محمد بلال منظور (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ
فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو ! اللہ پاک کے پیارے
نبی رسولِ ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف پہلوؤں سے صحابہ کرام رضوان
اللہ علیہم اجمعین کی تربیت فرمائی کبھی مثال کے ذریعہ کبھی سوالیہ انداز سے تو اس
امت کے لیے بھی سبق ہے کے وہ اپنے ماتحتوں کی احسن انداز سے تربیت کریں تاکہ ہمارے
معاشرے میں تمام تر خباستیں دور ہوں جائیں۔اسی ضمن میں پانچ احادیث ذکر کی جاتی ہیں:
(1)
ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو:حضرتِ أبو رزین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے
تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو (پس وہ اصل چیز یہ ہےکے) تم ذکر کرنے والوں کی مجلس
اختیار کرو۔(شعب الایمان ،جلد نمبر 6، ص 492،الحدیث 9024)
(2)
وہ چیز جس پر آگ حرام ہے:وَعَنْ
عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ وَبِمَنْ
تَحْرُمُ النَّارُ عَلَيْهِ عَلٰى كُلِّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ قَرِيبٍ سَهْلٍ روایت
ہے حضرت عبدالله ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے
کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو آگ
پر اور آگ اس پر حرام ہوتی ہے ہر نرم طبیعت نرم زبان لوگوں سے قریب درگزر کرنے
والا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، الفصل الثانی، باب اچھی باتوں کا بیان،
جلد 6، الحدیث 5084)
(3)
مسیح دجال سے زیادہ خطرناک خبر:وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ
اللَّهِ صلى اللَّه عليه وسلم وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ،
فَقَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا هُوَ أَخْوَفُ عَلَيْكُمْ عِنْدِي مِنَ
الْمَسِيح الدَّجَّالِ لا فَقُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الشِّرْك
الْخَفِيُّ: أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ فَيُصَلِّيَ فَيَزِيدَ صَلَاتَهُ لِمَا يَرَى
مِنْ نَظَرِ رجلٍ۔
روایت
ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم
تشریف لائے جب کہ ہم مسیح دجال کا تذکرہ کررہے تھے تو فرمایا کہ کیا میں تم کو اس
چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے زیادہ خطرناک ہے ہم نے
عرض کیا ہاں یارسول اللہ فرمایا وہ خفیہ شرک ہے یعنی یہ کہ کوئی شخص نماز پڑھنے
کھڑا ہو تو اپنی نماز اس لیے زیادہ کرے کہ کسی شخص کو دیکھے کہ وہ اسے دیکھ رہا ہے۔
(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، الفصل الثالث، باب دل کو نرم کر دینے والی
باتوں کا بیان، جلد 7، الحدیث 5333)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو !ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احسن انداز میں
سمجھایا اللہ پاک ہمیں بھی نرم لہجے اور احسن انداز سے
سمجھانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم
محمد اسامہ عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
سوال
کرنا علم کے فروغ کا بڑا ذریعہ ہے۔جیساکہ کہا جاتا ہے کہ اَلْعِلمُ بَابٌ مُقْفلٌ مِفتَاحُه المْسئَلُۃ یعنی
علم ایک بند دروازہ ہے اور سوال کرنا اس کی چابی ہے۔ جس طرح تالا بغیر چابی کے نہیں
کھلتا اسی طرح علم کا دروازہ بغیر سوال کے نہیں کھلتا۔
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کا
انداز بہت ہی نرالا اور حکمت بھرا ہوتا اور انہیں انداز تربیت میں سے ایک انداز
سوال کرکے تربیت فرمانا بھی ہوتا تھا جو حکمت سے بھرپور اور جامع ہوتا تھا اور وہ
اپنے اندر بہت سے علم کے خزانے سمیٹے ہوئے ہوتا تھا۔ بہت سی ایسی احادیث مبارکہ ہے
جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی۔
آئیے
چند احادیث مبارکہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔
(1)سلام
کرنے کو رائج کرنا: عَنْ أَبِی
ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَوَلَا أَدُلُّکُمْ عَلَی شَیْئٍ إِذَا
فَعَلْتُمُوہُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَیْنَکُمْ ترجمہ:حضرت
ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ
والسلام نے فرمایا کہ کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو تمہارے درمیان
محبت بڑھے اور وہ یہ ہے کہ آپس میں سلام کو رواج دو۔ (انوار الحدیث باب المصالحہ
ص،377 مکتبۃ المدینہ)
(2)
قضاء و قدر میں بحث نا کرنا :حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ ہم لوگ تقدیر کے مسئلہ میں بحث کررہے تھے کہ
رسولِ خداصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف لے
آئے تو شدتِ غضب سے آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا کہ گویا انار کے دانے آپ کے عارضِ اقدس
پر نچوڑ دیئے گئے ہوں۔ پھر فرمایا کیا تم کو اسی کا حکم دیا گیا ہے کیا میں تمہاری
طرف اسی چیز کے ساتھ بھیجا گیا ہوں۔ تم سے پہلے قومیں ہلاک نہیں ہوئی مگر جب کہ
قضا و قدر کے مسئلہ میں انہوں نے مباحثہ کیا۔ میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور مکرر قسم
دیتا ہوں کہ آئندہ اس مسئلہ میں بحث نہ کرنا۔ (انوار الحدیث کتاب ایمان حدیث نمبر
5)
(3)اللہ
عزوجل کا عطاء کردہ مال:ابو اسحاق ابو احوص سے وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ
ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس میلے کپڑوں کے ساتھ آیا تو اس شخص کے لیے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس مال ہے عرض کی جی ہاں
ہر طرح کا مال ہے تو آپ نے فرمایا کون سا مال ہے تو عرض کی کہ اللہ تعالی نے مجھے
اونٹ گائے بکریاں گھوڑے اور غلام عطا کیے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ تبارک و تعالی
تجھے مال عطا فرماتا ہے تو وہ آپ پر اپنی نعمت کے اثر کو پسند فرماتا ہے۔(سنن
النسائی ج،2 باب زینت ، الجلاجل ، حدیث 5224، ص 751)
(4)صلہ
رحمی کرنا:امیر المومنین حضرت سیدنا مولا مشکل کشا شیر خدا کرم
اللہ وجہ الکریم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا میں اگلوں
اور پچھلوں کے بہترین اخلاق کے متعلق تمہاری رہنمائی نہ کروں میں نے عرض کی یا
رسول اللہ ﷺ ضرور ارشاد فرمائیے نبی کریم ﷺ نے
فرمایا جو تمہیں محروم کرے تم اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے تم اسے معاف کر دو
جو تم سے تعلق توڑے تم اس سے تعلق جوڑو۔(شعبۃ الایمان باب تہداریوں کو برقرار
رکھنے کے بارے میں ج 6 ص 222)
(5)
سب سے زیادہ اچھے اخلاق والا:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ
تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں
تمہیں یہ بات نہ بتا دوں کہ قیامت کے دن تم میں سے سب سے زیادہ میری نگاہوں میں
محبوب اور میرے قریب تر مجلس والا کون ہوگالوگ خاموش رہے نبی کریم ﷺ نے
دو تین مرتبہ اس بات کو دہرایا تو لوگ کہنے لگے جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ نبی
کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس کے اخلاق سب سے زیادہ اچھے ہوں۔ (مسند امام احمد بن
حنبل مترجم ج،3 ص، 390 حدیث 1194 مکتبہ کتب خانہ امام احمد رضا خان )
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو :مذکورہ احادیث سے پتا چلا کہ سوال کرنے کی بہت اہمیت ہے اس
سے علم میں اضافہ ہوتا ہے بہت سی نئی نئی معلومات حاصل ہوتی ہے لہذا ہمیں بھی چاہیے
کے ہم بھی اپنے اساتذہ کرام اور اپنے بڑوں سے اچھے اور مثبت سوال کرے اور اپنے علم
میں اضافہ کرے۔اللہ عزوجل ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
علی اکبر مہروی (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
آپ ﷺ نے
تربیت کے لیے مختلف طریقے اوراسلوب اپنائے جن میں سوالیہ انداز بھی شامل ہے، جیسے
کہ آپ ﷺ نے بچوں کو اور وہ لوگ جو علم نہیں رکھتے تھے ان کواپنی شفقت و نرمی سے
سکھاتے ہوئے ان سے سوال پوچھ کر یا ان کی غلطی کی نشاندہی کرکے انہیں دینی اور
اخلاقی تربیت دی، تاکہ انہیں بہتر طریقے سے سمجھ آ سکے اور وہ اس پر عمل پیرا ہو
سکیں آئیے ہم اس بارے میں چند احادیث کا مطالعہ کرتے ہے۔
حدیث نمبر( 1)دو بہترین سورتیں :روایت
ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ میں ایک سفر میں حضور کی اونٹنی کی مہارکھینچ
رہا تھا کہ مجھ سے فرمایا اے عقبہ کیا میں تمہیں بہترین دو سورتیں نہ بتاؤں جو پڑھی
جاتی ہیں مجھے "قُلْ
اَعُوۡذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ"اور"قُلْ اَعُوۡذُ بِرَبِّ النَّاسِ"
سکھائی فرماتے ہیں کہ مجھے حضورصلی الله
علیہ وسلم نے ان دو سورتوں کی وجہ سے زیادہ خوش ہوتے نہ دیکھاتو جب نمازصبح کے لیے
اترے تو انہیں دو سورتوں سے لوگوں کو فجر پڑھائی جب فارغ ہوئے تومیری طرف متوجہ
ہوکر فرمایا کہ اے عقبہ تم نے کیسا دیکھا ( مشکوۃہ المصابیح جلد 2 حدیث نمبر 848)
حدیث
نمبر( 2)دو اونٹنیاں :روایت ہے حضرت عقبہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ تشریف
لائے جب کہ ہم صفہ میں تھے فرمایا تم میں کون یہ چاہتا ہے کہ ہر صبح بطحان یا عقیق
کی طرف نکل جایا کرے اور بغیر گناہ کئے بغیر رشتہ توڑے دو اونچی اونٹنیاں لے آیا
کرے ہم نے عرض کیا یارسول اللہ یہ تو ہم
سب چاہتے ہیں فرمایا تو تم میں سے ہر شخص روزانہ صبح کو کیوں نہ مسجد چلا جایا کرے
وہاں قرآن کریم کی دو آیتیں سیکھ لیا کرے یا پڑھ لیا کرے یہ دو اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور تین تین اونٹنیوں
سے بہتر ہیں اور چار چار سے اور اسی قدر اونٹوں سے بہتر ہیں (مشکوۃہ المصابیح جلد
3 حدیث نمبر 2110)
حدیث
نمبر( 3)تین آیتیں :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے کیا
تم میں سے کوئی یہ چاہتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹے تو وہاں تین حاملہ بڑی اور موٹی
اونٹنیاں پائے ہم نے عرض کیا ہاں فرمایا
تو تین آیتیں جنہیں کوئی اپنی نماز میں پڑھ لے وہ اسے تین حاملہ بڑی اور موٹی
اونٹنیوں سے بہتر ہیں (مشکوۃہ المصابیح جلد 3 حدیث نمبر 2111)
حدیث
نمبر( 4) اللہ عزوجل نفع دے:حضرت قبیصہ بن مخارق سے روایت
ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ نے پو چھا قبیصہ کیسے آنا ہوا میں
نے عرض کیا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں میں آپ کی
خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھا دیجئے جس سے اللہ
مجھے نفع پہنچاے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے
قبیصہ تم جس پتھر یا درخت یا مٹی پر سے گزر کر آئے ہو ان سب نے تمہارے لئے استغفار
کیا اے قبیصہ جب تم فجر کی نماز پڑھا کرو تو تین مرتبہ سحان اللہ العظیم و بحمدہ
کہہ لیا کرو تم نابینا پن اور جذام اور فالج کی بیماریوں سے محفوظ ہو گے اور قبیصہ
یہ دعا کیا کرو اے اللہ میں تجھ سے اس چیز کا سوال کرتا ہوں جو تیرے پاس ہے مجھ پر
اپنے فضل کا فیضان فرما اور مجھ پر اپنی رحمت کو وسیع فرما اور مجھ پر اپنی برکتیں
نازل فرما۔( مسند امام احمد بن حنبل جلد نمبر 8 صفحہ نمبر 283)
حدیث
نمبر( 5) اذان اور پہلی صف کا ثواب :حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ
رَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ” اگر لوگ
جانتے کہ اذان اور پہلی صف میں کتنا ثواب ہےتو اُن کے حصول کے لئے اگرقرعہ اندازی
بھی کرنا پڑتی تو ضرورکرتے۔“(فیضان ریاض الصالحین جلد نمبر 7 حدیث نمبر 1083)
اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں ان
احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین
حافظ محمد حماس(درجہ سابعہ جامعۃُ المدینہ گلزار حبیب سبزه زار لاہور ، پاکستان)
رسول
اللہ ﷺ نے اپنی امت کی ہر بہتر سے بہترین
طریقے کے مطابق تربیت فرمائی ان میں ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ آپ سوال کے ذریعے
صحابہ کی تربیت فرماتے تھے ۔
جہنم
کی آگ حرام:عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ
مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلاَ
أُخْبِرُكُمْ بِمَنْ يَحْرُمُ عَلَى النَّارِ أَوْ بِمَنْ تَحْرُمُ عَلَيْهِ
النَّارُ، عَلَى كُلِّ قَرِيبٍ هَيِّنٍ سَهْلٍ. عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسے شخص کی خبر نہ
دوں جو جہنم کی آگ پر حرام ہے یا جس پر جہنم کی آگ حرام ہے جہنم کی آگ ہر اس شخص
پر حرام ہے جو لوگوں کے قریب رہنے والا، آسانی کرنے والا، نرم خو اور سہل مزاج
ہوتا ہے۔ (سنن الترمذی ت بشار ، ابواب الصفۃ القیامۃ و الرقائق والورع ،ج4 ص235 حدیث
2488)
مفلس
کون: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا
دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي
يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ
هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ
هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ
فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ
فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
حضرت
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا تم جانتے ہو کہ مفلس
کون ہے"صحابہ نے عرض کیا: "ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہو
اور نہ کوئی سامان۔آپ ﷺ نے فرمایا:"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن
نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، لیکن اس حال میں کہ اس نے کسی کو گالی دی ہوگی،
کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا، کسی کو
مارا پیٹا ہوگا۔ پس اس کی نیکیاں لے کر ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔ اگر اس کی نیکیاں
ختم ہو گئیں اس سے پہلے کہ اس کے سارے حساب چکائے جائیں، تو ان کے گناہ اس پر ڈال
دیے جائیں گے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔"(صحيح مسلم،کتاب البر
والصله والاداب ،باب تحریم الظلم،ج 4،ص1994،حدیث2581)
سونا
چاندی خرچ کرنے سے بہتر: أَنَّ
النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِكُمْ
وَأَرْضَاهَا عِنْدَ مَلِيكِكُمْ، وَأَرْفَعِهَا فِي دَرَجَاتِكُمْ، وَخَيْرٍ لَكُمْ
مِنْ إِعْطَاءِ الذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، وَمِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّكُمْ فَتَضْرِبُوا
أَعْنَاقَهُمْ، وَيَضْرِبُوا أَعْنَاقَكُمْ قَالُوا: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ
قَالَ: ذِكْرُ اللَّهِ وَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ:مَا عَمِلَ امْرُؤٌ بِعَمَلٍ أَنْجَى
لَهُ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ.
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہارے سب سے
بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں
خبر نہ دوں وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے
اس سے بھی بہتر ہے کہ تم اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی
۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے“، معاذ بن جبل
رضی الله عنہ کہتے ہیں: اللہ کے ذکر سے
بڑھ کر اللہ کے عذاب سے بچانے والی کوئی اور چیز نہیں ۔(سنن الترمذی ت بشار،ابواب
الدعوات ،باب منہ ،ج 5،ص 320,حدیث3377)
اللہ
پاک ہمیں نبی پاک ﷺ کی دی گئی شریعت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی
توفیق عطا فرمائے آمین۔
رسول
اللہ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ میں تعلیم و تربیت کا انداز نہایت جامع، بامقصد اور حکیمانہ
تھا۔ آپ ﷺ نے جہاں خطبات، نصیحتوں، عملی مثالوں اور دعاؤں سے لوگوں کی تربیت فرمائی،
وہیں آپ ﷺ کا سوالیہ انداز بھی ایک مؤثر ذریعہ تربیت رہا۔ سوال کے ذریعے نہ صرف
سامع کی توجہ مرکوز ہوتی ہے بلکہ وہ جواب کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے،
اور یوں بات دل و دماغ میں اتر جاتی ہے۔
سوالیہ
انداز کی حکمت:
سوالات
انسانی ذہن کو متحرک کرتے ہیں، فہم و ادراک کو جِلا بخشتے ہیں، اور علم کی طلب کو
ممیز كرتے۔ رسول اکرم ﷺ نے اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سوالات کے ذریعے صحابہ
کرام کی تعلیم و تربیت فرمائی۔ آپ ﷺ کا اندازِ سوال ہمیشہ مقصدی، تربیتی اور فہم و
بصیرت بڑھانے والا ہوتا تھا۔ آیئے ہم احادیث مبارکہ کو جانتے ہیں اور ان سے تعلیمات
حاصل کرتے ہیں :
حدیث
نمبر( 1) وَعَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ
اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى
الظَّهْرِ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا قُلْتُ: بَلَى،
قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ،
فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔
ترجمہ
:روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ملکی ہیں اور ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ہاں تو فرمایا در از
خاموشی اور اچھی عادت سے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے
کام نہ کیے ہوں گے ہے.
یعنی
ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں، چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس
لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے، نیز بوجھ پیٹھ پر ہی اٹھائے
جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہر حال کلام بڑا صحیح ہے یا مراد
ہے زبان کی پیٹھ۔
یعنی
کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تو لی جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے
ہو جائیں گے ، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن
بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہو گا۔
خاموشی
سے مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے اللہ کے ذکر سے خاموشی اچھی
نہیں۔ اچھے اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق ادا کرنا، نرم و گرم حالات میں
شاکر و صابر رہنا، چونکہ خاموشی اور صبر و شکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ
ان کے ترک میں محنت ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔
کیونکہ
انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے۔ واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر
معاملات کا کوئی کام نہیں، یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے
(كتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4867)
حدیث
نمبر( 2) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:
سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ الْجَنَّةَ
قَالَ: التَّقْوَى، وَحُسْنُ الْخُلُقِ ، وَسُئِلَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّارَ
قَالَ: الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ، وَالْفَرْجُ
ترجمہ
:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرما یار سول اللہ ﷺ نے
کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر
اور اچھی عادت ! کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی
چیز میں منہ اور شرمگاہ ۔ (ترمذی،
ابن ماجہ )
شرح
حدیث: تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بد عقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے
بچنا، اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔ یوں ہی خوش خلقی کا ادنی
درجہ یہ ہے کہ کسی کو جانی مالی عزت کی ایذا نہ دے ، اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا
بدلہ بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالٰی نصیب کرے۔ یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں
کرتا ہے، نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں، شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بد ترین
گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ
ہے (کتاب : مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد : 6, حدیث نمبر : 4832)
نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا سوالیہ اندازِ تربیت محض ایک
طرزِ گفتگو نہیں، بلکہ ایک جامع، بامقصد اور بصیرت افروز طریقہ تھا جس سے دلوں میں
اثر، ذہنوں میں سوچ اور عمل میں تبدیلی پیدا ہوتی تھی۔ آپ ﷺ کے سوالات، مخاطب کو
غور و فکر پر آمادہ کرتے اور اسے خود اپنی اصلاح کی طرف مائل کرتے تھے۔ یہ اندازِ
تربیت آج کے تعلیمی اور تربیتی نظام میں بھی رہنمائی کا عظیم ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہیے
کہ ہم بھی اپنے بچوں، شاگردوں اور معاشرے کے افراد کی تربیت میں اس سنتِ نبوی ﷺ کو
اپنائیں، تاکہ ہمارا انداز تعلیم، نرمی، حکمت اور اثر انگیزی سے بھرپور ہو۔
دعا
ہے اللہ ہمیں اپنے محبوب ﷺ کی سیرتِ طیبہ کو سمجھنے، اپنانے اور اس پر عمل کرنے کی
توفیق عطا فرما۔ ہمیں حکمت و دانائی کے ساتھ دوسروں کی تربیت کرنے والا بنا دے۔
اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور سنت پر استقامت عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
احمد رضا ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسان
کا دل نصیحت سے زندہ ہوتا ہے اور سوال اس نصیحت کو مزید مؤثر بنا دیتا ہے۔ رسول
اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے لیے سوالیہ اسلوب اختیار کیا۔ آپ ﷺ سوال
