محبت ایک ایسا نورانی جذبہ ہے جو انسان کی شخصیت کو روشن کرتا ہے اور تعلقات میں خوشبو بکھیرتا ہے۔یہ وہ عطیہ ہے جو انسان کو اللہ پاک نے فطرتاً عطا کیا ہے اور جب اس محبت کو نبی اکرم ﷺ کے مبارک کردار میں دیکھا جائے تو یہ اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔رسول اللہ ﷺ کی محبت ہر رشتے میں مثالی ہے،چاہے وہ ازواجِ مطہرات ہوں یا شہزادیاں،صحابہ کرام ہوں یا اہلِ بیت۔لیکن خاص طور پر آپ ﷺ کی اپنی چار شہزادیوں کے ساتھ محبت ایک ایسا باب ہے جو والدین کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

آج کے دور میں جہاں والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور بیٹیوں کو بوجھ سمجھا جا رہا ہے، وہیں رسول اللہ ﷺ کا اپنی بیٹیوں سے محبت اور ان کی عزت کا برتاؤ ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی شہزادیوں کو نہ صرف والدین کی محبت کا اعلیٰ نمونہ عطا کیا بلکہ انہیں وہ مرتبہ بھی عطا کیا جو رہتی دنیا تک قابلِ رشک رہے گا۔نبی اکرم ﷺ کی اپنی بیٹیوں سے محبت صرف ایک جذباتی وابستگی نہیں تھی بلکہ ایک عملی درس تھا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

آپ ﷺ کی چار شہزادیاں،حضرت زینب،حضرت رقیہ،حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہن نہ صرف آپ کے دل کا سکون تھیں بلکہ امت کے لیے ایک مثال بھی تھیں۔ان کے ساتھ آپ کی محبت اور شفقت میں والدین کے لیے یہ درس ہے کہ بیٹیاں نہ صرف عزت و وقار کی علامت ہیں بلکہ خاندان کا فخر اور رحمت بھی ہیں۔قرآن و حدیث میں اس طرح کے کئی واقعات ملتے ہیں جو اس بات کا پتا دیتے ہیں کہ بیٹیوں سے محبت کیسے کی جاتی ہے اور ان کو کیسے عزت دی جاتی ہے۔

1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ان کے متعلق احادیث براہِ راست کم ہیں لیکن واقعات آپ ﷺ کی ان سے محبت کو ظاہر کرتے ہیں۔جیسا کہ

غزوۂ بدر کے بعد جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر ابو العاص کو رہائی دلوانے کے لیے اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ہار فدیے کے طور پر بھیجا تو رسول اللہ ﷺ اس ہار کو دیکھ کر آبدیدہ ہوگئے اور صحابہ کرام سے فرمایا:اگر تم مناسب سمجھو تو زینب کا ہار واپس کر دو اور ان کے شوہر کو رہا کر دو تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے بخوشی قبول کیا۔چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ابوالعاص سے یہ عہد لیا کہ زینب رضی اللہ عنہا کو آپ ﷺ کی طرف بھیج دیں گے۔پھر رسول اللہ ﷺ نے حضرت زید بن حارثہ اور ایک انصاری کو بھیجا اور انہیں کہا:تم وادیِ یاجج کے دامن میں رکنا یہاں تک کہ زینب تمہارے پاس آ جائے تو پھر اسے ساتھ لے کر آ جانا۔( ابوداود،3/83،حدیث:2692)

2)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا آقا ﷺ کی دوسری شہزادی ہیں۔آپ کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا۔آقا ﷺ کی ان سے محبت کے متعلق بھی کئی روایات ملتی ہیں۔جیسا کہ

غزوۂ بدر کے وقت حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بیمار تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو غزوہ میں شریک ہونے کے بجائے حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کی تیمارداری کی اجازت دی۔

آپ ﷺ نے فرمایا:عثمان کو بدر میں شریک ہونے والے آدمی جتنا اجر ملے گا اور مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی۔(ترمذی ،5/394 ،حدیث:3726)

3)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا بھی نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ہوا تھا اور رسول اللہ ﷺ ان سے بھی بے حد محبت فرماتے تھے۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے انتقال پر رسول اللہ ﷺ کو بہت دکھ ہوا۔آپ نے ان کی نماز جنازہ خود پڑھائی اور ان کے لیے دعا فرمائی۔

4)حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی سب سے چھوٹی بیٹی تھیں اور آپ کو ان سے بے حد محبت تھی۔ان کے متعلق متعدد احادیث موجود ہیں ،جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔(مشکاۃ المصابیح،2/436،حدیث:6139) (مسلم، ص1021 ، حدیث:6307)

اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:جب خاتُونِ جنَّت حضرت فاطمۃُ الزہرا رضی اللہ عنہا حُضُور ﷺ کی خِدْمَت میں حاضِر ہوتیں تو آپ ان کیلئے کھڑے ہوجاتے اور ان کا ہاتھ پکڑتے اس پربوسہ دیتے اور اپنی جگہ ان کو بٹھاتے۔اسی طرح جب حُضُور ﷺ حضرتِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو آپ بھی کھڑی ہوجاتیں اور ہاتھ مُبارک کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ حُضُور ﷺ کو بٹھا لیتیں۔(مشکاۃ المصابیح، 2/171، حدیث:4689)

لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی اولاد کے ساتھ محبت کریں اور خاص طور پر بیٹیوں سے روگردانی کرنے کے بجائے بیٹوں کے مقابلے میں زیادہ عزت دیں۔اللہ پاک ہمیں بھی آقا ﷺ کے اخلاق کریمہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین بجاہ خاتم النبیینﷺ

ہمارے یہاں عام طور پر پیارے آقا ﷺ کی ایک شہزادی شہزادیِ کونین سیدہ فاطمۃ الزھراء رضی اللہ عنہا کا ذکرِ خیر کثرت سے ہوتا ہے۔بالکل ہونا چاہیے کیونکہ آپ اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی،مکی مدنی،محمد عربی ﷺکی لاڈلی شہزادی ہیں مگر تین اور شہزادیاں بھی ہیں جو اہلِ بیت میں سے ہیں اور پیارے آقا ﷺ کی سگی بیٹیاں ہیں،ان کے مبارک نام یہ ہیں:حضرت بی بی زینب،حضرت بی بی رقیہ اور حضرت بی بی ام کلثوم رضی اللہ عنہن۔

پہلی شہزادی:اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا ہیں(جو بی بی زینب رضی اللہ عنہا کربلا میں تھیں وہ امام حسین رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں اور یہ پیارے آقا ﷺکی شہزادی ہیں)۔حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کو مکہ پاک سے مدینہ پاک ہجرت میں بڑی آزمائش پیش آئی، جس کی وجہ سے پیارے آقا ﷺ نے آپ کے بارے میں ارشاد فرمایا:ھِیَ ا فْضَلُ بناتِی اُصِیبت فِیّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں( اس اعتبار سے) زیادہ فضیلت والی ہیں کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ،4/318)(مستدرک،2/565، حدیث:2866)

حضرت بی بی زینب رضی اللہ عنہا کی جب وفات شریف ہوئی تو اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺنے ان کے کفن کےلیے اپنا تہبند شریف عطا فرمایا اور اپنے بابرکت ہاتھوں سے انہیں قبر میں اُتارا۔( شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ، 4/318)(بخاری ،1/ 425، حدیث:1253)

