جہاں چار لوگ مل کر بیٹھتے ہیں، اسے مجلس کہا جاتا ہے۔ مجلس عربی لفظ ہے جس کا لغوی معنی "بیٹھنے کی جگہ" ہے۔ مجلس اچھی یا بری ہو سکتی ہے۔ اچھی مجالس کی مثالیں مدنی مذاکرہ اور ہفتہ وار اجتماعات ہیں، جبکہ بری مجالس کی مثالیں گانے بجانے والی مجالس یا شراب نوشی کی مجالس ہیں۔ جس طرح ہر چیز کے حقوق ہوتے ہیں، اسی طرح مجلس کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ پاک میں فرماتا ہے

ترجمہ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے : کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہو جایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔" (سورۃ المجادلہ، آیت 11)

اسی طرح، حدیث پاک میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک نے ایسے شخص پر لعنت کی ہے جو مجلس میں درمیان میں جا کر بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داؤد ، باب الجلوس وسط الحلقۃ، الرقم: 4826)

1. نبی پاک پر درود پڑھنا:مجلس کا پہلا حق یہ ہے کہ اس میں نبی پاک پر درود پاک پڑھا جائے۔ حدیث پاک میں ہے:"تم اپنی مجلسوں کو مجھ پر درودِ پاک پڑھ کر آراستہ کیا کرو کیونکہ تمہارا مجھ پر درود پڑھنا قیامت کے دن تمہارے لیے نور ہوگا۔(جامع صغیر ، حرف الزای، ص ۲۸۰ ، حدیث: ۴۵۸۰)

2. مجلس کو گناہوں سے بچانا:مجلس کا دوسرا حق یہ ہے کہ اسے گناہوں سے بچایا جائے۔ یعنی مجلس میں فحش بات نہ کی جائے اور نہ ہی کسی کی غیبت اور چغلی کی جائے۔بلکہ مجلس میں زیادہ سے زیادہ اللہ پاک کا ذکر کیا جائے۔

3. آپس میں سرگوشی سے پرہیز:مجلس کا تیسرا حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود لوگوں میں سے کوئی بھی آپس میں سرگوشی (کان میں بات) نہ کرے جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو۔

4. آنے والے کی تعظیم اور جگہ دینا:مجلس کا چوتھا حق یہ ہے کہ مجلس میں آنے والے ہر شخص کو جگہ دی جائے۔ ایسا

نہ ہو کہ خود کشادہ ہو کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کو جگہ نہ دیں۔ بلکہ اگر کوئی نیا شخص مجلس میں آئے تو اسے تعظیم دی جائے، اور اگر کوئی عظیم شخصیت مجلس میں آئے تو اس کو اس کے مرتبے کے اعتبار سے جگہ دی جائے۔

5. کسی کا مذاق نہ اڑانا:مجلس کا پانچواں حق یہ ہے کہ مجلس میں موجود کسی کمزور شخص کا مذاق نہ اڑایا جائے بلکہ ہر ایک کی رائے کو اہمیت دی جائے۔ آج کل ہمارے معاشرے میں عام مجلسوں میں کسی ایک کو پکڑ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اس کی دل آزاری کی جاتی ہے، جو کہ گناہوں کا سبب ہے۔

6. مجلس کا اختتام اور دعا:مجلس کا چھٹا اور آخری حق یہ ہے کہ مجلس کے اختتام پر دعا کی جائے۔ جیسا کہ حدیث پاک میں ہے، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ نے ارشاد فرمایا:

"جو کسی مجلس میں بیٹھا، پھر اس نے زیادہ گفتگو کی، تو اس مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہے:سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ(ترجمہ: تیری ذات پاک ہے اور اے اللہ عزوجل! تیرے ہی لیے تمام خوبیاں ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔)(سنن أبى داود، جلد7، صفحہ224-223،مطبوعہ دار الرسالة العالميہ)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں اچھی مجلس میں بیٹھنے اور بُری مجلسوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