مجلس انسان کی معاشرتی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں لوگ بیٹھ کر گفتگو کرتے ہیں، اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی صحبت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مجلس کے کچھ آداب اور حقوق ہوتے ہیں جن کا خیال رکھنا معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے لیے ضروری ہے۔

سب سے پہلا حق یہ ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے وقت اجازت لینا اور سلام کرنا چاہیے۔ اس سے مجلس میں بیٹھے ہوئے افراد کو احساس ہوتا ہے کہ آنے والا شخص عزت و احترام کے ساتھ شامل ہوا ہے۔ اسی طرح، مجلس میں بیٹھنے کے لیے مناسب جگہ اختیار کرنا چاہیے اور اگر کوئی بڑی عمر یا معزز شخصیت موجود ہو تو انہیں آگے بیٹھنے کا موقع دینا چاہیے۔

مجلس میں گفتگو کے دوران آواز کا لہجہ نرم اور مناسب ہونا چاہیے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ ہو۔ کوئی بات کرتے وقت دوسروں کی بات نہ کاٹی جائے اور سب کو بولنے کا موقع دیا جائے۔ اگر کوئی شخص بات کر رہا ہو تو پوری توجہ سے سننا بھی مجلس کا حق ہے۔

مجلسوں میں جگہ کی کشادگی:مجلسوں میں بیٹھنے کے بہت سے آداب ہیں اس حوالے سے ایک آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیں رب العالمین فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنزالایمان: ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( سورۃ المجادلۃ(58) آیت(11)

اس آیت سے معلوم ہو اکہ ایک مسلمان کا اپنے دوسرے مسلمان بھائی کی تعظیم کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پیارا ہے کیونکہ اس پر اللہ تعالیٰ نے اجرو ثواب کا وعدہ فرمایا ہے لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ ایک دوسرے کی تعظیم کیا کریں ۔

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’بوڑھے مسلمان کی تعظیم کرنا اور اس حاملِ قرآن کی تعظیم کرناجو قرآن میں غُلُو نہ کرے اور ا س کے احکام پر عمل کرے اور عادل سلطان کی تعظیم کرنا، اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنے میں داخل ہے ۔( ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۴، الحدیث: ۴۸۴۳)

مجلس کے آداب:مجلس کے آداب کے حوالے سے کچھ نکات ملاحظہ فرمائیں جیسے کہ

(1) کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔ (سنن ابی داود، كتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير اذنهما، الحديث:٤٨٤٤-٠٤٨٤٥ ج ٤ ، ص ٣٤٤)

(2) جب تم بیٹھو تو اپنے جوتے اتار لو تمہارے قدم آرام پائیں گے ۔ (كنز العمال، كتاب الصحبة، قسم الأقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث: ٠٢٥٣٩٠ ج ۹، ص ٥٩)

جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے ) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق و حقدار ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع، الحديث ٤٨٥٣ ، ج ٤ ، ص ٣٤٦)

ان ارشادات سے ہمیں معلوم ہوا کہ ہمیں مجلس میں ایک دوسرے کی جگہ کا خیال کرنا چاہیے اور جب مجلس ختم ہو تو خاموشی سے اور بغیر شور شرابے کے اٹھنا چاہیے اور جاتے وقت بھی دعا یا نیک خواہشات کے ساتھ رخصت ہونا چاہیے۔ اس طرح مجلس میں آنے اور جانے کا تاثر خوشگوار رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ


مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے نہ اس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے نہ ہی کسی کو تکلیف دے بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں ہی اطمینان سے بیٹھ جائے اور کشادگی پیدا کرے ہمارے نبی کریم  ﷺ اپنے صحابہ کو بہت سی جگہوں پر مجلس میں بیٹھنے کے آداب بتایا کرتے تھے آئیے ان میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں۔

(1): گردنیں پھلانگنا:مجلس میں بیٹھے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے جانا برا ہے۔ ﴿فیضان ریاض الصالحین جلد نمبر :6 صفحہ نمبر:363﴾

(2) مجلس میں کشادگی پیدا کرنا:حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے ، تم مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرو( راوی کہتے ہیں) اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے۔ (مسلم ٬کتاب الاسلام٬ باب تحریم اقامت الانسان عن موضعہ ۱لخ٬ صفحہ نمبر:942 حدیث نمبر:5782﴾

