اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسان چونکہ سماجی مخلوق ہے، اس لیے مختلف مواقع پر لوگوں کے ساتھ مجالس میں بیٹھنا، بات چیت کرنا، سیکھنا اور سکھانا اس کی فطرت کا حصہ ہے۔ ایسی محفلوں میں حسنِ اخلاق، ادب، اور ذمہ داری کے ساتھ شریک ہونا دینِ اسلام کی تعلیمات کا اہم جزو ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے "مجلس کے حقوق" مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرہ باہمی محبت، عزت اور نظم و ضبط سے بھرپور ہو۔آئیے چند مجلس کے حقوق پڑھتے ہیں :

(1)سلام کرنا:مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا سنت ہے۔ جیسا کہ کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا :

حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ (کتاب:فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:869)

(2) جگہ بنانا اور خوش اخلاقی:اگر مجلس میں تنگی ہو تو دوسروں کے لیے جگہ بنانا ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔ قرآن میں ہے: ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(سورۃ المجادلہ آیت نمبر11 پارہ 28)

(3)مجلس میں ہوئی گفتگو کو بطور امانت راز رکھنا:روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ مجلسیں امانت والی ہوتی ہیں ۔(کتاب:مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ،حدیث نمبر:5063)

(4)سب کی عزت اور برابری:مجلس میں موجود تمام افراد کو عزت دینا، ان کی بات کو توجہ سے سننا، اور کسی کی تضحیک یا تحقیر نہ کرنا مجلس کا اہم ادب ہے۔

(5) کسی کو شرمندہ نہ کرنا:اگر کسی سے غلطی ہو جائے تو اس پر مجلس میں تنقید نہ کی جائے، بلکہ انفرادی طور پر نرمی سے سمجھایا جائے۔

(6) علمی مجلس کی توقیر:اگر مجلس علمی ہو تو مکمل خاموشی، ادب، اور توجہ کے ساتھ شریک ہونا چاہیے۔ سوالات مہذب انداز میں کیے جائیں۔

(7) وقت کی پابندی اور نظم و ضبط:مجلس میں بروقت آنا، غیر ضروری مداخلت سے گریز کرنا، اور بات چیت میں توازن رکھنا اہم آداب میں شامل ہے۔

(8) مجلس کا ماحول خوشگوار بنانا:لوگوں کے چہرے پر مسکراہٹ لانا، مناسب انداز میں بات کرنا، اور مجلس کو علمی، مفید اور بامقصد بنانا مجلس کی شان ہے۔

اسلام نے نہ صرف عبادات بلکہ معاشرتی معاملات میں بھی بہترین راہنمائی فراہم کی ہے۔ مجلس کے آداب پر عمل کر کے ہم اپنی مجالس کو محبت، علم، اور سکون کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ ایک مہذب اور مؤدب مجلس نہ صرف دینی تعلیمات کی عکاس ہوتی ہے بلکہ ایک مثالی اسلامی معاشرے کی بنیاد بھی بنتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں مجالس کے آداب کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے، اور دوسروں تک ان کی ترغیب پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے دین اسلام میں جس طرح والدین اولاد اور بیوی کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیا اسی طرح دین اسلام نے مجلس کے حقوق کو بھی بیان فرمایا اور ان پر عمل کرنے کی تاکید اور ادائیگی کی صورت میں فضائل بھی بیان فرمائے آئیے ہم مجلس کے چند حقوق مطالعہ فرماتے ہیں اور ان پر عمل کی نیت بھی کرتے ہیں اللہ پاک ہمیں ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔

1۔اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت:حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا:”جو کسی مجلس میں بیٹھےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے حسرت وخسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذِکرِ الٰہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ندامت ہوگی۔“ ( ابوداود٫کتاب الادب،باب کراھیۃان یقوم الرجل ،من مجلسی ولا یذکر اللہ 347٫،حدیث 48526)

2: مجلس میں کشادگی پیدا کرو:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔ (مسلم، کتاب السلام ،باب تحریم اقامۃالانسان من موضعہ ــالخ،ص924, حدیث:5686)

3: کشادہ مجلس:حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“( ابوداود، کتاب الادب،باب فی سعۃالمجلس،338،حدیث:482)

4: مجلس والوں کو سلام کرنا :حضرت سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سےمروی ہےکہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے توسلام کرے پھر جب وہاں سے اٹھے تب بھی سلام کرے، کیونکہ پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ بہتر نہیں۔“ (ترمذی، کتاب الاسنئذان والاداب،باب ماجاءفی التسلیم عند القیام وعندالقعود،4/324, حدیث:2715)

5:ندامت والی مجلس :حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(ترمذی ،کتاب الدعوات ،باب فی القوم یجلسون ولا یذکر ون اللہ ،5/247،حدیث:3391)

اللہ پاک ہمیں مجلس کے حقوق کا خیال رکھنے اور ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اٹھنے بیٹھنے، بات چیت کرنے اور دوسروں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے اصول بھی قرآن و سنت میں واضح کیے گئے ہیں۔ انہی اصولوں میں سے ایک اہم پہلو مجلس کے حقوق ہیں۔

1. مجلس میں کشادگی کرنا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ

ترجمہ کنزالایمان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کرو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔(سورۃ المجادلہ، آیت 11)

2. سلام سے مجلس کا آغاز اور اختتام : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "جب تم کسی مجلس میں آؤ تو سلام کرو اور جب اٹھو تو بھی سلام کرو۔"(ترمذی شریف)

3. مجلس کی حفاظت:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب کوئی شخص مجلس میں بیٹھے اور فضول کلام کرے، پھر کہے: "سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك" تو یہ مجلس اس کے لیے کفارہ ہو جائے گی۔"(ابو داؤد)

4. مجلس میں دوسروں کو تنگ نہ کرنا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔(بخاری و مسلم)

5. مجلس کے شرکاء کو یکساں سمجھنارسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جب تین آدمی آپس میں بات کر رہے ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ اس سے وہ غمگین ہوگا۔(بخاری و مسلم)

مجلس کے چند بنیادی حقوق

1. مجلس میں آنے والوں کو سلام کرنا۔

2. مجلس میں بیٹھنے کے لیے جگہ بنانا۔

3. بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت۔

4. مجلس میں فضول کلام اور شور سے اجتناب۔

5. دوسروں کی غیبت، مذاق یا دل آزاری سے بچنا۔

6. گفتگو میں سب کو برابر کا حق دینا۔

7. مجلس کے بھید کو ظاہر نہ کرنا

8. مجلس سے رخصت ہوتے وقت بھی سلام کرنا۔

اسلام نے ہمیں جہاں عبادات سکھائی ہیں وہیں معاشرتی آداب بھی سکھائے ہیں۔ مجلس کے حقوق کی پاسداری کرنے سے محبت، اتحاد اور اخوت قائم رہتی ہے۔ قرآن و سنت میں جو اصول بیان کیے گئے ہیں ان پر عمل کر کے ہم اپنی مجالس کو خیر و برکت اور سکون کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔


اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول و ضوابط عطا  کئے ہیں تاکہ معاشرہ ایک پرامن اور با اخلاق فضا میں پروان چڑھے انسان جب کسی مجلس یا اجتماع میں بیٹھتا ہے تو وہاں کے کچھ حقوق اور آداب ہیں جنہیں قران و حدیث میں بیان کیا گیا ہے ان کی پاسداری نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ معاشرتی سکون اور بھائی چارہ کی ضمانت بھی ہے ۔

مجلس میں جگہ دینا اور تنگی نہ کرنا:اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔ ( سورۃ المجادلہ آیت نمبر 11)

یہاں پر اللہ تعالی کے اس فرمان سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے مجلس میں جگہ دینا اور تنگی نہ کرنا اس کے بارے میں فرمایا تاکہ لوگوں کو دشواری نہ ہو اور لوگوں کا آپس میں باہمی بھائی چارہ قائم ہو اپس میں محبت قائم ہو اور نفرتوں سے بچا جائے۔

مجلس میں گناہ اور برائی کی تائید نہ کرنا:چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

وَ قَدْ نَزَّلَ عَلَیْكُمْ فِی الْكِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰهِ یُكْفَرُ بِهَا وَ یُسْتَهْزَاُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖۤ ﳲ اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْكٰفِرِیْنَ فِیْ جَهَنَّمَ جَمِیْعَاۙ (۱۴۰)

ترجمۂ کنز العرفان: اور بیشک اللہ تم پر کتاب میں یہ حکم نازل فرماچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیتوں کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ کسی دوسری بات میں مشغول نہ ہوجائیں ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔ بیشک اللہ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرنے والا ہے ۔(النساء،140)

یہاں اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں ایسی مجلس سے بھی بچنا چاہیے جہاں پہ قران پاک کو جھٹلایا جائے یا جس میں اسلام کے بارے میں نازیبہ گفتگو کی جائے۔کیونکہ اگر ہم اس مجلس میں بیٹھ کر ایسے گفتگو سنیں گے تو ہم بھی اس کا حصہ بن جائیں گے لہذا اس سے ہمیں دوسروں کو بھی اور خود کو بھی بچنا چاہیے۔

اسی طرح مجلس کے آداب کے پیش نظر کثیرر احادیث بھی نقل کی گئی ہیں آئیں ان میں سے چند احادیث سنتے ہیں۔

مجلس میں سلام کرنا:رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں ائے تو سلام کرے۔اور جب اٹھے تب بھی سلام کرے۔ ( سنن ابی داؤد 5208۔)

اس حدیث مبارکہ میں رسول اکرم ﷺ نے سلام کے تبلیغ فرمائی ہے کہ جب بھی تم میں سے کوئی مجلس میں آؤ تو سب سے پہلے سلام کرے اسی طرح جب مجلس سے اٹھنے لگے تب بھی سلام کرے۔

مجلس میں ادب اور خاموشی اختیار کرنا:رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں کے ساتھ اچھے انداز میں بیٹھا کرو اور ان کی بات توجہ سے سنا کرو۔ ( مسند احمد )

