فون نمر۔03270075368

بعض گناہوں کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جیسا کہ قتل کرنا، حرام کھانا، جھوٹ بولنا وغیرہ اور بعض گناہ ایسے ہیں کہ جن کا تعلق باطن سے ہوتا ہے اور ان میں سے ایک گناہ بغض و کینہ بھی ہے کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کے لیے دل میں نفرت رکھنا۔ آئیے بغض و کینہ کی مذمت میں چند احادیث کا مطالعہ کرتے ہیں:

(1) حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:3 ، حدیث نمبر:235)

( 2) صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: آپس میں نہ حسد کرو، نہ بغض کرو، نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اﷲ (عزوجل) کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو۔ ( صحیح البخاری ‘‘ ،کتاب الأدب، باب یایھا الذین اٰمنوا اجتنبوا ۔۔۔ إلخ ،الحدیث: 6066 ،ج 4 ،ص 117۔2)

(3 ) حضرت زبیر سے مروی ہے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

( 4) حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)

(5) رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: الْمُؤْمِنُ لَيسَ بِحقُود یعنی مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔ (الزواجر عن اقتراف الكبائر، الكبيرة الثالثۃ الغضب بالباطل الخ ، 1/ 124)

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ اللہ عزوجل ہمیں اپنے مسلمان بھائی سے محبت کرنے اور اپنے دل میں کسی کا بغض و کینہ نہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن ﷺ 


فون نمبر:03044479208

اللہ پاک،قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)

انسانی معاشرت کا حسن، باہمی محبت، الفت اور خیر خواہی میں مضمر ہے۔ جب یہ خوبصورت رشتے بغض و کینہ کی بدصورتی کا شکار ہوتے ہیں تو نہ صرف معاشرہ بلکہ انفرادی زندگی بھی تاریک ہو جاتی ہے۔ بغض و کینہ درحقیقت ایک ایسی روحانی بیماری ہے جو دلوں کو زہر آلود کر دیتی ہے، رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتی ہے اور انسان کو نیکیوں سے دور کر دیتی ہے۔ یہ وہ منفی جذبات ہیں جو شیطان کے ہتھکنڈوں میں سے ہیں، جن کا مقصد انسان کو تباہی کی طرف دھکیلنا ہے۔ اسلام نے ان مہلک بیماریوں سے بچنے کی پرزور تلقین کی ہے اور ان کے نقصانات کو واضح طور پر بیان کیا ہے۔ آئیے بغض و کینہ کے متعلق چند احادیث مبارکہ پڑھیے:

دل کی پاکیزگی ایمان کا درجہ: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ:لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ(صحيح البخاري،كتاب الأدب،باب الھجرہ،حدیث: 6077)ترجمہ: حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ اپنے کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ کے لیے ملاقات چھوڑے، اس طرح کہ جب دونوں کا سامنا ہو جائے تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے۔

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام قطع تعلق کو پسند نہیں کرتا۔ سلام میں پہل کرنا بغض کے زہر کا علاج ہے۔ جو شخص پہل کرتا ہے، وہ دراصل دل کی صفائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

باہمی تعلقات کی خرابی: عَنْ اَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ ﷺ، قَالَ: لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَقَاطَعُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحيح مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6530) ترجمہ:حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا:ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے قطع تعلق نہ کرو اور اللہ کے بندے (ایک دوسرے کے) بھائی بن کر رہو۔

اس حدیث میں نبی اکرم ﷺ نے واضح طور پر بغض، حسد اور قطع تعلق سے منع فرمایا ہے اور مسلمانوں کو اخوت و بھائی چارے کی تلقین کی ہے۔ بغض کی وجہ سے ہی حسد اور روٹھنے جیسے منفی رویے جنم لیتے ہیں جو معاشرتی تعلقات کو تباہ کر دیتے ہیں۔

بہترین انسان کون؟: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ،قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ ، فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ ، قَالَ هُوَ التَّقِيُّ النَّقِيُّ ، لَا إِثْمَ فِيهِ ، وَلَا بَغْيَ ، وَلَا غِلَّ، وَلَا حَسَدَ (سنن ابن ماجہ،كتاب الزهد،حدیث: 4216)