(3) :ذکر کے بغیر مجلس سے اٹھ جانا:حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی عنہ نے ارشاد فرمایا٫ جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر کیے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔(ابو داؤد٬ کتاب الادب٫ باب کراھتہ ایقوم الرجل من مجلسہ ولا بذکرللہ جلد:4 صفحہ نمبر:347 حدیث نمبر:4855)

(4): مجلس میں پہنچنے کا عمل:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں پہنچے تو سلام کرے پھر اگر بیٹھنے کی ضرورت ہو تو بیٹھ جائے اور جب چلنے لگے تو دوبارہ سلام کرے۔(سنن ترمزی_کتاب السنئدان والادب: حدیث نمبر:2715 جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:324)

(5): اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت ہوگی:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کسی مجلس میں بیٹھے اور اللہ عزوجل کا ذکر نہ کرے تو وہ اس کے لیے اللہ عزوجل کی طرف سے حسرت و خسارہ ہوگی اور جو کسی جگہ لیٹے اور ذکر الہی نہ کرے تو اس کے لیے بھی اللہ عزوجل کی طرف سے ندامت ہوگی۔(ابو داؤد٬کتاب الاب٫باب کراھیتہ ان یقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکرللہ٬ جلد نمبر:4 صفحہ نمبر:347 حدیث نمبر:4857)


اللہ کریم کی ذات بلند و برتر جو جمیع مخلوقات کی خالق ، رازق اور مالک  ہے ، اپنی اطاعت کی سب سے زیادہ حقدار ہے ۔ جیسے دین اسلام نے والدین ، اولاد ، اساتذہ ، پڑوسی ، وغیرہ کے حقوق کو بیان فرمایا اسی طرح مجلس کے حقوق کو بھی واضح طور پر بیان فرمایا اور ان کو ادا کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا آئیے مجلس کے حقوق کے بارے جانتے ہیں۔

(1) دو کے درمیان گھس کر نہ بیٹھو :حضرت سیدنا عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ اپنے والد سے اور ان کے والد اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا : کسی کے لیے یہ حلال نہیں کہ دو آدمیوں کے درمیان ان کی اجازت کے بغیر بیٹھ جائے۔ ( ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جاء فی کراھیۃ الجلوس --- الخ ، 346/4 ، ح : 2761 )

(2) لوگوں کے بیچ گھس کر بیٹھنے والا ملعون :حضرت سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب الجلوس وسط الحلقۃ ، 338/4 ، ح : 4826 )

( 3 ) بہترین مجلس : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔ ( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب فی سعۃ المجلس ، 338/4 ، ح : 4820 )

(4) مجلس میں ہونے والے گناہوں کی معافی : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھا جس میں بے فائدہ باتیں زیادہ ہوں پھر اس شخص نے مجلس سے اٹھنے سے پہلے یہ کہا : " اے اللہ تو پاک ہے تیرے لیے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں ـ" تو اس شخص سے مجلس میں سرزد ہونے والے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔( ترمذی ، کتاب الدعوات ، باب ما یقول اذا قسم من مجلسہ ، 273/5 ، ح : 3444 )

(5) حسرت والی مجلس : حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا : " جو لوگ اللہ عزوجل کا ذکر کئے بغیر مجلس سے اٹھ جاتے ہیں تو گویا کہ وہ مردار گدھے کی لاش پر سے اٹھتے ہیں اور یہ مجلس ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگی۔( ابو داؤد ، کتاب الادب ، باب کراھیۃ ان یقوم الرجل من مجلسہ ولا یذکر اللہ ، 347/4 ، ح : 4855 )


انسان فطری طور پر دوسروں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہے اور تنہائی سے گھبراہٹ محسوس کرتا ہے۔ اسی لیے وہ گھر میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھنا، دفتر میں ساتھیوں کے ساتھ وقت گزارنا، اور کبھی کبھی دینی یا سماجی محفلوں میں بھی شامل ہونا پسند کرتا ہے۔ لیکن ان مجالس کا اصل فائدہ اور ان کی حقیقی خوشی تب سامنے آتی ہے جب وہاں کچھ اصول اور آداب کا خیال رکھا جائے۔ یہ آداب صرف رسم و رواج یا دنیاوی تہذیب کی بات نہیں بلکہ ان کی بنیاد قرآنِ کریم اور نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر ہیں۔ اگر ان اصولوں کو اپنایا جائے تو نہ صرف محفل خوشگوار بن جاتی ہے بلکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے برکت اور خیر بھی شامل ہو جاتی ہے۔

