محمد حسنین صدیقی ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
انسان
ایک سماجی مخلوق ہے، جو اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے
دوسروں کے ساتھ مل بیٹھنے، بات چیت کرنے اور تعلقات بنانے کی فطرت عطا فرمائی۔ یہ
میل جول "مجلس" کہلاتا ہے، جو کبھی گھریلو ماحول میں ہوتی ہے، کبھی
دفاتر میں اور کبھی دینی محافل کی صورت میں۔ اسلام نے ہر پہلو کی طرح مجالس کے بھی
آداب اور حقوق سکھائے ہیں تاکہ انسان ایک دوسرے کا احترام کرے، دلوں میں محبت بڑھے
اور برکت حاصل ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں مجلس کے کیا آداب
اور حقوق ہیں۔
قرآن
مجید کی روشنی میں مجالس کے حقوق
1. دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرنا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ
لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو
جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔ (المجادلة: 11)
تفسیر
صراط الجنان: اس آیتِ مبارکہ میں مجلس میں دوسروں کو جگہ دینے کا حکم ہے۔
یہ
عمل تعظیمِ مسلم اور سنتِ نبوی ہے۔مجلس کشادہ کرنے سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔
2. غیبت اور برائی سے اجتناب ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ
بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا
فَكَرِهْتُمُوْهُ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم
میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں ناپسند
ہوگا۔(الحجرات: 12)
صراط
الجنان میں ہے: غیبت مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے اور یہ مجلس کی سب سے
بڑی برائی ہے۔
احادیث
مبارکہ کی روشنی میں
3۔
ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: إذَا انْتَهٰى اَحَدُكُمْ إلٰى المَجلِسِ، فَليُسَلِّمْ فَإذَا اَرَادَ اَنْ يَقُومَ فَليُسَلِّمْ ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی
سلام کرے۔ (سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث:
5208)
مجلس
کے کچھ آداب ملاحظہ ہوں:
اچھی اور فائدہ مند گفتگو کرنا۔
سب کو عزت دینا اور دوسروں کے لیے جگہ بنانا۔
بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت۔
نرمی اور درمیانی آواز میں بات کرنا۔
فضول گوئی اور شور شرابے سے پرہیز۔
غیر موجود افراد کی غیبت اور برائی سے بچنا۔
عملی
تجاویز:
1.
گھریلو مجالس: گھر میں بیٹھک یا کھانے کے وقت ہر ایک کو شامل کیا جائے، بچوں کی
بات بھی سنی جائے اور کسی کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
2.
دفتری مجالس: میٹنگ میں سب کو اپنی رائے کا موقع دیا جائے، ایک دوسرے کی بات نہ
کاٹی جائے، اور ادب و تحمل برقرار رکھا جائے۔
3.
مذہبی مجالس: مسجد یا محفل میں خاموشی اور ادب کو لازم پکڑا جائے، علما و قراء کی
عزت کی جائے اور ذکرِ الٰہی میں شریک ہو کر روحانی سکون حاصل کیا جائے۔
اسلام
نے مجالس کو محض میل جول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ انہیں باہمی محبت، خیر خواہی
اور اصلاح کا وسیلہ قرار دیا۔ ایک اچھی مجلس وہ ہے جہاں ذکرِ الٰہی ہو، دوسروں کی
عزت محفوظ ہو اور برکتیں نازل ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر مجلس کو ان تعلیمات کے
مطابق سجائیں تاکہ ہماری زندگیوں میں خیر و سکون نازل ہو اور ہماری مجالس آخرت میں
بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکیں۔
محسن
محمد علی عطاری ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
فیضانِ اسلام، ڈیفینس کراچی ، پاکستان)
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو ہر معاملے میں عدل، اخوت اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا
ہے۔ جہاں فرد کے ذاتی حقوق بیان کیے گئے ہیں،
وہیں اجتماعی زندگی کے اصول اور مجالس (اجتماعات) کے آداب بھی بڑی وضاحت سے بیان
فرمائے گئے ہیں۔ ایک اسلامی مجلس
کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں بلکہ خیر خواہی، تعلیم، تربیت اور دین کی خدمت ہوتا
ہے۔
اللہ
تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ
اللّٰهُ لَكُمْ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں
میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ: 11)
رسولُ
اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجلس میں بیٹھنے والا شخص اپنے بھائی کو تنگ نہ کرے، بلکہ
کشادگی پیدا کرے۔" (مشکوٰۃ المصابیح)
اس
حدیث سے واضح ہے کہ مجلس کا حق ہے کہ وہاں بیٹھنے والے دوسروں کا خیال رکھیں، ایذا
نہ دیں اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔
مجلس
کے اہم حقوق:
1. اخلاص : مجلس اللہ کی رضا کے لیے ہو۔
2. احترام ؛ ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھا
جائے۔
3. خاموشی اور توجہ: غیر ضروری گفتگو اور شور
شرابے سے بچا جائے۔
4. خیر خواہی : مجلس میں صرف نفع بخش بات کی
جائے۔
5. امانت داری : مجلس کی باتیں اجازت کے بغیر
باہر نہ بیان کی جائیں۔
6. وقت کی پابندی : مجلس میں وقت پر آنا اور
وقت ضائع نہ کرنا۔
مجلس
محض بیٹھک یا گفت و شنید کا نام نہیں بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کے آداب اور حقوق ہیں۔
اگر ہر مسلمان ان حقوق کو اپنالے
تو مجالس اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
محمد
عمر فاروق عطّاری (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ، پاکستان)
جہاں
چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں، اسے مجلس کہا جاتا ہے۔ مجلس عربی لفظ ہے جس کا لغوی معنی
"بیٹھنے کی جگہ" ہے۔ مجلس اچھی یا بری ہو سکتی ہے۔ اچھی مجالس کی مثالیں
مدنی مذاکرہ اور ہفتہ وار اجتماعات ہیں، جبکہ بری مجالس کی مثالیں گانے بجانے والی
مجالس یا شراب نوشی کی مجالس ہیں۔ جس طرح ہر چیز کے حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح مجلس
کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے
ترجمہ
کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو
جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے : کھڑے ہو
جاؤ تو کھڑے ہو جایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند
فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔" (سورۃ
المجادلہ، آیت 11)
اسی
طرح، حدیث پاک میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک ﷺ نے ایسے
شخص پر لعنت کی ہے جو مجلس میں درمیان میں جا کر بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد ، باب الجلوس وسط الحلقۃ، الرقم:
4826)
1.
نبی پاک ﷺ پر درود پڑھنا:مجلس
کا پہلا حق یہ ہے کہ اس میں نبی پاک ﷺ پر درود پاک پڑھا جائے۔ حدیث پاک
میں ہے:"تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درودِ پاک پڑھ کر آراستہ کیا کرو کیونکہ
تمہارا مجھ پر درود پڑھنا قیامت کے دن تمہارے لیے نور ہوگا۔(جامع صغیر ، حرف الزای،
ص ۲۸۰ ، حدیث: ۴۵۸۰)
2.
مجلس کو گناہوں سے بچانا:مجلس کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے گناہوں سے بچایا جائے۔ یعنی
مجلس میں فحش بات نہ کی جائے اور نہ ہی کسی کی غیبت اور چغلی کی جائے۔بلکہ مجلس میں
زیادہ سے زیادہ اللہ پاک کا ذکر کیا جائے۔
3.
آپس میں سرگوشی سے پرہیز:مجلس کا تیسرا حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود لوگوں میں سے
کوئی بھی آپس میں سرگوشی (کان میں بات) نہ کرے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔
4.
آنے والے کی تعظیم اور جگہ دینا:مجلس کا چوتھا حق یہ ہے کہ
مجلس میں آنے والے ہر شخص کو جگہ دی جائے۔ ایسا
نہ
ہو کہ خود کشادہ ہو کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کو جگہ نہ دیں۔ بلکہ اگر کوئی نیا
شخص مجلس میں آئے تو اسے تعظیم دی جائے، اور اگر کوئی عظیم شخصیت مجلس میں آئے تو
اس کو اس کے مرتبے کے اعتبار سے جگہ دی جائے۔
5.
کسی کا مذاق نہ اڑانا:مجلس کا پانچواں حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود کسی کمزور
شخص کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ ہر ایک کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ آج کل ہمارے
معاشرے میں عام مجلسوں میں کسی ایک کو پکڑ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کی
دل آزاری کی جاتی ہے، جو کہ گناہوں کا سبب ہے۔
6.
