رسول
اللہ ﷺ نے کئی طریقوں سے صحابہ کرام علیہم
رضوان کی تربیت فرمائی اور وہی تربیت آج تک ہم سب کو مل رہی ہے جیسا کہ رسول
ﷺ کا اشارے سے تربیت فرمانا مثال دے کر
تربیت فرمانا اسی طرح حضور ﷺ نے کئی جگہ
پر صحابہ کرام علیہم رضوان اور اپنی امت کی سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے ۔جیسا
کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے۔
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ
لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو
آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ ۔( مرآۃ
المنا جیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد:6 حدیث نمبر 4832)
جیسا
کہ اس حدیث مبارکہ میں حضور ﷺ نے تربیت
فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کون سی چیز جنت میں لے جاتی ہے اور کون سی چیز
دوزخ میں لے جاتی ہے یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے 90 فیصد
گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب
کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ۔
ایک
اور حدیث مبارکہ میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا: اے ابوذر کیا میں تم کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکے
ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور
اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے
ہوں گے۔(کتاب مرآۃ الماجیح شرح مشکاۃالمصابیح
جلد 6 حدیث نمبر 4867)
یعنی
ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے
عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں
پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا مراد ہے زبان کی
پیٹھ۔
یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی
جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی
شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔
خاموشی
سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی
نہیں۔اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و
صابر رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں
کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا
گیا۔
کیونکہ
انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر
معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔
جو
کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
Dawateislami