رضوان مقبول قادری(درجہ خامسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضانِ مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
اللہ
کے آخری نبی محمد عربی ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے ۔اگر ہم
غور کریں تو پیارے نبی ﷺ کی زندگی کے ہر پہلو کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے
۔اور پیارے نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے
مثال تربیت فرمائی۔ جن میں سوالیہ انداز سے ترتیب کرنا بھی شامل ہے ۔ آپ ﷺ کا
سوالیہ انداز سے ترتیب فرمانا غوروفکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔جس کے ذریعے گفتگو پر
خوب توجہ حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن کریم میں بھی مختلف مقامات پر سوالیہ انداز سے
رہنمائی کی گئی ہے ۔اور ہمارے پیارے نبی ﷺ کے سوالیہ انداز سے تربیت فرمانے پر کثیر احادیث موجود ہیں ۔
جن
احادیث میں سے چند درج ذیل پڑھتے ہیں۔ :
1۔ایمان باللہ کی وضاحت : حضرت
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ ﷺ کے
پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا: أَتَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا
رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ،
وَصَوْمُ رَمَضَانَ، وَأَنْ تُعْطُوا الْخُمْسَ مِنَ الْمَغْنَمِ یعنی
کیا تم جانتے ہو: ایمان باللہ کیا ہے وہ بولے: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا: اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور
محمد اللہ کے رسول ہیں، نماز کی اقامت، زکاۃ کی ادائیگی، رمضان کے روزے رکھنا، اور
مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو ۔ (سنن ابوداؤد/اول کتاب السنۃ/باب: فی رد الارجاء/حدیث نمبر: 4677/ جلد: 7 /
صفحہ:67)
2۔️ غیبت کی تعریف: حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ قَالَ ذِکْرُکَ أَخَاکَ بِمَا يَکْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ کَانَ
فِي أَخِي مَا أَقُولُ قَالَ إِنْ کَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ
وَإِنْ لَمْ يَکُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ یعنی
کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اللہ اور اس
کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کے اس عیب کو ذکر کرے
کہ جس کے ذکر کو وہ ناپسند کرتا ہو آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کہ
اگر واقعی وہ عیب میرے بھائی میں ہو جو میں کہوں آپ ﷺ فرمایا اگر وہ عیب اس میں ہے
جو تم کہتے ہو تبھی تو وہ غیبت ہے اور اگر اس میں وہ عیب نہ ہو پھر تو تم نے اس پر
بہتان لگایا ہے۔(صحیح مسلم/کتاب: صلہ رحمی کا بیان/باب: غیبت کی حرمت کے بیان میں/حدیث
نمبر: 6589/ جلد: 8 / صفحہ: 21)
3۔ شفاعت کا اختیار ہونا :حضرت
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ
مَا خَيَّرَنِي رَبِّيَ اللَّيْلَةَ، قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ
أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهُ خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ
أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ،
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ
أَهْلِهَا، قَالَ: هِيَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ یعنی کیا تم جانتے ہو کہ آج رات میرے رب نے مجھے
کس بات کا اختیار دیا ہے ہم نے کہا: اللہ
اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے کہ میری
آدھی امت جنت میں داخل ہو یا شفاعت کروں تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، ہم نے
کہا: اللہ کے رسول! اللہ سے دعا کیجئیے کہ وہ ہمیں بھی شفاعت والوں میں بنائے، آپ ﷺ
نے فرمایا: یہ شفاعت ہر مسلمان کو شامل ہے ۔ ( سنن ابن ماجہ/کتاب: زہد کا بیان/باب: شفاعت کا
ذکر/حدیث نمبر: 4317/ جلد : 5 / صفحہ:370)
4۔️اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق : حضرت
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوش پر حضور کے پیچھے اس طرح
سوار تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا: يَا
مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ وَمَا حَقُّ
الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا
يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا
ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ. یعنی معاذ! کیا تم جانتے ہو
کہ اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر کیا ہے اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ صرف اسی کی عبادت کریں
اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جب
وہ ایسا کریں تو وہ ان کو عذاب نہ دے ۔ ( سنن ابن ماجہ/کتاب: زہد کا بیان/باب: روز
قیامت رحمت الہی کی امید۔/حدیث نمبر: 4296/ جلد: 5 / صفحہ: 353)
5۔️ قیامت کے دن مفلس کون ہے :حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا
مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي
يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ وَصِيَامٍ وَزَکَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ
هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَکَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَکَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا
فَيُعْطَی هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ
حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَی مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ
فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ یعنی کیا
تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا ہم میں مفلس وہ آدمی
ہے کہ جس کے پاس مال اسباب نہ ہو آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کا مفلس وہ
آدمی ہوگا کہ جو نماز روزے زکوٰۃ وغیرہ سب کچھ لے کر آئے گا لیکن اس آدمی نے دنیا
میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا
اور کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو مارا ہوگا تو ان سب لوگوں کو اس آدمی کی نیکیاں
دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ان کے حقوق کی ادائیگی سے پہلے ہی ختم ہوگئیں
تو ان لوگوں کے گناہ اس آدمی پر ڈال دئے جائیں گے پھر اس آدمی کو جہنم میں ڈال دیا
جائے گا۔( صحیح مسلم /کتاب: صلہ رحمی کا بیان/باب: ظلم کرنے کی حرمت کے بیان میں/حدیث
نمبر: 6581/ جلد: 8 / صفحہ: 18)
اللہ
کریم ہمیں پیارے نبی ﷺ کی پیاری سیرت پر غوروفکر کرتے ہوئے ان احادیث
پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الامین ﷺ ۔
محمد منیب الرحمن عطّاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ اپر مال روڈ لاہور ، پاکستان)
انسان
کی فطرت ہے کہ وہ سوال کرتا ہے اور جواب کے ذریعے سیکھتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے
مؤثر ترین اسالیب میں سے ایک یہ ہے کہ استاد اپنے شاگرد کو سوال کے ذریعہ غور و
فکر پر آمادہ کرے۔ رسول اللہ ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ تربیت و رہنمائی کا بہترین
نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کی ذہنی صلاحیتوں کو ابھارنے، ان کے
فہم کو جِلا بخشنے اور تعلیم کو پختہ کرنے کے لیے سوال و جواب کا طریقہ اختیار
فرمایا۔ اس اسلوب سے نہ صرف بات ذہن نشین ہوتی بلکہ سامعین کو خود سوچنے، غور کرنے
اور سیکھنے کا حوصلہ ملتا۔ اسی حکمتِ عملی نے ایک عام عرب معاشرے کو علم و حکمت کے
سرچشمے میں بدل دیا۔
سوالیہ
اسلوب کی حکمت:نبی کریم ﷺ کا سوالیہ
انداز کئی حکمتوں پر مبنی تھا:
1. سامعین
کی توجہ قائم رکھنا۔
2. ذہن کو
سوچنے اور جواب تلاش کرنے پر آمادہ کرنا۔
3. بات کو
دل نشین اور یادگار بنانا۔
4. غلط
فہمیوں کی اصلاح کرنا۔
اسی
وجہ سے آپ ﷺ کے سوالات کبھی عقائد کی وضاحت کے لیے، کبھی اخلاقی تربیت کے لیے اور
کبھی عملی مثالوں کے لیے ہوتے۔آئیے چند مثالیں ملاحظہ کرتے ہیں۔
(1)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ
حُجْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ
الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا:
الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي
يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ
هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ
هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ
فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ،
فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو کہ مفلس
کون ہے " صحابہ نے کہا؛ ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو ،
نہ کوئی سازوسامان ۔ آپ نے فرمایا : " میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت
کے دن نماز ، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ ( دنیا میں ) اس کو
گالی دی ہو گی ، اس پر بہتان لگایا ہو گا ، اس کا مال کھایا ہو گا ، اس کا خون بہایا
ہو گا اور اس کو مارا ہو گا ، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس
کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں
ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا ، پھر اس کو جہنم میں
پھینک دیا جائے گا ۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، حدیث: 2581)
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ
الْقُرَشِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ
بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي
مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ
الْإِسْلَامِ أَفْضَلُ قَالَ : مَنْ
سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ
ترجمہ:
لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! کون سا اسلام افضل ہے تو نبی کریم ﷺ نے
فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں
رہیں۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث: 11)
درج
بالا احادیث اظہر من الشمس کی طرح واضح طور پر دلالت کرتی ہیں کہ کیسے حضور ﷺ نے
صحابہ کرام کے ذریعہ امت کی تربیت فرمائی کیونکہ آپ ﷺ دنیا جہاں کے لیے معلم بنا
کر بھیجے گئے۔ حضورﷺ کا سوال کے ذریعہ تربیت فرمانا یہ ہمیں کیا سیکھاتا ہے آئیے
اس پر غور کرتے ہیں ۔
بچوں
اور طلبہ کو محض حکم دینے کے بجائے سوال کر کے سوچنے پر آمادہ کیا جائے۔
نصیحت
کو یک طرفہ لیکچر کی صورت میں نہ کیا جائے بلکہ سوال و جواب کے ذریعے ذہنی شرکت
پیدا کی جائے۔
خطباء
اور واعظین سامعین کے ساتھ براہِ راست تعلق قائم کرنے کے لیے سوالیہ انداز اختیار
کریں تاکہ توجہ بھی قائم رہے اور پیغام بھی دل میں اتر جائے۔
والدین
بچوں کی اصلاح اور تربیت میں سوالیہ انداز استعمال کریں تاکہ وہ اپنی غلطیوں کو
خود سمجھیں اور درست رویہ اپنائیں۔
معلمین
درس و تدریس میں سوالیہ اسلوب کو شامل کریں تاکہ شاگردوں میں فکری بیداری اور
تجزیاتی صلاحیت پیدا ہو۔
یوں
معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کا سوالیہ اسلوب صرف ایک تعلیمی انداز نہیں بلکہ ایک
دائمی اصول ہے جو ہر دور کے معلم، والدین اور مبلغ کے لیے رہنما ہے۔اللہ رب
العامین سے دعا ہے کہ ہمیں صحیح معنوں میں دین کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
محمد عدنان عطاری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضانِ غوث اعظم چھانگا مانگا قصور ، پاکستان)
نبی
کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سنتوں میں ایک عظیم سنت سوال و جواب
کا انداز ہے۔ تعلیم و تربیت کے باب میں یہ طریقہ نہایت مؤثر اور دل نشین ہے۔ سوال
کرنے سے انسان کے ذہن میں تجسس پیدا ہوتا ہے، توجہ مرکوز ہو جاتی ہے، اور جب اس
سوال کا جواب دیا جاتا ہے تو وہ بات دل و دماغ میں راسخ ہو جاتی ہے۔
نبی
کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں ہمیں یہ انداز بارہا نظر آتا ہے کہ آپ ﷺ نے
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت کے لیے سوال و جواب کا سلسلہ جاری
فرمایا۔ کبھی آپ خود سوال کرتے اور پھر اس کا جواب عطا فرماتے، کبھی کسی سائل کے
سوال کا جواب مرحمت فرماتے، کبھی کسی کو سوال کرنے کی ترغیب دیتے اور پھر اس پر
ارشاد فرماتے۔
آئیے!
