حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمداسلام،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
آقا ﷺ کی بیٹیوں سے محبت کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جا
سکتا ہے کہ آپﷺ کے آنے کے بعد اور بیٹیوں کو رحمت بتانے کے بعد ہی اور جو بیٹیوں
کے متعلق آپﷺ نے احادیث بیان کیں ان کے کیا کہنے کہ ان کے بعد ہی معاشرے میں بیٹیوں
کو عزت، مان سب کچھ ملا ہے۔
آقاﷺ کی چار (4) شہزادیاں ہیں:
1 )حضرت زینب رضی
اللہ عنہا
2)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3)حضرت ام کلثوم رضی
اللہ عنہا
4) حضرت فاطمہ رضی
اللہ عنہا
حضرت زینب رضی اللہ عنہا اعلان نبوت سے دس سال قبل مکہ میں
پیدا ہوئیں اور ہجرت کے آٹھویں سال وصال ہوا۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اعلان نبوت
سے سات سال قبل پیدا ہوئیں اور آپ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں اور
آپ کا وصال 19 رمضان 2 ہجری میں بیس سال کی عمر میں ہوا۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ
عنہا حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے بعد حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں
اور آپ کا وصال شعبان 9 ہجری میں ہوا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 2 ہجری کو حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے ہوا۔آپ چونکہ آقا ﷺ کی سب سےچھوٹی اور لاڈلی بیٹی ہیں اس وجہ سے آپ کا آقا ﷺ
سےپیار کا عالم یہ تھا آپ کا وصال آقا ﷺ کے 6 ماہ بعد 3 رمضان کو ہوا۔( زرقانی علی المواھب، 4/ 318 تا 329)
آپﷺ کی سب سے بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جو ابتدائے
اسلام میں اسلام لائیں تھیں جنگ بدر کے بعد حضورﷺ نے ان کو مکہ سے مدینہ بلا لیاتھا۔مکہ
میں کافروں نے ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ان کا تو پوچھنا ہی کیا!حد ہو گئی کہ جب یہ ہجرت کے
ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک دیا
اور ایک بد نصیب کافر ہبار بن اسود جو بڑا ظالم تھا اس نے نیزہ مار کر ان کواونٹ
سے زمین پر گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا ان کو دیکھ کر ان کے دیور
کنانہ کو جو اگرچہ کافر تھا ایک دم طیش میں آگیا اس نے جنگ کے لیے تیر کمان اٹھا لیا
یہ ماجرا دیکھ کر ابو سفیان نے درمیان میں پڑ کر راستہ صاف کرادیا اور یہ مدینہ
منورہ پہنچ گئیں۔حضورﷺ کے قلب کو اس واقعہ سے بڑی چوٹ لگی ، چنانچہ آپ نے ان کے
فضائل میں ارشاد فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سےبہت فضیلت والی ہے کہ میری
طرف ہجرت میں اتنی بڑی مصیبت اُٹھالی۔اس واقعہ میں ان کی آقاﷺ سے محبت اور آقاﷺ کی
ان سے محبت کا پتا چلتا ہے اور اہل بیت نے جو مشکلیں برداشت کیں ان کا بھی معلوم
ہوتا ہے۔
(جنتی زیور، ص499)
اسی طرح آپ اپنی ساری شہزادیوں سے محبت کرتے اور حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا کے بھی واقعات ہیں کہ جب آقا ﷺ تشریف لاتے تو آپ محبت و احترام میں
کھڑی ہو جاتیں اور جب آپ آتیں تو آقاﷺ آپ کے لیے کھڑے ہو جاتے اور آپ کو اپنی جگہ
پر بیٹھاتے۔(ابوداود،4/454، حدیث:5217)
آقاﷺ نے فرمایا:فاطمہ میری بیٹی میرے بدن کی
ایک بوٹی ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(مواہب لدنیۃ مع شرح زرقانی،4/335،336)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ سید ابرار حسین،جیل روڈ پاکپورہ سیالکوٹ
دین اسلام نے کفر و شرک کے اندھیروں کو دور کیا اور زمانہ
جاہلیت کی رسموں کو بھی تبدیل کیا،ہمیں اسلامی تعلیمات کے ساتھ معاشرے میں زندگی
گزارنے کے آداب سکھائے اور طریقے بتائے۔نیز ہمارے مدنی آقا ﷺ نے یہ سب عملی طور پر کر کے بھی دکھایاجیسے زمانہ جاہلیت
میں بچیاں زندہ درگور کردی جاتی تھیں مگر ہمارے پیارے دین اسلام نے بچیوں کو عزت دی،ان
کے حقوق بیان کیے،ان سے محبت و شفقت کا درس دیا،ان کی اچھی تعلیم و تربیت کی طرف
رہنمائی کی،ان کو زندہ دفن کرنے سے منع کیا،ان کی پرورش کے فضائل بیان کیے اور جنت
کی بشارت دی۔
ہمارے پیارے آقا کریم ﷺ بچوں پر بہت شفقت فرماتےاور اپنی
شہزادیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔پیارے آقا کریم ﷺ کی چاروں شہزادیوں کے نام یہ ہیں:حضرت
زینب،حضرت رقیہ،حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہن۔یہ سب آقا کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبری کی اولاد ہیں۔
بیٹیوں
کو برا مت کہو:پیارےنبی ﷺ نے فرمایا:بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو،بے شک وہ
محبت کرنے والیاں ہیں۔(مسند اِمام احمد،6/134،حدیث:17378)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا:آپ حضور ﷺ کی بڑی شہزادی ہیں،آپ نے جب ہجرت کی تو اس کے لیے کافی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔حضور ﷺ نے ان کے بارے
میں فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت ہی زیادہ فضیلت والی ہیں کہ میری
جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ،4/318)(مستدرک،2/565،
حدیث:2866)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ایک صاحبزادی تھیں حضرت امامہ رضی اللہ عنہا،ان سے
بھی آقا ﷺ کی بہت محبت تھی۔چنانچہ
نجاشی بادشاہ نے
آقا ﷺ کی بارگاہ میں کچھ زیورات بطور تحفہ بھیجے جن میں ایک حبشی نگینے والی
انگوٹھی بھی تھی، نبی کریم ﷺ نے اپنی نواسی امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا:اے
چھوٹی بچی!تم اسے پہن لو۔( ابو داود، 4/ 125، حدیث:4235)
پیارے آقا کریم ﷺ کی سب سے چھوٹی شہزادی فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہاہیں یہ آپ ﷺ کی سب سے
زیادہ لاڈلی بیٹی ہیں۔ہمارے پیارے نبیﷺ کی پیاری بیٹی سیدۂ کائنات حضرتِ بی بی
فاطمہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریم ،رؤوف و رحیم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو
کران کی طرف متوجِّہ ہو تے ، پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے کراُسے
بوسہ دیتے پھر اُنہیں اپنی جگہ بٹھا تے۔اسی طرح جب نبی کریم ﷺ حضرت بی بی فاطِمہ رضی
اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں ، آپ کا مبارک ہاتھ اپنے
ہاتھ میں لے کر چُومتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(ابوداود،4/454، حدیث:5217)
اس سےمعلوم ہوا کہ جن کی بیٹیاں ہیں انہیں ان کا اچھے طریقے سےخیال رکھنا چاہیے اور ان کی اچھی
تعلیم و تربیت کرنی چاہیے....
بچی کو پکارنے کا پیار بھرا انداز:حضرت اُمِّ سلمہ رضی
اللہ عنہا جب حضورِ اقدس ﷺ کے نکاح مبارک میں آئیں تو ان کی ایک بیٹی زینب دودھ پیتی
تھیں ، رسولُ اللہ ﷺ تشریف لاتے تو بڑی محبت سے پوچھتے:زُناب کہاں ہے؟ زُناب کہاں
ہے؟(سنن كبرىٰ للنسائی ، 5 / 294 ، حدیث:8926)
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ کریم والدین کو اولاد
کے حقوق اداکرنے اور ان کی اچھی تعلیم و تربیت کی توفیق عطا فرمائے اور اولاد کو
اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔آمین
بجاہِ خاتمِ النبین ﷺ
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمدفاروق،اگوکی سیالکوٹ
حضورِ اقدس ﷺ کی اولاد کرام:اس بات پر تو تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضور اکرم ﷺکی
اولاد کرام کی تعداد چھ ہے،آپ کے دو فرزند حضرت قاسم و حضرت ابراھیم اور چار
صاحبزادياں حضرت زینب، حضرت رقیہ،حضرت ام
کلثوم،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم وعنہن۔مگر
بعض مورخین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ کے
ایک صاحبزادے عبداللہ بھی ہیں جن کا لقب طیّب
و طاہر ہے۔اس قول کی بنا پر آپ کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے، تین صاحبزادگان اور
چار صاحبزادياں۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتا یا ہے۔( سیرت
مصطفےٰ،ص 687)
پیارے آقا ﷺ کی شہزادیوں سے محبت:جیسا کہ اوپر کے پیرا
گراف میں آقا ﷺ کی مقدس اولاد کا تذكرہ کیا
گیا۔آپ کی اولاد کا ذکر اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بھی فرمایا ہے۔چنانچہ ارشاد
باری ہے:اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-(پ25،الشوری:50)ترجمہ كنزالایمان:یادونوں
ملا دے بیٹے اور بیٹیاں۔
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:اس سے پیارے
آقا ﷺ کی ذات عالی مراد ہے۔
(تفسیر الباب فی
علوم الكتاب ،17/220)
پیارے آقا ﷺ اپنی شہزادیوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔آپ کے
تمام شہزادے کم عمری میں ہی وفات پا گئے تھے جبکہ شہزادیاں ایک عرصے تک حیات رہیں،ان
سب نے اسلام کا زمانہ پایا اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ بھی آئیں۔الحمد للہ آپ کی
تمام شہزادیاں فطری طور پر نیک طبیعت ، حق پرست ، شرک و بت پرستی اور جاہليت کی
غلط رسموں سے بيزار تھیں۔(آقا ﷺ کے شہزادے اور شہزادیاں ،ص25،24)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے آقا ﷺ کی محبت:پیارے پیارے آقا،رسولِ اقدسﷺ بیٹیوں سے محبت فرماتے تھے ،ان
سے شفقت سے پیش آتے اور رحمت بھرا سلوک فرماتے تھے۔آپ کو اپنی بڑی شہزادی حضرت زینب
رضی اللہ عنہا سے بہت محبت و انسیت تھی۔حضورِ اکرم ﷺ نے ان کو مکّہ مکرمہ سے مدینہ منورہ بلا لیا تھا اور یہ
ہجرت کر کے مکّہ سے مدینہ تشریف لے گئیں۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اس ہجرت میں
درد ناک مصیبت پیش آئی،اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ان کے فضائل میں فرمایا:ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہیں
کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(آقا ﷺ کے شہزادے و شہزادیاں ،ص39)
حضرت رقیہ و حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما:دوسری
شہزادیوں کی طرح حضور اکرم ﷺ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے بھی بہت محبت فرماتے،انہیں
اپنی توجہ میں رکھتے،ان کی خبر گیر ی
فرماتے اور ان کے ہاں تحائف بھیجا کرتے تھے۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں
اسد الغابہ میں ہے:صحیح یہ ہے کہ آپ حضرت رقیہ سے چھوٹی ہیں۔حضور اقدس ﷺ نے آپ کا نام ام کلثوم رکھا۔خیال رہے!ابو یا اُم والا نام کنیت کہلاتا ہے۔علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت ام کلثوم رضی اللہ
عنہا کا کوئی نام معتبر نہیں آپ کنیت ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔(آقا ﷺ کے شہزادے و شہزادیاں ،ص68،82)
خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا:آقا ﷺ کی سب سے چھوٹی مگر سب سے پیاری اور سب سے لاڈلی
شہزادی ہیں۔اعلان نبوت کے پہلے سال جب آقا ﷺ کی عمر مبارک 41 سال تھی یا اعلان نبوت کے ایک یا پانچ سال پہلے
مکّہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔آپ کا نامِ پاک فاطمہ اللہ پاک نے رکھا جیسا کہ
ارشاد نبوی ہے: بے شک اس کا نام اللہ پاک
نے فاطمہ رکھا کیونکہ اللہ پاک نے اسے
جہنم سے دور کر دیا ہے۔(آقا ﷺ کے شہزادے و شہزادیاں ،ص 95)
الغرض ہمارے پیارے پیارے آقا ﷺ اپنی شہزادیوں سے بے حد محبت
فرماتے اور شفقت بھرا سلوک فرماتے تھے۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از ہمشیرہ اسامہ لطیف،جوہر آباد خوشاب
آیت مبارکہ:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ
اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ
ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ
قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی
سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا
دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا
ہے۔
فرمانِ مصطفےٰ:بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو،بے شک وہ مَحَبَّت
کرنے والیاں ہیں۔(مسند امام احمد،6/134، حدیث:17378)
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں کی تعداد:رسول اللہ ﷺ کی چار صاحبزادیاں ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2 )حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3 )حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
4 )حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
حضرت زینب
رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا جو کہ آپ ﷺ کی بڑی صاحبزادی ہیں اعلان
نبوت سے دس سال قبل مکہ میں پیدا ہوئیں اور جنگِ بدر کےبعد حضور پُرنور ﷺ نے ان کو
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ بلا لیا۔جب ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ
سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا اور ایک ظالم نے نیزہ مار کر ان
کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا۔نبی کریم ﷺ کو اس
واقع سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے فضائل میں یوں
ارشاد فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے افضل ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں
اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔اس کے علاوہ آقا ﷺ نے ان کے انتقال کے بعد ان کی نماز جنازہ
پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں قبر میں اتارا۔ ( شرح زرقانی علی مواہب
لدنیہ ، 4 / 318)
رسول اللہ ﷺ اپنی تمام شہزادیوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔حضرت
زینب رضی اللہ عنہا آقاﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھی جبکہ سب سے چھوٹی اور لاڈلی
صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا:آقا ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ارشاد فرمایا:سیدۃ
نساء العالمین یعنی تمام عورتوں کی سردار اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ یعنی اہل جنت کی
تمام عورتوں کی سردار ہیں۔(مواہب لدنیۃ مع شرح زرقانی،4/335،336)اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں ارشاد نبوی ہے:فاطمہ
میرے بدن کی ایک بوٹی ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(سیرت مصطفےٰ
،ص 698)
حضرت بی بی فاطمہ
رضی اللہ عنہا جب محبوب رب العزت ﷺ کی خدمت سراپا شفقت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ
کھڑے ہو کر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں ان کا ہاتھ لے کر اسے بوسہ دیتے پھر ان کو اپنے
بیٹھنے کے جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب آپ ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لاتے تو وہ دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں آپ ﷺ
کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چومتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(ابو داود
، 4 /454 ، حدیث:5218)
حدیثِ مبارک:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کی رسول اکرم ﷺ کا فرمانِ معظم ہے:جو بازار سے اپنے بچوں کیلیے کوئی نئی چیز
لائے تو وہ ان پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور اسے چاہیے کہ بیٹیوں سے ابتدا کرے
کیونکہ اللہ پاک بیٹیوں پر رحم فرماتا ہے اور جو اپنی بیٹیوں پر رحمت اور شفقت کرے وہ خوف خدا میں رونے کی مثل ہے اور جو
اپنی بیٹیوں کو خوش کرے اللہ پاک بروز قیامت اسے خوش کرے گا۔(مسند الفردوس ،2/263،حدیث:5830)
حدیثِ مبارک:فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا
ہے جو آکر کہتے ہیں:السلام علیکم اھل بیت یعنی اے گھر والو!تم پر سلامتی ہو۔پھر
فرشتے اس بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں:یہ ایک کمزور جان ہے
جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے۔جو اس کمزور جان کی پرورش کی ذمہ داری لے گا قیامت
تک اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہے گی۔( مجمع الزوائد،8/285،حدیث:13484)
فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور ان
کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( تر مذی،3/366، حدیث:1919)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمد احسان عطاریہ،جوہر آباد خوشاب
آیت مبارکہ:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ
اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ
ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ
قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی
سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا
دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا
ہے۔
فرمینِ مصطفےٰ ﷺ:
1)جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے ایذا نہ دے اور نہ ہی
برا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔(مستدرک ، 5 /
248 ، حدیث:7428)
2)جس کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس
کیلیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔عرض کی گئی اور دو ہوں تو ؟ فرمایا:اور دو ہوں تب بھی۔عرض
کی گئی:اگر ایک ہو تو ؟ فرمایا:اگر ایک ہو تب بھی۔(معجم اوسط، 4 /347 ،حدیث:6199)
3)جس کی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا
سلوک کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( ترمذی ، 3 / 366 ، حدیث:1919)
آقا ﷺ کی چار شہزادیاں تھیں:
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2 )حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3 )حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا
4 )حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا
حضرت زینب رضی اللہ عنہا:آپ آقا ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو
کہ اعلان نبوت سے دسویں سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ، جنگِ بدر کی بعد حضور ﷺ نے ان کو مکہ سے مدینہ بلا لیا۔جب یہ
ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا۔ایک ظالم
ہبار بن اسود نے ان کو نیزہ مار کر زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط
ہو گیا (یعنی بچہ اسی وقت پیٹ میں ہے فوت ہو گیا۔) نبی کریم ﷺ کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا۔چنانچہ
آپ ﷺ نے فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے سب سے افضل ہے کہ میری طرف ہجرت
کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔جب 8 ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال
ہو گیا تو سلطانِ مدینہ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں
قبر میں اتارا۔( شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ ، 4 / 318)
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا:اعلانِ نبوت سے سات برس پہلے جب کہ حضور ﷺ کی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھا پیدا
ہوئیں اور ابتدائے اسلام میں ہی مشرف بہ
اسلام ہو گئیں۔پہلے ان کا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا لیکن ابھی ان کی
رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ سورۂ لہب نازل ہوگئی، ابولہب قرآن میں اپنی رسوائی کا بیان
سن کر آگ بگولا ہو گیا اور اپنے بیٹے عتبہ کو مجبور کر دیا کہ وہ حضرت رقیہ رضی
اللہ عنہا کو طلاق دے دے۔اس کے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آقا ﷺ نے حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔نکاح کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت رقیہ
رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر حبشہ سے مکہ واپس آکر مدینہ
کی طرف ہجرت کی اور میاں بیوی دونوں صاحب الہجرتین کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئے۔جنگِ بدر کے دن حضرت رقیہ
رضی اللہ عنہا سخت بیمار تھیں تو آقا ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی تیمارداری
کیلیے جنگِ بدر میں شریک ہونے سے روک دیا اسی روز حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کا وصال
ہوا۔آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 20 سال تھی۔(شرح زرقانی،3/ 198،199)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ان کا نام فاطمہ
اور لقب زہرا اور بتول ہے۔ان کی پیدائش میں اختلاف ہے۔چنانچہ ابن عمر کا قول ہے کہ
اعلان نبوت کے پہلے سال جب حضور ﷺ کی عمر شریف اکتالیس برس کی تھی یہ پیدا ہوئیں۔
فضائل و مناقب:ان کے فضائل و مناقب اور آقا ﷺ کی ان سے محبت کے کیا کہنے!حضور ﷺ کا ارشاد سیدۃ
النساء العالمین اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ (اہل جنت کی عورتوں کی سردار)کے حق میں
ارشاد نبوی ہے کہ فاطمہ میرے بدن کی ایک بوٹی ہے۔جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے
مجھے ناراض کیا۔(مشکاۃ المصابیح،ص 568 )(شرح زرقانی ، 3/ 204)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ غلام محمد،جوہر آباد خوشاب
الحمدللہ!ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہرحال میں اپنے رب کی
رضا پر راضی رہتا ہے،وہ اولاد کو اللہ پاک کی بڑی نعمت سمجھتا ہے،اسے معلوم ہوتا
ہے کہ بیٹے اللہ پاک کی نعمت ہیں تو بیٹیاں
اللہ پاک کی رحمت ہیں۔اسلام نے بیٹی کو بڑی عظمت بخشی ہے، اس کا وقار بُلند کیا
ہے،اسے کئی شانیں دی ہیں، بیٹی اللہ پاک کی رحمت ،باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ماں
کے دل کے لیے باعثِ راحت ہے۔
آیت مبارکہ:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا
وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ
یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے
جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا دونوں ملا دے بیٹے
اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔
بیٹیوں کے فضائل سے متعلق کثیر احادیثِ مبارکہ بھی ملتی ہیں۔آئیے!بیٹیوں کے
فضائل سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجیے:
1)اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی،رسولِ ہاشمی ﷺ نے فرمایا:بیٹیوں
کو بُرا مت سمجھو،بےشک وہ مَحَبَّت کرنے والیاں ہیں۔( مسند
امام احمد ،6/134،حدیث:17378)
2)ایک حدیث شریف میں ہے:جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے
ایذا نہ دے اور نہ ہی بُرا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ پاک اس کو جَنّت میں داخِل فرمائے گا۔(مستدرک،5/248،حدیث:7428)
3)سركارِ مدىنہ، راحت قلب و سىنہ ﷺ نے ارشاد فرماىا:جس كى ایک بیٹى ہو وہ اس كو اَدَب
سكھائے اور اچھا اَدَب سكھائے اور اس كو تعلىم دے اور اچھى تعلىم دے اور اللہ پاک نے اس كو جو نعمتىں عطا فرمائى ہىں ان نعمتوں
مىں سے اس كو بھى دے تو اس كى وہ بىٹى اس کے لئےدوزخ كى آگ سے ستْر اور حِجاب (پردہ) ہوگى۔
(الکامل فی ضعفاء
الرجال،5/179،رقم:955) (معجم کبير، 10/197،حديث:10447)
حضور ﷺ کی بھی شہزادیاں تھیں جن کے تعداد 4 ہے اور نام درج
ذیل ہیں:
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2)حضرت رقیّہ رضی اللہ عنہا
3)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
4)حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
حضور ﷺ نے بیٹیوں سے محبت کرنے اور ان کی اچھی پرورش کرنے
کا حکم ارشاد فرمایا اور خود حضور ﷺ بھی اپنی شہزادیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔اس
سے متعلّق چند روایات پیشِ خدمت ہے:
1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا:تاجدارِ رِسالت ﷺ کی شہزادی حضرت زَیْنَب رضی اللہ عنہا کو اُن کے شوہر ابُو
الْعَاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے غَزوۂ
بدر کے بعد مدینۂ مُنَوَّرہ کے لئے روانہ کِیا۔جب قُرَیْشِ مکّہ کو اُن کی روانگی
کا عِلْم ہوا تو اُنہوں نے حضرت زَیْنَب رضی اللہ عنہا کا پیچھا کِیا حتّٰی کہ مقامِ ذِیْ طُویٰ میں
اُنہیں پا لیا۔ہَبَّار بن اَسْوَد نے حضرت زَیْنَب رضی اللہ عنہا کو نیزہ مارا جس کی وجہ سے آپ اُونٹ سے گِر گئیں اور
آپ رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع ہو گیا۔(سیرت نبویّۃ لابن ہشام،ص270-271 ملخصاً)نبیِّ
کریم،رء وف و رحیم ﷺ کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں ارشادفرمایا:ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت
کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(مواہب
لدنیۃ،ص318-319)
2) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا:جنگِ بدر کے وقت حضرت رقیہ سخت بیمار ہوگئیں تو رسولُ اللہ ﷺ
نے حضرتِ عثمان کو ان کی تیمار داری کا حکم دیا۔(معرفۃ الصحابۃ،ص141)
3) حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کو سب
لوگوں سے زیادہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت تھی۔(ترمذی،ص872،حدیث:3877)
بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:بے شک فاطمہ میرا
ٹکڑا ہیں پس جس نے ان سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے بغض رکھا۔(مواہب لدنیہ،2 /732)
حضرت بی بی فاطِمہ
رضی اللہ عنہا جب محبوبِ ربُّ العزّت ﷺ کی
خدمت ِ سراپا شفقت میں حاضِر ہوتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو کران کی طرف متوجِّہ ہو جاتے،پھر
اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے
کر اُسے بوسہ دیتے پھر اُن کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب آپ بی بی فاطِمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں،آپ
کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چُومتیں
اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔( ابو داود،4/454،حدیث:5217)
ان روایات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ اپنی شہزادیوں
سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے۔اس میں ہمارے لیے درس ہے کہ اپنی بیٹیوں سے محبت
کریں ،ان کو خوش رکھیں،ان کی اچھی پرورش کریں، ان کی دلجوئی کریں اوران کو بوجھ نہ سمجھیں۔کیونکہ بیٹیاں تو محبت
نبھانے والی ہوتی ہیں،بیٹیاں تو دکھ درد کی ساتھی ہوتی ہیں، یہ تو اللہ پاک کی عظیم
رحمت ہیں۔لہٰذا بیٹیوں کو برا نہ سمجھیے۔اللہ پاک ہم سب کو بیٹیوں کی قدر دان اوران
کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والی بنائے۔آمین
محبت نبھانے والی
بیٹیاں
جنت میں لے جانے
والی بیٹیاں
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ عبداللطیف،جڑانوالہ ہاؤسنگ کالونی
آقا ﷺکی ذات با کمال
نے جس طرح اپنی ذات سے منسلک ہر رشتے کو بے پناہ شفقت و الفت اور محبت سے
نوازا اسی طرح اپنی شہزادیوں کو بھی بےحد شفقت ومحبت سے سرفراز فرمایا۔سیرت النبی
کی بہت سی کتابوں میں آپ کی چار شہزادیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس پر ہی سب کا
اتفاق ہے۔آپ کی شہزادیوں کے نام گرامی درج
ذیل ہیں:
1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
4) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ
آقاﷺکو اپنی تمام
تر شہزادیوں سے بہت محبت تھی مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی تھیں۔آپ
ﷺ کی اپنی شہزادیوں سے محبت کی بہت سی روایات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
مکتبۃ المدینہ کی کتاب سیرتِ مصطفےٰ صفحہ 693 پر ہے کہ ایک
مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ ﷺ کی خدمت میں ایک حُلّہ بطور ہدیہ بھیجا جس کے
ساتھ ایک سونے کی انگوٹھی بھی تھی جس کا
نگینہ حبشی تھا ، آپ نے یہ انگوٹھی اپنی پیاری نواسی حضرت امامہ جو کہ حضرت زینب کی
بیٹی ہے کو عطا فرمائی۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک بہت ہی خوبصورت سونے کا ہار کسی نے
حضور اقدسﷺ کو نذر کیا جس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن حیران رہ گئیں۔آپ ﷺ نے اپنی مقدس بیویوں سے
فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب
ہے۔تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے خیال کیا کہ یہ ہار حضرت بی بی
عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور اقدسﷺ نے حضرت
امامہ رضی اللہ عنہا کو قریب بلایا
اور اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے دست
مبارک سے یہ ہار ڈال دیا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ
عنہا سے آپ ﷺ کی محبت کی بہت سی روایات سے
ثابت ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
اللہ پاک کے آخری
نبی ﷺ کا ارشاد ہے:فاطمہ رضی اللہ عنہا
تمام اہل جنت یا مومنین کی عورتوں کی سردار ہے۔مزید فرمایا:فاطمہ میرے بدن کا ایک
ٹکرا ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیااس نے مجھے ناراض کیا۔
(مشکوۃالمصابیح،2/436،435،حدیث:6139،6138)
ام المومنین حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال،شکل و
شباہت(رنگ روپ)اور بات چیت میں فاطمہ عفیفہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی
کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا اور جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو حضور ﷺ
آپ کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، آپ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ تھام کر ان کو بوسہ دیتے اور اپنی
جگہ پر بٹھاتے۔
(ترمذی،5/466، حدیث:3898ملخصاً)
ایک اور حدیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ حضرت عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:نبی اکرم ﷺ جب سفر کا ارادہ
فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ
عنہا سے ملاقات فرماتے اورجب سفر سے واپس
تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا
سے ملاقات فرماتے۔(مستدرك، 4/ 141،حدیث:4792)
آقا ﷺ نے بیٹیوں کی
فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی
ہے تو اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں:اے گھر والو! تم پر سلامَتی
ہو۔پھر فِرِشتے اُس بچّی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اُس کے سر پر
ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور جان ہے جو ایک کمزور سے پیدا ہوئی ہے ،
جو اِس ناتواں جان کی پرورِش کی ذمّے داری لےقِیامت تک اللہ پاک کی مدد اُس کے
شاملِ حال رہے گی۔(مجمع الزوائد،8/285،حدیث:13484)اللہ پاک ہمیں آقا ﷺکی سنتوں پر عمل کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ فلک شیر،شاھدرہ بہاولپور
محبت ایک ایسا نورانی جذبہ ہے جو انسان کی شخصیت کو روشن
کرتا ہے اور تعلقات میں خوشبو بکھیرتا ہے۔یہ وہ عطیہ ہے جو انسان کو اللہ پاک نے
فطرتاً عطا کیا ہے اور جب اس محبت کو نبی اکرم ﷺ کے مبارک کردار میں دیکھا جائے تو
یہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی محبت ہر رشتے میں مثالی ہے،چاہے وہ
ازواجِ مطہرات ہوں یا شہزادیاں،صحابہ کرام ہوں یا اہلِ بیت۔لیکن خاص طور پر آپ ﷺ کی
اپنی چار شہزادیوں کے ساتھ محبت ایک ایسا باب ہے جو والدین کے لیے رہنمائی کا
سرچشمہ ہے۔
آج کے دور میں جہاں والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے بڑھ
رہے ہیں اور بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جا رہا ہے، وہیں رسول اللہ ﷺ کا اپنی بیٹیوں سے
محبت اور ان کی عزت کا برتاؤ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی شہزادیوں کو نہ
صرف والدین کی محبت کا اعلیٰ نمونہ عطا کیا بلکہ انہیں وہ مرتبہ بھی عطا کیا جو
رہتی دنیا تک قابلِ رشک رہے گا۔نبی اکرم ﷺ کی اپنی بیٹیوں سے محبت صرف ایک جذباتی
وابستگی نہیں تھی بلکہ ایک عملی درس تھا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ
ہے۔
آپ ﷺ کی چار شہزادیاں،حضرت زینب،حضرت رقیہ،حضرت ام کلثوم
اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن نہ صرف آپ
کے دل کا سکون تھیں بلکہ امت کے لیے ایک مثال بھی تھیں۔ان کے ساتھ آپ کی محبت اور
شفقت میں والدین کے لیے یہ درس ہے کہ بیٹیاں نہ صرف عزت و وقار کی علامت ہیں بلکہ
خاندان کا فخر اور رحمت بھی ہیں۔قرآن و حدیث میں اس طرح کے کئی واقعات ملتے ہیں جو
اس بات کا پتا دیتے ہیں کہ بیٹیوں سے محبت کیسے کی جاتی ہے اور ان کو کیسے عزت دی
جاتی ہے۔
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی سب سے بڑی بیٹی
تھیں۔ان کے متعلق احادیث براہِ راست کم ہیں لیکن واقعات آپ ﷺ کی ان سے محبت کو
ظاہر کرتے ہیں۔جیسا کہ
غزوۂ بدر کے بعد جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر
ابو العاص کو رہائی دلوانے کے لیے اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار فدیے
کے طور پر بھیجا تو رسول اللہ ﷺ اس ہار کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے اور صحابہ کرام سے
فرمایا:اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کا ہار واپس کر دو اور ان کے شوہر کو رہا کر دو
تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے بخوشی قبول کیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ
نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا کہ زینب رضی اللہ عنہا کو آپ ﷺ کی طرف بھیج دیں گے۔پھر
رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور ایک انصاری کو بھیجا اور انہیں کہا:تم وادیِ
یاجج کے دامن میں رکنا یہاں تک کہ زینب تمہارے پاس آ جائے تو پھر اسے ساتھ لے کر آ
جانا۔( ابوداود،3/83،حدیث:2692)
2)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا آقا ﷺ کی دوسری شہزادی ہیں۔آپ کا
نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔آقا ﷺ کی ان سے محبت کے متعلق بھی کئی
روایات ملتی ہیں۔جیسا کہ
غزوۂ بدر کے وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں اور
رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو غزوہ میں شریک ہونے کے بجائے حضرت رقیہ
رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کی اجازت دی۔
آپ ﷺ نے فرمایا:عثمان کو بدر میں شریک ہونے والے آدمی جتنا
اجر ملے گا اور مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی۔(ترمذی ،5/394 ،حدیث:3726)
3)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا بھی نکاح حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ ان سے بھی بے حد محبت فرماتے تھے۔حضرت ام
کلثوم رضی اللہ عنہا کے انتقال پر رسول اللہ ﷺ کو بہت دکھ ہوا۔آپ نے ان کی نماز
جنازہ خود پڑھائی اور ان کے لیے دعا فرمائی۔
4)حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی
تھیں اور آپ کو ان سے بے حد محبت تھی۔ان کے متعلق متعدد احادیث موجود ہیں ،جیسا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے
مجھے ناراض کیا۔(مشکاۃ المصابیح،2/436،حدیث:6139) (مسلم، ص1021 ، حدیث:6307)
اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب خاتُونِ جنَّت حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا حُضُور ﷺ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتیں تو آپ ان کیلئے کھڑے ہوجاتے اور ان کا ہاتھ پکڑتے اس پربوسہ دیتے
اور اپنی جگہ ان کو بٹھاتے۔اسی طرح جب حُضُور ﷺ حضرتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ بھی
کھڑی ہوجاتیں اور ہاتھ مُبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ حُضُور ﷺ کو بٹھا لیتیں۔(مشکاۃ
المصابیح، 2/171، حدیث:4689)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمد ایوب عطاریہ،حضرو ضلع اٹک
ہمارے یہاں عام طور پر پیارے آقا ﷺ کی ایک شہزادی شہزادیِ
کونین سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کا ذکرِ خیر کثرت سے ہوتا ہے۔بالکل ہونا
چاہیے کیونکہ آپ اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی،مکی مدنی،محمد عربی ﷺکی لاڈلی
شہزادی ہیں مگر تین اور شہزادیاں بھی ہیں جو اہلِ بیت میں سے ہیں اور پیارے آقا ﷺ
کی سگی بیٹیاں ہیں،ان کے مبارک نام یہ ہیں:حضرت بی بی زینب،حضرت بی بی رقیہ اور
حضرت بی بی ام کلثوم رضی اللہ عنہن۔
پہلی شہزادی:اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت بی بی زینب رضی
اللہ عنہا ہیں(جو بی بی زینب رضی اللہ عنہا کربلا میں تھیں وہ امام حسین رضی اللہ
عنہ کی بہن تھیں اور یہ پیارے آقا ﷺکی شہزادی ہیں)۔حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا
کو مکہ پاک سے مدینہ پاک ہجرت میں بڑی آزمائش پیش آئی، جس کی وجہ سے پیارے آقا ﷺ
نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا:ھِیَ ا فْضَلُ
بناتِی اُصِیبت فِیّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں( اس
اعتبار سے) زیادہ فضیلت والی ہیں کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(شرح
زرقانی علی مواہب لدنیہ،4/318)(مستدرک،2/565، حدیث:2866)
حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی جب وفات شریف ہوئی تو
اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺنے ان کے کفن کےلیے اپنا تہبند شریف عطا فرمایا
اور اپنے بابرکت ہاتھوں سے انہیں قبر میں اُتارا۔( شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ، 4/318)(بخاری
،1/ 425، حدیث:1253)
دوسری شہزادی:اعلانِ نبوت سے سات سال پہلے جب اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺکی عمر شریف33سال
تھی اس وقت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔آپ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں۔(مواہب لدنیہ،1/ 392، 393 ملتقطاً)
غزوۂ بدر کے موقع پر بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا سخت بیمار
تھیں جس وجہ سے اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کی
تیمار داری کے لئے ان کے پاس رکنے کا فرمایا تو آپ رُک گئے۔چونکہ ہمارے پیارے آقا ﷺ
مالک الاحکام بھی ہیں لہٰذا آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غزوۂ بدر کے
شرکا کے برابر ثواب کی خوشخبری سنائی اور مال غنیمت بھی عنایت فرمایا۔جب مسلمانوں
کی فتح کی خبر مدینہ منورہ پہنچی اسی دن حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات شریف
ہوئی۔
اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺ کی پیاری پیاری شہزادی
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا جب وفات پا گئیں تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت روئے
، حضور اکرم ﷺ نے پوچھا:عثمان!کیوں روتے ہو؟ عرض کی:یارسول اللہﷺ!میں حضور کی
دامادی سے محروم ہو گیا ہوں،یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھ سے جبریل امین
علیہ السلام نے عرض کی ہے کہ اللہ پاک کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری صاحبزادی ام
کلثوم کا نکاح تم سے کر دوں ،بشر طیکہ وہی مہر ہو جو رقیہ کا تھا اور تم اس سے وہ
ہی سلوک کرو جو رقیہ سے کیا۔چنانچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت
عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا گیا۔دنیا میں ایسا کوئی نہیں جس کے نکاح میں نبی
کی دو بیٹیاں آئی ہوں،یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت تھی اور اسی وجہ
سے آپ کو ذوالنورین (یعنی دونور والے) کا لقب ملا۔(مرقاۃا لمفاتیح، 10/ 445،تحت الحدیث:6080)(مراۃ
المناجیح، 8 / 405)
میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
نور کی سرکار سے
پایا دو شالا نور کا ہو
مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا
( حدائق بخشش، ص
246)
یعنی اے دونور والے پیارے عثمان غنی!آپ کو بہت بہت مبارک ہو
کہ آپ نے نور والے آقا ﷺ کی بارگاہ سے نور کی دو چادریں (یعنی آپ ﷺ کی دو صاحبزادیاں
اپنے نکاح میں)لینے کا شرف حاصل کیا ہے۔
تیسری شہزادی:ہمارے پیارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ ﷺ کی تیسری شہزادی حضرتِ بی بی ام
کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں۔آپ کنیت کے ساتھ
ہی مشہور ہیں۔حضرت بی بی ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے شعبان 9ھ میں وفات پائی اور
اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔(شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ
4 / 327،325 ملتقطا) اور آپ کا جنت البقیع میں مزار شریف بنا۔
چوتھی شہزادی:حضور پاک ﷺ کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرت بی بی
فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ہیں۔آپ کا نام مبارک فاطمہ جبکہ زہرا اور بتول آپ کے القابات ہیں۔حدیثِ پاک میں ہے:میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئےرکھا گیا ہے کیونکہ اللہ
پاک نے اس کو اور اس کے محبّین کو دوزخ سے آزاد کیا ہے۔(سیرت مصطفےٰ، ص 697 )( کنز
العمال، جز:6،12 / 50، حدیث:34222)
سیدہ خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے
مبارک بدن سے جنت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور ﷺ سونگھا کرتے تھے۔اس لئے آپ کا لقب
زہرا ہوا۔(مراۃ المناجیح،8/453)(مبسوط للسرخی،155/10)
بتول و فاطمہ ،
زہر القب اس واسطے پایا کہ
دنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنت کی نگہت کا
(دیوان سالک، ص
90)
اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:فَاطِمۃُ بِضْعَۃٌ مِّنِّي فَمَنْ أَغْضَبَہا أغضَبَنِی یعنی فاطمہ میرا
ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ ایک اور روایت میں ہے:يُرِیبُنى مَا ارَابَہا وَيُؤْذِينِي مَا اٰذاھا یعنی جو چیز انہیں پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور
جو انہیں تکلیف دے وہ مجھے ستاتا ہے۔(مشکاۃ
المصابیح،2/436،حدیث:6139) (مسلم، ص1021 ، حدیث:6307)
سیدہ زاہرہ طیبہ
طاہرہ جانِ احمد کی
راحت پہ لاکھوں سلام
اولاد
کی تربیت والدین کی اولین ذمہ داری ہے اس تربیت میں ذرا سی بھی کوتاہی والدین اور
اولاد دونوں کو معاشرے میں ناکام اور شرمندہ کر سکتی ہے اس کے لیے والدین کو چاہیے
کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت ہر طرح بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں بچوں کی تربیت
اور علم و ہنر سکھانا کم عمر یعنی پانچ سال یا چار سال سے ہی شروع کر دیا جائے
ورنہ بعد میں پڑھانا اور ان کی تربیت کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے لیے چند تجاویز:
حقوق سے آگاہی: سب سے پہلے بچوں کو ان کے حقوق کے
بارے میں آگاہی ہونا ضروری ہے کہ اسلام نے ان پر کیا حقوق فرض کیے ہیں مثلا والدین
کے حقوق، اساتذہ کے حقوق، پڑوسی کے حقوق وغیرہ، یعنی بچوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے
کہ انہیں اپنے والدین اور دیگر گھرکےافراد سے کس طرح پیش آنا ہے، ان کا کہنا ماننا
ہے، ان کی عزت کرنی ہے اور ان سے احترام سے پیش آنا ہے،پڑوسیوں اور دوستوں کے ساتھ
محبت، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ رکھنا ہے، ان کے کام آنا، ان کا خیال رکھنا ضروری
ہے ہمارا مذہب ہم سے ان تمام حقوق کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے۔
بچوں کی مصروفیات: والدین کو بچوں کی مصروفیات کی کڑی
نگرانی کرنی چاہیے کہ وہ کن مشاغل میں مصروف ہیں آج کل سوشل میڈیا کے دور میں یہ
بہت ضروری ہے کیونکہ آج کل سوشل میڈیا پر جس طرح کا مواد میسر ہے وہ بچوں کے اخلاق
اور کردار کو تباہ کر سکتا ہے لہذا بچوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال سے حتی
الامکان دور رکھنے کی کوشش کریں اور اگر استعمال کر رہے ہیں تو نگرانی کریں کہ وہ
کس طرح کی ویڈیو اور گیمز کھیل رہے ہیں اور کتنا وقت صرف کر رہے ہیں۔
بچوں
کو انٹرنیٹ اور موبائل سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب بھی دیں کہ وہ اس کے ذریعے
معلوماتی پروگرام دیکھیں اور اس سے اپنے علم میں اضافہ کریں۔
ساتھ
ہی گھر کے کاموں کی بھی انہیں ان کے لائق ذمہ داریاں سونپتے رہیں انہیں روزمرہ کے
کام سکھائیں،انہیں مختلف کھیلوں میں حصہ لینے کی بھی ترغیب دیں جو ان کی صحت اور
نشونما کے لیے ضروری ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ کھیلوں میں اپنا وقت زیادہ صرف کریں
اور پھر وہ تعلیم سے دور ہو جائیں اس لیے ان کے کھیلنے اور پڑھنے کے اوقات مقرر
کریں۔
انہیں
حالات حاضرہ اور دیگر معلومات بھی دیتے رہیں، ان میں مطالعے کا ذوق بھی پیدا کریں
لیکن اس بات کی نگرانی رکھیں کہ وہ فضول اور رومانوی لٹریچر نہ پڑھیں بلکہ تفسیر
قرآن، حدیث،فقہ، سیرت انبیاء و صحابہ کرام اور اسلامی تاریخ اور دیگر مفید کتب کا
مطالعہ کریں۔
آج کل
مائیں چھوٹے بچوں کو موبائل پر گیم یا کارٹون دیکھنے کےلئے دیتی ہیں تاکہ وہ گھر
کے کام آسانی سے کر سکیں اور بچہ گیم میں مصروف رہے جو کہ ان کے لیے بہت زیادہ
نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور ان کو موبائل استعمال کرنے کی عادت ہو جاتی ہے بلکہ
ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین خود بھی بچوں کے سامنے موبائل کا استعمال کم سے کم
کریں تاکہ بچے بھی اس سے دور رہیں۔
قناعت پسندی: بچوں میں قناعت پسندی کی عادت بھی
ڈالیں تاکہ وہ بے جا خواہشات اور مطالبات نہ کریں کیونکہ اگر ان میں قناعت پسندی
نہیں ہوگی تو وہ بےجا خواہشات کو پورا کرنے کے لیے والدین سے بےجا مطالبات کریں گے،
اگر والدین اس کو پورا کرنے میں ناکام ہوں تو وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے
ناجائز راستے اختیار کریں گے لہذا انہیں شروع سے ہی اپنے حد سے تجاوز نہ کرنے دیں
اور بچوں کوحرص کی عادت سے بچائیں۔
جھوٹ سے نفرت: بچے جب اپنے بڑوں کو جھوٹ بولتے دیکھتے
ہیں تو وہ بھی جھوٹ کے عادی ہو جاتے ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی اس عادت سے
بچیں اور بچوں کو بھی منع کریں کہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی لعنت
فرمائی ہے۔ بچوں کو سمجھائیں کہ تم سے جتنی بھی بڑی غلطی ہو جائے ہمیشہ سچ بولو۔
سچ بولنے پر یا اس کی غلطی مان لینے پر اس کو سزا نہ دی جائے اگر سچ بولنے اور
اپنی غلطی مان لینے پر بچوں کو سزا دی جائے گی تو پھر سزا سے بچنے کے لیےبچے جھوٹ
بولنا شروع کر دیتے ہیں۔
بچوں کے ساتھ وقت گزاریں: والدین کو چاہیے کہ دن میں کسی
بھی وقت یا سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں اور ان سے ان کی دلچسپی کے
معاملات پر بات کریں تاکہ والدین کو اندازہ ہو کہ بچے کس زاویے سے سوچتے ہیں اور
ان کے ذہن میں کیا خیالات ہیں اگر منفی خیالات ہیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں
اور اگر ان کے خیالات مثبت ہیں تو اس کو اجاگر کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی
جائے۔
دینی ماحول: بچوں کی بہترین تربیت کے لیے گھر میں
دینی ماحول ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ بچے وہی کرتے ہیں جو اپنے گھر کے ماحول سے
سیکھتے ہیں لہذا والدین کو چاہیے کہ خود بھی نماز پڑھیں اور بچوں کو بھی نماز اور
قرآن پڑھنے کی تاکید کریں بچوں کو جن، بھوت، پریوں کی کہانیاں سنانے کے بجائے
اسلامی واقعات، انبیاء علیہم السلام کے قصے، صحابہ کرام کے قصے، حضور ﷺ کی سیرت
پاک کے واقعات سنائیں ان کے دل میں دین سے محبت کا جذبہ پیدا کریں، ہفتے یا مہینے
میں ایک بار قرآن کی کسی آیت (جس میں احکامات ہیں) کا ترجمہ اور تفسیر سنائیں جس
پر عمل کرنے کی انہیں ترغیب دیں۔
یہ
قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی اصلاح کی چند تدابیر ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں
توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اللہ اور اس کے رسول کے
بتائے ہوئے طریقے پر اپنی بچوں کی تربیت کریں اور ان کو دین کا داعی اور مجاہد
بنائیں ان تمام کوششوں کے باوجود جو کوتاہیاں اور کمی بیشی ہم سے ہو جائے اللہ
تعالی اس کو پورا فرمائے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ہدایت اللہ،فیضان
عائشہ صدیقہ نندپور سیالکوٹ
اولاد
اللہ کی بہت ہی عظیم نعمت ہے اپنی اولاد ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے یہ کوئی انوکھی
بات نہیں بلکہ فطرت نے یہ جذبات رکھے ہیں ہم اپنے اولاد سے محبت کا دعوی بھی کرتے
ہیں اپنے کردار سے اور اپنے اپنے اندر میں اس محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں اپنے بچے
کو احساس دلائیں کہ اپ اس سے پیار کرتے ہیں اور حق بات پر اس کی حمایت کرتے رہیں
چاہے کچھ بھی ہو یہ طریقہ ایک محفوظ بنیاد بناتا ہے جہاں وہ اعتماد کے ساتھ دنیا
میں قدم رکھ سکتا ہے اپنے بچے میں پختگی پیدا نہ کرنے کرنے کے لیے اس کی عمر کے
اعتبار سے اسے مہم جو بنائے اور اس سے کچھ مشکل ٹاسک دے دیں اپنے بچوں کو کی حوصلہ