دوسری شہزادی:اعلانِ نبوت سے سات سال پہلے جب اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺکی عمر شریف33سال تھی اس وقت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں۔آپ مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں۔(مواہب لدنیہ،1/ 392، 393 ملتقطاً)

غزوۂ بدر کے موقع پر بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا سخت بیمار تھیں جس وجہ سے اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کی تیمار داری کے لئے ان کے پاس رکنے کا فرمایا تو آپ رُک گئے۔چونکہ ہمارے پیارے آقا ﷺ مالک الاحکام بھی ہیں لہٰذا آپ ﷺ نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غزوۂ بدر کے شرکا کے برابر ثواب کی خوشخبری سنائی اور مال غنیمت بھی عنایت فرمایا۔جب مسلمانوں کی فتح کی خبر مدینہ منورہ پہنچی اسی دن حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کی وفات شریف ہوئی۔

اللہ پاک کے پیارے پیارے آخری نبی ﷺ کی پیاری پیاری شہزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا جب وفات پا گئیں تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ بہت روئے ، حضور اکرم ﷺ نے پوچھا:عثمان!کیوں روتے ہو؟ عرض کی:یارسول اللہﷺ!میں حضور کی دامادی سے محروم ہو گیا ہوں،یہ سن کر حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:مجھ سے جبریل امین علیہ السلام نے عرض کی ہے کہ اللہ پاک کا حکم ہے کہ میں اپنی دوسری صاحبزادی ام کلثوم کا نکاح تم سے کر دوں ،بشر طیکہ وہی مہر ہو جو رقیہ کا تھا اور تم اس سے وہ ہی سلوک کرو جو رقیہ سے کیا۔چنانچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے کر دیا گیا۔دنیا میں ایسا کوئی نہیں جس کے نکاح میں نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں،یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خصوصیت تھی اور اسی وجہ سے آپ کو ذوالنورین (یعنی دونور والے) کا لقب ملا۔(مرقاۃا لمفاتیح، 10/ 445،تحت الحدیث:6080)(مراۃ المناجیح، 8 / 405)

میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

نور کی سرکار سے پایا دو شالا نور کا ہو مبارک تم کو ذوالنورین جوڑا نور کا

( حدائق بخشش، ص 246)

یعنی اے دونور والے پیارے عثمان غنی!آپ کو بہت بہت مبارک ہو کہ آپ نے نور والے آقا ﷺ کی بارگاہ سے نور کی دو چادریں (یعنی آپ ﷺ کی دو صاحبزادیاں اپنے نکاح میں)لینے کا شرف حاصل کیا ہے۔

تیسری شہزادی:ہمارے پیارے پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ ﷺ کی تیسری شہزادی حضرتِ بی بی ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں۔آپ کنیت کے ساتھ ہی مشہور ہیں۔حضرت بی بی ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے شعبان 9ھ میں وفات پائی اور اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔(شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ 4 / 327،325 ملتقطا) اور آپ کا جنت البقیع میں مزار شریف بنا۔

چوتھی شہزادی:حضور پاک ﷺ کی سب سے چھوٹی مگر سب سے زیادہ پیاری اور لاڈلی شہزادی حضرت بی بی فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا ہیں۔آپ کا نام مبارک فاطمہ جبکہ زہرا اور بتول آپ کے القابات ہیں۔حدیثِ پاک میں ہے:میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئےرکھا گیا ہے کیونکہ اللہ پاک نے اس کو اور اس کے محبّین کو دوزخ سے آزاد کیا ہے۔(سیرت مصطفےٰ، ص 697 )( کنز العمال، جز:6،12 / 50، حدیث:34222)

سیدہ خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے مبارک بدن سے جنت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور ﷺ سونگھا کرتے تھے۔اس لئے آپ کا لقب زہرا ہوا۔(مراۃ المناجیح،8/453)(مبسوط للسرخی،155/10)

بتول و فاطمہ ، زہر القب اس واسطے پایا کہ دنیا میں رہیں اور دیں پتہ جنت کی نگہت کا

(دیوان سالک، ص 90)

اللہ پاک کے پیارے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:فَاطِمۃُ بِضْعَۃٌ مِّنِّي فَمَنْ أَغْضَبَہا أغضَبَنِی یعنی فاطمہ میرا ٹکڑا ہے، جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ ایک اور روایت میں ہے:يُرِیبُنى مَا ارَابَہا وَيُؤْذِينِي مَا اٰذاھا یعنی جو چیز انہیں پریشان کرے وہ مجھے پریشان کرتی ہے اور جو انہیں تکلیف دے وہ مجھے ستاتا ہے۔(مشکاۃ المصابیح،2/436،حدیث:6139) (مسلم، ص1021 ، حدیث:6307)

سیدہ زاہرہ طیبہ طاہرہ جانِ احمد کی راحت پہ لاکھوں سلام

(حدائق بخشش،ص309)

اولاد کی تربیت والدین کی اولین ذمہ داری ہے اس تربیت میں ذرا سی بھی کوتاہی والدین اور اولاد دونوں کو معاشرے میں ناکام اور شرمندہ کر سکتی ہے اس کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت ہر طرح بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کریں بچوں کی تربیت اور علم و ہنر سکھانا کم عمر یعنی پانچ سال یا چار سال سے ہی شروع کر دیا جائے ورنہ بعد میں پڑھانا اور ان کی تربیت کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔

اولاد کو سدھارنے کے لیے چند تجاویز:

حقوق سے آگاہی: سب سے پہلے بچوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہی ہونا ضروری ہے کہ اسلام نے ان پر کیا حقوق فرض کیے ہیں مثلا والدین کے حقوق، اساتذہ کے حقوق، پڑوسی کے حقوق وغیرہ، یعنی بچوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انہیں اپنے والدین اور دیگر گھرکےافراد سے کس طرح پیش آنا ہے، ان کا کہنا ماننا ہے، ان کی عزت کرنی ہے اور ان سے احترام سے پیش آنا ہے،پڑوسیوں اور دوستوں کے ساتھ محبت، ہمدردی اور ایثار کا جذبہ رکھنا ہے، ان کے کام آنا، ان کا خیال رکھنا ضروری ہے ہمارا مذہب ہم سے ان تمام حقوق کی پاسداری کا تقاضا کرتا ہے۔

بچوں کی مصروفیات: والدین کو بچوں کی مصروفیات کی کڑی نگرانی کرنی چاہیے کہ وہ کن مشاغل میں مصروف ہیں آج کل سوشل میڈیا کے دور میں یہ بہت ضروری ہے کیونکہ آج کل سوشل میڈیا پر جس طرح کا مواد میسر ہے وہ بچوں کے اخلاق اور کردار کو تباہ کر سکتا ہے لہذا بچوں کو موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال سے حتی الامکان دور رکھنے کی کوشش کریں اور اگر استعمال کر رہے ہیں تو نگرانی کریں کہ وہ کس طرح کی ویڈیو اور گیمز کھیل رہے ہیں اور کتنا وقت صرف کر رہے ہیں۔

بچوں کو انٹرنیٹ اور موبائل سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب بھی دیں کہ وہ اس کے ذریعے معلوماتی پروگرام دیکھیں اور اس سے اپنے علم میں اضافہ کریں۔