ہم بھی سیرت النبی ﷺ کے انہی روشن پہلوؤں سے چند مدنی پھول چننے کی
سعادت حاصل کرتے ہیں۔
1-
کسی خاص فضیلت کے پانے کا سوال کرنا اور حضور ﷺ کا جواب دینا:ایک شخص نے عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں
پہنچا دے۔آپ ﷺ نے فرمایا: موذن بن جاؤ۔اس نے عرض کیا: میں اس
کی طاقت نہیں رکھتا۔آپ نے فرمایا: امام بن جاؤ۔اس نے عرض کیا: میں یہ بھی نہیں کر
سکتا۔ارشاد فرمایا: پھر امام کے قریب کھڑے ہوا کرو۔(المعجم الأوسط، باب من اسمہ
محمد، ج7، ص363، حدیث 7737)
2-
سوال کرنے والے کی حوصلہ افزائی فرمانا:حضرت براء بن عازب رضی
اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: ایک اعرابی آیا اور عرض کیا: مجھے کوئی ایسا عمل
بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔نبی کریم ﷺ نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے
فرمایا: تم نے اگرچہ مختصر بات کہی ہے مگر بڑا سوال پوچھا ہے۔پھر ارشاد فرمایا:
گردن آزاد کرو، جان چھڑاؤ۔(الآداب للبیہقی، باب فی اطعام الطعام وسقی الماء، ص32،
حدیث 88)
3-
اعمال کے بارے میں تقابلی سوالات کے جوابات دینا:عرض کیا
گیا: یا رسول اللہ ﷺ ! جب دو آدمی ملیں تو
ان میں سے سلام میں پہل کون کرےارشاد فرمایا: جو اللہ کے زیادہ قریب ہو۔
(سنن
ترمذی، ج4، ص318، حدیث 2703)
4-
سامعین کو متجسس کر کے پھر جواب دینا:نبی کریم ﷺ نے
فرمایا: جب الحزن سے پناہ مانگو۔یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے
عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! جب الحزن کیا
ہے
ارشاد
فرمایا: یہ جہنم کی ایک وادی ہے جس سے خود جہنم بھی دن میں 100 مرتبہ پناہ مانگتا
ہے۔
(سنن
ابن ماجہ، ج1، ص166، حدیث 255)
5-
کسی عمل کو مقربین کے عمل سے تشبیہ دینا اور پھر سوال پر وضاحت فرمانا:حضرت
جابر بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا:تم لوگ ایسی صفیں کیوں نہیں بناتے جیسے فرشتے رب عزوجل کی بارگاہ میں بناتے
ہیںیہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ ! فرشتے کس طرح صفیں بناتے ہیںارشاد فرمایا:
وہ اگلی صفیں پوری کرتے ہیں اور صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔(صحیح مسلم، حدیث 968)
سیرت
مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ حسین پہلو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ تعلیم
و تربیت کا بہترین طریقہ سوال و جواب ہے۔ سوال ذہن کو جگاتا ہے اور جواب دل کو
روشن کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے یہ انداز مبارک نہ صرف صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کے لیے علم و ہدایت کا ذریعہ تھے بلکہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے
مشعلِ راہ ہیں۔ کاش کہ ہم بھی اس سنتِ نبوی کو اپنائیں، سوال کرنے اور سیکھنے کا
سلیقہ پیدا کریں، اور اپنی اور دوسروں کی علمی و روحانی تربیت میں اس سے فیض یاب
ہوں۔
مبشر حسین عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے مختلف اسالیب اختیار فرمائے۔ ان میں سے ایک نہایت مؤثر
اسلوب سوالیہ انداز تھا۔ آپ ﷺ سوال کرتے اور پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو غور
و فکر کی طرف متوجہ کرتے، تاکہ وہ بات صرف سننے والے نہ رہیں بلکہ دل و دماغ میں بیٹھ
جائے۔ یہ انداز آج کے تعلیمی طریقوں میں بھی سب سے بہترین مانا جاتا ہے۔
(1)
مفلس کون” أتدرون
من المفلسصحابہ نے عرض کیا: مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار نہ
ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور
زکوٰۃ لائے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا
ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا، پھر اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی
اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو دوسروں کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ
جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔( صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم الظلم، حدیث:
2581)
(2)نا
گوار بات أتدرون ما الغيبةصحابہ
نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"تمہارا اپنے
بھائی کا ذکر کرنا ایسی بات سے جو اسے ناگوار گزرے۔ (
سنن ابی داود، کتاب الأدب، باب الغيبۃ، حدیث: 4874)
(3)کبیرہ
گناہ کون کونسے آپ ﷺ نے فرمایا: ألا
أنبئكم بأكبر الكبائرکیا میں تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کے بارے میں نہ
بتاؤںصحابہ نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ!آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ
شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جھوٹی گواہی دینا۔(
صحیح بخاری، کتاب الشهادات، باب ما قيل فی شهادة الزور، حدیث: 2654، مکتبہ
دارالسلام)
(4)
مؤمن کی مثال نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: أتدرون أي شجرة لا يسقط ورقهاکیا تم جانتے ہو کون سا
درخت ہے جس کا پتا نہیں گرتاصحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ
نے فرمایا: "یہ کھجور کا درخت ہے، مؤمن کی مثال اسی کی طرح ہے۔" ( صحیح
بخاری، کتاب العلم، باب قول المحدث: حدثنا، حدیث: 61، مکتبہ دارالسلام)
رسول
اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز صحابہ کرام کو سوچنے پر آمادہ کرتا، ذہن كو پختہ بناتا اور تعلیمی اثر کو پائیدار
بنا دیتا۔ یہی اسلوب امت کے لیے آج بھی بہترین تربیتی نمونہ ہے۔
فیصل مختار (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کا سوال و جواب کے ذریعے تعلیم و ترب یت کا انداز اس قدر جامع اور مؤثر تھا
کہ اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے نہ صرف پیچیدہ احکام
اور اخلاقی اصولوں کو عام فہم بنایا بلکہ لوگوں کو خود سوچنے اور حقائق کی گہرائی
تک پہنچنے کا درس بھی دیا۔ پہلی احادیث کے بعد یہاں پانچ مزید احادیث پیش کی جا رہی
ہیں جو اس خوبصورت تربیتی اسلوب کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔
(1)
مفلس کی حقیقت :حدیث: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون
ہے" صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے درمیان مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم و دینار
اور مال و اسباب نہ ہو۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت
کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہو
گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا اور
کسی کو مارا ہو گا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں
ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا
جائے گا۔"صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث:2581)
اس
حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عام فہم تصور "مفلس" کو ایک نیا معنی دیا۔
لوگ عام طور پر مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہ ہو۔ آپ
ﷺ نے اسی تصور سے بات شروع کی تاکہ صحابہ کی توجہ حاصل کر سکیں۔ پھر آپ نے اس کی
حقیقی تعریف بیان فرمائی: اصل مفلس وہ نہیں جو دنیا میں خالی ہاتھ ہو، بلکہ وہ ہے
جو آخرت میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آئے لیکن اخلاقی گناہوں کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھے۔
یہ طریقہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ
اصلی نقصان مالی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔
(2)
حقیقی طاقتور کون ہے:حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے
نزدیک سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ہے" لوگوں نے عرض کیا: "جو کسی کو
کشتی میں پچھاڑ دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ نہیں، بلکہ طاقتور وہ ہے جو
غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔"(صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 6114 اورصحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2609)
یہاں
آپ ﷺ نے جسمانی طاقت کے عام معیار کو چیلنج کیا۔ لوگوں کے ذہن میں پہلوان یا فاتح
طاقتور ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے اسی جواب کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ اصل طاقت جسمانی
نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ یہ طاقت ہے اپنے غصے اور جذبات پر قابو پانے کی۔
اس طرح آپ نے ایک عام سی بات (کون طاقتور ہے) کے ذریعے ایک انتہائی اہم اخلاقی سبق
سکھایا جو آج بھی معاشرے میں درگزر اور صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ
نبی اکرم ﷺ نے علم کو صرف منتقل نہیں کیا بلکہ اسے سوال کے ذریعے ذہن میں راسخ کر
کے عملی زندگی کا حصہ بنایا۔
محمد جمیل عطاری ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
کہا جاتا ہے کہ سوال بھی
آدھا جواب ہوتا ہے اگر سوال سمجھ میں آگیا تو آدھا جواب سمجھ میں آ گیا اور کبھی
کبھار سوال اس لئے بھی کیا جاتا ہے تاکہ سامنے والا متوجہ ہوجائے کہ ابھی جو بات
ہوگی بہت اہم ہے آئے ملاحظہ کرتے ہیں کہ کیا نبی پاک ﷺ نے
بھی سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی :
علم کے بارے آقا ﷺ کا
تربیت فرمانا :حضرت سید انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور پاک
صاحب ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں سب سے
زیادہ جود و کرم والے کے بارے میں خبر نہ دوں اللہ عزو جل سب سے زیادہ جود و کرم والا ہے اور میں اولاد آدم علیہ اسلام میں
سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعد ان میں سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو علم حاصل کرے
پھر اپنے علم کو پھیلائے ، اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا اور
ان کے بعد سب سے سخی وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کو
وقف کر دے یہاں تک کہ اسے قتل کر دیا جائے۔(مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک ، رقم
2782، ج 3، ص 16)
تم ہلاک نہ ہوگے:
حضرتِ سیدنا ابو شُرَیْح خُزَاعی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر،
تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ
واٰلہٖ وسلّم ہمارے ہاں تشریف لائے تو فرمایا کہ'' کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ
عزوجل کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یہ کہ میں اللہ عزوجل کا رسول ہوں
''ہم نے عرض کیا،'' کیوں نہیں ۔''تو فرمایا کہ'' بیشک اس قرآن کا ایک کنارہ اللہ
عزوجل کے دست قدرت میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھو ں میں ہے، لہٰذااسے مضبوطی
سے تھا م لو کہ اس کے بعد تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے اورنہ ہی ہلاک ہو گے۔(طبرانی کبیر،
تم 49، ج 2، ص 188)
سنت کو زندہ کیا سن لو!حضرت سید
ناعمروبن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور، دو
جہاں کے تاجور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے بلال جان لو انہوں نے
عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا جان لوں فرمایا " جان لو کہ
جس نے میری سنتوں میں سے ایک مردہ سنت کو زندہ کیا ، اسے اس سنت پر عمل کرنے والوں
کے برابر ثواب ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے ثواب میں بھی کوئی کمی نہ ہو گی
اور جس نے ایسی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ عز وجل اور اس کے رسول ﷺ راضی
نہیں تو اسے اس پر عمل کرنے والوں کے برابر گناہ ملے گا اور ان عمل کرنے والوں کے
گناہ میں بھی کچھ کمی نہ ہوگی۔( سنن ابن ماجه، کتاب السنته ، باب من احیاءته قد
امتیت ، رقم 210 ، ج 1 ص 138)
یہ
وہ احادیث مبارکہ ہیں جن میں آقا علیہ السلام نے سوالیہ طریقے سے اپنی امت کی تربیت