مجلس کا اختتام اور دعا:مجلس کا چھٹا اور آخری حق یہ ہے کہ مجلس کے اختتام پر
دعا کی جائے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے کہ سرکارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"جو
کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے زیادہ گفتگو کی، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ
کہے:سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ
وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ
إِلَيْكَ(ترجمہ: تیری ذات پاک ہے اور اے اللہ عزوجل! تیرے ہی لیے
تمام خوبیاں ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ سے بخشش
چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔)(سنن أبى داود، جلد7، صفحہ224-223،مطبوعہ
دار الرسالة العالميہ)
اللہ
عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اچھی مجلس میں بیٹھنے اور بُری مجلسوں سے بچنے کی
توفیق عطا فرمائے، آمین۔
احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور )
اسلام
نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے راہنمائی فرمائی ہے۔ مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے
والے کے آداب بھی ذکر کئے ہیں تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اُٹھنا بیٹھنا حتی کہ
ہر عمل اسلام کے اُصولوں کے مطابق ہو۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھیں تو جہاں جگہ
ملے وہیں بیٹھ جائیں،گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں، ہمارے پیارے نبی صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے صحابہ رضی
اللہُ عنہم کو مجلس میں بیٹھنے تک کے
آداب بتائے ہیں، آئیے! آپ بھی مجلس کے 6 حقوق و آداب پڑھیے:
(1)دوسرےشخص
کی جگہ نہ بیٹھاجائے:مجلس کے آداب میں یہ بھی ہے کہ کسی شخص کو اُٹھا کر اس
کی جگہ نہ بیٹھا جائے ۔ رسولِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا کہ ایک شخص کسی کو اس کی
جگہ سے اُٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ تمہیں چاہیے کہ دوسروں کے لیے
جگہ کشادہ اور وسیع کردو۔ (بخاری،4/179 ،حدیث : 6270 )
(2) جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائیں:
مجلس میں آنے والا شخص وہاں بیٹھے جہاں اسے مجلس میں بیٹھنے کی جگہ ملے۔ چنانچہ
حضرت جابر بن سَمُرہ رضی اللہُ عنہما فرماتے ہیں: ہم جب حُضورِ ا کرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی مجلس میں بیٹھ جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی
وہیں بیٹھ جاتے۔( فیضان ریاض الصالحین، 6/361 ، حدیث: 827)
(3)مجلس
میں اللہ کا ذِکْر کیا جائے:مومن کی کوئی مجلس الله پاک کے
ذِکر سے خالی نہیں ہوتی ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مجالس میں اللہ کے ذِکر و اَذکار میں
مشغول رہیں۔ رسولِ پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ
اللہ کا ذِکر کیے بغیر مجلس سے اُٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش
پر سے اُٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی ۔ (ابو داود،4/347 ،
حدیث : 4855 )
(4)
مجلس میں بیٹھتے وقت سلام کیا جائے: نبیِ کریم صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے ۔
پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جائے ، پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے ۔( مشکاۃ المصابیح، 2/166، حدیث:4660
)
(5) مجلس سے اِجازت لے کر اُٹھا جائے:
مجلس کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب بھی کسی مجلس میں جائیں یا اساتذہ و
مشائخ اور دینی پیشواؤں کی مجلس میں جائیں تو وہاں سے اِجازت کے بغیر نہیں جانا چا ہیے۔
(6) مجلس کی جگہ کُشادہ رکھی جائے : مفسّرِ
شہیر محدّثِ کبیر حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں : جب جلسہ مجلس وغیرہ کرو تو وسیع زمین میں کرو تاکہ لوگوں کو
بیٹھنے میں تنگی نہ ہو آرام سے کھلے ہوئے بیٹھیں ایسی مجلس بہت مبارَک ہے۔( مراۃ المناجیح، 6/386 )
لہٰذا
ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس کے حُقوق و آداب کا خیال رکھیں، ہم مجلس میں دوسروں کو تکلیف
دینے سے بچیں اور ان کے لیے جگہ کشادہ کریں، ہم ہر اُس فعل سے بچیں کہ جس سے مجلس کے درمیان ہمیں کسی قسم کی شرمندگی کا
سامنا کرنا پڑے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ کہ وہ ہمیں مجلس کے حُقوق و آداب پر عمل پیرا ہونے کی
توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ
وسلَّم
آپ ﷺ نے پوری زندگی اپنی امت کو ہدایت کے راستے کی طرف چلنے کی ترغیب دلائی
آپ نے مختلف انداز سے لوگوں کو اسلام کے دعوت دی اور مختلف انداز سے ان کی تربیت
فرمائی جو لوگ مسلمان ہوئے آپ نے ان کو دین کی سمجھ بوج عطا فرمائی آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو مختلف انداز سے دین کا علم
سکھایا کبھی سوالیہ انداز میں کبھی اشارتا کبھی قول و فعل کے ذریعے وغیرہ، آج ہم
احادیث کی روشنی میں حضور ﷺ کا سوالیہ انداز سے صحابہ کرام کو تربیت دینے
کے متعلق پڑھتے ہیں ۔ (مشکوٰۃ المصابیح،کتاب: آداب کا بیان،باب: حفاظت زبان ، غیبت
اور گالی کا بیان،حدیث نمبر: 4867)
عَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا أَبَا
ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظَّهْرِ،
وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: طُولُ
الصَّمْتِ، وَحُسْنُ الْخُلُقِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَمِلَ
الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا۔
ترجمہ:انس
رضی اللہ عنہ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:’’ ابوذر! کیا میں
تمہیں دو خصلتیں نہ بتاؤں جو پشت پر (انسان کے عمل کے لحاظ سے) بہت ہلکی ہیں جبکہ
میزان میں بہت بھاری ہیں‘‘ وہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا، جی ہاں! بتائیں، آپ
ﷺ نے فرمایا:’’ خاموش رہنا اور اچھے اخلاق اختیار کرنا، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ
میں میری جان ہے! مخلوق نے ان جیسے دو عمل نہیں کیے۔‘‘ (مشکوٰۃ المصابیح،کتاب:
آداب کا بیان،باب: حفاظت زبان ، غیبت اور گالی کا بیان،حدیث نمبر: 4832)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى
اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ قَالَ
تَقْوَى اللَّهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ قِيلَ فَمَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ
النَّارَ قَالَ الْأَجْوَفَانِ الفم والفرج ترجمہ:ابوہریرہ
بیان کرتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر
لوگوں کو جنت میں داخل کرے گی (پھر فرمایا) اللہ کا تقوی اور حسن خلق، کیا تم
جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ تر لوگوں کو جہنم میں داخل کرے گی (پھر فرمایا) دو چیزیں،
منہ اور شرم گاہ۔‘‘ (اسنادہ صحیح، رواہ الترمذی و ابن ماجہ)
محمد اسجد نوید (درجہ خامسہ جامعۃُ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
حضور ﷺ نے
امت کی کئی طرح سے رہنمائی فرمائی ہے کبھی اپنے مبارک ملفوظات کے ذریعے کبھی قرآنی
آیات کے ذریعے تو کبھی شریعت کے احکام کے ذریعے لیکن بعض دفع مزید زیادہ آسانی سے
بات سمجھ آ جائے اس کے لئے آپ نے سوالیہ انداز میں بھی تربیت فرمائی ہے آئے چند
آحادیث ملاحظہ فرماتے ہیں اور برکتیں لینے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل کرنے کی نیت بھی
کر لیتے ہیں۔
حدیث
1:حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ جب ان کو رسول اﷲ صلّی اﷲ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے یمن کی طرف قاضی بناکر بھیجا تو فرمایا کہ جب تجھے کوئی معاملہ پیش
آئے تو تُو کیسے فیصلہ کرے گا۔ حضرت سیدنا معاذرضی اﷲ عنہ نے عرض کیا کہ میں اﷲ
عزوجل کی کتاب کے ساتھ حکم کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر اﷲ عزوجل کی کتاب میں تو اس کا
حکم نہ پائے تو پھر کیا کرے گا۔ انہوں نے عرض کی کہ رسول کریم صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ
وسلّم کی سنت کے ساتھ فیصلہ کروں گا۔ آپ صلّی اﷲ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا اگر
تو رسول علیہِ السّلام کی سنت میں بھی اس حکم کو نہ پائے تو پھر کیا کرے گا انہوں نے عرض کی کہ میں اپنی عقل او ر رائے کے
ساتھ اجتہاد کروں گا اور طلب ثواب میں کمی نہ کروں گا۔ (کتاب:اربَعیْنِ حَنفِیَّہ
, حدیث نمبر:2 )
حدیث
2: حضرت ابو موسٰی اَشْعَری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے،صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ !
عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کون سا
اسلام افضل ہے تو ارشاد فرمایا کہ اس شخص کا اسلام جس کی زبان اور ہاتھ سے تمام
مسلمان سلامت رہیں۔ (کتاب:منتخب حدیثیں , حدیث نمبر:4 )
حدیث
3:روایت ہےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتےہیں کہ ایک دیہاتی حضورعلیہ السلام
کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کرنے لگے کہ مجھے ایسے کام کی ہدایت فرمایئے کہ میں وہ
کروں تو جنتی ہوجاؤں فرمایا الله کو پوجو اُس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ نماز قائم
کرو،زکوۃ فرض دو،رمضان کے روزے رکھو وہ بولے قسم اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے
کبھی اس سے کچھ گھٹاؤں بڑھاؤں گا نہیں پھرجب وہ چل دیئے تو حضور ﷺ نے
فرمایا کہ جو جنتی مردکو دیکھنا چاہے وہ اسے دیکھ لے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 , حدیث
نمبر:14 )
حدیث
4:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسولِ کریم صلّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں عرض کی: مجھے نصیحت کیجئے۔ آپ صلّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا: ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘ اس نے کئی بار یہی عرض کی تو
آپ نے (وہی)ارشاد فرمایا کہ ’’غصہ نہ کیا کرو۔‘‘
(شرح اربعین نوویہ(اردو) , حدیث نمبر:16 , غصہ
نہ کرو)
زین
العابدین (درجہ سادسہ جامعہ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اللہ
عزوجل اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے وقتا فوقتا اپنے مقدس انبیاء علیہم
السلام کو مبعوث فرماتا رہا اور سب سے آخر میں اس نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کا
مبعوث فرمایا جو عرب و عجب میں بے مثل اور اصل و نسل حسب و نسب میں سب سے زیادہ پاکیزہ
ہے الغرض آپ ﷺ کو ایسے فضائل و محاسن اور مناقب کے ساتھ مخصوص
کیا ہے جس کا احاطہ ممکن نہیں آئیے رسول اللہ ﷺ کے فرامین پڑھنے کی سعادت حاصل
کرتے ہیں:
(1)
گناہ کبیرہ کی خبر دینا:حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں
سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں وہ
اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے آپ ٹیک لگائے تشریف فرما تھے
پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا سنو !اور جھوٹ بولنا بھی ہے۔ (احیا
العلوم جلد 3 صفحہ نمبر 410 مکتبۃ المدینہ مترجم)
(2)
جھوٹ کے بارے میں خبر دار کرنا:حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی
اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت میں
چھوٹا تھا کھیلنے کے لیے باہر جانے لگا تو میری والدہ نے آواز دی یہاں آؤ میں تمہیں
کچھ دوں گی آپ ﷺ نے استفسار فرمایا تم اسے کیا دینا چاہتی ہو
عرض کی کھجور ارشاد فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتی تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا ۔ (احیا
العلوم جلد 3 صفحہ 410 مترجم مکتبہ المدینہ)
(3)
معاف کرنے کی رغبت:سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ ﷺ نے
دریافت فرمایا اے جبرائیل یہ معاف کرنا کیا ہے عرض کی اللہ عزوجل آپ کو حکم
فرماتا ہے کہ جو آپ پر ظلم کرے اسے معاف کر دیں جو آپ سے تعلق توڑے اس سے جوڑے
اور جو آپ کو محروم کرے اسے عطا کرے۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ 467 مترجم مکتبۃ
المدینہ )
اللہ
تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ النبی امین ﷺ ۔
رسول
اللہ ﷺ نے کئی طریقوں سے صحابہ کرام علیہم
رضوان کی تربیت فرمائی اور وہی تربیت آج تک ہم سب کو مل رہی ہے جیسا کہ رسول
ﷺ کا اشارے سے تربیت فرمانا مثال دے کر
تربیت فرمانا اسی طرح حضور ﷺ نے کئی جگہ
پر صحابہ کرام علیہم رضوان اور اپنی امت کو سوالیہ انداز میں تربیت فرمائی ہے ۔
جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے:
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو
کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی ہے اللہ سے ڈر اور اچھی عادت کیا
جانتے ہو کہ لوگوں کو اگ میں کون چیز زیادہ لے جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور
شرمگاہ ۔ (کتاب مرآۃ المنا جیح شرح مشکات المصابیح جلد:6 حدیث نمبر 4832)
جیسا
کہ اس حدیث مبارکہ میں حضور ﷺ نے تربیت
فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ کون سی چیز جنت میں لے جاتی ہے اور کون سی چیز
دوزخ میں لے جاتی ہے یعنی انسان منہ سے کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے 90 فیصد
گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں شرمگاہ سے گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب
کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے ۔
