بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں سوالیہ انداز میں سمجھانا مفید ہوتا ہیں، یعنی اگر کسی چیز کی اہمیت بیان کرنی ہو، اہم بات سمجھانی ہو یا کوئی طالبِ علم سوال کرے تو جواباً طلبہ سے ایسا سوال کرنا جس کا جواب وہ جانتے بھی ہوں اور اس کا بتائی جانے والی بات سے تعلق بھی ہو جیسا کہ بہت سی احادیث میں نبی کریم  ﷺ نے سوالیہ انداز سے تربیت فرمائی ہے.آئیے ان میں سے چند احادیث ملاحظہ فرمائیں:

(1)نماز کی اہمیت کے متعلق سوال: رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے نماز کے ذریعے گناہوں کے ختم ہونے کی ایک مثال بیان فر ماتے ہوئے صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضوان سے ارشاد فرمایا: بھلا بتاؤ کہ اگر کسی کے دروازے پر نہرہو اور اس میں وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گاصحابۂ کرام نے عرض کی:اس کے جسم پر کچھ بھی میل باقی نہیں رہےگا۔ حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ مثال پانچوں نمازوں کی ہے۔ اللہ پاک اس کے ذریعے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔(صحیح بخاری،ج 1،ص196، حدیث:528)

(2)جنتی کلمہ:حضرت عبداللہ بن قیس فرماتے ہیں کہ مجھ سے نبی پاک ﷺ نے فرمایا کہ میں تیری رہنمائی ایسے کلمے پر نہ کروں جو جنت کے خزانوں میں سے ہے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ وہ کون سا کلمہ ہے تو ارشاد فرمایا کہ وہ کلمہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الذکر،باب استحباب،جلد 1،حدیث 2704)

(3)شانِ مومن کے متعلق سوال :اسی طرح ایک موقع پر مؤمن کی شان و عظمت سمجھانے کے لئے سوال فرمایا: مؤمن کی مِثال اس دَرخت کی سی ہے جس کے پتےّ نہیں گِرتے، بتاؤ وہ کونسا دَرَخت ہے حاضِرین مُختلف درختوں کے نام عرض کرنے لگے۔ حضرتِ سیِّدُنا عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بہت ذہین تھے، فرماتے ہیں کہ میرے ذِہن میں آگیا کہ کَھجور کا درخت ہے لیکن میں نے بتانے سے حَیا محسوس کی۔ پھر حاضِرین نے عرض کی: یارسولَ اﷲ! آپ ہی ارشاد فرما دیجئے تو حضورِ پُر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا کہ وہ کَھجور کا دَرَخت ہے۔

(مسلم،ص1157، حدیث:7098)

(4)دو اچھی اور بری چیزوں کے متعلق سوال :سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم جانتے ہو لوگوں کو کیا چیز زیادہ آگ میں لے جائے گی“ لوگوں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو کھوکھلی چیزیں شرمگاہ اور منہ، اور جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ دخول جنت کا باعث ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور حسنِ اخلاق ہے۔[الادب المفرد،حدیث 289]

(5)اچھے گواہ کے متعلق سوال : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں سب سے اچھے گواہ کے بارے میں نہ بتا دوں سب سے اچھا گواہ وہ آدمی ہے جو گواہی طلب کیے جانے سے پہلے گواہی دے“۔(سنن ترمذي،كتاب الشهادات عن رسول الله صلى الله علیہ وسلم،حدیث: 2295)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں ان احادیث پر عمل کرنے اور ان کو دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