دعوتِ اسلامی کے تحت 6 اپریل 2026ء کو شعبہ رابطہ برائے تاجران کے ایک وفد نے حاصل پور
شہر ، پنجاب کی معروف کاروباری شخصیت Frank Khalid (Fukhera Khalid) سے اُن کے آفس میں ملاقات کی۔
اس ملاقات میں مولانا فہیم عطاری مدنی نے Frank Khalid کو دعوتِ اسلامی کی مختلف ایکٹیویٹیز کے بارے
میں بتایا اور انہیں UK میں قائم دعوتِ اسلامی کے اسلامک سینٹر فیضانِ مدینہ کا وزٹ کرنے کی دعوت دی۔
آخر میں میں مولانا فہیم عطاری مدنی نے Frank Khalid کو ”فیضانِ قرآن ڈیجیٹل پین“ تحفے میں پیش کیا جس پر انہوں
نے خوشی کا اظہار کیا۔(رپورٹ: دانیال عطاری پاکستان آفس
ذمہ دار ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
مدرسۃالمدینہ برائے نابینا افراد، لاہور میں
باقاعدہ داخلوں کا آغاز کردیا گیا
دعوتِ اسلامی کے اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ اور
مدرستہ المدینہ کے تحت اسپیشل پرسنز میں دینی شعور بیدار کرنے اور انہیں قرآنِ پاک
کی تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے مدرسۃالمدینہ برائے نابینا افراد، لاہور میں
باقاعدہ داخلوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مدرسۃالمدینہ برائے نابینا
افراد کے قیام کا مقصد امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی دینی فکر کو عام کرنا اور معاشرے کے ہر فرد تک علمِ دین پہنچانا ہے نیز اس
کے ذریعے اسپیشل پرسنز کو نہ صرف قرآنِ پاک کی تعلیم دی جائے گی بلکہ
انہیں بنیادی اسلامی احکام، سنتیں و آداب اور عملی زندگی دینِ اسلام کے مطابق گزارنے کا ذہن دیا جائے گا۔
واضح رہے یہ داخلے اماں حاجن فروٹ منڈی،نزد ٹرک اڈا، لاہور میں جاری ہیں جہاں ماہر اساتذہ اپنے خصوصی
اندازِ تدریس میں طلبہ کی تربیت کریں
گے ۔
اس موقع پر ذمہ دارانِ دعوتِ اسلامی نے تمام
لوگوں کو ترغیب دلائی ہے کہ اپنے علاقوں میں موجود اسپیشل پرسنز کو دعوتِ اسلامی
کے دینی ماحول سے وابستہ کریں تاکہ انہیں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملے۔
مزید معلومات اور داخلے کے لئے ان نمبرز ”0302-4811716/0315-4140359“پر رابطہ کیا
جاسکتا ہے۔(رپورٹ: محمد عمیر ہاشمی عطاری
نگرانِ اسپیشل پرسنز ڈیپارٹمنٹ، کانٹینٹ:غیاث
الدین عطاری)
11 اپریل کو معتکفین کے لئے فیضان مدینہ
کراچی میں ”یادِ رمضان مدنی مذاکرہ“ منعقد کیا جائے گا
دعوتِ
اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں ماہِ رمضان المبارک کی روحانی یادوں
کو تازہ کرنے اور معتکفین کی اخلاقی تربیت کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لئے 11 اپریل
2026 ءکی رات تقریباً 09:15 بجے ایک خصوصی نشست بنام ”یادِ رمضان مدنی مذاکرہ“
منعقد کی جائے گی۔
پروگرام
کا پس منظر
رمضان
المبارک کے مقدس مہینے کے اختتام کے بعد، یہ پروگرام خاص طور پر ان افراد کے لئے
ترتیب دیا گیا ہے جنہوں نے دعوتِ اسلامی کے تحت ملک بھر میں قائم کردہ اعتکاف
گاہوں میں پورا مہینہ یا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارا تھا۔ اس مدنی مذاکرے کا مقصد
رمضان میں حاصل ہونے والی روحانیت اور نظم و ضبط کو باقی مہینوں میں بھی نافذ کرنے
کی ترغیب دینا ہے۔
اس
نشست میں دعوتِ اسلامی کے بانی، شیخِ طریقت امیرِ اہل سنت حضرت علامہ مولانا محمد
الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہخصوصی شرکت کرکے
شرکا کی دینی و اخلاقی رہنمائی فرمائیں گے
اور ان کی جانب سے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات دیں گے۔
جدید
تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئےاس پروگرام کو مدنی چینل پر براہ راست (Live)
نشر
بھی کیا جائے گا۔
تمام
عاشقان رسول سے اس روحانی نشست میں شرکت کرنے کی درخواست ہے۔
تبلیغِ
قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک، دعوتِ اسلامی کے بانی شیخِ طریقت، امیرِ اہل سنت
حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم
العالیہ
کی شخصیت علمی و روحانی حوالے سے کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ کی تحریریں اور
خطوط مریدین، معتقدین اور عام مسلمانوں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں۔
مکتبۃ
المدینہ کی جانب سے شائع کردہ کتاب ’مکتوباتِ امیرِ اہل سنت (جلد اول) اسی
سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کی تفصیلی رپورٹ درج ذیل ہے:
1۔
کتاب کا تعارف اور پس منظر
یہ
کتاب محض خطوط کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ اصلاحِ نفس اور عشقِ رسول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم میں ڈوبی ہوئی تحریروں کا ایک گلدستہ ہے۔ اسے مولانا
ابو محمد طاہر عطاری مدنی نے نہایت محنت سے تالیف کیا ہے، جس میں امیرِ اہل سنت کے
مختلف مواقع پر لکھے گئے مکتوبات اور اصلاحی تحریر کو یکجا کر دیا گیا ہے۔
2۔
کتاب کے نمایاں مندرجات:
اس
جلد میں قارئین کے لئے علم و حکمت کے کئی موتی جمع کئے گئے ہیں، جن میں سے چند اہم
درج ذیل ہیں:
دعوتِ
اسلامی سے قبل کے مکتوبات: یہ حصہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے، جس
سے امیرِ اہل سنت کے ابتدائی دور کے جذبہِ خیر اور فکرِ امت کا اندازہ ہوتا ہے۔
عشقِ
رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے
مدنی پھول: حضور
پرنور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت
ایمان کی روح ہے۔ اس کتاب میں عشقِ رسول صلَّی
اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو اُجاگر
کرنے والے مدنی پھول شامل ہیں۔
12
پیاری
پیاری نیتیں:
کسی بھی نیک کام سے پہلے اچھی نیت اجر و ثواب کو بڑھا دیتی ہے۔ اس میں مختلف اعمال
کے حوالے سے خوبصورت نیتوں کا انتخاب موجود ہے۔
نیکی
کی دعوت پر مشتمل 15 مدنی پھول: مبلغین
اور نیکی کی دعوت دینے والوں کے لئے یہ حصہ ایک مکمل گائیڈ لائن فراہم کرتا ہے کہ
کس طرح حکمت و تدبیر سے لوگوں کی اصلاح کی جائے۔
اصلاحی
تحریرات: معاشرتی
برائیوں سے بچنے اور اخلاقیات کو بہتر بنانے کے لئے کئی دلچسپ اور سبق آموز
تحریریں اس کتاب کا حصہ ہیں۔
3۔
قارئین کے لئے فوائد
روحانی
تربیت: امیرِ اہل سنت
کا اندازِ تحریر نہایت سادہ اور دل نشین ہے جو براہِ راست دل پر اثر کرتا ہے۔
تاریخی
ریکارڈ: دعوتِ اسلامی
کے آغاز اور امیرِ اہل سنت کی جدوجہد کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
عملی
رہنمائی: روزمرہ زندگی
میں نیکیوں پر استقامت پانے کے عملی طریقے سیکھنے کو ملتے ہیں۔
خریداری کا طریقہ ٔکار
یہ
کتاب مکتبۃ المدینہ کی تمام شاخوں پر مناسب قیمت میں دستیاب ہے۔ آپ اپنے
شہر میں موجود دعوتِ اسلامی کے قریبی مکتبۃ المدینہ کی شاخ سے بھی اسے طلب کر سکتے ہیں۔
Online
Order کرنے
کے لئے درج ذیل لنکس پر کلک کیجئے:
Whatsapp maktaba-tul-madinah Al Arabiya
گفتگو
صرف لفظوں کا تبادلہ نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، ظرف اور تربیت کا آئینہ ہوتی ہے۔
گفتگو میں مصلحت، شائستگی اور دوسروں کے احترام کا پہلو نمایاں ہو۔
دانشمندوں
کا قول ہے کہ ”پہلے تولو، پھر بولو“ ۔ جب ہم الفاظ کے انتخاب میں احتیاط
برتتے ہیں، تو ہم نہ صرف غلط فہمیوں کے دروازے بند کرتے ہیں بلکہ اپنی عزتِ نفس کی
بھی حفاظت کرتے ہیں۔ بے جا بولنا اور بغیر سوچے سمجھے تبصرہ کرنا اکثر پشیمانی کا
باعث بنتا ہے جبکہ نپے تلے الفاظ انسان کے
وقار میں اضافہ کرتے ہیں۔
عاشقانِ
رسول کو محتاط گفتگو کرنے کی ترغیب دلانے کے لئے شیخ طریقت امیر اہلسنت حضرت علامہ
مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے اس ہفتے
16 صفحات کا رسالہ ”محتاط گفتگو کیجئے“ پڑھنے / سننے
کی ترغیب دلائی ہے اور پڑھنے / سننے والوں کو اپنی دعاؤں سے بھی نوازا ہے۔
دعائے عطار
یااللہ
پاک! جو کوئی 16 صفحات کا رسالہ ” محتاط گفتگو کیجئے “ پڑھ
یا سن لے اُسے ہمیشہ محتاط گفتگو اور اعمال میں احتیاطیں کرنا نصیب فرمااور جنت
الفردوس میں ماں باپ سمیت بے حساب داخلہ نصیب فرما۔ اٰمین
یہ
رسالہ آڈیو میں سننے اور اردو سمیت کئی زبانوں میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے دیئے
گئے لنک پر کلک کیجئے:
علی اسحاق (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
ابو
القاسم عبد الکریم ھوازن قشیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی کتاب رسالہ قشیریہ میں
فرماتے ہیں کہ صبر کے کئی قسمیں ہیں:
(1)
بندے کا ان کاموں پر صبر جو اس کے اختیار میں ہیں
(2) ان
کاموں پر صبر جو اس کے اختیار میں نہیں اور اختیار والے کاموں پر صبر کی دو قسمیں
ہیں: (1) اس کام پر صبر جس کے کرنے کا اللہ عزوجل نے حکم دیا (2) اس کام پر صبر جس
سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ۔ہے ۔
ان
امور پر سبق جن میں بندے کا اختیار نہیں ، اس کی مثال یہ ہے کہ انسان پر جو مصیبت
اللہ کی طرف سے آجائے اسے برداشت کرنے میں صبر کرے :
(1)اچھے
کام اور صبر کرنے والوں کے لیے ثواب: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمۂ کنز الایمان :
مگر جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔ (پ12،ہود: 11)
تفسیرِ
صراط الجنان: آیت سے معلوم ہوا کہ نعمت چھن جانے پر صبر کرنا اور راحت ملنے پر
شکر کرنا اور بہر صورت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں مصروف رہنا مومن کی
شان ہے ۔ (پارہ
12 سورۃ ھود آیت نمبر 11)
(2)
بھروسہ:الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جنہوں
نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان: یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے
جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں
اس کی محبت بسی ہوئی ہے ۔ (پارہ
16 سورۃ النحل آیت نمبر 42)
(3) سزا
دو: وَ
اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ
صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ(۱۲۶)
ترجمۂ
کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں تکلیف
پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔ (پ14،
النحل:126)
تفسیر صراط الجنان:جنگ ِاُحد میں کفار نے
مسلمانوں کے شُہداء کے چہروں کو زخمی کرکے اُن کی شکلوں کو تبدیل کیا تھا ، اُن کے
پیٹ چاک کئے اور ان کے اعضاء کاٹے تھے ، ان شہداء میں حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے تاجدارِ رسالت ﷺ نے جب انہیں دیکھا تو آپ ﷺ کو بہت صدمہ ہوا اور آپ ﷺ نے قسم کھائی کہ ایک حضرت حمزہ رَضِیَ اللہ
تَعَالٰی عَنْہُ کا بدلہ ستر کافروں سے لیا جائے گا اور ستر کا یہی حال کیا جائے
گا۔ اس
پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی توحضورِ اقدس ﷺ نے وہ ارادہ ترک فرمایا اور اپنی قسم کا
کفارہ دے دیا۔ یاد رہے کہ مُثلہ یعنی ناک کان وغیرہ کاٹ کر کسی
کی ہَیئت کو تبدیل کرنا شریعت میں حرام ہے۔ (پارہ 16 سورۃ النحل آیت نمبر 126)
(4)
ہرگز نہیں ٹھہریں گے: قَالَ اِنَّكَ لَنْ
تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا(۶۷) وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ
خُبْرًا(۶۸)ترجمۂ
کنز الایمان:کہا آپ میرے ساتھ ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ اور اس بات پر کیوں کر صبر کریں گے جسے آپ کا
علم محیط نہیں۔ (پ15،
الکھف:67، 68)
تفسیر
صراط الجنان: حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَ علیہ السلام نے فرمایا: آپ میرے ساتھ
ہرگز نہ ٹھہر سکیں گے۔ حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَ علیہ السلام نے یہ
اس لئے فرمایا کہ وہ جانتے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوکچھ ناپسندیدہ اور
ممنوع کام دیکھنا پڑیں گے اور انبیاءِ کرام علیہ السلام سے ممکن ہی نہیں کہ وہ
ممنوع کام دیکھ کر صبر کرسکیں ۔ (پارہ 18 سورۃ الکہف آیت نمبر 67-68)
(5)میری
اور آپ کی جدائی : قَالَ
هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَۚ-سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ
تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا(۷۸) ترجمۂ
کنز الایمان:کہا یہ میری اور آپ کی جدائی ہے اب میں آپ کو ان باتوں کا پھیر (بھید)بتاؤں
گا جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔ (پ15،
الکھف:78)
تفسیر
صراط الجنان: حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف سے تیسری مرتبہ
اپنے فعل پر کلام سن کر حضرت خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا ’’ یہ میری اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی
جدائی کا وقت ہے۔ اب میں جدا ہونے سے پہلے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام کو ان باتوں کا اصل مطلب بتاؤں گا جن پر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
وَالسَّلَام صبر نہ کرسکے اور اُن کے اندر جو راز تھے ان کا اظہار کردوں گا۔ (پارہ 18 سورۃ الکہف آیت نمبر 78)
اللہ
پاک ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
محمد
مزمل (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
قرآن پاک نے ہمیں بہت سی تعلیمات سے تربیت
فرمائی ہے اسی میں ہمیں صبر کے متعلق بھی بہت سی تعلیمات تربیت فرمائی ہے جب بھی
ہمیں کوئی مشکل پیش آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے اس کا بدلہ نہیں لینا چاہیے کیونکہ
قرآن پاک بھی ہم یہی سکھاتا ہے کہ جب بھی ہمیں کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی دل
دکھائے یا کوئی بات بری لگ گئی یا کوئی بھی آزمائش آئے تو ہمیں صبر کرنا چاہیے۔ آئیے
اسی کے متعلق قرآن پاک سے پانچ آیات مبارکہ پیش کی جاتی ہیں۔
(1)وَ
اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ
خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر وحی
ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے۔ (پ11،
یونس:109)
تفسیر صراط الجنان : وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ:اور
اس کی پیروی کرو جو آپ کی طرف وحی بھیجی جاتی ہے۔ یعنی
اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور
آپ کی قوم کے کفار کی طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں
حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ
فرمائے ،اللہ عَزَّوَجَلَّ سب سے بہتر فیصلہ فرمانے والا ہے۔ (پ
11 ، یونس ، آیت 109 ، ص 387 ، صراط الجنان )
(2)سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)
ترجمہ
کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم
نے صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13، الرعد: 24)
تفسیر
صراط الجنان:اور ان کے پاس فرشتے روزانہ دن اور رات میں تین مرتبہ تحائف اور اللہ
تعالیٰ کی رضا کی بشارتیں لے کر جنت کے ہر دروازے سے تعظیم و تکریم کرتے ہوئے آئیں
گے اور کہیں گے’’ تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور
اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ : 13 ، الرعد ، آیت : 24 ، ص: 113 ،
صراط الجنان )
(3)الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز العرفان : وہ جنہوں
نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان:
اَلَّذِیْنَ صَبَرُوْا:جنہوں نے صبر کیا ۔ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے
اپنے اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا حالانکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا
حرم ہے اور ہر ایک کے دل میں اس کی محبت بسی ہوئی ہے۔ یونہی
کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر اور جان ومال خرچ کرنے پر صبر کیا اور وہ
اپنے رب عَزَّوَجَلَّ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے دین کی وجہ سے جو پیش آئے
اس پر راضی ہیں اور مخلوق سے رشتہ منقطع کرکے بالکل حق کی طرف متوجہ ہیں اور سالک
کے لئے یہ انتہائے سلوک کا مقام ہے۔ (پ
: 14، س: النحل ، آیت: 42 ، ص :318 ، صراط الجنان )
(4) وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-
ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
تفسیر
صراط الجنان: وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ
اَىٕمَّةً: اور
ہم نے ان میں سے کچھ امام بنائے۔ یعنی
جب بنی اسرائیل نے اپنے دین پر اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی مصیبتوں پر صبر کیا
تو ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے لوگوں کو خدا
عَزَّوَجَلَّ کی طاعت ، اس کی فرمانبرداری ، اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی شریعت کی
پیروی اورتورات کے اَحکام کی تعمیل کے بارے میں بتاتے تھے اور وہ ہماری آیتوں پر یقین رکھتے تھے۔ یہ امام بنی اسرائیل کے انبیاء علیہ السلام
تھے یا انبیاء ِکرام علیہ السلام کی پیروی کرنے والے۔ (پ: 21 ، س: السجدہ ،آیت: 24 ، ص:545 ،صراط
الجنان )
(5)فَاصْبِرْ
اِنَّ وَعْدَ اللہ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا
یُوْقِنُوْنَ۠(۶۰)
ترجمۂ
کنز الایمان: تو صبر کرو بے شک الله کا وعدہ سچا ہے اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین
نہیں رکھتے۔ (پ21،
الروم:60)
تفسیر
صراط الجنان: كَذٰلِكَ: اسی
طرح۔ یعنی جس طرح ان لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی
اسی طرح ان جاہلوں کے دلوں پر بھی اللہ تعالیٰ مہر لگا دیتا ہے جن کے بارے میں
جانتا ہے کہ وہ گمراہی اختیار کریں گے اور حق والوں کو باطل پر بتائیں گے۔ (پ:
21 ، س: الروم ، آیت: 60 ، ص: 469 ، صراط الجنان )
جیسا کہ ہم نے قرآن پاک سے صبر کے بارے میں
سنا اس سے ہمیں یہ سیکھنے کو ملا کہ ہم پرجتنی بھی آزمائش اور مصیبتیں آئیں تو ہمیں صبر کرنا چاہیے ۔
اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد ارسلان ( درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،
پاکستان)
دین
اسلام کامل و اکمل اور مکمل ضابطہ حیات ہے یعنی اسلام جس طرح عشق مصطفی اور عبادت
الہی کا حکم دیتا ہے اسی طرح مشکلات وغیرہ میں صبر کرنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ آئیے صبر کے بارے میں کچھ آیاتِ مبارکہ پڑھتے ہیں :
(1)
بسنے کی جگہ:
ترجمہ کنزالایمان : ان کو جنت کا سب سے
اونچا بالاخانہ انعام ملے گا بدلہ ان کے صبر کا اور وہاں مجرے(دعا وآداب) اور
سلام کے ساتھ اُن کی پیشوائی ہوگی۔ ہمیشہ اس میں رہیں گے کیا ہی اچھی ٹھہرنے اور
بسنے کی جگہ۔ (پ19،
الفرقان:75، 76)
(2)
دُگنا اجر: اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ
مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا
ترجمہ
کنز الایمان : ان کو ان کا اجر دوبالا دیا جائے گا بدلہ ان کے صبر کا۔ (پ 20، القصص: 54)
(3) جنت
کے بالا خانے:
ترجمہ کنزالایمان : اور بےشک جو ایمان لائے
اور اچھے کام کیے ضرور ہم انہیں جنت کے بالا خانوں پر جگہ دیں گے جن کے نیچے نہریں
بہتی ہوں گی ہمیشہ ان میں رہیں گے کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا ۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ
رکھتے ہیں ۔ (پ21،
العنکبوت:58، 59)
تفسیر
: اچھے عمل کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے تکلیفوں،مصیبتوں اور سختیوں پرصبرکیا ۔ ( تفسیر
صراط الجنان ، ج : 7 ، پ : 21 ، سورہ عنکبوت ، آیت : 58٫59 ، ص : 398٫399 )
(4)
اللہ کی نشانی: اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ
بِنِعْمَتِ اللہ لِیُرِیَكُمْ مِّنْ اٰیٰتِهٖؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ
لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ(۳۱)
ترجمہ
کنزالایمان : کیا تو نے نہ دیکھا کہ کُشتی دریا میں چلتی ہے اللہ کے فضل سے تاکہ
تمہیں وہ اپنی کچھ نشانیاں دکھائے بےشک اس میں نشانیاں ہیں ہر بڑے صبر کرنے والے
شکرگزار کو ۔ (پ21،
لقمان:31)
تفسیر
: بیشک کشتی کی روانی میں ہر اس شخص کیلئے نشانیاں ہیں جو بلاؤں پر بڑا صبر کرنے
والااور اللہ تعالیٰ کی نعمتو ں کا بڑا شکر گزار ہو۔ صبر اور شکر یہ دونوں صفتیں مومن کی ہیں تو گویا ارشاد فرمایا’’اس میں ہر
مومن کے لئے نشانیاں ہیں۔ ( تفسیر صراط الجنان ، ج : 7 ، پ : 21 ،
سورہ لقمان ، آیت : 31 ، ص : 517٫518 )
(5)
اہم کام:وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳)
ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور
بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
اللہ پاک ہمیں ہر
حال میں اپنا صابر و شاکر بندہ بنائے۔ آمین
فاحد علی عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ، پاکستان)
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! جہاں قرآن پاک ہمیں
بہت سی تعلیمات سے نوازتا ہے وہی قرآن پاک ہمیں صبر کے بارے میں بھی حکم دیتا ہے۔ آئیے
پہلے جانتے ہیں کہ صبر کہتے کسے ہیں۔
صبر کی تعریف: صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز
پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز
رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کے
بارے میں قرآن پاک کے کئی آیات مبارکہ ہیں ان میں سے پانچ آیات پیش کی جاتی ہیں۔
(1) صبر
کرنے والا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
(2) بڑا
بے صبرا: اِنَّ
الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًاۙ (۱۹)
ترجمۂ کنز العرفان: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص
پیدا کیا گیا ہے ۔
(پ29،المعارج19تا21)
(3)
صبر اور نماز سے مدد: وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ
الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)
ترجمۂ
کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر
جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1،
البقرۃ:45)
(4)
رب کے لیے صبر کرو: وَ لِرَبِّكَ فَاصْبِرْؕ(۷)
ترجمہ کنزالایمان :اور اپنے رب کے لیے صبر کئے
رہو۔ (پ29، المدثر:7)
(5) راہ
خدا میں خرچ کرنے والے سے:
اَلصّٰبِرِیْنَ
وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷)
ترجمۂ کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب
والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
ہمیں
آنے والی مصیبتوں اور آزمائشیں پر صبر کرنا چاہیے، ہمیں ہر حال میں صبر کرنا چاہیے اور کسی کے سامنے
اپنے دکھڑے نہیں سنانے چاہیے بلکہ صبر کرنا چاہیے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر حال میں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد فیصل فانی ( دورہ حدیث جامعۃ
المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ، پاکستان)
صبر
انسانی زندگی کا وہ لازمی عنصر ہے جو ایمان کی پختگی، اخلاقی بلندی اور روحانی
ارتقاء کی بنیاد ہے۔ قرآنِ کریم نے بارہا صبر کی تلقین کی ہے اور
اسے کامیابی و فلاح کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اسلام میں صبر محض برداشت یا خاموشی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک فعال اور مثبت
عمل ہے، جس کے ذریعے انسان اپنے جذبات، خواہشات اور رویوں کو اللہ کی رضا کے تابع
کرتا ہے۔
صبر کا
مفہوم: لفظ صبر عربی مادہ ص ب ر سے نکلا ہے، جس کے معنی
ہیں روکنے، قابو پانے یا ضبط کرنے کے ہیں۔ قرآن کی اصطلاح میں صبر سے مراد یہ ہے کہ انسان مصیبت، تکلیف، خوف، نقصان یا
آزمائش کے وقت گھبراہٹ اور بے
صبری کا مظاہرہ نہ کرے، بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور ثابت قدمی سے اس کی رضا پر
راضی رہے۔
قرآن میں
صبر کی اہمیت: قرآن مجید نے صبر کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ سورۃ البقرہ میں فرمایا گیا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ صبر صرف آزمائشوں میں برداشت کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ کی مدد
حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔
صبر
کرنے والوں کی بشارت: قرآن نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم
بشارتیں دی ہیں۔
وَ
بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
ترجمۂ کنز العرفان:اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری
سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 155، 156)
یہ آیت
صبر کی اعلیٰ ترین صورت بیان کرتی ہے کہ مومن مصیبت کے وقت شکوہ نہیں کرتا بلکہ
اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے۔
صبر کا
اجر: قرآن
کریم میں صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر کی خوشخبری دی گئی ہے:
قُلْ
یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ
هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللہ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمہ
کنز العرفان: تم فرماؤ :اے میرے مومن بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے بھلائی کی، ان کے لیے اِس دنیا میں بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع
ہے۔ صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر :10)
یہ آیت
اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ صبر اللہ کے نزدیک اتنا قیمتی عمل ہے کہ اس کے اجر کا
کوئی شمار نہیں۔
پیغمبروں
کا صبر: قرآن میں
مختلف انبیاء علیہم السلام کے صبر کی مثالیں پیش کی گئی ہیں تاکہ اہلِ ایمان ان سے
سبق حاصل کریں۔ حضرت ایوب علیہ السلام نے بیماری اور مصیبت میں
صبر کیا۔
وَ
خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-اِنَّا وَجَدْنٰهُ
صَابِرًاؕ-نِعْمَ الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴)
ترجمۂ کنز العرفان:اور (فرمایا) اپنے ہاتھ میں
ایک جھاڑو لے کر اس سے مار دو اور قسم نہ توڑو۔ بے
شک ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا ۔ وہ کیا ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع
لانے والا ہے۔ (پ23،
صٓ: 44)
حضرت یعقوب
علیہ السلام نے اپنے بیٹے یوسف علیہ السلام کی جدائی میں فرمایا:
-فَصَبْرٌ
جَمِیْلٌؕ-وَ اللہ الْمُسْتَعَانُ عَلٰى مَا تَصِفُوْنَ(۱۸)
ترجمہ
کنزالعرفان:تو صبر اچھا اور تمہاری باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہتا ہوں۔ (پ12، یوسف:18)
حضرت
محمد ﷺ کو بھی صبر کی تاکید کی گئی:
فَاصْبِرْ
كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ
ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے
ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
صبر کی
اقسام: قرآن کی
روشنی میں صبر تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
طاعت
پر صبر:یعنی اللہ کے احکام کی پابندی میں استقامت۔ مثال: نماز، روزہ، جہاد، صدقہ وغیرہ میں
تسلسل۔
معصیت
سے صبر:یعنی گناہوں اور حرام چیزوں سے رکنا۔ جیسے یوسف علیہ السلام کا حضرت زلیخا کے فتنہ سے
بچنا۔
مصیبت
پر صبر:یعنی آزمائش، بیماری یا نقصان کے وقت برداشت اور اللہ پر توکل۔
ان تینوں
اقسام کے ذریعے مومن اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالتا ہے۔
صبر اور
کامیابی: قرآن مجید میں صبر کو کامیابی کی کلید قرار
دیا گیا ہے۔
وَ
اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے
محبت فرماتا ہے۔ ( پ 4 ، آل عمران : 146 )
اور
فرمایا:
وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ-
ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
صبر اور
تقویٰ کا تعلق: قرآن پاک میں کئی جگہ صبر کو تقویٰ کے ساتھ
ذکر کیا گیا ہے۔
نِعْمَ
اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ(۵۸) الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ
یَتَوَكَّلُوْنَ(۵۹)
ترجمہ
کنزالایمان: کیا ہی اچھا اجر کام والوں کا۔ وہ جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر
بھروسہ رکھتے ہیں۔ (پ21، العنکبوت:58، 59)
یہ
ظاہر کرتا ہے کہ صبر کا تعلق ایمان، تقویٰ اور توکل سے گہرا ہے۔ مومن کا صبر محض مجبوری نہیں بلکہ یقین پر مبنی اعتماد ہے کہ اللہ بہترین
منصوبہ ساز ہے۔
قرآن مجید کا پیغام واضح ہے کہ صبر ایمان کی
علامت، نجات کا ذریعہ اور اللہ کی قربت کا راستہ ہے۔ صبر ہی انسان کو مشکلات میں مضبوط بناتا ہے، مصیبت میں شکرگزاری سکھاتا ہے،
اور نفس کو قابو میں رکھتا ہے۔ صبر وہ روشنی ہے جو اندھیروں میں امید پیدا کرتی ہے اور مومن کو اللہ کی
رضا تک پہنچاتی ہے۔
لہٰذا
قرآن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب زندگی کی راہیں مشکل ہوں، تو گھبراہٹ کے بجائے
صبر، دعا اور توکل اختیار کریں، کیونکہ:
اِنَّ
مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶)
ترجمہ
کنزالایمان: بے شک دشواری کے ساتھ اور آسانی ہے۔ (پ30،
الم نشرح: 6)
اللہ پاک ہمیں عمل
کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد جمشید عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
صبر
عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں روکنا برداشت کرنا، اور ثابت قدم رہنا۔
اصطلاح
شریعت میں صبر کی تعریف: صبر اس حالت کو
کہتے ہیں کہ انسان تکلیف مصیبت یا خواہش کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے
اپنے نفس کو گناہ یا بے صبری سے روکے رکھے۔
(1)صبر
والوں کی فضیلت : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا:اے ایمان والو۔ اس
سے پہلی آیات میں ذکر اور شکر کا بیان ہوا اور اس آیت میں صبر اور نماز کا ذکر کیا
جا رہا ہے ۔
(2)صبر والے
راہ خدا میں خرچ کر تےہیں:اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ
الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ(۱۷) ترجمۂ
کنز الایمان:صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے
پہرسے معافی مانگنے والے۔ (پ3،آل عمران، 17)
تفسیر
صراط الجنان: متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر
ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)صبر
کا معنی: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا-
وَ اتَّقُوا اللہ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠(۲۰۰) ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والو صبر کرو
اور صبر میں دشمنوں سے آگے رہواور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو ا س امید پر کہ کامیاب ہو۔ (پ4، آل
عمران: 200)
تفسیر
صراط الجنان: صبر کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے روکنا جو شریعت اور عقل
کے تقاضوں کے مطابق نہ ہو
(4)صبر
سے دین پر غلبہ: وَ اتَّبِ۔ عْ مَا یُوْحٰۤى
اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللہ ۚۖ-وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠(۱۰۹) ترجمۂ کنز الایمان: اور اس پر چلو جو تم پر
وحی ہوتی ہے اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ حکم فرمائے اور وہ سب سے بہتر حکم فرمانے
والا ہے۔ (پ11،
یونس:109)
تفسیر
صراط الجنان: اے حبیب! ﷺ ، اللہ تعالیٰ
آپ کی طرف جو وحی فرماتا ہے آپ اسی کی پیروی کر یں اور آپ کی قوم کے کفار کی
طرف سے آپ کو جو اَذِیَّت پہنچتی ہے اس پر صبر کرتے رہیں حتّٰی کہ اللہ تعالیٰ
آپ کے دین کو غلبہ عطا فرما کر ان کے خلاف آپ کی مدد کا فیصلہ فرمائے۔
(5)صبر
پر ثواب: الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمۂ کنز الایمان: وہ جنہوں
نے صبر کیا اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14،
النحل: 42)
تفسیر
صراط الجنان: اَلَّذِیْنَ
صَبَرُوْا:جنہوں
نے صبر کیا ۔ یعنی عظیم ثواب کے حقدار وہ ہیں جنہوں نے اپنے
اس وطن مکہ مکرمہ سے جدا ہونے پر صبر کیا۔
اللہ کریم ہمیں
قرآن کریم پڑھ کر سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
فداء
الرحمن عطاری (درجہ خامسہ جامعۃالمدینہ فیضانِ
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
صبر اس
بات کا نام ہے کہ انسان کسی تکلیف، مصیبت یا آزمائش کے وقت اپنے دل، زبان اور عمل
کو شریعت کے خلاف جانے سے روک لے۔
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر صبر کا بیان آیا
ہے، جیسا کہ پارہ 12، سورہ ہود، آیت نمبر 11 میں ارشاد ہوتا ہے: اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اس آیت
میں صبر کرنے والوں کے اجر کو بیان کیا جارہا ہے کہ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام
کیے، اس طرح کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچی تو انہوں نے صبر سے کام لیا، اور جب کوئی
نعمت ملی تو اس پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ ایسے
اوصاف کے حامل لوگوں کے لیے گناہوں سے بخشش اور بڑا ثواب یعنی جنت ہے۔
اسی
طرح پارہ 18، سورہ مؤمنون، آیت نمبر 111 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ
کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
اس آیت
میں بھی اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو بیان فرما رہا ہے۔
اسی
طرح پارہ 21، سورہ سجدہ، آیت نمبر 24 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَجَعَلْنَا
مِنْهُمْ اَىٕمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا۫ؕ- ترجمہ
کنزالایمان:اور ہم نے اُن میں سے کچھ امام بنائے کہ ہمارے حکم سے بتاتے جب کہ
اُنہوں نے صبر کیا۔ (پ21،
السجدۃ: 24)
اسی
طرح پارہ 2، سورہ بقرہ، آیت نمبر 153 میں ارشاد ہوتا ہے:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
اس آیتِ
مبارکہ میں صبر کرنے کا حکم ارشاد فرمایا گیا ہے کہ صبر اور نماز سے مدد مانگو، یعنی
جب کوئی مصیبت یا پریشانی درپیش ہو تو اس پر صبر کر کے اور نماز پڑھ کر مدد چاہو۔ اس
آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ان
تمام آیتوں میں صبر کی فضیلت اور اس کے دنیاوی و اُخروی
فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
اس کے
علاوہ قرآن پاک میں صبر کے بہت سے فضائل آئے ہیں، جیسے:
اللہ
تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (پ
10، انفال:46)
صبر
کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا۔ (پ14،النحل:94)
صبر
کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا۔ (پ
23، الزمر: 10)
صبر
کرنے والے ربِّ کریم کی طرف سے درود، ہدایت اور رحمت پاتے ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 157)
صبر
کرنے والے اللہ تعالیٰ کو محبوب ہیں۔ (پ4، آل عمران: 146)
اور
اسکے علاوہ صبر کے بہت سے فضائل ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ جب بھی ہمیں کوئی مصیبت یا
آزمائش پیش آئے تو بے صبری اور شکوے کرنے کے بجائے اللہ تعالی کے ان فرامین پر عمل
کرتے ہوئے صبر کریں ۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے صابرین بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
Dawateislami