افزائی کریں اپنے بچوں کو ان کے جذبات کو موثر طریقے سے سمجھنے اور انہیں بہتر
انداز میں پیش کرنے میں مدد کریں۔
اپنے
بچوں کو نئے نئے جذبات اور طریقے متعارف کروائیں بچوں سے ایسی کتابیں پڑھائیں جو
چیلنج پر قابو پانے اور خوف کا سامنا کرنے پر زور دیتی ہے اس لیے خود اعتمادی پیدا
کرنے کا احساس ملتا ہے اپنے بچے کو عمر کے مطابق فیصلے کرنے اور ذمہ داری لینے دیں
اپنے بچوں کو جسمانی سرگرمی اور کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں ایک مثبت اور
معاون گھریلو ماحول بنائیں۔ ذرا تصور کیجئے قیامت قائم ہو چکی ہے حضرت آدم علیہ
السلام سے لے کر آخر تک کے تمام لوگ میدان محشر میں جمع ہیں لوگوں کا حساب کتاب ہو
رہا ہے پھر لوگوں کے اس مجمع میں جہاں نیک بد کافی لوگ مسلم سب جمع ہیں وہاں آپ کے
سر پر چمکتا دمکتا تاج رکھا جاتا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی (ابو
داود، 2/ 100، حدیث: 1453)
اس
وقت آپ کیسا محسوس کریں گے؟ یقینا آپ کی خوشی کی انتہا نہیں ہوگی جس وقت ہر شخص کو
اپنے حساب و کتاب کی فکر ہوگی اس وقت آپ کا یہ اکرام انتہائی خوشگوار ہوگا۔
ہم
میں سے ہر ایک یہ چاہے گا کہ قیامت والے دن ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل ہو قیامت والے
دن ہمارا بھی اکرام ہو ہماری بھی بخشش ہو ہمیں بھی یہ سعادت حاصل ہو سکتی ہے ہمارے
سروں پر بھی یہ عالی شان تاج رکھا جا سکتا ہے اس اس کے لیے ہمیں اس ایک کام کرنا
ہوگا اپنا اور اپنی اولاد کا بالخصوص قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔
ان کے
دلوں میں قرآن کی محبت داخل کرنا ہوگی ان کو قرآن پڑھنے والا اور اس پر عمل کرنے
والا بنانا ہوگا۔ اللہ پاک کی رحمت سے ہم بھی اس اعزاز و اکرام کے اہل ہوں گے ہم
بھی اپنی اولاد کا قرآن سے تعارف تعلق جوڑ سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں اپنی اولاد کے
دل قرآن سے جوڑنے کی کوشش کرنی پڑے گی اس بارے میں ایک نکات ملاحظہ فرمائیں۔
یہ
بات یقینی ہے کہ بچہ والدین کو دیکھ کر زیادہ سیکھتا ہے لہذا اپنے والدین خود اپنا
تعلق قرآن سے مضبوط کریں تلاوت قرآن کی حالت منائیں قرآن پاک کا ترجمہ تفسیر کا
مطالعہ کریں اور اس کے احکام پر عمل کی کوشش کریں جب بچے اپ کو یہ کام کرتا دیکھیں
گے تو یہ ان کا قرآن سے محبت کا پہلا علمی سبق ہے۔
ہماری
اولاد ہمارا سرمایہ ہے مگر اس ہم اس کی تربیت ترتیب کے حوالے سے کمزور ہیں ہمیں
اپنی اولاد کو نیک اور ایک بہترین انسان بنانا چاہتے ہیں ہمیں اپنے لاد کو نمازی
اور پرہیزگار باادب بنانا چاہتے ہیں جو کہ بچہ والدین کی ترتیب ترتیب بنتا ہے۔
اولاد کو سدھارنے کے اسباب: والدین کو چاہیے کہ اولاد کو
بچپن میں ہی برے کاموں سے روکے، ان کو اچھی صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرے، انہیں
نماز کا حکم دے، ان کو دینی کتب کا مطالعہ کا ذہن دیں، ان کو قرآن پاک کی تلاوت کی
ترکیب دیں، اولاد کے دل میں خوف خدا پیدا کریں، گھر ان کو مدنی چینل لگا کر دیں، موبائل
کے غیر ضروری استعمال سے منع کریں، اچھے کام کرنے پر حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ
حوصلہ شکنی کریں، انہیں صاف ستھرا لباس پہنائیں، اور صفائی کا خاص خیال رکھنے کی
تلقین کریں، اور گھر کے چھوٹے بچوں کو موبائل فون پر طرح طرح کیک کارٹونز دیکھنے
کے بجائے مدنی چینل لگا کر دیں، اور انہیں بڑوں کی عزت کرنے کی ترتیب دیں، ان کو
سادگی اختیار کرنے کا کہیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد طیب،فیضان عائشہ
صدیقہ نندپور سیالکوٹ
بچوں
کی تربیت کب شروع کی جائے؟ والدین کی ایک تعداد ہے جو اس انتظار میں رہتی ہے۔ کہ ابھی
تو بچہ چھوٹا ہے جو چاہے کرے، تھوڑا بڑا ہو جائے تو اس کی اخلاقی تربیت شروع کریں
گے۔ ایسے والدین کو چاہیے کر بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں
کیونکہ اس کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں
اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ پائیدار عمارت مضبوط بنیاد پر ہی تعمیر کی جاسکتی ہے۔
جو بچی بچہ اپنے بچپن میں سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں رسخ رہتا ہے
کیونکہ بچے کا دماغ مثل موم ہوتا ہے۔ اسے جسں سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھالا جا
سکتا ہے۔ اولاد کے بگڑنے کا ذمہ دار کون۔
عموماً
دیکھا گیا ہے کر بگڑی ہوئی اولاد کے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر
کے خود کو بری الزمہ سمجھتے ہیں مگر یاد رکھئے اولاد کی تربیت صرف ماں یا محض باپ
کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے اللہ تعالی ارشاد فرمایا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ
قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور
اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
جب
نبی اکرم نور مجسم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے سامنے
تلاوت کی تو وہ یوں عرض گزار ہوئے: یا رسول الله ﷺ ہم اپنے اہل و عیال کو آتش جہنم
سے کسی طرح بچا سکتے ہیں؟ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو
ان چیزوں کا حکم دو جو اللہ کو محبوب ہیں اور ان کاموں سے روکو جو رب تعالیٰ کو
ناپسند ہیں۔ (در منثور، 8/225)
حضور
پاک ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت
افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ بادشاہ نگران ہے۔ اس سے اس کی رعایا کے بارے میں
پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہل و عیال کا نگران ہے اس اہل و عیال کے بارے میں پوچھا
جائے گا عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد کی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا
جائے گا۔ (بخاری، 2/159، حدیث: 2554)
حسن اخلاق: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو ہر ایک سے حسن
اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی ترغیب دیں کہ اس میں بہت سی دنیوی و اخروی سعادتیں
پوشیدہ ہیں جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پر نور ﷺ نے
فرمایا: حسن اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے۔ جس طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی
ہے۔
سرکار
مدینہ قرار قلب و سینہ ﷺ نے فرمایا: میزان عمل میں کوئی عمل حسن اخلاق سے بڑھ کر
نہیں۔ (الادب المفرد، ص 91، حديث: 273)
ذوق عبادت: والدین کو چاہیے کہ اوائل ہی سے اپنی اولاد کے دل
میں عبادت کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کریں کبھی انہیں تلاوت قرآن کے فضائل بتائیں
تو کبھی تہجد نماز کے۔ کبھی روزے کی فضیلت بتائیں تو کبھی باجماعت نماز کی۔ قناعت:۔
اپنی
اولاد کو قناعت کی تعلیم دیجئے کہ رب تعالیٰ کی طرف سے جو مل جائے اسی پر راضی ہو
جائیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قناعت کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہے۔ ( کتاب الزهد الکبیر، ص 88، حدیث: 154)
Dawateislami