کرتے تاکہ صحابہ سوچیں، غور کریں اور پھر جواب کے ذریعے حقیقت کو دل سے تسلیم کریں۔
آج کے دور میں بھی یہی انداز ہمارے تعلیمی اور معاشرتی مسائل کو حل کرنے کے لیے
بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
قَالَ اللَّهُ تَعَالٰى: اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ
الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(۲۴) ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں یا بعضے دلوں پر
اُن کے قفل لگے ہیں ۔(محمد: 24)
مفہوم:
یہ آیت سوالیہ انداز میں انسان کے دل کی غفلت کو واضح کرتی ہے اور غور و فکر کی
دعوت دیتی ہے۔
(1)
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْمُفْلِسُ قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ
لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُفْلِسَ
مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي
قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا،
وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،
فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ
خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ۔
ترجمہ:
ایک دن اپنے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ارشادفرمایا :'' کیاتم جانتے ہو کہ مفلس
کون ہے ''عرض کی: ''یارسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے نزدیک
مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ تو دینار ہوں نہ ہی درہم ہوں۔'' تو حضورِ پاک ،صاحب
ِلولاک،سیّاحِ افلاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ان سے فرمایا:'' ایسا نہیں
ہے بلکہ مفلس تو وہ ہے جو قیامت کے دن نماز ، روزے، زکوٰۃ ،اور صدقہ لے کر آئے گا
لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی کو تھپڑ مارا ہوگا، کسی کامال دبالیا ہوگا
اور کسی کا خون بہایا ہوگا تو اسے اس کی نیکیاں دی جائیں گی اور پھر ایک شخص آئے
گا اسے بھی اسی طرح اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی یہاں تک کہ لوگو ں کے حقوق ادا
کرنے سے پہلے ہی اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی پھر اسے ان کے گناہ دے دئیے جائیں
گے تواسے ان لوگو ں کے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہی شخص مفلس
ہے ۔(صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، حديث: 2581)
سوالیہ
اسلوب نے اصل مفلس کی حقیقت کو واضح کیا۔
(2)
عَنْ أَبِي
هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ
مَا الْغِيبَةُ قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ
بِمَا يَكْرَهُ ۔(صحيح
مسلم، كتاب البر والصلۃ، حديث: 2589)
ترجمہ:
آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے" صحابہ نے کہا: اللہ اور
اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے بھائی کا ایسا ذکر جو اسے
ناگوار گزرے۔"
سوالیہ
انداز نے غیبت کیسی برائی ہے ، کھول کر بیان کر دیا۔
(3)
عَنْ عَبْدِ
اللَّهِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ:
أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ (صحيح
البخاري، كتاب التفسير، حديث: 4477)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون
سا ہے" صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا حالانکہ وہی تمہارا خالق ہے۔"
مفہوم:
سوالیہ اسلوب نے کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے جرم یعنی شرک کی سنگینی کو واضح کیا۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات صرف علمی نہیں بلکہ عملی زندگی کے رہنما تھے۔ آپ ﷺ کے سوالیہ
اسلوب نے صحابہ کو سوچنے، توبہ کرنے اور اپنے کردار کو بہتر بنانے پر مجبور کیا۔ یہ
حکمت بھری تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ دین اسلام صرف احکام نہیں دیتا بلکہ سوچنے کی
عادت بھی ڈالتا ہے۔ آج اگر ہم بھی اسی اسلوب کو اختیار کریں تو نصیحت زیادہ مؤثر
ہوگی، رشتے مضبوط ہوں گے اور معاشرہ محبت و انصاف سے بھر جائے گا۔
حافظ عباد علی (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان ابوعطار ملیر کراچی ، پاکستان)
اللہ
تبارک و تعالی نے حضور اکرم ﷺ کو اپنا
محبوب بنایا اور حضور اکرم ﷺ کو کائنات کے
ہر زرے ذرے کی تعلیم عطا کی اور اس تعلیم کو حضور اکرم ﷺ نے دنیا جہاں تک پہنچایا۔اس تعلیم و تعلُّم کے
سلسلے میں حضور اکرم ﷺ نے بہت حسین و جمیل
طرز عمل کو اپنایا کہ اس طریقے سے امت کو تعلیم حاصل کرنے میں آسانی ہو۔ انہی
خوبصورت اندازوں میں سے ایک طریقہ کار سوالیہ انداز میں تربیت فرمانا ہے۔اس کے
حوالے سے ہم چند احادیث مبارکہ کے پھول سماعت فرماتے ہیں۔
(1)
حسن اخلاق کی تعلیم: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُقَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ،
قَالَ: ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ قِيلَ أَفَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي
مَا أَقُولُ قَالَ: إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ، فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ
يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ ۔(سنن ابی داؤد: باب: غیبت کا
بیان،حدیث نمبر4874)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول
! غیبت کیا ہے آپ نے فرمایا :’’ تمہارا
اپنے بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ۔‘‘ کہا گیا : جو
بات میں کہہ رہا ہوں اگر وہ میرے بھائی میں ( فی الواقع ) ہو ( تو بھی وہ غیبت ہو گی ) آپ نے فرمایا :’’ اگر اس میں وہ بات موجود ہو
اور تم کہو تب ہی تو غیبت ہے ۔ اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو تم نے
اس پر بہتان لگایا ۔
حضور
اکرم ﷺ نے کتنا خوبصورت انداز اپنایا کہ
اس انداز سے آپ ﷺ نے نہ صرف تعریف کو محدود کیا، بلکہ اس برائی کی گہرائی بھی واضح
کر دیا۔
(2)
عبادات کی اہمیت کو واضح کرنا: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ
سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهَرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ
يَغْتَسِلُ فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسًا، مَا تَقُولُ: ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ قَالُوا: لاَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا، قَالَ:
فَذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَوَاتِ الخَمْسِ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الخَطَايَا (صحیح
