اللہ عزوجل اپنے بندوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے وقتا فوقتا اپنے مقدس انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا رہا اور سب سے آخر میں اس نے اپنے پیارے محبوب  ﷺ کا مبعوث فرمایا جو عرب و عجب میں بے مثل اور اصل و نسل حسب و نسب میں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے الغرض آپ ﷺ کو ایسے فضائل و محاسن اور مناقب کے ساتھ مخصوص کیا ہے جس کا احاطہ ممکن نہیں آئیے رسول اللہ ﷺ کے فرامین پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

(1) گناہ کبیرہ کی خبر دینا:حضور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں وہ اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ہے آپ ٹیک لگائے تشریف فرما تھے پھر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا سنو !اور جھوٹ بولنا بھی ہے۔ (احیا العلوم جلد 3 صفحہ نمبر 410 مکتبۃ المدینہ مترجم)

(2) جھوٹ کے بارے میں خبر دار کرنا:حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے اس وقت میں چھوٹا تھا کھیلنے کے لیے باہر جانے لگا تو میری والدہ نے آواز دی یہاں آؤ میں تمہیں کچھ دوں گی آپ ﷺ نے استفسار فرمایا تم اسے کیا دینا چاہتی ہو عرض کی کھجور ارشاد فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتی تو تم پر ایک جھوٹ لکھا جاتا ۔ (احیا العلوم جلد 3 صفحہ 410 مترجم مکتبہ المدینہ)

(3) معاف کرنے کی رغبت:سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ ﷺ نے دریافت فرمایا اے جبرائیل یہ معاف کرنا کیا ہے عرض کی اللہ عزوجل آپ کو حکم فرماتا ہے کہ جو آپ پر ظلم کرے اسے معاف کر دیں جو آپ سے تعلق توڑے اس سے جوڑے اور جو آپ کو محروم کرے اسے عطا کرے۔ (احیاء العلوم جلد 3 صفحہ 467 مترجم مکتبۃ المدینہ )

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں ان پر عمل کرنے اور آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی امین ﷺ ۔