1. فائدہ مند گفتگو کرنا: جب لوگ کسی مجلس میں اکٹھے ہوں تو وہاں ایسی باتیں کی جائیں جو سب کے لیے فائدہ مند ہوں۔ گفتگو میں علم، نصیحت، اچھے مشورے یا خوش اخلاقی کے پہلو ہوں تاکہ ہر شخص کو کچھ سیکھنے اور اچھا سننے کا موقع ملے۔ مجلس کو فضول باتوں، ہنسی مذاق میں وقت ضائع کرنے یا کسی کی برائی اور غیبت سے بچایا جائے، کیونکہ اس طرح نہ صرف ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات گناہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ محفل کی گفتگو مثبت، اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والی ہو۔

2. جگہ کشادہ کرنا: جب کوئی نیا شخص مجلس میں آئے تو اس کے لیے خوش دلی کے ساتھ جگہ بنائی جائے۔ اگر مجلس میں بھیڑ ہو تو ذرا سا سرک جانا یا اپنی نشست کو آگے پیچھے کر لینا بھی اس کے لیے آسانی پیدا کر دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف آنے والے کو عزت و قدر کا احساس ہوتا ہے بلکہ مجلس کا ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے۔ یہ عمل آپس میں محبت بڑھانے اور ایک دوسرے کا احترام کرنے کی نشانی ہے۔

جیساکہ نبی کریم ﷺ نے بھی اس کی تعلیم ارشاد فرمائی۔ "نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا"ترجمہ: نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے، بلکہ تم لوگ کشادگی کرو اور وسعت اختیار کرو۔( صحيح البخاري، ج ٨، ص ٦١، حدیث ٦٢٧٠)

وضاحت اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب کوئی شخص محفل میں آئے تو اس کے لیے جگہ بنانا ایک اچھا اسلامی طریقہ ہے۔ اس سے آنے والے کو اہمیت اور عزت ملتی ہے اور دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت بڑھتی ہے۔ اگر ہر کوئی دوسروں کے لیے تھوڑی سی جگہ بنا دے تو محفل کا ماحول خوشگوار ہو جاتا ہے اور سب کو سکون اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔

3. خاموشی اور توجہ: جب کوئی شخص مجلس میں بات کر رہا ہو تو دوسروں کو چاہیے کہ خاموش رہیں اور پوری توجہ کے ساتھ اس کی بات سنیں۔ درمیان میں ٹوکنے یا اپنی رائے زبردستی شامل کرنے سے نہ صرف بات کرنے والے کو تکلیف ہوتی ہے بلکہ مجلس کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔ اگر ہر کوئی ایک دوسرے کی بات سکون سے سن لے تو نہ صرف بات سمجھنا آسان ہو جاتا ہے بلکہ سب کو اپنی بات کہنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ یہ عادت مجلس کو پر سکون اور باوقار بناتی ہے۔

4. سلام اور مسکراہٹ: جب کوئی شخص مجلس میں داخل ہو تو سب سے پہلے سلام کرے اور خوش اخلاقی کے ساتھ مسکرا کر ملے۔ اس طرح نہ صرف محفل میں محبت اور اپنائیت کا ماحول بنتا ہے بلکہ دلوں میں خوشی اور سکون بھی پیدا ہوتا ہے۔ سلام کرنے سے برکت آتی ہے اور مسکراہٹ دوسروں کو اپنی جانب مائل کر لیتی ہے۔ یہ دونوں چیزیں مجلس کو خوشگوار اور دوستانہ بنانے کے بہترین طریقے ہیں۔

جیساکہ نبی کریم ﷺ کے ارشاد فرمایا:"تَبَسُّمُكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ لَكَ صَدَقَةٌ"ترجمہ تمہارا اپنے بھائی کے چہرے کو دیکھ کر مسکرانا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔( سنن الترمذی، ج ۴، ص ٣٣٩، حدیث ١٩٥٦)

وضاحت جب آپ کسی سے ملیں اور اسے دیکھ کر مسکرا دیں تو یہ ایک نیکی شمار ہوتی ہے۔ مسکراہٹ ایک چھوٹی سی چیز ہے لیکن اس سے دوسروں کے دل خوش ہو جاتے ہیں اور ماحول میں پیار و محبت پیدا ہوتا ہے۔ اسلام میں ہر وہ کام جس سے دوسروں کو خوشی یا فائدہ پہنچے، اسے صدقہ کہا گیا ہے۔ اس لیے بغیر کسی خرچ کے صرف مسکرا دینا بھی اللہ کے ہاں نیکی کا درجہ رکھتا ہے۔

5. امانت داری: اگر کوئی شخص کسی مجلس میں کوئی بات کرے تو اس بات کو وہیں تک رکھنا چاہیے اور اسے دوسروں تک نہیں پہنچانا چاہیے۔ جب کوئی کسی پر بھروسہ کرکے اپنی بات بیان کرے اور وہ آگے پھیلا دی جائے تو اس سے نہ صرف اعتماد ٹوٹ جاتا ہے بلکہ تعلقات بھی خراب ہو جاتے ہیں۔ البتہ اگر وہ بات دین کے خلاف ہو یا کسی برے اور غلط کام پر مشتمل ہو تو اس کے بارے میں خاموش رہنا درست نہیں بلکہ روکنا یا متعلقہ لوگوں کو بتانا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ عام طور پر مجلس کی بات کو راز رکھنا ہی اصل دیانت داری اور اچھا اخلاق ہے، اور یہی رویہ تعلقات میں محبت اور بھروسہ بڑھاتا ہے۔

6. وقت کی پابندی: مجلس میں وقت کا خاص خیال رکھنا چاہیے تاکہ کسی کو مشکل پیش نہ آئے۔ محفل ایسے وقت میں نہ رکھی جائے جب لوگ آرام کر رہے ہوں یا کسی ضروری کام میں مصروف ہوں۔ اسی طرح بات چیت کو ضرورت سے زیادہ نہ بڑھایا جائے کیونکہ بہت زیادہ دیر تک بیٹھنے سے لوگ تھک جاتے ہیں اور دلچسپی بھی کم ہو جاتی ہے۔ جب مجلس وقت پر شروع ہو اور مناسب وقت پر ختم ہو تو سب کو سکون اور سہولت ملتی ہے، محفل خوشگوار رہتی ہے اور کسی پر بوجھ نہیں بنتی۔ اس لیے بہتر ہے کہ مجلس مختصر، مفید اور مقصد کے مطابق ہو تاکہ سب کے لیے فائدہ اور آسانی کا سبب بنے۔

انسان کی زندگی میں مجالس کی بڑی اہمیت ہے کیونکہ یہ نہ صرف تعلقات مضبوط کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ علم، تجربہ اور خوشگواری بانٹنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔ لیکن ان کی اصل خوبی تب ہی سامنے آتی ہے جب ان میں آداب اور حقوق کا خیال رکھا جائے، مثلاً اچھی بات کرنا، دوسروں کی عزت کرنا اور وقت کی پابندی کرنا۔ اگر مجلس میں یہ اصول اپنائے جائیں تو وہ خیر و برکت اور محبت کا ذریعہ بن جاتی ہے، لیکن اگر ان میں بدزبانی کی جائے، دوسروں کے حقوق پامال کیے جائیں یا لاپرواہی برتی جائے تو ایسی مجالس فائدے کے بجائے نقصان پہنچاتیں ہیں اور تعلقات کو کمزور کر دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری مجالس کو خیر و برکت، محبت اور ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ آمین


دین اسلام جس طرح معاشی زندگی گزارنے کے حصول و ضوابط بیان کرتا ہے ایسے ہی معاشرتی زندگی میں بہتری کے طریقے بھی بیان کرتا ہے ان میں سے ایک مجلس کے حقوق کے  بھی ہیں حضور ﷺ نے مجلس کی اہمیت بیان فرمائی ہے آئیے چند حقوق مجلس کے بارے میں ملاحظہ فرمائیے۔

(1)ایک شخص نے حضرت حسن بصری رحمۃُ اللہ علیہ کی خدمت میں دل کی سختی کی شکایت کی توآپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : ذکر کی مجلسوں میں حاضر ہوا کرو۔ ( احیاء العلوم ، جلد1 صفحہ نمبر 460)

