اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ایاز خان،فیضان ام
عطار گلبہار سیالکوٹ
آج کل
تقریباً ہر والدین کا ہی یہ مسئلہ ہے کہ اولاد کو سدھاریں کیسے؟ اس میں کچھ غلطیاں
والدین کی بھی ہے اگر والدین اپنی اور بچوں کی یہ غلطیاں دور کر دے تو ممکن ہے کہ
اولاد سدھر جائے اور فرمانبرداری کرنے والی بن جائے۔
مندرجہ
ذیل میں دیئے گئے یہ چند طریقے ملاحظہ فرمائیں:
1:
والدین اپنے بچوں پر غور کرے کہ کہیں وہ کسی غلط صحبت میں تو نہیں رہ رہے اس کے
دوست کیسے ہے کیونکہ حدیث پاک میں آتا ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: انسان اپنے
دوست کے مذہب پر ہوتا ہے اس لیے تم میں سے ہر شخص کو دیکھ لینا چاہیے کہ وہ کس سے
دوستی کر رہا ہے۔
اس
حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کا دوست نیک اور صالح متقی ہو تو وہ اس سے نیکی کا
وصف حاصل کرے گا۔
اگر
اولاد کسی غلط صحبت میں رہ رہی ہیں تو انہیں اس غلط صحبت سے دور کر ئے اور اور
اچھی صحبت کا عادی بنا ئے جیسے علماء کرام،مفتیان کرام کی صحبت۔
2:
گھر کا ماحول بچے پر بہت اثر کرتا ہے اگر گھر میں لڑائی جھگڑے والا ماحول ہو گا تو
بچے کی ذہنیت پر برا اثر پڑے گا جبکہ اس کے برعکس گھر کا ماحول سکون اور پیارو
محبت والاہو گا تو بچہ بھی پیارو محبت سیکھے گا اگر بڑے اپنے بڑوں کا ادب واحترام
کرے گے تو بچے بھی ایسا ہی کرے گے اگر اولاد کو سدھارنا ہے تو گھر کا ماحول صحیح
کرنا پڑے گا۔
3: آج
کل والدین اپنی اولاد کو دنیاوی تعلیم دلوانے میں لگے رہتے ہیں اور دینی تعلیم کی
طرف توجہ ہی نہیں دیتے جب ان کو والدین،رشتےداروں کے حقوق معلوم ہی نہیں ہوں گے
دین کا پتہ نہیں ہو گا اچھے برے کی تمیز نہیں ہو گی تو وہ کیسے سدھرے گئی دنیاوی
تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو دینی تعلیم بھی دلوائے اس طریقے سے بھی بہت سے
نافرمان سدھر گئے ہیں۔
4:
والدین اپنی کاروباری،گھریلوں زندگی میں اتنے مصروف ہو جا تے ہیں کہ انہیں اپنی اولاد
کو وقت دینے کا وقت ہی نہیں ملتا جب اولاد کو وقت نہیں دیں گے اچھی بری بات نہیں
سکھائیں گے تو وہ کیسے اچھے بن سکیں گے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو وقت
دے اچھی تربیت کرے اچھی بری بات بتائے ہر چیز میں رہنمائی فرمائیں اولاد سے دوستی
کرے تاکہ وہ کوئی بات نہ چھپائے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت امیر حیدر،فیضان ام
عطار گلبہار سیالکوٹ
انسان
کو دنیا میں مختلف طرح سے آزمایا جاتا ہے کبھی کسی چیز کی کثرت سے کبھی کمی سے
کبھی غم سے تو کبھی خوشی سے یونہی اولاد بھی والدین کے لیے آزمائش ہے کیونکہ نعمت
ہے اور نعمت بھی ایک طرح سے آزمائش ہوتی ہے کہ بندہ شکر ادا کرتا ہے یا نہیں۔جن کو
اللہ پاک نے اولاد جیسی نعمت سے نوازا ہے اولاد کی درست تربیت والدین کی ذمہ داری
ہے والدین کو چاہیئے کہ اپنی اس نعمت کی حفاظت کریں اگر بچے بگڑ جائیں تو انکی
اصلاح کی طرف اپنی توجہ ملحوظ رکھے۔
فرمان
آخری نبی ﷺ: کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے اور وہ اس کے لیے ایک صاع صدقہ
کرنے سے افضل ہے۔ (ترمذی، 3/382، حدیث: 1958)
بگڑی اولاد کو سدھارنے کے چند طریقے:
نرمی اپنائی جائے: اولاد کے ساتھ جارحانہ رویہ اختیار نہ
کیا جائے ورنہ بچے مزید بگڑجاتے ہیں بلکہ نرمی کے ساتھ انکو سمجھانے کی کوشش کی
جائے۔
احساس ذمہ داری پیدا کیجیے: بچے اگر اپنی ذمہ داری پوری نہ
کریں مثلا اسباق جو گھر کے پڑھنے کیلیے ملے ہیں وہ نہ پڑھیں یا ویسے ہی پڑھائی کی
طرف دھیان نہ دیں تو انکو ناکام لوگوں کی زندگیوں کے متعلق بتائیے کہ انکی ناکامی
کی وجوہات کیا بنی امید ہے یوں احساس ذمہ داری کا ذہن بنے گا۔
وقت دیجیے: اولاد کے بگڑنے کا ایک اہم سبب والدین کا توجہ نا
دینا باقاعدہ وقت نا دینا بھی ہے، یوں اولاد غیروں کے ہاتھ لگ کر بربادی کا شکار
ہو جاتی ہے اپنی مصروفیات کا ایسا جدول بنایا جائے جس میں بچوں کے لیے خاص طور پر
وقت ہو۔
دینی ماحول سے وابستگی: دعوت اسلامی کا اسلامی کا دینی ماحول
بگڑوں کو سنوارنے نافرمانوں کو فرمانبردار بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے جس کا
معاشرہ پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے۔اولاد کو اس پیاری تحریک کے ساتھ وابستہ کیجیے۔
ان
شاءاللہ الکریم دنیا میں آپکی فرمانبردار ہو جائے گی اور آپ مربھی جائیں گے تو بھی
آپکو نہیں بھولے گی۔
سرگرمیاں بدلیے: انکی سرگرمیوں پر توجہ دیجیئے کہ کونسے
کام ہیں جو بچے کی بگاڑ کا سبب بن رہے اور انکی صحبتوں پر بھی خاص توجہ دی جائے
کہیں ایسوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہ ہو جو بری عادات میں پڑے ہوئے ہوں۔
پیاری
اسلامی بہنو! بروں کی صحبت برا اور اچھوں کی صحبت اچھا پھل لاتی ہے لہذا انکی
مشغولیات و صحبتوں کو درست کیجیے۔
سوشل میڈیا سے دور کیجیئے: سوشل میڈیا کے برے و غیر فائدہ
استعمال سے بچوں کو روکئے ہوسکتا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو دیکھتا ہو جو بگڑے ہوئے
ہو اور یہ بھی انکا ہی طریقہ اپنا رہا ہو۔
سوشل
میڈیا کے جہاں فوائد ہیں وہی نقصانات بھی بہت ہیں اپنے بچوں کو صرف اور صرف اچھے
استعمال کی اجازت دی جائے۔
اے
اسلامی بہنو! اولاد کو سدھارنے کے چندمذکورہ بالا طریقوں پر اگر عمل رہا تو اچھے
نتائج ملیں گے۔
اللہ
پاک سے مدد مانگیئے اور بہت ضروری بات کہ دیکھا جائے کہ گھر کا ماحول درست ہے کہ
نہیں کہیں گھر کا ماحول کی تو بچے کے سدھار میں رکاوٹ نہیں ہے ان سب پر توجہ دی
جائے گی تو ان شاءاللہ الکریم کامیابی ملے گی۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت سجاد حسین، فیضان ام
عطار گلبہار سیالکوٹ
ماں
باپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ بچپن میں جو اچھی یا بری عادتیں بچوں میں پختہ ہو
جاتی ہیں وہ عمر بھر نہیں چھوٹتی ہیں اس لیے ماں باپ کو لازم ہے کہ بچوں کو بچپن
ہی میں اچھی عادتیں سکھائیں اور بری عادتوں سے بچائیں۔
بعض
لوگ یہ کہہ کر کہ ابھی بچہ ہے بڑا ہو گا تو ٹھیک ہو جائے گا بچوں کو شرارتوں اور
غلط عادتوں سے نہیں روکتے وہ لوگ درحقیقت بچوں کے مستقبل کو خراب کرتے ہیں اور بڑے
ہونے کے بعد بچوں کےبرے اخلاق اور گندی عادتوں پر روتے ہیں اس لیے نہایت ضروری ہے
کہ بچپن ہی میں اگر بچوں کی کوئی شرارت یا بری عادت دیکھیں تو اس پر روک ٹوک کرتے
رہیں بلکہ سختی کے ساتھ ڈانٹتے رہیں۔اور طرح طرح سے بری عادتوں کی برائیوں کو بچوں
کے سامنے ظاہر کر کے بچوں کو ان خراب عادتوں سے نفرت دلاتے رہیں اور بچوں کی خو
بیوں اوراچھی اچھی عادتوں پر خوب شاباش کہہ کر ان کا دل بڑھائیں۔بلکہ کچھ انعام دے
کر ان کا حوصلہ بلند رکھیں۔
ماں
باپ پر لازم ہے کہ ان باتوں کا خاص طور پر دھیان رکھیں تاکہ بچوں اور بچیوں کا
مستقبل روشن بن جائے۔
حدیث
مبارکہ کی روشنی میں اولاد کو کیا کیا سکھانا چا ہیے ملاحظہ فرمائیے:
ہر شخص نگران ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر
ایک نگران ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ایک آدمی
اپنے اہل خانہ کا نگران ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا۔ (بخاری، 1/309،
حدیث: 893)
یہ
حدیث والدین کی ذمہ داری کو مزید واضح کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے
میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔
اپنی اولاد کو نماز سکھائیں: اپنے بچوں کو سات سال کی عمر
میں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں اور نماز نہ پڑھیں تو
انہیں(نرمی کے ساتھ )مارو اور ان کے بستروں کو الگ کر دو۔ (ابو داود، 1/208، حدیث:
495)
اولاد کے لیے والدین کی طرف سے سب سے بہتر عطاء: رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی باپ اپنے بیٹے کو نیک ادب اور صحیح تربیت سے بہتر کوئی چیز
نہیں دیتا۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
مطلب
یہ ہے کہ ایک باپ کی طرف سے اپنے بیٹے کے لیے جو چیز سب سے زیادہ قیمتی اور سب سے
زیادہ مفید ہو سکتی ہے وہ صحیح تعلیم و تربیت ہے۔
اپنی
اولاد کو تین باتوں کی تعلیم دو: اپنے نبی ﷺ کی محبت، اہل بیت کی محبت اور قرآن کریم
کی تعلیم۔ (جامع صغیر، ص 25، حدیث: 311)
ہر
ماں باپ کا فرض ہے کہ بچوں اور بچیوں کو ہر برےکاموں سے بچائیں اور ان کو اچھے
کاموں کی رغبت دلائیں تاکہ بچے اور بچیاں اسلامی آداب واخلاق کے پابند اور ایمان
داری و دینداری کے جوہر سے آراستہ ہو جائیں اور صحیح معنوں می مسلمان بن کر اسلامی
زندگی بسر کرے۔
بچوں
کو بچپن ہی سے اس بات کی عادت ڈالو کہ وہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کریں۔وہ اپنا
بچھونا خود اپنے ہاتھ سے بچھائیں اور صبح کو خود اپنے ہاتھ سے اپنا بستر لپیٹ کر
اس کی جگہ پر رکھیں اپنے کپڑوں کو خود سبنھال کر رکھیں۔
بچے
اور بچیاں کوئی کام چھپ چھپا کر کریں تو ان کی روک ٹوک کرو کہ یہ اچھی عادت نہیں۔
بچوں
اور بچیوں کو کھانے،پہننے،اور لوگوں سے ملنے ملانے اور محفلوں میں اٹھنےبیٹھنے کا
طریقہ اور سلیقہ سکھاناماں باپ کے لیے ضروری ہے۔
چلنے
میں تاکید کرو کہ بچے جلدی جلدی اور دوڑتے ہوے نہ چلیں اور نظر اوپر اٹھا کر ادھر
ادھر دیکھتے ہوے نہ چلیں اور نہ بیچ سڑک پر چلیں بلکہ ہمیشہ سڑک کےکنارے کنارے
چلیں۔
بچے
غصہ میں اگر کوئی چیز توڑ پھوڑ دیں یاکسی کو مار بیٹھیں تو بہت زیادہ ڈانٹو بلکہ
مناسب سزا دو تاکہ بچے پھر ایسا نہ کریں اس موقع پر لاڈ پیار نہ کرو۔
بچوں
کی ہر ضد پوری مت کرو کہ اس سے بچوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور وہ ضدی ہو جاتے ہیں
اور یہ عادت عمر بھر نہیں چھوٹتی۔
بچوں
کے ہاتھ فقیروں کو کھانا اور پیسہ دلایا کرواسی طرح کھانے پینے کی اشیاء بچوں کے
ہاتھ سے اسکے بھائی بہنوں کو یا دوسرےبچوں کو دلایا کرو تاکہ سخاوت کی عادت ہو
جائے اور خود غرضی اور نفس پروری کی عادت پیدا نہ ہو اور بچہ کنجوس نہ ہو جائے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت نواز،فیضان ام عطار شفیع
کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کو سدھارنے کے کئی طریقے ہیں جو والدین کی رہنمائی اور محبت پر مبنی ہوتے ہیں۔
یہاں کچھ اہم طریقے دیئے جا رہے ہیں:
1۔ محبت اور توجہ: بچوں کو محبت اور توجہ دینا بہت ضروری
ہے۔ یہ ان کی خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انہیں محفوظ محسوس کراتا ہے۔ جب بچے
محسوس کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی پرواہ کرتے ہیں، تو وہ بہتر رویے کی طرف
مائل ہوتے ہیں۔
2۔ مثالی کردار بنیں: والدین کو خود ایک اچھا کردار بننا
چاہیے۔ بچے اپنے والدین کی نقل کرتے ہیں، لہذا اگر آپ اچھے اخلاق اور رویے کا
مظاہرہ کریں گے تو بچے بھی آپ کی پیروی کریں گے۔
3۔ قواعد و ضوابط: بچوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط بنائیں
اور ان پر عمل درآمد کروائیں۔ یہ ان کو سکھاتا ہے کہ کس طرح صحیح اور غلط میں فرق
کرنا ہے۔
4۔ تعلیم و تربیت: بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دیں۔ انہیں
مختلف موضوعات میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کریں اور ان کی ذہنی
نشوونما میں مدد کریں۔
5۔ مثبت تنقید: بچوں کی غلطیوں پر تنقید کرتے وقت مثبت
انداز میں بات کریں۔ انہیں بتائیں کہ وہ کیا بہتر کر سکتے ہیں، بجائے اس کے کہ صرف
ان کی غلطیوں پر توجہ دیں۔
6۔ سماجی مہارتیں: بچوں کو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے
کی تربیت دیں۔ انہیں سکھائیں کہ کس طرح دوستانہ رویہ اپنایا جائے، دوسروں کا
احترام کیا جائے، اور مسائل کو حل کیا جائے۔
7۔ وقت گزاریں: اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کے
ساتھ کھیلیں، باتیں کریں، اور ان کی دلچسپیوں میں شامل ہوں۔ یہ ان کے ساتھ تعلق کو
مضبوط کرتا ہے۔
8۔ مثبت ماحول: گھر میں ایک مثبت اور خوشگوار ماحول
بنائیں۔ یہ ان کی ذہنی صحت کے لیے بہت اہم ہے اور انہیں بہتر رویے کی طرف مائل
کرتا ہے۔
یہ
طریقے بچوں کی تربیت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور انہیں بہتر انسان بنانے میں
مدد کریں گے۔بیشک، بچوں کی تربیت میں احادیث کا بہت بڑا مقام ہے۔ یہاں کچھ احادیث
ہیں جو بچوں کی تربیت کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتی ہیں:
1۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی،
نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ (بخاری، 1/457، حدیث: 1358) اس حدیث سے یہ سمجھا جا
سکتا ہے کہ بچوں کی تربیت والدین کی ذمہ داری ہے اور یہ ان کی فطرت کے مطابق ہونی
چاہیے۔
2۔ ایک
اور حدیث میں آتا ہے: تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی ذمہ داری
کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ
والدین کو اپنے بچوں کی تربیت میں ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔
3۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انسان کا اپنے
بچے کو ادب سکھانا ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی،
3/382، حدیث: 1958)
یہ اس
بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ بچوں کو صحیح ادب اور اخلاق سکھانا بہت اہم ہے۔
یہ
احادیث ہمیں بتاتی ہیں کہ بچوں کی تربیت میں محبت، توجہ، اور صحیح اخلاق سکھانا
کتنا ضروری ہے۔ جہاں تک اولادکو سکھانے کی بات ہے تو قرآن پاک سکھائے، سات برس کی
عمر میں نماز کا حکم دینے کے ساتھ ہی نماز اور طہارت کے ضروری مسائل بھی سکھائے کہ
سات سے نو برس کی عمر بچوں کی تربیت کے تعلق سے بالخصوص بچیوں کے لیے بےحد اہم ہے
کہ بچیاں اس کے بعد کبھی بھی بالغہ ہو سکتی ہے۔ ان علوم کے سکھانے کے ساتھ ساتھ
شرعی تقاضوں کے مطابق دنیوی تعلیم بھی دی جاسکتی ہے۔ والدین پر اولاد کے جو حقوق
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے بیان
فرمائے ہیں ان میں سے سیکھنے سیکھانے کے چند حقوق یہ ہیں:
زبان
کھلتے ہی اللہ،اللہ پھر لا الٰہ الّا اﷲ پھر پورا کلمۂ طیبہ سکھائے۔ جب تمیزآئے
ادب سکھائے، کھانے، پینے، ہنسنے، بولنے، اٹھنے، بیٹھنے،چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ،
بزرگوں کی تعظیم، ماں باپ، استاذ وغیرہ کا ادب سکھائےاور دختر (یعنی بیٹی)
کوشوہرکی اطاعت کے طرق (یعنی طریقے) و آداب بتائے۔ قرآن مجید پڑھائے۔ استاذ نیک،
صالح، متقی، صحیح العقیدہ، سنّ رسیدہ (یعنی بڑی عمر)کے سپرد کردے اور دختر کو نیک
پارسا عورت سے پڑھوائے۔ بعد ختم قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔ عقائد اسلام و
سنّت سکھائے کہ لوح سادہ فطرت اسلامی وقبول حق پرمخلوق ہے (یعنی چھوٹے بچے دین
فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں یہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لہٰذا) اس وقت
کابتایا پتھر کی لکیر ہوگا۔ حضور اقدس، رحمت عالم ﷺ کی محبت وتعظیم ان کے دل میں
ڈالے کہ اصل ایمان وعین ایمان ہے۔ حضورپرنور ﷺ کے آل و اصحاب و اولیاء و علما کی
محبت و عظمت تعلیم کرے کہ اصل سنّت و زیور ایمان بلکہ باعث بقائے ایمان ہے(یعنی یہ
محبت ایمان کی حفاظت کا ذریعہ ہے)۔
سات
برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کر دے۔ علم دین خصوصاً وضو،غسل، نماز و
روزہ کے مسائل توکل، قناعت، زہد، اخلاص، تواضع، امانت، صدق، عدل، حیا، سلامت صدور
و لسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل،حرص وطمع، حب دنیا، حب جاہ، ریا، عجب، تکبّر،
خیانت، کذب، ظلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل(یعنی بری صفات)
پڑھائے۔ خاص پسر (یعنی بیٹے)کے حقوق سے یہ ہے کہ اسے لکھناسکھائے۔ سورۂ مائدہ کی
تعلیم دے۔ اعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔ خاص دختر (یعنی بیٹی) کے حقوق سے یہ ہے کہ
اس کے پیدا ہونے پر ناخوشی نہ کرے بلکہ نعمت الٰہیہ جانے، اسے سینا،پرونا، کاتنا،کھانا
پکانا سکھائے اورسورۂ نور کی تعلیم دے۔ (فتاویٰ رضویہ، 24/455 ملخصا)
اولاد
کو سدھارنے کے لیے مختلف منفرد طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں جو ان کی شخصیت، عمر،
اور ضروریات کے مطابق ہوں۔ یہاں کچھ مؤثر طریقے دیئے جا رہے ہیں:
1۔ مثالی رویہ: والدین کو خود ایک اچھا نمونہ بننا
چاہیے۔ بچے والدین کے رویے سے سیکھتے ہیں، اس لیے اگر آپ ان سے محبت، احترام، اور
ایمانداری کا سلوک کریں گے تو وہ بھی آپ کے نقش قدم پر چلیں گے۔
2۔ مثبت حوصلہ افزائی: بچوں کی اچھی عادات اور کارکردگی کی
تعریف کریں۔ جب وہ کچھ اچھا کرتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ یہ ان کے اعتماد
کو بڑھاتا ہے اور انہیں بہتر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
3۔ کھلی بات چیت: بچوں کے ساتھ کھل کر بات کرنے کی عادت
ڈالیں۔ ان کی باتوں کو غور سے سنیں اور ان کے خیالات کا احترام کریں۔ اس سے انہیں
احساس ہوگا کہ آپ ان کی رائے کو اہمیت دیتے ہیں۔
4۔ نظم و ضبط: بچوں کے لیے واضح اصول اور حدود مقرر
کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ ان اصولوں کی پیروی کیوں ضروری ہے۔ نظم و ضبط سے انہیں
ذمہ داری کا احساس ہوتا ہے۔
5۔ تعلیمی سرگرمیاں: بچوں کو تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول
کریں جیسے کہ کتابیں پڑھنا، سائنسی تجربات کرنا، یا فنون لطیفہ میں حصہ لینا۔ یہ
ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے اور انہیں سیکھنے میں مدد دیتا ہے۔
6۔ وقت گزارنا: اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، چاہے وہ
کھیلنے کا وقت ہو یا کوئی مشترکہ سرگرمی۔ اس سے آپ کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا ہے
اور بچے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
7۔ مشکلات کا سامنا: بچوں کو مشکلات کا سامنا کرنے کی تربیت
دیں۔ انہیں سکھائیں کہ ناکامی بھی سیکھنے کا حصہ ہے اور اس سے گھبرانا نہیں چاہیے۔
8۔ جذباتی حمایت: بچوں کو یہ سمجھائیں کہ ان کے جذبات
اہم ہیں۔ اگر وہ پریشان یا غمگین ہیں تو ان کی بات سنیں اور انہیں تسلی دیں۔
یہ
طریقے آپ کی اولاد کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ہر بچہ منفرد ہوتا
ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ آپ ان کی ضروریات اور حالات کے مطابق طریقے اپنائیں۔اللہ
پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ناہید،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کی تربیت والدین کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ بچوں کو درست راہ پر
گامزن کرنے کے لیے محبت، حکمت، اور صبر کے ساتھ ایک متوازن رویہ اختیار کرنا ضروری
ہے۔ یہاں اولاد کو سدھارنے کے چند مفید طریقے دیے گئے ہیں:
1۔ محبت اور توجہ دیں: بچوں کے لیے والدین کی محبت اور توجہ
سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ان کے جذبات کو سمجھیں اور انہیں اپنی اہمیت کا احساس
دلائیں۔ محبت سے بات کریں اور ان کے مسائل سننے کے لیے وقت نکالیں۔
2۔ مثالی کردار پیش کریں: بچے وہی کرتے ہیں جو وہ اپنے
والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ وہ اچھے اخلاق اپنائیں، تو
خود بھی مثالی کردار کا مظاہرہ کریں۔ سچ بولیں، وعدے نبھائیں، اور اچھے رویے کا
مظاہرہ کریں۔
3۔ مثبت بات چیت کریں: ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی بجائے بچوں سے
محبت بھرے اور مثبت انداز میں بات کریں۔ اگر وہ کوئی غلطی کریں تو تحمل کے ساتھ
انہیں سمجھائیں اور ان کی رہنمائی کریں۔
4۔ صحیح عادات سکھائیں: بچوں کو نماز، قرآن، اور اچھے اخلاق کی
عادت ڈالیں۔ وقت پر کام کرنا، صفائی رکھنا، اور دوسروں کی مدد کرنا ان کی شخصیت کو
نکھارنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
5۔ حوصلہ افزائی کریں: بچوں کی کامیابیوں کو سراہیں اور ان کی
حوصلہ افزائی کریں۔ اگر وہ ناکام ہوں تو ان کا ساتھ دیں اور دوبارہ کوشش کرنے کا
درس دیں۔
6۔ دوست بنیں: بچوں کے ساتھ ایک دوستانہ تعلق قائم
کریں تاکہ وہ اپنے مسائل اور خیالات آپ سے بلا جھجک شیئر کرسکیں۔ اس سے آپ انہیں
بہتر سمجھ سکیں گے۔
7۔ دعاؤں کا سہارا لیں: اولاد کی کامیابی اور اصلاح کے لیے
دعائیں کریں۔ اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور مدد طلب کریں، کیونکہ دعا والدین کا سب
سے بڑا ہتھیار ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ممتاز،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بچوں کی
تعلیم کے لیے کئی خاص طریقے ہیں جو ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں اور دلچسپیوں کے
مطابق ہوتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم طریقے دیئے گئے ہیں:
1۔ تفریحی سیکھنے کا طریقہ: بچوں کے لیے سیکھنے کو مزید
دلچسپ بنانے کے لیے گیمز، کہانیاں، اور تخلیقی سرگرمیاں شامل کی جا سکتی ہیں۔ اس
سے بچوں کی توجہ برقرار رہتی ہے اور وہ بہتر طریقے سے سیکھتے ہیں۔
2۔ عملی تجربات: بچوں کو عملی تجربات فراہم کرنا، جیسے
کہ سائنس کے تجربات یا کھانا پکانے کے طریقے، ان کی سیکھنے کی صلاحیتوں کو بڑھاتا
ہے۔ اس طرح وہ اپنی سیکھنے کی معلومات کو عملی زندگی میں استعمال کر سکتے ہیں۔
3۔ مشترکہ سیکھنا: گروپ میں سیکھنے سے بچے ایک دوسرے سے
سیکھتے ہیں اور اپنی سماجی مہارتوں کو بہتر بناتے ہیں۔ یہ انہیں اپنی رائے کا
