اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی انفرادی و اجتماعی زندگی کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انسان چونکہ ایک سماجی مخلوق ہے، اس لیے اسے دوسروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور میل جول کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انہی تعلقات میں مجالس کو خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں لوگ مل بیٹھ کر بات چیت کرتے، مسائل کا حل ڈھونڈتے اور ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دینِ اسلام نے مجالس کے بھی کچھ آداب اور حقوق مقرر فرمائے ہیں تاکہ یہ نشستیں خیر و برکت کا ذریعہ بنیں اور کسی کے لیے تکلیف یا نقصان کا سبب نہ ہوں۔ رسول اکرم ﷺ نے مجالس میں بیٹھنے، گفتگو کرنے اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک برتنے کے جو اصول عطا فرمائے وہ نہ صرف اخلاقی تربیت کا اعلیٰ نمونہ ہیں بلکہ معاشرتی سکون اور باہمی محبت کے ضامن بھی ہیں۔

آئیے اس کے متعلق چند حدیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:

ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب في التحلق، الحديث : ٤٨٢٥ ، ج ٤ ، ص ٣٣٩) ۳۸)

ترجمہ:مسلمان کا مسلمان پر ( یہ ) حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لئے سرک جائے ۔ (یعنی مجلس میں آنے والے اسلامی بھائی کے لئے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنادے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے۔) (شعب الإيمان باب في مقاربة.. الخ فصل في قيام المرء لصاحبه الحديث ٠٨٩٣٣-١٦ ص ٤٦٨)

اسلام نے جہاں انفرادی زندگی کے اصول بیان کیے ہیں، وہیں اجتماعی زندگی کے بھی واضح ضابطے مقرر فرمائے ہیں۔ مجالس کے آداب اور حقوق اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں۔ اگر ہر شخص مجالس میں بیٹھنے اور گفتگو کرنے کے وہی اصول اپنائے جو رسول اکرم ﷺ نے ہمیں سکھائے ہیں تو معاشرہ باہمی عزت، محبت اور خیر خواہی کا گہوارہ بن جائے۔ مجلس دراصل دلوں کو جوڑنے اور علم و نیکی کو پھیلانے کا ذریعہ ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ ان حقوق کا پاس کرے اور اپنی مجالس کو ذکرِ خیر، ادب اور خیر خواہی سے مزین کرے۔ یہی حقیقی اسلامی معاشرت کی روح ہے۔


(1)حضرت سَیِّدُناجابر بن سَمُرَہ رَضِیَ  اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:”ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے توجہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:827 )

(2)حضرت سَیِّدُناعَمر وبن شُعَیْب رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے ۔“ابو داؤد کی ایک روایت میں ہے :” دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر نہ بیٹھے ۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:829)

(3)حضرت سَیِّدُناابو سعید خُدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا:”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو ۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:831 )

(4)حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذِکرکئے بغیرمجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مُردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اوریہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔“ (فیضان ریاض الصالحین جلد:6 , حدیث نمبر:835)


ایک معاشرے میں رہتے ہوئے انسان پر ہر لحاظ سے خوب جو ہے وہ ادا کرنا لازم ہوتے ہیں ہوم والدین کے حقوق کو بہنوں کے حقوق ہوں بھائیوں کے حقوق ہوں رشتہ داروں کے حقوق ہوں ہمسایوں کے حقوق ہوں پڑوسیوں کے حقوق ہوں چاہے جانوروں کے حقوق ہوں پودوں کے نباتات کے جمادات کے چاہے جس کے بھی حقوق ہوں وہ انسان پر ادا کرنا ضروری ہے اور اسی سے ایک معاشرہ مستقل طور پر پروان چڑھتا ہے اور اسی طرح اپنے ساتھ ہم نشین کے حقوق دوست کے حقوق اپنے پاس بیٹھنے والوں کے حقوق اور اسی طرح مجلس کے حقوق بھی ایک معاشرے پائے جاتے ہیں۔ آئیے مجلس کے حقوق کے بارے میں قران پاک فرامین مصطفی  ﷺ اور بزرگان دین کی زندگیوں میں سے سبق حاصل کرتے ہیں:

قران پاک میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔(پارہ:28 المجادلہ آیت نمبر:11)

اسی طرح اللہ کے آخری نبی محمد عربی رسول ہاشمی مکی مدنی ﷺ نے احادیث مبارکہ میں بھی مجلس کے حقوق کے بارے میں تربیت فرمائی چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا:

1:اللہ تعالی کا ذکر کرنا:مجلس کا ایک حق یہ بھی ہے کہ مجلس کے اندر اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کیا جائے چنانچہ اللہ کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو لوگ مجلس سے اٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کریں تو وہ ایسے اٹھے جیسے گدھے کی لاش اور وہ مجلس ان پر قیامت کے دن حسرت کا باعث ہوگی ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب کراہیۃ انیقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللّہ حدیث نمبر: 4855 جلد: 4ص نمبر: 347)

2:مجلس کو مزین کرو:اللہ کے آخری نبی محمد عربی رسول ہاشمی مکی مدنی ﷺ نے فرمایا :"تم اپنی مجلس کو مجھ پر درود پڑھ کر مزین کرو کیونکہ تم تمہارا مجھ پر درود پڑھنا تمہارے لیے قیامت کے دن نور ہوگا" (فردوس الاخبار جلد نمبر:1 حدیث نمبر: 3149 ص نمبر: 422)

3:مجلس میں آنے والے کے لیے جگہ چھوڑنا:مجلس میں نئے بندے کے آنے سے جگہ چھوڑنا یہ بھی مجلس کا حق ہے چنانچہ اس کو اللہ تعالی کے آخری نبی ﷺ نے اس طرح بیان فرمایا: "مسلمان کا مسلمان پر یہ حق ہے کہ جب اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے" (یعنی مجلس میں انے والے اسلامی بھائی کے لیے ادھر ادھر کچھ سرک کر جگہ بنا دے کہ وہ اس میں بیٹھ جائے)(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب: فی التناجی حدیث نمبر: 4851جلد نمبر:4 ص نمبر:346)

4:مجلس میں درود پاک پڑھنا:اللہ کے محبوب دانائے غیوب ﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگ کسی مجلس میں بیٹھتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ پر درود نہیں پڑھتے تو ان پر حسد کا باعث ہوگی اگرچہ جنت میں داخل ہو جائیں ( درود نہ پڑھنے پر حسرت ہوگی) جس وقت وہ (درود پڑھنے کی )جزا دیکھیں گے۔ (شعب الایمان باب :فی تعظیم النبی والہ وتوقیرہ حدیث نمبر: 2541جلد نمبر :9ص نمبر: 60)

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا قران پاک سے احادیث مبارکہ سے مجلس کے حقوق کے بارے میں ہم نے پڑھا اللہ تعالی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کو اگے پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ 


اسلام انسان کی زندگی کے ہر گوشے کے لیے کامل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ یہ صرف نماز، روزہ یا زکوٰۃ تک محدود نہیں بلکہ انسان کی معاشرتی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارتا ہے۔ اسی میں ایک نہایت اہم پہلو مجالس ہیں۔ مجالس دراصل انسان کے میل جول، گفتگو اور تعلقات کا مرکز ہیں۔ انسان اپنی زندگی کا بڑا حصہ دوسروں کے ساتھ بیٹھنے اور گفتگو کرنے میں گزارتا ہے، اسی لیے اسلام نے مجالس کے لیے نہایت حسین اور حکیمانہ آداب مقرر فرمائے ہیں تاکہ معاشرہ سکون، محبت اور ادب کی خوشبو سے معطر ہو۔

مجلس میں داخلے کا ادب:اسلامی معاشرہ باہمی محبت اور اعتماد پر قائم ہے۔ مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا محض زبان کی حرکت نہیں بلکہ دلوں کے درمیان محبت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ سلام دراصل دعائے خیر ہے جو ہر مسلمان کو اپنے بھائی کے لیے کرنی چاہیے۔ اسی طرح اجازت لے کر داخل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ دوسروں کی نجی زندگی کا احترام کیا جا رہا ہے۔ ایک مسلمان کی شخصیت اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب وہ دوسروں کے حقوق کی پاسداری کرے۔

بیٹھنے کا حق اور عزتِ نفس:کسی مجلس میں بیٹھنا محض جگہ گھیرنے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسروں کے احترام اور اپنی تہذیب کی پہچان ہے۔ مجلس میں کسی کو بے ادبی کے ساتھ جگہ سے اٹھا دینا یا زبردستی بیٹھ جانا اسلامی اخلاق کے خلاف ہے۔ ہر فرد کی عزتِ نفس ہے اور اسلام اس عزت کی حفاظت چاہتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس بات کو واضح کیا کہ کسی کو اپنی جگہ سے ہٹا کر وہاں بیٹھنا درست نہیں۔ اس تعلیم سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دوسروں کے وقار کو قائم رکھنا ہی اصل انسانیت ہے۔

مجلس میں ذکرِ الٰہی:اسلامی مجالس کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے۔ وہ محفلیں جہاں رب کا ذکر ہو، فرشتے انہیں ڈھانپ لیتے ہیں اور ان پر رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ لیکن وہ محفلیں جہاں اللہ کا ذکر نہ ہو، وہ بے روح جسم کی مانند ہوتی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو لوگ کسی مجلس سے اٹھتے ہیں اور وہاں اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے تو وہ گدھے کی لاش کے پاس بیٹھنے والوں کی طرح ہیں اور قیامت کے دن وہ محفل ان کے لیے حسرت کا باعث بنے گی۔(سنن ابی داود، کتاب الأدب، حدیث: 4855، ج 4، ص 347)

وسعت دینا اور ایثار کا جذبہ:اسلامی معاشرہ ایثار اور محبت پر قائم ہے۔ مجلس میں بیٹھنے کا ایک ادب یہ بھی ہے کہ اگر کوئی نیا آنے والا شریک ہو تو لوگ اس کے لیے جگہ کشادہ کر دیں۔ یہ عمل محض ظاہری سہولت نہیں بلکہ دل کی وسعت اور محبت کی علامت ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ جب کوئی قوم کسی آنے والے کے لیے جگہ میں وسعت کرے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان پر راضی ہوتا ہے۔(کنز العمال، کتاب الصحبة، حدیث: 25379، ج 9، ص 58)

مجلس کی دعا اور کفارہ:ہر انسان سے بات چیت کے دوران کچھ لغزشیں ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے اسلام نے مجلس کے خاتمے پر ایک دعا سکھائی ہے جو ان لغزشوں کا کفارہ بن جاتی ہے:"سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ"جو شخص یہ دعا پڑھتا ہے، اس کی مجلس کی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔(سنن ابی داود، کتاب الأدب، حدیث: 4857، ج 4، ص 347)

اسلامی مجالس صرف دنیاوی میل جول کا نام نہیں بلکہ یہ اصلاح، محبت اور ذکرِ الٰہی کے مراکز ہیں۔ اگر ان میں آداب کی پاسداری ہو تو یہ ایمان کو بڑھانے، دلوں کو جوڑنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ لیکن اگر ان آداب کو نظر انداز کیا جائے تو یہی محفلیں حسرت و ندامت کا سبب بن جاتی ہیں۔لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مجلس کے حقوق پہچانے، اپنے عمل سے دوسروں کے لیے سکون کا ذریعہ بنے اور اپنی زبان، دل اور نشست و برخاست کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سنوارے۔ یہی وہ روشنی ہے جو معاشرے کو اندھیروں سے نکال کر خیر و برکت کی طرف لے جاتی ہے۔


رب تعالی نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے جو دینِ اسلام عطا کیا اس میں ہمارے لیے تمام امور کے آداب بیان کیے گئے ہیں، اور تمام چیزوں کے حقوق بتائے گئے ہیں، تاکہ انسان ان پر عمل کرکے معاشرے کا بہترین انسان بن کے ابھرے۔ اسی طرح آج ہم مجلس کے آداب کے بارے میں پڑھے گے۔

جگہ کشادہ کرو : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالعرفان : اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہوجاؤ تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ (سورۃ المجادلہ،پارہ: 28،آیت:11)

اس آیت مبارکہ میں فرمایا گیا کہ اگر تم کسی مجلس میں بیٹھے ہو اور تمہیں کہا جائے کے جگہ کشادہ کرو تو کردو۔

مجلس میں اللہ کا ذکر نہ کرنا:عن ابي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: من قعد مقعدا لم يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة، ومن اضطجع مضجعا لا يذكر الله فيه كانت عليه من الله ترة ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کسی جگہ بیٹھے اور اس میں وہ اللہ کا ذکر نہ کرے، تو یہ مجلس اللہ کی طرف سے اس کے لیے باعث حسرت و نقصان ہو گی اور جو کسی جگہ لیٹے اور اس میں اللہ کو یاد نہ کرے تو یہ لیٹنا اس کے لیے اللہ کی طرف سے باعث حسرت و نقصان ہو گا“۔ (سنن ابی داود/كتاب الأدب /حدیث: 4856)

اس حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور اللہ رب العزت کا ذکر مبارک نہ کرے وہ اس پر بروز قیامت حسرت کرے گا اور جو اپنے بستر پر لیٹے اور اللہ عزوجل کا ذکر نہ کرے وہ بھی بروز قیامت اس پر حسرت کرے گا۔یہ تھے مجلس کے حقوق اللہ ہمیں اپنے حقوق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


مجلس انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں، اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مجلس کے کچھ آداب اور حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے لیے ضروری ہے۔

سب سے پہلا حق یہ ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے وقت اجازت لینا اور سلام کرنا چاہیے۔ اس سے مجلس میں بیٹھے ہوئے افراد کو احساس ہوتا ہے کہ آنے والا شخص عزت و احترام کے ساتھ شامل ہوا ہے۔ اسی طرح، مجلس میں بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ اختیار کرنا چاہیے اور اگر کوئی بڑی عمر یا معزز شخصیت موجود ہو تو انہیں آگے بیٹھنے کا موقع دینا چاہیے۔

مجلس میں گفتگو کے دوران آواز کا لہجہ نرم اور مناسب ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ کوئی بات کرتے وقت دوسروں کی بات نہ کاٹی جائے اور سب کو بولنے کا موقع دیا جائے۔ اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو پوری توجہ سے سننا بھی مجلس کا حق ہے۔

مجلسوں میں جگہ کی کشادگی: مجلسوں میں بیٹھنے کے بہت سے آداب ہیں اس حوالے سے ایک آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں رب العالمین فرماتا ہے کہ

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالایمان: ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (سورۃ المجادلۃ 58، آیت:11)

مجلس کے آداب:

مجلس کے آداب کے حوالے سے کچھ نکات ملاحظہ فرمائیں :

(1) کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔(سنن ابی داود، كتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير اذنهما، الحديث:٤٨٤٤-٠٤٨٤٥ ج ٤ ، ص ٣٤٤)

(2) جب تم بیٹھو تو اپنے جوتے اتار لو تمہارے قدم آرام پائیں گے ۔ (كنز العمال، كتاب الصحبة، قسم الأقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث: ٠٢٥٣٩٠ ج ۹، ص ٥٩)

جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے ) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق و حقدار ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع، الحديث ٤٨٥٣ ، ج ٤ ، ص ٣٤٦)

ان ارشادات سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمیں مجلس میں ایک دوسرے کی جگہ کا خیال کرنا چاہیے اور جب مجلس ختم ہو تو خاموشی سے اور بغیر شور شرابے کے اٹھنا چاہیے اور جاتے وقت بھی دعا یا نیک خواہشات کے ساتھ رخصت ہونا چاہیے۔ اس طرح مجلس میں آنے اور جانے کا تاثر خوشگوار رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


بے شک ہر وہ چیز جو عزت و احترام کے قابل ہو اس کے حقوق ہوتے ہیں جيسے کہ مجلس کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں کہ ہمیں کیسی مجلس میں بیٹھنا چاہیے اور كس مجلس میں نہیں بیٹھنا چاہیے.

ذکر اللہ عزوجل کی مجلس میں شرکت کی فضیلت :صحیح مسلم شریف کی ایک طویل حدیث مبارک ہے جس میں ان خوش نصیبوں کے لیے مدہ جانفزا ہے جو ذکر اللہ کے لیے حلقہ بناتے ہیں اور مجتمع ہو کر اپنے معبود برحق کا ذکر کرتے ہیں اس حدیث مبارک کے آخر میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بس فرشتے بارگاہ الہی میں عرض کرتے ہیں اے رب عزوجل ان میں فلاں بندہ بڑا گنہگار تھا وہ تو ان یعنی ذکر کرنے والوں پر گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا مدنی سرکار ﷺ نے فرمایا اللہ تعالی فرماتا ہے میں نے اسے بھی بخش دیا وہ ذکر کرنے والی ایسی قوم ہے جن کا ہم نشین بھی بد نصیب نہیں ہوتا۔ (صحیح مسلم کتاب الذکر الخ باب فضل مجالس ذکر الحدیث 2679 ص 1444 )

رحمت خوا خداوندی لامحدود ہے اور اس کی رحمت سے کوئی فرد خارج نہیں بلکہ ہر ایک کو اس کی رحمت مہیط ہے اور یہی عقیدہ اسلام نے مسلمانوں کو دیا ہے لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں رحمت خداوندی کے طلبگار رہیں اور اسی سلسلے میں ہما وقت سعی کرتے رہیں مخبر صادق نبی رحمت ﷺ نے ہمیں خبر دی کہ وہ گنہگار شخص جس نے ذاکرین کے ساتھ تھوڑی سی ہم نشینی اور صحبت اختیار کی تو باری تعالی نے اس کی بخشش فرما دی ۔

ایک حدیث شریف میں ہے:حضرت ابو رزین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پا لو پس وہ اصل چیز یہ ہے کہ تم ذکر کرنے والوں کی مجلس اختیار کرو۔ ( شعب الایمان باب فی مقاربہ الخ فصل فلم مصافحہ الخ حدیث 9023ج6ص492)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ایک گنہگار بندے کے نیکوں کی مجلس میں بیٹھ کر اس نے اللہ تعالی سے بخشش حاصل کر لی اسی طرح ہمیں بھی چاہیے کہ بدوں کی مجلس چھوڑ کر نیکوں کی مجلس میں بیٹھیں ۔ جو کچھ سنا اللہ پاک اس پر عمل کرنے توفیق عطا فرمائے. آمین بجاہ النبی الامین ﷺ 


دین اسلام جہاں ہمیں عقائد اور عبادات سکھاتا ہے وہیں اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ ایک سچا مسلمان مہذب، شائستہ، سلجھا ہوا اور بااخلاق ہوتا ہے۔ ایک مسلمان کا مجلس میں بیٹھنے کا انداز کیسا ہونا چاہیے،اور اس کے لیے مجلس کے حقوق کیا ہیں آئیے ،قران مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیے ۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہوجاؤ تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(پ28، المجادلۃ:11)

شانِ نزول نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم غزوۂ بدر میں حاضر ہونے والے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی بہت عزت کرتے تھے، ایک روز چند بدری صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ایسے وقت پہنچے جب کہ مجلس شریف بھر چکی تھی، اُنہوں نے حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے سامنے کھڑے ہو کر سلام عرض کیا۔ حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے جواب دیا، پھر اُنہوں نے حاضرین کو سلام کیا تو اُنہوں نے جواب دیا، پھر وہ اس انتظار میں کھڑے رہے کہ اُن کے لئے مجلس شریف میں جگہ بنائی جائے مگر کسی نے جگہ نہ دی، سرکارِ دو عالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو یہ چیز گراں گزری تو آپ نے اپنے قریب والوں کو اُٹھا کر اُن کے لئے جگہ بنادی، اُٹھنے والوں کو اُٹھنا شاق ہوا تو اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور ارشاد فرمایا گیا: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تعالیٰ تمہارے لئے جنّت میں جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب تمہیں اپنی جگہ سے کھڑے ہونے کا کہا جائے تاکہ جگہ کشادہ ہوجائے تو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تعالیٰ اپنی اور اپنے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی اطاعت کے باعث تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جن کو علم دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔(تفسیرخازن، پ28، المجادلۃ، تحت الآیۃ:11،ج 4،ص240)

اس آیت کے شانِ نزول سے معلوم ہوا کہ صالحین کے لئے جگہ چھوڑنا اور ان کی تعظیم کر نا جائز بلکہ سنّت ہے حتی کہ مسجد میں بھی ان کی تعظیم کی جائے گی۔ حدیثِ پاک میں دینی پیشواؤں اور اساتذہ کی تعظیم کا باقاعدہ حکم دیا گیا ہے، سید المرسلین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا:”جن سے تم علم حاصل کرتے ہو ان کے لئے عاجزی اختیار کرو اور جن کو تم علم سکھاتے ہو ان کے لئے بھی تواضع اختیار کرو اور سرکش عالم نہ بنو۔“(الجامع لاخلاق الراوی، ص230، حدیث:802) نیک لوگوں کی عزت کرنا اور بوڑھوں کا لحاظ کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ نبیِّ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرنا جو قرآن میں غلو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے۔“(ابو داؤد،ج 4،ص344، حدیث: 4843) خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو علماء و مشائخ اور دین داروں کی عزت کرتے ہیں اور بدنصیب ہیں وہ لوگ جو آزادی کے نام پر علماء اور دین داروں کا مذاق اڑاتے اور اپنی آخرت برباد کرتے ہیں۔

مجلس کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ جو شخص پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کے لئے نمایاں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دنیوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کو اسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کے لئے زیادہ قریب بیٹھیں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:”تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے۔“ (ابو داؤد،ج1،ص267،حدیث: 674) اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، حضور پر نور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”لوگوں کو ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق بٹھاؤ۔“(ابو داؤد،ج 4،ص343،حدیث:4842) البتہ فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں کیونکہ کثیر احادیث میں حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ فرمایا:”کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہ بیٹھے۔“(مسلم،ص923،حدیث:5683) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی دوسری روایت میں ہے، رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ) دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔ (بخاری،ج 4،ص179،حدیث:6269)

فرمانِ مصطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’مجالس (یعنی دوسروں کی موجودگی) میں سب سے مکرم (یعنی عزت والی) مجلس(یعنی بیٹھنا ) وہ ہے جس میں قبلے کی طرف منہ کیا جائے(معجم اَوْسَط ۶/۱۶۱ حدیث ۸۳۶۱)

حضورِ انور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کبھی کسی مجلس (یعنی بیٹھک )میں کسی کی طرف پائوں پھیلا کر نہیں بیٹھتے تھے، نہ اولاد کی طرف نہ اَزواجِ پاک کی طرف نہ غلاموں خادموں کی طرف۔( مراٰۃ ۸/۸۰ )

مجلس (یعنی بیٹھک) سے فارغ ہوکر یہ دُعا تین بار پڑھ لیں تو خطائیں مٹادی جاتی ہیں اور جو مجلسِ خیر و مجلسِ ذکر میں پڑھے تو اُس کیلئے اُس خیر(یعنی اچھائی) پر مہر لگا دی جائے گی ۔ وہ دُعا یہ ہے : ’’ سبحٰنک اللھم وبحمدک لا الٰہ الاانت استغفرک واتوب الیک ۔‘‘(ابوداوٗد ۴/۳۴۷ حدیث ۴۸۵ )

ترجمہ: تیری ذات پاک ہے اور اے اللہ پاک! تیرے ہی لئے تمام خوبیاں ہیں، تیرے سواکوئی معبود نہیں ، تجھ سے بخشش چاہتاہوں اور تیری طرف تو بہ کرتا ہوں۔


اسلام دینِ فطرت ہے، جس نے زندگی کے ہر پہلو کے لیے جامع ہدایات فراہم کی ہیں۔ یہ ہدایات صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی آداب اور باہمی تعلقات کی بہتری پر بھی زور دیتی ہیں۔ اسی سلسلے میں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا مجلس (محفل) کے آداب کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرم  ﷺ نے اپنی تعلیمات اور سنت کے ذریعے ان آداب کا عملی نمونہ پیش کیا، جو ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنے اور محبت و اخوت کے رشتے کو مضبوط بنانے کا درس دیتے ہیں۔

مجلس کے آداب اور حقوق کی پیروی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ یہ آداب نہ صرف افراد کے درمیان عزت و وقار کا احساس پیدا کرتے ہیں بلکہ مجلس میں مثبت اور مفید گفتگو کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ اکھٹے بیٹھنے کے یہ اصول ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ذاتی حریم کا خیال کیسے رکھا جائے، دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے کیسے بچا جائے، اور اجتماعی طور پر کیسے سکون اور اطمینان حاصل کیا جائے۔

آنے والی گفتگو میں، ہم ان اہم احادیث کا جائزہ لیں گے جو ہمیں مجلس کے آداب سکھاتی ہیں۔

1. بلا ضرورت کسی کی جگہ سے نہ اٹھنا:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہر ایک وہیں بیٹھ جاتا جہاں اسے جگہ ملتی۔ (سنن ابی داؤد، حدیث: 4851؛ سنن ترمذی، حدیث: 2729؛ مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 709)

علامہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ عمل آپ ﷺ کی سادگی اور تواضع کی ایک واضح مثال ہے۔ لوگ آپ کی مجلس میں عزت و احترام سے بیٹھتے، لیکن یہ سوچ کر آگے نہیں بڑھتے تھے کہ آپ ﷺ انہیں اٹھا کر آگے بٹھا دیں گے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجلس میں کسی ایک شخص کی لیے مخصوص جگہ نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر فرد کو جہاں جگہ ملے وہیں اطمینان سے بیٹھ جانا چاہیے۔ یہ عمل تکبر اور ریاکاری سے بچاتا ہے۔( مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 709)

4. مجلس میں جگہ کشادہ کرنا:اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: "اے ایمان والو! جب تم سے مجلسوں میں کہا جائے کہ کشادگی کرو تو کشادہ ہو جاؤ، اللہ تمہارے لیے کشادگی فرمائے گا۔"(سورۃ المجادلہ، آیت: 11)

علامہ نعیمی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس میں اہل ایمان کو مجلسوں میں باہمی ایثار اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ جب بھی نئے آنے والوں کے لیے جگہ تنگ ہو تو جو لوگ پہلے سے موجود ہیں انہیں چاہیے کہ وہ آپس میں سمٹ کر جگہ بنائیں تاکہ ہر کوئی آرام سے بیٹھ سکے۔ اس عمل سے ایک تو نئے آنے والوں کو شرمندگی سے بچایا جا سکتا ہے اور دوسرا، اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں کشادگی پیدا فرماتا ہے۔

(مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 711)

5. مجلس کے اختتام پر دعا پڑھنا:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے کسی مجلس میں زیادہ فضول باتیں کیں، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھے: "سبحانک اللہ م و بحمدک، اشہد ان لا الہ الا انت، استغفرک و اتوب الیک(سنن ترمذی، حدیث: 3433؛ سنن ابی داؤد، حدیث: 4857؛ مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 718)


الحمد للہ مجالس ذکر کی ہو یا کوئی اور ان تمام کے کچھ حقوق اور ضوابط ہوتے ہیں مجلس سے مراد ہر وہ جگہ ہے جہاں کچھ لوگ جمع ہو کسی مشورے یا ذکر کے لیے اور مجمع ضروری نہیں ہے ۔اسلام ہماری اس معاملے میں کیا رہنمائی کرتا ہے آئیے وہ ملاحظہ کرتے ہیں ۔

ذکر والوں کی مجلس :وَعَنْ أَبِي رَزِيْنٍ أَنَّهٗ قَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:أَلَا أَدُلُّكَ عَلٰى مِلَاكِ هٰذَا الْأَمْرِ الَّذِي تُصِيبُ بِهٖ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ عَلَيْكَ بِمَجَالِسِ أَهْلِ الذِّكْرِ وَإِذَا خَلَوْتَ فَحَرِّكْ لِسَانَكَ مَا اسْتَطَعْتَ بِذِكْرِ اللّٰهِ وَأَحِبَّ فِي اللّٰهِ وَأَبْغِضْ فِي اللّٰهِ يَا أَبَا رَزِيْنٍ هَلْ شَعَرْتَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ مَنْ بَيْتِهٖ زَائِرًا أَخَاهُ شَيَّعَهٗ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ كُلُّهُمْ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا إِنَّهٗ وَصَلَ فِيكَ فَصِلْهُ فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تُعْمِلَ جَسَدَكَ فِي ذٰلِكَ فَافْعَلْ ۔

ترجمہ :روایت ہے حضرت ابو رزین سے ان سے رسول الله نے فرمایا کہ کیا تمہیں اس چیز کی اصل پر رہبری نہ کروں جس سے تم دنیا و آخرت کی بھلائی پالو تم ذکر والوں کی مجلس اختیار کرو اور جب تم تنہائی میں ہو تو جہاں تک کرسکو اپنی زبان الله کے ذکر میں ہلاتے رہو اور الله کی راہ میں محبت کرو اور الله کی راہ میں عداوت کرو اے ابو رزین کیا تمہیں خبر ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر سے اپنی بھائی کی ملاقات کے لیے نکلتا ہے تو اسے ستر ہزار فرشتے پہنچاتے ہیں وہ تمام اس کے لیے دعا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ الٰہی اس نے تیری راہ میں جوڑا ہے تو اسے جوڑ دے تو اگر کرسکو کہ اپنے جسم کو اس میں مشغول کرو تو ضرور کرو ۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5025)

شرح حدیث : کون سی مجلسیں مراد :اس سے مراد علماء دین اولیاء کاملین صالحین کی مجلسیں ہیں کیونکہ یہ مجلسیں جنت کے باغات ہیں جیساکہ دوسری حدیث شریف میں ہے یہ مجلسیں خواہ مدرسے ہوں یا درس قرآن و حدیث کی مجلسیں یا حضرات صوفیاء کرام کی ذکر کی محفلیں یہ فرمان بہت جامع ہے جس مجلس میں الله کا خوف حضور کا عشق اور اطاعت رسول کا شوق پیدا ہو وہ مجلس اکسیر ہے۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:5025)

مجلس میں سلام کریں:وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا انْتَهٰى أَحَدُكُمْ إِلٰى مَجْلِسٍ فَلْيُسَلِّمْ فَإِنْ بَدَا لَهٗ أَنْ يَجْلِسَ فَلْيَجْلِسْ ثُمَّ إِذَا قَامَ فَلْيُسَلِّمْ فَلَيْسَتِ الْأُولٰى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ ۔ ترجمہ :روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی کہ فرمایا جب تم میں سے کوئی کسی مجلس تک پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنا چاہے تو بیٹھ جاوے پھر جب کھڑا ہو تو پھر سلام کرے کیونکہ پہلا سلام دوسرے سے زیادہ حق دار نہیں ۔(حوالہ شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

سلام کون کریں معلوم ہوا کہ آنے والا سلام کرے بیٹھے ہوؤں کو۔ یعنی اگر وہاں بیٹھنا نہ بھی ہو صرف گزر جانا ہو جب بھی سلام کرے اور اگر بیٹھنا ہو تب بھی سلام کرے۔ معلوم ہوا کہ راہ گیر یعنی گزرنے والا صرف ایک سلام کرے اور جو مجلس میں کچھ دیر ٹھہرے وہ دو سلام کرے ایک آنے کا دوسرا جانے کا۔ (حوالہ شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4660)

امیروں کی مجلس :وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ إِنْ أَرَدْتِ اللُّحُوقَ بِي فَلْيَكْفِكِ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ وَإِيَّاكِ وَمُجَالَسَةَ الْأَغْنِيَاءِ وَلَا تَسْتَخْلِقِي ثَوْبًا حَتّٰى تُرَقِّعِيهِ۔ ترجمہ :روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا اے عائشہ اگر تم مجھ سے ملنا چاہتی ہو تو تم کو دنیا سے اتنا کافی ہو جیسے سوار مسافر کا توشہ اور امیروں کی مجلس سے اپنے کو بچا ؤ اورکسی کپڑے کو پرانا نہ سمجھو حتی کہ اسے پیوند لگالو۔(حوالہ مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 , حدیث نمبر:4344)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اپنی مجلسوں کو پاکیزہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے  جس نے ہر کسی کے حقوق بیان فرماۓ ہیں جیسے والدین ، اولاد ، اساتذہ اور پڑوسی وغیرہ کے حقوق کو بیان فرمایا اسی طرح مجلس کے حقوق کو بھی واضح طور پر بیان فرمایا اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا آئیے اس کے متعلق کچھ احادیث ملاحظہ کررے ہیں۔

(1) کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ مت بیٹھو : حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے۔( مسلم ، کتاب الاسلام ، باب التحریم اقامت الانسان من موضعہ --- الخ ، ص : 923 ، ح : 5683 )

(2) لوٹنے والا اپنی جگہ کا زیادہ حقدار ہے : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مجلسِ سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔ ( مسلم ، کتاب الاسلام ، باب اذا قام من مجلسہ ثم عاد فھو احق بہ ، ص : 924 ، ح : 5689 )

(3) مجلس کے آخر میں بیٹھنا : حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہم جب حضور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جاتے۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی التحلق ، 339/4 ، ح : 4825 )

(4) دو کے درمیان گھس کر بیٹھنا حلال نہیں : حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے۔ ( ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی کراھیۃ الجلوس --- الخ ، 346/4 ، ح : 2761 )

(5) بہترین مجلس : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کہ بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی سعۃ المجلس ، 338/4 ، ح : 4820 )


مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھےبلکہ مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا حکم ہے ۔ ہمارے پیارے نبی نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتاتے ہیں ۔ ان میں سے چند ملاحظہ فرماتے۔

( 1 ) وسعت پیدا کرنا: حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بھٹے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور و سعت پیدا کرو- (مسلم، کتاب اسلام، بار تحریم اقامۃ الانسان من موقعہ الخ ص،924 حديث، 5686)

( 2)پہلی جگہ کاحقدار:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے ۔"(مسلم، کتاب السلام - باب اذا قام من مجلسه ثم عاد فھوا حق باهم ٬ص٬ 924، حدیث نمبر 56891)

(3)جہاں جگہ ملے بیٹھ جانا: حضرت سیدنا جابربن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: "ہم جب نبی کریم ﷺ کی مجلس میں جاتے تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جائے۔( ابوداود کتاب الادب، باب في التحلق جلد ، 4 ص، 379 ،حدیث 4825))

( 4)گردن نہ پھلانگنا: مجلس میں بیھٹے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائے۔ ( فیضان ریاض الصالحین ، جلد ، 6 ،ص،363)

(5) ذکر اللہ کرنا :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی سے تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا : " جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر کئے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے میں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔ (ابوداود کتاب الادب، باب كراهة ان يقوم الرجل من مجلسہ ولا بذکر الله جلد ، 4،ص، 347 حدیث - 4855)