ساتھ ہی گھر کے کاموں کی بھی انہیں ان کے لائق ذمہ داریاں سونپتے رہیں انہیں روزمرہ کے کام سکھائیں،انہیں مختلف کھیلوں میں حصہ لینے کی بھی ترغیب دیں جو ان کی صحت اور نشونما کے لیے ضروری ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ کھیلوں میں اپنا وقت زیادہ صرف کریں اور پھر وہ تعلیم سے دور ہو جائیں اس لیے ان کے کھیلنے اور پڑھنے کے اوقات مقرر کریں۔

انہیں حالات حاضرہ اور دیگر معلومات بھی دیتے رہیں، ان میں مطالعے کا ذوق بھی پیدا کریں لیکن اس بات کی نگرانی رکھیں کہ وہ فضول اور رومانوی لٹریچر نہ پڑھیں بلکہ تفسیر قرآن، حدیث،فقہ، سیرت انبیاء و صحابہ کرام اور اسلامی تاریخ اور دیگر مفید کتب کا مطالعہ کریں۔

آج کل مائیں چھوٹے بچوں کو موبائل پر گیم یا کارٹون دیکھنے کےلئے دیتی ہیں تاکہ وہ گھر کے کام آسانی سے کر سکیں اور بچہ گیم میں مصروف رہے جو کہ ان کے لیے بہت زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور ان کو موبائل استعمال کرنے کی عادت ہو جاتی ہے بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ والدین خود بھی بچوں کے سامنے موبائل کا استعمال کم سے کم کریں تاکہ بچے بھی اس سے دور رہیں۔

قناعت پسندی: بچوں میں قناعت پسندی کی عادت بھی ڈالیں تاکہ وہ بے جا خواہشات اور مطالبات نہ کریں کیونکہ اگر ان میں قناعت پسندی نہیں ہوگی تو وہ بےجا خواہشات کو پورا کرنے کے لیے والدین سے بےجا مطالبات کریں گے، اگر والدین اس کو پورا کرنے میں ناکام ہوں تو وہ اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے ناجائز راستے اختیار کریں گے لہذا انہیں شروع سے ہی اپنے حد سے تجاوز نہ کرنے دیں اور بچوں کوحرص کی عادت سے بچائیں۔

جھوٹ سے نفرت: بچے جب اپنے بڑوں کو جھوٹ بولتے دیکھتے ہیں تو وہ بھی جھوٹ کے عادی ہو جاتے ہیں والدین کو چاہیے کہ وہ خود بھی اس عادت سے بچیں اور بچوں کو بھی منع کریں کہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ تعالیٰ نے اپنی لعنت فرمائی ہے۔ بچوں کو سمجھائیں کہ تم سے جتنی بھی بڑی غلطی ہو جائے ہمیشہ سچ بولو۔ سچ بولنے پر یا اس کی غلطی مان لینے پر اس کو سزا نہ دی جائے اگر سچ بولنے اور اپنی غلطی مان لینے پر بچوں کو سزا دی جائے گی تو پھر سزا سے بچنے کے لیےبچے جھوٹ بولنا شروع کر دیتے ہیں۔

بچوں کے ساتھ وقت گزاریں: والدین کو چاہیے کہ دن میں کسی بھی وقت یا سونے سے پہلے کچھ وقت بچوں کے ساتھ گزاریں اور ان سے ان کی دلچسپی کے معاملات پر بات کریں تاکہ والدین کو اندازہ ہو کہ بچے کس زاویے سے سوچتے ہیں اور ان کے ذہن میں کیا خیالات ہیں اگر منفی خیالات ہیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں اور اگر ان کے خیالات مثبت ہیں تو اس کو اجاگر کرنے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

دینی ماحول: بچوں کی بہترین تربیت کے لیے گھر میں دینی ماحول ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ بچے وہی کرتے ہیں جو اپنے گھر کے ماحول سے سیکھتے ہیں لہذا والدین کو چاہیے کہ خود بھی نماز پڑھیں اور بچوں کو بھی نماز اور قرآن پڑھنے کی تاکید کریں بچوں کو جن، بھوت، پریوں کی کہانیاں سنانے کے بجائے اسلامی واقعات، انبیاء علیہم السلام کے قصے، صحابہ کرام کے قصے، حضور ﷺ کی سیرت پاک کے واقعات سنائیں ان کے دل میں دین سے محبت کا جذبہ پیدا کریں، ہفتے یا مہینے میں ایک بار قرآن کی کسی آیت (جس میں احکامات ہیں) کا ترجمہ اور تفسیر سنائیں جس پر عمل کرنے کی انہیں ترغیب دیں۔

یہ قرآن و سنت کی روشنی میں ان کی اصلاح کی چند تدابیر ہیں دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی بچوں کی تربیت کریں اور ان کو دین کا داعی اور مجاہد بنائیں ان تمام کوششوں کے باوجود جو کوتاہیاں اور کمی بیشی ہم سے ہو جائے اللہ تعالی اس کو پورا فرمائے۔


اولاد اللہ کی بہت ہی عظیم نعمت ہے اپنی اولاد ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے یہ کوئی انوکھی بات نہیں بلکہ فطرت نے یہ جذبات رکھے ہیں ہم اپنے اولاد سے محبت کا دعوی بھی کرتے ہیں اپنے کردار سے اور اپنے اپنے اندر میں اس محبت کا اظہار بھی کرتے ہیں اپنے بچے کو احساس دلائیں کہ اپ اس سے پیار کرتے ہیں اور حق بات پر اس کی حمایت کرتے رہیں چاہے کچھ بھی ہو یہ طریقہ ایک محفوظ بنیاد بناتا ہے جہاں وہ اعتماد کے ساتھ دنیا میں قدم رکھ سکتا ہے اپنے بچے میں پختگی پیدا نہ کرنے کرنے کے لیے اس کی عمر کے اعتبار سے اسے مہم جو بنائے اور اس سے کچھ مشکل ٹاسک دے دیں اپنے بچوں کو کی حوصلہ افزائی کریں اپنے بچوں کو ان کے جذبات کو موثر طریقے سے سمجھنے اور انہیں بہتر انداز میں پیش کرنے میں مدد کریں۔

اپنے بچوں کو نئے نئے جذبات اور طریقے متعارف کروائیں بچوں سے ایسی کتابیں پڑھائیں جو چیلنج پر قابو پانے اور خوف کا سامنا کرنے پر زور دیتی ہے اس لیے خود اعتمادی پیدا کرنے کا احساس ملتا ہے اپنے بچے کو عمر کے مطابق فیصلے کرنے اور ذمہ داری لینے دیں اپنے بچوں کو جسمانی سرگرمی اور کھیلوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں ایک مثبت اور معاون گھریلو ماحول بنائیں۔ ذرا تصور کیجئے قیامت قائم ہو چکی ہے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخر تک کے تمام لوگ میدان محشر میں جمع ہیں لوگوں کا حساب کتاب ہو رہا ہے پھر لوگوں کے اس مجمع میں جہاں نیک بد کافی لوگ مسلم سب جمع ہیں وہاں آپ کے سر پر چمکتا دمکتا تاج رکھا جاتا ہے جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی (ابو داود، 2/ 100، حدیث: 1453)

اس وقت آپ کیسا محسوس کریں گے؟ یقینا آپ کی خوشی کی انتہا نہیں ہوگی جس وقت ہر شخص کو اپنے حساب و کتاب کی فکر ہوگی اس وقت آپ کا یہ اکرام انتہائی خوشگوار ہوگا۔

ہم میں سے ہر ایک یہ چاہے گا کہ قیامت والے دن ہمیں بھی یہ اعزاز حاصل ہو قیامت والے دن ہمارا بھی اکرام ہو ہماری بھی بخشش ہو ہمیں بھی یہ سعادت حاصل ہو سکتی ہے ہمارے سروں پر بھی یہ عالی شان تاج رکھا جا سکتا ہے اس اس کے لیے ہمیں اس ایک کام کرنا ہوگا اپنا اور اپنی اولاد کا بالخصوص قرآن سے تعلق مضبوط کرنا ہوگا۔

ان کے دلوں میں قرآن کی محبت داخل کرنا ہوگی ان کو قرآن پڑھنے والا اور اس پر عمل کرنے والا بنانا ہوگا۔ اللہ پاک کی رحمت سے ہم بھی اس اعزاز و اکرام کے اہل ہوں گے ہم بھی اپنی اولاد کا قرآن سے تعارف تعلق جوڑ سکتے ہیں اس کے لیے ہمیں اپنی اولاد کے دل قرآن سے جوڑنے کی کوشش کرنی پڑے گی اس بارے میں ایک نکات ملاحظہ فرمائیں۔

یہ بات یقینی ہے کہ بچہ والدین کو دیکھ کر زیادہ سیکھتا ہے لہذا اپنے والدین خود اپنا تعلق قرآن سے مضبوط کریں تلاوت قرآن کی حالت منائیں قرآن پاک کا ترجمہ تفسیر کا مطالعہ کریں اور اس کے احکام پر عمل کی کوشش کریں جب بچے اپ کو یہ کام کرتا دیکھیں گے تو یہ ان کا قرآن سے محبت کا پہلا علمی سبق ہے۔

ہماری اولاد ہمارا سرمایہ ہے مگر اس ہم اس کی تربیت ترتیب کے حوالے سے کمزور ہیں ہمیں اپنی اولاد کو نیک اور ایک بہترین انسان بنانا چاہتے ہیں ہمیں اپنے لاد کو نمازی اور پرہیزگار باادب بنانا چاہتے ہیں جو کہ بچہ والدین کی ترتیب ترتیب بنتا ہے۔

اولاد کو سدھارنے کے اسباب: والدین کو چاہیے کہ اولاد کو بچپن میں ہی برے کاموں سے روکے، ان کو اچھی صحبت اختیار کرنے کی تلقین کرے، انہیں نماز کا حکم دے، ان کو دینی کتب کا مطالعہ کا ذہن دیں، ان کو قرآن پاک کی تلاوت کی ترکیب دیں، اولاد کے دل میں خوف خدا پیدا کریں، گھر ان کو مدنی چینل لگا کر دیں، موبائل کے غیر ضروری استعمال سے منع کریں، اچھے کام کرنے پر حوصلہ افزائی کریں، نہ کہ حوصلہ شکنی کریں، انہیں صاف ستھرا لباس پہنائیں، اور صفائی کا خاص خیال رکھنے کی تلقین کریں، اور گھر کے چھوٹے بچوں کو موبائل فون پر طرح طرح کیک کارٹونز دیکھنے کے بجائے مدنی چینل لگا کر دیں، اور انہیں بڑوں کی عزت کرنے کی ترتیب دیں، ان کو سادگی اختیار کرنے کا کہیں۔

میری اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاک آپ سب کو صالح و نیک اولاد عطا فرمائے۔ آمین

بچوں کی تربیت کب شروع کی جائے؟ والدین کی ایک تعداد ہے جو اس انتظار میں رہتی ہے۔ کہ ابھی تو بچہ چھوٹا ہے جو چاہے کرے، تھوڑا بڑا ہو جائے تو اس کی اخلاقی تربیت شروع کریں گے۔ ایسے والدین کو چاہیے کر بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں کیونکہ اس کی زندگی کے ابتدائی سال بقیہ زندگی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ پائیدار عمارت مضبوط بنیاد پر ہی تعمیر کی جاسکتی ہے۔ جو بچی بچہ اپنے بچپن میں سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں رسخ رہتا ہے کیونکہ بچے کا دماغ مثل موم ہوتا ہے۔ اسے جسں سانچے میں ڈھالنا چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے۔ اولاد کے بگڑنے کا ذمہ دار کون۔

عموماً دیکھا گیا ہے کر بگڑی ہوئی اولاد کے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر کے خود کو بری الزمہ سمجھتے ہیں مگر یاد رکھئے اولاد کی تربیت صرف ماں یا محض باپ کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے اللہ تعالی ارشاد فرمایا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

جب نبی اکرم نور مجسم ﷺ نے یہ آیت مبارکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کے سامنے تلاوت کی تو وہ یوں عرض گزار ہوئے: یا رسول الله ﷺ ہم اپنے اہل و عیال کو آتش جہنم سے کسی طرح بچا سکتے ہیں؟ سرکار دوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو ان چیزوں کا حکم دو جو اللہ کو محبوب ہیں اور ان کاموں سے روکو جو رب تعالیٰ کو ناپسند ہیں۔ (در منثور، 8/225)

حضور پاک ﷺ کا فرمان عظمت نشان ہے: تم سب نگران ہو اور تم میں سے ہر ایک سے اس کے ماتحت افراد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ بادشاہ نگران ہے۔ اس سے اس کی رعایا کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے اہل و عیال کا نگران ہے اس اہل و عیال کے بارے میں پوچھا جائے گا عورت اپنے خاوند کے گھر اور اولاد کی نگران ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ (بخاری، 2/159، حدیث: 2554)

حسن اخلاق: والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کو ہر ایک سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی ترغیب دیں کہ اس میں بہت سی دنیوی و اخروی سعادتیں پوشیدہ ہیں جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور پر نور ﷺ نے فرمایا: حسن اخلاق گناہوں کو اس طرح پگھلا دیتا ہے۔ جس طرح دھوپ برف کو پگھلا دیتی ہے۔

سرکار مدینہ قرار قلب و سینہ ﷺ نے فرمایا: میزان عمل میں کوئی عمل حسن اخلاق سے بڑھ کر نہیں۔ (الادب المفرد، ص 91، حديث: 273)

ذوق عبادت: والدین کو چاہیے کہ اوائل ہی سے اپنی اولاد کے دل میں عبادت کا شوق پیدا کرنے کی کوشش کریں کبھی انہیں تلاوت قرآن کے فضائل بتائیں تو کبھی تہجد نماز کے۔ کبھی روزے کی فضیلت بتائیں تو کبھی باجماعت نماز کی۔ قناعت:۔

اپنی اولاد کو قناعت کی تعلیم دیجئے کہ رب تعالیٰ کی طرف سے جو مل جائے اسی پر راضی ہو جائیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا: قناعت کبھی ختم نہ ہونے والا خزانہ ہے۔ ( کتاب الزهد الکبیر، ص 88، حدیث: 154)

خود اعتمادی: وقت بے وقت بچیوں کو ڈانٹتے رہنے سے بچوں کو خود اعتمادی برے طریقے سے مجروح ہوتی ہے والدین سے گزارش ہے کہ بچوں کی غلطی پر انہیں تنبیہ ضرور کریں پھر اتنی سختی نہ کریں کہ وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جائیں خود اعتمادی لیے حصول کے لیے ہر وقت باوضو رہنا بھی بہت مفید ہے۔

