میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے
ہماری کئی انداز سے تربیت فرمائی مثلا نصیحت کے ذریعے کبھی واقعات کے ذریعے کبھی
سوالیہ انداز سے آئیے ہم قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ سنتے ہیں
کہ رسول اکرم ﷺ نے ہماری کس طرح سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ
صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَتُدْرُوْنَ مَا أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ
النَّاسَ الْجَنَّةَ تَقْوَى اللّٰهِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ. أَتُدْرُونَ مَا
أَكْثَرُ مَا يُدْخِلُ النَّاسَ النَّارَ الْأَجْوَفَانِ: الْفَمُ
وَالْفَرْجُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ
وَابْنُ مَاجَه
ترجمہ
:روایت ہے حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ ) سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله
علیہ وسلم نے کہ کیا تم جانتے ہو کہ کون سی چیز زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرتی
ہے الله سے ڈر اور اچھی عادت کیا جانتے ہو کہ لوگوں کو آگ میں کون چیز زیادہ لے
جاتی ہے دو خالی چیزیں منہ اور شرمگاہ۔(ترمذی، ابن ماجہ)
شرح
حدیث :تقویٰ کا ادنی درجہ کفر و بدعقیدگی سے بچنا ہے اور درمیانی درجہ گناہوں سے
بچنا،اعلیٰ درجہ میں غافل کرنے والی چیز سے بچنا ہے۔یوں ہی خوش خلقی کا ادنی درجہ یہ
ہے کہ کسی کو جانی مالی عزت کی ایذا نہ دے،اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ برائی کا بدلہ
بھلائی سے کرے یہ بہت اعلیٰ چیز ہے جسے خدا تعالٰی نصیب کرے۔ یعنی انسان منہ سے
کفر بولتا ہے غیبتیں چغلیاں کرتا ہے،نوے فی صدی گناہ منہ سے ہی ہوتے ہیں،شرمگاہ سے
گناہ کرتا ہے جو بدترین گناہ ہے عقل کو مغلوب کرنے والی دین برباد کرنے والی چیز
شہوت ہے جس کی جگہ شرمگاہ ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث
نمبر:4832 )
وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى خَصْلَتَيْنِ
هُمَا أَخَفُّ عَلَى الظُّهْرِ وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ قَالَ:قُلْتُ:
بَلٰى.قَالَ: طُولُ الصَّمْتِ وَحُسْنُ الْخُلُقِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ مَا
عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا
ترجمہ:روایت
ہے حضرت انس سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا اے ابو ذر کیا میں تم
کو ایسی دو
خصلتوں
پر رہبری نہ کروں جو پیٹھ پر ہلکی ہیں ترازو میں بھاری ہیں فرماتے ہیں میں نے عرض
کیا ہاں تو فرمایا دراز خاموشی اور اچھی عادت اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان
ہے مخلوق نے ان دو جیسے کام نہ کیے ہوں گے۔
شرح
حدیث:یعنی ان پر عمل کرنا آسان ہے کچھ مشکل نہیں،چونکہ عمل میں پیٹھ کو بھی دخل
ہوتا ہے اس لیے عمل کے لیے پیٹھ کا لفظ استعمال فرمایا جاتا ہے،نیز بوجھ پیٹھ پر ہی
اٹھائے جاتے ہیں پیٹھ ہی ہلکا بھاری بوجھ محسوس کرتی ہے بہرحال کلام بڑا فصیح ہے یا
مراد ہے زبان کی پیٹھ۔ یعنی کل قیامت میں یہ خصلتیں جب گناہوں سے تولی جائیں گی تو
یہ بھاری ہوں گی گناہ ہلکے ہوجائیں گے، قیامت میں ہمارے کام و کلام کی شکل و صورتیں
بھی ہوں گی ان میں وزن بھی ہوں گے وہاں نیکیوں کا وزن اخلاص سے ہوگا۔ خاموشی سے
مراد دنیاوی باتوں سے خاموشی جس کے ساتھ فکر بھی ہے الله کے ذکر سے خاموشی اچھی نہیں۔اچھے
اخلاق سے مراد ہے خلق و خالق کے حقوق اداکرنا،نرم وگرم حالات میں شاکر و صابر
رہنا،چونکہ خاموشی اور صبروشکر میں کوئی خاص محنت نہیں پڑتی بلکہ ان کے ترک میں محنت
ہوتی ہے اس لیے انہیں ہلکا فرمایا گیا۔ کیونکہ انکے فائدے دین و دنیا دونوں جگہ دیکھے
جائیں گے۔واقعی ان دو کاموں سے بڑھ کر معاملات کا کوئی کام نہیں،یہاں معاملات کے
مقابلہ میں عظمت بیان فرمائی گئی ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ,
حدیث نمبر:4867 )
میٹھے
میٹھے اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ حضور علیہ السلام نے کس طرح سوالیہ انداز میں
ہماری تربیت فرمائی ہمیں چاہیے کہ ہم حضور علیہ السلام کے حکم پر عمل کریں اور
دوسروں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب دیں ہم سب کا مدنی مقصد کیا ! مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی
اصلاح کی کوشش کرنی ہے ان شاءاللہ عزوجل! دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاھل خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami