اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت اعجاز احمد، جامعۃ
المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
بچے
اپنے والدین اور عزیز و اقارب کی امیدوں کا محور ہوتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کا مفید
فرد بنانے کے لیے ان کا بہترین تربیت بے حد ضروری ہے۔ یہی بچے کل بڑے ہو کر
والدین، تاجر اور استاذ وغیرہ بنیں گے اس لیے ہمیں ان کی تربیت اچھی کرنی چاہیے۔ نیک
اولاد اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے۔
یقینا
وہی اولاد اخروی طور پر نفع بخش ثابت ہوگی جو نیک و صالح ہو اور یہ حقیقت بھی کسی
سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اولاد کو نیک یابد بنانے میں والدین کی تربیت کو بڑا دخل
ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں اخلاقی قدروں کی پامالی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ نیکیاں
کرنا بے حد دشوار ہے اور ارتکاب گناہ بہت آسان۔ اس کا ایک سبب والدین کا اپنی اولاد
کی مدنی تربیت سے غافل ہونا بھی ہے۔ ایسے والدین کو غور کرنا چاہیے کہ اولاد کو اس
حال تک پہنچانے میں ان کا اپنا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے اپنے بچوں کو ABC
تو سکھایا مگر قرآن پڑھنا نہ سکھایا، مغربی تہذیب کے طور طریقے تو سمجھائے مگر رسول
عربی ﷺ کی سنتیں نہ سکھائیں۔
عموماً
دیکھا گیا ہے کہ بگڑی ہوئی اولاد کے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر
کے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ مگر یاد رکھیے اولاد کی تربیت صرف ماں یا محض باپ
کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا
النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28،
التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس
آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
تربیت
کرنے والوں کے قول و فعل میں پایا جانے والا تضاد بھی بچے کے دین کے لئے بےحد باعث
تشویش ہوگا کہ ایک کام یہ خود تو کرتے ہیں مثلا جھوٹ بولتے ہیں مگر مجھے منع کرتے
ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اپنے بڑوں کی نصیحت اس کے دل میں گھر نہ کر سکے گی۔
الغرض تربیت اولاد کے لیے والدین کا اپنا کردار بھی مثالی ہونی چاہیے۔
یوں
تو انسان کی پوری زندگی ہی قرآن وسنت کے مطابق ہونی چاہیے مگر چند امور ہیں جن کا
اولاد کے وجود میں آنے سے پہلے لحاظ رکھنا بے حد ضروری ہے کیونکہ اولاد کی صالحیت (پرہیز
گاری) بھی ان سے وابستہ ہے:1۔ نیک عورت کا انتخاب 2۔ اچھی قوم میں نکاح 3۔ نکاح کے
لیے اچھی اچھی نیتیں کرنا 4۔ منگنی اور شادی کے موقع پر نا جائز رسومات سے
بچا۔مناسب وقت ساتھ گزرنا
بچے
اپنی حیثیت اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی اس ضرورت کی تکمیل کی خاطر باپ کا بچوں کے
ساتھ وقت گزارنا ضروری ہے۔ اسے چاہیے کہ بچوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے وقت گزارے
مثلاً بچوں کو سیرو تفریح کے لیے کہیں کے جانا، ان کی ساتھ کھیلنا کودنا، بچوں کو
خوش کردینے والی من پسند اشیاء انہیں دینا بشرط یہ کے حد سے تجاوز نہ ہوں۔ یہ وہ
ذرائع ہیں جن کے ذریعے والد بچوں کو اپنے ساتھ مانوس کر سکتا ہے، بچوں کو صرف یہ
شعور ہو جائے کے باپ کو ان سے پیار ہے۔ یہی احسان ان کی بہترین نشونما کے لیے کافی
ہے۔ جس سے ان کی بےشمار پوشیدہ صلاحیتوں کو پروان چڑھنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ماں
باپ کی اصل طاقت ان کی نیک اولاد ہے۔
ماں
باپ کمزور،بیمار اور بوڑھے تب ہوتے ہیں جب انکی اپنی اولاد ہے ان کو پریشان رکھتی
ہے۔ ماں باپ کی عزت کرو،ان کی ضروریات کا خیال رکھو تاکہ آپکی اولاد آپ کی عزت کرے
کیوں کہ جو آپ کریں گے وہ ہی آپ کے ساتھ ہو گا۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت میاں محمد یوسف قمر،
جامعۃ المدینہ پاکپورہ سیالکوٹ
اولاد
کے لیے پہلی درسگاہ اس کے والدین خصوصاً (ماں) ہے۔ والدین بچوں کے قریب شعور ہوتے
ہی ان کو آداب زندگی سکھانے کی کوشش کے ساتھ عملاً خود بھی ان کے لیے مثالی بنیں
تاکہ وہ معاشرے میں بھی بہتر اور فعّال افراد بن کر ابھریں۔ اولاد کو سدھارنے کے
متعلق چند نکات پیش کیے جاتے ہیں ملاحظہ کیجئے:
1)بچوں کو دینی تعلیم سے مربوط کرنا: تعلیم کا مقصد
بچے میں شعور و احساس پیدا کرنا اور اسے مہذب بنانا ہوتا ہے لہٰذا اس کے لیے اسے
بہتر دینی تعلیم سے مربوط رکھا جائے یوں وہ اپنے مقصد حیات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ
اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی پر نافذ کرے گا جو کہ سب سے پہلی چیز ہے جو اس
بچے کے سدھرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
2) بچوں کی حوصلہ افزائی کرنا: والدین کو
چاہیے کہ بچے کوئی بھی اچھا فعل بجا لائیں چاہے وہ بظاہر چھوٹا ہی ہو اس کی حوصلہ
افزائی کی جائے تاکہ اس میں مزید شوق بڑھے اور وہ دلچسپی کے ساتھ نیک اعمال و آداب
کی طرف توجہ مرکوز کرتے ہوئے انہیں عمل میں لائے اور یوں معاشرے کا فعال فرد بننے
کے ساتھ ساتھ اچھا انسان بن کر سامنے آئے۔
3) بچوں کی صلاحیتوں کو ابھارنا: والدین کو
چاہیے کہ بچوں میں اگر کوئی صلاحیت کی کرن نمودار ہو تو اسے بچوں پر واضح کریں۔ انہیں
ایسے کاموں کی اجازت دیں اور ان پر اکسائیں جن سے ان کی مخفی صلاحیتیں کھل کر
سامنے آسکیں اور مستقبل میں بھی وہ کامیاب ہو سکیں کیونکہ اس طرح ان میں شوق و
ولولہ بڑھے گا اور جذبے و لگن سے وہ جو بھی اچھا کام کریں گے وہ ان کی کامیاب کا
ہی ذریعہ بنے گا۔
4) بات بات پر ڈانٹنے سے بچنا: بچوں میں
لچکدار رویوں کو پروان چڑھانا چاہیے تاکہ وہ بات کو ماننے کی طرف آئیں بصورت دیگر
بچے ضدی ہو جاتے ہیں اور ہر بات نظر انداز کر دیتے ہیں اس کے لیے والدین کو خود
بھی بطور نمونہ نرم لہجے و رویے اپنانے ہوں گے تاکہ اس سے بچوں میں بھی سدھرنے کی
فضا قائم ہو۔
5) بچوں میں ہمدردی و احساس پیدا کرنا: موجودیت دور
میں بچے اپنا وقت سوشل میڈیا پر گزارنے کی وجہ سے قوت برداشت کم رکھتے ہیں۔ اس سے
معاشرتی اقدار بھی متاثر ہوتی ہیں لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اپنی مصروفیات کو
محدود کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ وقت بچوں کو دیں۔ ان میں ہمدردی کا جذبہ پیدا کرنے
کے لیے انہیں فطرت کے قریب کریں۔
اگر
ان کا نا مناسب رویہ ہو بھی تو انہیں ڈانٹنے کی بجائے نرمی سے غلطی کا احساس
دلائیں تاکہ ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہو اور آہستہ آہستہ اچھے رویے ان کی فطرت
بن جائیں اور وہ انسانیت کے لیے ہمدردی و احساس کے جذبے کے عادی ہو جائیں۔
یاد
رکھیے کہ بچوں کی بہترین تربیت میں والدین کا سب سے بڑا کردار ہے۔ اس کے لیے بعض
اوقات والدین کو خود اپنے اندر کے کچھ نامناسب عادات و اطوار کو چھوڑنا پڑتا ہے
لہذا بچوں کی اصلاح کا آغاز اپنی اصلاح سے کیجیے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از ہمشیرہ محمد عتیق، جامعۃ
المدینہ جوہر آباد خوشاب
اولاد
اللہ پاک کی عطا کردہ ایک عظیم نعمت ہے۔ ہر ایک کو اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے اسکی
پرورش اچھی کرنی چاہیے۔ چاہیے کہ انہیں ادب و تعظیم سکھائیں۔ اولاد ہر ایک کو عطا
نہیں کی جاتی مگر یقیناً جس کے پاس نہیں ہوتی وہ اس نعمت کو پانے کے خواہش مند
ہوتے ہیں۔ یقینا ہر والدین کہ خواہش ہوتی ہے انکے کہ بچے اچھے سلیقے، اخلاق اور
کامیابی کی راہوں پر چلیں۔
اب
یہاں چند اہم نکات بیان کیے جاتے ہیں جنکے ذریعہ والدین اپنی اولاد کو بہتر بنا
سکتے ہیں:
محبت و توجہ: سب سے
پہلے والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو محبت و توجہ دیں۔ جب بچے اپنے والدین کی
محبت اور توجہ محسوس کرتے ہیں تو خود کو محفوظ اور پر اعتماد محسوس کرتے ہیں اور
اس سے انکے رویوں میں بہتری آتی ہے۔ والدین کا پیار و محبت اور اپنی اولاد کو توجہ
دینا انکے دل و دماغ کو مثبت سمت دے کر منفی سوچ اور رویوں سے بچا لیتا ہے۔
اچھے اخلاق کا نمونہ بننا: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد
کے سامنے اچھے اخلاق اپنائیں کیونکہ بچے اکثر اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں۔ اس لیے
اگر والدین ایماندار، محنتی، صابروشاکر اور معاف کرنے والے ہوئے تو انکی اولاد میں
بھی یہ صفات ظاہر ہوں گی۔
مثبت ماحول فراہم کرنا: گھر کا ماحول بچوں کی شخصیت (Personality)
پر گہرا اثرڈالتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر میں محبت بھرا، محفوظ اور
تعلیمی ماحول فراہم کریں تاکہ بچے ذہنی سکون اور خوشی کیساتھ اپنے مقاصد پر کام کر
سکیں۔
مثبت رویوں کی حوصلہ افزائی: جب بچے اچھا برتاؤ کریں یا مثبت
عمل کریں، مثلا نماز پڑھیں، قرآن کی تلاوت کریں یا اچھے نمبروں سے کامیاب ہوں
(پوزیشن لینا ضروری نہیں ہوتا عمل ضروری ہے) والدین انکی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے
بچے میں اچھے اخلاق و عادات اپنانے کا جذبہ بیدار ہوگا اور انکے اندر مثبت عادات
پیدا ہوں گی اور انکی شخصیت میں نکھار آئے گا۔
مناسب سزا اور انعام کا توازن: والدین کو
چاہیے کہ جب بچہ کوئی برا کام کرے تو انہیں مناسب سزا دیں۔سزا ایسی ہو کہ بچوں کے
کردار میں بہتری آئے نہ کہ ایسی ہو کہ بچوں کے کردار میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔اسی
طرح جب بچے کچھ اچھا کریں تو والدین کو چاہیے کہ بچوں کو انعام دیں کیونکہ دیکھا
گیا ہے کہ بچے انعام کے لالچ میں کچھ بھی کرتے ہیں۔جب والدین انہیں انکے اچھے کام
پر انعام دیں گے تو ان میں اچھا کام کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ اچھے کام کو
اپنا شعار بھی بنائیں گے۔
بچوں
کے لیے مناسب رول ماڈل (آئیڈیل) کا انتخاب والدین کو چاہیے اپنے بچوں کیلیے بہتر
رول ماڈل کا انتخاب کریں تاکہ انکے نقش قدم پر چل کر بچے اپنی زندگی کو بہتر سے
بہترین بنا سکیں اور ترقیاں و کامیابیاں و کامرانیاں انکا مقدر ہو۔ رول ماڈل کا
انتخاب بہت ہی اہم معاملہ ہے رول ماڈل کا انتخاب بچے خود بھی کر سکتے لیکن اچھے
رول ماڈل کا انتخاب کروانا والدین کی ذمہ داری ہے۔ رول ماڈل کے انتخاب کیلیے
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اولیائے کرام، صحابہ کرام کے، بچیوں کو
صحابیات و صالحات کے واقعات سنائیں تاکہ ہر بچہ اپنے رول ماڈل کا انتخاب کر سکیں۔
امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ نے اپنا رول ماڈل اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ
علیہ کو بنایا ہے
خود اعتمادی کی تعمیر: والدین کو چاہیے کہ بچوں میں خود
اعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ والدین اپنے بچوں کے سامنے انکی صلاحیتوں کے بارے
میں گفتگو کریں تاکہ ان میں خود اعتمادی پیدا ہو۔والدین اپنے بچوں کو انکے چھوٹے
چھوٹے فیصلے خود کرنے دیں کہ جب بچے خود فیصلہ کرتے ہیں تو ان میں احساس ذمہ داری
اور خود اعتمادی پیدا ہوگی پھر بچوں میں بڑے بڑے فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی پیدا ہو
گی۔ جب بچے اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہیں تو اپنی زندگی میں چیلنجز کا بہتر
طریقے سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔
بچوں
کی تربیت میں صرف انفرادی مشق اور سلیقے کا ہی نہیں بلکہ ان کے ذہنی،جذباتی اور
اخلاقی پہلوؤں کو بھی مد نظر رکھنا ضروری ہے۔یہ ایک ایسا عمل ہے جو والدین کے
مسلسل عزم و ہمت، محنت اور محبت کا تقاضا کرتا ہے۔
صحیح تربیت اور تعلیم کی اہمیت: علم ایک ایسی
چیز ہے جس کو حاصل کرنے کی ترغیب قرآن پاک اور حدیث مبارکہ میں بھی دی گئی ہے۔ چنانچہ
اللہ پاک قرآن مجید کے پارہ 23 سورۃ الزمر آیت نمبر 9میں ارشاد فرماتا ہے: هَلْ یَسْتَوِی
الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- ترجمہ کنز
الایمان: کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان۔
تعلیم
کی بنیاد مضبوطی سے رکھی جانی چاہیے لیکن تعلیم صرف اسکول کی کتب تک محدود نہیں
رہنی چاہیے۔والدین کو چاہیے کہ اپنے پچوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالیں کہ تعلیم نہ
صرف امتحانات میں کامیابی کیلیے ضروری ہے بلکہ یہ انسان کی شخصیت کی نشونما کیلیے
بھی بہت اہم ہے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو انکی ذہنی صلاحیتوں کے مطابق سبق دیں،
انکی دینی تعلیم میں دلچسپیوں کو سمجھیں اور انہیں مثبت طرز عمل سکھائیں۔
اخلاقی و مذہبی تعلیم: مذہبی تعلیم اور اخلاقی اصول بچوں کی
شخصیت کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اچھے اخلاق، سچ بولنے،
امانت داری اور وفا داری کے اصول سکھائیں۔ اگر بچے اپنے مذہب کی اہمیت کو سمجھیں
گے تو ان میں خود اعتمادی، دوسروں کا احترام جیسی بہت سی اچھی چیزیں پیدا ہونگی۔
وقت گزارنا اور بہترین تعلقات قائم کرنا: والدین کو
چاہیے کہ اپنے بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ یہ وقت ان کی دلچسپیوں کو
جاننے، انکے مسائل کو سمجھنے اور انکے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے کیلئے بہت ضروری
ہے۔بچے اگر اپنے والدین کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارتے ہیں تو ان میں اعتماد
بڑھتا ہے اور وہ اپنے خیالات و جذبات اور مسائل کو بلا جھجھک اپنے والدین سے بیان
کر سکتے ہیں اور یوں بچے جب زیادہ وقت اپنے والدین کے ساتھ گھر میں گزاریں گے تو
برے ماحول سے بھی بچ سکتے ہیں۔
اولاد
کو سدھارنے کیلیے والدین کو اپنی صلاحیتوں کیساتھ ساتھ اپنے بچوں کے اندر مثبت
صفات پیدا کرنے کیلیے محنت کرنی چاہیے۔ یہ محض ایک تربیتی عمل نہیں بلکہ یہ ایک
مسلسل سفر ہے جس میں والدین کا صبر، محنت، رہنمائی اور اخلاقی تعلیم مرکزی حیثیت
رکھتی ہے۔ اگر والدین اس عمل میں اپنا صحیح طریقے سے کردار ادا کریں تو انکے بچے نہ
صرف اچھے انسان بن سکتے ہیں بلکہ زندگی میں کامیاب اور خوشحال بھی ہو سکتے ہیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد اشرف عطاریہ،
جامعۃ المدینہ جوہر آباد خوشاب
اولاد
اللہ پاک کی بہت عظیم نعمت ہے بلا شبہ بچے ہمارے ملکوں ملت کا اصل سرمایہ اور
مستقبل کے معمار ہوتے ہیں سماج اور معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ میں ان کا اہم رول
ہوتا ہے والدین کے لیے وہ اللہ پاک کا انعام اور ایک امانت بھی ہیں جو اللہ پاک نے
ان کے سپرد کی ہے اولاد کو زمانے کی گرم سرد دنوں سے بچانا والدین کی ذمہ داری ہے
فی زمانہ اولاد کی اچھی تربیت کرنا بہت دشوار ہے اور بگڑتی ہوئی اولاد والدین کی
دنیا و اخرت کے لیے رسوائی ہے اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا
النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28،
التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس
آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
1۔محبت و شفقت: اولاد کو سدھارنے کے لیے ان کو محبت و
شفقت دیں لہذا ضروری ہے کہ بچوں کے ساتھ پیار محبت نرمی سے پیش آئیں ان کے آرام کا
خیال رکھیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: نرمی جس
چیز میں ہوتی ہے اسے زینت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے عیب دار
کر دیتی ہے۔ (مسلم، ص 1073، حدیث: 6603)
2۔درس شریعت دیں: حضور ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کو سات
سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب 10 سال کی ہو جائے تو ان کو مار کر
نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر الگ کر دو۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 495)
3۔اچھی صحبت: والدین مشاہدہ کرتے رہیں کہ ان کا بچہ
کس قسم کی صحبت میں رہتا ہے کیونکہ حدیث مبارکہ میں ہے کہ آدمی اپنے دوست کے دین
پر ہوتا ہے تو تم میں سے ہر ایک دیکھ لو کہ وہ کس کو دوست بنائے ہوئے ہے۔ (ابو داود،
4/341، حدیث: 4833)
4۔مساوی سلوک: والدین کو چاہیے کہ تمام اولاد میں
برابری کا اصول اپنائیں بلاوجہ شاہی کسی بچے کو نظر انداز نہ کریں کہ بچے کے بگڑنے
کا سبب بن سکتا ہے۔ اللہ پاک پسند فرماتا ہے کہ تم اپنی اولاد کے درمیان برابری کا
سلوک کرو حتی کہ بوسہ لینے میں بھی برابری کرو۔ (کنز العمال، 16/185، حدیث: 45342)
5۔اسکرین ٹائم: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے
سدھار کے لیے ان کے اسکرین ٹائم کو کم کیا جائے کہ ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم بے
حیائی لاتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: جب تمہیں حیا نہ ہو تو جو چاہو کرو۔
(بخاری، 2/470، حدیث:3484)
جہاں
حیا کے خاتمے سے انسان کا ضمیر مردہ ہو جاتا ہے وہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب
ہو جاتی ہیں انسان کے افعال اس کے کنٹرول سے باہر ہو جاتے ہیں نتیجۃً تباہی اور
بربادی اس کا مقدر ٹھہرتی ہے یوں ایک اولاد بگڑ جاتی ہے اولاد کے سدھار کے لیے بہت
ہی اہم چیز اسکرین ٹائم کو کم کرنا ہے تاکہ اس کے ذریعے بچے بے حیائی سے بچیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت واجد عطاریہ، جامعۃ
المدینہ کوہی والا خانیوال
اولاد
کی تربیت والدین کی اہم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ ایک نیک اور صالح اولاد نہ
صرف والدین کے لیے دنیا اور آخرت میں باعث راحت بنتی ہے بلکہ معاشرے کی بہتری میں
بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بچوں کی تربیت ایک حساس عمل ہے۔
اولاد
کو سدھارنے کے لیے ضروری اقدامات:
1۔ دینی تعلیم اور تربیت: بچوں کو دینی تعلیم دینا ان کی
شخصیت کی بنیاد کو مضبوط بناتا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیم، نماز کی عادت، اور اسلامی
اقدار کو اپنانے کی تلقین والدین کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:تم
میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
(بخاری، 1/309، حدیث: 893)
2۔ محبت اور شفقت کا مظاہرہ: بچوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے
پیش آنا ضروری ہے۔ سخت رویہ یا مار پیٹ سے ان کی شخصیت پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ بچوں
کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ان کے والدین ان سے محبت کرتے ہیں اور ان کے خیر خواہ
ہیں۔
3۔ اچھا اخلاق اور عمل کا نمونہ پیش کرنا: والدین بچوں
کے لیے مثالی کردار ہوتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ خود ان عادات اور رویوں کو
اپنائیں جنہیں وہ اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ بچوں کو سچ بولنا، امانت داری،
اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرنا سکھائیں۔ کوئی والد اپنی اولاد کو اچھے ادب اور
اخلاق سے بہتر کوئی تحفہ نہیں دے سکتا۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
4۔ تعلیم اور کردار سازی: دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی
تعلیم پر بھی توجہ دیں۔ بچوں کی تعلیم میں ان کی دلچسپی کو سمجھیں اور ان کی
رہنمائی کریں۔ ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کریں تاکہ وہ زندگی کے چیلنجز کا سامنا
کر سکیں۔
5۔ دوستی کا رشتہ قائم کریں: والدین اور بچوں کے درمیان
دوستی کا تعلق ہونا ضروری ہے۔ اس سے بچے اپنے مسائل اور خیالات والدین کے ساتھ کھل
کر شیئر کر سکتے ہیں۔ والدین کو بچوں کی بات غور سے سننی چاہیے اور ان کے خیالات
کو اہمیت دینی چاہیے۔
6۔ عادتوں پر نظر رکھیں: بچوں کی روزمرہ عادتوں پر نظر رکھیں
اور انہیں وقت پر درست کریں۔ انہیں وقت کا صحیح استعمال سکھائیں، مثلاً پڑھائی،
کھیل کود، اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے لیے وقت مختص کریں۔
7۔ سزا اور انعام کا متوازن نظام: بچوں کی
اچھائیوں پر ان کی تعریف کریں اور انہیں انعام دیں تاکہ ان میں مزید بہتر کرنے کا
جذبہ پیدا ہو۔ غلطیوں پر نرمی سے سمجھائیں اور سختی کرنے سے گریز کریں۔ اگر سزا
ضروری ہو تو وہ تعمیری ہونی چاہیے۔
8۔ دوستوں اور ماحول پر توجہ: بچوں کے دوستوں اور ان کے ماحول
پر نظر رکھیں۔ انہیں ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کی ترغیب دیں جو اچھے کردار
کے حامل ہوں اور مثبت اثر ڈال سکیں۔
9۔ صبر اور دعا: بچوں کی تربیت میں صبر کا مظاہرہ کریں۔
ان کی اصلاح ایک وقت طلب عمل ہے اور اس کے لیے مستقل مزاجی ضروری ہے۔ والدین کو
ہمیشہ اپنی اولاد کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہنا چاہیے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت حمید، جامعۃ المدینہ گلشن
عطار اسلام آباد
اولاد
کی تربیت والدین کے لیے ایک ذمہ داری ہے اور بچوں کو نیک اور ذمہ دار انسان بنانے
کے لیے حکمت عملی محبت اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے اولاد کو سدھارنے کے لیے قرآن وسنت
میں واضح ہدایت موجود ہے ان میں والدین کے لیے راہنمائی اور بچوں کی تربیت کے
طریقے شامل ہیں: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ
نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ
28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے
ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی
اور پتھر ہیں۔
اس
آیت سے واضح ہوتا ہےکہ والدین پر فرض ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دین کی تعلیم دیں اور
ان کی اصلاح کریں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ
الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ- (پ 15، الکہف:46) ترجمہ: مال اور اولاد
دنیا کی زندگی کی زینت ہے۔
اولاد
کو اللہ کی نعمت سمجھ کر ان کی بہتر تربیت کی ذمہ داری پوری کریں، حضرت ابراہیم
علیہ السلام نے دعا کی: رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ
ذُرِّیَّتِیْ ﳓ (پ
13، ابراہیم:40) اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔
والدین
کو چاہیے کہ اولاد کی اصلاح کے لیے اللہ سے دعا مانگیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ
ہم میں سے نہیں جو بڑوں کا احترام نہ کرے اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے۔ (ترمذی، 3/369،
حدیث:1926)
والدین
کو چاہیے کہ بچوں سے محبت سے پیش آئیں اور اچھے اعمال کا عملی نمونہ پیش کریں
ان کی
اچھائیوں کی تعریف کریں اور برائیوں پر نرمی سے سمجھائیں غلط صحبت سے بچائیں
اورنیک دوستوں کے ساتھ تعلقات بنانے کی ترغیب دیں والدین خود بھی دین پر عمل کریں
تاکہ بچے ان سے سیکھ سکیں بچوں کو ایسا ماحول فراہم کریں جہاں وہ اپنے خیالات اور
جذبات کو کھل کر بیان کر سکیں ان کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھیں تاکہ آپ سے کچھ
چھپانے کے بجائے آپ سے رہنمائی حاصل کریں اولاد کی تربیت میں بنیادی چیز محبت پیار
دعا اور حکمت ہے اللہ سے مدد مانگتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو صبر حوصلے کے ساتھ
نبھائیں بچے والدین کے رویے سے سیکھتے ہیں، لہذا والدین خود اچھے اخلاق،
دیانتداری، اور ایمان داری کا مظاہرہ کریں۔ سختی سے بچیں اور نرمی سے پیش آنے سے
بچے والدین کے قریب رہتے ہیں اور ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بچوں
کو وقت کی پابندی اور نظم و ضبط سکھائیں، جیسے وقت پر سونا، پڑھائی کرنا، اور
عبادات کی عادت ڈالنا۔ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلائیں۔
بچوں
کو دینی اور دنیاوی دونوں علوم سے روشناس کرائیں۔گھر میں ایسی کتابیں رکھیں جو ان
کی تعلیم اور تربیت میں مددگار ثابت ہوں۔
بچوں
کی غلطیوں پر فوری غصہ نہ کریں بلکہ انہیں سمجھائیں کہ ان کی غلطی کیا ہے اور وہ
کیسے بہتر کر سکتے ہیں۔سخت سزا دینے کے بجائے محبت سے اصلاح کریں۔
تمام
بچوں کے ساتھ برابر سلوک کریں اور کسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دیں۔
یہ ان
کے دلوں میں والدین کے لیے محبت اور احترام پیدا کرتا ہے۔
اولاد
کو سدھارنے کا عمل وقت طلب اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ
وہ حکمت اور محبت سے کام لیں اور اپنے بچوں کے لیے دعا کرتے رہیں تاکہ وہ نیک اور
کامیاب انسان بن سکیں۔
کنزالمدارس بورڈ فیصل آباد میں نگرانِ FGRF UK سیّد فضیل رضا عطاری کی آمد
15 اپریل 2025ء کو دینی کاموں کے سلسلے میں
بیرونِ ملک سے آئے ہوئے FGRF UK کے نگران سیّد فضیل رضا عطاری کی ذمہ داران کے ہمراہ فیصل آباد ، پنجاب میں واقع کنزالمدارس بورڈ میں آمد ہوئی۔
اس دوران نگرانِ FGRF
UKسیّد فضیل رضا عطاری نے
کنزالمدارس بورڈ کا وزٹ کیا اور تمام HOD's کے ہمراہ میٹنگ کی جس میں انہوں نے کنزالمدارس بورڈ کے تحت ہونے والی
ایکٹیویٹیز کے بارے میں تبادلۂ خیال کیا۔بعدازاں اسلامی بھائیوں کو تحائف پیش کئے
گئے۔(رپورٹ:محمد علی شعبہ معاونت برائےا سلامی بہنیں صوبہ پنجاب
آفس ، کانٹینٹ:غیاث الدین عطاری)
فیصل آباد، پنجاب میں قائم اسلامی بہنوں کے مدنی
مرکز فیضانِ صحابیات کا وزٹ
دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے مختلف دینی کاموں
کا جائزہ لینے کے لئے 17 اپریل 2025ء کو
بیرونِ ملک سے آئے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن حاجی خالد عطاری نے دیگر ذمہ
دار ان کے ہمراہ فیصل آباد، پنجاب میں قائم اسلامی بہنوں کے مدنی مرکز فیضانِ
صحابیات کا وزٹ کیا۔
اس موقع پر وہاں موجود ذمہ دار اسلامی بھائیوں نے رکنِ شوریٰ کو
فیضانِ صحابیات کا وزٹ کرواتے ہوئے اس میں
ہونے والے مختلف کورسز سمیت دیگر دینی کاموں کے بارے میں بتایا جس پر رکنِ شوریٰ نے خوشی کا اظہار کیا۔
شیخو پورہ ڈویژن میں اسلامی بہنوں کے مدنی مرکز
فیضانِ صحابیات کا افتتاح
اسلام کی دعوت دنیا بھر میں عام کرنے والی
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کےشعبہ معاونت برائے اسلامی بہنیں کے تحت 15 اپریل 2025ء کو شیخو پورہ ڈویژن میں اسلامی بہنوں کے مدنی مرکز
فیضانِ صحابیات کا افتتاح کیا گیا۔
اس دوران فیضانِ صحابیات میں ہی ایک تقریب منعقد
ہوئی جس میں نگرانِ شعبہ، نگرانِ ڈویژن، صوبائی ذمہ دار اور دیگر اسلامی بھائیوں جبکہ پردے میں رہتے ہوئے اسلامی بہنوں
کی بھی شرکت ہوئی۔
شعبہ روحانی علاج دعوتِ اسلامی کے تحت 15، 16
اور 17 اپریل 2025ء کو مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ سبی، بلوچستان میں ”روحانی علاج کورس“ کا انعقاد کیا گیا جس میں سبی
ڈویژن کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔
کورس میں شریک اسلامی بھائیوں کی تربیت کے لئے
مبلغِ دعوتِ اسلامی نور محمد عطاری نے تعویذات لکھنے کے حوالے سے مختلف امور پر
رہنمائی کرتے ہوئے دم کرنے اور کاٹ کرنے کا طریقہ بتایا نیز اس کی چند احتیاطیں
بھی بیان کیں۔
مبلغِ دعوتِ اسلامی نے شعبے کے متعلق نئی اپڈیٹس
سے آگاہ کیا اور اسلامی بھائیوں کو دعوتِ اسلامی کے 12 دینی کاموں میں بڑھ چڑھ کر
حصہ لینے کی ترغیب دلائی جس پر انہوں نے اچھی اچھی نیتیں کیں۔(رپورٹ: سمیر علی عطاری آفس اسسٹنٹ ، کانٹینٹ:غیاث الدین
عطاری)
فیصل آباد میں معلمین اور ذمہ داران کا 3 دن پر
مشتمل سنتوں بھرا اجتماع
شعبہ کورسز دعوتِ اسلامی کے تحت گزشتہ روز مدنی
مرکز فیضانِ مدینہ فیصل آباد میں معلمین اور ذمہ دار اسلامی بھائیوں کا 3 دن پر
مشتمل سنتوں بھرا اجتماع ہوا جس میں دیگر عاشقانِ رسول سمیت شعبے کے ذمہ داران
قاری سعید عطاری، مولانا اعجاز عطاری مدنی اور مولانا محمد احمد سیالوی عطاری مدنی
نے شرکت کی۔
اس موقع پر مختلف نشستیں ہوئیں جن میں مرکزی
مجلسِ شوریٰ کے رکن و نگرانِ پاکستان مشاورت حاجی محمد شاہد عطاری، رکنِ شوریٰ
مولانا حاجی محمد عقیل عطاری مدنی اور مبلغینِ دعوتِ اسلامی نے سنتوں بھرے بیانات
کرتے ہوئے وہاں موجود اسلامی بھائیوں کی
مختلف امور پر رہنمائی کی جن میں سے بعض
درج ذیل ہیں:
٭مدنی کورسز میں آنے والے مسائل کو حل کرنے کا
انداز٭شعبے کے اہداف و تکمیل کیسے ہو؟٭شارٹ کورسز کی اہمیت ٭جدید ٹولز کا استعمال٭مہارت
کیسے بڑھائی جائے؟٭معلم کو کیسا ہونا چاہیئے؟٭انفرادی کوشش٭دینی کاموں میں فعال
رہنا کیوں ضروری ہے؟۔
چٹاگانگ بنگلہ دیش میں ہونے جارہا ہے دعوتِ اسلامی
کا عظیم الشان اجتماع
بنگلہ
دیش میں مقیم عاشقانِ رسول کے لئے خوشخبری!
عاشقانِ
رسول کی عالمگیر تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت چٹاگانگ ڈویژن سطح پر ہونے جارہا ہے
تین دن کا عظیم الشان سنتوں بھرا اجتماع جو 30 اپریل سے شروع ہوکر 02 مئی 2025ء کو اختتام پذیر ہوگا۔ اجتماع کے
انعقاد کے لئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔
تین
دن کا یہ عظیم الشان اجتماع شکلباہا، کرنافولی ، چٹاگانگ(Shikalbaha,
Karnaphuli, Chittagong )میں موجود وسیع وعریض رقبے
پرمنعقد کیا جائیگا۔ اس اجتماع میں چٹاگانگ ڈویژن کے مختلف شہروں اور اطراف علاقوں سے بزنس کمیونٹی ومختلف شعبہ جات کے اسلامی
بھائیوں سمیت مقامی عاشقانِ رسول کی شریک ہوں گے۔
تین
دن کے اجتماع میں مختلف نشستوں کا سلسلہ ہوگا جس میں تلاوت و نعت، ذکر و اذکار،
مبلغین دعوتِ اسلامی کے بیانات، رقت انگیز دعائیں اور مختلف دینی کورسز کے لئےدینی حلقے لگائے جائیں
گے۔عظیم الشان اجتماع کے تمام مناظر بنگلہ مدنی چینل سمیت بنگلہ سوشل میڈیا پیجز
پر براہِ راست نشر کیا جائے گا۔
بنگلہ
دیش کے تمام عاشقانِ رسول سے اس عظیم و روحانی اجتماع میں شرکت کرنے کی درخواست
ہے۔
Dawateislami