ایک
اور حدیث مبارکہ میں رسول کریم ﷺ نے ارشاد
فرمایا:حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر کیا میں تم کو ایسی دو
خصلتوں پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکے ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتی ہیں میں
نے عرض کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری
جان ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔ (کتاب مراۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد 6 حدیث نمبر 4867)
یعنی
ان پر عمل کرنا اسان ہے کچھ مشکل نہیں چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل ہوتا ہے اس لیے
عمل کے لیے پیٹ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے نیز بوجھ پیٹ پر ہی اٹھائے جاتے ہیں
پیٹ ہی ہلکا باری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے مراد ہے زبان کی پیٹھ
جیسا کہ حدیث مبارکہ سے ہمیں پتہ چلا ہے کہ بروز قیامت میں خصلتیں جب گناہوں سے تولی
جائیں گی تو یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہو جائیں گے قیامت میں ہمارے کام و کلام کی
شکل و صورتیں بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا
کیونکہ ان کے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے جائیں گے واقعی ان دو کاموں سے بڑھ
کر معاملات کا کوئی کام نہیں یہاں معاملات کے مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔
سوال
انسانی ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہ تجسس پیدا کرتا ہے، غور و فکر کو
ابھارتا ہے اور دل کو متوجہ کرتا ہے۔ سوال ایسا چراغ ہے جو شعور میں روشنی بھرتا
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے معلمین سوالیہ اسلوب کو تعلیم کا مؤثر ترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔
لیکن اس اسلوب کی سب سے اعلیٰ، حسین اور کامل صورت ہمیں رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ
میں ملتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے محض معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ ذہنوں کو بیدار اور
قلوب کو زندہ کیا۔ آپ ﷺ کا سوال پہلے سامع
کو چونکا دیتا، پھر سوچ پر مجبور کرتا اور آخر میں ایسا جواب عطا فرماتے جو دل پر
مہر ثبت کر دیتا۔ یہی وہ انداز تھا جس نے صحابہ کرام رضی
اللہ عنہ کے اذہان کو جلا بخشی اور ان کے کردار کو نکھار دیا۔
تعلیم
کو عملی زندگی سے جوڑنا:آپ ﷺ نے سوالیہ انداز کو محض تعلیمی نہیں بلکہ تربیتی
اور اصلاحی ذریعہ بنایا۔ سوالات کے ذریعے آپ ﷺ نے عملی زندگی کی سمت طے کی، لوگوں
کے ذہنوں کو کایا پلٹ دی اور دلوں میں دین کی گہرائی راسخ کی۔
مفلس
کی حقیقت:ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ کیا
تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و
سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،
روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا حق مارا ہوگا اور
کسی پر تہمت لگائی ہوگی۔(الترمذی،محمد بن عیسی،الجامع الکبیر،ج:4،ص:419،رقم الحدیث:
2585،(الناشر: دارالرسالۃ العالمیہ ،1430 ھ )
اس
سوال اور جواب نے صحابہ کرام کے تصورِ مفلس کو بدل دیا اور عمل کی اصلاح کا محرک
بن گیا۔
بڑے
گناہوں کا تصور:اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ کیا میں
تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوںصحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ
ﷺ۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی۔" (البخاری،محمد بن اسماعیل بن ابراھیم،ج:8،ص:168،رقم
الحدیث:6281(الناشر:دار التاصیل،القاہرھ ،1433 ھ)
یہ
سوال صحابہ کے دل و دماغ کو متوجہ کرنے کے بعد ایسا جواب لایا جس نے ان کی روحوں
پر لرزہ طاری کر دیا اور انہیں گناہوں سے بچنے کے لیے متنبہ کر دیا۔
بہترین
مسلمان کون:ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:"أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ"
(سب سے بہترین مسلمان کون ہے)۔جب صحابہ خاموش ہوئے تو آپ ﷺ نے جواب دیا: "وہ
مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (القشیری،مسلم بن
حجاج،صحیح مسلم،ج:1،ص47،رقم الحدیث40(دار الطباعۃ العامرۃ، ترکیا،1434ھ))
یہ
سوال صحابہ کو عملی معیار عطا کر گیا کہ مسلمان ہونے کی اصل پہچان عبادات کے ساتھ
ساتھ اخلاق و کردار میں ہے۔
اسلوبِ
نبوی کا اعجاز:رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز محض الفاظ نہ تھے بلکہ
دلوں کو جھنجھوڑنے اور کردار سنوارنے کا ذریعہ تھے۔ آپ ﷺ کے سوال سامع کو سوچنے
پر مجبور کرتے اور جواب روح پر مہر ثبت کر دیتا۔ یہ اسلوب اس تعلیمی حقیقت کا آئینہ
دار ہے کہ اصل علم وہی ہے جو فکر کو بیدار کرے۔ آپ ﷺ نے سوال کو صرف تعلیم نہیں