ترجمہ:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ ﷺ نے فرمایا: ” مخموم القلب اور زبان کا سچا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: زبان کے سچے کو تو ہم سمجھتے ہیں، مخموم القلب کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پرہیزگار، صاف دل جس میں کوئی گناہ نہ ہو، نہ بغاوت، نہ کینہ اور نہ حسد۔

کینہ رکھنے کی ممانعت: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ، قَالَ: تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا(صحيح مسلم،كتاب البر والصلۃ والآداب،حدیث: 6544)

ترجمہ:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، اس بندے کے سوا جس کا اپنے بھائی کے ساتھ بغض ہو، چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتیٰ کہ یہ صلح کر لیں۔

دل کی صفائی ایمان کی علامت اور جنت کی کنجی ہے۔ جو شخص اپنے بھائی کے لیے خیر چاہتا ہے، اللہ اس کے لیے خیر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ بغض و کینہ چھوڑ کر محبت، معافی اور خیر خواہی اختیار کرنا ہی ایمان کی روح ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں دلوں کو نفرت سے پاک رکھنے، دوسروں کو معاف کرنے، اور محبت و اخوت کا پیکر بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔


بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد   الخ، 3/ 223)

قرآن وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

بغض وکینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘

(1) مغفرت سے محروم : امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے، جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ الخ،383/3، حدیث:3835 )

(2) دین کو تباہ کر دیتا ہے : حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا) ہے۔‘‘( موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب مدارة الناس، 545/7، حدیث:149)

(3) بخشش سے محروم : حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1387، الحدیث: 36(2565)

(4) جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا ۔ ( حلیۃ الاولیاء ، 108/8 ، الحدیث: 11536)

(5) بھائی بھائی ہو جاؤ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو ، آپس میں بغض و عداوت نہ رکھو ، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ کے بندو ! بھائی بھائی ہو جاؤ ۔ ( صحیح البخاری ، کتاب الادب ، 117/4، الحدیث : 6066)

اللہ تعالی ہمیں اس بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

(1): اسی حال میں چھوڑ دیتا ہے: اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ54)

(2): یہ میری سنت ہے: حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175)

(3): منافق ہی بعض رکھے گا: حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ اسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رب اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(4): بھائی بھائی ہوجاؤ: فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(5): بغض نہ رکھنا: حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے ، میں نے عرض کیا : یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی، فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)


اللہ تبارک و تعالی نے انسان کو اپنی کامل حکمت سے پیدا فرمایا اور انسان کی طبیعت میں مختلف طرح کے اوصاف رکھے اچھے بھی اور برے بھی اچھوں کی بنا پر انسان مدح و ستائش کا مستحق ہوتا ہے اور کچھ ایسے اخلاق ذمیمہ بھی ہیں جو انسان کے دنیاوی و اُخروی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں جن میں سے ایک بغض و کینہ بھی ہے، جو مومن کی صفات میں سے نہیں جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:المؤمن ليس بحقود ( احياء العلوم ،مترجم :پرو گریسو بکس مکتبہ :ص / 406) ترجمہ: مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔

کینہ، غصے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں آٹھ باتیں سامنے آتی ہیں:

1: حسد: یعنی تمہارا کینہ تمہیں اس بات پر مجبور کرے کہ تم اس سے زوال نعمت کی تمنا کرو اور اگر اسے نعمت ملے تم اس پر غمگین ہو جاؤ اور اگر کسی گناہ کا مرتکب ہو تو تمہیں خوشی حاصل ہو یہ منافقین کا کام ہے۔

2: دل میں حسد کو چھپانا کہ اس کو پہنچنے والی مصیبت پر خوشی ہو۔

3: اگر وہ شخص تمہیں بلائے اور تمہاری طرف ائے تو تم اس سے تعلق توڑدو۔

4: اس کو تم ذلیل و رسوا سمجھو۔

5: اس کے بارے میں ایسی گفتگو کرنا جو جا ئز نہیں مثلا جھوٹ غیبت راز فاش کرنا اس کے پردہ دری کرنا وغیرہ۔

6: اس کی بات تمسخر کے انداز میں نقل کرنا ۔

7: اسے مارنا یا کسی اور انداز میں جسمانی تکلیف پہنچا نا۔

8: اس کا حق ادا نہ کرنا قرض کی ادائیگی نہ کرنا صلہ رحمی سے پیش نہ آنا اور اس کا حق مارنا کینہ کا سب سے کم درجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا آٹھ آفات سے بچو اور کینہ کی وجہ سے اللہ تعالی کی نافرمانی کے مرتکب نہ ہو جاؤ۔

نیز رسولُ اللہ ﷺ کے فرامین میں اس کی مذمت موجود ہے ، آئیے رسولِ کریم ﷺ کے فرامین سے اپنے دلوں کو اس مہلک بیماری سے پاک کرتے ہیں:

15 شعبان کو مغفرت سے محرومی:

(1) اللہ کے محبوب دانائے و غیوب عزوجل ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر یعنی اپنی قدرت کی شیان شان تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جب کہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔(شعب الايمان، باب فی الصيام، ماجاء فی لیلہ النصف من شعبان،الحديث: ٣٨٣٥،ج٣،ص٣٨٣)

پیر اور جمعرات میں مغفرت سے محرومی: (2) دافع رنج وملال صاحب جود و نوال ﷺ کا فرمان عالیشان ہے : ہر ہفتے ، پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں۔ (الصحيح مسلم،كتاب البروصلۃ،باب النهي عن الشحناء،الحديث: ٦٥٤٧،ص١١٢٧)

جمعرات اور جمعہ کے دن مغفرت سے محرومی:

(3) سید المبلغین رحمت اللعالمین ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی مغفرت کر دی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں آپس میں صلح کر لینے تک مؤخر کر دو۔ (جامع الاحادیث جلد 3 صفحہ 12 حدیث نمبر 6975)

احادیث مبارکہ کی روشنی سے معلوم ہوا کہ بغض و کینہ ایسی مہلک بیماریاں ہیں جو انسان کے اعمال کو برباد کرتی ہیں اور انسان کو بڑے عظمت والے دنوں میں بھی مغفرت سے محروم کر دیتی ہیں۔

اللہ تعالی ہر مسلمان کے دل کو ایسی مہلک بیماریوں سے دائمی شفا نصیب فرمائے۔


بغض و کینہ کے بارے میں حضور نبی کریم ﷺ نے کئی مقامات پر اصلاح فرمائی ہے کہ بغض و کینہ گناہ ہے ، آئیے بغض و کینہ کے بارے میں چند احادیث ملاحظہ کیجیے:

(1) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رضی اللہ عنہ مَا عَنِ النَّبيّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ اَبْغَضَهُ اللهُ ترجمہ : حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے۔(فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(2) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(3) روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)

(4) روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا : یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث نمبر:5998)

(5) روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ تم میں حضرت عیسیٰ کی مثال ہے جن سے یہود نے بغض رکھا حتی کہ ان کی ماں کو تہمت لگائی اور ان سے عیسائیوں نے محبت کی حتی کہ انہیں اس درجہ میں پہنچا دیا جو ان کا نہ تھا پھر فرمایا: میرے بارے میں دو قسم کے لوگ ہلاک ہوں گے: محبت میں افراط کرنے والے مجھے ان صفات سے بڑھائیں گے جو مجھ میں نہیں ہیں اور بغض کرنے والے جن کا بغض اس پر ابھارے گا مجھے بہتان لگائیں گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:، حدیث نمبر:6102)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن و حدیث میں بغض و کینہ کی مذمت کی گئی ہے آئیے چند احادیث مبارکہ بغض و کینہ کی مذمت کے متعلق پڑھیے:

(1) حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔( شرح اربعین نوویہ(اردو)، حدیث نمبر:35 ،اسلامی بھائی چارہ اور مسلمان کی صفات)

(2) حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380 )

(3) روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(4) روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998 )

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ اور دیگر باطنی بیماریوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


نمبر:03274848212

اللہ پاک نے انسان کو عقل و تعمیز اور تصرف کے اختیارات عطا فرمائے اب انسان کو فلاح و کامیابی کے لیے نیک اعمال کی بجا آوری اور ہر طرح کے ظاہری گناہوں اور باطنی گناہوں سے بچنا ضروری ہے۔ باطنی گناہوں میں سے ایک مضموم بیماری بغض و کینہ بھی ہے جس کی کثیر احادیث میں مذمت بیان کی گئی ہے آئیے ہم بھی بغض و کینہ کی مذمت میں پانچ احادیث پڑھتے ہیں اور عمل کی نیت کرتے ہیں:

(1) بغض رکھنے والوں سے بچو : اللہ کے محبوب، دانائے غیوب ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: الله عز جل (ماہ شعبان کی پندرہویں رات کو اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان ) تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فى ليلۃ ۔ ۔ ۔ الخ، ج 3 ص 383، حدیث: 3835 )

(2)بغض دین کو مونڈ دیتا ہے : اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب عزوجل ﷺ نے ارشادفرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بعض دین کو مونڈ ڈالتا یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔ (كنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ، الجزء : 3ج 2، ص 28 حدیث: 5486)

(3)کینہ پروری مسلمان کے دل میں نہیں ہے: حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہے یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی۔(معجم اوسط 3/301حدیث،4653)

(4)حسد اور بغض دین کو مونڈ دیتی ہے : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی ، یہ مونڈ دینے والی ہے، میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (سنن الترمذی ، كتاب صفۃ القيمۃ ، 4/ 228 ، الحديث 2518)

(5)تم لوگ بھائی بھائی بن کر رہو مدینے کے سلطان ، رحمتِ عالمیان ، سرورِ ذیشان ﷺ نے ارشاد فرمایا: لَا تُحَاسِدُوا وَلَا تُبَاغِضُوا وَلَا تُدَابِرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا یعنی آپس میں حسد نہ کرو، آپس میں بغض وعداوت نہ رکھو، پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی برائی بیان نہ کرو اور اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو بھائی بھائی ہو جاؤ۔(صحيح البخاری، كتاب الادب، 4 / 117 ، الحديث : 6066)

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین 


انسانی معاشرے کی بنیاد محبت، بھائی چارے اور باہمی خیرخواہی پر قائم ہے جہاں دلوں میں محبت ہو وہاں ‏امن و سکون کی فضا قائم رہتی ہے، اور جہاں بغض و کینہ کا زہر پھیل جائے، وہاں نفرت، حسد اور ‏دشمنی جنم لیتی ہے۔ بغض و کینہ وہ باطنی بیماری ہے جو نہ صرف فرد کی روح کو کھوکھلا کر دیتی ہے بلکہ ‏پورے معاشرے کو انتشار اور فساد میں مبتلا کر دیتی ہے اسی لئے اسلام نے دلوں کی صفائی اور باہمی محبت ‏کو ایمان کا جز قرار دیا ہے ۔ ‏

کینہ کی تعریف: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کے خلاف بغض رکھے، اس سے غیر شرعی دشمنی اور نفرت ‏کرے، اور یہ کیفیت اس کے دل میں ہمیشہ برقرار رہے۔(احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد ‏والحسد، القول فی معنی الحقد، ج 3، ص 223)‏

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں اس باطنی بیماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(91) ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

یہ آیت اس ‏حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بغض و کینہ اور دشمنی وہ شیطانی ہتھیار ہیں جن سے دلوں میں نفرت اور ‏فاصلے پیدا ہوتے ہیں، اور انسان اللہ کی یاد سے غافل ہو جاتا ہے۔

حضور ﷺ نے فرمایا ہر پیر اور جمعرات کو اللہ عز وجل کی بارگاہ میں اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ تو اللہ ‏تعالیٰ آپس میں بغض رکھنے والوں اور قطعِ رحمی کرنے والوں کے سوا سب کی مغفرت فرما دیتا ‏ہے۔(المعجم الکبیر، حدیث: 409، ج 1، ص 167)

حضور ﷺ نے فرمایا:‏"پیر اور جمعرات کے ‏دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، پس ان دونوں دنوں میں ہر اس بندے کی مغفرت کر ‏دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، مگر دو ایسے مسلمان بھائی جن کے درمیان بغض و عداوت ‏ہو، ان کے بارے میں کہا جاتا ہے: ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔"(سنن ‏ابی داود، کتاب الأدب، باب ہجرت الرجل اخاہ، حدیث: 4916، ص 1583) ‏

