محمد
جمیل عطاری (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
pH 03323598339
تمہید جس طرح انسان اپنے کاروبار کو بڑا کرنے کے لیے دن رات کوشش کرتا اور
کاروباری خامیاں دور کرتا ہے ایسی ہی اپنی آخرت کو بہتر بنانے کیلئے بھی اس
راہ میں پیش آنے والی خامیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے ان خامیوں میں جیسے حسد
،تکبر اور بغض و کینہ شامل ہیں ہمیں ان سے بچ کر اپنے آپ کو ایک کامیاب مسلمان
بنانے کے لیے ہر دم کوشاں رہنا چاہیے ۔
یہ بھی دل کی پاکیزگی : انسان
کو اپنی آخرت بہتر بنانے کیلئے اعمال کے ساتھ ساتھ دل کی پاکیزگی
کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے جیسے حضور ﷺ کا فرمان ہے :
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
عَمْرٍو قَالَ: قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ
أَفْضَلُ قَالَ:كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ، قَالُوا: صَدُوقُ
اللِّسَانِ نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ
التَّقِيُّ لَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي
شُعَبِ الإِيمَانِ
ترجمہ :روایت
ہے حضرت عبد اللہ ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟
فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان والے کو تو
ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر نہ گناہ ہو
نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد (ابن ماجہ، بیہقی شعب الایمان)(حوالہ ،شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:7 ، حدیث نمبر:5221)
ہر چیز
کا کوڑا کچرا مختلف ہوتا ہے۔دل کا کوڑا یہ چیزیں ہیں جن سے دل میلا ہوتا ہے،پھر جیسے
ناپاک بدن مسجد میں آنے کے قابل نہیں ایسے
ہی ناپاک دل مسجد قرب الٰہی کے قابل نہیں،رب تعالٰی فرماتاہے: اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ
بِقَلْبٍ سَلِیۡمٍ
کینہ رکھنے والا مغفرت سے محروم : ہر شخص
کو اپنی بخشش کے اسباب اختیار کرنے چاہیے تو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کس سبب سے اس
کی بخشش نہیں ہوسکتی تاکہ محنت و مشقت صحیح راہ میں اٹھائی جاسکے :
وَعَنْ أَبِي مُوسَى
الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ
فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ
ترجمہ :
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا :الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے
کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)
کینہ اتنا برا: ایک مسلمان کی عظمت و شان کیا ہے کہ کسی کو بھی
اس کے بارے برا خیال رکھنے تک کی اجازت نہیں, کاش یہ حدیث ہمارے ذہن میں راسخ ہو ۔
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے
اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی
مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس
کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو
نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔(صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ
والآداب، باب "تحریم الہجر فوق ثلاث بغیر سبب شرعی،حدیث نمبر: 2565،صفحہ:
1396 )
دین کو مونڈتی: دین کو سلامت رکھنا بے حد ضروری
ہے کہ اسی پر انسان کی کامیابی و کامرانی کا مدار ہے اور دین کو نقصان پہنچانے والی
چیزوں سے ہر دم بچنا چاہیے اور ان نقصان دہ چیزوں کا علم بھی رکھے جیسے کہ حدیث
پاک میں ہے : حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا
کہ اگلی امتوں کی بیماری تمہاری طرف بھی آگئی وہ بیماری حسد و بغض ہے جو مونڈنے
والی ہے ۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ وہ بال مونڈتی ہے بلکہ وہ دین کو مونڈتی ہے ۔ (
الترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب "فی الحسد والبغضاء،حدیث
نمبر2510،صفحہ 222)
اللہ
پاک ہماری حفاظت فرمائے اور بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد محسن علی (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق الاعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
فون نمبر
:03704351523
پیارے اسلامی بھائیو! آیئے بغض و کینہ کے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ
کیجیے:
(1)دل میں
کینہ نہ رکھو:روایت
ہے حضرت انس فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام
ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ
اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور
جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ
المصابیح جلد:1 ، حدیث نمبر:175 )
(2)ایک
دوسرے سے بغض نہ کرو: روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب
جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ
نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله
کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت
میں ہے اور نہ نفسانیت کرو ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:5028)
(3)روایت
ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی
اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ
ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث نمبر:3781
(4)ہفتے
کے دوران اعمال کا پیش ہونا: حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر ہفتے کے
دوران یعنی پیر اور جمعرات والے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں اور بعض کینہ
کرنے والے دو بھائیوں کے علاوہ تمام کی مغفرت کر دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ
بغض کینہ کرنے والے کو ان کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ بغض و کینہ سے واپس لوٹ
آئیں۔ (صحیح مسلم حدیث نمبر 6547)
(5)بڑی
خصلت: حضور
اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض یا حسد ایسی بری خصلت ہے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کا دین
اور اخلاق تباہ و برباد ہو جاتا ہے بلکہ یہ خصلت دین اور دنیا دونوں کے لیے نقصان
دہ ہے۔(مشکوٰۃ المصابیح جلد 4 حدیث نمبر 4967)
احسن
قادری(درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ فیضان بغداد کورنگی کراچی
،پاکستان)
وٹس ایپ نمبر :
03192699377
مکتبۃ
المدینہ کی کتاب "باطنی بیماریوں کی معلومات" میں ارشاد ہے: کینہ یہ ہے
کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے
اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)
یعنی کینہ
وہ زہر ہے جو دل میں چھپ کر ایمان کو کمزور کرتا ہے، عبادات سے لذت چھین لیتا ہے
اور تعلقات کو توڑ دیتا ہے۔اسلام نے دلوں کو صاف رکھنے اور باہمی محبت قائم کرنے کی
تعلیم دی ہے، اسی لیے نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں بغض و کینہ سے منع فرمایا۔
مسلمانوں
کے درمیان بغض و کینہ سے منع فرمایا گیا: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا
وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا۔ (صحیح بخاری، حدیث: 6065) ترجمہ: آپس میں
بغض نہ رکھو، حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے ہو کر بھائی
بھائی بن جاؤ۔
اس حدیثِ
پاک میں نبی کریم ﷺ نے امت کو اجتماعی محبت اور بھائی چارے کی تعلیم دی ہے۔ بغض و
کینہ دلوں کی صفائی چھین لیتا ہے اور شیطان اسی ذریعے سے مسلمانوں کے درمیان نفرت
پھیلاتا ہے جو بندہ مومنوں کے لیے دل میں نفرت رکھتا ہے، وہ دراصل اپنے ایمان کو
زنگ آلود کر لیتا ہے۔
کینہ
رکھنے والا مغفرت سے محروم رہتا ہے:قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: يُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلَّ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَخَمِيسٍ،
فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِ اللہ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَ
بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ (صحیح مسلم، حدیث: 2565)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: جنت کے دروازے ہر پیر اور جمعرات کو کھولے جاتے ہیں، اور ہر بندے کو
بخش دیا جاتا ہے جو شرک سے پاک ہو،سوائے اُس شخص کے جس کے دل میں اپنے بھائی کے لیے
کینہ ہو۔
یہ حدیث ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کینہ دار شخص کی مغفرت مؤخر کر دی جاتی ہے۔ اللہ
تعالیٰ اُس وقت تک اس کے گناہوں کو نہیں بخشتا جب تک وہ دل سے اپنے مسلمان بھائی
کو معاف نہ کر دے یعنی کینہ انسان اور مغفرت کے درمیان دیوار بن جاتا ہے
تین دن سے زیادہ بغض و ناراضگی ناجائز ہے: قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ
فَوْقَ ثَلَاث (صحیح بخاری، حدیث:
6077) ترجمہ:کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے
بھائی سے تین دن سے زیادہ ناراض رہے۔
اختلاف
فطری ہے، مگر بغض و کینہ رکھنا ناجائز ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تین دن سے زیادہ ناراضگی
کی اجازت نہیں دی تاکہ دلوں میں نفرت نہ جڑ پکڑ سکے یہی دراصل دل کی صفائی اور ایمان
کی نشانی ہے۔
حدیث کی
روشنی میں بغض و کینہ کے نقصانات:
1:
مغفرت رک جاتی ہے:جیسا کہ اوپر حدیث میں آیا، کینہ رکھنے والا شخص بخشش سے محروم
رہتا ہے
2: نیکیاں
ضائع ہو جاتی ہیں:نبی ﷺ نے فرمایا: بغض ایمان کو منہ کے بل گرا دیتا ہے جیسے سرکہ
شہد کو بگاڑ دیتا ہے۔ (بیہقی، شعب الایمان)
یعنی کینہ