بچے کل کے معاشرے ہیں اور آج انہیں اچھی تربیت دینا ہماری ذمہ داری ہے  ایک اچھا انسان اچھی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے نیک اولاد اللہ پاک کا عظیم انعام ہے۔حضرت ابراہیم نے آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کے لیے یوں دعا مانگی۔ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ (پ 13، ابراہیم:40) اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔

یہی وہ نیک اولاد ہے جو دنیا میں اپنے والدین کے لئے راحت جان اور آنکھوں کی ٹھنڈک کاسامان بنتی ہے۔پھر جب یہ والدین دنیا سے گزرجاتے ہیں تویہ سعادت منداولاد اپنے والدین کے لئے بخشش کا سامان بنتی ہے جیساکہ شہنشاہ مدینہ، قرار قلب و سینہ، صاحب معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں آدمی کا درجہ بڑھا دیا جاتا ہے تووہ کہتا ہے: میرے حق میں یہ کس طرح ہوا؟تو جواب ملتا ہے اس لیے کہ تمہارا بیٹا تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہے۔ (ابن ماجہ، 4/185، حدیث: 3660)

قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا: کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)

بچوں میں اچھی عادات کیسے ڈالی جائیں؟ بچے ایک خالی کاغذ کی مانند ہوتے ہیں، جس پر ہم جو لکھتے ہیں، وہی وہ بن جاتے ہیں۔ بچوں میں اچھی عادات ڈالنا نہ صرف ان کی شخصیت کی تعمیر کا پہلا قدم ہے بلکہ ان کی کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں میں اچھی عادات کیسے ڈال سکتے ہیں۔

1۔ اپنی مثال پیش کریں: بچے اپنے والدین کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ اگر آپ خود اچھی عادات پر عمل کریں گے تو آپ کا بچہ بھی آپ کی نقل کرے گا۔ مثلاً اگر آپ خود کتابیں پڑھنے کے شوقین ہیں تو آپ کا بچہ بھی کتابیں پڑھے گا۔

2۔ حوصلہ افزائی کریں: جب آپ کا بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف کریں اور اسے حوصلہ دیں۔ اس سے بچے میں اعتماد بڑھے گا اور وہ اچھے کام کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔

3۔ سزا کی بجائے اصلاح کریں: اگر بچہ کوئی غلطی کرے تو اسے ڈانٹنے کی بجائے اسے سمجھائیں کہ وہ کام کیوں غلط تھا اور اگلی بار اسے کیسے درست کرنا ہے۔

اور اگر کہیں تربیت کے معاملے میں پیار ومحبت سے سمجھانا مؤثر نہ ہورہا ہو اور معاملہ فرائض کا ہو تو وہاں بطور تنبیہ ڈانٹ ڈپٹ کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے،چنانچہ فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں مارو۔

4۔ کھیل کے ذریعے سیکھائیں: بچوں کو سیکھانے کے لیے کھیل کا استعمال کریں۔ اس سے وہ بور نہیں ہوں گے اور نئی چیزیں سیکھنے میں دلچسپی لیں گے۔

5۔ قصے اور کہانیاں سنائیں: بچوں کو اخلاقی کہانیاں سنائیں تاکہ وہ اچھے اور برے میں فرق کر سکیں۔

6۔ مثبت سوچ کو فروغ دیں: بچوں کو ہمیشہ مثبت سوچ رکھنے کے لیے حوصلہ دیں۔ انہیں بتائیں کہ وہ ہر مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔

صبر کریں بچوں میں اچھی عادات ڈالنے میں وقت لگتا ہے۔ آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا اور ہر ناکامی پر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

یاد رکھیں کہ بچوں کی تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اس پر مسلسل توجہ دینی ہوگی۔

آپ کے لیے کچھ اضافی مشورے: بچوں کو خود پر فیصلے کرنے کے مواقع دیں۔ بچوں کو دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے مواقع دیں۔ بچوں کو اپنی رائے ظاہر کرنے کے لیے حوصلہ دیں۔ آپ کے بچے آپ کی سب سے قیمتی نعمت ہیں۔ ان کی پرورش میں وقت اور محبت لگائیں تاکہ وہ ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

اولاد کی اچھی تربیت کرنا اور انہیں اچھا مسلمان بنانا یہ والدین کی خواہش بھی ہوتی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اس خواہش اور ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے بچوں کو شروع سے ہی نبی کریم ﷺ کی پیاری پیاری سیرت پر عمل کرنا سکھائیے کیونکہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہی دنیا وآخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

چنانچہ امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ نور والے آقا ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کی تین خصلتوں پر تربیت کرو: (1) اپنے نبی کریم ﷺ کی محبت۔(2) اہل بیت پاک کی محبت۔(3) تلاوت قرآن۔ بے شک قرآن کی تلاوت کرنے والا انبیاواصفیا کے ساتھ اس روز عرش الہی کے سائے میں ہو گا جس دن عرش الہی کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ (جمع الجوامع، 1/ 126،حدیث: 782 )

اولاد کی اچھی تربیت کرنے کے لیے چند طریقے پیش کیے جاتے ہیں اگر ہر والدین یہ جو طریقے بتائے جانے لگے ہیں اگر اس کے مطابق تربیت کریں گے تو ان شاء اللہ آپ کا بچہ آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔

(1) نماز کا عادی بنانا: بچوں کو نماز کا عادی بنانے کے لیے اس کی اہمیت اس طرح سکھائیے کہ نماز ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ (نسائی،ص 644، حدیث: 3945) اس لیے ہمیں نماز نہیں چھوڑنی چائیے۔

(2)سچ بولنے کا عادی بنانا: جب بچوں کو سچ بولنے کی ترغیب دلائی جائے تو یہ بتائیے کہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ نے کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، اسی لیے آپ کے دشمن بھی آپ کو صادق وامین کہتے تھے۔

(3) دوسرں کو تنگ نہ کرنا: بچوں کو یہ سمجھائیے کہ دوسرں کو تنگ کرنا بری بات ہے کیونکہ پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں( بخاری، 1/15، حدیث: 10)

(4) دوسروں کی مدد کرنا: بچوں کو دوسروں کی مدد کی ترغیب اس طرح دلائیے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے۔

(5) بالوں کا اکرام کرنا: جب آپ بچوں کے بالوں میں کنگھا کریں تو یہ بتائیے کہ ہمارے اچھے اور سچے نبی ﷺ نے فرمایا:جس کے بال ہوں تو وہ ان کا اکرام کرے۔( ابوداؤد، 4/103،حدیث:4163)

(6) قرآن پاک کی تعلیم کا شوق دلانا: بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم کا شوق اس طرح دلائیے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسرں کو سکھائے۔ (بخاری، 3/410، حدیث: 5027)

(7) سلام کرنے کا عادی بنانا: بچوں کو سلام کرنے کا عادی بنائیے اور یہ بھی بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ سلام میں پہل فرماتے تھے۔ (شعب الایمان،2/155،حدیث: 1430)

