فیصل
مختار (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اسلام
دینِ فطرت ہے، جس نے زندگی کے ہر پہلو کے لیے جامع ہدایات فراہم کی ہیں۔ یہ ہدایات
صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی آداب اور باہمی تعلقات کی بہتری پر بھی زور
دیتی ہیں۔ اسی سلسلے میں، ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے یا مجلس (محفل) کے آداب کو بڑی
اہمیت دی گئی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی تعلیمات اور سنت کے ذریعے ان آداب کا
عملی نمونہ پیش کیا، جو ہمیں ایک دوسرے کا احترام کرنے اور محبت و اخوت کے رشتے کو
مضبوط بنانے کا درس دیتے ہیں۔
مجلس
کے آداب اور حقوق کی پیروی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ یہ آداب نہ صرف
افراد کے درمیان عزت و وقار کا احساس پیدا کرتے ہیں بلکہ مجلس میں مثبت اور مفید
گفتگو کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ اکھٹے بیٹھنے کے یہ اصول ہمیں یہ سکھاتے ہیں
کہ ایک دوسرے کے ذاتی حریم کا خیال کیسے رکھا جائے، دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے کیسے
بچا جائے، اور اجتماعی طور پر کیسے سکون اور اطمینان حاصل کیا جائے۔
آنے
والی گفتگو میں، ہم ان اہم احادیث کا جائزہ لیں گے جو ہمیں مجلس کے آداب سکھاتی ہیں۔
1. بلا ضرورت کسی کی جگہ سے نہ
اٹھنا:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم نبی
اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ہر ایک وہیں بیٹھ جاتا جہاں اسے جگہ ملتی۔ (سنن ابی داؤد، حدیث: 4851؛ سنن
ترمذی، حدیث: 2729؛ مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 709)
علامہ
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں کہ یہ عمل
آپ ﷺ کی سادگی اور تواضع کی ایک واضح مثال ہے۔ لوگ آپ کی مجلس میں عزت و احترام
سے بیٹھتے، لیکن یہ سوچ کر آگے نہیں بڑھتے تھے کہ آپ ﷺ انہیں
اٹھا کر آگے بٹھا دیں گے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مجلس میں کسی ایک شخص کی
لیے مخصوص جگہ نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہر فرد کو جہاں جگہ ملے وہیں اطمینان سے بیٹھ
جانا چاہیے۔ یہ عمل تکبر اور ریاکاری سے بچاتا ہے۔( مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ:
709)
4. مجلس میں جگہ کشادہ کرنا:اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا
ہے: "اے ایمان والو! جب تم سے مجلسوں میں کہا جائے کہ کشادگی کرو تو کشادہ ہو جاؤ، اللہ تمہارے لیے
کشادگی فرمائے گا۔"(سورۃ المجادلہ، آیت: 11)
علامہ
نعیمی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس میں اہل ایمان کو مجلسوں میں باہمی ایثار
اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے۔ جب بھی نئے آنے والوں کے لیے جگہ تنگ ہو تو جو لوگ
پہلے سے موجود ہیں انہیں چاہیے کہ وہ آپس میں سمٹ کر جگہ بنائیں تاکہ ہر کوئی آرام
سے بیٹھ سکے۔ اس عمل سے ایک تو نئے آنے والوں کو شرمندگی سے بچایا جا سکتا ہے اور
دوسرا، اللہ کی رضا بھی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ ایسے لوگوں کے لیے دنیا اور آخرت میں
کشادگی پیدا فرماتا ہے۔
(مرآۃ
المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 711)
5. مجلس کے اختتام پر دعا پڑھنا:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے کسی مجلس میں زیادہ
فضول باتیں کیں، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھے: "سبحانک اللہ م و
بحمدک، اشہد ان لا الہ الا انت، استغفرک و اتوب الیک"۔(سنن ترمذی، حدیث: 3433؛ سنن ابی
داؤد، حدیث: 4857؛ مرآۃ المناجیح، جلد: 6، صفحہ: 718)
Dawateislami