اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت اور ہادی بنا کر بھیجا۔ حضور ﷺ نے خود ارشاد فرمایا:" اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا"ترجمہ: مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا ہے.(سنن ابن ماجہ، کتاب ال، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم،حدیث 229)۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ سوال کے جواب کو زیادہ توجہ سے سنتا اور یاد رکھتا ہے۔ تعلیم و تربیت کے مؤثر طریقوں میں سے ایک طریقہ سوالیہ انداز ہے۔ قرآن پاک میں بھی یہ طریقہ استعمال کیا گیا ہے اور حضور ﷺ نے بھی صحابہ کی اس انداز میں تربیت فرمائی۔ سوالیہ انداز کے بارے میں قرآن پاک کی ایک آیت اور تین احادیث ملاحظہ کیجئے:

اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ پر وحی نازل فرمائی کہ آپ اہل کتاب سے پوچھیں:

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِؕ-مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَؕ-اُولٰٓىٕكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ(۶۰)

ترجمہ کنز العرفان: اے محبوب! تم فرماؤ: کیا میں تمہیں وہ لوگ بتاؤں جو اللہ کے ہاں اس سے بدتر درجہ کے ہیں ، یہ وہ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو بندر اور سور بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی، یہ لوگ بدترین مقام والے اور سیدھے راستے سے سب سے زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ۔ (سورۃ مائدہ، آیت 60)

نماز کی فضیلت بتانا:حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: "بتاؤ تو! کسی کے دروازے پر نہر ہو وہ اس میں ہر روز پانچ بار غسل کرے کیا اس کے بدن پر میل رہ جائے گا" صحابہ نے عرض کی: نہیں۔حضور ﷺ نے فرمایا: "یہی مثال پانچوں نمازوں کی ہے کہ اللہ ان کے سبب خطاؤں کو مٹا دیتا ہے"۔ (صحیح بخاری، کتاب مواقیت الصلوٰۃ، باب الصلوات الخمس کفارہ، صفحہ 139، حدیث 528، دار ابن کثیر)

بہترین اور بدترین لوگ:اسما بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے "رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: أَلَا أُخْبِرُکُم بِخِیَارِکُم کیا میں تمہیں تمھارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کی: کیوں نہیں ۔آپ نے فرمایا"وہ لوگ کہ جب ان کو دیکھا جاۓ تو اللہ کی یاد آۓ" پھر فرمایا:أَفَلَا أُخْبِرُکُم بِشِرَارِکُم "کیا میں تمہیں تمہارے سب سے برے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں"۔صحابہ نے عرض کی :کیوں نہیں۔آپ نے فرمایا "وہ لوگ جو چغلی کرتے ہیں، محبت والوں کے درمیان فساد ڈالتے ہیں، اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں"۔ (الادب المفرد، باب النمام, حدیث 323، صفحہ 115/116، دار الصدیق)

مفلس کون ہے:حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: "أَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ" کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کی: "ہم میں سے مفلس وہ ہے کہ جس کے پاس درہم اور سامان نہ ہو"۔آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا مگر ساتھ ہی اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی پر تہمت لگائی ہوگی کسی کا مال کھایا ہوگا تو اس کی نیکیاں اُن لوگوں کو دے دی جائیں گی یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اور پھر اُن کے گناہ اِس پر ڈالے جائیں گے پھر اِسے جہنم میں ڈال دیا جائےگا"۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ ولآداب، باب تحریم الظلم، صفحہ 829، حدیث 2581، دار الحضارۃ)

حضور ﷺ نے اپنی امت کی تربیت کے لیے سوالیہ انداز کے طریقے کو بھی اپنایا کیونکہ یہ انداز نہ صرف دلچسپ بلکہ سننے والے کے ذہن پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ اسی لیے ہمارے مبلغین و واعظین کو بھی چاہیے کہ وہ بھی اس طریقے کو اپنائیں۔تاکہ سننے والا علم دین سیکھنے میں دلچسپی لے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز انتہائی مؤثر، حکمت سے بھرپور اور جامع تھا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کی ذہنی سطح اور نفسیات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف طریقوں سے انہیں دین کی باتیں سکھائیں، اور انہی طریقوں میں سے ایک اہم طریقہ سوالیہ انداز تھا۔ اس طریقے میں آپ ﷺ براہِ راست حکم دینے کے بجائے خود سوال کرتے تھے یا کسی اور کے سوال کے جواب میں حکمت کی باتیں بیان فرماتے تھے۔ اس طریقہ کار کے پیچھے کئی اہم مقدمات (مقاصد یا وجوہات) کارفرما تھے:

(1)مال کا استعمال :ابو اسحاق ابو احوص سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس میلے کپڑوں کے ساتھ آیا تو اس شخص کے لیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مال ہے عرض کی جی ہاں ہر طرح کا مال ہے تو آپ نے فرمایا کون سا مال ہے تو عرض کی کہ اللہ تعالی نے مجھے اونٹ گائے بکریاں گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ تبارک و تعالی تجھے مال عطا فرماتا ہے تو وہ آپ پر اپنی نعمت کا اثر کو پسند فرماتا ہے۔(سنن النسائی ج،2 باب زینت ، الجلاجل ، حدیث 5224، ص 751)

(2)صلہ رحمی کرنا:امیر المومنین حضرت سیدنا مولا مشکل کشا شیر خدا کرم اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا میں اگلوں اور پچھلوں کے بہترین اخلاق کے متعلق تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔(شعبۃ الایمان باب تہداریوں کو برقرار رکھنے کے بارے میں ج 6 ص 222)