(8) خوشبو لگانا: جب بچوں کو خوشبوں لگائیں تو نبی کریم ﷺ کی پسند کا ذکر کیجئے کہ نور والے آقا مدینے والے مصطفیٰ ﷺ کو دنیا کی جو چیزیں پسند تھیں ان میں سے ایک خوشبو بھی ہے۔ (نسائی، ص 644، حدیث: 3945)

(9) اخلاقیات کی تعلیم دینا: جب بچوں کو اخلاقیات کی تعلیم دیں تو یہ کہیں کہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ ہمیشہ بڑوں کی عزت کرتے اور چھوٹوں پر شفقت کرتے تھے۔

محترم والدین کرام! یہ جو چند طریقے پیش کیے گئے ہیں یہ کام وہ ہے جو ہمارے گھروں میں صبح شام ہوتے ہیں ہمارے ہاں یہ کام کرتے وقت بعض مائیں بچوں کو برا بھلا کہتی ہیں کبھی تو بددعائیں بھی دے دیتی ہیں یہ غلط انداز ہے بچے کی ابھی سیکھنے اور سمجھنے کی عمر ہے لہذا آپ کے صحن میں ہنستی مسکراتی دل لبھاتی ننھی سی صورت محض ایک بچہ نہیں آئندہ معاشرے کی کامل تصویر ہے انہی بچوں نے اگے چل کر معاشرے کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے لہذا خوب محنت کے ساتھ ایک زندہ قوم کی آبیاری کیجئے عزت دار غیرت مند باشعور اوت ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے بچوں کی اچھی اور احسن طریقے سے تربیت کی جائے کہ ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ عشق رسول ان کی نس نس میں بسا دیجئے ان شاء الله عزوجل یہ دنیا اور آخرت میں سرخ روہوں گے یقین مانیے! عشق رسول ہی وہ قوت ہے جو مسلمان کو کبھی پست یا ناکام نہیں ہونے دیتی۔

اللہ پاک ہمیں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

میری آنے والی نسلیں ترے عشق ہی میں مچلیں انہیں نیک تم بنانا مدنی مدینے والے

تربیت کا درست وقت: ویسے تو تربیت کا تعلق کسی خاص وقت سےنہیں ہوتا، لیکن خاص طور پر بچے کی تربیت بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ بچے کا ذہن کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے اس پر جو بھی لکھا جائے وہ پتھر پرلکیر کا کام دیتا ہے، یعنی ابتداءً ہی جو بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جائے وہ مضبوط ومستحکم ہوجاتی ہے۔لہٰذا والدین کوچاہیے کہ وہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں،اسے بچہ سمجھ کر یا بول کر (Ignore) یعنی نظرانداز نہ کریں۔

بچوں کی تربیت کا انداز کیسا ہو؟ ہمارے پیارے آقاﷺ ہر کام میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے اس لیے بچوں کی تربیت کے معاملے میں حضور پاک ﷺ کا انداز تربیت پیش نظر ہونا چاہیے۔

بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کرکھلائیےاور مثبت انداز سے سمجھائیے: رسول پاک ﷺ بچوں کو اپنے ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے جس سے بچوں کی دلجوئی کے ساتھ ساتھ تربیت کا سامان بھی ہوتاتھا۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ رسول پاک ﷺ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پلیٹ میں کبھی ادھر پڑتا،کبھی ادھر۔رسول پاک ﷺ نے اس انداز سے سمجھایا کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ غلطی پر ٹوکا جارہا ہے یا آداب سکھائے جارہے ہیں،چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: اے بچے! جب کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (بخاری، 3/521، حدیث: 5376)

تربیت کرنے والوں کے لیے اس فرمان میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے کہ ابتداءً ٹوکنے کے بجائے کچھ آداب بیان کرنے کی وجہ سے انداز بھی مثبت رہا اور مقصود بھی حاصل ہوگیا یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے کھانے کا انداز ویسا ہی رہا جیسا آپ ﷺ نے بیان فرمایاتھا۔

بوقت ضرورت ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جائے: رسول پاک ﷺ کی شفقت کو دیکھا جائے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول پاک ﷺ کی خدمت میں گزارے لیکن کبھی بھی انہیں ڈانٹا نہیں گیاجس کی گواہی حضرت انس رضی اللہ عنہ خود دیتے ہیں۔ (مسلم، ص 972، حدیث 2309)

اور اگر کہیں تربیت کے معاملے میں پیار ومحبت سے سمجھانا مؤثر نہ ہورہا ہو اور معاملہ فرائض کا ہو تو وہاں بطور تنبیہ ڈانٹ ڈپٹ کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے،چنانچہ فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں مارو۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 495)

اللہ پاک ہمارے بچوں کی اچھی تربیت کے معاملے میں ہمارے معاون ومددگارپیدا فرمائے،اور انہیں معاشرے کا بہترین فرد بنائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ

بعض اوقات بچوں کی تربیت پر توجہ نہ دینے کے باعث بچے بگڑ جاتے ہیں، اور عموماً دیکھاگیا ہے کہ بگڑی ہوئی اولاد کے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر کے خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں مگر یاد رکھئے اولاد کی تربیت صرف ماں یا محض باپ کی نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

حضرت علی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ: ان (اپنی اولاد)کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ۔

بچے گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ پچپن سے ہی اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں کیونکہ اس کی زندگی ابتدائی سال بقیہ کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں بچہ جو بچپن میں سیکھتا ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی اسے سلام میں پہل کرنے، سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر اسکے ساتھ رہتی ہیں۔

اپنی اولاد کو وہ کچھ سکھائیے کہ جس سے قیامت کے دن آپ کو رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959) حکیم الامت مفتی احمد یار خان رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار، متقی، پر ہیز گار بنانا ہے۔ اولاد کے لئے اس سے اچھا عطیہ کیا ہو سکتا ہے کہ یہ چیز دین و دنیا میں کام آتی ہے۔ ماں باپ کو چاہئے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں بلکہ انہیں دیندار بنا کر جائیں جو خود انہیں بھی قبر میں کام آئے کہ زندہ اولاد کی نیکیوں کا ثواب مردہ کو قبر میں ملتا ہے۔ (مراۃ المناجیح، 6/420) لہذا اپنے بچوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا جائے۔ نماز،روزے کی پابندی کروائی جائے۔

چنانچہ حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بچے کی اچھی تربیت کرو کیونکہ تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کی کیسی تربیت کی اور تم نے اسے کیا سکھایا۔ (شعب الایمان، 6 / 400، حدیث:8662)

بچوں کو ضروری عقائد سکھائیے: والدین کو چاہیے کہ جب ان کی اولاد سن شعور کو پہنچ جائے تو اسے اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، انبیاء کرام علیهم السلام، قیامت اور جنت و دوزخ کے بارے میں بتدریج عقائد سکھائیں۔

حوصلہ افزائی کیجئے: حضرت امام محمد غزالی رحمۃ الله علیہ کیمیائے سعادت میں فرماتے ہیں: جب بچہ اچھا کام کرے اور خوش اخلاق بنے تو اس کی تعریف کریں اور اس کو ایسی چیز دیں جس سے اس کا دل خوش ہو جائے۔ اور اگر ماں بچے کو برا کام کرتے دیکھ لے تو اسے چاہیے کہ تنہائی میں سمجھائے اور بتائے کہ یہ کام برا ہے، اچھے اور نیک بچے ایسا نہیں کرتے۔ (کیمیائے سعادت، رکن سوم، ص 532)

