اویس
علی عطا ری (درجہ ثانیہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
مجلس
میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی
جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھےبلکہ مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا حکم
ہے ۔ ہمارے پیارے نبی نے اپنے صحابہ کو مجلس میں بیٹھنے کے آداب بھی بتاتے ہیں ۔
ان میں سے چند ملاحظہ فرماتے۔
(
1 ) وسعت پیدا کرنا: حضرت سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے
روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی
دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بھٹے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور و سعت
پیدا کرو- (مسلم، کتاب اسلام، بار تحریم اقامۃ الانسان من موقعہ الخ ص،924 حديث،
5686)
(
2)پہلی جگہ کاحقدار:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ
تعالٰی عنہ سے روایت ہےکہ حضور نبی کریم ﷺ
نے ارشاد فرمایا: "جب تم میں سے کوئی
شخص مجلس سے اٹھ کر جائے پھر واپس آئے تو وہ ہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے
۔"(مسلم، کتاب السلام - باب اذا قام من مجلسه ثم عاد فھوا حق باهم ٬ص٬ 924،
حدیث نمبر 56891)
(3)جہاں
جگہ ملے بیٹھ جانا: حضرت سیدنا جابربن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:
"ہم جب نبی کریم ﷺ کی مجلس میں جاتے
تو جہاں مجلس ختم ہوتی وہیں بیٹھ جائے۔( ابوداود کتاب الادب، باب في التحلق جلد ،
4 ص، 379 ،حدیث 4825))
(
4)گردن نہ پھلانگنا: مجلس میں بیھٹے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائے۔
( فیضان ریاض الصالحین ، جلد ، 6 ،ص،363)
(5)
ذکر اللہ کرنا :حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی سے تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ
رسول پاک ﷺ نے فرمایا : " جو لوگ
اللہ عزوجل کا ذکر کئے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش
پر سے اٹھتے میں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔ (ابوداود کتاب الادب،
باب كراهة ان يقوم الرجل من مجلسہ ولا بذکر الله جلد ، 4،ص، 347 حدیث - 4855)
Dawateislami