اظہار کرنے اور دوسروں کی رائے کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
4۔ مثبت حوصلہ افزائی: بچوں کی کامیابیوں پر تعریف اور حوصلہ
افزائی انہیں مزید سیکھنے کی تحریک دیتی ہے۔ یہ انہیں خود اعتمادی فراہم کرتی ہے
اور سیکھنے کے عمل میں دلچسپی بڑھاتی ہے۔
5۔ وقت کی منصوبہ بندی: بچوں کے لیے ایک منظم شیڈول بنانا
ضروری ہے تاکہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل اور آرام کا وقت بھی رکھ سکیں۔
اولاد
کو نماز کی طرف لانے کے لیے آپ درج ذیل طریقے اپنا سکتے ہیں:
1۔ مثال بنیں: سب سے پہلے، خود نماز قائم کریں۔ جب اولاد
آپ کو نماز پڑھتے دیکھے گی تو ان کی دلچسپی بڑھے گی۔
2۔ محبت سے بات کریں: اولاد سے محبت اور احترام کے ساتھ بات
کریں۔ انہیں نماز کے فوائد، جیسے کہ روحانی سکون، اللہ کی رضا، اور دنیا و آخرت
میں کامیابی کے بارے میں بتائیں۔
3۔ آہستہ آہستہ شروع کریں: اگر اولاد نماز نہیں پڑھتے تو
انہیں آہستہ آہستہ نماز کی عادت ڈالنے کی کوشش کریں۔ مثلاً، انہیں فجر کی نماز کے
لیے اٹھانے کی کوشش کریں۔
4۔
نماز کی اہمیت سمجھائیں: اولاد کو یہ سمجھائیں کہ نماز روزمرہ زندگی کا ایک اہم
حصہ ہے اور یہ اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔
5۔
نماز کے اوقات بتائیں: انہیں نماز کے اوقات بتائیں اور ان کے ساتھ مل کر نماز
پڑھنے کی کوشش کریں۔
6۔
دعاؤں کا سہارا لیں: اللہ سے دعا کریں کہ وہ اولاد کے دل میں نماز کی محبت ڈالے اور انہیں اس کی
توفیق عطا فرمائے۔
7۔
اجتماعی نماز کا اہتمام: اگر ممکن ہو تو خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر
باجماعت نماز پڑھنے کا اہتمام کریں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد شبیر، فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
اللہ پاک کی طرف سے بہت ہی انمول تحفہ اور نعمتوں میں سے ایک عظیم ترین نعمت ہے۔
بڑھاپے میں ہمارا سہارا ہے۔ اولاد ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ ہمارے نام و نسل باقی
رہتی ہے۔ ہماری موت کے بعد ہمیں ایصال ثواب کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ہر انسان کی یہی
تمنا ہوتی ہے کہ ہماری اولاد نیک ہو، فرماں بردار ہو جو دنیا میں بھی ہماری راحت و
سکوں کا باعث بنے اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنے۔
اولاد
کو نیک بنانے میں والدین کا بہت دخل ہوتا ہے۔ جو کوئی اولاد کی تربیت اچھی کرے
اسکو اسکا صلہ ضرور ملتا ہے۔ اور جو کوئی تھوڑی سی کوتاہی کر دے اس کے لیے وہ
اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔ تو اس کے لیے والدین کو چاہئے کہ اولاد کی تربیت اسلامی
تعلیمات کے مطابق کریں۔ یہ والدین کی اول ذمہ داری ہے اس بارے میں معمولی سی
کوتاہی بھی نہیں کرنی چاہئے۔ کیوں کہ اسکا نقصان یہ ہوتا کہ اولاد بگڑ جاتی ہے
جیسا کہ آج کل ایک وافر تعداد ہے جو اس چیز کا رونا روتے نظر آتے ہیں جیسے کہ بات
نہیں مانتیں، گالیاں دیتے، بد تمیز ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کاش! کہ والدین اولاد کی
تربیت اسلامی تعلیمات کے مطابق کریں۔
اولاد کی تربیت کیسے کی جائے؟ اس کے بہترین اصول ہمیں قرآن پاک
میں ملتے ہیں۔ مثلا نیک اعمال کرنے والوں کو جنت کی خوشخبری دی گئی ہے، اور ایسے
ہی گناہگاروں کو گناہ کرنے پر جہنم کی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ اولاد کی اچھی تربیت
کرنے کی فضیلت کے متعلق حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے۔
فرمان
مصطفٰی ﷺ ہے: ایک آدمی کا اپنی اولاد کو اچھا ادب سکھانا ایک صاع خیرات کرنے سے
بہتر ہے۔ (ترمذی، 3/328،حدیث: 1958)
بچوں
کی اخلاقی تربیت کس طرح کی جا سکتی ہے اس کے متعلق چند طریقے ملاحظہ کیجئے، جن پر
عمل کر کے آپ اپنے بچوں کے اخلاق کو بہتر بنا سکتے ہیں:
اپنی سوچ بدلئے: والدین کی جو یہ سوچ ہے کہ بچے بڑے ہو
کر سمجھ جائیں گے اور خاص دھیان نہیں دیتے بلکہ بعض حرکتوں پر تو ہنس دیا جاتا اور
خوشی خوشی رشتہ داروں کو بھی بتایا جاتا ہے کہ ہمارا بچہ یہ سب کر رہا ہو اور اسکو
ان سب باتوں اگرچہ وہ غلط ہی ہوں پیار ملتا ہے جو کہ بچے بگڑنے کا سبب ہے ایسے تو
بچوں کی عادت پختہ ہو جائے گی لہذا بچپن سے ہی انکی اخلاقی تربیت کی جائے۔
پلاننگ کریں: ہر ضروری کام کو مکمل کرنے کے لیے
پلاننگ بہت اہمیت کی حامل ہے کہ اس کے بغیر کام صحیح طریقے سے مکمل نہیں ہو سکتا۔
پلاننگ اس چیز کی کرنی ہے کہ کاموں سے بچنا ہوگا اور کون کون سے امور اختیار کرنے
ہوں گے وغیرہ۔
اپنے طور طریقے میں تبدیلی لائیں: یہ حقیقت ہے
کہ بچہ قول سے کم اور عمل سے زیادہ سیکھتا ہے، اپنے والدین اور قریب موجود دیگر
افراد کو جو کچھ کرتے دیکھتا ہے وہی کرتا ہے۔ لہذا جیسے والدین چاہتے ہیں کہ انکا
بچہ اچھے کام کریں ویسے ہی والدین کو چاہئے کہ خود بھی اس طرح کا عمل ہی کریں۔
بچوں کو سمجھائیے: بچے نا سمجھ ہوتے ہیں اس لیے کوئی بھی
ایسا کام کر دیتے ہیں جو اخلاقیات کے خلاف ہوتے ہیں لیکن چونکہ بچوں کی حرکتیں سب
کو بہت اچھی لگتی ہیں اور ان سے بچوں پر مزید پیار آتا ہے اور بچوں کو بار بار وہی
کام کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔ اور وہی کام جب بڑا ہو کر کرے تو سب اس کے پیچھے پڑ
جاتے ہیں اور ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں لہذا والدین کو چاہئے کہ شروع ہی سے بچوں کو
ایسی حرکت پر پیار سے سمجھا دینا چاہئے۔
اولاد کے لیے دعا: اولاد
کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے چاہئیں، حدیث پاک میں ہے کہ تین دعائیں ایسی ہیں جن
کے مقبول ہونے میں کوئی شک نہیں:1۔مظلوم کی دعا 2۔مسافر کی دعا اور3۔ والد کی دعا
اولاد کے لیے۔ (ترمذی،3 / 362،حدیث:1912)
محترم
والدین! مذکورہ طریقے اپنا کر آپ اپنی اولاد کو سدھار سکتے ہیں اللہ کریم والدین
کو اولاد کی تربیت قرآن و سنت کر مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت فرید علی،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کی تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ بچے قوم کا مستقبل اور والدین کا
سرمایہ ہوتے ہیں۔ بچوں کو ایک نیک، مہذب اور کامیاب انسان بنانے کے لیے درج ذیل
طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:
1۔ اچھی مثال قائم کریں: بچے عموماً والدین اور اپنے اردگرد کے
لوگوں کی نقل کرتے ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ خود ان اصولوں پر عمل کریں جو وہ
اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے ہیں، جیسے دیانت داری، وقت کی پابندی، اور دوسروں کا
احترام۔
2۔ محبت اور شفقت سے پیش آئیں: بچوں کے ساتھ
محبت بھرے رویے سے پیش آئیں تاکہ وہ آپ پر اعتماد کریں۔ سختی اور چیخنے چلانے سے
بچے بغاوت کی طرف جا سکتے ہیں جبکہ شفقت اور نرمی انہیں مثبت سمت میں لے جاتی ہے۔
3۔ اخلاقی تربیت: بچوں کو اچھے برے کی تمیز سکھائیں اور
انہیں اخلاقی اقدار جیسے سچ بولنا، امانت داری، بڑوں کا ادب اور دوسروں کی مدد
کرنا سکھائیں۔ دینی تعلیم کی بنیاد ڈالنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ اللہ کا خوف اور
محبت دل میں رکھیں۔
4۔ مثبت گفتگو کریں: بچوں کو حوصلہ افزائی دینے والے جملے
کہیں اور ان کی چھوٹی کامیابیوں پر تعریف کریں۔ حوصلہ افزائی انہیں خود اعتمادی
دیتی ہے اور وہ بہتر کارکردگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
5۔ وقت دینا: بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں۔ ان کی
بات سنیں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور انہیں رہنمائی فراہم کریں۔ والدین کی توجہ
بچوں کو غیر اخلاقی سرگرمیوں سے دور رکھتی ہے۔
6۔ تعلیم کی اہمیت: بچوں کو تعلیم کی اہمیت بتائیں اور
انہیں علم حاصل کرنے کے لیے شوق دلائیں۔ اسکول کے ساتھ ساتھ انہیں مختلف مہارتیں
سکھائیں جو زندگی میں کام آئیں۔
7۔ غلطیوں پر مناسب رویہ اپنائیں: بچوں کی
غلطیوں پر سخت ردعمل دینے کے بجائے سمجھداری اور صبر سے انہیں درست کریں۔ غلطی کی
نشاندہی کریں مگر ساتھ ہی اصلاح کا طریقہ بھی بتائیں تاکہ وہ بہتر ہو سکیں۔
8۔ نظم و ضبط سکھائیں: بچوں کو وقت کا پابند بنائیں اور انہیں
ذمہ داری کا احساس دلائیں۔ نظم و ضبط انہیں زندگی میں کامیاب انسان بننے میں مدد
دیتا ہے۔
9۔ دوستی کا رشتہ قائم کریں: بچوں کے ساتھ ایسا رویہ رکھیں
کہ وہ آپ سے اپنے مسائل اور راز بلا جھجھک شیئر کر سکیں۔ والدین کی حیثیت سے ساتھ
ساتھ ان کے دوست بھی بنیں۔
10۔ ٹیکنالوجی کا استعمال معتدل کریں: بچوں کے
موبائل، انٹرنیٹ اور دیگر ٹیکنالوجی کے استعمال پر نظر رکھیں اور انہیں مثبت
سرگرمیوں جیسے کھیل، کتابیں پڑھنا اور تخلیقی کاموں کی طرف راغب کریں۔
11۔ دعا اور تربیت میں استقامت: اولاد کی
اصلاح کے لیے والدین کو دعا کا سہارا لینا چاہیے۔ اللہ سے ہدایت اور نیک اولاد کی
دعا کرنا والدین کی اہم ذمہ داری ہے۔
اولاد
کو سدھارنے کا عمل وقت اور محنت طلب ہے۔ والدین کو مستقل مزاجی اور حکمت سے بچوں
کی تربیت کرنی چاہیے تاکہ وہ معاشرے کے مفید شہری بن سکیں۔ بچوں کی صحیح تربیت نہ
صرف والدین کی کامیابی ہے بلکہ یہ پوری قوم کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت عتیق،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کو سدھارنے کے کئی طریقے ہیں جو والدین کو مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ یہاں کچھ اہم
نکات دیئے جا رہے ہیں:
1۔ مثالی رویہ: بچوں کے سامنے خود ایک مثالی رویہ پیش
کریں۔ اگر آپ اچھے اخلاق، ایمانداری اور محنت کی مثال قائم کریں گے تو بچے بھی آپ
کی پیروی کریں گے۔
2۔ محبت اور توجہ: بچوں کو محبت اور توجہ دیں۔ ان کے ساتھ
وقت گزاریں، ان کی باتیں سنیں اور ان کی ضروریات کو سمجھیں۔ یہ انہیں احساس دلائے
گا کہ آپ ان کی فکر کرتے ہیں۔
3۔ تعلیم کی اہمیت: بچوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھائیں۔
انہیں کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں۔
4۔ حدود کا تعین: بچوں کے لیے واضح حدود مقرر کریں۔
انہیں بتائیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اور ان حدود کی پاسداری کریں۔
5۔ مثبت حوصلہ افزائی: جب بچے اچھا کام کریں تو ان کی حوصلہ
افزائی کریں۔ ان کی کامیابیوں پر تعریف کریں تاکہ وہ مزید محنت کرنے کی خواہش
رکھیں۔
6۔ مشکلات کا سامنا: اگر بچے کسی مسئلے کا سامنا کر رہے
ہیں تو انہیں سمجھائیں کہ مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی انسان مضبوط ہوتا ہے۔ ان کی
مدد کریں کہ وہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
7۔ دوستانہ ماحول: گھر میں دوستانہ اور خوشگوار ماحول
بنائیں۔ بچوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں محفوظ ہیں اور ان کی رائے اہم ہے۔
اولاد
کو برے کاموں سے روکنے کے لئے کچھ طریقے ہیں جو آپ آزما سکتے ہیں:
1۔ بات چیت کریں: سب سے پہلے، اس کے ساتھ کھل کر بات
کریں۔ اسے بتائیں کہ آپ کو اس کے برے کاموں کے بارے میں کیا تشویش ہے اور کیوں آپ
چاہتے ہیں کہ وہ انہیں نہ کرے۔
2۔ مثبت متبادل پیش کریں: اس کو بتائیں کہ وہ اپنے وقت
اور توانائی کو کس طرح بہتر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔ مثلاً، اگر وہ خطرناک
کام کر رہا ہے تو اسے کوئی محفوظ اور مفید سرگرمی تجویز کریں۔
3۔ نمونہ بنیں: خود بھی اچھے کام کریں اور اس کے سامنے
ایک مثال قائم کریں۔ اگر وہ آپ کی مثبت تبدیلیوں کو دیکھے گا تو شاید وہ بھی متاثر
ہو۔
4۔ حمایت فراہم کریں: اگر وہ کسی مشکل میں ہے تو اس کی مدد
کریں۔ کبھی کبھار لوگ برے کاموں کی طرف اس لیے جاتے ہیں کیونکہ انہیں حمایت یا
رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت عبدالمجید،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
انسان کی زندگی کا سرمایہ ہوتی ہے اولاد کو سدھارنے کے لیے بہت سے اصولوں کو مدنظر
رکھنا ضروری ہے۔
1۔ حسن اخلاق: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو ہر
ایک سے حسن سلوک کے ساتھ پیش آنے کی ترغیب دیں کہ اس میں بہت سی دینی اخروی سعادت
پوشیدہ ہیں جیسا کہ حضور ﷺ نے فرمایا: حسن اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے
جس طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی ہے۔ (شعب الایمان، 6/247، حدیث: 8036)
2۔ پاکیزگی: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو صاف
ستھرا رہنے کی تاکید کریں حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک ہے پاکیزگی پسند فرماتا ہے
ستھرا ہے ستھرا پن پسند فرماتا ہے۔ (ترمذی، 4/365، حدیث: 2808)
3۔توکل: اپنی اولاد کا توکل کے لیے ذہن بنائیں کہ ہماری نظر
اسباب پر نہیں خالق اسباب یعنی اللہ پر ہونی چاہیے رب تعالیٰ چاہے گا تو یہ روٹی
ہماری بھوک مٹائے گی وہ چاہے گا تو یہ دوا ہمارے مرض کو دور کرے گی۔
4۔صبر: اپنی اولاد کا ذہن بنائیے کہ جب بھی کوئی صدمہ
پہنچے تو بلا ضرورت شرعی کسی کے سامنے بیان نہ کیجیے اور صبر کیجیے اور صبر کا
ثواب کمائیے حضور ﷺ نے فرمایا: جس بندے پر ظلم کیا جائے اور وہ اس پر صبر کرے اللہ
تعالی اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا۔ (ترمذی، 4/145، حدیث: 2332)
5۔وقت
کی اہمیت: اپنی اولاد کو وقت کی اہمیت کا احساس دلاتے ہوئے ان کا ذہن بنائیے کہ وقت
ضائع کرنا عقل مندوں کا شیوا نہیں۔
حضرت
داؤد طائی کے بارے میں منقول ہے کہ آپ روٹی پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے اس کی
وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں جتنا وقت لقمے بنانے میں صرف ہوتا ہے اتنی دیر میں
قرآن کریم کی 50 آیتیں پڑھ لیتا ہوں۔ (تذکرۃ الاولیاء، 1/201)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت طاہر راحیلہ،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
اللہ کریم کی طرف سے والدین کے لیے ایک نعمت ہے اور اس کی قدر ہر کوئی نہیں کرتا
حقیقی والدین وہی ہیں جو اپنی اولاد کی بہترین تربیت کریں بچپن سے ہی ان کی ہر
لحاظ سے شریعت کے مطابق تربیت کریں کیونکہ اولاد وہی کرتی ہے جو اپنے بڑوں کو کرتے
دیکھتی ہے اور اگر اولاد بگڑ جائے یا وہ برے افعال میں مبتلا ہوجائے تو پھر ان کو
سدھارنا انتہائی مشکل کام ہے اس لیے ہر آن اولاد پر نظر رکھیں وہ کن کاموں میں آج
کل مصروف ہے اگر برے کاموں میں مبتلا ہے تو فورا ان کو ان کاموں سے روکا جائے اور
اچھے کاموں کی ترغیب دلائی جائے آئیے ذیل میں چند اولاد کو سدھارنے کے طریقے
بتائیں جائیں گے ملاحظہ کیجیے۔
(1)تین باتیں سکھاؤ: آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کو
تین(3)چیزیں سکھاؤ: اپنے نبی کی محبّت، اہل بیت کی محبّت اور قرآن پاک پڑھنا۔ (الصواعق
المحرقہ، ص 172)
(2) تربیت کرنے میں سختی نہ کریں: بعض والدین
اپنی اولاد کی تربیت تو کرتے ہیں ہر لمحہ اپنی اولاد کی تربیت تو کرتے ہیں لیکن
اتنا سخت رویے اور انداز کے ساتھ کہ بچہ سدھرنے کی بجائے اور بگڑ جاتا ہے تو یاد
رکھیں جو کام نرمی سے ہوتا ہے وہ گرمی سے نہیں ہوتا تو ہر آن ہر لمحہ نرمی والا
انداز ہونا چاہئے اس سے آپ کی اولاد پر اچھا اثر پڑے گا۔
(3)دیکھ کر سیکھنا: یاد رکھیں اولاد جو دیکھے گی وہی کرے
گی لہذا والدین کو چاہئے کہ وہ خود نیک کام کریں نماز اور تمام احکام شرعیہ اچھے
انداز میں پورے کریں ان شاء اللہ الکریم اس کی برکت سے ان کی اولاد میں بھی مثبت
اثر پڑے گا اور ان کا نیک کاموں میں دل بھی لگے گا۔
(4)نظر رکھیں:والدین کو چاہیے وہ اپنی اولاد پر نظر
رکھیں کہ معاذ اللہ ان کی اولاد کہیں برے کاموں یا بری صحبتوں میں تو نہیں پڑ گئی
اگر والدین اپنی اولاد پر نظر رکھیں گے تو اولاد کو بھی ڈر ہو گا جس کی وجہ سے برے
کاموں سے بچ جائے گی۔
(5) بلا وجہ جھڑکنے سے بچیں: بعض اوقات والدین اپنی کسی
پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں ایسے میں اگر اولاد ان سے کچھ جائز خواہش کرے تو
والدین بغیر کسی وجہ سے جھڑک دیتے ہیں جس کا اولاد پر برا اثر پڑتا ہے اولاد
والدین سے متنفر ہو جاتی ہے اور پھر باغی ہو جاتی ہے کسی کی بات نہیں سنتی لہذا
والدین کو اگر کوئی پریشانی ہو تو کوشش کریں اس کا اظہار اگر اولاد پر کرنا تو اس
کے لیے جھڑکنے کی بجائے نرم انداز سے بتائیں تاکہ اولاد بری سوچ سے بچے اور متنفر
نہ ہو۔
وظیفہ کیجئے: نافرمان بچے کو فرماں بردار کرنے کے
لئے روحانی علاج پیش خدمت ہے: جو شخص یا شہید 21 بار صبح سورج نکلنے سے پہلے
نافرمان بچے ىا بچى کى پىشانى پر ہاتھ رکھ کر آسمان کى طرف منہ کرکے پڑھے ان شآء
اللہ اس کا وہ بچہ ىا بچى نىک بنے۔ یہ وظیفہ اس طرح نہیں پڑھنا کہ بچے کو بولیں:
ادھر آ! تو بہت شیطانی کرتا ہے، میں وظیفہ پڑھتا ہوں، تو صحیح ہوجائے گا۔اس طرح
اور زىادہ بگاڑ پىدا ہوجائے گا۔ وظیفہ اس طرح پڑھیں کہ بچے کو پتا نہ چلے۔ بچے کو
جھوٹ بھی نہیں بولنا اور حکمت عملی سے کام لے کر یہ وظیفہ پڑھنا ہے۔ شہید اللہ پاک
کا نام ہے، ان شاء اللہ آپ کو اس کی برکتیں حاصل ہوں گی۔
یاد
رکھیں کہ بچوں کی تربیت وقت، محبت اور مستقل محنت کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر آپ ان
اصولوں پر عمل کریں گے تو ان شاء اللہ آپ کی اولاد ایک بہترین شخصیت کی حامل ہوگی۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت طارق نذیر،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بچے
مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر انہیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے
ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت
سے ایک مثالی معاشرہ اور قوم وجود میں آتی ہے، اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل
میں تناور درخت بن سکتا ہے۔ بچپن کی تربیت نقش کالحجر ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر
بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبلوغت کے بعد بھی وہ ان پر
عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت
کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے
اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں
نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت
دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے، جب کہ
نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبال جان ہو گی اور آخرت میں
بھی رسوائی کا سبب بنے
گی۔
اولاد
کو ﷲ ربّ العزت نے دنیاوی زندگی میں رونق سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ رونق اسی وقت ہے
جب والدین کی جانب سے اپنی ذمے داری کو پورا کرتے ہوئے بچوں کی صحیح نشو و نما،
دینی و اخلاقی تربیت کی جائے اور بچپن ہی سے انہیں زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔
لہذا
والدین کو اپنی اولاد کے حوالے سے بہت محتاط اور ذمہ دار ہونا چاہیے ان کو وقت
دینا چاہیے اور اچھی عادات اپنانے کا ذہن بنانا چاہیے اور بری عادات سے بچنے کی
تلقین کرنی چاہیے۔
ذیل
میں اولاد کو سدھارنے کی چند ہدایات پیش کی جاتی ہیں ان کو اپنانے سے ان شاءاللہ
بہتر نتائج اخذ ہوں گے۔
1۔ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال: سوشل میڈیا دو
دھاری تلوار ہے یعنی اس کے فوائد بہت ہیں تونقصانات بھی بہت۔ بات کریں فوائد کی تو
دور حاضرمیں سوشل میڈیا سیکھنے کا آسان ترین، سستا ترین اور سب سے بڑا ذریعہ بن
چکا ہے۔ ہر شعبے کی معلومات ہمارے ایک کلک کے فاصلے پر دستیاب ہیں۔ تاہم اس کا حد
سے زیادہ یا بے مقصد استعمال نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ جسم و ذہن پر بھی خطرناک
اثرات ڈالتا ہے۔ اس ضمن میں والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ایسی
ذہنی تربیت کریں کہ وہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال کریں اور اس کے منفی اثرات سے
بچیں۔
2۔اصول بنائیں: ماؤں کوچاہئے کہ اپنے گھرکے کچھ مخصوص
اصول بنائیں جس پر تمام لوگوں کو عمل کرناضروری ہو، اور ماؤں کو چاہئے کہ ان
اصولوں پر سختی سے عمل پیرا رہیں۔ اپنی سہولت یا بچوں کی ضد کی وجہ سے ان اصولوں
میں پھیربدل نہ کریں ورنہ بچہ آپ کی باتوں کو اہمیت نہیں دے گا اور ہمیشہ ان
اصولوں سے انحراف کی کوشش کرے گا۔
3۔ مقصددیجئے: بچوں کی ضداور غلط حرکتیں کرنے کی عادت
اگر بڑھتی جارہی ہے تو آپ کو انہیں اپنے پاس بٹھا کر سمجھانا چاہئے کہ غلط طریقے
سے برتاؤ کرنے کے برے نتائج ہوسکتے ہیں۔ انہیں آپ مقصد دیجئے کہ آپ کو اچھا اور
کامیاب انسان بنناہے تو آپ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہوگی۔
یہ بات
تو طے ہے کہ بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ اس لئے مائیں بچوں کے سامنے
اچھی عادات کا مظاہرہ کریں، تاکہ بچے بھی ایسی ہی عادات اپنائیں۔
4۔ بہتر ماحول دیجئے: بچے وہ نہیں کرتے جو انہیں کہا جاتا ہے،
بلکہ وہ کرتے ہیں جو وہ اپنے والدین کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اس لئے ماؤں کو
چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کو بہترماحول دیں۔ اگرمائیں خود گھر کے بزرگوں یا لوگوں
پرغصہ کررہی ہو یاچلارہی ہو توبچہ بھی یہی سیکھے گا۔ ایسے میں ماؤں کو چاہئے کہ
گھر کا ماحول اور بچوں کی تربیت اس طرح کرے کہ بچہ سمجھ جائے کہ بڑوں کی باتوں کو
مانناضروری ہوتاہے۔
Dawateislami