(2)حضرت عون بن عبداللہ بن عتبہ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : میں مالداروں کی مجلسوں میں بیٹھتا تھا تو میں ہمیشہ غمگین رہتاتھا کیونکہ میں اپنے کپڑوں سے زیادہ اچھے کپڑے دیکھتااور اپنی سواری سے اچھی سواری دیکھتا تھا جب میں نے فُقرا کی صحبت اختیار کی تو آرام محسوس کیا۔(احیاء العلوم جلد 2 صفحہ نمبر 853)

(3)حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : جو قوم کسی مجلس میں بیٹھے پھر اُس میں نہ اللہ پاک کا ذِکر کرے اور نہ ہی اُس کے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم پر دُرُود پاک پڑھے تو قیامت کے دن وہ مجلس ان کے لئے باعثِ حسرت ہوگی۔پھر اگراللہ پاک چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو انہیں بخش دے۔(ترمذی جلد 5 صفحہ نمبر 247 حدیث نمبر 3391)

(4)حضرت سعید بن مسیَب رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جو مسجد میں بیٹھتا ہے گویا وہ اللہ پاک کی مجلس میں بیٹھتا ہے لہٰذا اسے بھلائی کے سوا کوئی اور بات نہیں کرنی چاہئے۔(احیاء العلوم جلد 1 صفحہ نمبر 207)

اللہ پاک ہم سب کو ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


ہمارا دین اسلام ہے جو ہمیں ہر چیز کے حقوق سکھاتا ہے جن میں مجلس کے حقوق بھی شامل ہیں ہمیں مجلس میں کس طرح اٹھنا چاہیے ،بیٹھنا چاہیے، مجلس میں کس طرح گفتگو کرنی چاہیے آئیے قران و حدیث کی روشنی میں مجلس کہ متعلق جانتے ہیں:

1.حضرت جابر بن سمرہ نے فرمایا جب نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا ۔(سنن ابی داؤد کتاب الدب باب فی اتحاق الحدیث 4725ج4ص339)

2.جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر واپس جلد لوٹ کر آئے تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ مستحق ہے ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب اذاقام الرجل من مجلس ثم رجع الحدیث (4735ج4ص346)

3.اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں سر کوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچائے گی ۔ (سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التناجی الحدیث 4751ج4ص346)

ان احادیث کریمہ میں جو تعلیمات بیان ہوئی ہیں جو حقوق بیان ہوئے ہیں ہمیں چاہیے ان پر عمل کریں اور دونوں جہاں کی برکتیں سعادتیں حاصل کریں اللہ تعالی ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔


اسلام ایک ایسا دین ہے جو فرد کیساتھ ساتھ معاشرتی زندگی کے اصول بھی سکھاتا ہے۔ انسان جب دوسروں کے ساتھ بیٹھتا ہے تو اس کو مجلس کہتے ہیں۔ شریعت نے مجلس کے بھی آداب اور حقوق بیان کیے ہیں تاکہ محبت، عزت اور سکون قائم رہے۔ آئیے آج ہم مجلس کے حقوق کے بارے بارے میں سیکھتے ہیں۔

مجلس میں جگہ دو : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ (المجادلۃ: 11)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْجَرْجَرَائِيُّ،‏‏‏‏ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَةَ بْنَ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ ديِنَارٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هَاشِمٍ،‏‏‏‏عَنْ أَبِي الْعَالِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ بِأَخَرَةٍ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ مِنَ الْمَجْلِسِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ،‏‏‏‏ فَقَالَ رَجُلٌ، ‏‏‏‏‏‏يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكَ لَتَقُولُ قَوْلًا مَا كُنْتَ تَقُولُهُ فِيمَا مَضَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَفَّارَةٌ لِمَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ

ترجمہ:ابوبرزہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مجلس سے اٹھنے کا ارادہ کرتے، تو آخر میں فرماتے: سبحانک اللهم وبحمدک أشهد أن لا إله بس ادھر إلا أنت أستغفرک وأتوب إليك تو ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ایسا کلمہ کہتے ہیں جو پہلے نہیں کہا کرتے تھے، آپ نے فرمایا: یہ کفارہ ہے ان (لغزشوں) کا جو مجلس میں ہوجاتی ہیں ۔ (سنن ابوداؤد،کتاب: ادب کا بیان،باب: مجلس میں کیے ہوئے صغارہ کا کفارہ،حدیث نمبر: 4859)

مذکورہ آیت اور حدیث سے ہم نے یہ جانا کہ جب مجلس میں جائیں تو جگہ دینی چاہیے اور مجلس سے اٹھنے کی دعا پڑھنی چاہیے اللہ تعالی ہمیں مجلس کے حقوق جاننے ،عمل کرنے اور دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔


دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس دین نے ہماری ہر معاملے میں رہنمائی اور تربیت فرمائی ہے اور ہر چیز کے حقوق کو آداب بھی بتائے ہیں یہاں تک کہ مجلس کے حقوق و آداب بھی بتائے ہیں مجلس میں حاضر ہوتے وقت تمام آداب کا لحاظ رکھنے کے بارے میں بھی مکمل تلقین کی ہے جس سے دوسروں کو تکلیف نہ ہو ہم دوسروں کو تنگ نہ کریں ۔مجلس کے حقوق درج ذیل ہیں:

مجلس میں بیٹھنے کے آداب:حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو ہم میں سے جو آخر میں آتا وہ آخر میں بیٹھ جاتا تھا۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التحلق حدیث نمبر 4825 صفحہ 339 جلد4)

مجلس میں بات کرنے کے اداب:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر دو شخص آپس میں مجلس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ بات اس کو رنج پہنچ جائے گی۔(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی التناجی حدیث نمبر 4851 جلد4 صفحہ 346)

مجلس کی اقسام:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجلس کی تین قسمیں ہیں:

1- غانم وہ مجلس ہے جس میں اللہ تعالی کا ذکر ہو۔

2-سالم وہ مجلس ہے جس میں خاموشی ہو یعنی بے ہدا اور خلاف شرع بات نہ ہو۔

3-شاجب وہ مجلس ہے جس میں باطل بحثیں ہوں۔(کنز الاعمال کتاب الصحیہ قسم الاول حدیث نمبر25446 جلد9 صفحہ 63)

ہمیں چاہیے کہ ہم مجلس کے حقوق کا بھرپور خیال رکھیں اور اس طرح جب بھی مجلس خیر میں جائیں تو وہاں پر کسی کو بھی تکلیف نہ پہنچائیں اور ان کے تمام اصول و ضابط کو مد نظر رکھیں اس طرح ہم دوسروں کو تکلیف دینے سے بچ سکتے ہیں اور مجلس کے حقوق کو بھی اسلامی طریقے سے ادا کرے گے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں مجلس کے حقوق و اداب کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کو احسن طریقے سے سنوارتا ہے۔ انسانی اجتماعیت میں مجالس (محفلیں، نشستیں) ایک خاص اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ یہی وہ حلقے ہیں جہاں خیالات کا تبادلہ، تعلیم و تعلم، مشاورت اور آپس میں اُنس و محبت پروان چڑھتی ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ میں مجالس کے آداب اور ان کے حقوق پر بارہا تاکید کی گئی ہے تاکہ یہ محفلیں خیر و برکت، اخوت و اتحاد اور نیکی کے فروغ کا ذریعہ بنیں نہ کہ گناہ، غیبت، لغو باتوں یا کسی کی دل آزاری کا سبب۔

ہر مجلس میں اللہ پاک کا ذکر کرو: جو لوگ مجلس سے اُٹھ جائیں اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کریں، تو وہ ایسے اٹھے جیسے گدھے کی لاش اور وہ (مجلس) ان پر (قیامت کے دن ) حسرت ( کا باث ) ہوگی ۔ (سنن ابی داود، کتاب الادب، باب كراهية ان يقوم الرجل من مجلسہ ولا يذكر الله الحديث : ٠٤٨٥٥ ج ٠٤ ص ٣٤٧)

ایک مجلس میں کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے: کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔(سنن ابی داود، کتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرجلين بغير اذنهما، الحديث |٤٨٤٤-٤٨٤٥، ج ٤ ، ص ٣٤٤)

اسلام نے مجالس کے حقوق و آداب واضح کر دیے ہیں تاکہ ہر مسلمان اپنی نشست و برخاست میں عدل، انصاف، احترام اور بھائی چارے کو ملحوظ رکھے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی مجالس کو ایسی محفلوں میں بدلیں جو رحمتِ الٰہی کو جذب کرنے والی ہوں اور امتِ مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کا ذریعہ بنیں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ مجلس کے حقوق کی پاسداری دراصل اسلام کے اخلاقی و سماجی نظام کی روح ہے، اور ان کی رعایت ہر مسلمان کے لیے باعثِ عزت، کامیابی اور قربِ الٰہی کا وسیلہ ہے۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو نظم و ضبط میں لاتا ہے۔ انسان کی سوسائٹی میں زندگی گزارنے کے آداب بھی اسلام نے واضح کیے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم پہلو "مجلس" یعنی کسی محفل یا مجلس میں بیٹھنے کے آداب و حقوق ہیں۔ قرآن و حدیث میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان اپنی گفتگو، نشست و برخاست، اور برتاؤ میں حسنِ اخلاق، عزت و احترام اور عدل و مساوات کو ملحوظ رکھے۔ آئیے ہم مجلس کے حقوق کے بارے میں جانتے ہیں ۔

1. سلام سے آغاز: جب کوئی مجلس میں داخل ہو تو سب سے پہلے سلام کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ سلام امن و محبت کا پیغام ہے، اور اس سے مجلس میں خیر و برکت آتی ہے۔

2. اجازت سے بیٹھنا: مجلس میں داخل ہوتے ہی بغیر اجازت یا جلد بازی میں کسی خاص جگہ پر نہ بیٹھے۔ اگر پہلے سے لوگ موجود ہوں تو خالی جگہ تلاش کرے، یا اجازت طلب کرے۔

3. بات چیت میں اخلاق: مجلس میں گفتگو کرتے وقت نرمی، سچائی اور اچھے الفاظ کا استعمال کیا جائے۔ طعن و تشنیع، جھوٹ، چغلی یا غیبت سے پرہیز کرنا چاہیے۔

4. بس غور سننا: اگر کوئی بات ہو رہی ہو تو اسے توجہ سے سننا چاہیے۔ کسی کی بات کاٹنا یا خود کو زیادہ نمایاں کرنے کی کوشش کرنا مجلس کے آداب کے خلاف ہے۔

آئیے ہم اور کتابوں سے جانتے ہیں مختلف اقوال مندرجہ ذیل ہیں:

(1) کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور اس کی خوشنودی کے لئے وہ لوگ جگہ میں وسعت کر دیں تو اللہ تعالی رح ہے (اس معنی میں کہ وہ اپنے فضل وکرم سے ایسا کرے یں ہیں کہ الہ تعالی پر واجب وضروی ہو کیونکہ ال عال ہے نیا ہے اور طرح کی مناتی ہے منزہ و میرا ہے ) کہ ان کو راضی کرے۔ (كنز العمال، كتاب الصحۃ قسم الأقوال، حق المجالس والحلوى الحديث ، ٢٥٣٧، ٩ ص ٥٨) (ترجمہ غلط)

(2) کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت ہے۔ اور دوسری کے روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی ) اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے۔(سنن ابی داود کتاب الادب، باب في الرجل يجلس بين الرحلين بغير اذنهما، الحديث: ٤٨٤٤ - ٤٨٤٥، ج ٤ ، ص ٣٤٤)

(3) جب تم بیٹھو تو اپنے جوتے اتار لو تمہارے قدم آرام پائیں گے۔ (کنز العمال، كتاب الصحبة، قسم الأقوال، حق المجالس والجلوس، الحديث : ٠٢٥٣٩٠ ج ۹، ص ٥٩)

(4) جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے پھر وہ واپس لوٹ کر آئے (یعنی جب کہ جلد ہی لوٹ آئے ) تو اپنی جگہ کا وہی زیادہ حق و حقدار ہے۔ (سنن ابی داود کتاب الادب، باب اذا قام الرجل من مجلس ثم رجع، الحديث ٤٨٥٣، ج 4، ص ٣٤٦)

مجلس کے آداب اور حقوق کی رعایت ایک مہذب اور اخلاقی معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔ جو قومیں ان اصولوں کو اپناتی ہیں، وہاں محبت، ادب، اتحاد اور حسنِ سلوک کو فروغ ملتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مجالس کو علم، ادب، ذکر اور خیر سے بھر دیں۔دعا ہے اللہ ہمیں اپنی مجالس کو باادب، باوقار اور بامقصد بنانے کی توفیق عطا فرما، اور ہمیں نبی ﷺ کے اخلاق و آداب پر عمل پیرا ہونے والا بنا دے۔ آمین یا رب العالمین۔


اسلام دین فطرت ہے جو انسان کو معاشرتی زندگی کے تمام پہلوؤں میں رہنمائی دیتا ہے۔ چونکہ انسان دوسروں سے بھی میل جول رکھتا ہے اور مجالس میں بھی جاتا ہے اس لیے مجالس کے بھی کچھ آداب و حقوق مقرر کیے گئے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

(1)کسی کو اس کی جگہ سے نہ اُٹھانا :حضور اقدس صلی اللہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر بیٹھ جائے ۔(صحیح مسلم صفحہ 923 ، حدیث 5683)

(2)مرتبہ کے مطابق بیٹھاتا :حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے حضور پرنور ﷺ نے ارشاد فرمایا : کہ لوگوں کو ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق بٹھاؤ۔(ابو داؤد جلد 4 صفحہ 343 حدیث 4842)

(3) آنے والے کو جگہ دینا:قرآن پاک میں اللہ تعالٰی نے فرمایا : ترجمہ : اے ایمان والو!جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کروه کردو الله تمہارے لیے جگہ کشادہ فرمادے گا۔

(پارہ 28 سورة المجادلة آيت 11 )

(4) سلام کرنا :مجلس میں داخل ہونے وقت اور نکلتے وقت سلام کرنا رسول الله صلی الہ وسلم نے فرمایاجب تم میں سے کوئی مجلس میں آئے تو سلام کرے اور اُٹھے تو بھی سلام کرے پہلا سلام آخری سلام سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔(ترمذی، حدیث 2706)

(5)مجلس کی امانت داری:جو بات مجلس میں ہو وہ باہر نہ پھیلائی جائے یہ امانت ہے۔ رسول الله صلی اللہ وسلم نے فرمایا مجالس امانت ہیں سوائے اس مجلس کے جس میں گناہ یا ظلم کی بات ہو۔(ابو داؤد حدیث 4869)


اسلام ایک ایسا دین ہے جو نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی کے آداب و حقوق بھی واضح کرتا ہے۔ انسان چونکہ ایک معاشرتی مخلوق ہے، اس لیے اس کی زندگی میں مجالس کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اسلام نے مجلس کو محض وقت گزاری یا گفتگو کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اس کے آداب، مقاصد اور حقوق بھی متعین کیے تاکہ ایک پرامن، بااخلاق اور باادب ماحول قائم ہو۔

قرآن و حدیث میں مجالس کے آداب اور ان میں بیٹھنے، بولنے، سننے اور دوسروں کے احترام کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں بھی مجالس کے آداب کی تعلیمات موجود ہیں،اسلامی معاشرے کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد مجالس کے حقوق و آداب کو سمجھے اور ان پر عمل کرے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان:اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔ ( المجادلہ؛ 58 : آیت 11)

1. سلام کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا اور اجازت لینا۔

2. جگہ دینا: اگر کوئی مجلس میں شامل ہونا چاہے تو اسے جگہ دینا، ایثار کا مظاہرہ کرنا ۔

3. بغیر اجازت نہ بیٹھنا: کسی کی مخصوص جگہ پر یا بیچ میں بغیر اجازت بیٹھنا ۔

4. غیر ضروری مداخلت نہ کرنا: جب دو افراد بات کر رہے ہوں تو بیچ میں نہ کودیں، اور گفتگو میں دخل نہ دیں۔

5. رازداری کا احترام: مجلس میں کی گئی باتوں کو باہر بیان کرنا خیانت ہے، خاص طور پر اگر وہ بات رازدارانہ ہو۔

6. فضول گوئی سے پرہیز: مجلس میں بے مقصد، لغو یا دل آزاری والی گفتگو سے بچنا چاہیے۔

7. کسی کی توہین یا مذاق نہ اڑانا: اسلام کسی کا مذاق اُڑانے یا حقیر سمجھنے سے منع کرتا ہے۔

8. بات کو غور سے سننا: اگر کوئی بات کر رہا ہو تو درمیان میں نہ بولیں، اور توجہ سے سنیں۔

9. سلام اور دعا کے ساتھ رخصت ہونا: مجلس سے جانے سے پہلے سلام کہنا بھی سنت ہے۔

10. ترتیب اور صفائی کا خیال: مجلس کا ماحول صاف، باوقار اور باادب ہونا چاہیے۔

یہ آداب نہ صرف ایک مہذب اور اسلامی معاشرے کی پہچان ہیں، بلکہ ان پر عمل کر کے ہم ایک خوبصورت، بااخلاق اور پرامن ماحول قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