سوال
انسانی ذہن کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہ تجسس پیدا کرتا ہے، غور و فکر کو
ابھارتا ہے اور دل کو متوجہ کرتا ہے۔ سوال ایسا چراغ ہے جو شعور میں روشنی بھرتا
ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے معلمین سوالیہ اسلوب کو تعلیم کا مؤثر ترین ذریعہ سمجھتے ہیں۔
لیکن اس اسلوب کی سب سے اعلیٰ، حسین اور کامل صورت ہمیں رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ
میں ملتی ہے۔رسول اللہ ﷺ نے محض معلومات فراہم نہیں کیں بلکہ ذہنوں کو بیدار اور
قلوب کو زندہ کیا۔ آپ ﷺ کا سوال پہلے سامع
کو چونکا دیتا، پھر سوچ پر مجبور کرتا اور آخر میں ایسا جواب عطا فرماتے جو دل پر
مہر ثبت کر دیتا۔ یہی وہ انداز تھا جس نے صحابہ کرام رضی
اللہ عنہ کے اذہان کو جلا بخشی اور ان کے کردار کو نکھار دیا۔
تعلیم
کو عملی زندگی سے جوڑنا:آپ ﷺ نے سوالیہ انداز کو محض تعلیمی نہیں بلکہ تربیتی
اور اصلاحی ذریعہ بنایا۔ سوالات کے ذریعے آپ ﷺ نے عملی زندگی کی سمت طے کی، لوگوں
کے ذہنوں کو کایا پلٹ دی اور دلوں میں دین کی گہرائی راسخ کی۔
مفلس
کی حقیقت:ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ سے پوچھا:"أَتَدْرُونَ مَنِ الْمُفْلِسُ کیا
تم جانتے ہو مفلس کون ہےصحابہ نے کہا: ہمارے نزدیک مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و
سامان نہ ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز،
روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا حق مارا ہوگا اور
کسی پر تہمت لگائی ہوگی۔(الترمذی،محمد بن عیسی،الجامع الکبیر،ج:4،ص:419،رقم الحدیث:
2585،(الناشر: دارالرسالۃ العالمیہ ،1430 ھ )
اس
سوال اور جواب نے صحابہ کرام کے تصورِ مفلس کو بدل دیا اور عمل کی اصلاح کا محرک
بن گیا۔
بڑے
گناہوں کا تصور:اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ کیا میں
تمہیں سب سے بڑے کبیرہ گناہوں کی خبر نہ دوںصحابہ نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ
ﷺ۔آپ ﷺ نے فرمایا: "اللہ کے ساتھ شرک اور والدین کی نافرمانی۔" (البخاری،محمد بن اسماعیل بن ابراھیم،ج:8،ص:168،رقم
الحدیث:6281(الناشر:دار التاصیل،القاہرھ ،1433 ھ)
یہ
سوال صحابہ کے دل و دماغ کو متوجہ کرنے کے بعد ایسا جواب لایا جس نے ان کی روحوں
پر لرزہ طاری کر دیا اور انہیں گناہوں سے بچنے کے لیے متنبہ کر دیا۔
بہترین
مسلمان کون:ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا:"أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ"
(سب سے بہترین مسلمان کون ہے)۔جب صحابہ خاموش ہوئے تو آپ ﷺ نے جواب دیا: "وہ
مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔" (القشیری،مسلم بن
حجاج،صحیح مسلم،ج:1،ص47،رقم الحدیث40(دار الطباعۃ العامرۃ، ترکیا،1434ھ))
یہ
سوال صحابہ کو عملی معیار عطا کر گیا کہ مسلمان ہونے کی اصل پہچان عبادات کے ساتھ
ساتھ اخلاق و کردار میں ہے۔
اسلوبِ
نبوی کا اعجاز:رسول اللہ ﷺ کا سوالیہ انداز محض الفاظ نہ تھے بلکہ
دلوں کو جھنجھوڑنے اور کردار سنوارنے کا ذریعہ تھے۔ آپ ﷺ کے سوال سامع کو سوچنے
پر مجبور کرتے اور جواب روح پر مہر ثبت کر دیتا۔ یہ اسلوب اس تعلیمی حقیقت کا آئینہ
دار ہے کہ اصل علم وہی ہے جو فکر کو بیدار کرے۔ آپ ﷺ نے سوال کو صرف تعلیم نہیں
بلکہ تربیت اور اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ یہی پیغام آج بھی معلمین اور خطباء کے لیے
ہے کہ اگر دلوں کو منور اور اذہان کو روشن کرنا ہے تو نبوی اسلوب کو اختیار کرنا
ہوگا۔
Dawateislami