رسول
اکرم ﷺ نے دعوت و تربیت کے میدان میں مختلف حکیمانہ انداز اختیار فرمائے، جن میں
سے ایک نہایت مؤثر اور بامقصد طریقہ سوال و جواب کا تھا۔ آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم کی ذہنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، ان کی توجہ کسی خاص نکتے کی طرف مبذول
کرانے اور ان کے اندر غور و فکر کی عادت پیدا کرنے کے لیے اکثر سوالیہ انداز اختیار
فرماتے۔ یہ اسلوب نہ صرف ان کے دلوں میں علم کو راسخ کرتا بلکہ سننے والوں کو
سوچنے اور عمل کرنے پر بھی ابھارتا۔ سوالیہ تربیت کا یہ طریقہ اسلام کے تعلیمی و
تربیتی اصولوں میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، جو آج بھی ہر معلم اور داعی کے لیے
مشعلِ راہ ہے۔آئیے اس کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں۔
ترجمہ:روایت
ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز
خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے
قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔(مشکوۃ المصابیح جلد
6 حدیث نمبر:4867)
ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ
وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے
الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی
ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔(مشکوۃ المصابیح جلد 6 حدیث نمبر:4832)
رسول
اکرم ﷺ کا سوالیہ اندازِ تربیت دراصل حکمت و بصیرت سے بھرپور ایک ایسا تعلیمی طریقہ
تھا جس نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں اور ذہنوں پر گہرا اثر ڈالا۔ آپ ﷺ نہ
صرف سوال کرتے بلکہ ان کے ذریعے شعور بیدار کرتے، فکر کی راہیں کھولتے اور سیکھنے
والوں کو خود حق تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام محض سننے
والے نہیں بلکہ علم و عمل میں پختگی حاصل کرنے والے تھے۔ آج کے معلمین، والدین اور
داعیانِ دین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اسی حکیمانہ انداز کو اپنائیں تاکہ نصیحت
اور تعلیم محض الفاظ تک محدود نہ رہے بلکہ قلوب و اذہان میں جاگزیں ہو جائے۔
Dawateislami