بغض و کینہ کا حکم: کسی بھی مسلمان کے متعلق بلاوجہ شرعی اپنے دل میں بغض و کینہ رکھنا ناجائز اور گناہ ہے۔سیدنا ‏عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:حق بات کہنے والے یا عدل و انصاف کرنے والے شخص سے بغض ‏و کینہ رکھنا حرام ہے۔ (الحدیقۃ الندیہ ، ج 1، ص 629‏)

بغض و کینہ رکھنے والے کے بارے میں ایک عبرتناک واقعہ:حضور ﷺ کے چچا ‏حضرت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض ‏کرنے لگے ہم حج کی سعادت حاصل کرنے کے لیے نکلے تھے۔ ہمارے ساتھ ایک شخص بھی تھا۔ جب ‏ہم ذاتُ الصفاح کے مقام پر پہنچے تو اس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اس کے غسل و کفن کا انتظام کیا اور قبر کھود ‏کر دفن کرنے لگے تو اچانک دیکھا کہ قبر سیاہ سانپوں سے بھر گئی ہے۔ ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ ‏قبر کھودنے کی کوشش کی، مگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی سانپوں سے بھر گئی بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر ‏آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ واقعہ سن کر حضرت سیدنا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا‏:“یہ ‏اس کینہ کا نتیجہ ہے جو وہ اپنے دل میں مسلمانوں کے بارے میں رکھا کرتا تھا۔ جاؤ! اسے وہیں دفن کر ‏دو۔‏(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب القبور، ج 2، ص 838)‏

ايمان والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کرنی چاہیے: وَلَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(10) ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر: 10)

حضور ﷺنے فرمایا : بغض رکھنے والوں سے بچو،کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔(کنز ‏العمال ،کتاب الاخلاق ،قسم الاقوال،جزء3، 2/28، رقم الحدیث 5486)‏

اللہ تعالیٰ ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


واٹس ایپ نمبر : 03003498134

بُغض کا مطلب ہے کسی کے لیے دل میں نفرت یا برائی چاہنا، جبکہ کینہ یہ ہے کہ کسی کی بات یا زیادتی کو دل میں چھپا کر نفرت برقرار رکھنا۔

یہ دونوں صفات انسان کے دل کو سخت اور بے سکون بنا دیتی ہیں، اور محبت، خلوص اور ایمان کے نور کو بجھا دیتی ہیں۔ ایسے شخص کے چہرے پر بھی سکون نہیں رہتا کیونکہ دل کے اندر نفرت کا زہر گردش کر رہا ہوتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دل کو پاک رکھو، معاف کرنا سیکھو، اور دوسروں کے لیے بھلائی چاہو یہی ایمان کی اصل روح ہے۔

انسانی زندگی کا سب سے حسین پہلو وہ جذبے ہیں جو دلوں کو جوڑتے اور روحوں میں سکون پیدا کرتے ہیں۔ محبت، اخوت اور ایثار وہ مقدس خوبیاں ہیں جو انسان کو انسانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز کرتی ہیں اور یہی اوصاف کسی معاشرے کو جنت کا نمونہ بنا دیتے ہیں، جہاں ہر دل میں خیرخواہی، ہر نگاہ میں نرمی، اور ہر رشتے میں خلوص و اعتماد پایا جاتا ہے۔

لیکن جب ان پاکیزہ جذبات کی جگہ دلوں میں بغض، حسد، کینہ اور عداوت جیسے زہریلے احساسات جنم لیتے ہیں، تو انسان کا باطن تاریکی میں ڈوب جاتا ہے۔ محبت کے چراغ بجھ جاتے ہیں، رشتے کمزور ہو جاتے ہیں، اور معاشرہ نفرت و بے سکونی کی بھٹّی میں جھونک دیا جاتا ہے۔ دل کا یہ میل نہ صرف انسان کو ربّ کی رحمت سے دُور کر دیتا ہے

آئیے اب ہم رسولِ اکرم ﷺ کے چند مبارک ارشادات پر غور کرتے ہیں جن میں بُغض و کینہ کی مذمت کو واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، تاکہ ہم اپنے دلوں کو حسد، نفرت اور کینہ سے پاک کرکے اللہ اور اس کے بندوں کے قریب ہو سکیں۔

عداوت رکھنے والے کی مغفرت رُک جاتی ہے : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر پیر اور جمعرات کو اعمال پیش کیے جاتے ہیں، اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مغفرت کر دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا، اس شخص کے سوا کہ اس کے اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت اور کینہ ہو، تو (ان کے بارے میں) کہا جاتا ہے: ان دونوں کو رہنے دو یہاں تک کہ یہ آپس میں صلح کر لیں۔(صحیح مسلم، کتاب البر و الصلة و الآداب، حدیث 6546)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ دلوں میں دشمنی اور کینہ رکھنے کی وجہ سے بندہ مغفرت سے محروم رہ جاتا ہے، چاہے وہ بظاہر نیک اعمال ہی کیوں نہ کرتا ہو۔

کینہ رکھنے والے کی گواہی معتبر نہیں ہوتی : حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد و عورت اور اپنے بھائی کے ساتھ کینہ اور بغض رکھنے والے کی گواہی رد فرمائی ہے۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الاقضیہ، حدیث 3600)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والا شخص عدالتِ الٰہی میں معتبر نہیں رہتا۔

نصفِ شعبان کی رات میں کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم : ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ نصف شعبان کی رات دنیا والوں کی طرف نظرِ رحمت فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کو معاف کر دیتا ہے، سوائے شرک کرنے والے، بغض و عداوت اور کینہ رکھنے والے کے۔(سننِ ابنِ ماجہ، کتاب اقامت الصلاۃ والسنۃ، حدیث 1390)

یعنی کینہ رکھنے والا شخص اللہ کی رحمت سے محروم رہ جاتا ہے، گویا یہ صفت انسان اور ربّ کے درمیان حائل یعنی رکاوٹ بن جاتی ہے۔

بغض و کینہ نیکیوں کو ختم کردینے والی بیماریں ہیں : چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سابقہ امتوں کی بیماری تمہاری طرف منتقل ہو گئی ہے حسد اور بغض و عداوت، اور وہ نیکیوں کو زائل کرنے والی ہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ بال مونڈتی ہیں بلکہ وہ دین کو ختم کر دیتی ہیں۔(مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب حدیث 5039)

یعنی جیسے استرا بال صاف کر دیتا ہے، اسی طرح بغض و حسد ایمان اور نیکیوں کو ختم کر دیتے ہیں۔ یہ صفات انسان کے ظاہر کو نہیں بلکہ باطن کو برباد کرتی ہیں۔

چونکہ بغض و کینہ وہ زہر ہے جو انسان کے دل، ایمان اور معاشرے تینوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دل سے کینہ، حسد اور نفرت کو نکال کر خلوص، محبت اور خیرخواہی سے اپنے دل کو روشن کرے، کیونکہ اللہ اُن دلوں کو پسند کرتا ہے جو صاف، نرم اور محبت سے بھرے ہوں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ ہمارے دلوں سے بغض، کینہ اور حسد کو نکال دے، اور ہمیں محبت، خلوص اور خیرخواہی سے بھرپور دل عطا فرمائے اور ہمیں اُن بندوں میں شامل فرمائے کہ جو دوسروں کے لیے آسانی اور رحمت کا ذریعہ بنتے ہیں۔ آمین۔


فون 03262991743

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ بغض و کینہ کی مذمت احادیث کی روشنی میں پڑھیے:

(1): اسی حال میں چھوڑ دیتا ہے: اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔‘‘۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ54)

(2): یہ میری سنت ہے: حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:1 ،حدیث نمبر:175)

(3): منافق ہی بعض رکھے گا: حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رب اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔( فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)

(4): بھائی بھائی ہوجاؤ: حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

(5): بغض نہ رکھنا: حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا: یارسول الله ﷺ میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں! آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی، فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ انسانی اخلاق، معاملات اور باہمی تعلقات کو بھی منظم کرتا ہے۔ دین اسلام محبت، اخوت، رواداری، اور دلوں کی صفائی کا درس دیتا ہے، جبکہ بغض (دشمنی) اور کینہ (دل میں نفرت یا حسد رکھنے) کی سختی سے مذمت کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بغض و کینہ کو نہ صرف گناہ کبیرہ قرار دیا گیا ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی  قرار دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کی مذمت اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالیں گے۔

بغض و کینہ کی تعریف: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے خلاف دشمنی اور نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں دبائے رکھنا اور اس کا بدلہ لینے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو نہ صرف روحانی طور پر تباہ کرتیں ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتی ہیں۔

احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت:

(1) ایمان کی نفی: ہمارے پیارے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی نصیحت کی ہے چنانچہ فرمایا : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ‏‏‏‏‏‏لَاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا ‏‏‏‏‏‏وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے ، تم جنت میں اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لے آؤ اور تم ( کامل ) مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ " (ابن ماجہ ، 4/200 ، حدیث : 3692)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل آپس کی محبت کے بغیر ممکن نہیں اور بغض و کینہ محبت کی ضد ہیں۔

(2) اعمال کی قبولیت کا انکار: حضرت سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہر جمعرات اور سوموار کو تمام اعمال پیش کئے جاتے ہیں تو اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کو بخش دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کرتا سوائے اس آدمی کہ جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دیجئے۔ یہاں تک کہ صلح کر لیں۔‘‘(صحیح مسلم 2/317)

اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والوں کے اعمال بھی لٹکے رہتے ہیں اور مغفرت نہیں ہوتی جب تک وہ آپس میں صلح نہ کریں۔

(3) دل کی صفائی کی ترغیب: "حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں : پیارے آقا ، نور والے مصطفےٰ ﷺ کی پاک بارگاہ میں عرض کیا گیا : اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ یا رسولَ اللہ صلی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! لوگوں میں اَفْضَل کون ہے؟ فرمایا : کُلُّ مَخْمُوْمِ الْقَلْبِ ، صُدُوقُ اللِّسَانِ ہر وہ بندہ جو مَخْمُوْمُ الْقَلْب ہے اور سچّی زبان والا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ ﷺ ! صُدُوْقُ اللِّسَان (یعنی سچّی زبان والا) کسے کہتے ہیں ، یہ تو ہم جانتے ہیں ، مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟ فرمایا : وہ متقی شخص جس پر کوئی گُنَاہ نہ ہو ، اس کے دِل میں نہ سرکشی ہو ، نہ کینہ ہو ، نہ ہی حسد ہو۔" (ابنِ ماجہ ، کتابُ الزُّہد ، جلد : 4 ، صفحہ : 475 ، حدیث : 4216)

یہ حدیث ایک مؤمن کے اعلیٰ اخلاق کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ بغض و کینہ سے پاک دل رکھتا ہے۔

بغض و کینہ کے نقصانات:

1 روحانی نقصان: دل میں بغض و کینہ رکھنے والا انسان ہمیشہ بے سکون رہتا ہے، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا ہے۔

2 معاشرتی فساد: بغض و کینہ معاشرتی رشتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ بھائی بھائی سے، دوست دوست سے دور ہو جاتے ہیں، جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔

3 اعمال کی بربادی: جیسا کہ حدیث میں آیا کہ بغض رکھنے والے کے اعمال معلق ہو جاتے ہیں اور ان کی قبولیت رُک جاتی ہے، جو کہ ایک مؤمن کے لیے بڑا نقصان ہے۔

4 نفسیاتی اثرات: مسلسل بغض رکھنے سے انسان کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے، وہ خوشی محسوس نہیں کر پاتا، اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔

بغض و کینہ سے بچنے کے طریقے:

1 معاف کرنے کی عادت: اس بات کو یاد کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بار بار معاف فرمانے والا ہے، اور اس نے ہمیں بھی معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔

2 دعاؤں میں دل کی صفائی کی درخواست: نبی ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: "اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریا سے پاک فرما۔ الخ"(مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2501)

3 سلام کو عام کرنا: سلام آپسی محبت پیدا کرتا ہے اور دلوں کی دوری کو ختم کرتا ہے۔

4 حسد اور کینہ کے خلاف جہاد: یہ مجاہدہ (نفس کے خلاف جنگ) کرنا ضروری ہے، اور قرآن کی تلاوت، ذکر، اور صحبت صالحین سے اس میں مدد ملتی ہے۔

اسلام ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے جو محبت، رواداری، اور باہمی احترام پر قائم ہو۔ بغض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو نہ صرف فرد کی روحانیت کو تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی زہر آلود کر دیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، ایک دوسرے کو معاف کریں، اور محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض و کینہ سے پاک کر کے ان اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں جن کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی، تاکہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین