قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صبر کو ایمان کی علامت اور نجات کی کنجی قرار دیا ہے۔ مومن کی زندگی خوشی اور غم، راحت اور تکلیف کے درمیان گزرتی ہے۔ ایسے حالات میں صبر ہی وہ صفت ہے جو بندے کو ثابت قدم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مستحق بناتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

یہ آیت مبارکہ صبر کی اہمیت کو واضح کر رہی ہے کہ صبر کرنے والا تنہا نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کا ساتھی ہوتا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

اس آیت سے ہمیں معلوم ہو کہ جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے (اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن ابن عباس، 12 / 141، الحدیث: 12829)

حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے حساب دیا جائے گا۔ ( خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)

حضرت سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو مسلمان کسی مصیبت میں مبتلا ہوا اور اس نے کہا: اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ، اَللّٰهُمَّ اَجِرْنِیۡ فِیۡ مُصِیْبَتِیۡ وَ اخْلُفْ لِیۡ خَیْرًا مِّنْهَا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کی مصیبت میں اجر عطا فرماتا ہے اور اس سے بہتر چیز اس کو دیتا ہے۔ (مسلم، کتاب الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ ، حدیث: 918)

صبر کا ایک حسین نمونہ حضرت ایوب علیہ السلام کی زندگی ہے۔ برسوں تک بیماری اور سخت آزمائش کے باوجود انہوں نے صبر اور شکر کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا عملی مظاہرہ کیا۔ قرآن مجید میں ان کا ذکر یوں ہے:اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان: بے شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صبر بندے کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کتنا بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب علیہ السلام قیامت کے دن صبر کرنے والوں کے سردار ہوں گے۔ ( ابن عساکر، ذکر من اسمہ: ایوب، ایوب نبیّ اللہ ، 10 / 66)

معلوم ہو کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عبادت ہے جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کر دیتی ہے۔ صبر کرنے والے اللہ کے خاص محبوب بندے ہیں اور ان کے لیے بے حساب اجر اور اللہ تعالیٰ کی معیت کی بشارت ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ہر حال میں صبر کو اختیار کرے تاکہ دنیا و آخرت کی کامیابیاں اس کا مقدر بن جائیں۔


صبر کے معنی ہیں روکنا، اصطلاح میں کامیابی کی امید سے مصیبت پر بے قرار نہ ہونے کو صبر کہتے ہیں۔ (تفسیر نعیمی جلد 1 ص299) اللہ پاک اپنے بندوں کو کبھی راحتیں عطا فرماتا ہے اور کبھی آزمائشوں کے ذریعے آزماتا ہے تاکہ ظاہر ہو جائے کون بندہ صبر و شکر کے راستے پر قائم رہتا ہے صبر بھلائیوں کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ،صبر مومن کا ہتھیار اور نصف ایمان ہے قرآن کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی اہمیت، صبر کرنے والوں کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آئیے چند آیات پڑھیے:

(1) اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : اللہ پاک فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا جا رہا ہے کیونکہ نماز ، ذکراللہ اور صبر و شکر پر ہی مسلمان کی زندگی کامل ہوتی ہے۔ فرمایا گیا کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو ۔ صبر سے مدد طلب کرنا یہ ہے کہ عبادات کی ادائیگی، گناہوں سے رکنے اور نفسانی خواہشات کو پورا نہ کرنے پر صبر کیا جائے(صراط الجنان 245/1 ) حضرت علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 /169 )

(1) صبر کرنے والوں کے لیے انعام الٰہی :- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)

ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155تا157)

پہلی آیت میں مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور (پھر) یہ بتایاگیا کہ صبر کرنے والے وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ تعالیٰ ہی کے مملوک اور اسی کے بندے ہیں وہ ہمارے ساتھ جو چاہے کرے اور آخرت میں ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ (جلالین، البقرۃ، تحت الایۃ: 156، ص22 ) سبحان اللہ صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت و رحمت ہے۔ (صراط الجنان 253/1 ) صبر کی ایک بہت عمدہ صورت یہ ہے کہ مصیبت زدہ کو دیکھ کر اندازہ ہی نہ ہو کہ یہ مصیبت میں ہے۔ (تفسیر تعلیم القرآن 64/1)

(3) صابرین کے لیے بے حساب اجر : اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ ( ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ مصیبت اور بلا میں مبتلا رہنے والے (قیامت کے دن) حاضر کئے جائیں گے ،نہ اُ ن کے لئے میزان قائم کی جائے گی اور نہ اُن کے لئے (اعمال ناموں کے) دفتر کھولے جائیں گے ،ان پر اجرو ثواب کی (بے حساب) بارش ہوگی یہاں تک کہ دنیا میں عافیت کی زندگی بسر کرنے والے ان کا بہترین ثواب دیکھ کر آرزو کریں گے کہ’’کاش (وہ اہلِ مصیبت میں سے ہوتے اور )ان کے جسم قینچیوں سے کاٹے گئے ہوتے( تاکہ آج یہ صبر کا اجرپاتے)۔ ( معجم الکبیر، ابو الشعثاء جابر بن زید عن ابن عباس، 12 / 141، الحدیث: 12829)

(4) آقائے دو جہاں ﷺ کو صبر کا حکم : صبر ایسا پیارا عمل ہے کہ اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کو متعدد مقامات میں صبر کا حکم دیا چنانچہ فرمایا: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)

ایک جگہ ارشاد فرمایا:فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) ترجمۂ کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29، المعارج:5)

(5) صبر کرنا سنت انبیاء ہے : اللہ نے پیارے آقا ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)

اس آیت میں مبلغین کیلئے بھی تسلی ہے کہ اگر انہیں راہِ تبلیغ میں مشقتیں پیش آئیں تو وہ انبیاء علیہ السلام کی تکالیف کو یاد کرکے صبر اختیار کریں۔ (صراط الجنان 97/3)

(6) آدمی بڑا بے صبرا حریص ہے: اللہ پاک فرماتا ہے: اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ (۱۹)اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوْعًاۙ (۲۰)وَّ اِذَا مَسَّهُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاۙ (۲۱) ترجمۂ کنز العرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔ جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والاہوجاتا ہے۔ اور جب اسے بھلائی پہنچے تو بہت روک رکھنے والاہوجاتا ہے۔ (پ29،المعارج19تا21)

یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس پر صبر نہیں کرتا اور جب مال ملتا ہے تو اس کو خرچ نہیں کرتا۔ (تفسیر خزائن العرفان،ص1054)

آخر میں وہ دعا کرتے ہیں جو جادوگروں نے موسی علیہ السلام پر ایمان لانے کے بعد کی تھی رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ (پ9،الاعراف: 126)

اللہ ہمیں صبر جمیل عطا فرمائے اور ہر حال میں اپنی رضا پر راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ نبی الامین ﷺ 


صبر کی تعریف:‏’’صبر‘‘ كےلغوی معنى ركنے یا ٹھہرنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔

بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں :

(1) بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اوران پر ثابت قدم رہنا

(2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔

پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (نجات دلانےوالےاعمال کی معلومات،صفحہ44، 45)

قرآن میں صبر کا مقام:

(1) صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے: چنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صبر کرنے والا شخص اللہ پاک کی خاص مدد کا حقدار بنتا ہے۔

(2)صبر کرنے والوں کو اجر بے حساب ملے گا : چنانچہ اللہ پاک قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں۔ کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب اجر و ثواب دیاجائے گا۔

(3) اور نماز کے ذریعے مدد لو: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ کنز العرفان: اور صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ (پ1، البقرۃ:45)

سبحان اللہ! کیا پاکیزہ تعلیم ہے۔ صبر کی وجہ سے قلبی قوت میں اضافہ ہے اور نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں پریشانیوں کو برداشت کرنے اور انہیں دور کرنے میں سب سے بڑی معاون ہیں۔

(4) صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں: رب العالمین کا ارشاد ہے کہ اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷) ترجمہ کنزالعرفان: یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ : 157)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہوتے ہیں ، ان کیلئے بخشش اور ہدایت و رحمت ہے۔

(5) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے : ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۲۴۹) ترجمہ کنزالعرفان:اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ، 249)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو صابرین(صبر کرنے والے) ہوتے ہیں اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔

(6) اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ محبت بھی فرماتا ہے : ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو صابرین(صبر کرنے والے) ہوتے ہیں۔ ہر معاملے میں اللہ پاک کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ ان سے محبت فرماتا ہے۔

(7) صبر کرنا اور اچھے کام کرنا بخشش کے کام ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

انہیں جب کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا اور کوئی نعمت ملی تو اس پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کیا، جو ایسے اَوصاف کے حامل ہیں ان کے لئے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں صبر و استقامت کے ساتھ رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری بےحساب بخشش و مغفرت فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


صبر انسان کی زندگی کا وہ حسین وصف ہے جو ایمان کو مضبوط اور دل کو پرسکون بناتا ہے۔ قرآن مجید میں صبر کو ایک اعلیٰ درجہ اور ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ یہ وہ اخلاقی صفت ہے جو انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب تک پہنچاتی ہے۔ صبر دراصل اللہ کے فیصلے پر راضی رہنے کا نام ہے۔

اسلام نے مومن کو یہ درس دیا ہے کہ زندگی کی ہر مشکل میں گھبراہٹ نہیں بلکہ سکون و صبر اختیار کیا جائے۔ صبر صرف مصیبت برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ نفس کی خواہشات کو قابو میں رکھنے کا نام بھی ہے۔ یہی صبر بندے کو کامیاب اور اللہ کے قریب کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)

ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵)

ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔ (پ2، البقرۃ: 156)

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ

ترجمۂ کنزالایمان: اور اے محبوب تم صبر کرواور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ (پ14، النحل:127)

اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)

ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

حضور ﷺ نے فرمایا: مومن کا حال عجیب ہے، ہر حال میں اس کے لیے بھلائی ہے، اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر مصیبت پہنچے تو صبر کرتا ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 2999)

قرآن مجید کے ان مبارک بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ صبر محض برداشت کا نام نہیں بلکہ ایمان کی تکمیل ہے۔ صبر انسان کو غم، خوف اور تکلیف میں مضبوط رکھتا ہے۔ جو بندہ صبر کرتا ہے وہ دراصل اللہ کے فیصلے پر راضی ہوتا ہے، اور یہی رضا انسان کو اللہ کے قرب تک پہنچاتی ہے۔

صبر مومن کی پہچان، نجات کا ذریعہ اور کامیابی کی کنجی ہے۔ صبر کرنے والا دنیا میں سکون اور آخرت میں بے حساب اجر پاتا ہے۔

اللہ پاک ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


قران کریم اللہ پاک کے عظیم اور لاریب کتاب ہے جس جس میں ہر چیز کا بیان موجود ہے قرآن پاک میں جس طرح عبادات اور گزشتہ امتوں کے واقعات کو بیان کیا گیا ہے اسی طرح اس میں صبر کے فضائل اور اس کے انعامات کو بیان کیا گیا ۔ آئیے ہم بھی قرآن پاک سے صبر کا بیان پڑھتے ہیں :

(1) صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ ٍ(پ2، البقرۃ: 153)

(2) آزمانا: وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

(3) دشمنوں سے آگے رہنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل عمران: 200)

(4) صبر کرو: وَ اَطِیْعُوا اللہ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْاؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنز الایمان: اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور آپس میں جھگڑو نہیں کہ پھر بزدلی کرو گے اور تمہاری بندھی ہوئی ہوا جاتی رہے گی اور صبر کرو بےشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ 10 ، الانفال: 46)

(5) صبر کرنے والوں کے لیے بخشش اور بڑا ثواب:اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)

اللہ پاک ہمیں صبر کرنے اور اس پر اجر پانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


صبر ایک ایسی خصلت ہے جو انسان کے ایمان، عقل، اور کردار کی پختگی کا مظہر ہے۔ قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کا ذکر آیا ہے اور اہلِ صبر کے لیے بے شمار فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ دراصل صبر وہ چراغ ہے جو مومن کو آزمائشوں کی تاریکی میں استقامت کی روشنی عطا کرتا ہے۔

صبر کی تعریف: امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: صبر کا معنی ہے: نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کرتی ہے، یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل و شریعت مطالبہ کرے۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص 474)

صبر کی اقسام: امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا: صبر کی دو بنیادی اقسام ہیں:

1 بدنی صبر جیسے جسمانی مشقتیں برداشت کرنا۔

2 نفسی صبر یعنی خواہشات کے تقاضوں پر قابو پانا۔

پہلا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابلِ تعریف ہے، لیکن کامل تعریف کے لائق دوسرا صبر ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، ج4، ص82)

قرآنِ کریم میں صبر کا تذکرہ:

(1) صبر سے مدد حاصل کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)

مشکلات کا مقابلہ بندہ صبر کے ہتھیار اور نماز کی پناہ سے کرے، کیونکہ اللہ کی معیت اہلِ صبر کے ساتھ ہے۔

(2) مصیبت میں صبر کی آزمائش : وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور ضرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)

آزمائشیں زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ کامیابی ان کے لیے ہے جو مصیبت کے وقت إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّآ إِلَیْهِ رَاجِعُونَ کہتے ہوئے صبر کرتے ہیں۔

(3) اہلِ صبر پر رحمت و ہدایت:اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ (۱۵۷) ترجمۂ کنز الایمان: یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی دُرودیںہیں اوررحمت اور یہی لوگ راہ پر ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 157)

(4) میدانِ جنگ میں صبر: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ (پ10، الانفال: 46)

(5) صبر کا بدلہ: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)

اللہ تعالیٰ نے اہلِ صبر کو اجر بغیر حساب دینے کا وعدہ فرمایا۔ یعنی ان کا صبر کسی پیمانے میں نہیں تولا جائے گا بلکہ لامحدود انعامات سے نوازا جائے گا۔

(6) دنیا کی فانی نعمتوں کے مقابلے میں صبر: - وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر ضرور دیں گے۔ (پ14، النحل:96)

دنیا کی نعمتیں ختم ہونے والی ہیں، مگر صبر کرنے والوں کے لیے دائمی بدلہ محفوظ ہے۔

(7) انبیاء کا صبر: وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (پ 4 ، آل عمران : 146 )

انبیاء کرام اور ان کے پیروکاروں نے اللہ کی راہ میں جو صبر دکھایا، وہی ان کی کامیابی کا راز تھا۔

(8) اہلِ ایمان کا قولِ صبر: رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠(۱۲۶) ترجمۂ کنز الایمان:اے رب ہمارے ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں مسلمان اٹھا۔ (پ9،الاعراف: 126)

یہ دعا ایمان والوں کا شعار ہے کہ وہ صبر کو خود سے نہیں بلکہ اللہ سے مانگتے ہیں۔

(9) صبر اور عملِ صالح کی بنیاد: وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ترجمۂ کنز الایمان:ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔ (پ30، العصر:3)

یہ سورۃ انسان کی نجات کا فارمولا پیش کرتی ہے: ایمان، عملِ صالح، حق کی دعوت، اور صبر کی تلقین۔

(10) عبادت میں صبر: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ- ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو۔ (پ1، البقرۃ:45)

عبادت میں صبر کا مطلب ہے دل جمعی سے عبادت کرنا، خواہ نفس کو مشقت محسوس ہو۔

صبر صرف مشکلات میں خاموشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مضبوط ایمانی رویہ ہے جو انسان کو اللہ کی رضا پر قائم رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم نے صبر کو کامیابی، ہدایت، اور جنت کی کنجی قرار دیا ہے۔ اہلِ صبر دراصل وہ ہیں جو ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھنے والے، اور اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع رکھنے والے ہوتے ہیں۔


گزشتہ روز دعوتِ اسلامی کی دینی و فلاحی ایکٹیویٹیز کے سلسلے میں شعبہ رابطہ برائے شخصیات کے ذمہ داران نے SSP ساؤتھ ڈسٹرکٹ کے آفس کا وزٹ کیا جہاں اُن کی ملاقات SSP مہ

زور علی اور DSP اقبال میمن سے ہوئی۔

اس ملاقات کے دوران ذمہ داران حاجی یعقوب عطاری اور سیّد عبد الرزاق عطاری نے افسران سے دعوتِ اسلامی کی مختلف دینی ایکٹیویٹیز کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا جس کو انہوں نے سراہا اور دعوتِ اسلامی کی خدماتِ دین میں تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

بعدازاں ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے افسران کو دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی کا وزٹ کرنے کی دعوت دی اور انہیں مکتبۃالمدینہ کی کتابیں تحفے میں پیش کیں۔(رپورٹ: شعبہ رابطہ برائے شخصیات ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری) 


دعوتِ اسلامی کے شعبہ کفن دفن کے تحت 3 اپریل 2026ء کو محلہ قاضی آباد، زون 3 بہارہ کہو، اسلام آباد میں ”غسلِ میت و کفن کورس“ منعقد کیا گیا جس میں قرب و جوار کے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

کورس کے دوران شعبے کے صوبائی ذمہ دار مولانا محمد مزمل عطاری مدنی نے حاضرین کو غسلِ میت کے شرعی احکام و اصول اور اس کی احتیاطیں بیان کیں نیز غسلِ میت دینے، کفن کاٹنے/ پہنانے کا عملی طریقہ بھی کرکے بتایا۔

صوبائی ذمہ دار نے عوام الناس میں پائی جانے والی غلطیوں کی طرف نشاندہی کی اور حاضرین کی جانب سے ہونے والے سوالات کے جوابات دیئے۔(رپورٹ: شعبہ کفن دفن ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


دعوتِ اسلامی کے تحت ماہ اپریل ہفتہ وار اجتماع کے طور پر منایا جا رہا ہے ۔ اس سلسلے میں مختلف مدنی مراکز کی طرح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، سیکٹر G-11 میں واقع مدنی مرکز فیضان مدینہ میں بھی ہفتہ وار اجتماع کا سلسلہ جاری ہے جہاں کثیر تعداد میں عاشقان رسول شرکت کرتے ہیں ۔

2 اپریل 2026ء کو اسپیشل پرسنز نے صوبائی ذمہ دار کامران عطاری کے ہمراہ اسلام آباد، سیکٹر G-11 میں ہونے والے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی جہاں نگرانِ اسلام آباد مولانا بابر عطاری مدنی نے سنتوں بھرا بیان کیا۔

اس اجتماعِ پاک میں اسپیشل پرسنز کے لئے علیحدہ حلقہ لگایا گیا جس میں مبلغِ دعوتِ اسلامی نے اشاروں کی زبان میں ہفتہ وار اجتماع میں ہونے والے بیان، ذکر و اذکار اور دعا کی ترجمانی کی ۔(رپورٹ: کامران عطاری صوبائی ذمہ دار اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)


پچھلے دنوں سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ دعوتِ اسلامی کے ذمہ دار حاجی وسیم عطاری کےوالد کا قضائے الٰہی سے  انتقال ہوگیا (اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) جن کی نمازِ جنازہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ادا کی گئی۔

تفصیلی معلومات کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے پڑھائی اور دعائے مغفرت کرتے ہوئے مرحوم کے بلندیِ دَرَجات کے لئے خصوصی دعا کروائی ۔

اس دوران مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران مولانا حاجی محمد عمران عطاری، اراکینِ شوریٰ اور ذمہ داران سمیت کثیر تعداد میں عاشقانِ رسول موجود تھے جنہوں نے مرحوم کے لئے دعا کی۔

بعدازاں خلیفۂ امیرِ اہلسنت، نگرانِ شوریٰ اور اراکینِ شوریٰ نے مرحوم کے لواحقین سے تعزیت کرتے ہوئے انہیں صبر کی تلقین کی نیز مرحوم کے لئے زیادہ سے زیادہ ایصالِ ثواب کرنے کا ذہن دیا۔


دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے ہفتہ وار اجتماعات محض ایک اجتماع نہیں بلکہ اصلاحِ امت، اخلاقی تربیت اور دینی معلومات کا ایک بہت بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔ آج دنیا بھر میں ہزاروں مقامات پر یہ اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں۔

دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار اجتماعات صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ یہ دنیا کے 200 سے زائد ممالک میں منعقد کئے جاتے ہیں۔

یہ اجتماع پاکستان کے شہر کراچی میں قائم عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سمیت ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر اور دیہات میں منعقد ہوتے ہیں، ان کے علاوہ بین الاقوامی سطح بنگلہ دیش، برطانیہ، متحدہ عرب امارات، جنوبی افریقہ، امریکہ، کینیڈا اور یورپی ممالک میں مقامی وقت کے مطابق اجتماعات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ان اجتماعات میں دعوتِ اسلامی کے مبلغین قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاحی بیانات کرتے ہیں۔ ان بیانات کا مقصد معاشرتی برائیوں کا خاتمہ اور تقویٰ کی ترغیب دینا ہوتا ہے۔

اسی سلسلے میں آج مؤرخہ 09 اپریل 2026ء بروز جمعرات دنیا بھر میں ہفتہ وار اجتماعات کا انعقاد کیا جائے گا جن میں تلاوت و نعت کے بعد اراکین شوریٰ و مبلغین دعوتِ اسلامی سنتوں بھرے بیانات فرمائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق آج رات عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی سے مدنی چینل پر براہ راست نشر ہونے والے ہفتہ وار اجتماع میں رکن شوریٰ حاجی محمد اظہر عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

اس کے علاوہ رضائے مصطفٰے مسجد کورنگی نمبر 04 کراچی میں رکن شوریٰ حاجی فضیل عطاری، بہزاد لکھنوی مسجد سخی حسن چورنگی نارتھ ناظم آباد کراچی میں رکن شوریٰ عبد الوہاب عطاری، جامع مسجد محمدی حنفیہ سوڈیوال لاہور میں رکن شوریٰ حاجی یعفور رضا عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ آفندی ٹاؤن حیدر آباد میں رکن شوریٰ حاجی قاری ایاز عطاری، مدنی مرکز فیضان مدینہ رحمن سٹی فیروز والا ، لاہور میں رکن شوریٰ مولانا حاجی اسد عطاری مدنی، فیضان اسلام مسجد DHA کراچی میں رکن شوریٰ حاجی محمد علی عطاری اور مدنی مرکز فیضان مدینہ ROCHDALEمیں رکن شوریٰ حاجی محمد خالد عطاری سنتوں بھرا بیان فرمائیں گے۔

تمام عاشقانِ رسول سے ہفتہ وار اجتماع میں شرکت کرنے کی درخواست ہے۔


اس سال 2026ء بمطابق 1447ھ کے رمضانُ المبارک میں کثیر عاشقانِ رسول نے  دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں ایک ماہ اور آخری عشرے (10 دن) کا اعتکاف کیا۔

تفصیلات کے مطابق عاشقانِ رسول کو اعتکاف کے دوران نماز، روزہ، وضو، غسل کے مسائل اور دیگر فرض علوم سیکھنے کا موقع ملا نیز روزانہ کی بنیاد پر 2 مدنی مذاکروں کا بھی سلسلہ ہوا جن میں امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی دینی، اخلاقی و روحانی اعتبار سے تربیت کی۔

13 مارچ 2026ء بمطابق 23 رمضانُ المبارک 1447ھ کو خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا ابو اُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ العالی نے آخری عشرے کا اعتکاف کرنے والے اسلامی بھائیوں کے سروں پر عمامہ شریف باندھا اور کثیر عاشقانِ رسول سے ملاقات فرمائی۔