(3) اچھا اخلاق:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں تمہیں یہ بات نہ بتا دوں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میری نگاہوں میں محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگالوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو لوگ کہنے لگے جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔(مسند امام احمد بن حنبل مترجم ج،3 ص، 390 حدیث 1194 مکتبہ کتب خانہ امام احمد رضا خان )

(4)محبت بڑھنا:عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إِذَا فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔ (انوار الحدیث باب المصالحہ ص،377 مکتبۃ المدینہ)


(3) پانچوں نمازوں کی مثال:  حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی شخص کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں ہر دن میں پانچ مرتبہ غسل کرے کیا اس پر کوئی میل باقی رہے گی تو انہوں نے کہا اس پر میل باقی نہیں رہے گی تو فرمایا کہ یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے کہ اللہ اس کے ساتھ خطاؤں کو مٹا دیتا ہے ۔(صحیح بخاری جلد 1،باب صلاۃ الخمس۔۔۔۔حدیث نمبر528)

(4) نماز کا انتظار : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : حضور انور ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ ختم کر دے اور درجات میں اضافہ فرمائی صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول الله ! ہاں ' آپ ﷺ نے فرمایا: جب طبیعت مائل نہ ہو اس وقت بہترین وضو کرنا زیاده قدم چل کر مسجد میں جانا اور ایک نماز سے فراغت پر دوسری نماز کا انتظار کرنا یہی تیاری ہے ' یہی تیاری ہے ' یہی تیاری ہے۔ (كتاب : الترغيب والتربيب ، باب : كتاب الطهارة ، جلد نمبر : 1 ، صفحہ نمبر : 174 ، حدیث نمبر : 305 ، مکتبہ شبیر برادرز )

(5) جنتی کلمہ: حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول ولا قوة الا باللہ ہے۔ (صحیح مسلم، كتاب الذكر باب استحباب، جلد 1،حديث 2704)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں ان احادیث میں جو کچھ بیان ہوا اس پر عمل کرنے اور دوسروں پر انفرادی کوشش کر کے ان کو عمل کروانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یارب العالمین


اسلام صرف ایک عبادتی نظام نہیں، بلکہ مکمل ضابطۂ حیات ہے، اور نبی کریم محمد  ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معلّمِ کامل اور مربیِ اعظم بنا کر بھیجا۔ آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کو سکھانے کے لیے ایسے ایسے مؤثر طریقے اپنائے جو تعلیم و تربیت کی دنیا میں آج بھی رہنمائی کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔

آپ ﷺ کی تعلیمات کا انداز نہ صرف حکمت و دانائی سے بھرپور تھا، بلکہ انتہائی فطری، نفسیاتی، اور سنجیدہ بھی تھا۔ انہی میں سے ایک مؤثر طریقہ "سوالیہ انداز سے تربیت فرمانا" تھا۔ نبی کریم ﷺ سامعین کی توجہ مبذول کرانے، ان کے ذہنوں کو متحرک کرنے، اور انہیں غور و فکر پر آمادہ کرنے کے لیے اکثر سوالات فرمایا کرتے تھے۔

(1)سب سے بڑے گناہ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِثلاثًا، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: الإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَجَلَسَ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَقَالَ: أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ، أَلَا وَشَهَادَةُ الزُّورِ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں" (یہ بات آپ نے تین بار دہرائی)صحابہ نے عرض کیا: "جی ہاں، یا رسول اللہ!"آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی نافرمانی۔"پھر آپ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا: "خبردار! جھوٹی بات کہنا، جھوٹی گواہی دینا!"(یہ بات اتنی بار دہرائی کہ صحابہ نے تمنا کی کہ کاش آپ خاموش ہو جاتے۔)(صحیح البخاری، حدیث: 5976 ص 409 ج2)

( 2 )مفلس کون ہے: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے"صحابہ نے عرض کیا: "ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو، نہ سامان۔"آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکات لے کر آئے گا، لیکن کسی کو گالی دی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا... تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے، اور اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"(صحیح مسلم، حدیث: 2581)

( 3 ) کیا تمہیں معلوم ہے غیبت کیا ہے: أَنَّهُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْغِيبَةُقَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے پوچھاگیا غیبت کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا:"تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جسے وہ ناپسند کرے ۔(سنن ابی داؤد، حدیث: 4874)

رسول اللہ ﷺ کا اندازِ تربیت ہر پہلو سے کامل اور ہمہ گیر تھا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف سکھایا بلکہ ایسے طریقے سے سکھایا کہ وہ تعلیم دل میں اتر جائے اور عمل میں ڈھل جائے۔ ان میں سے سب سے مؤثر انداز، جسے آج کی تعلیمی دنیا میں بھی مثالی سمجھا جاتا ہے، وہ تھا سوالیہ انداز سے سمجھانا اور سکھانا۔

نبی کریم ﷺ کے یہ سوالات محض علم جانچنے کے لیے نہیں ہوتے تھے، بلکہ سامع کو سوچنے، رکنے، اور حقیقت کو پہچاننے پر مجبور کر دیتے تھے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں ان تمام احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہین خاتم النبیین ﷺ 


تعلیم و تربیت انسانی معاشرے کی بنیاد ہے۔ تاریخِ انسانی میں بہترین معلم اور مربِّی حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔ تعلیم کے مختلف اسالیب میں سے ایک مؤثر اور کار آمد اُسلوب "سوالیہ انداز بھی" ہے۔ یہ طریقہ انسان کی فطری جستجو، غور و فکر اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بیدار کرتا ہے۔ سوال کے ذریعے معلم شاگرد کے ذہن کو متوجہ کرتا ہے، اس کی فکر کو ایک سمت دیتا ہے اور معلومات کو دل و دماغ میں راسخ کر دیتا ہے۔

سوالیہ انداز کی چند نمایاں خصوصیات :

سامع کی توجہ مرکوز کر دینا۔

ذہن کو سوچنے اور غور کرنے پر آمادہ کرنا۔

سامع کو جواب سوچنے کی طرف راغب کر کے اس کی علمی صلاحیت بڑھانا۔

سیکھے گئے مضمون کو یادداشت میں پختہ کرنا۔

رسول الله ﷺ کے تعلیمی اسلوب کی خصوصیات :

رسول اللہ ﷺ کا تعلیمی اسلوب بے حد جامع اور حکیمانہ تھا۔ آپ ﷺ نے کبھی خطبہ دے کر، کبھی تمثیل کے ذریعے اور کبھی سوالیہ انداز اپنا کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تربیت فرمائی۔ آئیے تین احادیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے:

1۔مفلس کون ہےآپ ﷺ نے صحابہ کرام سے استفسار فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے صحابہ کرام نے عرض کی، یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم ہم میں مفلس وہ کہلاتا ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں نہ کوئی مال ہو۔ " تو آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، زکوۃ اور روزے لے کر حاضر ہوگا اور اس نے کسی کو گالی دی ہوگی کسی کا مال چھینا ہوگا تو یہ اس کی نیکیوں میں سے کچھ نیکیاں لے لے گا اسی طرح دوسرا شخص بھی اس کی نیکیاں لے لے گا، اگر پورا حق ادا کرنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو گئیں تو یہ شخص ان لوگوں کے گناہ اپنے سر لے لے گا، پھر اسے اوندھے منہ جہنم میں گرا دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحریم الظلم الحدیث 2581، ص1000)

2: بہادر کون ہے نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : " کیا تم جانتے ہو کہ بہادر کون ہے بے شک کامل بہادر تو وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو پا لے، کیا تم جانتے ہو کہ بانجھ کون ہے بانجھ تو وہ ہے جس کی اولاد تو ہو مگر وہ ان میں سے کسی کو آخرت کے لئے ذخیرہ نہ کرے، کیا تم جانتے ہو کہ فقیر کون ہے فقیر تو وہ ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر وہ اس میں سے آگے کچھ نہ بھیجے۔ (شعب الایمان، باب فی الزکاة، التحریض علی صدقۃ التطوع ، الحدیث: 3341، ج3، ص 210)

3: کیا تم جانتے ہو کہ تمہار ا رب کیا فرماتا ہے حضرت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار ﷺ ایک مرتبہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے قریب سے گزرے تو فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارا رب تبارک و تعالیٰ کیا فرماتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے عرض کیا ، الله پاک اور اسکا رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم بہتر جانتے ہیں۔ سرکار ﷺ نے تین مرتبہ یہی سوال کیا پھر فرمایا: ' الله پاک فرماتا ہے: کہ مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم جو بھی نماز کو اس کے وقت میں ادا کرے گا میں اسے جنت میں داخل فرماؤں گا اور جو ان کو وقت گزار کر ادا کرے گا اگر میں چاہوں گا تو اس پر رحم فرماؤں گا اور اگر چاہوں گا تو اسے عذاب دوں گا۔(طبرانی کبیر ، رقم 10555، ج10، ص 338)

پیارے اسلامی بھائیو! رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک زندہ اور جاوید اسلوب ہے۔ یہ صرف علمی فائدہ ہی نہیں دیتا بلکہ ذہن و فکر کو جِلا بخشتا ہے، یادداشت کو مستحکم کرتا ہے اور انسان کو عملی زندگی کے لیے تیار کرتا ہے۔ عصرِ حاضر کے اساتذہ اور والدین اگر اس اسلوب کو اپنائیں تو تعلیم زیادہ بامقصد اور تربیت زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ الله پاک ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین صلی الله علیہ وآلہ وسلم!


رسول اللہ  ﷺ نہ صرف خاتم النبیین ہیں بلکہ آپ کی ذات اقدس بہترین معلم و مربی بھی ہے۔ آپ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے مختلف طریقے اپنائے، جن میں ایک نہایت مؤثر طریقہ سوالیہ انداز تھا۔ آپ سوال کے ذریعے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سوچنے، غور کرنے اور سیکھنے کا موقع دیتے۔ اس انداز سے علم دلوں میں اتر جاتا اور دیرپا اثر چھوڑتا۔

حدیث 1:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ ۔(صحيح مسلم، حديث نمبر: 2581)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے" صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو نہ سامان۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، کسی کو مارا پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں بانٹی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ لے کر اس پر ڈالے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔"

وضاحت: سوال سے صحابہ کی توجہ حاصل کی گئی، پھر عملی زندگی کا ایک بڑا سبق حقوق العباد کی اہمیت دیا گیا

حدیث 2: عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، هَلْ تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ، وَمَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ: لاَ تُبَشِّرْهُمْ، فَيَتَّكِلُوا(صحيح البخاري، حديث نمبر: 2856)

ترجمہ: آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاذ! اللہ پاک کا حق کیا ہے میں نے عرض کی: اللہ پاک اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک کا بندوں پر حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور کسی شے کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں۔ میں نے عرض کی: جب بندے ایسا کر لیں تو پھر ان کا اللہ پاک پر کیا حق ہےآپ ﷺ نے فرمایا: ان کا حق اللہ پاک پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔ "

وضاحت:اللہ کے ساتھ تعلق کی بنیاد سکھائی گئی اور سوالیہ انداز نے بات کو دل میں بٹھا دیا ہے

حدیث 3: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ، مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ، أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا، فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هِيَ النَّخْلَةُ (صحيح مسلم، حديث نمبر: 2811)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو کون سا درخت مسلمان کی مثال کی طرح ہے" صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "وہ کھجور کا درخت ہے۔"

وضاحت: یہ انداز علم سکھانے کا بھی ہے اور تفکر پر بھی مجبور کرتا ہے کہ مسلمان ہر موسم میں فائدہ دینے والا ہوتا ہے.

حدیث 4: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ:فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ(صحيح مسلم، حديث نمبر: ١٠٢٨)

ترجمہ: نبی ﷺ نے پوچھا: "آج تم میں سے روزہ کس نے رکھا ہے" ابو بکر نے کہا: میں نے۔ پوچھا: "جنازے کے پیچھے کون گیا" کہا: میں۔ پوچھا: "مسکین کو کھانا کس نے کھلایا" کہا: میں۔پوچھا: "کون بیمار کی عیادت کو گیا" کہا: میں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص میں یہ سب باتیں جمع ہوں، وہ جنت میں داخل ہو گا۔"

وضاحت: یہ حدیث نیکیوں کی فضیلت اور ان کے جامع ہونے کا پیغام دیتی ہے

حدیث 5: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ قَالَ: «تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ، وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ (صحيح مسلم، حديث نمبر: 39)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ سے ایک آدمی نے سوال کیا "اسلام کا کون سا عمل سب سے بہتر ہے" صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "کھانا کھلانا اور سلام پھیلانا، چاہے جاننے والا ہو یا نہ ہو۔"

وضاحت: یہ حدیث اسلام کے حسنِ اخلاق اور سماجی محبت کو بیان کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کا انداز نہایت حکیمانہ، دلچسپ اور ذہن نشین ہوتا تھا۔ سوالیہ انداز میں آپ ﷺ نہ صرف توجہ کرتے بلکہ دلوں پر اثر بھی چھوڑتے۔ یہ انداز آج بھی تعلیم و تربیت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔


پیارے پیارے اسلامی بھائیو رسول اللہ  ﷺ نے مسلمانوں کی تربیت کئی انداز سے فرمائی ہے کہیں تشبیہ دے کر تربیت فرمائی اور کہیں مثال بیان فرما کر تربیت فرمائی اسی طرح حضور ﷺ نے سوالیہ انداز سے بھی ہماری تربیت فرمائی ہے آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں :

(1) میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوںحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ہم لوگ مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کہ رسولِ کریم ﷺ تشریف لائے اورارشاد فرمایا’’ میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جس کا مسیح دجا ل سے بھی زیادہ میرے نزدیک تم پر خوف ہےہم نے عرض کی:ہاں ، یا رسولَ اللہ ! ﷺ ، ارشاد فرمایا’’وہ شرکِ خفی ہے،آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو ا س وجہ سے طویل کرتا ہے کہ دوسرا شخص اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۴۷۰، الحدیث: ۴۲۰۴)

(2) کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا : ’’ کیا میں تمہیں جنتی لوگوں کی خبر نہ دوںہرکمزورجسے کمزورسمجھا جائے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے کرم)پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا کر دے گا۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوںہر وہ شخص جوسخت مزاج ، بخیل اورخود کو بڑا سمجھنے والا ہو۔ ‘‘(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:252)

(3) حضرت معاذ حضور کے ردیف :روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ کجاوہ پر تھے معاذ حضور کے ردیف تھے حضور نے فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہوں یا رسول الله خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا یارسول الله حاضر ہوں خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہو خدمت میں تین بار فرمایا ایسا کوئی نہیں جو گواہی دے کہ الله کے سوا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ الله کے رسول ہیں۔سچے دل سے مگر الله اسے آگ پر حرام فرمادے گا۔عرض کی یارسول الله تو کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہوجائیں فرمایا تب تو وہ بھروسہ کر بیٹھیں گے پھر حضرت معاذ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی وفات کے وقت خبر دے دی۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:25 )

(4) تم نے بڑی چیز پوچھی :روایت ہے حضرت معاذ(ابن جبل)سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول الله مجھے ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں داخل اور دوزخ سے دور کردے فرمایا تم نے بڑی چیز پوچھی ہاں جس پر الله آسان کرے اُسے آسان ہے الله کو پوجو اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانو نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو پھر فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں روزہ ڈھال ہے خیرات گناہوں کو ایسا بجھاتی ہے جیسے پانی آگ کو اور درمیانی رات میں انسان کا نماز پڑھنا پھر یہ تلاوت کی کہ ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں پھر فرمایا کہ میں تمہیں ساری چیزوں کا سر،ستون،کوہان کی بلندی نہ بتادوں میں نے کہا ہاں یارسول الله فرمایا تمام چیزوں کا سراسلام ہے اور اس کا ستون نماز اور کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کہ کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں میں نے عرض کیا ہاں یا نبی الله پس حضور نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ اسے روکو میں نے عرض کیا کہ یا نبی الله کیا زبانی گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی فرمایا تمہیں تمہاری ماں روئے اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر زبانوں کی کٹوتی یہ حدیث احمد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کی۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:29)

(5) سابقہ گناہوں کا مٹنا کیا تمہیں خبر نہیں :روایت ہے عمر و ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ آپ کی بیعت کروں آپ نے ہاتھ بڑھایا میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا فرمایا اے عمرویہ کیا میں نے عرض کیا کچھ شرط لگانا چاہتا ہوں فرمایا کیا شرط میں نے عرض کیا کہ میری بخشش ہوجائے فرمایا اے عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے گناہ ڈھادیتا ہے اور ہجرت پچھلے گناہ ڈھادیتی ہے اور حج بھی پچھلے گناہ ڈھا دیتا ہے یہ مسلم نے روایت کی اور وہ دو حدیثیں جو حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔فرماتے ہیں فرمایا الله تعالٰی نے کہ میں تمام شرکاء میں شرک سے غنی تر ہوں اور دوسری یہ کہ عظمت و بلندی میری چادر ہے ہم انہیں ریا اور کِبر کے بابوں میں ذکر کریں گے اگر الله نے چاہا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:28)


اسلام ایک کامل دین ہے جس نے انسان کی تعلیم و تربیت کے تمام اصول و ضوابط واضح فرمائے ہیں۔ نبی کریم  ﷺ بحیثیتِ معلمِ انسانیت اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے مختلف اسالیب اختیار فرمایا کرتے تھے۔ انہی اسالیب میں سے ایک نہایت مؤثر اور بلیغ اسلوب سوالیہ انداز ہے۔ آپ ﷺ سوال کر کے صحابۃ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ حاصل فرماتے، ان کے فکر کو بیدار کرتے اور جواب کے ذریعے ان کے ذہنوں میں بات کو اچھی طرح راسخ فرما دیتے۔ اس طریقۃ تعلیم کا تذکرہ قرآن، احادیث، اور سلف صالحین کے اقوال و واقعات میں کثرت سے ملتا ہے۔

قرآنی دلائل:قرآن مجید میں بھی بارہا سوالیہ اسلوب کے ذریعے غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ ترجمہ کنز الایمان:تو کیا غور نہیں کرتے قرآن میں۔(پارہ 5، سورۃ النساء، آیت 82)

یہاں سوالیہ انداز میں تنبیہ ہے کہ اگر وہ لوگ غور کرتے تو ان پر حق واضح ہوجاتا: هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) ترجمہ کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔(پارہ 27، سورۃ الرحمن، آیت 60)

یہاں بھی سوالیہ اسلوب سے سبق دیا گیا کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے، تاکہ سننے والے کے دل میں یہ بات گہرائی کے ساتھ اتر جائے۔

نبی کریم ﷺ کا سوالیہ انداز: احادیثِ مبارکہ میں بکثرت ملتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو سوالیہ انداز سے تعلیم دی۔

حدیثِ جبرائیل:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:رسول اللہ ﷺ ایک دن صحابہ کرام کے درمیان تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا:ایمان کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تو اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کے رسولوں پر، اس سے ملاقات پر اور قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے پر ایمان لائے۔ اسلام کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، نماز قائم کرے، فرض زکوٰۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے۔ احسان کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر یہ نہ ہو تو (یقین رکھ کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ قیامت کب آئے گی آپ ﷺ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھنے والا جواب دینے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ ہاں! اس کی کچھ نشانیاں یہ ہیں کہ باندی اپنے آقا کو جنم دے گی اور ننگے پاؤں، ننگے بدن چرواہے اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ قیامت کی گھڑی کا علم صرف اللہ کو ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ترجمہ کنز الایمان: بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔(لقمان: 34) پھر وہ شخص چلا گیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ لیکن وہ نظر نہ آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (امام مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث نمبر 8، دار احیاء التراث العربی بیروت، سن اشاعت 1991ء، جلد 1، ص 36)(امام بخاری، صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب سوال جبریل، حدیث نمبر 50، دار ابن کثیر دمشق، سن اشاعت 1987ء، جلد 1، ص 19)

تم جانتے ہو مفلس کون ہے:نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام سے فرمایا:"کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کیا: مفلس وہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے لیکن کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو، تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (امام مسلم، صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث 2581، دار احیاء التراث العربی بیروت، 1991ء)

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ سوال کے ذریعے ذہن میں بات کو بٹھایا گیا۔

بزرگانِ دین کے اقوال:

امام غزالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:تعلیم میں سوالیہ انداز نہ صرف ذہن کو بیدار کرتا ہے بلکہ سامع کو عملی طور پر غور و فکر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات میں سوال و جواب کا انداز نمایاں ہے۔ (امام غزالی، احیاء علوم الدین، کتاب العلم، جلد 1، ص 45، دار الکتب العلمیہ بیروت، 2005ء)

حکایت:حضرت امام حسن بصری رحمہ اللہ کے پاس ایک نوجوان آیا اور پوچھا: میں کیسے پہچانوں کہ میں اللہ کے قریب ہوں یا دورآپ رحمہ اللہ نے سوالیہ انداز میں فرمایا: جب تو نیکی کرتا ہے تو تیرے دل کو سکون ملتا ہے یا بے سکونی اس نے کہا: سکون ملتا ہے۔ فرمایا: یہی قرب الٰہی کی علامت ہے۔(امام ابو نعیم اصفہانی، حلیۃ الاولیاء، جلد 2، ص 147، دار الکتب العلمیہ بیروت، 1988ء)

یہ حکایت بھی بتاتی ہے کہ سوالیہ انداز سے اصلاح و تربیت زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔


اسلام ایک مکمل ، جامع اور فطری دین ہے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات کو اس دین میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس انسانیت کے لیے سب سے کامل اور بہترین نمونہ ہے۔ آپ  ﷺ نے دین پہنچانے کے تمام تر تقاضوں کو پورا کیا۔ آپ ﷺ نے نہ صرف دین اسلام کی تعلیم دی بلکہ انسانی ذہن، فطرت اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر بات کو ایسے انداز میں سمجھایا کہ سننے والے کے دل پر اثر ہوا۔ تعلیم دینے کے جو اسالیب آپ ﷺ نے اپنائے ان میں سے ایک نہایت مؤثر اور حکیمانہ اسلوب سوالات کے ذریعے سمجھانا تھا۔ اس طرزِ تعلیم میں سامعین کی توجہ بھی بڑھتی اور بات دل میں اتر بھی جاتی۔

چونکہ آپ ﷺ کی ذات مبارک کامل اور اکمل نمونہ ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوا : اللہ پاک نے قران پاک میں ارشاد فرمایا: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ترجمہ کنز الایمان:" بیشک تمہیں رسولُ الله کی پیروی بہتر ہے۔(الاحزاب: 21)

یہ آیت اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ دین کے ہر پہلو میں نبی ﷺ کا طریقہ اور طرز عمل کامل اور مکمل ہے، حتیٰ کہ تعلیم دینے کے انداز بھی۔

سوال کر کے کسی چیز کو سمجھانا ایک نہایت ہی دلچسپ انداز ہے اس سے جواب اکثر طور پر یاد رہتا ہے ۔

اب آئیے کچھ ایسی احادیث ملاحظہ کرتے ہیں جن میں رسول اللہ ﷺ نے سوال پوچھ کر صحابہ کرام کو تعلیم دی اور امت کو واضح رہنمائی فراہم فرمائی:رسول اللہ ﷺ نے ایک دن صحابہ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہےصحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و اسباب نہ ہو۔آپ ﷺ نے فرمایا:میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے لیکن ساتھ ہی کسی کو گالی دی ہو، کسی پر تہمت لگائی ہو، کسی کا مال کھایا ہو، کسی کا خون بہایا ہو، اور کسی کو مارا ہو۔ پھر اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دی جائیں گی، اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم: 2581)

یہ اندازِ تعلیم نہایت اثرانگیز ہے کہ سوال پوچھ کر ذہن کو متوجہ کیا اور پھر مفلس کی حقیقی تعریف بیان فرمائی۔

اس سوال و جواب کے ذریعے آپ ﷺ نے شرک کی سنگینی کو واضح فرمایا۔

سب سے افضل عمل کون سا ہےحضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے پوچھا: "کیا تم جانتے ہو اللہ کے نزدیک سب سے افضل عمل کیا ہے" پھر فرمایا:"ایمان باللہ اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔" (صحیح بخاری: 2518، صحیح مسلم: 83)

یہاں بھی سوال کرکے جواب دیا گیا تاکہ سننے والوں کے ذہن میں بات ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے۔

ان احادیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کا اسلوب تعلیم نہایت حکیمانہ، مؤثر اور فطرتِ انسانی کے عین مطابق تھا۔ سوال کرنے سے سننے والے کی دلچسپی بڑھتی اور جب جواب ملتا تو وہ دل و دماغ میں راسخ ہو جاتا۔ آج ضرورت ہے کہ ہم بھی اپنے تعلیمی اور دعوتی اسالیب میں اس نبوی طریقے کو اپنائیں تاکہ دین کی بات زیادہ مؤثر اور دلنشین انداز میں دوسروں تک پہنچ سکے۔


رسول اللہ ﷺ کا سوال فرمانا دین کی تعلیم کا ایک طریقہ کار تھا، جس کے ذریعے آپ صحابہ کرام کو سوالات پوچھتے تھے تاکہ وہ جواب دے سکیں. اگر صحابہ کسی سوال کا جواب نہ دے پاتے تو نبی کریم ﷺ خود ہی اس کا جواب دیتے۔ یہ سوالات مختلف احادیث میں موجود ہیں اور یہ دین کی تعلیم و تدریس کا ایک اہم ذریعہ تھے۔

چند احادیث مبارکہ ملاحظہ فرماتے ہیں :

(1)حضرت انس سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو مسجد میں پایا اور آپ کے ساتھ کئی اور بھی لوگ تھے میں کھڑا ہو گیا تو مجھ سے حضور اکرم ﷺ نے پوچھا کیا تجھے ابو طلحہ نے بھیجا ہے میں نے کہا جی ہاں آپ نے پوچھا کھانے کے لیے بلایا ہے میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے پاس موجود تمام حضرات کو کہا چلیں اور میں بھی چلنے لگا اور میں ان سب سے اگے تھا ۔(صحیح: البخاری :حدیث نمبر 422: باب جسے مسجد میں کھانے کے لیے کہا جائے اور وہ اس کو قبول کر لے )

(2)محمود بن ربیعہ میں عتبہ بن مالک سے پوچھا جو کہ نابینا تھے حضور اکرم ﷺ کے گھر میں تشریف لائےتم اپنے گھر میں کس جگہ کو پسند کرتے ہو تو میں وہاں نماز پڑھوں عتبہ نے کہا میں ایک جگہ کی طرف اشارہ کیا حضور اکرم ﷺ نے نماز شروع کی اور ہم نے آپ کے پیچھے ایک صف باندھی تو حضور نے دو رکعت نفل ادا کیے۔ (صحیح البخاری:حدیث نمبر 424: باب :نماز کا باب )

(3)عتبہ بن عامرفرماتے ہیں کہ میں دوران سفر میں حضور اکرم ﷺ کی اونٹنی کی لگام تھام کر آگے آگے چلا کرتا تھا حضور اکرم ﷺ نے فرمایا اے عتبہ کیا میں تمہیں دو بہترین پڑھنے والے صورتیں نہ سکھاؤں حضور اکرم ﷺ نے مجھے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس سکھائی حضور اکرم ﷺ نے دیکھا کہ میں زیادہ خوش نہ تھا تو جب حضور اکرم ﷺ صبح فجر کی نماز پڑھانے کے لیے آئے تو آپ نے ان دو سورتوں کی تلاوت فرمائی کہ نماز کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور کہا اے عتبہ تم میں ان دو سورتوں کی عظمت کو کیسے جانا ۔(مشکوٰۃ المصابیح :حدیث نمبر 848 :باب نماز میں قرات کا باب )

(4)ام سلمہ فرماتی ہیں جب ابوسلمہ فوت ہوئے میں نے کہا کہ پردیسی شخص پردیس میں ہی فوت ہو گیا میں اس پر رونا چاہتی تھی اور میں نے اس پر رونے کی پوری تیاری کی اور ایک اور بھائی جو میرے ساتھ اس میت پر رونے میں ساتھ دینا چاہتی تھی رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کیا تم ایسے گھر میں شیطان داخل کرنا چاہتے ہو جہاں سے اسے اللہ نے نکال باہر کیا اپ نے دو مرتبہ ایسے کہا کہ میں رونے سے رک گئی اور نہ روئے (مشکوٰۃ شریف :حدیث نمبر 1744 فصل: جنازوں کا باب)

(5)عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ دور رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں دو ادمی ائے اور تقریر کی تو لوگ ان کی تقریر سن کر تعجب کرنے لگے حضور اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کچھ باتیں جادو بھی ہوتی ہے(سنن ترمذی: حدیث نمبر: 2028 فصل: کچھ باتیں جادو ہیں)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ جو کچھ سنا اس پر عمل کرنے کی توفیق اور اس سے اگے تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاہ نبیین ﷺ 


رسول اللہ  ﷺ نے تربیت کے کئی انداز اختیار فرمائے، جن میں سوالیہ انداز (سوالات کے ذریعے تربیت دینا) بھی نہایت مؤثر اور حکیمانہ طریقہ تھا۔ آپ ﷺ صحابۃ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فکری اور روحانی تربیت کے لیے اکثر سوالات کرتے، تاکہ ان کے ذہن کو جھنجھوڑا جائے، غور و فکر کی عادت ڈالی جائے، اور سیکھنے کا عمل مؤثر ہو۔

سوالیہ انداز کی حکمت: سوالات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں، اور جب انسان خود جواب نکالتا ہے تو وہ بات دل و دماغ میں راسخ ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس انداز کو بارہا اپنایا۔

قرآن کریم میں سوالیہ انداز: اللہ رب العزت نے بھی قرآن مجید میں سوالیہ انداز اختیار فرمایا تاکہ بندے غور کریں۔ مثال کے طور پر: اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَۙ(۱) ترجمہ (کنز الایمان): کیا ہم نے تمہارا سینہ نہ کھول دیا(سورۃ الشرح، آیت 1)

یہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر اپنی نعمتوں کی یاد دہانی سوالیہ انداز میں کروائی۔ هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰) ترجمہ (کنز الایمان): نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی۔ (سورۃ الرحمن، آیت 60)

یہ آیت بھی تربیتی سوال ہے، جس کا جواب ہر شخص کو خود سوچنا ہے۔

نبی کریم ﷺ کا سوالیہ انداز:

(1) نیکی اور بدی کی پہچان:حضرت وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ ﷺ نے فرمایا:"اے وابصہ! نیکی کیا ہے" پھر خود ہی فرمایا:"اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر تمہارا دل مطمئن ہو اور بدی وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے. (مسند احمد، حدیث: 17302)

یہاں آپ ﷺ نے سوال کر کے پہلے متوجہ فرمایا، پھر جواب میں فطری معیار کو بنیاد بنایا۔

(2) صحابہ کے ایمان کو جِلا دینا:ایک مرتبہ آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے صحابہ نے عرض کیا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ، زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا، تو اس کی نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی، اور اگر نیکیاں ختم ہو گئیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم، حدیث: 2581)

یہ سوال ایک عام مفہوم کو ایک نئے اور گہرے معنی میں تبدیل کرتا ہے۔

(3) افضل اعمال کے بارے میں سوال:ایک صحابی نے پوچھا:یا رسول اللہ! کون سا عمل افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ اور اس کے رسول پر ایمان، پھر جہاد، پھر حج مبرور۔ (صحیح بخاری، حدیث: 26)

یہاں بھی آپ ﷺ نے سوال کا جواب مرحلہ وار دے کر تربیت فرمائی۔

رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز:

فکری تحریک پیدا کرتا ہے۔

ذہن کو فعال کرتا ہے۔

دل میں بات راسخ کرتا ہے۔

سننے والے کو شاملِ گفتگو کرتا ہے۔

یہ انداز تعلیم، تربیت، اور تزکیہ کا بہترین طریقہ ہے، جسے جدید تعلیمی ماہرین بھی مؤثر مانتے ہیں۔

رسول اکرم ﷺ نے سوالات کے ذریعے جو تربیت کا طریقہ اپنایا، وہ نہ صرف صحابہ کرام بلکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے رہنمائی کا مینار ہے۔ یہ انداز قرآنِ مجید کے اسلوب کے بھی عین مطابق ہے۔

فَبِمَا  رَحْمَةٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  لِنْتَ  لَهُمْۚ

ترجمہ (کنز الایمان): تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل ہوئے۔(آل عمران: 159)

یعنی آپ ﷺ کا نرم اور حکمت بھرا انداز، از خود ایک عظیم درس ہے۔


تعلیم و تربیت کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ شخصیت کو سنوارنا، کردار کو مضبوط بنانا اور ذہن کو فکری بلندی پر لے جانا ہے۔ اس مقصد کے لیے استاد مختلف طریقے اختیار کرتا ہے، مگر سب سے مؤثر اور دیرپا طریقہ سوال و جواب ہے۔ سوال انسان کے ذہن کو بیدار کرتا ہے، اس کی توجہ کو مرکوز کرتا ہے اور اسے محض سننے والے کی بجائے سوچنے اور سمجھنے والا بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے ماہرینِ تعلیم بھی اس بات پر متفق ہیں کہ سوالیہ انداز تدریس کا بہترین ذریعہ ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ سب سے کامل اور مؤثر نمونہ ہمیں معلمِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس میں ملتا ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے لیے سوالیہ انداز اختیار فرمایا، تاکہ وہ محض سننے والے نہ رہیں بلکہ جواب سوچ کر زیادہ بہتر طریقے سے حقیقت کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں نافذ کر سکیں۔ آئیے احادیث مبارکہ سے چند مثالیں سنتیں ہیں۔

مسلمان کی مثال کس درخت کی مثل ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ  ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ قَالَ: فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي. قَالَ عَبْدُ اللهِ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَاسْتَحْيَيْتُ. ثُمَّ قَالُوا: حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: هِيَ النَّخْلَةُ

ترجمہ:نبی کریم  ﷺ نے فرمایا :درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔ عبداللہ نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (وہاں بہت سے بزرگ موجود تھے اس لیے) مجھ کو شرم آئی۔ آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ! آپ ہی بیان فرما دیجیئے۔ آپ ﷺ نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔(صحيح البخاری : 62)

یہ مثال واضح کرتی ہے کہ سوال سے سامع کی توجہ کھینچی جاتی ہے اور سوچنے کی صلاحیت پروان چڑھتی ہے۔ کھجور کا درخت مسلمان کی علامت بنا کر ذہنوں میں ایک گہری تصویر بٹھا دی گئی۔

مفلس کون ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ  ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ

ترجمہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے“ صحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ شخص ہے جس کے پاس نہ درہم ہو، نہ کوئی سازوسامان۔ آپ نے فرمایا: ”میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکاۃ لے کر آئے گا اور اس طرح آئے گا کہ (دنیا میں) اس نے اس کو گالی دی ہو گی، اس پر بہتان لگایا ہو گا، اس کا مال کھایا ہو گا، اس کا خون بہایا ہو گا اور اس کو مارا ہو گا، تو اس کی نیکیوں میں سے اس کو بھی دیا جائے گا اور اس کو بھی دیا جائے گا اور اگر اس پر جو ذمہ ہے اس کی ادائیگی سے پہلے اس کی ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہوں کو لے کر اس پر ڈالا جائے گا، پھر اس کو جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔(صحیح مسلم، حدیث: 2581)

یہ سوال ذہنوں میں موجود مفلس کے تصور کو بدل دیتا ہے اور ایک اخلاقی حقیقت واضح کرتا ہے کہ اصل مفلس وہ ہے جس کے اعمال حقوق العباد کی پامالی سے ضائع ہو جائیں۔

سب سے بہتر عمل کون سا ہے: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ؛ قَالَ:سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ قَالَ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا قَالَ قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ قَالَ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلَّا إِرْعَاءً عليه۔

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ میں نے رسول اللہ  ﷺ  سے پوچھا: اللہ پاک کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے آپﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا فرمایا: ”پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ (حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپﷺ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔(صحیح مسلم، حدیث: 85)

آج کے جدید دور میں معلمِ کائنات ﷺ کے سوالیہ انداز سے کئی سبق ملتے ہیں۔

والدین کے لیے یہ پیغام ہے کہ بچوں کو محض حکم دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے سوچنے اور غور کرنے پر آمادہ کریں۔اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کا ماحول پیدا کریں تاکہ ان کی ذہنی صلاحیتیں ابھریں اور تعلیم دلچسپ بن جائے۔خطباء اور واعظین اگر اپنے خطابات میں سوالات شامل کریں تو سامعین کی دلچسپی بڑھتی ہے اور وہ بیدار رہتے ہیں۔تعلیمی اداروں میں نصاب کی تدریس کے ساتھ سوالیہ تدریس کو بنیاد بنایا جائے تاکہ طلبہ رٹہ لگانے کے بجائے فہم و شعور کے ساتھ تعلیم حاصل کریں۔

مختصر یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے تعلیم و تربیت کے میدان میں سوالیہ انداز کو بطور حکمت استعمال فرمایا۔ یہ اسلوب سامع کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا، ذہن کو جلا بخشتا اور تعلیم کو یادگار بنا دیتا ہے۔ جدید دور کے تعلیمی اصول بھی اسی بات کی تائید کرتے ہیں۔ لہٰذا آج کے والدین، اساتذہ اور خطباء اگر اس سنتِ نبوی کو اپنائیں تو تعلیم بوجھ نہیں بلکہ شعور اور عمل کا ذریعہ بنے گی۔ معلمِ کائنات ﷺ کا یہ اسلوب ہماری نسلوں کے لیے ایک روشن چراغ اور کامیاب زندگی کا راستہ ہے۔