حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمد نواز،فیضان عائشہ صدیقہ مظفر پورہ سیالکوٹ
رحمتوں والے نبی،رسول ہاشمی ﷺ بیٹیوں سے بے انتہا محبت فرماتے تھے،ان کے
ساتھ شفقت سے پیش آتے ، ان سے رحمت اور محبت والا سلوک فرمایا کرتے تھے۔آقا جان ﷺ
اپنی ہر شہزادی سے بہت زیادہ محبت فرماتے تھے۔پیارے آقا جان ﷺ کی چار شہزادیاں ہیں
:
(1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
(2)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
(3)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
(4)حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
پہلی شہزادی:حضرت زینب رضی اللہ عنہا ہیں،آپ حضور ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی ہیں۔آپ کی ولادت
اعلانِ نبوت سے 10سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی۔حضور جان رحمت ﷺ نے آپ کا نام زینب
رکھا ۔
حضور جان رحمت، شفیع امت ﷺ کی حضرت زینب رضی
اللہ عنہا سے محبت:ام المومنین حضرت عائشہ رضی
اللہ عنہا فرماتی ہیں:اہل مکہ نے غزوۂ بدر کے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے فدئیے بھیجے۔ابو
العاص بن ربیع کے فدیے کا مال حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے بھیجا اس میں وہ ہار بھی
تھا جو آپ کی والدہ ام المومنین حضرت خدیجہ
الکبری رضی اللہ عنہا نے آپ کو جہیز میں دیا تھا ،ہار کو دیکھ کر آقا جان ﷺ پر بہت
شدت کی رقت طاری ہوگئی ،چنانچہ صحابہ کرام سے فرمایا: تم لوگوں کی رائے ہو تو زینب
کا قیدی چھوٹ دیا جائے اور اس کی چیزیں اس
کو واپس کر دی جائیں؟صحابہ کرام علیہم
الرضوان نےاس پر سر تسلیم خم کیا یعنی بات مانی اور ابو العاص بن ربیع کو بغیر فدیے
کے بطور احسان رہا کر دیا۔(ابو داود،ص 429 ،حدیث: 2692)
مرقاۃ شرح مشکوۃ میں ہے:اس ہار کو دیکھ کر حضور ﷺ کو اپنی
زوجہ حضرت محترمہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی یاد
آئی تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی غربت وبے کسی کا خیال فرما کر آپ ﷺ پر گریہ طاری
ہوگیا۔ (مرقاۃ المفاتیح، ص 480 ،حدیث:3980)
دوسری شہزادی :حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔آپ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے چھوٹی ہیں۔آپ کی ولادت اعلان نبوت سے سات سال پہلے مکہ مکرمہ
میں ہوئی۔حضور ﷺ کی دیگر شہزادیوں کی طرح حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے بھی بہت زیادہ محبت تھی،ان کو اپنی نگاہ
توجہ میں رکھتے،ان کی خبر گیری فرماتے اور ان کے گھر تحائف وغیرہ بھجوایا کرتے تھے
۔
آقا جان ﷺ کی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے محبت :ایک دن آقا جان ﷺ نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو
رکابی میں گوشت دے کر ان کے ہاں بھیجا، جب یہ واپس آئے تو آپ ﷺ نے ان کے ساتھ حضرت
رقیہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کا ذکر خیریعنی اچھا ذکر کیا۔(معجم کبیر،1/42،حدیث: 95)
تیسری شہزادی:حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں،یہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے چھوٹی ہیں،ان
کی ولادت اعلان نبوت سے پہلے مکہ مکرمہ میں
ہوئی ،آقا جان ﷺ نے اپنی اس شہزادی کا نام مبارک ام کلثوم رکھا۔دیگر شہزادیوں کی
طرح حضور ﷺ حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا سے بے انتہا محبت فرماتے تھے، حضور ﷺ کی
دو شہزادیاں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں،حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے
وصال کے بعد آقا جان ﷺ نے اللہ پاک کے حکم سے اپنی شہزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا
کا نکاح آپ سے فرمایا ۔
چوتھی شہزادی:حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی شہزادی ہیں۔آپ کی
ولادت اعلان نبوت سے ایک سال پہلے مکہ مکرمہ میں ہوئی ،آقا جان ﷺ نے آپ کا نام
مبارک فاطمہ رکھا ۔
حضور رحمت،شفیع امت ﷺ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما
سے محبت :دلبر آمنہ،سر تاج عائشہ،والد فاطمہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:فاطمہ
رضی اللہ عنہا میرے جسم کا حصہ ہے۔جو اسے ناگوار وہ مجھے ناگوار جو اسے پسند مجھے
وہ پسند۔روز قیامت سوائے میرے نسب و سبب اور میرے ازدواجی رشتوں کے تمام نسب منقطع
ہو جائیں۔(مستدرک، 4/ 144،حدیث:4701)
اللہ پاک کے محبوب ﷺ کا ارشاد ہے:فاطمہ رضی اللہ عنہا تمام
جہانوں کی عورتوں اور سب جنتی عورتوں کی سردار ہیں۔مزید فرمایا: فاطمہ میرا ٹکڑاہے
جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(مشکوۃ المصابیح، 2/436،حدیث: 6139)
سیدہ زاہرہ طیبہ
طاہرہ جان احمد کی
راحت پہ لاکھوں سلام
آپ نے پڑھا کہ رسولِ کریم،رؤوف رحیم ﷺ کو اپنی شہزادیوں سے کتنا لگاؤ تھا! حالانکہ دور جاہلیت میں بیٹی پر ظلم کے پہاڑ
توڑے جاتے تھے،انہیں منحوس،بوجھ،ذلت و رسوائی کا سبب سمجھا جاتا اور معاذ
اللہ زندہ درگور کر دیا جاتا تھا۔اس سے
معلوم ہوا کہ سرور کونین ﷺ نے اس جہالت وبریریت کے خلاف صرف تعلیمات ہی نہیں ارشاد
فرمائیں بلکہ عملاً بھی اس کی زبردست کاٹ فرمائی۔اللہ پاک ہمیں بھی آقا جان ﷺ کی سیرت
مبارک پر چلتے ہوئے اپنی بیٹیوں سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ طارق محمود،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
حضور سید المرسلین،خاتم النبیین ﷺ کی اپنی شہزادیوں کے ساتھ
مَحبت اور شفقت ایک ایسی خصوصیت ہے جو آپ کی شخصیت کا ایک اہم حصہ ہے اور آپ کی
اپنی شہزادیوں سے محبت و شفقت اس بات کی نشانی ہے کہ آپ ایک شفیق والد اور انسان ہیں
اور اِس کا ذکر حدیثوں میں بھی کیا گیا ہے۔آپ نہ صرف اپنے اہلِ خانہ بلکہ اپنی
شہزادیوں سے بھی بے پناہ محبت ، احترام اور شفقت فرماتے تھے۔اللہ پاک بھی ان سے کتنی محبت فرماتا
ہے کہ قرآن پاک میں بھی ان کاذکر فرمادیا۔چنانچہ اللہ پاک نے قرآن کریم کے پارہ 22
سورۂ احزاب آیت نمبر 33 میں ارشاد فرمایا:وَ
اَطِعْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗؕ-اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ
الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْرًاۚ(۳۳)(پ22،الاحزاب:33) ترجمہ کنزالایمان:اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اللہ
تو یہی چاہتا ہے اے نبی کے گھر والو!کہ تم سے ہر ناپاکی دور فرما دے اور تمہیں پاک
کرکے خوب ستھرا کردے۔
تفسیر صراط الجنان:یعنی تمام احکامات اور ممنوعات میں اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ کی اطاعت کرو۔ لہٰذا
تم میں سے کسی کی شان کے لائق یہ بات نہیں کہ جس چیز کا اللہ پاک اور اس کے حبیب ﷺ نے حکم
دیا تم ا س کی مخالفت کرو۔(تفسیر صاوی، 5 / 1638)
یعنی اے میرے حبیب کے گھر والو!اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ
گناہوں کی نجاست سے تم آلودہ نہ ہو۔(تفسیر
نسفی، ص940ملخصاً)
امام عبد اللہ بن
احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:ان آیات(یعنی اس آیت اور اس کے بعد والی آیت)میں رسولِ کریم ﷺ کے اہلِ بیت کو نصیحت فرمائی گئی ہے تاکہ وہ گناہوں سے بچیں اور تقویٰ و پرہیزگاری کے پابند رہیں۔یہاں گناہوں کو ناپاکی سے اور پرہیزگاری کو پاکی سے تشبیہ دی
گئی کیونکہ گناہوں کا مُرتکب اُن سے ایسے
ہی مُلَوَّث ہوتا ہے جیسے جسم نجاستوں سے
آلودہ ہوتا ہے اور اس طرزِ کلام سے مقصود یہ ہے کہ عقل رکھنے والوں کو گناہوں سے نفرت دلائی جائے اور تقویٰ و پرہیزگاری کی ترغیب دی جائے۔(تفسیر نسفی، ص941،940)
کیا بات ہے ہمارے آقا ﷺ کے گھرانے کی کہ رب بھی انہیں محبت سے بتا رہا ہے کہ کون سے کام کریں
اور کس کام سے بچیں۔بہت ساری احادیث بھی
کتب میں موجود ہیں کہ جو آپ ﷺ کی اپنی شہزادیوں سے محبت کو بیان کرتی ہیں:
1)حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت:فاطمہ میرے جگر
کا ٹکڑا ہے،جو اِسے رنجیدہ کرتا ہے،وہ مجھے رنجیدہ کرتا ہے۔( بخاری ، 3/471،حدیث:5230)
2) فاطمۃ دنیا کی عورتوں کی سردار ہیں۔(مسلم ،ص1023،حدیث:)
3)جب حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں، تو
نبی کریم ﷺ نے اُٹھ کر انہیں اپنی جگہ پر بٹھایا اور اُن کے ساتھ محبت سے بات کی۔(ابوداود،4/454،
حدیث:5217)
4)فاطمۃ میرے میرے جگر کا ٹکڑا ہے،جو اُسے تکلیف دیتا ہے وہ
مجھے تکلیف دیتا ہے۔(مشکاۃ
المصابیح، 2/436،حدیث:6139) (مسلم، ص1021 ، حدیث:6307)
2)حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا سے محبت:جنگِ بدر کے موقع پر حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا بیمار ہو گئیں
تو آپ ﷺ نے حضرت رُقیہ رضی اللہ عنہا کے شوہر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آپ کی تیمار
داری کا حکم دیا۔بیوی کی تیمار داری کے
باعث جنگِ بدر میں شرکت نہ کرنے کے باوجود بھی آپ ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کومجاہدینِ
بدر میں شمار فرمایا اور مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا اور شرکاءِ بدر کے
برابر اجر کی خوش خبری بھی عطا فرمائی۔( معرفۃ الصحابہ ، 5/141 ماخوذاً )
3)حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے محبت:حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کے وقت حضرت محمد ﷺ نے بڑی
غمگینی اور محبت کے ساتھ فرمایا:میرے لئے تم سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو تم میں سے
میری طرف سب سے زیادہ قریب ہو اور آپ کی محبوب بیٹی زینب ہے۔(مسلم ، حدیث:2449 )
4)حضرت
اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا سے محبت:حضرت انس رضی اللہ
عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں
فرمایا: جس نے میری بیٹی کو عزت دی اُس نے مجھے عزت دی۔( ابنِ ماجہ ،حدیث:144 )
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ ریاض،فیضان ام عطار گلبہار سیالکوٹ
الحمدللہ !اسلام نے بیٹی کو عظمت بخشی اور اس کا وقار بلند
کیا ہے۔مسلمان اللہ پاک کا عاجز بندہ اور
اس کے احکام کا پابند ہوتا ہے۔بیٹا ملے یا بیٹی یا بے اولاد رہے ہر حال میں اسے
راضی برضا رہنا چاہیے۔اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو 4 بیٹیاں عطا کیں جن کا
مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔
پہلی
شہزادی :اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی حضرت
بی بی زینب رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت بی
بی زینب رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کی محبت :حضرت بی بی
زینب رضی اللہ عنہا کی جب وفات شریف ہوئی تو اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی ﷺ نے
ان کے کفن کے لیے اپنا تہبند شریف عطا فرمایا اور اپنے بابرکت ہاتھوں سے انہیں قبر
میں اتارا۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد رسول پاک ﷺ ان کی قبر میں تشریف
لے گئے تو آپ مغموم و پریشان تھے پھر جب باہر تشریف لائے تو پریشانی اور علم
کےآثار ظاہر زائل ہو چکے تھے، فرمایا: مجھے زینب کی کمزوری یاد آئی تو میں نے اللہ
پاک کی بارگاہ میں اس کی قبر کی تنگی اور
غم میں تخفیف کا سوال کیا تو اللہ پاک نے ایسا ہی کیا اور اسے اس پر آسان کر دیا۔(
معرفۃ الصحابۃ ، 5/140 )
دوسری
شہزادی :آپ کی دوسری شہزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت رقیہ
رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کی محبت:جنگِ بدر کے وقت
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سخت بیمار ہوگئیں تو رسولُ اللہ ﷺ نے حضرتِ عثمان رضی
اللہ عنہ کو ان کی تیمار داری کا حکم دیا ، بیوی کی تیمار داری کے باعث جنگ میں
شرکت نہ کرنے کے باوجود رسولُ اللہ ﷺ نے انہیں مجاہدینِ بدر میں شمار فرمایا ،
مالِ غنیمت میں سے حصہ عطا فرمایا اور شرکائے بدر کے برابر اجرِ عظیم کی خوشخبری
بھی عطا فرمائی۔( معرفۃ الصحابۃ ، 5 / 141 ماخوذاً )
تیسری
شہزادی :آپ ﷺ کی تیسری شہزادی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت ام
کلثوم رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کی محبت:9 ہجری میں
حضرت اُمِّ کلثوم رضی اللہ عنہا کی وفات
ہوئی۔رسولِ خدا،احمد مجتبیٰ ﷺ کی اس شہزادی کو بھی یہ اعزاز حاصل ہوا کہ ان کے
بابا جان،رحمتِ عالمیان ﷺنے ان کی نمازِ جنازہ خود پڑھائی اور انہیں مدیْنۂ
مُنَوَّرَہ کے قبرستان جنّتُ البقیع میں دفن بھی فرمایا۔(شرح زرقانی،4/325۔327)
چوتھی
شہزادی :آپ کی سب سے آخری اور لاڈلی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ہیں۔
حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا سے حضور ﷺ کی محبت :آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جب بھی میں جنت کی خوشبو سونگھنا چاہتا ہوں تو فاطمہ کی خوشبو سونگھ لیتا
ہوں۔(معجم کبیر،22/400،حدیث:1000)( مستدرک،4/140،حدیث:4791)
جب حضرت فاطمہ پیارے آقا ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو
حضور ﷺ ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے ان کے ہاتھ کو پکڑ کر بوسہ دیتے اور اپنی
جگہ پر بٹھاتے اور جب حضور ﷺ بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے جاتے تو
وہ بھی آپ کی تعظیم کے لیے کھڑی ہو جاتیں اور پیارے آقا ﷺ کے مبارک ہاتھ کو تھام
کر چومتیں اور اپنی جگہ پر بیٹھاتیں۔(ابوداود،4/454،حدیث:5217)
آپ نے پڑھا کہ آپ ﷺ اپنی شہزادیوں سے کتنی محبت فرماتے تھے۔الحمدللہ!ہم
آپ ﷺ کی امتی ہیں تو ہمارا یہ حق ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات پر عمل کریں۔آپ کی سنت پر
عمل کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں سے محبت کریں ، انہیں برا بھلا نہ کہیں کہ فرمان مصطفےٰ
ﷺ ہے: بیٹیوں کو برا مت کہو بے شک میں بھی بیٹیوں والا ہوں۔( مسند الفردوس ،2 / 415 ، حدیث : 7556)آئیے!بیٹیوں کے فضائل پر مبنی 3 فرامین مصطفےٰ ﷺ پڑھئے:
آپ ﷺ نے فرمایا: بیٹیوں
کو برا مت سمجھو ، بے شک وہ محبت کرنے والیاں ہیں۔( مسند امام احمد،6/134 ،حدیث: 17378 )
آپ ﷺ نے ارشاد
فرمایا: جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ
اسے ایذا نہ دے اور نہ ہی برا جانے اور نہ
بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ پاک اس
کو جنت میں داخل فرمائے گا ۔(مستدرک،5/ 248 ،حدیث: 7428 )
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس
کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ جنت میں
داخل ہوگا ۔( ترمذی، 3/ 366 ،حدیث: 1919 )
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمد ریاض،فیضان ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
زمانہ جاہلیت میں لوگ
اپنی بیٹیوں کو معاذ اللہ زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔مگر الحمدللہ دینِ اسلام نے بیٹی کو عظمت بخشی اور اس کا
وقار و مرتبہ بلند کیا۔انسان کو چاہیے کہ اللہ پاک بیٹا عطا فرمائے یا بیٹی یا بے
اولاد رکھے تو ہر حال میں اس کی رضا پر راضی رہے۔پارہ 25 سورۃ الشوری کی آیت نمبر
49 اور 50 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ
اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ
ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ
قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی
سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا
دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا
ہے۔
حضرت علامہ عبد المصطفٰے اعظمی رحمۃ اللہ علیہ سیرتِ مصطفےٰ
صفحہ نمبر 687 پر لکھتے ہیں:اس بات پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضور ﷺ کی اولاد
کرام کی تعداد چھ ہے۔دو فرزند حضرت قاسم و حضرتِ ابراہیم رضی اللہ عنہما اور چار صاحبزادیاں حضرتِ زینب وحضرتِ رقیہ
وحضرتِ امِ کلثوم وحضرتِ فاطمہ رضی اللہ عنھنّ ہیں۔بعض مورخین نے تین فرزند کہا ہے۔اس طرح ملا کر آپ کی اولاد پاک
سات بنتی ہے۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی صاحبزادیوں میں سے سب سے
بڑی شہزادی ہیں۔حضور ﷺ نے ان کے فضائل میں یہ ارشاد فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس
اعتبار سے بہت ہی زیادہ فضیلت والی ہیں کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت
اٹھائی۔حضور ﷺ نے ان کے کفن کے لیے اپنا تہبند شریف عطا فرمایا اور اپنے دستِ
مبارک سے ان کو قبر میں اتارا۔حضرتِ زینب رضی اللہ عنہا کے بعد حضرت رقیہ اور پھر
حضرتِ امِ کلثوم اور سب سے چھوٹی شہزادی حضرتِ فاطمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔
بیٹیوں کے فضائل پر مشتمل حضور ﷺ کے ارشاداتِ
مبارکہ:
1)بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو،بے شک وہ محبت کرنے والیاں ہیں۔(مسندِ
امام احمد،6/134،حدیث: 17378)
2)جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اُسے ایذا نہ دے اور نہ ہی
بُرا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ پاک اُس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔(مستدرک،5/248،
حدیث:7428 )
3)جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ
اچھا سُلوک کرے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔( ترمذی،3/366، حدیث:1919 )
حضور ﷺ اپنی تمام شہزادیوں سے بے انتہا شفقت و محبت فرماتے
تھے مگر اپنی سب سے چھوٹی شہزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے بے پناہ پیار فرمایا
کرتے تھے جو آپ کی سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ان کا نام فاطمہ اور لقب زہرا
اور بتول ہے۔آقا ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں بے شمار فضائل ارشاد فرمائے ہیں، چند فضائل یہ
ہیں:
▪حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:یہ سیدۃ
نساء العالمین (تمام جہان کی عورتوں کی سردار ) اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ ( اہل جنت
کی تمام عورتوں کی سردار ) ہیں۔(مواہب لدنیۃ مع شرح زرقانی،4/335،336)
▪فاطمہ میری بیٹی میرے بدن کی
ایک بوٹی ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(مواہب
لدنیۃ مع شرح زرقانی،4/335،336)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ نذیر،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
نبی کریم ﷺ پوری دنیا کے لیے رحمت بن کر تشریف لائے۔رسول کریم
ﷺ نے بیٹیوں کو عزت دی تحفظ دیا اور محبت دی۔عرب کے لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے
تھے اوربیٹیوں کی قدر نہ کرتے تھے لیکن نبی اکرم ﷺ چونکہ پوری دنیا کے لیے رحمت بن
کر آئے تو بیٹیوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے۔آپ نے بچیوں کو حقوق فراہم کیے اور
اپنی شہزادیوں سے محبت کر کےدنیا کو بتا دیا کہ بیٹیاں محبت کرنے والیاں ہیں ان سے
محبت کی جائے۔نبی کریم ﷺ کی اپنی شہزادیوں سے بے انتہا محبت تھی۔نبی کریم ﷺ کی چار
شہزادیاں ہیں:
حضرت زینب رضی اللہ عنہا
حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
نبی کریم ﷺ کی اپنی شہزادیوں سے محبت کے چند انداز ملاحظہ کیجئے:
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے محبت کا اظہار:آپ حضور ﷺ کی بڑی شہزادی ہیں،آپ نے جب ہجرت کی تو اس کے لیے کافی آزمائش کا سامنا
کرنا پڑا۔حضور ﷺ نے ان کے بارے میں فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت ہی
زیادہ فضیلت والی ہیں کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(شرح
زرقانی علی مواہب لدنیہ،4/318)(مستدرک،2/565، حدیث:2866)
تصویر مصطفےٰ:ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ طیبہ
طاہرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:میں نے چال ڈھال شکل و شباہت اور بات چیت میں
فاطمہ عفیفہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر کسی
کو حضور اکرم ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا۔جب
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاآپ کی بارگاہ میں
حاضر ہوتیں تو حضور انور ﷺ آپ رضی اللہ عنہا کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے،آپ کے ہاتھ تھام کر ان کو بوسہ دیتے
اور اپنی جگہ پر بٹھاتے۔جب حضور پرنور ﷺ آپ کے پاس تشریف لاتے تو آپ کے استقبال کے
لیے کھڑی ہو جاتیں اور آپ کے ہاتھ تھام کر ان کو بوسہ دیتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(الادب
المفرد، ص264،حدیث:1000)
رسول اللہ کی جیتی
جاگتی تصویر کو دیکھا کِیا
نظارہ جن انکھوں نے تفسیر نبوت کا
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمداسلام،بہار مدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
آقا ﷺ کی بیٹیوں سے محبت کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جا
سکتا ہے کہ آپﷺ کے آنے کے بعد اور بیٹیوں کو رحمت بتانے کے بعد ہی اور جو بیٹیوں
کے متعلق آپﷺ نے احادیث بیان کیں ان کے کیا کہنے کہ ان کے بعد ہی معاشرے میں بیٹیوں
کو عزت، مان سب کچھ ملا ہے۔
آقاﷺ کی چار (4) شہزادیاں ہیں:
1 )حضرت زینب رضی
اللہ عنہا
2)حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3)حضرت ام کلثوم رضی
اللہ عنہا
4) حضرت فاطمہ رضی
اللہ عنہا
حضرت زینب رضی اللہ عنہا اعلان نبوت سے دس سال قبل مکہ میں
پیدا ہوئیں اور ہجرت کے آٹھویں سال وصال ہوا۔حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اعلان نبوت
سے سات سال قبل پیدا ہوئیں اور آپ حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کی زوجہ ہیں اور
آپ کا وصال 19 رمضان 2 ہجری میں بیس سال کی عمر میں ہوا۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ
عنہا حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کے بعد حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں
اور آپ کا وصال شعبان 9 ہجری میں ہوا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح 2 ہجری کو حضرت علی رضی اللہ
عنہ سے ہوا۔آپ چونکہ آقا ﷺ کی سب سےچھوٹی اور لاڈلی بیٹی ہیں اس وجہ سے آپ کا آقا ﷺ
سےپیار کا عالم یہ تھا آپ کا وصال آقا ﷺ کے 6 ماہ بعد 3 رمضان کو ہوا۔( زرقانی علی المواھب، 4/ 318 تا 329)
آپﷺ کی سب سے بڑی بیٹی حضرت زینب رضی اللہ عنہا جو ابتدائے
اسلام میں اسلام لائیں تھیں جنگ بدر کے بعد حضورﷺ نے ان کو مکہ سے مدینہ بلا لیاتھا۔مکہ
میں کافروں نے ان پر جو ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ان کا تو پوچھنا ہی کیا!حد ہو گئی کہ جب یہ ہجرت کے
ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک دیا
اور ایک بد نصیب کافر ہبار بن اسود جو بڑا ظالم تھا اس نے نیزہ مار کر ان کواونٹ
سے زمین پر گرا دیا جس کے صدمہ سے ان کا حمل ساقط ہوگیا ان کو دیکھ کر ان کے دیور
کنانہ کو جو اگرچہ کافر تھا ایک دم طیش میں آگیا اس نے جنگ کے لیے تیر کمان اٹھا لیا
یہ ماجرا دیکھ کر ابو سفیان نے درمیان میں پڑ کر راستہ صاف کرادیا اور یہ مدینہ
منورہ پہنچ گئیں۔حضورﷺ کے قلب کو اس واقعہ سے بڑی چوٹ لگی ، چنانچہ آپ نے ان کے
فضائل میں ارشاد فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سےبہت فضیلت والی ہے کہ میری
طرف ہجرت میں اتنی بڑی مصیبت اُٹھالی۔اس واقعہ میں ان کی آقاﷺ سے محبت اور آقاﷺ کی
ان سے محبت کا پتا چلتا ہے اور اہل بیت نے جو مشکلیں برداشت کیں ان کا بھی معلوم
ہوتا ہے۔
(جنتی زیور، ص499)
اسی طرح آپ اپنی ساری شہزادیوں سے محبت کرتے اور حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا کے بھی واقعات ہیں کہ جب آقا ﷺ تشریف لاتے تو آپ محبت و احترام میں
کھڑی ہو جاتیں اور جب آپ آتیں تو آقاﷺ آپ کے لیے کھڑے ہو جاتے اور آپ کو اپنی جگہ
پر بیٹھاتے۔(ابوداود،4/454، حدیث:5217)
آقاﷺ نے فرمایا:فاطمہ میری بیٹی میرے بدن کی
ایک بوٹی ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(مواہب لدنیۃ مع شرح زرقانی،4/335،336)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ سید ابرار حسین،جیل روڈ پاکپورہ سیالکوٹ
دین اسلام نے کفر و شرک کے اندھیروں کو دور کیا اور زمانہ
جاہلیت کی رسموں کو بھی تبدیل کیا،ہمیں اسلامی تعلیمات کے ساتھ معاشرے میں زندگی
گزارنے کے آداب سکھائے اور طریقے بتائے۔نیز ہمارے مدنی آقا ﷺ نے یہ سب عملی طور پر کر کے بھی دکھایاجیسے زمانہ جاہلیت
میں بچیاں زندہ درگور کردی جاتی تھیں مگر ہمارے پیارے دین اسلام نے بچیوں کو عزت دی،ان
کے حقوق بیان کیے،ان سے محبت و شفقت کا درس دیا،ان کی اچھی تعلیم و تربیت کی طرف
رہنمائی کی،ان کو زندہ دفن کرنے سے منع کیا،ان کی پرورش کے فضائل بیان کیے اور جنت
کی بشارت دی۔
ہمارے پیارے آقا کریم ﷺ بچوں پر بہت شفقت فرماتےاور اپنی
شہزادیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔پیارے آقا کریم ﷺ کی چاروں شہزادیوں کے نام یہ ہیں:حضرت
زینب،حضرت رقیہ،حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہن۔یہ سب آقا کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبری کی اولاد ہیں۔
بیٹیوں
کو برا مت کہو:پیارےنبی ﷺ نے فرمایا:بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو،بے شک وہ
محبت کرنے والیاں ہیں۔(مسند اِمام احمد،6/134،حدیث:17378)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا:آپ حضور ﷺ کی بڑی شہزادی ہیں،آپ نے جب ہجرت کی تو اس کے لیے کافی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا۔حضور ﷺ نے ان کے بارے
میں فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت ہی زیادہ فضیلت والی ہیں کہ میری
جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ،4/318)(مستدرک،2/565،
حدیث:2866)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی ایک صاحبزادی تھیں حضرت امامہ رضی اللہ عنہا،ان سے
بھی آقا ﷺ کی بہت محبت تھی۔چنانچہ
نجاشی بادشاہ نے
آقا ﷺ کی بارگاہ میں کچھ زیورات بطور تحفہ بھیجے جن میں ایک حبشی نگینے والی
انگوٹھی بھی تھی، نبی کریم ﷺ نے اپنی نواسی امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا:اے
چھوٹی بچی!تم اسے پہن لو۔( ابو داود، 4/ 125، حدیث:4235)
پیارے آقا کریم ﷺ کی سب سے چھوٹی شہزادی فاطمۃالزہرا رضی اللہ عنہاہیں یہ آپ ﷺ کی سب سے
زیادہ لاڈلی بیٹی ہیں۔ہمارے پیارے نبیﷺ کی پیاری بیٹی سیدۂ کائنات حضرتِ بی بی
فاطمہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریم ،رؤوف و رحیم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو
کران کی طرف متوجِّہ ہو تے ، پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے کراُسے
بوسہ دیتے پھر اُنہیں اپنی جگہ بٹھا تے۔اسی طرح جب نبی کریم ﷺ حضرت بی بی فاطِمہ رضی
اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ بھی کھڑی ہو جاتیں ، آپ کا مبارک ہاتھ اپنے
ہاتھ میں لے کر چُومتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(ابوداود،4/454، حدیث:5217)
اس سےمعلوم ہوا کہ جن کی بیٹیاں ہیں انہیں ان کا اچھے طریقے سےخیال رکھنا چاہیے اور ان کی اچھی
تعلیم و تربیت کرنی چاہیے....
بچی کو پکارنے کا پیار بھرا انداز:حضرت اُمِّ سلمہ رضی
اللہ عنہا جب حضورِ اقدس ﷺ کے نکاح مبارک میں آئیں تو ان کی ایک بیٹی زینب دودھ پیتی
تھیں ، رسولُ اللہ ﷺ تشریف لاتے تو بڑی محبت سے پوچھتے:زُناب کہاں ہے؟ زُناب کہاں
ہے؟(سنن كبرىٰ للنسائی ، 5 / 294 ، حدیث:8926)
آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ کریم والدین کو اولاد
کے حقوق اداکرنے اور ان کی اچھی تعلیم و تربیت کی توفیق عطا فرمائے اور اولاد کو
اپنے والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔آمین
بجاہِ خاتمِ النبین ﷺ
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمدفاروق،اگوکی سیالکوٹ
حضورِ اقدس ﷺ کی اولاد کرام:اس بات پر تو تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ حضور اکرم ﷺکی
اولاد کرام کی تعداد چھ ہے،آپ کے دو فرزند حضرت قاسم و حضرت ابراھیم اور چار
صاحبزادياں حضرت زینب، حضرت رقیہ،حضرت ام
کلثوم،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہم وعنہن۔مگر
بعض مورخین نے یہ بیان فرمایا ہے کہ آپ کے
ایک صاحبزادے عبداللہ بھی ہیں جن کا لقب طیّب
و طاہر ہے۔اس قول کی بنا پر آپ کی مقدس اولاد کی تعداد سات ہے، تین صاحبزادگان اور
چار صاحبزادياں۔حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اسی قول کو زیادہ صحیح بتا یا ہے۔( سیرت
مصطفےٰ،ص 687)
پیارے آقا ﷺ کی شہزادیوں سے محبت:جیسا کہ اوپر کے پیرا
گراف میں آقا ﷺ کی مقدس اولاد کا تذكرہ کیا
گیا۔آپ کی اولاد کا ذکر اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں بھی فرمایا ہے۔چنانچہ ارشاد
باری ہے:اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-(پ25،الشوری:50)ترجمہ كنزالایمان:یادونوں
ملا دے بیٹے اور بیٹیاں۔
حضرت عبد اللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:اس سے پیارے
آقا ﷺ کی ذات عالی مراد ہے۔
(تفسیر الباب فی
علوم الكتاب ،17/220)
پیارے آقا ﷺ اپنی شہزادیوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔آپ کے
تمام شہزادے کم عمری میں ہی وفات پا گئے تھے جبکہ شہزادیاں ایک عرصے تک حیات رہیں،ان
سب نے اسلام کا زمانہ پایا اور ہجرت کر کے مدینہ منورہ بھی آئیں۔الحمد للہ آپ کی
تمام شہزادیاں فطری طور پر نیک طبیعت ، حق پرست ، شرک و بت پرستی اور جاہليت کی
غلط رسموں سے بيزار تھیں۔(آقا ﷺ کے شہزادے اور شہزادیاں ،ص25،24)
حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے آقا ﷺ کی محبت:پیارے پیارے آقا،رسولِ اقدسﷺ بیٹیوں سے محبت فرماتے تھے ،ان
سے شفقت سے پیش آتے اور رحمت بھرا سلوک فرماتے تھے۔آپ کو اپنی بڑی شہزادی حضرت زینب
رضی اللہ عنہا سے بہت محبت و انسیت تھی۔حضورِ اکرم ﷺ نے ان کو مکّہ مکرمہ سے مدینہ منورہ بلا لیا تھا اور یہ
ہجرت کر کے مکّہ سے مدینہ تشریف لے گئیں۔حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو اس ہجرت میں
درد ناک مصیبت پیش آئی،اس لیے حضور اکرم ﷺ نے ان کے فضائل میں فرمایا:ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے بہت فضیلت والی ہیں
کہ میری جانب ہجرت کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(آقا ﷺ کے شہزادے و شہزادیاں ،ص39)
حضرت رقیہ و حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما:دوسری
شہزادیوں کی طرح حضور اکرم ﷺ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے بھی بہت محبت فرماتے،انہیں
اپنی توجہ میں رکھتے،ان کی خبر گیر ی
فرماتے اور ان کے ہاں تحائف بھیجا کرتے تھے۔حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا کے بارے میں
اسد الغابہ میں ہے:صحیح یہ ہے کہ آپ حضرت رقیہ سے چھوٹی ہیں۔حضور اقدس ﷺ نے آپ کا نام ام کلثوم رکھا۔خیال رہے!ابو یا اُم والا نام کنیت کہلاتا ہے۔علامہ قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:حضرت ام کلثوم رضی اللہ
عنہا کا کوئی نام معتبر نہیں آپ کنیت ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔(آقا ﷺ کے شہزادے و شہزادیاں ،ص68،82)
خاتونِ جنت حضرت فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا:آقا ﷺ کی سب سے چھوٹی مگر سب سے پیاری اور سب سے لاڈلی
شہزادی ہیں۔اعلان نبوت کے پہلے سال جب آقا ﷺ کی عمر مبارک 41 سال تھی یا اعلان نبوت کے ایک یا پانچ سال پہلے
مکّہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں۔آپ کا نامِ پاک فاطمہ اللہ پاک نے رکھا جیسا کہ
ارشاد نبوی ہے: بے شک اس کا نام اللہ پاک
نے فاطمہ رکھا کیونکہ اللہ پاک نے اسے
جہنم سے دور کر دیا ہے۔(آقا ﷺ کے شہزادے و شہزادیاں ،ص 95)
الغرض ہمارے پیارے پیارے آقا ﷺ اپنی شہزادیوں سے بے حد محبت
فرماتے اور شفقت بھرا سلوک فرماتے تھے۔اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از ہمشیرہ اسامہ لطیف،جوہر آباد خوشاب
آیت مبارکہ:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ
اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ
ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ
قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی
سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا
دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا
ہے۔
فرمانِ مصطفےٰ:بیٹیوں کو بُرا مت سمجھو،بے شک وہ مَحَبَّت
کرنے والیاں ہیں۔(مسند امام احمد،6/134، حدیث:17378)
رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں کی تعداد:رسول اللہ ﷺ کی چار صاحبزادیاں ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2 )حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3 )حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
4 )حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا
حضرت زینب
رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا جو کہ آپ ﷺ کی بڑی صاحبزادی ہیں اعلان
نبوت سے دس سال قبل مکہ میں پیدا ہوئیں اور جنگِ بدر کےبعد حضور پُرنور ﷺ نے ان کو
مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ بلا لیا۔جب ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ
سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا اور ایک ظالم نے نیزہ مار کر ان
کو اونٹ سے زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط ہو گیا۔نبی کریم ﷺ کو اس
واقع سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے فضائل میں یوں
ارشاد فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے افضل ہے کہ میری طرف ہجرت کرنے میں
اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔اس کے علاوہ آقا ﷺ نے ان کے انتقال کے بعد ان کی نماز جنازہ
پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں قبر میں اتارا۔ ( شرح زرقانی علی مواہب
لدنیہ ، 4 / 318)
رسول اللہ ﷺ اپنی تمام شہزادیوں سے بے حد محبت فرماتے تھے۔حضرت
زینب رضی اللہ عنہا آقاﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادی تھی جبکہ سب سے چھوٹی اور لاڈلی
صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا:آقا ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ارشاد فرمایا:سیدۃ
نساء العالمین یعنی تمام عورتوں کی سردار اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ یعنی اہل جنت کی
تمام عورتوں کی سردار ہیں۔(مواہب لدنیۃ مع شرح زرقانی،4/335،336)اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حق میں ارشاد نبوی ہے:فاطمہ
میرے بدن کی ایک بوٹی ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔(سیرت مصطفےٰ
،ص 698)
حضرت بی بی فاطمہ
رضی اللہ عنہا جب محبوب رب العزت ﷺ کی خدمت سراپا شفقت میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ
کھڑے ہو کر ان کی طرف متوجہ ہو جاتے پھر اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں ان کا ہاتھ لے کر اسے بوسہ دیتے پھر ان کو اپنے
بیٹھنے کے جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب آپ ﷺ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لاتے تو وہ دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں آپ ﷺ
کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چومتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔(ابو داود
، 4 /454 ، حدیث:5218)
حدیثِ مبارک:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی
ہے کی رسول اکرم ﷺ کا فرمانِ معظم ہے:جو بازار سے اپنے بچوں کیلیے کوئی نئی چیز
لائے تو وہ ان پر صدقہ کرنے والے کی طرح ہے اور اسے چاہیے کہ بیٹیوں سے ابتدا کرے
کیونکہ اللہ پاک بیٹیوں پر رحم فرماتا ہے اور جو اپنی بیٹیوں پر رحمت اور شفقت کرے وہ خوف خدا میں رونے کی مثل ہے اور جو
اپنی بیٹیوں کو خوش کرے اللہ پاک بروز قیامت اسے خوش کرے گا۔(مسند الفردوس ،2/263،حدیث:5830)
حدیثِ مبارک:فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی ہے تو اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا
ہے جو آکر کہتے ہیں:السلام علیکم اھل بیت یعنی اے گھر والو!تم پر سلامتی ہو۔پھر
فرشتے اس بچی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں:یہ ایک کمزور جان ہے
جو ایک کمزور جان سے پیدا ہوئی ہے۔جو اس کمزور جان کی پرورش کی ذمہ داری لے گا قیامت
تک اللہ کی مدد اس کے شامل حال رہے گی۔( مجمع الزوائد،8/285،حدیث:13484)
فرمانِ مصطفےٰ ﷺ ہے:جس کی تین بیٹیاں یا تین بہنیں ہوں اور ان
کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( تر مذی،3/366، حدیث:1919)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ محمد احسان عطاریہ،جوہر آباد خوشاب
آیت مبارکہ:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ
اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ
ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ
قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی
سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا
دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا
ہے۔
فرمینِ مصطفےٰ ﷺ:
1)جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے ایذا نہ دے اور نہ ہی
برا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔(مستدرک ، 5 /
248 ، حدیث:7428)
2)جس کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو اس
کیلیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔عرض کی گئی اور دو ہوں تو ؟ فرمایا:اور دو ہوں تب بھی۔عرض
کی گئی:اگر ایک ہو تو ؟ فرمایا:اگر ایک ہو تب بھی۔(معجم اوسط، 4 /347 ،حدیث:6199)
3)جس کی تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا
سلوک کرے تو وہ جنت میں داخل ہو گا۔( ترمذی ، 3 / 366 ، حدیث:1919)
آقا ﷺ کی چار شہزادیاں تھیں:
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2 )حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3 )حضرت امِ کلثوم رضی اللہ عنہا
4 )حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہا
حضرت زینب رضی اللہ عنہا:آپ آقا ﷺ کی سب سے بڑی شہزادی ہیں جو
کہ اعلان نبوت سے دسویں سال قبل مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ، جنگِ بدر کی بعد حضور ﷺ نے ان کو مکہ سے مدینہ بلا لیا۔جب یہ
ہجرت کے ارادے سے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ مکرمہ سے باہر نکلیں تو کافروں نے ان کا راستہ روک لیا۔ایک ظالم
ہبار بن اسود نے ان کو نیزہ مار کر زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے ان کا حمل ساقط
ہو گیا (یعنی بچہ اسی وقت پیٹ میں ہے فوت ہو گیا۔) نبی کریم ﷺ کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا۔چنانچہ
آپ ﷺ نے فرمایا:یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے سب سے افضل ہے کہ میری طرف ہجرت
کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔جب 8 ہجری میں حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال
ہو گیا تو سلطانِ مدینہ ﷺ نے نمازِ جنازہ پڑھا کر خود اپنے مبارک ہاتھوں سے انہیں
قبر میں اتارا۔( شرح زرقانی علی مواہب لدنیہ ، 4 / 318)
حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا:اعلانِ نبوت سے سات برس پہلے جب کہ حضور ﷺ کی عمر شریف کا تینتیسواں سال تھا پیدا
ہوئیں اور ابتدائے اسلام میں ہی مشرف بہ
اسلام ہو گئیں۔پہلے ان کا نکاح ابو لہب کے بیٹے عتبہ سے ہوا تھا لیکن ابھی ان کی
رخصتی نہیں ہوئی تھی کہ سورۂ لہب نازل ہوگئی، ابولہب قرآن میں اپنی رسوائی کا بیان
سن کر آگ بگولا ہو گیا اور اپنے بیٹے عتبہ کو مجبور کر دیا کہ وہ حضرت رقیہ رضی
اللہ عنہا کو طلاق دے دے۔اس کے بعد حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا کا نکاح آقا ﷺ نے حضرت
عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیا۔نکاح کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت رقیہ
رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے مکہ سے حبشہ کی طرف ہجرت کی،پھر حبشہ سے مکہ واپس آکر مدینہ
کی طرف ہجرت کی اور میاں بیوی دونوں صاحب الہجرتین کے معزز لقب سے سرفراز ہو گئے۔جنگِ بدر کے دن حضرت رقیہ
رضی اللہ عنہا سخت بیمار تھیں تو آقا ﷺ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کی تیمارداری
کیلیے جنگِ بدر میں شریک ہونے سے روک دیا اسی روز حضرت بی بی رقیہ رضی اللہ عنہا کا وصال
ہوا۔آپ رضی اللہ عنہا کی عمر 20 سال تھی۔(شرح زرقانی،3/ 198،199)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا:آپ رضی اللہ عنہا حضور ﷺ کی سب سے پیاری اور لاڈلی شہزادی ہیں۔ان کا نام فاطمہ
اور لقب زہرا اور بتول ہے۔ان کی پیدائش میں اختلاف ہے۔چنانچہ ابن عمر کا قول ہے کہ
اعلان نبوت کے پہلے سال جب حضور ﷺ کی عمر شریف اکتالیس برس کی تھی یہ پیدا ہوئیں۔
فضائل و مناقب:ان کے فضائل و مناقب اور آقا ﷺ کی ان سے محبت کے کیا کہنے!حضور ﷺ کا ارشاد سیدۃ
النساء العالمین اور سیدۃ نساء اہل الجنۃ (اہل جنت کی عورتوں کی سردار)کے حق میں
ارشاد نبوی ہے کہ فاطمہ میرے بدن کی ایک بوٹی ہے۔جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے
مجھے ناراض کیا۔(مشکاۃ المصابیح،ص 568 )(شرح زرقانی ، 3/ 204)
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ غلام محمد،جوہر آباد خوشاب
الحمدللہ!ہم مسلمان ہیں اور مسلمان ہرحال میں اپنے رب کی
رضا پر راضی رہتا ہے،وہ اولاد کو اللہ پاک کی بڑی نعمت سمجھتا ہے،اسے معلوم ہوتا
ہے کہ بیٹے اللہ پاک کی نعمت ہیں تو بیٹیاں
اللہ پاک کی رحمت ہیں۔اسلام نے بیٹی کو بڑی عظمت بخشی ہے، اس کا وقار بُلند کیا
ہے،اسے کئی شانیں دی ہیں، بیٹی اللہ پاک کی رحمت ،باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ماں
کے دل کے لیے باعثِ راحت ہے۔
آیت مبارکہ:لِلّٰهِ
مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا
وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ(۴۹)اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًاۚ-وَ یَجْعَلُ مَنْ
یَّشَآءُ عَقِیْمًاؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ(۵۰)ترجمہ کنز الایمان:اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے
جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے۔یا دونوں ملا دے بیٹے
اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔
بیٹیوں کے فضائل سے متعلق کثیر احادیثِ مبارکہ بھی ملتی ہیں۔آئیے!بیٹیوں کے
فضائل سے متعلق چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجیے:
1)اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی،رسولِ ہاشمی ﷺ نے فرمایا:بیٹیوں
کو بُرا مت سمجھو،بےشک وہ مَحَبَّت کرنے والیاں ہیں۔( مسند
امام احمد ،6/134،حدیث:17378)
2)ایک حدیث شریف میں ہے:جس کے یہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے
ایذا نہ دے اور نہ ہی بُرا جانے اور نہ بیٹے کو بیٹی پر فضیلت دے تو اللہ پاک اس کو جَنّت میں داخِل فرمائے گا۔(مستدرک،5/248،حدیث:7428)
3)سركارِ مدىنہ، راحت قلب و سىنہ ﷺ نے ارشاد فرماىا:جس كى ایک بیٹى ہو وہ اس كو اَدَب
سكھائے اور اچھا اَدَب سكھائے اور اس كو تعلىم دے اور اچھى تعلىم دے اور اللہ پاک نے اس كو جو نعمتىں عطا فرمائى ہىں ان نعمتوں
مىں سے اس كو بھى دے تو اس كى وہ بىٹى اس کے لئےدوزخ كى آگ سے ستْر اور حِجاب (پردہ) ہوگى۔
(الکامل فی ضعفاء
الرجال،5/179،رقم:955) (معجم کبير، 10/197،حديث:10447)
حضور ﷺ کی بھی شہزادیاں تھیں جن کے تعداد 4 ہے اور نام درج
ذیل ہیں:
1)حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2)حضرت رقیّہ رضی اللہ عنہا
3)حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
4)حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا
حضور ﷺ نے بیٹیوں سے محبت کرنے اور ان کی اچھی پرورش کرنے
کا حکم ارشاد فرمایا اور خود حضور ﷺ بھی اپنی شہزادیوں سے بہت محبت فرماتے تھے۔اس
سے متعلّق چند روایات پیشِ خدمت ہے:
1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا:تاجدارِ رِسالت ﷺ کی شہزادی حضرت زَیْنَب رضی اللہ عنہا کو اُن کے شوہر ابُو
الْعَاص بن ربیع رضی اللہ عنہ نے غَزوۂ
بدر کے بعد مدینۂ مُنَوَّرہ کے لئے روانہ کِیا۔جب قُرَیْشِ مکّہ کو اُن کی روانگی
کا عِلْم ہوا تو اُنہوں نے حضرت زَیْنَب رضی اللہ عنہا کا پیچھا کِیا حتّٰی کہ مقامِ ذِیْ طُویٰ میں
اُنہیں پا لیا۔ہَبَّار بن اَسْوَد نے حضرت زَیْنَب رضی اللہ عنہا کو نیزہ مارا جس کی وجہ سے آپ اُونٹ سے گِر گئیں اور
آپ رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع ہو گیا۔(سیرت نبویّۃ لابن ہشام،ص270-271 ملخصاً)نبیِّ
کریم،رء وف و رحیم ﷺ کو اس واقعے سے بہت صدمہ ہوا چنانچہ آپ نے ان کے فضائل میں ارشادفرمایا:ھِیَ اَفْضَلُ بَنَاتِیْ اُصِیْبَتْ فِیَّ یعنی یہ میری بیٹیوں میں اس اعتبار سے فضیلت والی ہے کہ میری طرف ہجرت
کرنے میں اتنی بڑی مصیبت اٹھائی۔(مواہب
لدنیۃ،ص318-319)
2) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا:جنگِ بدر کے وقت حضرت رقیہ سخت بیمار ہوگئیں تو رسولُ اللہ ﷺ
نے حضرتِ عثمان کو ان کی تیمار داری کا حکم دیا۔(معرفۃ الصحابۃ،ص141)
3) حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم ﷺ کو سب
لوگوں سے زیادہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے محبت تھی۔(ترمذی،ص872،حدیث:3877)
بخاری شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:بے شک فاطمہ میرا
ٹکڑا ہیں پس جس نے ان سے دشمنی رکھی اس نے مجھ سے بغض رکھا۔(مواہب لدنیہ،2 /732)
حضرت بی بی فاطِمہ
رضی اللہ عنہا جب محبوبِ ربُّ العزّت ﷺ کی
خدمت ِ سراپا شفقت میں حاضِر ہوتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو کران کی طرف متوجِّہ ہو جاتے،پھر
اپنے پیارے پیارے ہاتھ میں اُن کا ہاتھ لے
کر اُسے بوسہ دیتے پھر اُن کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے۔اسی طرح جب آپ بی بی فاطِمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ دیکھ کر کھڑی ہو جاتیں،آپ
کا مبارک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چُومتیں
اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔( ابو داود،4/454،حدیث:5217)
ان روایات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضور ﷺ اپنی شہزادیوں
سے کس قدر محبت فرمایا کرتے تھے۔اس میں ہمارے لیے درس ہے کہ اپنی بیٹیوں سے محبت
کریں ،ان کو خوش رکھیں،ان کی اچھی پرورش کریں، ان کی دلجوئی کریں اوران کو بوجھ نہ سمجھیں۔کیونکہ بیٹیاں تو محبت
نبھانے والی ہوتی ہیں،بیٹیاں تو دکھ درد کی ساتھی ہوتی ہیں، یہ تو اللہ پاک کی عظیم
رحمت ہیں۔لہٰذا بیٹیوں کو برا نہ سمجھیے۔اللہ پاک ہم سب کو بیٹیوں کی قدر دان اوران
کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والی بنائے۔آمین
محبت نبھانے والی
بیٹیاں
جنت میں لے جانے
والی بیٹیاں
حضور ﷺ کی اپنی چاروں
شہزادیوں سے محبت از بنتِ عبداللطیف،جڑانوالہ ہاؤسنگ کالونی
آقا ﷺکی ذات با کمال
نے جس طرح اپنی ذات سے منسلک ہر رشتے کو بے پناہ شفقت و الفت اور محبت سے
نوازا اسی طرح اپنی شہزادیوں کو بھی بےحد شفقت ومحبت سے سرفراز فرمایا۔سیرت النبی
کی بہت سی کتابوں میں آپ کی چار شہزادیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس پر ہی سب کا
اتفاق ہے۔آپ کی شہزادیوں کے نام گرامی درج
ذیل ہیں:
1) حضرت زینب رضی اللہ عنہا
2) حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا
3) حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا
4) حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ
آقاﷺکو اپنی تمام
تر شہزادیوں سے بہت محبت تھی مگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی تھیں۔آپ
ﷺ کی اپنی شہزادیوں سے محبت کی بہت سی روایات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
مکتبۃ المدینہ کی کتاب سیرتِ مصطفےٰ صفحہ 693 پر ہے کہ ایک
مرتبہ حبشہ کے بادشاہ نجاشی نے آپ ﷺ کی خدمت میں ایک حُلّہ بطور ہدیہ بھیجا جس کے
ساتھ ایک سونے کی انگوٹھی بھی تھی جس کا
نگینہ حبشی تھا ، آپ نے یہ انگوٹھی اپنی پیاری نواسی حضرت امامہ جو کہ حضرت زینب کی
بیٹی ہے کو عطا فرمائی۔
اسی طرح ایک مرتبہ ایک بہت ہی خوبصورت سونے کا ہار کسی نے
حضور اقدسﷺ کو نذر کیا جس کی خوبصورتی کو دیکھ کر تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن حیران رہ گئیں۔آپ ﷺ نے اپنی مقدس بیویوں سے
فرمایا کہ میں یہ ہار اس کو دوں گا جو میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب
ہے۔تمام ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن نے خیال کیا کہ یہ ہار حضرت بی بی
عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطا فرمائیں گے مگر حضور اقدسﷺ نے حضرت
امامہ رضی اللہ عنہا کو قریب بلایا
اور اپنی پیاری نواسی کے گلے میں اپنے دست
مبارک سے یہ ہار ڈال دیا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ
عنہا سے آپ ﷺ کی محبت کی بہت سی روایات سے
ثابت ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
اللہ پاک کے آخری
نبی ﷺ کا ارشاد ہے:فاطمہ رضی اللہ عنہا
تمام اہل جنت یا مومنین کی عورتوں کی سردار ہے۔مزید فرمایا:فاطمہ میرے بدن کا ایک
ٹکرا ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیااس نے مجھے ناراض کیا۔
(مشکوۃالمصابیح،2/436،435،حدیث:6139،6138)
ام المومنین حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے چال ڈھال،شکل و
شباہت(رنگ روپ)اور بات چیت میں فاطمہ عفیفہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی
کو حضور ﷺ سے مشابہ نہیں دیکھا اور جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوتیں تو حضور ﷺ
آپ کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جاتے، آپ رضی اللہ عنہا کے ہاتھ تھام کر ان کو بوسہ دیتے اور اپنی
جگہ پر بٹھاتے۔
(ترمذی،5/466، حدیث:3898ملخصاً)
ایک اور حدیثِ مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔چنانچہ حضرت عبد اللہ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:نبی اکرم ﷺ جب سفر کا ارادہ
فرماتے تو سب سے آخر میں حضرت فاطمہ رضی اللہ
عنہا سے ملاقات فرماتے اورجب سفر سے واپس
تشریف لاتے تو سب سے پہلے آپ رضی اللہ عنہا
سے ملاقات فرماتے۔(مستدرك، 4/ 141،حدیث:4792)
آقا ﷺ نے بیٹیوں کی
فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:جب کسی کے ہاں لڑکی پیدا ہوتی
ہے تو اللہ پاک فرشتوں کو بھیجتا ہے جو آکر کہتے ہیں:اے گھر والو! تم پر سلامَتی
ہو۔پھر فِرِشتے اُس بچّی کو اپنے پروں کے سائے میں لے لیتے ہیں اور اُس کے سر پر
ہاتھ پھیرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ایک کمزور جان ہے جو ایک کمزور سے پیدا ہوئی ہے ،
جو اِس ناتواں جان کی پرورِش کی ذمّے داری لےقِیامت تک اللہ پاک کی مدد اُس کے
شاملِ حال رہے گی۔(مجمع الزوائد،8/285،حدیث:13484)اللہ پاک ہمیں آقا ﷺکی سنتوں پر عمل کی تو فیق عطا فرمائے۔آمین
Dawateislami