بچوں سے محبت کیجئے: بچوں کی دیر پا تعلیم و تربیت کے لئے ان سے ابتداء ہی سے شفقت و محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ یوں جب ماں کی مامتا اور شفقت پدری کی شیرینی گھول کر تعلیمات اسلام کا مشروب ان کے حلق میں انڈیلا جائے گا تو وہ فوراً اسے ہضم کر لیں گے۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہ روایت کرتی ہیں کہ خاتم المرسلينﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جنت میں ایک گھر ہے جسے الفرح کہا جاتا ہے اس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں کو خوش کرتے ہیں۔ (جامع صغير، ص 140، حدیث: 2321)

اللّہ کی رضا والے کاموں کا حکم دیجیئے: صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کی: یارسول الله ﷺ! ہم اپنے اہل و عیال کو آتش جہنم سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟ سرکار مدینہﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو ان چیزوں کا حکم دو جو اللہ کو محبوب ہیں اور ان کاموں سے رو کو جو رب تعالیٰ کو نا پسند ہیں۔ (در منثور، 8/225)

لہذا اپنے بچوں کو دین سکھائیے باقی سب انہیں دین سکھا دے گا۔

بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے بچے بگڑ جاتے ہیں اور ان کی زندگی پر اور ان کے اخلاق پر اور ان کی فطرت پر بہت برا اور گہرا اثر ہوتا ہے جیسے کہ اگر بچہ کوئی غلطی کرے تو ماں کو بچے کے والد یا کسی بڑے کے سامنے دوسرے بچوں کے سامنے اسے اس کی غلطی نہیں بتانی چاہیے بلکہ اکیلے میں اسے سمجھانا چاہیے تاکہ اس پر برا اثر نہ پڑے اور وہ بات کو سمجھ سکے اور بچوں کے سامنےتو تڑاک سے بات نہ کی جائے ایک دن بچے بڑے ہو کر وہ بھی اپ سے تو تڑاك سے ہی بات کرے گا۔

بچے کو کند ذہنی ہے پڑھائی میں کمزور وغیرہ کہنا اسے مزید کند ذهن بنا سکتے ہیں اسی لیے ایسا کہنے سے اجتناب کیجیے بلکہ اس کی چھوٹی سی چھوٹی کاوش پر بھی اسے بہت زیادہ سراہیے اسے کوئی اس کی پسندیدہ چیز دیجیے تاکہ اس کا اس کام میں دل لگے اس سے بچے کے سدھرنے کے بہت سے امکانات ہیں

کارٹون دیکھنا گندے بچوں کا کام ہے اچھے بچے مکہ شریف اور مدینہ شریف دیکھتے ہیں بچوں کی جتنی فرمائشیں پوری کریں گے اتنی بڑھتی جائیں گی لہذا شروع ہی سے کنٹرول کرنا چاہیے اس سے بچے کم بگڑیں گے بچوں کی شرارت پر والدہ کو چاہیے کہ ڈانٹنے کے بجائے فورا سنجیدہ ہو جائے اور اپنا موڈ آف کر لیں اس سے بچوں پر ایک تاثر رہ گیا جس کی وجہ سے وہ بات کو سمجھ سکیں گے کہ ہمارا برا کام کرنے سے ہمارے والدین کو اذیت ہوتی ہے یا ہمارے والدین ناراض ہوتے ہیں اسی لیے وہ برا کام کرنے سے اجتناب کریں گے جب وہ برا کام نہیں کریں گے تو وہ بگڑیں گے بھی نہیں۔

صحابہ کرام اپنے بچوں کو بہادروں کی تربیت دیا کرتے تھے بھوت پری کی کہانیاں بچوں کو بزدل یعنی ڈرپوک بنا دیتی ہیں اپنے بچوں کو سدھارنے کے لیے اور ان کی بہتر تربیت کرنے کے لیے اور ان کو معاشرے میں عزت دار بنانے کے لیے اور ان کو معاشرے میں اچھی طرح اچھا شہری بنانے کے لیے چھوٹی عمر ہی سے اپنے بچوں کو دینی ماحول کے بارے میں سمجھا دیں ورنہ اگر یہ بڑے ہو گئے تو پھر آپ سمجھا نہیں سکیں گے۔

شروع سے ہی بچوں کو زیادہ کھانے پینے اور اچھے اچھے لباس سے بے رغبت کیا جائے بچوں کو بچپن سے جیب خرچی دینا شروع نہ کریں گھر میں کھانے کی چیزیں بنا کر دیا کریں بچوں سے جھوٹ بولنے والے برے لوگ ہیں ان میں ستارے حماقت تقسیم کرنا چاہیے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے بچوں کے اخلاق تباہ کرتی ہیں۔

بچوں کے سامنے ہرگز جھوٹ نہ بولا جائے اور نہ ہی بری باتیں کی جائیں کہ بچوں کی نیچر پر برا اثر پڑے اور وہ ان باتوں کو اختیار کر کے اپنی زندگی بگاڑ لے اس بات کو دلیل بناتے ہوئے کہ ہمارے بڑے بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے امیر المومنین حضرت علی المرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم مذکور ایت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ان کو تعلیم دو اور ادب سکھاؤ۔

دنیا میں ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یعنی اللہ پاک نے انسانوں کو توحید اور دین اسلام قبول کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور فطری طور پر انسان اس دین سے منہ موڑ سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے کیونکہ یہ دن ہرے اعتبار سے عقل سلیم سے ہم آہنگ اور صحیح سمجھ کے عین مطابق ہے اور جو گمراہ ہوگا وہ جنوں اور انسانوں کے شیاطین کے بہکانے سے گمراہ ہوگا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔

عاشقان رسول بچہ چونکہ خیر و شر دونوں کو قبول کرتا ہے اور اب یہ اس کے والدین پر ہے کہ وہ بچے کو خیر و شر میں سے کس جانب مائل کرتے ہیں لہذا مسلمان ہونے کے ناطے ماں باپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خیر و بھلائی کی طرف رغبت دلائیں اچھے اخلاقی تعلیم دے اور ہر قسم کی اچھی اور برى باتوں کا لحاظ رکھیں۔

چونکہ والدین اور اس کا گھرانہ بچے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے جب بچہ نیا نیا بولنا شروع کرتا ہے اس کو والدین مختلف طریقوں سے نہیں نہیں الفاظات اور نئی نئی باتیں سکھانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح جب بچہ کچھ بولنا شروع کرتا ہے تو اس سے اچھے الفاظ سکھائیے اور بڑے ہونے کے بعد بھی بچے کی وحی عادت رہتی ہے جو اس نے ماں باپ سے سیکھا یہ انہیں کرتے دیکھا لہذا ماں باپ اور سرپرست صاحبان کو چاہیے کہ بچے کو ادھر ادھر باتیں کرنے یا کچھ الٹا اور فضول کام سکھانے کے بجائے اللہ کہنا چاہیے تاکہ اس کے صاف ستھری اور پاکیزہ زبان پر اس کے خالق و مالک کا نام جاری و ساری رہے ان شاء اللہ اس کی برکتیں بچوں اور سکھانے والے دونوں کو نصیب ہوں گے۔

بچوں کے سامنے وہ کام کرے جو آپ ان کو کرتا ہوا دیکھیں اور آپ اگر محسوس کریں اور ان کے سامنے ایسے کام نہ کریں کہ آپ کو کل کو نادم ہونا پڑے اپ کو شرمندگی اس کا سامنا کرنا پڑے اور لوگوں سے آپ کو طعنے سننے پڑے۔ بچوں کو اپنے بڑوں اور چھوٹوں کے آداب سکھائی ہے چاہے وہ اس کے ماں باپ ہو بڑے بہن بھائی ہوں یا ان کہ دادا دادی ہوں سب سے تمیز سے پیش آنا چاہیے۔

اولاد کی تربیت ہر والدین کی اولین ذمہ داری اور دین اسلام کا اہم حصہ ہے۔ بچے والدین کے لیے اللہ کی امانت ہیں اور ان کی صحیح رہنمائی ایک نیک معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہاں چند اہم اصول بیان کیے جا رہے ہیں جو اولاد کی اصلاح اور تربیت میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

سب سے پہلے والدین کو اپنے کردار کو سنوارنے کی ضرورت ہے۔ بچے عموماً اپنے والدین کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)

یہ حدیث اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے جوابدہ ہیں، اس لیے وہ خود نیک عمل اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔

دوسرا اصول یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کریں۔ محبت وہ بنیاد ہے جو بچوں کے دلوں کو والدین کے قریب کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ بچوں سے خاص شفقت فرماتے تھے اور ان کے ساتھ نرم رویہ رکھتے تھے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی اچھائیوں پر ان کی تعریف کریں اور ان کی چھوٹی بڑی کامیابیوں کو سراہیں۔

تیسری بات یہ ہے کہ بچوں کو دین اسلام کی تعلیم دیں۔ ان کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی محبت پیدا کریں اور عبادات کا عادی بنائیں۔ انہیں سچائی، دیانت داری اور انصاف کا درس دیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔

یہ آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کی دینی اور اخلاقی تربیت کرنی چاہیے تاکہ وہ برائیوں سے دور رہ سکیں۔

چوتھا نکتہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے لیے وقت نکالیں۔ ان کے ساتھ وقت گزارنے سے ان کے مسائل کو سمجھنے اور ان کے جذبات کو بہتر طریقے سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ والدین کی توجہ بچوں کو احساس دلاتی ہے کہ وہ ان کے لیے اہم ہیں۔

پانچواں اصول یہ ہے کہ بچوں کی غلطیوں پر سختی سے پیش نہ آئیں بلکہ نرمی اور حکمت سے ان کی اصلاح کریں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہترین ہو۔ (ترمذی، 4/278، حدیث: 2621)

اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرمی اور اچھا رویہ اولاد کی تربیت میں بہت اہم ہے۔

آخر میں دعا کو کبھی نہ بھولیں۔ والدین کی دعائیں بچوں کے لیے ڈھال ہیں۔ اللہ سے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں کہ وہ آپ کی اولاد کو نیک اور صالح بنائے۔

ان تمام اصولوں پر عمل کرنے سے اولاد کی صحیح تربیت ممکن ہے اور وہ دین اور دنیا دونوں میں کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔

حضرت جابر بن سمرہ نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی، 3/382، حدیث: 1958)

اولاد کی اچھی تربیت والدین کا سب سے پہلا فرض عین ہے والدین کو اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر اپنی اولاد کو وقت دینا چاہیے۔

جہاں وہ انکو دنیاوی تعلیم دیتے ہیں وہاں انکو دینی تعلیم پر توجہ دیں اپنی مصروفیات میں کچھ وقت اپنا اپنی اولاد کو دیں تاکہ انکی ذہنی تربیت بھی ہو جب انکو موبائل وغیرہ کا استعمال کرتا دیکھے تو یہ بھی توجہ دیں وہ کیا دیکھ رہا ہے کیا وہ دین سے ہٹ کر تو نہیں کچھ دیکھ رہے کیا وہ جو مناظر یا ویڈیوز دیکھ رہا ہے اس کے اس ویڈیو کی وجہ سے اس کے ذہن پر بڑا اثر تو نہیں پڑ رہا کیا وہ جو دیکھ رہا ہے اس کے اخلاق اور کردار پر تو اثر انداز نہیں ہو رہا ہے وہ جن دوستوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے وہ کوئی غیر مذہب تو نہیں یا وہ اس سے ایسی باتیں یا کام تو نہیں کر دتے جن کا اثر ان کی زبان اور اخلاق پر ہو۔اپنے بچوں کا اچھا سا نام رکھے نام رکھتے وقت پہلے اس معنی ضرور دیکھ لے کیونکہ اچھے ناموں کا اثر اچھا ہوتا ہے اور برے ناموں کا اثر بڑا ہوتا ہے جو کہ تربیت قبول نہیں کریگی ماں یا کسی نیک نمازی عورت سے دو سال تک دودھ پلوائے پاک کمائی سے ان کی پرورش کرے کیونکہ حلال رزق کمانے والوں کی اولاد کی تربیت اچھی ہوتی ہے اور ان کی اولاد کبھی بھی نا فرمان نہیں ہوتی اگر آپ کی کمائی میں ایک تنکہ برابر بھی حلال سے حرام شامل ہوگیا تو وہ اولاد کو بگاڑ دیں گی کیونکہ ناپاک مال نا پاک عادتیں ڈالتا ہے۔

کھیلنے کے لیے اچھی چیز جو شرعاً جائز ہو دیتے رہے بہلانے کے لیے ان سے جھوٹا وعدہ نہ کریں جب کچھ ہوشیار ہو تو کھانے پینے اٹھنے بیٹھتے چلنے پھرنے ماں باپ اور استادو غیرہ کی تعظیم کا طریقہ بتا ئے نیک استاد کے پاس قرآن مجید پڑھائیں اسلام و سنت سکھائے حضور ﷺ کی تعظیم ومحبت ان کے دل میں ڈالے کیونکہ یہی اصل ایمان ہے جب بچہ کی عمر سات سال ہو جائے تو نماز کی تاکید کریں اور جب دس برس کا ہو جائے نماز کیلئے سختی کرے اگر نہ پڑھے تو مار کر پڑھائے وضو غسل اور نماز وغیرہ کے مسائل بتانے دینی تعلیم دینے کیلئے انہیں مدارس اور جامعہ المدینہ میں داخلہ کروائے بری صحبت سے بچائے عشقیہ ناول اور افسانے ہرگز نہ پڑھنے دیں جب جوان ہو جائے نیک شریف النسب لڑکی یا لڑکے سے ان کی شادی کر دے اور ان کو وراثت سے ہرگز نہ محروم کریں اپنی بیٹیوں کو سینا پرونا اور کھانا پکانا سکھائے سورہ نورکی تعلیم دیں اور لکھنا ہر گز نہ سکھائے کہ فتنہ کا احتمال غالب ہے بیٹوں سے زیادہ ان کی دلجوئی کریں۔ نو برس کی عمر میں ان کی خاص نگہداشت شروع کر دے شادی برات میں جہاں ناچ گانا ہو وہاں ہر گز نہ جانے دیں ریڈیو سے بھی گانا بجانا ہر گز نہ سننے دیں۔

حضرت ایوب بن موسیٰ اپنے با پ سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ اولاد کیلئے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے بہتر ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، 2/ 398، حدیث: 1951)