات پر آپ سے بیعت کریں آپ ﷺ نے
فرمایا: ”اس بات پر کہ تم اللہ کی عبادت کروگے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں
ٹھہراؤ گے اور پانچ نمازوں پر، اور اس بات پر کہ اطاعت کرو گے۔“ اور ایک جملہ
آہستہ سے فرمایا: ”اور لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو گے۔“ اس کے بعد میں نے ان
میں سے بعض افراد کو دیکھا کہ ان میں سے کسی کا کوڑا گر جاتا تو کسی سے نہ کہتا کہ
اٹھا کر اس کے ہاتھ میں دے دے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2403]
اس
حدیث مبارکہ میں نبی پاک ﷺ نے تربیت فرمانے کے لیے سوالیہ انداز اپناتے
ہوئے فرمایا۔
یہ
تھی حضور جان عالم ﷺ کا تربیت کا انداز اللہ ہمیں سچ و پکا عاشق
رسول ﷺ بنائے ۔ آمین یا رب العالمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
Dawateislami