بخاری: باب: اوقات نماز کا بیان،حدیث نمبر: 528)
ترجمہ:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کسی شخص کے دروازے پر نہر
جاری ہو ، اور وہ روزانہ اس میں پانچ پانچ دفعہ نہائے تو تمہارا کیا گمان ہے ۔ کیا
اس کے بدن پر کچھ بھی میل باقی رہ سکتا ہے صحابہ نے عرض کی کہ نہیں یا رسول اللہ ! ہرگز نہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہی
حال پانچوں وقت کی نمازوں کا ہے ۔ کہ اللہ پاک ان کے ذریعہ سے گناہوں کو مٹا دیتا
ہے ۔
میرے
آقا محمد مصطفی ﷺ کا کتنا ہی دل نشی انداز
ہےسوال کے ذریعے نماز کی اہمیت اور روحانی صفائی کو ایسا واضح کیا کہ بات ذہن میں
بیٹھ گئی۔
(3)
سوال کرنے کے شوق کو بڑھانا ہے: حدیث
مبارکہ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَأْخُذُ هَؤُلَاءِ
الْكَلِمَاتِ فَيَعْمَلْ بِهِنَّ أَوْ يُعَلِّمْهُنَّ مَنْ يَعْمَلُ بِهِنَّ قَالَ
أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: أَنَا، فَأَخَذَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ يَدِي فَعَقَدَ فِيهَا خَمْسًا: اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَكُنْ أَعْبَدَ
النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللهُ لَكَ تَكُنْ أَغْنَى النَّاسِ، وَأَحْسِنْ
إِلَى جَارِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ
تَكُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تَكْثُرِ الضَّحِكَ فَإِنَّ كَثْرَةَ الضَّحِكَ تُمِيتُ
الْقَلْبَ ( جامع ترمذی: باب: حرام چیزوں سے بچنے والا سب سے بڑا عابد ہے ،حدیث نمبر: 2305)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ”کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے ان کلمات کو سن کر ان پر عمل کرے یا ایسے شخص
کو سکھلائے جو ان پر عمل کرے، ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ
کے رسول! میں ایسا کروں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان پانچ باتوں کو گن کر بتلایا:
تم حرام چیزوں سے بچو، سب لوگوں سے زیادہ عابد ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ کی تقسیم
شدہ رزق پر راضی رہو، سب لوگوں سے زیادہ بے نیاز رہو گے، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ
احسان کرو پکے سچے مومن رہو گے۔ اور دوسروں کے لیے وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند
کرتے ہو سچے مسلمان ہو جاؤ گے اور زیادہ نہ ہنسو اس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو
مردہ کر دیتا ہے۔
حضور
اکرم ﷺ کا یہ انداز گفتگویہ سوال سیکھنے
کے شوق کو ابھارتا ہے۔ سوال سن کر صحابہ فوراً متوجہ ہو جاتے اور سیکھنے کے لیے تیار
ہو جاتے۔
نبی
کریم ﷺ کا سوالیہ انداز تربیت ایک انتہائی حکیمانہ اور مؤثر طریقہ تھا۔ آپ ﷺ
سوالات کے ذریعے سوچنے پر مجبور کرتے، دلوں میں اثر پیدا کرتے اور تعلیم کو ذہن نشین
کروا دیتے۔اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی ہمیں حضور اکرم
ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات کو سمجھنے اور پر
عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
عبد الرحمن امجد (درجہ سادسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور
نبی کریم ﷺ کا اندازِ گفتگو عام طور پر نہایت حکیمانہ،
نرم، مؤثر اور موقع و محل کے لحاظ سے ہوتا تھا۔ آپ ﷺ نے
تعلیم دینے کے لیے سوالیہ انداز (یعنی سوال کرکے بات سمجھانا یا سامعین کو غور و
فکر پر آمادہ کرنا) کو کئی مواقع پر اپنایا۔ اس انداز کو "سوالیہ تعلیم"
(Socratic Method) بھی کہا جا سکتا ہے، جس میں معلم خود سوال
کرتا ہے تاکہ سننے والا غور کرے، سیکھے یا جواب دے۔
یہاں
کچھ احادیث پیش کی جا رہی ہیں جن میں حضور ﷺ نے سوالیہ انداز اختیار کیا:
(1)مفلس
کون : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ» قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ،
فَقَالَ:«إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا، وَقَذَفَ هَذَا، وَأَكَلَ
مَالَ هَذَا، وَسَفَكَ دَمَ هَذَا، وَضَرَبَ هَذَا، فَيُعْطَى هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ،
وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْضَى مَا
عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي
النَّارِ۔
ترجمہ: حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ
تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہو مفلس
کون ہے‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے
جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ ﷺ نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں
مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی
دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا
ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں
گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی
ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلوموں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر
ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ فیضان ریاض الصالحین جلد:3،حدیث نمبر:218
(2)
اللہ کا حق کیا ہے : عَنْ
مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ عُفَيْرٌ، فَقَالَ: يَا مُعَاذُ، هَلْ
تَدْرِي حَقَّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ، وَمَا حَقُّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ، قُلْتُ:
اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى العِبَادِ أَنْ
يَعْبُدُوهُ وَلاَ يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَحَقَّ العِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ
لاَ يُعَذِّبَ مَنْ لاَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلاَ
أُبَشِّرُ بِهِ النَّاسَ قَالَ: لاَ تُبَشِّرْهُمْ، فَيَتَّكِلُوا
ترجمہ: روایت ہے حضرت معاذ سےکہ میں ایک دراز
گوش پر حضور کے پیچھے اس طرح سوار تھا کہ میرے آپ کے درمیان پالان کی لکڑی کے سوا
کچھ نہ تھا حضور نے فرمایا کہ معاذ کیا جانتے ہو اللہ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے
اور بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے میں نے عرض کیا اللہ رسول جانیں فرمایا : اللہ کا
حق بندوں پر تو یہ ہے کہ اُسے پوجیں کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا
حق اللہ پر یہ ہے کہ جو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو اُسے عذاب نہ دے میں نے عرض کیا یارسول
اللہ تو کیا میں لوگوں کو یہ بشارت نہ دے دوں فرمایا یہ بشارت نہ دو ورنہ لوگ اس
پر بھروسہ کر بیٹھیں گے۔( مشکوٰۃ المصابیح، جلد:1، کتاب الایمان ، فصل اول ، صفحہ
نمبر:14حدیث نمبر:21 )
(3)
سب سے بڑا سخی کون : عَنْ أَنَسِ بْنِ
مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ تَدْرُونَ مَنْ أَجْوَدُ جُودًا قَالُوا:
اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: اللهُ
أَجْوَدُ جُودًا، ثُمَّ أَنَا أَجْوَدُ بَنِي آدَمَ، وَأَجْوَدُهُمْ مَنْ بَعْدِي
رَجُلٌ عَلِمَ عِلْمًا فَنَشَرَهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمِيرًا وَحْدَهُ
أَوْ قَالَ: أُمَّة وَحْدَهُ
ترجمہ: روایت ہے انس بن مالک سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول اللہ ﷺ نے کیا تم جانتے ہو کہ بڑا سخی کون ہے عرض کیا
اللہ رسول جانیں فرمایا :اللہ تعالٰی بڑا جوّاد ہے پھر اولاد آدم میں مَیں بڑا سخی
داتا ہوں اور میرے بعد بڑا سخی وہ شخص ہے جو علم سیکھے پھر اسے پھیلائے وہ قیامت میں
اکیلا امیر یا فرمایا ایک جماعت ہو کر آئے گا ۔ (مشکوٰۃ المصابیح،جلد:1 کتاب العلم
، فصل ثالث ، صفحہ :37، حدیث نمبر:241 ، )
(4)رب کریم کیا ارشاد فرماتا ہے : وَعَنْ
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: صَلّٰى لَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى
اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلٰى أَثَرِ
سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ
فَقَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ ربُّكُمْ قَالُوا: اَللهُ وَرَسُولُهٗ
أَعْلَمُ،قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ
قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِهٖ فَذٰلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ
بِكَوْاكَبَ وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذٰلِكَ
كَافِرٌ بِي وَمُؤمِنٌ بِكَوْاكَبَ۔
ترجمہ:
روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے
حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی جب فارغ ہوئے تو
لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا
لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و
منکر نے صبح پائی جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ
پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی
تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن۔ ( مشکوٰۃ المصابیح، جلد:2، باب الکھانۃ، فصل
اول ، صفحہ:406، حدیث نمبر:4391 )
(5)
سائل کون تھا: ترجمہ:
روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب( رضی اللہ عنہ) سے فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی ﷺ کی
خدمت میں حاضرتھے کہ ایک صاحب ہمارے سامنےنمودارہوئے جن کے کپڑے بہت سفیداور بال
خوب کالے تھے اُن پر آثارِ سفر ظاہر نہ تھے اور ہم سےکوئی اُنہیں پہچانتا بھی نہ
تھایہاں تک کہ حضور( ﷺ ) کے پاس بیٹھے اور
اپنے گھٹنے حضور( ﷺ ) کےگھٹنوں شریف سے مَس کر دیئے اور اپنے ہاتھ اپنے زانو پر
رکھےاور عرض کیا اَےمحمد( ﷺ )مجھے اسلام کے متعلق بتائیے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ
تم گواہی دو کہ ﷲ کےسواءکوئی معبودنہیں اورمحمد ﷲ کے رسول ہیں اور نماز قائم
کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ کا حج کرو اگر وہاں تک پہنچ سکو عرض کیا کہ
سچ فرمایا ہم کو ان پرتعجب ہوا کہ حضور سے پوچھتےبھی ہیں اورتصدیق بھی کرتے ہیں
عرض کیا کہ مجھے ایمان کے متعلق بتائیے فرمایاکہ ﷲ اور اس کے فرشتوں ،کتابوں اور
اس کے رسولوں اور آخری دن کو مانو اور اچھی بُری تقدیرکو مانو عرض کیا آپ سچے ہیں
عرض کیامجھےاحسان کے متعلق بتائیے فرمایا ﷲ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا اُسے دیکھ
رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو خیال کرو کہ وہ تمہیں دیکھ رہاہے عرض کیا کہ قیامت کی
خبر دیجئے فرمایا کہ جس سے پوچھ رہے ہو وہ قیامت کے بارے میں سائل سے زیادہ خبردار
نہیں عرض کیا کہ قیامت کی کچھ نشانیاں ہی بتادیجئے فرمایا کہ لونڈی اپنے مالک
کوجنے گی اور ننگے پاؤں ننگے بدن والے فقیروں،بکریوں کے چرواہوں کو محلوں میں فخر
کرتے دیکھو گے راوی فرماتے ہیں کہ پھر سائل چلے گئے میں کچھ دیر ٹھہرا حضور( ﷺ )
نے مجھے فرمایا: يا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنِ
السَّائِلُ مَیں نےعرض کیﷲ اوررسول جانیں فرمایا یہ حضرت جبریل تمہیں
تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔ (مشکوٰۃ المصابیح،جلد:1،باب الایمان، فصل اول ، صفحہ
نمبر:13،حدیث نمبر:1)
حضور
کے سوالیہ انداز سے اج کے جدید دور کہ لوگوں کو جو حکیمانہ اور سبق اموز نکات ملے
وہ درج ذیل ہیں
(1)
سوچنے اور غور و فکر کرنے کی ترغیب ملی
(2)
علم حاصل کرنے کا جذبہ بیدار ہوا
(3)
یادداشت مضبوط ہوئی
(4)
دلچسپی اور توجہ میں اضافہ ہوا
(5)
مکالمے اور بات چیت کا ماحول پیدا ہوا
دعا
ہے اللہ پاک ہم سب کو حضور کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں دوسروں کی
تربیت کرنے اور اپنی ذات کو سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
ظہور بیگ رحمانی (درجہ اولی جامعۃ المدینہ فیضان ابوعطار ملیر کراچی ، پاکستان)
نبی
اکرم ﷺ کے سوال کرنے کے طریقے اور اسکی حکمت:
نبی
اکرم ﷺ کا سوال کرنے کا انداز ان کے تدریسی طریقہ کار کا ایک قابل قدر پہلو ہے، جیسا
کہ ان کی سیرت سے مختلف احادیث اور واقعات میں واضح ہے۔ یہاں کچھ مثالیں ہیں:
(1)
توجہ اور وضاحت: نبی
اکرم ﷺ اکثر اپنے صحابہ کی توجہ ایمان اور عمل کے اہم پہلوؤں پر مرکوز کرنے کے لیے
سوالات کرتے تھے۔
مثال
کے طور پر یہ حدیث ہے:
وَعَنْ عَمْرِو
بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْخَلْقِ أَعْجَبُ إِلَيْكُمْ إِيمَانًا قَالُوا: فالنبيونقَالَ:
ومالهم لَا يُؤْمِنُونَ وَالْوَحْيُ يَنْزِلُ
عَلَيْهِمْ قَالُوا: فَنَحْنُ. قَالَ:ومالكم
لَا تُؤْمِنُونَ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِن أَعْجَبَ الْخَلْقِ إِلَيَّ إِيمَانًا لَقَوْمٌ يَكُونُونَ
مِنْ بَعْدِي يَجِدُونَ صُحُفًا فِيهَا كِتَابٌ يُؤْمِنُونَ بِمَا فِيهَا
روایت
ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ تمہارے نزدیک مخلوق میں کون زیادہ پیارے ایمان
والا ہے عرض کیا فرشتے فرمایا وہ کیوں ایمان
نہ لائیں وہ تو اپنے رب کے پاس ہیں بولے تو نبی حضرات،فرمایا وہ حضرات کیوں ایمان
نہ لائیں ان پر تو وحی اترتی ہے لوگوں نے عرض کیا کہ تو ہم،فرمایا تم کیوں ایمان
نہ لاؤ میں تو تمہارے درمیان ہوں فرماتے
ہیں کہ پھر رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا کہ مجھے ساری مخلوق میں پیاری
ایمان والی وہ قوم ہے جو میرے بعد ہوگی وہ لوگ صحیفے پائیں گے جن میں وہ کتاب ہوگی
وہ کتاب کی ہر چیز پر ایمان لائیں گے۔(مشکوۃ 6288)
(2)
یادداشت کو مضبوط بنانا:
رسول اللہ ﷺ بعض اوقات اپنے اصحاب سے ان کی یادداشت اور اہم
تصورات کو سمجھنے کے لیے سوالات پوچھتے تھے۔
حدیث:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
اپنے صحابہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے انہوں نے جواب دیا کہ ہم میں
مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ کوئی درہم ہے نہ جائیداد۔ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: ”میری امت کا مفلس وہ شخص ہو گا جو قیامت کے دن نماز، صوم اور زکوٰۃ لے کر
آئے گا، لیکن اس نے اس شخص کو گالی دی ہو گی، اس پر غیبت کی ہو
گی، اس کا مال ناجائز طور پر کھایا ہو گا اور اس کا خون بہایا ہو گا۔ (مسلم، کتاب
45، نمبر 7157)
یہ
حدیث نہ صرف یادداشت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ اخلاقی احتساب کی اہمیت پر بھی زور دیتی
ہے۔والدین، اساتذہ اور مبلغین کے لیے مشورے اور نکات ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال کرنے کا انداز جدید دور میں معلمین اور بات چیت کرنے
والوں کے لیے قابل قدر اسباق پیش کرتا ہے۔ یہاں کچھ تجاویز ہیں:
1۔
تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کریں: سیکھنے والوں کو تنقیدی سوچنے اور ان کے عقائد
اور اعمال پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے لیے کھلے سوالات کا استعمال کریں۔
2۔
"مجلسی تعلقات کافروغ": جس سے مراد ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کے عمل سے
ہے جو افراد میں فعال شرکت، عزم اور لگن کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، جیسے کہ ملازمین
یا طلباء۔ اس میں واضح مواصلات، ترقی کے مواقع فراہم کرنے، کامیابیوں کو تسلیم
کرنے، اور ایک مثبت ثقافت کی تعمیر جیسی حکمت عملیوں کو نافذ کرنا شامل ہے تاکہ یہ
یقینی بنایا جا سکے کہ لوگ قابل قدر، جڑے ہوئے، اور حوصلہ افزائی کا احساس کریں۔
3۔
خود کی عکاسی کو فروغ دیں: سیکھنے والوں کو ان کے اپنے خیالات، احساسات اور اعمال
پر غور کرنے کی ترغیب دینے کے لیے سوالات کا استعمال کریں، ذاتی ترقی اور خود آگاہی
کو فروغ دیں۔
4۔
پیچیدہ تصورات کو واضح کریں: پیچیدہ خیالات کو واضح کرنے کے لیے سوالات کا استعمال
کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیکھنے والے اہم تصورات کو سمجھتے ہیں۔
سید علی حمزہ (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
رسول
اکرم ﷺ کی تعلیم و تربیت کا انداز دنیا کے تمام معلمین کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نے انسانیت کو نہ صرف عقائد اور عبادات سکھائیں بلکہ اعلیٰ اخلاق، عدل، مساوات
اور حقوق العباد کی تعلیم بھی دی۔ آپ ﷺ کے اندازِ تربیت میں حکمت و بصیرت
نمایاں نظر آتی ہے۔ انہی اندازوں میں سے ایک اہم انداز سوالیہ طریقۂ تعلیم تھا۔
اس اسلوب کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے ذریعے سامعین کی توجہ مرکوز ہو جاتی، ان میں
غور و فکر کی عادت پروان چڑھتی اور بات دل و دماغ پر زیادہ گہرا اثر ڈالتی۔
(1)
سب سے بڑا گناہ کون سا ہے: صحیح
بخاری اور صحیح مسلم کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے
فرمایا: "کیا میں تمہیں سب سے بڑے
گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں"صحابہ نے عرض کیا: "جی ہاں یا رسول اللہ ﷺ ۔آپ ﷺ نے فرمایا:"اللہ کے ساتھ
شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔" (بخاری، کتاب الشهادات، حدیث: 2654۔
مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 87)
یہ
سوال و جواب کا انداز صحابہ کو چونکا دیتا اور وہ پوری توجہ کے ساتھ آپ ﷺ کے
جواب کو سنتے، یوں وہ بات دل میں راسخ ہو جاتی۔
(2)
سب سے بہتر مسلمان کون ہےرسول اللہ ﷺ نے
سوال کیا گیا: "مسلمان کون ہے"فرمایا:"وہ شخص جس کی زبان اور ہاتھ
سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔"(بخاری، کتاب الإيمان، حدیث: 10۔ مسلم، کتاب
الإيمان، حدیث: 40)
یہ
سوالیہ طرز نہ صرف تعلیم تھا بلکہ مسلمانوں کو اپنے کردار کا جائزہ لینے کی طرف بھی
مائل کرتا تھا۔
(3)
افضل عمل کون سا ہےصحیح بخاری و مسلم میں روایت ہے کہ ایک صحابی نے پوچھا:
"کون سا عمل سب سے افضل ہے"آپ ﷺ نے جواب دیا: "وقت پر نماز
پڑھنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔"(بخاری،
کتاب الإيمان، حدیث: 527۔ مسلم، کتاب الإيمان، حدیث: 85)
یہاں
بھی سوالیہ انداز کے ذریع اعمال کی درجہ بندی اور ان کی اہمیت کو واضح فرمایا گیا۔
نبی
کریم ﷺ کے سوالیہ اندازِ تعلیم کی چند نمایاں حکمتیں یہ ہیں:
1.
طلبہ یا سامعین کی ذہنی توجہ کو بیدار کرنا۔
2.
بات کو سوال کی صورت میں پیش کر کے دلچسپی پیدا کرنا۔
3.
جواب دینے سے پہلے سوچنے پر مجبور کرنا۔
4.
تعلیم کو محض الفاظ نہیں بلکہ یادگار حقیقت بنا دینا۔
5.
مخاطب کو براہِ راست شامل کر کے اس کے اندر اعتماد اور فہم پیدا کرنا۔
نبی
اکرم ﷺ کا سوالیہ انداز تعلیم و تربیت کا ایک انمول اصول ہے۔ آپ ﷺ نے
اس طریقے سے صحابہ کرام کے ذہن و فکر کو جِلا بخشی اور ان کی علمی و عملی تربیت کی۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام نہ صرف علم میں ممتاز ہوئے بلکہ کردار و عمل میں بھی
بہترین نمونہ بن گئے۔ آج کے اساتذہ اور داعیانِ دین کے لیے ضروری ہے کہ وہ بھی اس
اسلوب کو اپنائیں تاکہ طلبہ میں فکری بیداری اور عمل کی رغبت پیدا ہو۔
مدثر علی عطّاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ
تعالی نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو
دنیا میں مبعوث فرمایا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کی تربیت مختلف طریقوں
سے فرمائی کہیں اپنے قول کے ذریعے کہیں پر اپنے فعل کے ذریعے اسی طرح نبی کریم ﷺ نے
سوالیہ انداز کے اندر بھی اپنی امت کی تربیت فرمائی ہے آئیے میں آپ کے سامنے چند
احادیث ذکر کرتا ہوں :
(1) آگ کا حرام ہونا
:روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی ﷺ کجاوہ پر تھے معاذ حضور کے ردیف تھے حضور نے
فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہوں یا رسول الله خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا یارسول
الله حاضر ہوں خدمت میں فرمایا اے معاذ عرض کیا حاضر ہو خدمت میں تین بار فرمایا ایسا
