اسلام ایک ایسا دین ہے جو ہر معاملے میں عدل، اخوت اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ جہاں فرد کے ذاتی حقوق بیان کیے ‎گئے ہیں، وہیں اجتماعی زندگی کے اصول اور مجالس (اجتماعات) کے آداب بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمائے گئے ہیں۔ ایک اسلامی ‎مجلس کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں بلکہ خیر خواہی، تعلیم، تربیت اور دین کی خدمت ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ‎یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ: 11)‎

رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا: ‎"مجلس میں بیٹھنے والا شخص اپنے بھائی کو تنگ نہ کرے، بلکہ کشادگی پیدا کرے۔" (مشکوٰۃ المصابیح)‎

اس حدیث سے واضح ہے کہ مجلس کا حق ہے کہ وہاں بیٹھنے والے دوسروں کا خیال رکھیں، ایذا نہ دیں اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ ‎کریں۔

مجلس کے اہم حقوق:

‎1. اخلاص : مجلس اللہ کی رضا کے لیے ہو۔

‎2. احترام ؛ ایک دوسرے کی عزت کا خیال رکھا جائے۔

‎3. خاموشی اور توجہ: غیر ضروری گفتگو اور شور شرابے سے بچا جائے۔

‎4. خیر خواہی : مجلس میں صرف نفع بخش بات کی جائے۔

‎5. امانت داری : مجلس کی باتیں اجازت کے بغیر باہر نہ بیان کی جائیں۔

‎6. وقت کی پابندی : مجلس میں وقت پر آنا اور وقت ضائع نہ کرنا۔

مجلس محض بیٹھک یا گفت و شنید کا نام نہیں بلکہ یہ ایک امانت ہے جس کے آداب اور حقوق ہیں۔ اگر ہر مسلمان ان حقوق کو ‎اپنالے تو مجالس اصلاحِ معاشرہ کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