فرمائی اور پتا چلا کہ سوالیہ انداز سے بھی تربیت کرنی چاہیے کہ اس کے بھی کافی
فوائد ہیں۔
وقاص ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فضا ن فاروق اعظم سادھو کی لاہور
، پاکستان)
حضور
نبی کریم ﷺ نے بہت سے مقامات پر مسلمانوں کی اور صحابہ
کرام کی تربیت فرمائی اور آپ ﷺ نے مختلف انداز میں مسلمانوں کی تربیت فرمائی
اور انہیں میں سے ہم پانچ احادیث مبارکہ ایسی سنتے ہیں جس نبی کریم ﷺ نے
اپنے غلاموں کی سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے۔
(1)
سب سے بڑے گناہ:حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں
سب سے بڑے گناہ کے بارے میں خبر نہ دوں وہ اللہ پاک کے ساتھ شرک کرنا والدین کی
نافرمانی کرنا اور جھوٹ بولنا ہے ۔ ( مسند احمد بن حنبل ، جلد نمبر : 7 ، صفحہ
نمبر : 306 ، حدیث نمبر : 20407 )
(2)
سب سے زیادہ میرا محبوب : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ایک مجلس میں تین مرتبہ
فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میرا
محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگا ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ
! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے
اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ ( مسند احمد بن حنبل ، صفحہ نمبر : 501 ، حدیث نمبر :
1486 مکتبہ امام احمد رضا )
(3)
بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے : حضرت سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی
عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوشت یعنی گدھے پر رسول اللہ ﷺ کے پیچھے
سوار تھا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا اے معاذ کیا تمہیں
معلوم ہے کہ اللہ عزوجل کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ عزوجل پر کیا حق
ہے میں نے عرض کی اللہ عزوجل اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتے ہیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ عزوجل کا بندوں پر حق یہ
ہے کہ وہ صرف اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا
اللہ عزوجل پر حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اللہ عزوجل اس کو
عذاب نہ دے پھر میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا انہیں یہ بشارت مت دینا ورنہ
وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔(فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : امید کا بیان ،
جلد نمبر : 4 ، صفحہ نمبر : 504 ، حدیث نمبر : 426 مکتبتہ المدینہ )
(
4 ) خود کو بڑا سمجھنے والا :حضرت سیدنا حارثہ بن وہب رضی
اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر کمزور جسے
کمزور سمجھا جائے اگر وہ اللہ عزوجل کے کرم پر اعتماد کرتے ہوئے قسم کھا لے تو
اللہ عزوجل اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ
دوں ہر وہ شخص جو سخت مزاج بخیل اور خود کو بڑا سمجھنے والا ہو ۔( فیضان ریاض
الصالحین مترجم ، باب : کمزور مسلمانوں کی فضیلت ، جلد نمبر : 2 ، صفحہ نمبر : 378
، حدیث نمبر : 252 مکتبتہ المدینہ )
محمد حامد رضا (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق أعظم سادھوکی ، پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کا سوال و جواب کے ذریعے تعلیم و تربیت کا انداز اس قدر جامع اور مؤثر تھا
کہ اس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ آپ ﷺ نے اس طریقے سے نہ صرف پیچیدہ احکام
اور اخلاقی اصولوں کو عام فہم بنایا بلکہ لوگوں کو خود سوچنے اور حقائق کی گہرائی
تک پہنچنے کا درس بھی دیا۔ پہلی احادیث کے بعد یہاں پانچ مزید احادیث پیش کی جا رہی
ہیں جو اس خوبصورت تربیتی اسلوب کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔
(1)
دین کی حقیقت:حضرت
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں
حاضر ہوا اور پوچھا: "یا رسول اللہ، مجھے بتائیں کہ اللہ نے مجھ پر کیا فرض کیا
ہے" آپ ﷺ نے فرمایا: "پانچ نمازیں، مگر تم نفلی نماز بھی پڑھ سکتے ہو۔
رمضان کے روزے، مگر تم نفلی روزے بھی رکھ سکتے ہو۔ زکوٰۃ فرض ہے، اگر تم مزید دینا
چاہو تو صدقہ کر سکتے ہو۔ حج فرض ہے، اگر تم مزید کرنا چاہو تو نفل بھی کر سکتے
ہو۔" )صحیح بخاری، کتاب الایمان،
حدیث: 48(
یہ
حدیث اس بات کی بہترین مثال ہے کہ آپ ﷺ نے مخاطب کی ذہنی سطح کے مطابق تعلیم دی۔
جب ایک دیہاتی نے سوال کیا تو آپ نے اسے دین کی پیچیدگیوں میں نہیں الجھایا۔ اس کے
بجائے آپ نے اسلام کے بنیادی ارکان (نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج) کو براہِ راست اور صاف
الفاظ میں بیان فرمایا۔
(2)مفلس
کی حقیقت:حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم
جانتے ہو کہ مفلس کون ہے" صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے درمیان مفلس وہ ہے
جس کے پاس درہم و دینار اور مال و اسباب نہ ہو۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "میری
امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس نے
دنیا میں کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا،
کسی کا خون بہایا ہو گا اور کسی کو مارا ہو گا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی
جائیں گی اور اگر اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے
اور پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔)صحیح
مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث2581(
اس
حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے ایک عام فہم تصور "مفلس" کو ایک نیا معنی دیا۔
لوگ عام طور پر مفلس اس شخص کو سمجھتے ہیں جس کے پاس دنیا کا مال و دولت نہ ہو۔ آپ
ﷺ نے اسی تصور سے بات شروع کی تاکہ صحابہ کی توجہ حاصل کر سکیں۔ پھر آپ نے اس کی
حقیقی تعریف بیان فرمائی: اصل مفلس وہ نہیں جو دنیا میں خالی ہاتھ ہو، بلکہ وہ ہے
جو آخرت میں نیکیوں کا پہاڑ لے کر آئے لیکن اخلاقی گناہوں کی وجہ سے سب کچھ گنوا بیٹھے۔
یہ طریقہ ذہن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے اور انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ
اصلی نقصان مالی نہیں، بلکہ اخلاقی ہے۔
(3)لوگوں
میں سب سے بہتر کون ہے: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول
اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: "یا رسول اللہ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے" آپ ﷺ
نے فرمایا: "وہ شخص جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔")سنن
ترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2026(
یہاں
سوال بہت عام تھا، اور آپ کا جواب اس سے بھی زیادہ جامع اور عام فہم تھا۔ بجائے اس
کے کہ آپ کسی خاص عمل (مثلاً زیادہ نمازیں یا روزے) کا ذکر کرتے، آپ نے انسانی
کردار اور اخلاق کو سب سے بہترین قرار دیا۔ آپ ﷺ کا یہ اصول ہے کہ دین کا مقصد
اخلاقیات کی تکمیل ہے۔ آپ نے سوال کے جواب میں ایک ایسی بنیادی صفت کی نشاندہی کی
جو ہر عمل کی بنیاد ہے۔
(4)حقیقی
طاقتور کون ہےحدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تمہارے
نزدیک سب سے زیادہ طاقتور پہلوان کون ہے" لوگوں نے عرض کیا: "جو کسی کو
کشتی میں پچھاڑ دے۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ نہیں، بلکہ طاقتور وہ ہے جو
غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔" (صحیح بخاری، کتاب الادب، حدیث: 6114 اورصحیح مسلم، کتاب
البر والصلۃ، حدیث: 2609)
یہاں
آپ ﷺ نے جسمانی طاقت کے عام معیار کو چیلنج کیا۔ لوگوں کے ذہن میں پہلوان یا فاتح
طاقتور ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے ان کے اسی جواب کو بنیاد بنا کر فرمایا کہ اصل طاقت جسمانی
نہیں، بلکہ اخلاقی اور روحانی ہے۔ یہ طاقت ہے اپنے غصے اور جذبات پر قابو پانے کی۔
اس طرح آپ نے ایک عام سی بات (کون طاقتور ہے) کے ذریعے ایک انتہائی اہم اخلاقی سبق
سکھایا جو آج بھی معاشرے میں درگزر اور صبر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ
نبی اکرم ﷺ نے علم کو صرف منتقل نہیں کیا بلکہ اسے سوال کے ذریعے ذہن میں راسخ کر
کے عملی زندگی کا حصہ بنایا۔
علی اسحاق (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
اللہ
تعالی نے نبی کریم ﷺ کو نبی
بنا کر بھیجا آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے آئیے ہم
بھی آپ ﷺ کا سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا ملاحظہ کرتے
ہیں :
(1)
حرمت ظلم کا بیان :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسلم نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم
جانتے ہومفلس کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے
مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے
فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر
آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال
کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے
پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی- پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں
گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن کے
گناہ اُس پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:3 حدیث نمبر:218
)
(2)
خوف خدا کا بیان :حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے یہ
آیت مبارکہ تلاوت فرمائی : ( یَوْمَىٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَاۙ) (پ30،الزلزال
: ) (ترجمۂ کنزالایمان : اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی ۔ ) پھر فرمایا : ’’ کیا
تم جانتے ہو زمین کی خبریں کیا ہیں ‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی
: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم زیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ فرمایا :
” بے شک زمین کی خبریں یہ ہیں کہ وہ زمین کل بروزِ قیامت ہر مَرد اورعورت کے اُن
اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پیٹھ پر کیے اور وہ زمین کہے گی : تو نے
فلاں دن یہ عمل کیا اور فلاں دن فلاں کام کیا ۔ یہ ہیں اس کی خبریں ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 , حدیث نمبر:408 )
(3)
فضیلت قل ھو اللہ احد : ترجمہ: نبی پاک، صاحب لولاک ﷺ نے
ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہر رات میں تہائی قرآن پڑھنے سے عاجز ہے ہمیں
بہت مشکل ہوئی کہ کہیں آپ ہمیں وہ حکم نہ دے دیں جس کی ہمیں طاقت نہیں لہٰذا ہم
خاموش ہی رہے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: کیا تم عاجز ہو پھر ارشاد فرمایا: جس نے رات میں اَللّٰہُ
الْوَاحِدُ الصَّمَدُ(یعنی سورۃٔ اخلاص)پڑھی یقیناً اس نے رات میں تہائی قرآن کی
تلاوت کی۔ ( صحیح بخاری شریف کتاب: ابواب فضائل قران جلد 2 صفحہ نمبر 255 حدیث
نمبر 5015 )
(4)
تقدیر پر ایمان لانے کا بیان : حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن
عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضورِ اکرم ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے، دستِ اَقدس میں دو کتابیں تھیں۔ اِستِفسار فرمایا:”کیا
تم جانتے ہو ان کتابوں میں کیا ہے“صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان عرض گزار
ہوئے:”یارسولَ اللہ ﷺ ! آپ کے بغیر بتائے
نہیں جانتے۔“حضورِ اکرم ﷺ نے داہنے ہاتھ کی کتاب کے بارے میں ارشاد فرمایا:”یہ
کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں جنتیوں، ان کے آباء واجداد اور قبیلوں کے
نام ہیں، آخرمیں اس کا ٹوٹل لگادیاگیاہے
پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔ “پھر بائیں ہاتھ والی کتاب کے متعلق ارشاد فرمایا:”یہ
کتاب ربُّ العالمین کی طرف سے ہے، اس میں دوزخیوں، ان کےآباء واجداداورقبیلوں کے
نام ہیں پھرآخر تک کا حساب لگادیا گیا پس ان میں کمی ہوسکتی نہ زیادتی۔“صحابہ
کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:”یارسولَ
اللہ ﷺ ! اگر یہ معاملہ انجام پاچکا ہے تو
ہم عمل کیوں کرتے ہیں“ارشاد فرمایا:”سیدھے رہو اور قربِ الٰہی حاصل کرو(یعنی نیک
اعمال اور دُرست عقائد پرقائم رہو) جنتی کا خاتمہ جنتیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ
پہلے کچھ عمل کرے اور یقیناً دوزخی کا خاتمہ دوزخیوں کے عمل پر ہوتا ہے اگرچہ پہلے
کچھ عمل کرے۔“پھر دونوں کتابوں کو دست مبارک میں دبالیا اور ارشاد فرمایا:”تمہارا
رب عَزَّ وَجَلَّ بندوں کے متعلق فیصلہ
فرماچکا ہے سیدھی جانب والا گروہ جنتی ہے اور اُلٹی جانب والا دوزخی ہے۔ ( کتاب:
مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:96 )
(5)باب:
الحب فی اللہ والبغض فی اللہ :حضرت ابوذررَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام ہم لوگوں کے پاس تشریف
لائے اور فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کون سا عمل سب سے پسندیدہ
ہے کسی نے کہا نماز اور زکوۃ، کسی نے کہا
جہاد ، حضور نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے نزدیک
سب سے پسندیدہ عمل ’’الْحُبُّ فِی اللہ وَالْبُغْضُ فِی اللہ ‘‘ہے یعنی خدا ہی کے لیے کسی سے
محبت کرنا اور خدا ہی کے لیے کسی سے بیزار رہنا۔(انوار الاحادیث مکتبۃ المدینہ)
اللہ
تعالی ہمیں نبی کریم ﷺ کی ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے ( ٰامین)
سرفراز عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
نبی
پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان کی
مختلف انداز میں تربیت فرمائی کبھی اشارے سے کبھی نقشہ بنا کر اور بھی بہت سارے طریقوں
سے تربیت فرمائی اور ان میں سے ایک بہت ہی مفید طریقہ سوال کر کے تربیت کرنا ہے آئیے
ان میں سے چند احادیث سنتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ نے اس انداز سے تربیت فرمائی:
(1)روایت
ہے حضرت ابو سعید خدری سے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لکڑی اپنے سامنے گاڑی اور
دوسری اس کے برابر اور تیسری اس سے بہت دور پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو یہ کیا
ہے صحابہ نے عرض کیا ﷲ رسول خوب جانیں،فرمایا
یہ انسان ہے اور یہ موت ہے۔ مجھے خیال ہے کہ فرمایا اوریہ امید ہے انسان امیدوں میں
مشغول رہتا ہے مگر اسے امید سے پہلے موت پہنچ جاتی ہے ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح
مشکوٰۃ المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5278 )
(2)روایت
ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول الله ﷺ تشریف لائیے فرمایا کہ تم جانتے
ہو کہ کون سا عمل الله تعالٰی کو زیادہ پسند ہے کسی کہنے والے نے کہا کہ نماز اور
زکوۃ اور کسی کہنے والے نے کہا جہاد نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله
تعالٰی کو بہت پیاراعمل الله کی راہ میں محبت اور الله کی راہ میں عداوت ہے ۔ (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث
نمبر:5021)
(3)روایت
ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ
وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے
الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی
ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ. (کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6
, حدیث نمبر:4832)
(4)حضرت
سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ
اُمَّت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم
جانتے ہومفلس کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے
مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے
فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر
آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال
کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے
پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں
گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن
(مظلو موں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا
جائے گا۔ ‘‘ ( کتاب:فیضان ریاض الصالحین
جلد:3 , حدیث نمبر:218)
محمد نواز ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
رسول اللہ نے ہماری تربیت مختلف
انداز سے فرمائی کبھی اشارے سے اور کبھی مثالوں سے اور کبھی سوالیہ انداز میں آج میں
کچھ احادیث وہ ذکر کرتا ہوں جس میں رسول اللہﷺ نے سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی:
(1)
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے
پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ نبی کریم ﷺ ہم سے پوچھنے لگے اسلام کی کون سی رسی سب سے زیادہ
مضبوط ہے صحابہ کرام نے عرض کیا نماز نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا
زکوۃ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بہت خوب اس کے
بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا جہاد نبی کریم ﷺ نے
بہت خوب کہہ کر فرمایا ایمان کی سب سے مضبوط رسی یہ ہے کہ تم اللہ تعالی کی رضا کے
لیے کسی سے محبت یا نفرت کرو۔( مسند امام احمد بن حنبل جلد 7 حدیث نمبر1146 کتب
خانہ امام احمد رضا)
(2)
حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تین
مرتبہ فرمایا کیا میں تمہیں بڑے گناہوں کے بارے میں خبر نہ دوں صحابہ کرام نے عرض
کی کیوں نہ یا رسول اللہ حضور ﷺ نے فرمایا
اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانا والدین کی نافرمانی کرنا۔ (صحیح بخاری جلد 1حدیث نمبر
2654)
(3)
معاذ بن جبل فرماتے ہیں ہم رسول الله کے ساتھ سفر میں تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا
میں تمہاری خیر کے دروازے پر رہنمائی نہ فرماوں روضہ ڈھال ہے اور صدقہ گناہوں کو ایسے