اس حدیث مبارکہ میں حضور نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ نے مجلس کے آداب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ مجلس میں خاموشی اختیار کرنا اور جو بات کی کہی جا رہی ہے اس کو توجہ کے ساتھ سننا۔اسی طرح مجلس کے آداب کو بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے تو امت مسلمہ کو بہت کچھ سکھایا ہے ان میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس میں جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جانا چاہیے دوسرے لوگوں کو دھکا دینا یا اس کو ادھر ادھر یا اس کو کھڑا کرنا یہ مجلس کے آداب کے خلاف ہے اس سے بھی بچنا چاہیے۔

اللہ عزوجل سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں بھی قران و احادیث کی تعلیمات پر عمل کرنے اور اسی طرح جس طرح نبی کریم رؤف الرحیم ﷺ نے مجلس کے آداب کی تبلیغ فرمائی ہے جو انہوں نے ہمیں آداب سکھائے ہیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین یارب العالمین ۔


دین اسلام نے انسانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے اصول و ضوابط عطا فرمائے ہیں۔دین اسلام کی یہ خوبصورتی ہے کہ ہر  کام کے لیے اور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے حقوق و ضوابط عطا فرمائے ہیں۔اگر بندہ ان حقوق کو ادا کرتے ہوئے زندگی گزاریں اور ان عوامل کو ادا کرے تو وہ کام کامل طور پر ادا ہو سکتا ہے۔

ان حقوق میں سے مجلس کے حقوق بھی شامل ہیں۔چونکہ انسان کو مختلف اوقات میں مجلس میں بیٹھنے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے لہذا اللہ پاک نے قران پاک کے اندر اور حضور اکرم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں مجلس کے حقوق کو بیان فرمایا ہے۔اور ان حقوق پر عمل درآمد کرنا نہ صرف دین کا حسن ہے بلکہ یہ ذات انسان کے لیے بہت ہی مفید عمل ہے۔مجلس کے حقوق کو سیکھنا معاشرتی سکون اور بھائی چارے کی ضمانت دیتا ہے۔

احادیثِ مبارکہ میں مجلس کے حقوق کا بیان :

ایسی بہت سی احادیث مبارک بھی ہیں جو کہ مجلس کے حقوق کو بیان کرتی ہیں۔حضور پاک ﷺ نے کئی مقامات پر مجلس کے حقوق کو بیان فرمایا ہے۔احادیثِ مبارکہ میں درج ذیل حقوق یہ بیان کیے گئے ہیں۔

1۔سلام کرنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے اور جب اٹھے تب بھی سلام کرے۔(سنن ابی داود، حدیث: 5208)

لہذا ثابت ہوا کہ مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا اس کے بنیادی حقوق میں سے ہے۔

2۔ دوسروں کو دھوکہ یا مذاق کا نشانہ نہ بنانا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو ڈرائے۔"(سنن ابی داود، حدیث: 5004)

اب معلوم ہوا کہ مجلس میں دوسروں کا مذاق اڑانا، چھیڑنا یا ڈرانا منع ہے۔

3۔ سرگوشی نہ کرنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کہ تیسرے کو رنج ہو گا۔"(صحیح بخاری: 6290، صحیح مسلم: 2184)

معلوم ہوا کہ مجلس میں سرگوشی سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ دوسرے کو یہ احساس نہ ہو کہ اسے الگ کیا جا رہا ہے۔

4۔ مجلس میں ذکرِ الٰہی :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو لوگ کسی مجلس میں بیٹھیں اور اللہ کا ذکر نہ کریں، تو وہ قیامت کے دن خسارے میں رہیں گے۔"(سنن ترمذی: 3380)

معلوم ہوا کہ مجلس کو یادِ الٰہی سے خالی نہیں چھوڑنا چاہیے۔

5۔مجلس کا اختتام دعا پر کرنا :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جو کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں لغویات ہو جائیں، پھر وہ یہ دعا پڑھ لے: (سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ) تو اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"(سنن ابی داود، حدیث: 4859)

لہذا یہ معلوم ہوا کہ مجلس کے آخر میں یہ دعا پڑھنا سنت ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہمیں مجلس کے حقوق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ پر عمل کرنے کی سعادت عطاء فرمائے ۔آمین یا رب العالمین


مجلس ایک مقدس موقع ہوتا ہے جہاں مجموعی طور پر علم، مشورہ اور اتحاد کے بہترین اندازمیں مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور  یہاں پہ(مجلس میں) ہر فرد مستحق ہوتا ہے کہ وہ اپنی اپنی رائے آزادی سے بیان کرسکےاور اس پہ لازم ہے کہ وہ  دوسروں کی عزت اور حقوق کا  خصوصا خیال بھی رکھے۔ اچھی مجلس وہ ہوتی ہے جس میں عدل (انصاف ) کے ساتھ ہر فرد کی تقریر کو اچھی طرح سے سنا اور سمجھا جائے ، نہ کہ صرف بولنے کی جلدی ہو بلکہ اس کی احترام اور تعاون کے ساتھ بات مکمل طور پر سنی جاۓ کیونکہ اسی طرح ہی مجلس میں  برکت ہوتی اور خوشگوار فضا قائم رہتی ہے  ۔

نوٹ : ہر رکن کو اپنی رائے پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہے مگر دوسروں کی راۓ کا بھی احترام ضروری ہے  وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا اہم ترین ذمہ داری ہے ۔

مجلس کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ جو شخص مجلس کے اختتام کی جگہ بیٹھے اور جو شخص حلقے میں کوئی خالی جگہ دیکھے اور وہاں بیٹھ جائے۔" حدیث پاک میں ہے کہ حضرت ابو واقد الیثی رضی الله عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ بھی حضورﷺ کے ساتھ تھے کہ تین شخص سامنے سے گزرے دو شخص تو خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک چلا گیا، یہ دونوں آکر رسول اللہ صلی علیہ السلام کے سامنے کھڑے ہوئے ان میں سے ایک نے حلقہ میں گنجائش دیکھی وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیاں اور تیسرا چلا گیا جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا: کیا میں تمہیں ان تینوں کے بارے میں نہ بتاؤں ! ایک نے اللہ کی طرف پناہ لی تو اللہ نے اسے پناہ دی، دوسرے نے حیاء کی تو الله تعالی نے بھی اس سے حیا فرمائی، اور ایک نے منہ پھیرا تو الله تعالٰی نے بھی اس سے نظر رحمت پھیر لی۔ ( حوالہ صحیح بخاری شریف جلد ١ صفحہ ٧٩ )

محفل وغیرہ میں بیٹھ کر موبائل میں مشغولیت :مجلس کے آداب میں سے ہے کہ انسان شرکاء مجلس اور مہمانوں کو چھوڑ کر کسی اور چیز میں مشغول نہ ہو ، آج کل لوگ محفل میں شرکاء کو چھوڑ کر دیر تک موبائل فون اور سوشل میڈیا میں مشغول رہتے ہیں، ایسا کر نا خلافِ ادب ہے۔   حدیث پاک میں ہے : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم نے ایک انگوٹھی بنوائی اور اسے پہنا، اور فرمایا:اس انگوٹھی نے آج سے میری توجہ تمہاری طرف سے بانٹ دی ہے، ایک نظر اسے دیکھتا ہوں اور ایک نظر تمہیں "، پھر آپ نے وہ انگوٹھی اتار دی۔(سنن النسائي : 5289 باب طرح الخاتم و ترك لبسہ )  

‎‎قرآن پاک میں بھی مجالس کا ذکر صراحتاً مذکور ہے درج ذیل میں ملاحظہ فرمائیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔

تفسیر صراط الجنان:‎‎یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: اے ایمان والو!: شانِ نزول: نبی کریم  ﷺ غزوہِ بدر میں  حاضر ہونے والے صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہ مْ کی عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابہ ٔکرام رضی اللہ عنہ مْ ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی ،اُنہوں  نے حضورِ اقدس ﷺ کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضورپُر نور ﷺ نے جواب دیا، پھر اُنہوں  نے حاضرین کو سلام کیا تواُنہوں نے جواب دیا، پھروہ اس انتظار میں  کھڑے رہے کہ اُن کیلئے مجلس شریف میں  جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی ،سرکارِ دو عالَم ﷺ کو یہ چیزگراں  گزری توآپ نے اپنے قریب والوں  کو اُٹھا کر اُن کیلئے جگہ بنا دی، اُٹھنے والوں  کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایاگیا اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں  میں  جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنت میں  جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں  اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کاکہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہو جائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب ﷺ کی اطاعت کے باعث تم میں  سے ایمان والوں  کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں  سے خبردار ہے۔( خازن، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴ / ۲۴۰-۲۴۱)

فضیلت اور مرتبے والوں  کو اگلی صفوں  میں  بٹھایا جا سکتا ہے: یاد رہے کہ مجلس کے آداب میں  یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں  کہ اہم حضرات کیلئے نمایا ں  جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں  قسم کی مجلسوں  میں  سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ   سے روایت ہے ،نبی کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’تم میں  سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں  انہیں  میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں  ،پھر جو ان کے قریب ہوں  ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)

‎‎اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’لوگوں  سے ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو۔( ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم ، ۴ / ۳۴۳، الحدیث: ۴۸۴۲)

فضیلت اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں :فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں  کیونکہ کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم  ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس میں  سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث: ۲۷ (۲۱۷۷))

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے مروی دوسری روایت میں  ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ ُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں  چاہئے کہ )دوسروں  کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۷۹، ، الحدیث: ۶۲۷۰)


اسلام ایک مکمل ضابطۃ حیات ہے جو زندگی کے ہر گوشے میں آداب اور حقوق کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان جب معاشرتی زندگی گزارتا ہے تو وہ مختلف مجالس و محافل میں شریک ہوتا ہے۔ ان مجالس کے بھی کچھ حقوق اور آداب ہیں جنہیں قرآن و حدیث نے واضح فرمایا ہے۔ ان پر عمل کرنا معاشرتی زندگی کو خوشگوار اور بابرکت بناتا ہے۔

1. داخل ہوتے اور جاتے وقت سلام کرنا:حدیث: "جب کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے اور جب اٹھنے لگے تو بھی سلام کرے۔"(ابو داود: 5208، ترمذی: 2706)

2. اجازت کے بغیر داخل نہ ہونا:قرآن: اے ایمان والو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک اجازت نہ لے لو اور وہاں کے رہنے والوں کو سلام نہ کر لو۔(النور: 27)

3. کسی کو جگہ سے نہ اٹھاناحدیث: "کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور نہ خود وہاں بیٹھے بلکہ جگہ کشادہ کر دو۔"(بخاری: 6270، مسلم: 2177)

4. وسعت دینا:قرآن: "جب تمہیں کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دیا کرو، اللہ تمہیں کشادگی دے گا۔"

(المجادلہ: 11)

5. اچھی بات یا خاموشی:حدیث: "جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کرے یا خاموش رہے۔"

(بخاری: 6475، مسلم: 47)

6. سرگوشی سے اجتناب:حدیث: "جب تین ہوں تو دو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں۔" (بخاری: 6288، مسلم: 2184)

7. بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت:حدیث: "وہ ہم میں سے نہیں جو بڑوں کی عزت اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔"(ترمذی: 1920)

8. ذکرِ خیر اور قرآن خوانی:حدیث: "جب لوگ اللہ کے گھروں میں قرآن پڑھنے اور اس کا درس کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو سکون نازل ہوتا ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں۔" (مسلم: 2699)

9. اختتام پر دعا:حدیث: "جو شخص مجلس میں بیٹھے اور لغویات ہو جائیں تو یہ دعا پڑھ لے: سبحانک اللهم وبحمدک، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك تو اس مجلس کی لغویات معاف کر دی جاتی ہیں۔"(ابو داود: 4859، ترمذی: 3433)

ایک واقعہ (عملی نمونہ)حضرت عبداللہ بن عمرسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے، وہاں کچھ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک اور صحابی آئے، لیکن مجلس بھری ہوئی تھی۔ جیسے ہی وہ داخل ہوئے تو کچھ صحابہ نے فوراً اپنی نشستوں میں کشادگی پیدا کی اور ان کے لیے جگہ بنائی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ منظر دیکھا تو خوش ہو گئے اور فرمایا:"اللہ تعالیٰ اس شخص کے لیے کشادگی فرمائے جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرتا ہے۔"(سنن ابی داود: 4825)

اس واقعے سے چند سبق:

ایثار اور قربانی:مجلس میں اپنے مسلمان بھائی کے لیے جگہ بنانا ایثار اور قربانی کی علامت ہے۔ جو اپنے آرام کو چھوڑ کر دوسرے کو جگہ دیتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت دونوں میں اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے۔

اللہ کی رحمت کا وعدہ:جب بندہ اپنے بھائی کے ساتھ خیرخواہی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اسے نوازتا ہے۔ حدیث کے الفاظ "یُفَسِّحُ اللَّهُ لَهُ" (اللہ اس کے لیے کشادگی کرے گا) نہ صرف دنیاوی زندگی میں سکون اور فراخی کا وعدہ ہیں بلکہ آخرت میں جنت کی وسعت کی بھی بشارت ہیں۔

معاشرتی ہم آہنگی:اگر ہر مسلمان مجلس میں دوسرے کے لیے جگہ بنائے، چھپ کر بات نہ کرے، بڑوں کا احترام کرے اور ذکرِ خیر کرے تو معاشرہ محبت، بھائی چارے اور اخوت سے بھر جائے گا۔

مجالس کی برکت:جہاں مجالس کے آداب ادا کیے جاتے ہیں، وہاں فرشتے آ کر بیٹھتے ہیں، اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور مجلس نور اور سکون سے بھر جاتی ہے۔

مجلس میں سلام سے داخل ہونا، اجازت لینا، جگہ دینا، بڑوں کی عزت کرنا اور آخر میں دعا کرنا یہ سب اسلامی آداب ہیں۔جو دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ اور صحابہ نے عملی طور پر ہمیں دکھایا کہ ایک دوسرے کے لیے جگہ بنانا اللہ کے قرب اور رحمت کا ذریعہ ہے۔"اللہ تعالیٰ اس شخص کو کشادہ کرے جو اپنے مسلمان بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرتا ہے۔" (سنن ابی داود: 4825)

یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ مجلس میں دوسروں کے لیے جگہ بنانا اور آسانی پیدا کرنا کتنا بڑا عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا و آخرت میں کشادگی عطا فرماتا ہے۔


ہماری زندگی کا بہت بڑا حصہ اجتماعیت میں گزرتا ہے جس میں ہم مختلف لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہیں . چند لوگوں کے درمیان بیٹھنے کو  عربی میں مجلس کہتے ہیں. اور اردو میں بیٹھک کہتے ہیں ہماری مجلس ہمارے لئے یا تو سعادت کا ذریعہ بن سکتی ہیں . یا محرومی کا اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ مجلس کے حقوق ہوتے ہیں اگر انکو مدنظر رکھا جائے تو مجلس رحمت اور سکوں سبب بنتی ہے۔

پہلا حق جگہ کشادہ کرنا :اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالعرفان: اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں کسی کو طعنہ نہ دو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو، مسلمان ہونے کے بعد فاسق کہلانا کیا ہی برا نام ہے اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔ ( پارہ 28المجادلۃ آیت نمبر 11)

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بزرگان دین کے لیے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کرنا جائز بلکہ سنت ہے حتی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ واقعہ مسجد نبوی میں بھی ہوا تھا یاد رہے کہ حدیث پاک میں بزرگان دین اور دینی علماء کی تعظیم اور توقیر کا باقاعدہ حکم بھی دیا گیا ہے چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جن سے تم علم سیکھتے ہو ان کے لیے عاجزی اختیار کرو اور بد زبان عالم نہ بنو (الجامع لاخلاق الراوی باب توقیر المحدث العلم الخ تواضعہ لھم ص 430 الحديث 8061)

لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ بزرگان دین کی تعظیم کرتا رہے اور ان کی بے ادبی سے گریز کرے اللہ تعالی ہمیں ادب اور تعظیم کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

سلام :مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا سنت ہے یہ محبت اور اخلاص کی بنیاد ہے

جگہ :نئے آنے والے کے لیے جگہ بنانا ایمان کی علامت ہے اللہ پاک فرماتا ہے اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں کشادگی پیدا کرو تو کشادگی پیدا کر دو

آداب: بزرگان دین اور علماء کا ادب کرنا نرمی سے بات کرنا اور بات کاٹنے سے گریز کرنا ضروری ہے

برائیوں سے بچاؤ: غیبت چغلی گالی گلوچ جھوٹ اور فحش باتوں سے مجلس کو پاک رکھنا ہر فرد کی ذمہ داری ہے

ذکر الہی :جو مجلس اللہ پاک کے ذکر سے خالی ہو وہ خالی برتن کی طرح ہے ذکر اللہ کی برکت سے اللہ پاک رحمت کے دروازے کھولتا ہے

دعا :مجلس کے آخر پر اجتماعی دعا کرنا بھی سنت ہے جس سے مجلس برکت اور رحمت کا ذریعہ بھی بن جاتی ہے

ابھی ہم نے جن حقوق کا مطالعہ کیا اگر ہم ان حقوق پر عمل کرنے والے ہوں جائے تو ہماری مجلسیں ہمارے لیے دنیا اور آخرت میں بھلائی کا سبب بنے گے اچھی مجلسوں کو اپنائیے اور بری بیٹھکوں سے پرہیز کیجئے اللہ کریم ہم سب کو نیک مجلسوں میں بیٹھنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین


اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اس نے زندگی کے ہر شعبے میں انسان کو اخلاق سکھائیں ہیں تاکہ وہ زندگی کے ہر شعبے میں ایک اچھے فرد کی طرح زندگی گزارے ۔ہر انسان پر خود کے حقوق کے علاوہ دوسروں کے حقوق کی بھی پاسداری کا اسلام حکم دیتا ہے اور اس کے مطابق رہنمائی فراہم کرتا ہے انہیں حقوق میں سے ایک بہت اہم حقوق"مجلس کے حقوق"ہیں۔آئیں ہم اس کے حوالے سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

1. لغو باتوں اور بے ہودہ گفتگو سے پرہیز کرنا: مجالس کے حسن یہ ہے کہ وقت ضائع کرنے، غیبت، چغلی یا فضول باتوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ ایک مومن کی مجلس تعمیری ہونی چاہیے۔

2. مجلس میں بیٹھنے والوں کو اذیت نہ دینا:حدیثِ نبوی ﷺ:عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ آذَى الْمُسْلِمِينَ فِي طُرُقِهِمْ وَجَبَتْ عَلَيْهِ لَعْنَتُهُمْ.ترجمہ:حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جو مسلمانوں کو ان کی راہوں (مجالس یا راستوں) میں اذیت دیتا ہے، اُس پر ان کی لعنت واجب ہے۔(المعجم الکبیر للطبرانی: حدیث نمبر 3050)

اس حدیث مبارکہ میں اس چیز کا تذکرہ ہے کہ مجلس میں بیٹھنے کے انداز، گفتگو، یا کسی بھی طرزِ عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچائی جائے جس کی وجہ سے ایک مسلمان کو تکلیف پہنچے۔

3. درمیان میں بات کاٹنا اور شور کرنا منع ہے۔فرمانِ نبوی ﷺ:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ اثْنَيْنِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:کسی بھی شخص کے لیے جائز نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے بیچ میں بیٹھ کر تفریق پیدا کرے مگر ان کی اجازت سے۔(جامع ترمذی: باب: بغیر اجازت دو ادمیوں کے درمیان میں بیٹھنے کی کراہت کا بیان, حدیث نمبر:2752)

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ مجلس کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے اور نہ تو دو شخصوں کے درمیان بیٹھا جائے اور نہ ہی ان کے ہے کہ درمیان میں بیٹھنے یا بولنے سے پہلے اجازت لی جائے۔

اللہ تبارک و تعالی ہمیں حضور اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام حقوق پر کامل طور پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


مجلس کے چند حقوق درج ذیل ہیں:

نیک مجالس اختیار کریں:ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے

فرمایا: نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری بیچنے والے عطار اور لوہار کی سی ہے۔ خوشبویات بیچنے والے کے پاس سے تم دو اچھائیوں میں سے ایک ضرور ہی پاؤ گے۔ یا خوشبویات خرید لو گے ورنہ کم از کم اس کی خوشبو تو ضرور ہی پا سکو گے۔ باقی رہی لوہار کی بھٹی کا مقام یا تو وہ تمہارے بدن اور کپڑوں کو نقصان دے گی ورنہ تم اس کی نا پسندیدہ بدبو تو ضرور ہی پاؤ گے۔ (صحیح البخاری ، باب فی العطار و بیع المسک ، الرقم: 2101)

مجالس میں کشادگی پیدا کریں۔ (سنن ابی داؤد ، باب فی سعۃ المجلس ، الرقم: 4820)

جہاں جگہ ملے بیٹھ جائیں۔ (سنن ابی داؤد ، باب فی التحلق ، الرقم: 4825)

گنجائش ہو تو بیٹھ جائیں۔ (بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث ، باب ماجاء فی الجلوس، الرقم: 919)

لوگوں کے بیچ گھس کر نہ بیٹھیں۔ (سنن ابی داؤد ، باب الجلوس وسط الحلقۃ، الرقم: 4826)

کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائیں۔ ( صحیح البخاری،باب لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ ، الرقم: 6269)

جگہ کا زیادہ حقدار کون پہلے آنے والا ہے۔ (سنن ابن ماجہ، باب من قام من مجلس فرجع فھو احق بہ ، الرقم: 3717)

مجلس میں سرگوشی منع ہے۔ (صحیح البخاری، باب اذا کانوا اکثر من ثلاثۃ فلا باس بالمسارۃ ، الرقم: 6292)

کسی کی باہمی گفتگو کو سننے کی کوشش نا کریں۔ (صحیح البخاری ، باب من کذب فی حلمہ ، الرقم: 7042)

کسی کی طرف پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھی۔ (جامع الترمذی ، الرقم: 2414)

وقفہ مجالس میں اللہ کا ذکر کریں۔ (سنن ابی داؤد ، باب کراھیۃ ان یقوم الرجل من مجلسہ ، الرقم: 4214 )

چند متفرق آداب:

اوقات اور ترتیب کی پابندی کریں۔

اپنے سامان کی اچھی طرح حفاظت کریں اگر منتظمین نے جو کچھ انتظام کیا ہے اس سے فائدہ اٹھائیں۔

موبائل فون کوسائیلنٹ پر لگادیں۔

معززین سے مصافحہ کا وقت دیا جائے تو خاموشی اور ترتیب سے کریں ۔

مجالس میں کھانے وغیرہ کو ضائع ہونے سے بچائیں۔

مجالس کو کامیاب ترین بنانے کے لیے اخلاص کے ساتھ قولی فعلی اور مالی معاونت کرنے میں عملی اقدامات اختیار کیجیئے۔

اور آخر میں اختتام مجلس کی دعا لازمی پڑھیں۔

میری تمام عاشقانِ رسول سے فریاد ہے ! مذکورہ فرامین کی روشنی میں اپنی مجلسوں کا جائزہ لیجئے ، اچھی مجلسوں کو اپنائیے اور بُری بیٹھکوں سے پرہیز کیجئے ، نیز اپنی دنیاوی مجالس کو بھی اپنی آخرت کے لئے فائدہ مند بنائیے۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم


الحمدللہ ہم انسان ہیں جنہیں زندگی کو جینے کے لیے کچھ معاملات کے ساتھ تعلق رکھنا پڑتا ہے جن میں اگر دیکھا جائے تو کھانا پینا، رہنا سہنا اور سونا وغیرہ اور بہت سے معاملات ہیں جن کی طرف ہمیں محتاجی ہوتی ہے۔ ان معاملات میں سے ایک اہم امر لوگوں سے میل جول رکھنا، ہم مجلس ہونا بھی ہے۔ ہمارا دین اسلام ہر شے کے حقوق کے بارے میں ہمیں بیان کرتا ہے، تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ مصاحبت اور ہم نشینی کے حقوق کیا ہیں۔ جب ہم اس کے حقوق کی معرفت حاصل کر لیں گے تو ان شاءاللہ ہماری مجلسوں میں حسن اور دوستوں کی تعداد میں اضافہ نظر آئے گا کیونکہ ہر بندہ حق کی طلب میں بے تاب ہے۔ اگر آپ اسے اس کا حق دے دیں گے تو ان شاءاللہ وہ آپ کے ساتھ تا دمِ حیات مربوط رہے گا۔

ہم مجلس کے حقوق:

1۔ سلام کرنا:جب ہم مجلس میں آئے تو سلام کرنا چاہیے جیسے کہ حدیث میں آیا؛رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

إذا انتهى أحدُكم إلى مجلسٍ فليسلِّمْ، فإن بدا له أن يجلسَ فليجلسْ، ثم إذا قامَ فليسلِّمْ، فليستِ الأولى بأحقَّ من الآخرةِ۔(ابوداؤد، حدیث 5208) ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھے، اور جب اٹھے تو بھی سلام کرے۔ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں۔"

2۔ مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ بنانا:اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی خوبصورت کلام پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا ۔

یہ آیت مبارکہ جہاں حقوقِ مجلس کا بیان ہے وہیں اتباعِ مصطفی ﷺ پر واضح اشارہ ہے۔ اس کی تفصیل آپ صراط الجنان سے پڑھ سکتے ہیں، لیکن میرا اس آیت کو ذکر کرنے کا مقصد اس مجلس کے حق کو بیان کرنا ہے جسے قرآن نے بیان کیا کہ آنے والے کو جگہ دو۔ کیونکہ جب بندہ کسی کے لیے تعظیماً سرک جاتا ہے، اس کے لیے جگہ بناتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور اس فعل کے سبب جگہ بنانے والا شخص آنے والے کے دل میں گھر کر جاتا ہے۔ یہ معمولی فعل محبت کے رشتے کو تقویت دینے کے لیے پہلا زینہ ہوتا ہے۔

3۔ قائل کی بات کو غور سے سننا:الحمدللہ ہمارا دین ہماری تربیت فرماتا ہے کہ ہمیں مقابل کی بات غور سے سننی چاہیے۔ جب وہ بات کر رہا ہو تو اسی کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ادھر ادھر دیکھنے سے اجتناب کرنا چاہیے یا ایسے اظہار سے بھی بچنا چاہیے جو اسے ایسا تاثر دے کہ یہ شخص میری بات کو سننا نہیں چاہ رہا۔

حضور ﷺ کا قائل سے سننے کا انداز ملاحظہ کیجیے:حدیث میں آیا ہے:

كانَ رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّمَ إذَا استقبلَهُ الرجلُ صافحَهُ لا ينزِعُ يدَهُ حتَّى يكونَ هو الذِي نزعَ ولا يصرفُ وجهَهُ عَنْ وجهِهِ حتَّى يكونَ الرجلُ هو الذي يصرفُه.(ترمذی: 2490، ابن ماجہ: 3716)

یعنی رسول اللہ ﷺ جب کسی شخص کے سامنے آتے تو اس سے مصافحہ فرماتے، اور اپنا ہاتھ اس وقت تک نہ کھینچتے جب تک دوسرا شخص خود نہ کھینچ لیتا، اور اپنا چہرہ بھی اس کے چہرے سے نہ پھیرتے جب تک وہ شخص خود اپنا چہرہ نہ پھیر لیتا۔ سبحان اللہ! ہمارے حضور ﷺ کیسے عظیم اخلاق والے ہیں۔ تو ہمیں بھی انہی کے راستے پر چلنا چاہیے۔

4۔ قائل کی بات نہ کاٹنا:الحمدللہ ہمارا دین دینِ فطرت ہے اور ہماری فطرت و جبلت میں یہ بات شامل ہے کہ دوسروں کو تکلیف نہ دی جائے۔ اس کی مختلف صورتیں ہیں، ان میں سے ایک دوسرے کی بات کاٹنا بھی ہے۔ جب بندہ دوسرے کی بات کاٹتا ہے تو وہ اس کے کلام کو اپنے کلام سے افضل بتاتا ہے، اور جب یہ مجلس میں لوگوں کے سامنے ہو تو اس عمل سے وہ بے عزتی محسوس کرتا ہے اور احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔

حدیث میں آیا ہے:مَنْ اٰذٰی مُسْلِمًا فَقَدْ اٰذَانِیْ، وَمَنْ اٰذَانِیْ فَقَدْ اٰذَی اللّٰهَ ترجمہ: جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی، اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اللہ تعالیٰ کو تکلیف دی۔(معجم الاوسط، باب السین، من اسمہ: سعید، ۲/۳۸۶، الحدیث: ۳۶۰۷)

لہٰذا ہمیں اس عمل سے بچتے ہوئے لوگوں کے کلام کو مکمل ہونے تک غور سے سننا چاہیے، کیونکہ ممکن ہے اس کے کلام سے ہماری سوچ کا زاویہ بدل جائے۔ جو ہم سطحی طور پر سوچ رہے تھے، گہرائی میں سوچنے والے ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے یہی ہماری مشکل کا حل ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں مجلس کے حقوق سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


اللہ تعالیٰ نے انسان کو عزت و شرف سے نوازا اور اسے ایک سماجی مخلوق بنایا ہے۔ انسان کا دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنا ضروری ہے، لیکن اسلام نے ہمیں سکھایا ہے کہ میل جول کے دوران کچھ آداب ملحوظِ خاطر رکھے جائیں۔ انہی کو مجلس کے آداب کہا جاتا ہے۔

1. مجلس میں کشادگی کرنا:قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ ترجمہ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔ (سورۃ المجادلہ: آیت 11)

2. گفتگو میں نرمی اور اچھے الفاظ کا استعمال:قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: وَ قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا ترجمہ کنزالایمان:"اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔"(سورۃ البقرہ: آیت 83)

3. سلام کا اہتمام :نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "چھوٹا بڑے کو سلام کرے، چلنے والا بیٹھے ہوئے کو، اور کم تعداد والے کثیر تعداد والوں کو سلام کرے۔" (صحیح بخاری، کتاب الاستئذان، جلد 8، صفحہ 14، حدیث نمبر 6234)

اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ مجلس کا مقصد صرف بیٹھنا اور وقت گزارنا نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت، عزت اور نیکی پھیلانا ہے۔ اگر ہم قرآن و حدیث کے بتائے ہوئے یہ آداب اپنائیں تو ہماری محفلیں خیر و برکت سے معمور ہوں گی اور ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو گی۔