محمد حسنین صدیقی ( درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضانِ ابو عطار ملیر کراچی ، پاکستان)
انسان
ایک سماجی مخلوق ہے، جو اکیلا زندگی نہیں گزار سکتا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اسے
دوسروں کے ساتھ مل بیٹھنے، بات چیت کرنے اور تعلقات بنانے کی فطرت عطا فرمائی۔ یہ
میل جول "مجلس" کہلاتا ہے، جو کبھی گھریلو ماحول میں ہوتی ہے، کبھی
دفاتر میں اور کبھی دینی محافل کی صورت میں۔ اسلام نے ہر پہلو کی طرح مجالس کے بھی
آداب اور حقوق سکھائے ہیں تاکہ انسان ایک دوسرے کا احترام کرے، دلوں میں محبت بڑھے
اور برکت حاصل ہو۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں مجلس کے کیا آداب
اور حقوق ہیں۔
قرآن
مجید کی روشنی میں مجالس کے حقوق
1. دوسروں کے لیے جگہ کشادہ کرنا : اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ
لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمہ
کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو
جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔ (المجادلة: 11)
تفسیر
صراط الجنان: اس آیتِ مبارکہ میں مجلس میں دوسروں کو جگہ دینے کا حکم ہے۔
یہ
عمل تعظیمِ مسلم اور سنتِ نبوی ہے۔مجلس کشادہ کرنے سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔
2. غیبت اور برائی سے اجتناب ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ
بَعْضًاؕ-اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا
فَكَرِهْتُمُوْهُ۔ ترجمہ کنز العرفان: اور ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو کیا تم
میں کوئی پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تو یہ تمہیں ناپسند
ہوگا۔(الحجرات: 12)
صراط
الجنان میں ہے: غیبت مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے برابر ہے اور یہ مجلس کی سب سے
بڑی برائی ہے۔
احادیث
مبارکہ کی روشنی میں
3۔
ایک اور حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: إذَا انْتَهٰى اَحَدُكُمْ إلٰى المَجلِسِ، فَليُسَلِّمْ فَإذَا اَرَادَ اَنْ يَقُومَ فَليُسَلِّمْ ترجمہ:
جب تم میں سے کوئی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے، اور پھر جب اٹھ کر جانے لگے تو بھی
سلام کرے۔ (سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث:
5208)
مجلس
کے کچھ آداب ملاحظہ ہوں:
اچھی اور فائدہ مند گفتگو کرنا۔
سب کو عزت دینا اور دوسروں کے لیے جگہ بنانا۔
بڑوں کی تعظیم اور چھوٹوں پر شفقت۔
نرمی اور درمیانی آواز میں بات کرنا۔
فضول گوئی اور شور شرابے سے پرہیز۔
غیر موجود افراد کی غیبت اور برائی سے بچنا۔
عملی
تجاویز:
1.
گھریلو مجالس: گھر میں بیٹھک یا کھانے کے وقت ہر ایک کو شامل کیا جائے، بچوں کی
بات بھی سنی جائے اور کسی کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
2.
دفتری مجالس: میٹنگ میں سب کو اپنی رائے کا موقع دیا جائے، ایک دوسرے کی بات نہ
کاٹی جائے، اور ادب و تحمل برقرار رکھا جائے۔
3.
مذہبی مجالس: مسجد یا محفل میں خاموشی اور ادب کو لازم پکڑا جائے، علما و قراء کی
عزت کی جائے اور ذکرِ الٰہی میں شریک ہو کر روحانی سکون حاصل کیا جائے۔
اسلام
نے مجالس کو محض میل جول کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ انہیں باہمی محبت، خیر خواہی
اور اصلاح کا وسیلہ قرار دیا۔ ایک اچھی مجلس وہ ہے جہاں ذکرِ الٰہی ہو، دوسروں کی
عزت محفوظ ہو اور برکتیں نازل ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی ہر مجلس کو ان تعلیمات کے
مطابق سجائیں تاکہ ہماری زندگیوں میں خیر و سکون نازل ہو اور ہماری مجالس آخرت میں
بھی کامیابی کا ذریعہ بن سکیں۔
Dawateislami