بلکہ تربیت اور اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ یہی پیغام آج بھی معلمین اور خطباء کے لیے
ہے کہ اگر دلوں کو منور اور اذہان کو روشن کرنا ہے تو نبوی اسلوب کو اختیار کرنا
ہوگا۔
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے
ہماری کئی انداز سے تربیت فرمائی مثلا نصیحت کے ذریعے کبھی واقعات کے ذریعے کبھی
سوالیہ انداز سے آئیے ہم قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ سنتے ہیں
کہ رسول اکرم ﷺ نے ہماری کس طرح سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا
أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ
وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وَابْنُ مَاجَه
ترجمہ
:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله
علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی
ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے
جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔(ترمذی، ابن ماجہ)
شرح
حدیث :تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بدعقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے
بچنا،اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔یوں ہی خوش خلقی کا ادنی درجہ یہ
ہے کہ کسی کو جانی مالی عزت کی ایذا نہ دے،اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ
بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالٰی نصیب کرے۔ یعنی انسان منہ سے
کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے،نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں،شرمگاہ سے
گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز
شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث
نمبر:4832 )
وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ
هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ:
بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا
عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا
ترجمہ:روایت
ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو
خصلتوں
پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض
کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان
ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔
شرح
حدیث:یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل
ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی
اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا
مراد ہے زبان کی پیٹھ۔ یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو
یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں
بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔ خاموشی سے
مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے الله کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔اچھے
اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر
رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت
ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔ کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے
جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے
مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ,
حدیث نمبر:4867 )
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ حضور علیہ السلام نے کس طرح سوالیہ انداز میں
ہماری تربیت فرمائی ہمیں چاہیے کہ ہم حضور علیہ السلام کے حکم پر عمل کریں اور
دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیں ہم سب کا مدنی مقصد کیا ! مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی
اصلاح کی کوشش کرنی ہے ان شاءاللہ عزوجل! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاھل خاتم النبیین ﷺ
حافظ محمد روحان طاہر (درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ،
پاکستان)
نبی
کریم ﷺ نے تعلیم و تربیت کے لئے سوالیہ انداز (سوال کرکے جواب دینا) کو بہت زیادہ
استعمال فرمایا
ہے
تاکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی توجہ بڑھے اور وہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہو
جائے۔ یہاں چند احادیث درج ذیل ہیں :
(
1)سب سے بڑا ظالم کون ہےنبی ﷺ نے پوچھا:کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے
کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ مال ہو نہ سامان۔آپ ﷺ نے فرمایا:
"میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن
کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا... پھر اس کی
نیکیاں ان مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور جب نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو ان کے گناہ
