علی رضا (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
صبر کا
لغوی معنی برداشت کرنا اور روکنا ہے، جبکہ
اصطلاح میں یہ مشکلات اور آزمائشوں میں اللہ کی رضا پر ثابت
قدم رہنا ہے۔ یہ ایمان کی ایک بنیادی صفت ہے، جس میں اطاعت
پر ثابت قدمی، گناہوں سے رُکنا، اور مصیبتوں کو برداشت کرنا شامل ہے۔ اس
پر چند آیات قرآنی ملاحظہ کیجئے:
(1): وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور
اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1،
البقرۃ:45، 46)
تفسیر
صراط الجنان: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِ:اور صبر اور نماز سے مددحاصل
کرو۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ
اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کوسید المرسَلین ﷺ پر ایمان لانے ،ان کی شریعت
پر عمل کرنے ،سرداری ترک کرنے اور منصب و مال کی محبت دل سے نکال دینے کا حکم دیا
گیا اور ا س آیت میں ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل! اپنے نفس کو
لذتوں سے روکنے کے لئے صبر سے مدد چاہو اور اگر صبر کے ساتھ ساتھ نماز سے بھی مدد
حاصل کرو تو سرداری اورمنصب و مال کی محبت دل سے نکالنا تمہارے لئے آسان ہو جائے
گا، بیشک نماز ضرور بھاری ہے البتہ ان لوگوں پر بھاری نہیں جو دل سے میری طرف
جھکتے ہیں۔
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم رضائے الٰہی کے حصول اور اپنی
حاجتوں کی تکمیل میں صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: 45، 1
/ 50)
(2): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان:یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو۔ اس
سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی
ہے ۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی
خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز چونکہ تمام عبادات کی اصل
اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون ہے اس لئے اس سے بھی مدد
طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے ذکر کیاگیا کہ بدن پر
باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے مشکل نمازہے ۔ (روح البیان، البقرۃ، تحت الآیۃ:153,1 /
257، ملخصاً)
حضورسید المرسلین ﷺ بھی نماز سے مدد چاہتے تھے جیساکہ حضرت حذیفہ
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :’’ نبی کریم ﷺ کو جب کوئی سخت مہم پیش آتی تو آپ ﷺ نماز میں مشغول ہوجاتے ۔ ( ابو داؤد، کتاب التطوع، باب وقت قیام
النبی ﷺ من اللیل، 2 / 52، الحدیث: 1319)
(3): اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ
بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان: صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور
پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر صراط الجنان: اَلصّٰبِرِیْنَ: صبر
کرنے والے۔ دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں
ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔
(1)
متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ
عَزَّوَجَلَّ سے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)
متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)
متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔
(4)
متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)
متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)
متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز
پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات
کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت
والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’
مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 14، 1 / 234)
(4): یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل
عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان: اِصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا:صبر
کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہو۔ صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو
شریعت اور عقل کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو ۔ اور مُصَابَرہ کا معنی ہے دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے۔ (خازن،
اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 3/200 /
473، ملتقطاً)
(5): قَالَ
مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِ اللہ وَ اصْبِرُوْاۚ-اِنَّ الْاَرْضَ
لِلّٰهِ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖؕ-وَ الْعَاقِبَةُ
لِلْمُتَّقِیْنَ(۱۲۸) ترجمۂ
کنز الایمان:موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا اللہ کی مدد چاہو اور صبر کرو بیشک زمین
کا مالک اللہ ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے وارث بنائے اور آخر میدان پرہیزگاروں کے
ہاتھ ہے۔ (پ9،الاعراف:
128)
تفسیر صراط الجنان: قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ:موسیٰ
نے اپنی قوم سے فرمایا۔ فرعون
کے اس قول کہ ’’ہم بنی اسرائیل کے لڑکوں کو قتل کریں گے‘‘ کی وجہ سے بنی اسرائیل میں
کچھ پریشانی پیدا ہوگئی اور اُنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اس کی شکایت کی،
اس کے جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا:
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مدد طلب کرو، وہ تمہیں کافی ہے اور آنے والی مصیبتوں اور بلاؤں
سے گھبراؤ نہیں بلکہ ان پرصبر کرو، بیشک زمین کا مالک اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے اور زمینِ
مصر بھی اس میں داخل ہے، وہ اپنے بندوں میں جسے چاہتا ہے وارث بنادیتا ہے۔ یہ
فرما کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو تَوَقُّع دلائی کہ فرعون اور اس
کی قوم ہلاک ہوگی اور بنی اسرائیل اُن کی زمینوں اور شہروں کے مالک ہوں گے اور انہیں
بشارت دیتے ہوئے فرمایا ’’ اچھا انجام پرہیزگاروں کیلئے ہی ہے۔ (خازن، الاعراف، تحت الآیۃ: 128، 2 / 129، مدارک، الاعراف، تحت الآیۃ:
128، ص381، ملتقطاً)
نصیر
احمد عطّاری ( درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ،پاکستان)
صبر کا
لغوی معنی : برداشت ، قابو رکھنا ۔
اصطلاحی
تعریف :مصیبت دکھ غصے کے وقت نفس کو روکنا، اللہ پاک کی رضا پر راضی ہو نا۔ صبر کے متعلق کثیر قرآنی آیات موجود ہیں صبر کے بہت فواہد ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان
والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اور اس
آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر
پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے ۔ اس آیت میں فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے
مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی،
گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے اور نماز
چونکہ تمام عبادات کی اصل اوراہل ایمان کی معراج ہے اور صبر کرنے میں بہترین معاون
ہے اس لئے اس سے بھی مدد طلب کرنے کا حکم دیاگیا اور ان دونوں کا بطور خاص اس لئے
ذکر کیاگیا کہ بدن پر باطنی اعمال میں سب سے سخت صبر اور ظاہری اعمال میں سب سے
مشکل نمازہے
اللہ پاک نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور
جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
آزمائش سے فرمانبردار اور نافرمان کے حال کا
ظاہر کرنا مراد ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول خوف سے اللہ
تعالیٰ کا ڈر، بھوک سے رمضان کے روزے، مالوں کی کمی سے زکوٰۃ و صدقات دینا ،جانوں
کی کمی سے امراض کے ذریعہ اموات ہونا، پھلوں کی کمی سے اولاد کی موت مراد ہے کیونکہ
اولاد دل کا پھل ہوتی ہے،جیساکہ حدیث شریف میں ہے،سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’
جب کسی بندے کا بچہ مرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے:’’ تم نے میرے
بندے کے بچے کی روح قبض کی ۔ وہ عرض کرتے ہیں کہ ’’ہاں ، یارب!