کوئی نہیں جو گواہی دے کہ الله کے سوا معبود نہیں اور بے شک محمد ﷺ الله
کے رسول ہیں سچے دل سے مگر الله اسے آگ پر حرام فرمادے گا۔عرض کی یارسول الله تو کیا
میں لوگوں کو اس کی خبر نہ دے دوں کہ وہ خوش ہوجائیں فرمایا تب تو وہ بھروسہ کر بیٹھیں
گےپھر حضرت معاذ نے گناہ سے بچنے کے لیے اپنی وفات کے وقت خبر دے دی۔(مرآۃ المناجیح
شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:25)
(2)سابقہ
گناہوں کا مٹنا:روایت ہے عمر و ابن عاص سے فرماتے ہیں کہ میں حضور کی
خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا کہ اپنا ہاتھ بڑھایئے تاکہ آپ کی بیعت کروں آپ نے ہاتھ
بڑھایا میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا فرمایا اے عمرویہ کیا میں نے عرض کیا کچھ شرط
لگانا چاہتا ہوں فرمایا کیا شرط میں نے عرض کیا کہ میری بخشش ہوجائے فرمایا اے
عمرو کیا تمہیں خبر نہیں کہ اسلام پچھلے گناہ ڈھادیتا ہے اور ہجرت پچھلے گناہ ڈھادیتی
ہے اور حج بھی پچھلے گناہ ڈھا دیتا ہے یہ مسلم نے روایت کی اور وہ دو حدیثیں جو
حضرت ابوہریرہ سے مروی ہیں۔فرماتے ہیں فرمایا الله تعالٰی نے کہ میں تمام شرکاء میں
شرک سے غنی تر ہوں اور دوسری یہ کہ عظمت و بلندی میری چادر ہے ہم انہیں ریا اور
کِبر کے بابوں میں ذکر کریں گے اگر الله
نے چاہا۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:28)
(3)اصل
چیز کی خبر :روایت ہے حضرت معاذ(ابن جبل)سے فرماتے ہیں کہ میں نے
عرض کیا یارسول الله مجھے ایسا کام بتائیے جو مجھے جنت میں داخل اور دوزخ سے دور
کردے فرمایا تم نے بڑی چیز پوچھی ہاں جس پر الله آسان کرے اُسے آسان ہے الله کو
پوجو اورکسی چیز کو اس کا شریک نہ جانو نماز قائم کرو،زکوۃ دو،رمضان کے روزے رکھو،کعبہ
کا حج کرو پھر فرمایا کیا میں تم کو بھلائی کے دروازے نہ بتادوں روزہ ڈھال ہے خیرات
گناہوں کو ایسا بجھاتی ہے جیسے پانی آگ کو اور درمیانی رات میں انسان کا نماز
پڑھنا پھر یہ تلاوت کی کہ ان کی کروٹیں
بستروں سے الگ رہتی ہیں (یعملونتک)پھر
فرمایا کہ میں تمہیں ساری چیزوں کا سر،ستون،کوہان کی بلندی نہ بتادوں میں نے کہا
ہاں یارسول الله فرمایا تمام چیزوں کا سراسلام ہے اور اس کا ستون نماز اور کوہان کی
بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کہ کیا تمہیں ان سب کے اصل کی خبر نہ دے دوں میں نے عرض
کیا ہاں یا نبی الله پس حضور نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ اسے روکو میں نے
عرض کیا کہ یا نبی الله کیا زبانی گفتگو پر بھی ہماری پکڑ ہوگی فرمایا تمہیں تمہاری
ماں روئے اے معاذ لوگوں کو اوندھے منہ آگ میں نہیں گراتی مگر زبانوں کی کٹوتی۔ یہ
حدیث احمد ترمذی ابن ماجہ نے روایت کی۔
(کتاب:مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث نمبر:29)
(4)
جنتی لوگوں کی خبر :حضرت سَیِّدُنا حارثہ بن وہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی
عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : کیا میں تمہیں
جنتی لوگوں کی خبر نہ دوں ہرکمزورجسے کمزورسمجھا جائے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ (کے
کرم)پر (اعتماد کرتے ہوئے) قسم کھا لے تواللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی قسم کو ضرور پورا
کر دے گا۔ کیا میں تمہیں جہنمی لوگوں کی خبر نہ دوں ہر وہ شخص جوسخت مزاج ، بخیل
اورخود کو بڑا سمجھنے والا ہو۔
(کتاب:فیضان
ریاض الصالحین جلد:3 , حدیث نمبر:252)
(5)
شرک خفی :حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :ہم لوگ
مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کہ رسولِ کریم ﷺ تشریف لائے اورارشاد فرمایا’’ میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جس کا مسیح
دجا ل سے بھی زیادہ میرے نزدیک تم پر خوف ہےہم نے عرض کی:ہاں ، یا رسولَ اللہ ! ﷺ ارشاد فرمایا’’وہ شرکِ خفی
ہے،آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو ا س وجہ سے طویل کرتا ہے کہ دوسرا شخص اسے
نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، ۴ / ۴۷۰، الحدیث: ۴۲۰۴)
ہارون انصاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی، پاکستان)
انسانی
فطرت ہے کہ جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو وہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ
ﷺ نے اسی فطری کیفیت کو تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو
براہِ راست حکم دینے کے بجائے سوالات کے ذریعے ان کے دلوں کو بیدار کیا۔ یہ انداز
ا نہ صرف علم میں مضبوط کرتا بلکہ عمل کے لیے بھی تیار کرتا تھا۔ آپ ﷺ کی یہ حکمت
آج کے انسان کے لیے بھی بہترین نصیحت ہے کہ وہ دوسروں کی اصلاح محبت اور حکمت سے
کرے۔
هَلْ جَزَآءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُۚ(۶۰)
ترجمہ
کنز الایمان: نیکی کا بدلہ کیا ہے مگر نیکی ۔(الرحمٰن: 60)
مفہوم:
یہ آیت سوالیہ انداز میں انسان کو اچھائی کے بدلے میں اچھائی پر اُبھارتی ہے۔
(1
) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ
رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ
سِتٌّ قِيلَ: مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟، قَالَ: إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ،
وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ.
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو مسلمان پر مسلمان کا حق کیا ہے پھر فرمایا:
جب ملاقات کرے تو سلام کرے، جب بلائے تو جواب دے، اور جب خیرخواہی مانگے تو نصیحت
کرے. (صحيح مسلم، كتاب السلام، حديث: 2162)
مفہوم:
سوالیہ انداز نے مسلمانوں کے باہمی حقوق کو دل میں اُتار دیا۔
(2)
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:
قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ، وَيَدِهِ۔ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو سب
سے اچھا مسلمان کون ہے" پھر فرمایا: "وہ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے
مسلمان محفوظ رہیں۔"(صحيح البخاری، كتاب الايمان، حديث: 11)
مفہوم:سوالیہ
انداز نے حقیقی مسلمان کی پہچان کو دلوں میں بٹھا دیا۔
رسول
اللہ ﷺ کے سوالات صرف گفتگو نہ تھے بلکہ ایک نصیحت، ایک دعوت اور ایک بیداری تھے۔
آپ ﷺ کا یہ انداز دلوں کو نرم کر دیتا اور عقل کو سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا۔ آج
بھی اگر ہم تعلیم اور نصیحت میں یہی حکمت اپنائیں تو ہمارے معاشرے میں محبت، عدل
اور بھائی چارہ قائم ہو سکتا ہے۔ سوالیہ انداز نہ صرف علم دیتا ہے بلکہ کردار بھی
سنوارتا ہے، اور یہی اصل تربیت ہے۔
Dawateislami