مٹاتا ہے جیسے پانی آگ کو بندے کی آدھیرات کی نماز ۔[جامع ترمزی ابواب الایمان جلد
2حدیث نمبر2570]
(4) زید بن خالد فرماتے ہیں رسول الله ﷺنے حدیبیہ
کے مقام پر صبح کی نماز پڑھائی آسمان کے ساۓ کے نیچے رات کو پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوے پس فرمایا کیا
تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ
زیادہ جانتا ہے راوی فرماتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر ایمان
لانے والا اور میرا انکار کرنے والا صبح کرتا ہے پس جو کہتا ہے ہم پر بارش برسی
اللہ کے فضل سے اور رحمت سے پس وہ اسی کے ساتھ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور
ستاروں کا انکار کرنے والا ہے بہر حال جو کہے ہم پر بارش برسی ایسے ایسے وہ میرا
انکار کرنے والا ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔[ موطا امام مالک باب الاستمطار بانجوم حدیث
445مکتبہ شبیر برادرز]
[5]حضرت
جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ کاایک بھیڑکےمرے ہوئے بچے پر
گزرہوا فرمایا تم میں سے کوئی یہ پسند کرے گا کہ یہ اسے ایک درھم کے بدلے ملے
صحابہ نے عرض کیاہم نہیں چاہتے کہ یہ ہمیں کسی بھی چیز کے عوض ملے تو فرمایا اللہ
کی قسم دنیا اللہ کو اس سے زیادہ ذلیل ہےجیسے یہ تمہارے نزدیک۔ [مشکوۃ المصابیح
باب الرقاق فصل اول حدیث نمبر 4927]
یہ
وہ چند احادیث جو میں نے ذکر کی ہیں جس میں رسول اللہ نے سوالیہ انداز میں تربیت
فرمائی ہے۔
ابن رفیق محمد شفیق قادری عطّاری (درجہ جامعۃ المدینہ فيضان عثمان غنى کراچی ، پاکستان)
انسانی
عقل و شعور کو بیدار کرنے کے لیے سوال ایک نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ جب کسی کے سامنے
سوال رکھا جائے تو اس کا ذہن فوراً متوجہ ہو جاتا ہے، سوچنے پر مجبور ہوتا ہے اور
جواب تلاش کرنے لگتا ہے۔ یہی حکیمانہ انداز سب سے زیادہ کارگر ہے، کیونکہ اس سے
سننے والا محض سامع نہیں رہتا بلکہ شریکِ گفتگو بن جاتا ہے۔ یہی اندازِ تربیت نبی
کریم ﷺ نے اپنایا۔ آپ ﷺ نے سوالیہ اسلوب کے ذریعے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کو نہ
صرف علم عطا فرمایا بلکہ ان کے دلوں میں معانی و مفاہیم راسخ کر دیے۔ یہی وجہ ہے
کہ آپ ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت علم و کردار کے اعتبار سے دنیا کی سب سے عظیم جماعت
بن کر ابھری۔
چند
روشن مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
(1)
اللہ کا بندے پر اور بندے کا اللہ پر حق:حضرت معاذ بن جبل رضی
اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبیِّ کریم ﷺ نے فرمایا:اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے اللہ
تعالیٰ کا بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ پر کیا حق ہے"میں نے عرض کی:
اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا حق یہ ہے کہ بندے
اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور بندوں کا حق اللہ
پر یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے جو شرک سے بچے رہیں۔(صحیح بخاری، حدیث: 2856؛ صحیح
مسلم، حدیث: 144)
(2)حقیقی
مفلس کونتاجدارِ رِسالت ﷺ نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:کیا
تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کی: جس شخص کے پاس درہم اور دوسری قسم
کا مال نہ ہو وہ مفلس ہے۔نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:میری امت میں سب سے بڑا مفلس
وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ جیسی نیکیاں لے کر آئے گا مگر اس نے دنیا
میں کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال (ناحق) کھایا ہوگا،
کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو مارا ہوگا… پھر سب لوگ اس کی نیکیاں لے جائیں گے
اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، پھر اسے
جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، حدیث: 6579)
(3)مومن
مرد کی مثال درخت:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:ہم حضور ﷺ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ ﷺ
نے فرمایا:مجھے اس درخت کے بارے بتاؤ جو مردِ مومن کی مثل ہے، اس کے پتے نہیں گرتے
اور وہ ہر وقت پھل دیتا ہےحضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت
ہے لیکن بڑے صحابہ خاموش تھے اس لیے میں بھی خاموش رہا۔ جب سب نے جواب نہ دیا تو
حضور ﷺ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے۔بعد میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
اگر تم بتا دیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔(صحیح بخاری، حدیث: 4698)
(4)
نماز کی مثال:رسولِ کریم ﷺ نے فرمایا:بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے
پر نہر ہو اور وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابہ
نے عرض کی: کچھ بھی میل باقی نہیں رہے گا۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں
نمازوں کی ہے، اللہ پاک ان کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری، حدیث:
528)
پیارے
اسلامی بھائیو! سوالیہ اندازِ تربیت دراصل ایک ایسی حکمتِ نبوی ہے جو تعلیم کو
مؤثر اور پائیدار بنا دیتی ہے۔ رسولُ اللہ ﷺ نے اس انداز سے اُمت کو یہ سبق دیا کہ
علم کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ فکر کو جگانا، دل کو نرم کرنا اور کردار
کو سنوارنا ہے۔ آج کے اساتذہ، والدین اور داعیانِ دین اگر اپنے طرزِ گفتگو اور تربیت
میں اس سنت کو زندہ کریں تو ان کی بات بھی لوگوں کے دلوں میں اترے گی، سننے والے
سوچنے پر مجبور ہوں گے اور عملی زندگی میں تبدیلی آئے گی۔اللہ پاک ہمیں بھی اپنی
انفرادی اور اجتماعی تربیت میں یہ مبارک سنت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری
زبان و قلم کو ایسا اثر عطا کرے جو دلوں کو بدل دے۔ آمین بجاہِ خاتم النبیین ﷺ۔
Dawateislami