عَزَّوَجَلَّ، پھر فرماتا ہے:’’ تم نے اس کے دل کا پھل لے لیا ۔ وہ عرض کرتے ہیں :ہاں ، یارب!
عَزَّوَجَلَّ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اس پر میرے بندے نے کیا کہا؟ فرشتے عرض کرتے
ہیں : اس نے تیری حمد کی اور ’’اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَ‘‘
پڑھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:’’ اس کے لیے جنت میں مکان بناؤ اور اس کا نام بیتُ
الحمد رکھو۔
‘‘(ترمذی، کتاب الجنائز، باب فضل المصیبۃ اذا احتسب، 2 / 313، الحدیث: 1023)
آزمائشیں
اور صبر: یاد رہے کہ زندگی میں قدم قدم پر آزمائشیں
ہیں ، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے، کبھی
دشمن کے ڈر خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلِیّات سے اور کبھی نت نئے
فتنوں سے آزماتا ہے اور راہِ دین اور تبلیغِ دین تو خصوصاً وہ راستہ ہے جس میں
قدم قدم پر آزمائشیں ہیں ، اسی سے فرمانبردار و نافرمان، محبت میں سچے اور محبت
کے صرف دعوے کرنے والوں کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام پر اکثرقوم کا ایمان نہ لانا، حضرت ابراہیم علیہ
السلام کا آگ میں ڈالا جانا، فرزند کو
قربان کرنا، حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری میں مبتلا کیا جانا ،ان کی اولاد اور
اموال کو ختم کر دیا جانا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصرسے مدین جانا، مصر سے ہجرت کرنا، حضرت عیسیٰ
علیہ السلام کا ستایا جانا اور انبیاء
کرام علیہ السلام کا شہید کیا جانا یہ سب
آزمائشوں اور صبر ہی کی مثالیں ہیں اور ان مقدس ہستیوں کی آزمائشیں اور صبر ہر
مسلمان کے لئے ایک نمونے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
لہٰذا ہر مسلمان کوچاہئے کہ اسے جب بھی کوئی مصیبت
آئے اوروہ کسی تکلیف یا اَذِیَّت میں مبتلا ہو تو صبر کرے اور اللہ تعالیٰ کی رضا
پر راضی رہے اور بے صبری کا مظاہرہ نہ کرے ۔ صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ
علیہ فرماتے ہیں ’’بہت موٹی سی بات ہے جو ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی کتنا ہی غافل ہو
مگر جب( اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے یا وہ کسی مصیبت اور) مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو
کس قدر خداکو یاد کرتا اور توبہ و استغفار کرتا ہے اور یہ تو بڑے رتبہ والوں کی
شان ہے کہ( وہ) تکلیف کا بھی اسی طرح استقبال کرتے ہیں جیسے راحت کا( استقبال کرتے
ہیں ) مگر ہم جیسے کم سے کم اتنا تو کریں کہ (جب کوئی مصیبت یا تکلیف آئے تو )صبر
و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع (یعنی رونا پیٹنا) کرکے آتے ہوئے ثواب کو
ہاتھ سے نہ (جانے) دیں اور اتنا تو ہر شخص جانتا ہے کہ بے صبری سے آئی ہو ئی مصیبت
جاتی نہ رہے گی پھر اس بڑے ثواب(جو احادیث میں بیان کیاگیا ہے) سے محرومی دوہری مصیبت
ہے۔ (بہار
شریعت، کتاب الجنائز، بیماری کا بیان، 1 / 799)
اور کثیر
احادیث میں مسلمان پر مصیبت آنے کا جو ثواب بیان کیا گیا ہے ان میں سے چند احادیث
یہ ہیں ،چنانچہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت
ہے،رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ
تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے تکالیف میں مبتلا کرتا ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب شدۃ المرض، 4 / 4، الحدیث:
5646)
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی
اللہ عنہما سے مروی ہے، حضور اقدس ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ’’مسلمان کو جو تکلیف ،رنج، ملال اور اَذِیَّت و غم پہنچے، یہاں تک
کہ ا س کے پیر میں کوئی کانٹا ہی چبھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سبب اس کے گناہ مٹا دیتا
ہے۔ (بخاری، کتاب المرضی، باب ما جاء فی کفارۃ المرض، 4 / 3، الحدیث: 5641
حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے،حضور پر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’قیامت
کے دن جب مصیبت زدہ لوگوں کو ثواب دیا جائے گا تو آرام و سکون والے تمنا کریں گے
،کاش! دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کاٹ دی گئی ہوتیں۔ (ترمذی ، کتاب الزہد، 59-باب، 4 / 180، الحدیث: 2410)
انسان
کی زندگی کبھی خوشی اور سکون سے بھری ہوتی ہے اور کبھی غم اور پریشانیوں سے۔ یہ
دنیا دراصل ایک امتحان ہے، جہاں ہر انسان کو مختلف حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی دولت کی کمی، کبھی بیماری، کبھی دکھ اور صدمات، تو کبھی خواہشات کی