اس پر ڈال دیے جائیں گے اور اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔(صحیح مسلم حدیث 2581
جلد 4 صفحہ 1997)
(
2 )سب سے بڑا گناہ کیا ہےآپ ﷺ نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو
کبیرہ گناہ کون سے ہیںصحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ
نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور
جھوٹی گواہی دینا۔(صحیح بخاری حدیث 2654، جلد 3 صفحہ 1065)
(
3)سب سے بہتر عمل کون سا ہےنبی کریم ﷺ نے صحابہ سے
پوچھا:اسلام میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول
بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا: "یہ کہ تم کھانا کھلاؤ اور سلام کرو، ان کو
بھی جنہیں تم جانتے ہو اور ان کو بھی جنہیں نہیں جانتے۔(صحیح بخاری، کتاب حدیث 12
جلد 1 صفحہ 14)
(
4) بدترین شخص کون ہےنبی ﷺ نے پوچھا:کیا تم جانتے ہو لوگوں میں سب سے برا شخص
کون ہےصحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا:
"وہ شخص جو دو رُخی والا ہے، ایک کے پاس ایک بات کرتا ہے اور دوسرے کے پاس دوسری
بات۔(صحیح بخاری حدیث 6058 جلد 5 صفحہ 2229)
(
5) درخت کی مثال::آپ ﷺ نے فرمایا:درختوں میں ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں
گرتے، اور وہ مسلمان کی مثال ہے۔ بتاؤ وہ کون سا درخت ہےصحابہ سوچنے لگے پھر فرمایا
"وہ کھجور کا درخت ہے۔( صحیح بخاری حدیث 61 جلد 1 صفحہ 31)
محمد مبین علی(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
بعض
باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سوالیہ انداز میں سمجھانا مفید ہوتا ہیں، یعنی اگر
کسی چیز کی اہمیت بیان کرنی ہو، اہم بات سمجھانی ہو یا کوئی طالبِ علم سوال کرے تو
جواباً طلبہ سے ایسا سوال کرنا جس کا جواب وہ جانتے بھی ہوں اور اس کا بتائی جانے
والی بات سے تعلق بھی ہو جیسا کہ بہت سی احادیث میں نبی کریم ﷺ نے
سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ہے.آئیے ان میں سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:
(1)نماز
کی اہمیت کے متعلق سوال: رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز کے
ذریعے گناہوں کے ختم ہونے کی ایک مثال بیان فر ماتے ہوئے صحابۂ کرام علیہمُ
الرِّضوان سے ارشاد فرمایا: بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر نہرہو اور اس میں
وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابۂ
کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہےگا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ
علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ اللہ پاک اس کے
ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری،ج 1،ص196، حدیث:528)
(2)جنتی
کلمہ:حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے
فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں
نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول
ولا قوۃ الا باللہ ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الذکر،باب استحباب،جلد 1،حدیث 2704)
(3)شانِ
مومن کے متعلق سوال :اسی طرح ایک موقع پر مؤمن کی شان و عظمت سمجھانے کے لئے
سوال فرمایا: مؤمن کی مِثال اس دَرخت کی سی ہے جس کے پتےّ نہیں گِرتے، بتاؤ وہ
کونسا دَرَخت ہے حاضِرین مُختلف درختوں کے نام عرض کرنے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ
بن عمر رضی اللہ عنہما بہت ذہین تھے، فرماتے ہیں کہ میرے ذِہن میں آگیا کہ کَھجور
کا درخت ہے لیکن میں نے بتانے سے حَیا محسوس کی۔ پھر حاضِرین نے عرض کی: یارسولَ اﷲ!
آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو حضورِ پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا
کہ وہ کَھجور کا دَرَخت ہے۔
(مسلم،ص1157،
حدیث:7098)
(4)دو
اچھی اور بری چیزوں کے متعلق سوال :سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو لوگوں کو کیا چیز زیادہ
آگ میں لے جائے گی“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو زیادہ علم
ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں شرمگاہ اور منہ، اور جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ
دخول جنت کا باعث ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہے۔[الادب
المفرد،حدیث 289]
(5)اچھے
گواہ کے متعلق سوال : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے
اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے
جانے سے پہلے گواہی دے“۔(سنن ترمذي،كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله علیہ
وسلم،حدیث: 2295)
اللہ
عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے اور ان کو دوسروں تک
پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami