محمد ارسلان علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ منڈی موڑ پاکپتن ،
پاکستان)
انسانی
ذہن کا یہ خاصہ ہے کہ وہ سنی ہوئی بات جلد بھول جاتا ہے، مگر جو بات سوال کے ذریعے
سمجھائی جائے وہ دیر تک یاد رہتی ہے۔ سوال دماغ کو جگاتا ہے، سوچنے پر مجبور کرتا
ہے، اور جواب سننے کے بعد انسان کے دل پر وہ بات زیادہ گہری نقش ہو جاتی ہے۔
ہمارے
آقا و مولا صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑے معلم تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی تعلیم و تربیت کے لیے کئی بار
سوالیہ انداز اختیار فرمایا تاکہ وہ نہ صرف بات سنیں بلکہ سوچیں، غور کریں اور پھر
حقیقت کو پوری طرح سمجھیں۔ ان میں سے چند احادیث ملاحظہ کیجئے:
1.
اصل مفلس کون ہے: أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا
دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ. فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي
يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا،
وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا۔
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو
مفلس کون ہے" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے
جس کے پاس نہ مال ہے نہ سامان۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میری
امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لائے گا، لیکن اس نے کسی
کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کو مارا
ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا(صحیح مسلم، کتاب البر، باب تحریم الظلم، حدیث: 2581،
ج2، ص 563)
یہاں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کے ذریعے صحابہ کرام علیہم
الرضوان کے ذہن کو سوچنے پر لگایا اور پھر اصل حقیقت واضح فرمائی کہ اصل مفلس وہ
ہے جس کی نیکیاں دوسروں پر ظلم کر کے برباد ہو جائیں۔
2.
مسلمان کی مثال کون سا درخت ہےإِنَّ
مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ،
فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ فَوَقَعَ النَّاسُ
فِي شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا
النَّخْلَةُ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے، وہ مسلمان کی مثال ہے۔ مجھے
بتاؤ وہ کون سا ہے" صحابہ کرام علیہم الرضوان مختلف درختوں کے بارے میں سوچنے
لگے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا
درخت ہے۔(صحیح البخاری، کتاب العلم، باب طرح الإمام المسألة، حدیث:
61، ج1، ص 36)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں :یہ سوال نہ صرف ذہن کو حرکت دیتا ہے بلکہ غور و فکر کی عادت بھی
ڈالتا ہے۔ مسلمان کی زندگی کو کھجور کی طرح ہونی چاہیے، جو ہر حال میں فائدہ دیتا
ہے اور مضبوط کھڑا رہتا ہے۔
3.
سب سے افضل عمل کیا ہےسُئِلَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّم: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ:
إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ(صحیح البخاری، کتاب الایمان،
حدیث: 151، ج1، ص 108)
رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: "سب سے افضل
عمل کون سا ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ اور اس کے رسول
صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا۔"
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں :سوال و جواب کے ذریعے ایمان کی بنیاد ذہن میں مضبوطی سے بٹھا دی
گئی کہ ہر نیکی کی جڑ ایمان ہے۔
4.
سب سے بڑے گناہ کون سے ہیں أَلَا
أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ.
قَالَ: الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہ نہ
بتاؤں" صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا: جی ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک
کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔(صحیح البخاری، کتاب الشهادات، باب ما قيل في
شهادة الزور، حدیث: 2654، ج2، ص 673)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں یہ سوال سننے والوں کے دلوں کو جھنجھوڑ دیتا ہے اور گناہوں کی سنگینی
ذہن پر گہرا اثر چھوڑتی ہے۔
5.
بہترین مسلمان کون ہےسُئِلَ رَسُولُ
اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّم : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ قَالَ:
مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ۔یعنی:رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: "سب سے اچھا
مسلمان کون ہے" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وہ مسلمان جس کی
زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحیح البخاری، کتاب الایمان، حدیث:
11، ج1، ص 17)
مذکورہ
حدیث مبارکہ میں :یہ سوال اور جواب ہمیں سمجھاتا ہے کہ اصل نیکی صرف عبادت نہیں
بلکہ دوسروں کو اپنی زبان اور ہاتھ کے شر سے بچانا بھی ہے۔
پیارے
اسلامی بھائیو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سوالیہ انداز تعلیم دلوں کو زندہ
کرنے والا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی پوچھتے: "کیا تم جانتے
ہو"، کبھی فرماتے: "تمہیں نہ بتاؤں"… اور پھر ایسی حقیقت سامنے
رکھتے کہ سننے والے کے دل میں وہ بات ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی۔آج اگر والدین بچوں
کی تربیت میں، اساتذہ طلبہ کو پڑھانے میں، اور خطباء و واعظین اپنے بیان میں سوالیہ
انداز اختیار کریں تو علم بھی زیادہ پختہ ہوگا اور سننے والے کے دل پر بھی زیادہ اثر
ہوگا۔اللہ تعالیٰ ہمیں معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیتی اسلوب پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ
النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
Dawateislami