آزمائش۔ ایسے وقت میں جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی
ہے وہ ہے صبر صبر کا مطلب صرف چپ چاپ برداشت کرنا نہیں بلکہ
اپنے دل کو مطمئن رکھنا، اللہ کی رضا پر راضی رہنا اور مشکل وقت میں بھی نیکی اور
ہمت کا دامن نہ چھوڑنا ہے۔ قرآن
پاک نے صبر کرنے والوں کو خوشخبریاں دیں، ان کے لیے اجر عظیم کا وعدہ کیا اور انہیں
اللہ کی خاص مدد اور رحمت کا مستحق قرار دیا۔ اسی
لیے صبر ہر مسلمان کی زندگی میں روشنی اور کامیابی کا راستہ ہے۔ سب
سے پہلے تو صبر کی تعریف جانتے ہیں۔
صبر کی
تعریف : صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کے بارے میں بیان
کیا گیا ہے ۔ ان میں سے چند ایک آیات ذیل میں مذکور ہیں :
(1) صبر
سے مدد چاہو: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز
العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ
صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
اس آیت
مبارکہ کی تفسیر میں تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ
اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن
یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ
اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر
سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2)صبر
کرنے کا حکم: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز العرفان : اے ایمان والو!صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواوراسلامی سرحد کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے
رہو ا س امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ ۔ (پ4،
آل عمران: 200)
تفسیر صراط الجنان : مُصَابَرہ کا معنی ہے
دوسروں کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنا ۔ صبر کے تحت ا س کی تمام اقسام داخل ہیں جیسے توحید،عدل،نبوت اور حشرو نَشر
کی معرفت حاصل کرنے میں نظر و اِستدلال کی مشقت برداشت کرنے پر صبر کرنا ۔ واجبات اور مُستحَبات کی ادائیگی کی مشقت پر صبر کرنا ۔ ممنوعات سے بچنے کی مشقت پر صبر کرنا ۔ دنیا
کی مصیبتوں اور آفتوں جیسے بیماری ، محتاجی قحط اور خوف وغیرہ پر صبر کرنا اور
مُصَابرہ میں گھر والوں ،پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی بد اخلاقی برداشت کرنا اور برا
سلوک کرنے والوں سے بدلہ نہ لینا داخل ہے ، اسی طرح نیکی کا حکم دینا ، برائی سے
منع کرنا اور کفار کے ساتھ جہاد کرنا بھی مُصَابرہ میں داخل ہے ۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 1 / 340، تفسیر
کبیر، اٰل عمران، تحت الآیۃ: 200، 3 / 473، ملتقطاً)
اللہ
پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں صبر سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
بجاہ خاتم النبیین ﷺ ۔
محمد
واصف رضا عطاری ( درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ
ٹاؤن شپ لاہور ،پاکستان)
صبر ایک
عظیم صفت ہے جو اسلام میں نہایت بلند مقام
رکھتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو بار بار ذکر کیا گیا ہے،
اور صابرین کی تعریف اور ان کے لیے انعامات کی بشارت دی گئی ہے۔ صبر کا مفہوم محض برداشت تک محدود نہیں، بلکہ یہ ثابت قدمی، استقلال، ضبط
نفس، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا ایک وسیع مفہوم اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
قرآن مجید میں صبر کا تصور: قرآن مجید میں تقریباً 90 سے زائد مقامات پر صبر
کا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صبر کو مومن کی ایک بنیادی صفت
قرار دیا ہے۔ صبر ہر حالت میں مطلوب ہے ،خوشی ہو یا غم، تکلیف
ہو یا نعمت، مصیبت ہو یا فتنہ، مومن ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سورہ البقرہ میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ
ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیت
میں صبر کو ایک طاقت، ایک ذریعہ مدد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یعنی
جب انسان کسی مشکل میں مبتلا ہو تو وہ صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد طلب کرے۔
صبر کی
اقسام: علماء
نے قرآن کی روشنی میں صبر کو تین اقسام میں تقسیم کیا ہے:
طاعت
پر صبر: اللہ کے احکامات پر عمل کرنے میں صبر کرنا، جیسے نماز کی پابندی، روزہ
رکھنا، صدقہ دینا وغیرہ۔
معصیت
سے بچنے پر صبر: گناہوں سے بچنے کے لیے نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنا۔
مصیبت
پر صبر: دکھ، بیماری، موت، نقصان یا کسی اور آزمائش پر جزع و فزع کیے بغیر اللہ کی
رضا میں راضی رہنا۔
صبر
کرنے والوں کا مقام: اللہ تعالیٰ نے صابرین کے لیے عظیم اجر اور درجات کا
وعدہ کیا ہے۔ سورہ الزمر میں فرمایا:
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یعنی
صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اتنا اجر عطا فرمائے گا جس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ ان
کے لیے نہ صرف دنیا میں کامیابی ہے بلکہ آخرت میں بھی بلند مقام ہے۔ ایک اور مقام پر فرمایا:
وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ
مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ
الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم
ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے
آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ آزمائش زندگی کا حصہ ہے، لیکن کامیاب وہی ہے جو صبر کرے اور اللہ
پر بھروسا رکھے۔
انبیاء
کرام کی زندگی میں صبر: قرآن میں مختلف انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں
سے ہمیں صبر کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔
حضرت ایوب
علیہ السلام: جنہوں نے شدید بیماری، مال و اولاد کے نقصان پر صبر کیا۔ اللہ نے ان کے بارے میں فرمایا:وَ
خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-اِنَّا وَجَدْنٰهُ
صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان:اور (فرمایا) اپنے ہاتھ
میں ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23،
صٓ: 44)
حضرت یوسف
علیہ السلام: جنہوں نے بھائیوں کی زیادتی، غلامی، قید، اور جھوٹے الزام پر صبر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا و آخرت میں بلند مقام عطا فرمایا۔
حضرت
محمد ﷺ: جنہوں نے کفارِ مکہ کی طرف سے ظلم و ستم، تکذیب، اور طعن و تشنیع پر صبر کیا
اور کبھی بدلہ نہ لیا، بلکہ معاف کر دیا۔
صبر کا
نتیجہ اور اجر: صبر کا سب سے بڑا اجر اللہ کی قربت ہے۔ قرآن کریم میں ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:بیشک اللہ صابروں کے
ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
یہ سب
سے بڑی خوشخبری ہے، کیونکہ اگر اللہ ساتھ ہو، تو کوئی مصیبت بڑی نہیں رہتی۔
قرآن مجید کا مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صبر
ایک مومن کی پہچان ہے۔ یہ نہ صرف مشکلات میں ڈٹے رہنے کا نام ہے بلکہ
اللہ کی رضا پر راضی رہنے، اس کی طرف رجوع کرنے اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو
پانے کا نام ہے۔ جو شخص صبر کرتا ہے، وہ دراصل اللہ سے اپنے
تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔
لہٰذا،
ہمیں قرآن سے یہ سبق لینا چاہیے کہ ہر حال میں صبر کا دامن تھامے رکھیں، کیونکہ یہی
کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
مبشر
عبد الرزاق عطاری ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ سادھوکی لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک متوازن نظامِ اخلاق کا علمبردار ہے، حیاتِ انسانی کا اَمن اخلاقِ حسنہ کے ساتھ
وابستہ ہے، اچّھی معاشرت، کامیاب معیشت اور اعلیٰ و شاندار عائلی زندَگی اخلاق پر
ہی منحصر ہے، اخلاقِ حسنہ میں سے ایک خُلق (یعنی صفت) صبر بھی ہے جو اللہ اور
رسول کی رضا، حصولِ جنّت، کامیاب زندَگی اور دنیا و آخِرت میں فلاح و کامرانی حاصل
کرنے کا ذریعہ ہے۔
حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہُ عنہ فرماتے ہیں کہ
صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ
صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔( خازن،الزمر، تحت الآیۃ: 10،
4/51)
صبر کی
تعریف: نفس
کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کرے صبر کہلاتا ہے ۔ (نجات دلانے
والے اعمال کی معلومات،ص44)
قراٰنِ
پاک میں متعدّد مقامات پر صبر کے فضائل و انعامات کو بیان کیا گیا ہے آئیے ہم بھی
صبر کا قراٰنی بیان پڑھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:
(1) بشارتِ
الٰہی:
آزمائش اور تکالیف پر صبر کرنے والوں کے لیے اللہ پاک کی طرف سے خاص بشارت ہے جیسا
کہ اللہ پاک قراٰنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)﴾ ترجمۂ
کنز الایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔( پ 2، البقرۃ: 155)
(2) اللہ
پاک کی معیّت: صبر
اللہ پاک کی معیّت اور جوارِ رَحمت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے جیسا کہ قراٰنِ
کریم میں آتا ہے: ﴿ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶)﴾
ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر کرو بے شک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ ( پ10، الانفال:
46)
(3) اللہ
کا محبوب: مصائب
و تکالیف پر صبر و استقامت اختیار کرنے سے انسان اللہ پاک کا محبوب اور مقرب بن
جاتا ہے جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)﴾ ترجمۂ
کنز العرفان: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ 4، اٰل عمرٰن: 146)
(4) بخشش
کا ذریعہ: مصیبت
پر صبر اور نعمت پر اللہ پاک کا شکر اَدا کرنا ایسے اوصاف ہیں جو بخشش اور بڑا
ثواب حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں جیسا کہ قراٰنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:﴿اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ
مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: مگر جنہوں نے صبر کیا
اور اچّھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ (پ12، ھود: 11)
(5) جنّت
میں داخلہ: اللہ
پاک اپنے نیک بندوں کو اِطاعت اور صبر کے بدلے جنّت میں داخل فرمائے گا جس میں ہر
طرح کی آسائشیں اور نعمتیں ہوں گی جیسا کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: ﴿ وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ﴾
ترجمۂ کنزالایمان: اور ان کے صبر پر انہیں جنّت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے۔
(پ29، الدھر:12)
پیارے
اسلامی بھائیو! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کبھی مرض سے، کبھی جان و مال کی کمی سے،
کبھی دشمن کے ڈر، خوف سے، کبھی کسی نقصان سے، کبھی آفات و بَلیات سے اور کبھی نت
نئے فتنوں و آزمائشوں اور تکالیف سے آزماتا ہے کہ آیا میرا بندہ صبر کا دامن
اختیار کر کے میری رضا و اجرِ عظیم حاصل کرتا ہے یا جَزع و فَزع ( رونا پیٹنا) اور
ناشکری کر کے اپنے اَجر کو ضائع کرتا ہے، ہمیں بھی چاہیے کہ جب کوئی مصیبت یا تکلیف
آئے تو صبر و استقلال سے کام لیں اور جَزع و فَزع کرکے آتے ہوئے ثواب کو ہاتھ
سے نہ جانے دیں اور اللہ پاک کی رَحمت اور جنّت کے اُمیدوار بن جائیں۔
اللہ
پاک کی بارگاہ میں دُعا ہے کہ وہ ہمیں ہر حالت میں صبر و شکر اختیار کرنے کی توفیق
عطا فرمائے ۔ آمین
دعوتِ اسلامی کے تحت ہر ہفتے کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ہفتہ وار مدنی مذاکرے
کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ عاشقان ِ
رسول کے مختلف سوالات کے جوابات ارشاد فرماتے ہیں۔
اسی سلسلے میں 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال
المکرم 1447ھ کو عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں مدنی مذاکرے کا اہتمام
کیا گیا جس کا آغاز تلاوتِ قرآن و نعت شریف سے کیا گیا۔
تلاوت و نعت کے بعد براہِ راست اور بذریعہ مدنی
چینل سوالات کا سلسلہ ہوا جس میں شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ
اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے جوابات دیئے۔
بعض سوال و جواب:
سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:”دوست ایسا ہونا چاہیئے جو آپ
کے سامنے اللہ پاک کا ذکر کرے اور اللہ پاک کی بارگاہ میں آپ کا ذکر کرے“ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:بہت پیاری بات ہے ،ایسے کی صحبت اختیار کی جائے جو نیک ہو، جسے دیکھ کر خدا یاد آئے اور وہ آپ کے لئے اللہ
پاک سے دعا کرے ۔
سوال: جب بندہ گفتگو
کرتا ہے تو اس کا نیک ہونا ظاہر ہو جاتا ہے ،کیا یہ درست ہے ؟
جواب:یہ درست بھی ہے اور نہیں بھی ۔بعض لوگ نیک ہوتے ہیں اور ان کی گفتگو سے ان کا نیک ہونا ظاہر ہوتا ہے اور بعض گفتار کے غازی ہوتے ہیں(یعنی باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہیں، لیکن
عمل کچھ بھی نہیں ہوتا) ،کوئی تصوف
کی کتاب پڑھ لیتے ہیں اور نیکوں والی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں ،مگر وہ نیک ہوتے نہیں ،ایسوں کی تو گلی میں بھی نہیں
جانا چاہیئے (یعنی ایسوں
کی صحبت سے بچنا چاہئے)۔
سوال:بچے کو بچپن میں کیا سکھایا جائے ؟
جواب:فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم :اِفْتَحُوْا عَلٰی صِبْیَانِکُمْ اَوَّلَ کَلِمَةٍ بِـلَآ
اِلٰہَ اِلَّااللہُ یعنی اپنے بچوں
کو پہلی بات لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ سکھاؤ ۔ (شعب الایمان:8649) آپ کا بچہ جب بولنے لگے تو سب سے پہلے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ بولے ۔اس کے لئے اس کے سامنے لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھتے رہیں ،پہلے مائیں لآ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کی لوری دیتی تھیں
،اَب پنگھوڑے(جُھولے) میں میوزک لگا دیتے ہیں ،ایسا نہ کیا جائے بلکہ
بچے کے سامنے کلمہ شریف(لآ اِلٰہَ اِلاَّاللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ) پڑھتے رہیں۔ اس کے علاوہ
آپ سب بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتے رہیں۔میں بھی اُٹھتے بیٹھتے کلمہ شریف پڑھتا رہتا ہوں تاکہ مرتے وقت بھی میرا آخری کلام کلمہ شریف ہو۔
سوال:پہلے دعا میں دل لگتا تھا،خشوع و خضوع نصیب ہوتا تھا ،اب ایسا نہیں،کیا
کروں ؟
جواب:ایسے شخص کو چاہیئے کہ وہ گناہوں سے سچی توبہ کرے اوردُعا میں رونے کی کوشش کرے کہ
نیک لوگوں کی نقل بھی اچھی ہوتی ہے۔یادرکھئے!جو گناہوں میں مصروف رہتا ہے اسے
عبادت میں لذت نصیب نہیں ہوتی ۔
سوال:شوال شریف کی کیا
خصوصیات ہیں ؟
جواب:اس مہینے کا
پہلا دن عیدالفطر ہے جو بہت بابرکت ہے ،اس
میں عید کی نماز پڑھی جاتی ہے اور مسلمانوں کی عام مغفرت ہوتی ہے۔حدیثِ پاک کی
مشہور کتاب صحیح بخاری کے مصنف امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا
یوم عرس بھی اسی دن(یعنی پہلی شوال کو ) ہے ۔
٭شوال میں 6 روزے(شش عید) رکھے
جاتے ہیں ،حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے راوی ، کہ رسول اﷲ صلی
اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس نے
رمضان کے روزے رکھے پھر اُس کے بعد6 دن شوال میں رکھے تو گناہوں سے ایسے نکل گیا،
جیسے آج ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہے“۔( المعجم الاوسط، ج6، ص234، باب المیم، الحدیث: 8622)
٭ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عیدالفطر کے بعد6روزے رکھ
لئے تو اُس نے پورے سال کا روزہ رکھا، کہ جو ایک نیکی لائے گا اُسے 10ملیں گی تو
ماہِ رمضان کا روزہ 10مہینے کے برابر ہے اور ان 6دنوں کے بدلے میں 2 مہینے تو پورے
سال کے روزے ہوگئے“۔ (السنن
الکبری للنسائی، کتاب الصیام، باب صیام ستۃ ایام من شوال، ج2، ص162۔163، الحدیث:
2860 ۔ 2861)
٭شوال میں اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی یعنی یہ رسولِ
کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے گھر آئیں۔15 شوال کو سَیِّدُالشَّہَدَاء(شہیدوں کے سردار) حضرت امیر
حمزہ رضی اللہ عنہ
اوردیگرشہدائے اُحد کا یوم عرس ہے ۔
سوال:علمِ نافع سے کیا مراد ہے؟اور یہ کیسے حاصل ہوتا ہے؟
جواب:علم نافع کا مطلب ہے: نفع دینے والا علم ۔بعض دنیاوی علم بھی نفع دیتے ہیں مگر تمام
دینی علوم نفع دینے والے ہوتے ہیں، اس کی ایک تعریف یہ ہے کہ علمِ نافع وہ ہوتا ہے جو دل میں اثر کرے اور دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت پیدا کرے، جب دل میں اللہ پاک کا خوف اور محبت ٹھہر جائے تو بندہ نیک اعمال کی طرف رغبت کر لیتا ہے ۔
سوال:عالمِ دین کی کیا شان ہے؟
جواب:عالمِ دین کی بڑی شان ہے،اس کے لئے سمندر میں مچھلیاں
اورزمین میں چیونٹیاں دُعا کرتی ہیں ،جب وہ علمِ دین حاصل کرنے کے لئے چلتا
ہے تو فرشتے اس کے لئے پر بچھاتے ہیں ،عالمِ دِین کو دیکھنا عبادت ہے ۔ہر گھر میں
کم از کم ایک عالم اور ایک عالمہ ہونے چاہئیں ،یہ والدین کے لئے صدقہ جاریہ ہوں گے
اور آخرت میں جنت میں داخلے کا سبب بنیں
گے ،ان شآء اللہ الکریم۔دیگر اسلامی بھائی بھی عالم بنیں ،نہیں بن سکتے تو جتنوں کو ہو سکے جامعۃ المدینہ
میں داخلہ دلوائیں ،اگر ہو سکے تو مجلس جامعۃ المدینہ سے مشورہ کر کے کسی طالب علم کا خرچہ اٹھا لیں ۔ہراسلامی بھائی کم از کم ایک
اسلامی بھائی کو جامعۃ المدینہ میں ضرور
داخل کروائیں اور فالواپ کریں ۔پوچھتے رہیں ،توجہ رکھیں تاکہ وہ چھٹیاں نہ کرے ۔آج
دورہ حدیث والے بھی جمع ہیں ،آپ سب بھی کوشش کریں ۔ اسلامی بہنیں اپنے محارم اور دیگر اسلامی بہنوں
کوتیار کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل
کروائیں ۔علمِ دین عام ہو گیا تو معاشرے کی اصلاح ہو گی اور نیکیوں کا دور دورہ ہو
جائے گا ۔
حدیثِ
پاک میں ہے:اِنَّ
الدَّالَ عَلَی الْخَیْرِ کَفَاعِلِہٖ
یعنی بے شک نیکی کی راہ دکھانے والا، نیکی کرنے والے کی طرح ہے۔( ترمذی ،4 /308، حدیث:2679)مشہور مفسرِ قرآن مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ
فرماتے ہیں: یعنی نیکی کرنے والا، کرانے والا، بتانے والا اور مشورہ دینے والا، سب
ثواب کے حقدار ہیں۔(مرآۃالمناجیح،۱ /۱۹۴بتغیر قلیل)سب مل کر زور لگائیں
اور اس سال دُنیا بھرکے جامعۃ المدینہ(بوائز،گرلز) میں 21ہزارطلبہ و طالبات کو داخل
کروائیں ۔ مدرسۃ المدینہ میں اس مرتبہ جتنے حافظ بنے ہیں ان سب پرقاری صاحبان اور
اسلامی بھائی انفرادی کوشش کر کے جامعۃ المدینہ میں داخل کروائیں ۔قاری صاحبان خود
بھی عالم بنیں اور حفاظ کو بھی اس کے لیے تیار کریں ۔ حافظِ قرآن اچھا عالمِ دِین بنتا ہے ۔
سوال:معاشرے میں دوسروں کا احساس کم ہے، لوگ ایسے کام کر رہے ہوتے ہیں جس سے دوسروں کو تکلیف پہنچتی ہے،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب:جہاں قانون پر عمل ہوتا ہے وہاں لوگ ایسے کام نہیں کرتے
جس سے دوسروں کوتکلیف ہو، البتہ قانون خاموش بھی ہو تو دینی تعلیمات موجود ہیں
کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے کہ کسی کو تکلیف ہو ۔حدیث پاک میں ہے: تم لوگوں کو (اپنے) شر سے محفوظ رکھو، یہ ایک صدقہ ہے جو تم اپنے نفس پر کرو
گے۔( بخاری، 2 / 150، حدیث: 2518)ایک اور حدیث پاک میں ہے :مسلمان وہ ہے جس کی
زبان اور ہاتھ سے (دوسرے) مسلمان محفوظ رہیں۔ ( مسند امام احمد ، 2 / 654، حدیث: 6942 )کسی کو شر نہ پہچانا جنت میں لے جانے والا عمل
ہے ۔
سوال:اِس ہفتے کارِسالہ ” نیک اعمال پراستقامت پانے کے طریقے“
پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا
دُعا دی ؟
جواب:یا ربِّ کریم! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال
پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لے، اُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں
باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ خاتمِ النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
دعوتِ
اسلامی کے زیرِ اہتمام ہونے والے ”تخصص
فی الدعوہ کورس“ (مبلغ
کورس)کے
اختتام کے موقع پر 29 مارچ 2026ء کو ایک پُروقار
تقریب منعقد کی گئی جس میں خصوصی شرکت رکنِ مرکزی مجلسِ شوریٰ حاجی محمد رفیع عطاری اور SEP
کے نگران محمد رضوان عطاری کی ہوئی۔
اس دوران وہاں موجود تمام اسلامی بھائیوں کی مختلف امور
پر تربیت و رہنمائی کی گئی اور کورس مکمل
کرنے والے اسلامی بھائیوں میں اسناد (Certificates) بھی تقسیم کی گئیں۔
کورس کا بنیادی مقصد:
اس کورس کا
بنیادی مقصد ایسے مبلغین تیار کرنا ہے جو دنیا بھر میں دینِ متین کی خدمت کر سکیں،مقامی
سطح پر عاشقانِ رسول کی تربیت کرنا اور انہیں نیکی کی دعوت کے کام کے لئے منظم
کرنا ۔
نمایاں
خصوصیات اور تعلیمی نصابیہ 12 ماہ پر مشتمل ایک جامع ٹریننگ پروگرام تھا جس میں
درج ذیل پہلوؤں پر خصوصی کلام کیا گیا:٭دینی و علمی تربیت٭ کنز المدارس کے نصاب کے
مطابق تفسیر٭قرآن و حدیث سے درس و بیان٭فقہ الشریعہ٭تاریخِ اسلام جیسے اہم موضوعات
٭مبلغین کا شیڈول نمازِ تہجد سے لے کر مکمل دن کے نیک اعمال ۔
لینگوئجز
(Languages): مبلغین
کو بین الاقوامی سطح پر دعوتِ دین کے لئے انگلش و عربی زبانیں سکھائی گئیں۔
ٹیکنالوجی
اور جدید مہارتیں:بنیادی کمپیوٹر کورس، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور آئی کیو (IQ) لیول بڑھانے والی سرگرمیاں۔
عملی
مشق (Practical):ہر ہفتے 3
دن، مکمل سال ایک ماہ قافلہ شیڈول کے مطابق مختلف سمتوں میں جا کر عملی طور پر دینی
کام سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ ۔
تربیتی سیشنز:
اس کورس کے
دوران تقریباً 100 سے زائد اصلاحی بیانات ہوئے جن میں امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ، نگرانِ
شوریٰ اور اراکینِ شوریٰ کے خصوصی ٹریننگ سیشنز کے ذریعے اسلامی بھائیوں کی اخلاقی
و تنظیمی تربیت کی گئی۔
قرآنِ کریم پڑھنا اور پڑھانا دینِ اسلام کے اُن اہم امور میں سے ہے جن کی
فضیلت کے بارے میں مختلف قرآنی آیات و روایات وارد ہوئی ہیں نیز قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کرنا ، اس کو دیکھنا، اس
کو چھونا اور اس کی تلاوت کرنا بھی عبادت ہے ۔
الحمد للہ دعوتِ اسلامی تعلیمِ قرآن عام کرنے والی عالمی سطح کی
دینی تحریک ہے جس کے تحت 2 اپریل 2026ء بروز جمعرات ایکسپو سینٹر لاہور (EXPO CENTRE LAHORE) میں شعبہ مدرسۃ
المدینہ بوائز سے ناظرہ و حفظِ قرآن مکمل کرنے والے طلبہ کے اعزاز میں”Degree Awarding Ceremony“ کا انعقاد کیا گیا۔
معلومات کے مطابق یہ Ceremony
تلاوتِ قرآن، نعت شریف اور دیگر مختلف سیشنز پر مشتمل تھی جن میں مدرسۃالمدینہ
بوائز کے طلبہ نے بھی حصہ لیا جبکہ خصوصی طور پر استاذُ الحدیث مفتی محمد ہاشم خان عطاری مدظلہ العالی نے بیان کیا اور قرآن و حدیث کی روشنی میں عاشقانِ رسول کی تربیت کی۔
اس کے علاوہ مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی
یعفور رضا عطاری اور مبلغین نے تعلیمِ قرآن کے حوالے سے دعوتِ اسلامی کی خدمات
کے بارے میں حاضرین کو بتاتے ہوئے اُن کی رہنمائی کی۔
اس موقع پر شخصیات، سرپرست حضرات، ذمہ دارانِ
دعوتِ اسلامی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول موجود
تھے جنہوں نے اس میں حصہ لیا۔
استقامت بہت بڑی نعمت ہے، بظاہر چھوٹا نظر آنے
والا مگر مستقل (یعنی ہمیشہ) کیا جانے والا نیک عمل اللہ عزوجل زیادہ پسند ہے جیساکہ حدیثِ مبارکہ میں ہے:حضور
صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خدمت میں عرض کی گئی :اللہ پاک کے نزدیک زیادہ
پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ فرمایا:”وہ عمل جو ہمیشہ ہو اگرچہ تھوڑا ہو“۔(بخاری، 4/ 237، حدیث:6465)
لوگوں کو نیک اعمال کی ترغیب دلانے کے لئے اس
ہفتے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ
دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ
العالیہ نے عاشقانِ رسول کو 16 صفحات کا رسالہ ”نیک
اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھنے / سننے کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے /
سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے نوازا ہے۔
دعائے عطار
یاربِّ کریم!جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ”نیک اعمال پر استقامت پانے کے طریقے“ پڑھ یا سُن لےاُسے نیکیوں پر استقامت دے اور ماں
باپ اور خاندان سمیت جنّت الفردوس میں
حساب داخلہ نصیب فرما۔اٰمین
یہ رسالہ آڈیو میں
سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنک پر کلک
کیجئے:
اپنے اسلاف کے طریقۂ کار پر عمل کرتے ہوئے ہر
سال کی طرح اس سال بھی 4 اپریل 2026ء بمطابق 16 شوال المکرم 1447ھ کی شب عاشقانِ
رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ”مدنی مذاکرہ اور افتتاحِ بخاری شریف“ کا
اہتمام کیا جائے گا۔
ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق مختلف
شہروں اور بیرونِ ممالک کے طلبہ و طالبات
بذریعہ مدنی چینل جبکہ کراچی شہر کے رہائشی اسلامی بھائی براہِ راست عالمی
مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں آکر شرکت کریں گے۔
رات تقریباً 09:00 بجے تلاوتِ قرآن و نعت شریف
سے مدنی مذاکرے کا آغاز کیا جائے گا اور عاشقانِ رسول شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ
سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری
رضوی دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے مختلف
سوالات کریں گے جن کے انہیں علم و
حکمت سے بھرے جوابات دیئے جائیں گے۔
علاوہ
ازیں امیرِ اہلِ سنت مولانا الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ وہاں موجود دورۂ حدیث شریف کے طلبۂ کرام اور
اپنے گھروں سے بذریعہ مدنی چینل شرکت کرنے والی طالبات کو بخاری شریف کی پہلی حدیث شریف پڑھائیں گےنیز حدیث شریف کی مختصر
تشریح بھی بیان کی جائے گئی۔
تمام اسلامی بھائی اس ”مدنی مذاکرے اور
افتتاحِ بخاری شریف“ میں ضرور شرکت کریں تاکہ علمِ دین حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ
افتتاحِ بخاری شریف میں بھی شرکت کرنے کا موقع ملے۔
31 مارچ 2026ء کو عاشقانِ رسول کی دینی تحریک
دعوتِ اسلامی کے تحت بلوچستان آفس، کوئٹہ میں ایک مدنی مشورہ ہوا جس میں نگرانِ
بلوچستان مشاورت قاری لیاقت علی عطاری اور شعبہ جامعۃالمدینہ بوائز کے صوبائی ذمہ
دار مولانا شہزاد عطاری مدنی نے مختلف اہم نکات پر تبادلۂ خیال کیا۔
دعوتِ اسلامی کے تحت مدنی مرکز فیضانِ مدینہ
فیصل آباد میں 1 اپریل 2026ء کو پاکستان مشاورت آفس کے اراکین و ذمہ داران کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں المدینۃالعلمیہ کے اسلامی
بھائی، فیضانِ مدینہ فیصل آباد کے ناظمین، شعبہ ذمہ داران اور سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ
کے ذمہ داران شریک ہوئے۔
اس میٹنگ میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ
پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری نے تمام اسلامی بھائیوں کی اخلاقی و روحانی
اعتبار سے تربیت کی اور انہیں حضور صلَّی اللہ علیہ
واٰلہٖ وسلَّم کی صحابۂ کرام کو
کی گئیں نصیحتوں کے بارے میں بتایا۔
نگرانِ پاکستان مشاورت نے حاضرین کو اُن نصیحتوں
پر عمل کرنے، اپنی آخرت کی تیاری کرنے اور پیارے آقا مکی مدنی مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سنتوں پر عمل کرنے کا ذہن دیا۔
اس کے علاوہ نگرانِ پاکستان مشاورت نے تمام
اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے دینی کاموں میں حصہ لیتے رہنے بالخصوص قافلے
میں شرکت کرنے اور ماہِ اپریل ماہِ اجتماع منانے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے
اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ:عبدالخالق
عطاری نیوز فالو اپ ذمہ دار نگرانِ پاکستان مشاورت، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
Dawateislami