ایمان کی مٹھاس کو زائل کر دیتا ہے۔
3:
عبادت کی لذت ختم ہو جاتی ہے: دل جب بغض سے بھرا ہو تو ذکر و عبادت سے سکون حاصل
نہیں ہوتا۔
4:
معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے: کینہ رکھنے والے دل دوسروں کی بھلائی نہیں چاہتے یوں
خاندان معاشرہ اور قوم انتشار کا شکار ہو جاتی ہے بغض و کینہ وہ زہر ہے جو دلوں کی
روشنی کو بجھا دیتا ہے۔
لہٰذا
ہمیں چاہیے کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، دوسروں کے لیے خیرخواہی کا جذبہ پیدا کریں
اور اپنے ایمان کو محبت، درگزر اور اخوت سے مضبوط بنائیں۔
حدیث
شریف: تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے جب تک ایمان نہ لاؤ، اور ایمان نہیں لا سکتے
جب تک آپس میں محبت نہ کرو۔ (صحیح مسلم: 54)
اللہ پاک ہمیں بغض
و کینہ جیسی باطنی بیماری سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
عبد
الرحمن امجد عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
0323-1494018
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو دلوں کو جوڑنے، محبت، بھائی چارے اور خیر خواہی کا درس دیتا
ہے۔ اس کے برعکس، بغض و کینہ نفرت حسد، دشمنی دلوں کو پھاڑتا ہے، تعلقات کو ختم
کرتا ہے، اور معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث میں بار بار اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
بغض و کینہ
کی تعریف: بغض یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے
اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔ (احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول
فی معنی الحقد الخ ، جلد:3،صفحہ: 223 )
بغض وکینہ
کا حکم: کسی بھی
مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ حضرت
سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا
عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ ‘‘(حدیقہ ندیہ ، السادس
العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ،جلد:1،صفحہ: 629)
آئیے
حدیث مبارکہ سے اس کی مذمت پڑھتے ہیں:
(1) شب
تجلی و مغفرت: عن عائشة رضی اللہ عنہ ا قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إِنَّ اللَّهَ عَزَّ
وَجَلَّ يَطَّلِعُ عَلَى عِبَادِهِ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ،
فَيَغْفِرُ لِلْمُسْتَغْفِرِينَ، وَيَرْحَمُ لِلْمُسْتَرْحِمِينَ، وَيُؤَخِّرُ
أَهْلَ الْحِقْدِ كَمَا هُمْ
ترجمہ:امُّ
المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک شعبان کی پندرہویں
رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایان شان) تجلّی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں
کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، جبکہ بغض و کینہ
رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء
فی لیلۃ الخ، جلد: 3، صفحہ: 383، حدیث
نمبر: 3835)
(2)
مغفرت عام سوائے کینہ پرور کے: وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ
اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ
النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ
مُشَاھِنٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
ترجمہ:
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے
فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ
والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (مشکوٰۃ المصابیح ،جلد:1،کتاب الصلٰوۃ
،باب قیام شھر الرمضان ، تیسری فصل ،صفحہ نمبر: 118،حدیث نمبر:1231 )
(3)
مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا
وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ
عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو
الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى
هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ
مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ
اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ
وَعِرْضُهٗ ‘‘
ترجمہ:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان
کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ
رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے
بندو بھائی بھائی ہو جاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم
کرتا ہے، نہ اسے رسوا کرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا
ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں
ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر
سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر
والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، صفحہ نمبر:1064، حدیث:6541)
ان
احادیث طیبہ سے یہ سبق ملا کہ بغض و کینہ مومن کے دل کے شایانِ شان نہیں۔ یہ وہ
زہر ہے جو ایمان کی مٹھاس کو کھا جاتا ہے۔
محمد نعمان مصطفى (درجہ سادسہ جامعۃ
المدينہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
03284946469
رب
العالمین کی ذات نے ہمیں عدم سے وجود بخشا اور کائنات کو ہمارے لیے مسخر کیا اور
ہم میں ایک دوسرے کے ساتھ محبت کے مادے کو رکھا جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے محبت
کرتے ہیں جہاں ہم ایک دوسرے سے محبت کرتےہیں ساتھ ہی ساتھ دل میں بغض و کینہ بھی چھپائے ہوتے ہیں جس کی احادیث مبارکہ میں کثرت
سے مذمت بیان کی گئی ہے :
حديث1: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا
وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ
عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو
الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى
هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ
مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ
اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ
وَعِرْضُهٗ ‘‘(رَوَاهُ
مُسْلِم
ترجمہ:
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان
کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ
رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے
بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم
کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا
ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں
ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر
سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر
والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث:6541)
حديث3: وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ
ترجمہ : روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے
میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے (احمد،ترمذی) ۔ وما توفيقى الا بالله
اللہ پاک ہمیں
احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
واٹس ایپ نمبر: 03041711077
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو محبت، اخوت، اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ لیکن جب انسان کے
دل میں بغض و کینہ یعنی دوسروں سے نفرت، حسد، یا بددلی پیدا ہو جاتی ہے تو یہ اس
کے ایمان، اخلاق، اور سکونِ قلب کو کھا جاتی ہے۔ بغض کا مطلب، ہے دل میں کسی کے لیے
دشمنی یا نفرت رکھنا، جبکہ کینہ سے مراد ہے کسی کی برائی یا زیادتی کو دل میں چھپا
کر انتقام یا بدلے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں اخلاقی بیماریاں انسان کے دل کو زنگ
آلود کر دیتی ہیں۔ اسلام نے بغض و کینہ کو سختی سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ محبت و
اخوت کے خلاف ہیں اور معاشرے میں انتشار، نفرت اور فساد کو جنم دیتے ہیں۔ بغض اور
کینہ کے بارے میں قرآن اور حدیث دونوں میں مذمت اور وعیدیں بیان کی گئی ہے ۔سب سے
پہلے قرآن پاک میں دیکھتے ہیں کہ اللہ پاک
کیا ارشاد فرماتا ہے ۔اللہ پاک نے قرآن
پاک میں ارشاد فرمایا :
ترجمۂ کنزالایمان: مسلمان مسلمان بھائی
ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرو اور اللہ سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔ (پ26،
الحجرات: 10)
ویسے
تو بہت ساری آیات ہیں جو بغض اور کینہ سے بچنے کا درس دیتی ہیں لیکن حصول برکت کے
لیے یہاں پر ایک ہی آیت پیش کی کیونکہ موضوع میں حدیث کی روشنی میں کہا گیا ہے تو
اس وجہ سے ایک ہی آیت پیش کی ہے ۔
آئیے اب حدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں :
سہیل ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل
(علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے کہ میں فلاں سے محبت کرتا ہوں تو اسے محبوب رکھ
، فرمایا: پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر آسمان میں ندا کی
جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو تو آسمان والے
بھی اس سے محبت کرتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور جب کسی
بندے کے لئے مقبولیت رکھ دی جاتی ہے ( وہ دنیا والوں کے لئے مقبول ہوجاتا ہے) اور
جب اللہ کسی بندے سے بغض رکھتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) کو بلا کر فرماتا ہے
کہ میں فلاں سے بغض رکھتا ہوں تو بھی اسے مبغوض رکھ پس جبرائیل (علیہ السلام) بھی
اس سے بغض رکھتے ہیں پھر زمین میں اس کے لئے عداوت رکھ دی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم، 2637 ، حدیث 201)
اسی
طرح اور احادیث پر غور کرتے ہیں ۔
حضرت زبیر بن عوام (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کہتے ہیں
کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں میں پہلی امتوں والا مرض گھس آیا ہے اور وہ
حسد اور بغض ہے جو تباہی کی طرف لے جاتا ہے (مونڈ دیتا ہے) میرا یہ مطلب نہیں کہ
بالوں کو مونڈ دیتا ہے بلکہ وہ دین کو مونڈ دیتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ
قدرت میں میری جان ہے تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک مومن نہ
ہوجاؤ اور اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک آپس میں محبت سے نہ ر کھو۔ کیا میں
تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو تم لوگوں میں محبت کو دوام بخشے ؟ وہ یہ کہ تم آپس میں
سلام کو رواج دو ۔ (جامع ترمذی، 2510، حدیث 96)
ایک
اور حدیث پر غور کرتے ہیں بغض کے حوالے سے، ابوحازم حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو حسن و حسین (رضی اللہ تعالیٰ
عنہما) سے محبت رکھے اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جو ان سے بغض رکھے اس نے مجھ سے
بغض رکھا۔ ( سنن ابن ماجہ، 143 ، حدیث 143)
اسی
طرح ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں ۔
حضرت عبداللہ بن مغفل سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا کہ میرے بعد میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور ان کو حدفِ ملامت
نہ بنانا اس لئے کہ جس نے ان سے محبت کی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی
اور جس نے ان سے بغض رکھا، اس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے انہیں تکلیف پہنچائی گویا
اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی
اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اللہ تعالیٰ عنقریب اسے اپنے عذاب میں گرفتار
کرے گا۔(جامع ترمذی، 3862، حدیث
262)
اسی
طرح ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں۔
حضرت ابودرداء (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) سے روایت
ہے کہ رسول اللہ ( ﷺ ) نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو روزے نماز
اور صدقے سے افضل ہے۔ صحابہ کرام (رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین)نے عرض کیا کیوں
نہیں ! آپ ( ﷺ ) نے فرمایا آپس میں محبت اور میل جول اس لئے کہ آپس کا بغض تباہی کی
طرف لے جاتا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا آپس کی
پھوٹ مونڈ دیتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سر کو مونڈ دیتی ہے بلکہ یہ تو دین کو
مونڈ دیتی ہے۔ (یعنی انسان کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے) ۔ (جامع ترمذی، 2509 حدیث 95)
اسی
طرح ایک اور حدیث پر غور کرتے ہیں۔
حضرت سیدنا
ابوہریرہ (رضی اللہ تعالی عنہ)سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر سوموار
اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو ہر وہ بندہ جو اللہ کے ساتھ کسی کو
شریک نہ کرتا ہو اسے بخش دیا جاتا ہے۔ سوائے اس کے کہ اس کے اور اس کے بھائی کے
درمیان بغض اور ناراضی ہو۔ تو کہا جاتا ہے: انہیں مہلت دو حتیٰ کہ صلح کر لیں۔“ (
سنن ابی داؤد، 4916 حدیث 144)
اسی
طرح اب کینہ رکھنے والے کے بارے میں حدیث پر غور کرتے ہیں۔
سلیمان
بن موسیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا کہ کسی خیانت کرنے والے مرد یا
خیانت کرنے والی عورت کی گواہی اور زنا کرنے والے مرد اور زنا کرنے والی عورت کی
گواہی اور اپنے مسلمان بھائی سے کینہ و عداوت رکھنے والے کی گواہی جائز نہیں ہے۔ (سنن ابی داؤد، 3601 حدیث 31)
اللہ پاک
ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
عزیز عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
۔فون نمبر
03025641100
بغض کا
مطلب ہے دل میں کسی کے لیے دشمنی یا نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اسی نفرت کو چھپا کر
رکھنے کا نام ہے، جو کہ ایک باطنی مرض ہے۔ بغض اور کینہ دونوں ہی منفی جذبات ہیں
اور ان میں اصل فرق یہ ہے کہ بغض کا اظہار ہو سکتا ہے جبکہ کینہ دل میں پوشیدہ
رہتا ہے۔
(1)کینے
کو ختم کرنے کی علامت: روایت ہے عطاء خراسانی سے کہ رسول الله ﷺ نے
فرمایا آپس میں مصافحہ کرو کینہ جاتا رہے گا اور آپس میں ہدیے تحفے دو محبت کرنے
لگو گے اور دشمنی جاتی رہے گی۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث
نمبر:4639)
(2)کینے
کے مذمت: روایت
ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی
اور نہ خیانت کرنے والی کی اور نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے
بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر
گزارہ کرنے والے کی (ترمذی) ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:5 ، حدیث
نمبر:3781)
(3)حسد
اور بغض کی مذمت: روایت ہے حضرت
زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے:
تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال
مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)
(4)عرب
سے بغض کی مذمت: روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول
الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا
ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا یارسول الله ! میں آپ سے کیسے بغض
رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض
رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ،حدیث
نمبر:5998)
(5)بد
مذہب سے بغض کی مذمت: روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ نبی ﷺ نے فرمایا
کہ نہیں بغض رکھے گا انصار سے کوئی وہ شخص جو الله اور آخری دن پر ایمان رکھتا
ہو ۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
جلد:8 ، حدیث نمبر:6250)
اللہ
پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
22 اپریل تا 4 مئی 2026ء تک خلیفۂ امیرِ
اہلسنت یورپ کے شیڈول پر ہوں گے
عالمی سطح پر دینی و فلاحی اور تبلیغی ایکٹیویٹیز کو احسن انداز میں سر نجام دینے اور لوگوں کی اصلاح کرنے والی
عاشقانِ رسول کی دینی تحریک دعوتِ اسلامی کا کام دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہے نیز
دعوتِ اسلامی کم و بیش 80 شعبہ جات کے ذریعے دینِ اسلام کی
خدمت کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔
اسی سلسلے میں خلیفۂ امیرِ اہلسنت حضرت مولانا
ابواُسید حاجی عبید رضا عطاری مدنی مدظلہ
العالی 22 اپریل تا 4 مئی 2026ء تک یورپ (EUROPE) کے دورے پر تشریف لے جارہے ہیں جہاں یورپ کے مختلف ممالک میں ہونے والی دعوتِ اسلامی کی
ایکٹیویٹیز میں اُن
کی آمد ہوگی۔
شیڈول کے مطابق خلیفۂ امیرِ اہلسنت مدظلہ
العالی 22 تا 23 اپریل کو جرمنی (GERMANY)، 24 تا 25 اپریل کو ہالینڈ (HOLLAND)، 26 تا 28 اپریل کو گریس (GREECE)، 29 اپریل تا 1
مئی کو سویڈن (Sweden)، 2 مئی کو ڈنمارک
(Denmark) اور 3 تا 4 مئی کو دوبارہ جرمنی (GERMANY) میں ہونے والے اجتماعات اور مختلف سیشنز میں بیانات کریں گے۔
اس کے علاوہ مذکورہ ممالک میں شخصیات سے ملاقات
کرنا، دعوتِ اسلامی کے مختلف شعبہ جات اور
تعلیمی اداروں کا وزٹ کرنا خلیفۂ امیرِ اہلسنت مدظلہ العالی کے شیڈول میں
شامل ہے۔
توصیف
الرحمن عطّاری ( درجہ رابعہ جامعۃُ المدینہ
ٹاؤن شپ لاہور ، پاکستان)
03260062811
کینہ یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت
کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 53) کسی
بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا
عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا
عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ
54) مومن کی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ دل میں بغض و کینہ نہیں رکھتا بلکہ وہ
انہیں دور کرنے کے لیے دل کو ذکر الہیٰ سے تر ، معافی اور در گزر سے کام لیتا ہے
۔ آیئے اب ہم بعض و کینہ کی مذمت حدیث کی
روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں :
(1) دین کو تباہ کر دیتا ہے : وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ ترجمہ : روایت ہے حضرت زبیر سے
فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ
دیتی ہے ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف
، باب اچھی باتوں کا بیان ، ج : 6 ، حدیث: 5039)
(2)
تحفہ لینا اور دینا : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: تَهَادَوْا
فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ وَلَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ
لِجَارَتِهَا وَلَوْ شِقَّ فِرْسِنِ شَاةٍ ترجمہ : روایت ہے حضرت ابوہریرہ
سے وہ نبی کریم ﷺ سے راوی فرمایا آپس میں ہدیے لو دو کہ ہدیہ سینہ کا کینہ دور
کرتا ہے کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کو حقیر نہ جانے اگر چہ بکری کی کھری کا ٹکڑا ہی ہو
۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب تجارتوں کا بیان ، ج : 4 ، حدیث 3028)
(3) صبح وشام کس طرح گزارے؟ وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ
لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي
قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ترجمہ: روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے
ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ
صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو۔
( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، ایمان کا باب ، ج : 1 ، حدیث : 175 )
(4) سلامت دل والا: وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ:
قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى اللَّه عليه وسلم-: أَيُّ النَّاسِ أَفْضَلُ قَالَ:
كُلُّ مَخْمُومِ الْقَلْبِ صَدُوقِ اللِّسَانِ ، قَالُوا: صَدُوقُ اللِّسَانِ
نَعْرِفُهُ فَمَا مَخْمُومُ الْقَلْبِ قَالَ: هُوَ النَّقِيُّ التَّقِيُّ لَا
إِثْمَ عَلَيْهِ وَلَا بَغْيَ، وَلَا غِلَّ وَلَا حَسَدَ ترجمہ: روایت ہے حضرت عبد اللہ
ابن عمرو سے فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ سے
عرض کیا گیا کہ لوگوں میں سے کون افضل ہے؟ فرمایا ہر سلامت دل والا سچی زبان والا، لوگوں نے عرض کیا کہ سچی زبان
والے کو تو ہم جانتے ہیں تو سلامت دل والا کیا ہے ؟ فرمایا وہ ایسا ستھرا ہے جس پر
نہ گناہ ہو نہ بغاوت نہ کینہ اور نہ حسد ۔ ( مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ شریف ، باب
دل کو نرم کرنے والی باتوں کا بیان ، ج : 7 ، حدیث: 5221)
بغض و کینہ کے چند علاج :
(1) سلام ومصافحہ کی عادت بنا لیجئےکہ سلام میں
پہل کرنا اور ایک دوسرے سے ہاتھ ملانا یا گلے ملنا آپ کے کینے کو ختم کردیتا ہے،
نیز تحفہ دینے سے بھی محبت بڑھتی اور عداوت دور ہوتی ہے۔
(2) ایمان
والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے۔ پارہ 28 سورۂ حشر، آیت نمبر 10 کو یاد کرلینا
اور وقتاً فوقتاً پڑھتے رہنا بھی بہت مفید ہے۔
(3) مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کیجئے۔
محبت کینے کی ضد ہے لہٰذا اگرہم رضائے الٰہی کے لیے اپنے مسلمان بھائی سے محبت رکھیں
گے تو کینے کو دل میں آنے کی جگہ نہیں ملے گی اور دیگر فضائل بھی حاصل ہوں گے۔
(4) سوچئے اور عقلمندی سے کام لیجئے۔ کینے کی بنیاد
عموماً دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ، لیکن سوچنے کی بات ہے کہ کیا دنیا کی وجہ سے اپنی
آخرت کو برباد کرلینا دانشمندی ہے۔یقیناً نہیں تو پھر اپنے دل میں کینے کو ہرگز
جگہ مت دیجئے ۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ 55 ۔ 57)
دعا ہے
کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے صدقے ہم سب کو بغض و کینہ اور تمام باطنی بیماریوں سے
نجات عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
وقار
حسین عطاری (درجہ خامسہ جامعۃُ المدينہ فيضان
فاروق اعظم سادھو کی لاہور ، پاکستان)
03246535883
اللہ
پاک نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا ہے تاکہ ہم اس کے حکم کی پیروی کریں یعنی اسکی
عبادت کریں اور اسکے ساتھ ساتھ گناہوں سے بچیں ۔ اب کچھ گناہ ظاہری ہوتے ہیں جیسے
شراب پینا ،زنا کرنا وغیرہ اور کچھ باطنی گناہ ہوتے ہیں جیسے حسد اور خود پسندی وغیرہ بغض وکینہ بھی باطنی
امراض میں سے ہے جن کی احادیث مبارکہ میں بھی شدید مذمت آئی ہے ۔ ذیل میں چند احادیث
بیان کی گئی ہیں جس میں بغض وکینہ سے بچنے کا فرمایا گیا ہے:
(1) عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا
وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا ترجمہ:حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ،
آپس میں بغض نہ رکھو۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم
وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث:6541)
(2) عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ
عَازِبٍ رضی اللہ عنہ مَا عَنِ النَّبيّ
صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ فِی الْاَنْصَارِ : لَا
يُحِبُّهُمْ اِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُهُمْ اِلاَّ مُنَافِقٌ مَنْ اَحَبَّهُمْ اَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ اَبْغَضَهُمْ
اَبْغَضَهُ اللهُ ترجمہ:حضرت سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مَروی
ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ، محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور
منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا
ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ‘‘(فیضان ریاض
الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)
(3) وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ ترجمہ:روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا
رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے
والی ہے، میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039)
(4) وَعَنْ أَبِي مُوسَى
الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ
فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ ترجمہ:روایت
ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ
کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 ، حدیث نمبر:1306)
اللہ
پاک ہمیں بغض وکینہ سمیت تمام باطنی و ظاہری گناہوں سے نجات عطا فرمائے۔ آمین
مبشر عبدالرزاق عطاری (درجہ سادسہ
جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی
لاہور ، پاکستان)
فون نمبر
03228448638
اللہ
پاک کی رضا حصول جنت دنیا و آخرت میں فلاح و کامیابی کے لیے جس طرح نیک اعمال کی
ادائیگی ضروری ہے اسی طرح ہر طرح کے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے پھر کچھ گناہوں
کا تعلق ظاہر سے ہوتا ہے جیسے کہ قتل غیبت رشوت وغیرہ اور کچھ کا باطن سے جیسے بغض
و کینہ وغیرہ
بغض و
کینہ انتہائی مہلک ( ہلاک کرنے والی ) اور خطرناک باطنی بیماری ہے جس کا ارتکاب
اللہ پاک کی ناراضگی دخول جہنم اور دنیا و آخرت میں خسارے کا سبب ہے ۔
بغض و کینہ
کی تعریف : انسان
دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے
تو اسے کینہ کہتے ہیں۔ ( احیاء العلوم کتاب ذم الغضب والحقد والحسد ج 3 صفحہ 223 )
قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بغض و کینہ کی
مذمت کو بیان کیا گیا ہے اللہ پاک قرآن
پاک میں بغض و کینہ کے وبال اور نتائج کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : وَ
یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ
الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱) ترجمہ کنز الایمان: اور تمہیں اللہ کی یاد اور
نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ 7 المائدہ 91)
کثیر
احادیث میں بھی بغض و کینہ کی مذمت کو بیان کیا گیا ہے چنانچہ آپ بھی پانچ احادیث
ملاحظہ کیجیے:
(1) دین کی تباہی: بعض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو مسلمان کے دین
و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی جیسا کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم میں پچھلی
امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی یہ مونڈ( تباہ کر) دینے والی ہے میں نہیں
کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہیں بلکہ یہ دین کو مونڈ دیتی ہیں۔ (سنن الترمذی کتاب صفت
القیامہ ج 4 ص 228 الحدیث 2518)
(2) پچھلی
امتوں کی بیماری: حضور اکرم ﷺ کا فرمان ہے: عنقریب میری امت کو پچھلی
امتوں کی بیماری لاحق ہو گی، صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : پچھلی امتوں کی
بیماری کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا تکبر کرنا، اترانا، ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور
دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرنا نیز آپس میں بغض رکھنا ،بخل کرنا یہاں تک
کہ وہ ظلم میں تبدیل ہو جائے اور پھر فتنہ و فساد بن جائے۔ (المعجم الاوسط باب المیم
، من اسمہ مقدام ج6 ص 348 الحدیث 9016)
(3) مغفرت
سے محروم : نبی
اکرم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر
اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے، مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور
ہم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ بغض( کینہ ) رکھنے والوں کو ان کی حالت
پر چھوڑ دیتا ہے۔ ( شعب الایمان ، باب فی
الصیام ، ما جاء فی لیلتہ النصف من شعبان ج 3 ص 382 الحدیث 3835)
(4) جنت
کی خوشبو بھی نہ پائے گا : حضور نبی کریم روف الرحیم ﷺ کا فرمان عبرت
نشان ہے : جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ
سکے گا ۔ ( حلیتہ الاولیاء ج 8 ص 105 الحدیث 11536)
(5) جہنم
میں داخلہ: حضور
نبی اکرم ﷺ میں فرمایا: بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہے، یہ دونوں کسی
مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ ( المعجم الاوسط باب العین من اسمہ عبدالرحمن
ج3 ص 301 الحدیث 4653)
پیارے
اسلامی بھائیو! یاد رہے کسی مسلمان سے بلا وجہ شرعی کینہ و بغض رکھنا حرام ہے۔(
فتاویٰ رضویہ ج 6 ص 526 ) مسلمانوں کیلئے دل ہی دل میں پلنے والا بغض و کینہ اللہ
رسول کی ناراضگی ، دنیا و آخرت میں رسوارئی اور جہنم میں داخلہ کا سبب بن سکتا
ہے لہذا اس مہلک بیماری سے بچنا بے حد ضروری ہے ۔
چند طریقوں
پر عمل کر کے بغض و کینہ جیسی بیماری سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکتا ہے :
کینے
کے اسباب (غصہ ،بدگمانی، شراب نوشی، جوا وغیرہ)دور کرنا، سلام مصافحہ کی عادت
بنانا، مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کرنا، کینے کے نقصانات پر غور کرنا کہ
کینہ اللہ و رسول کی ناراضگی، دوزخ میں داخلے، بخشش سے محرومی اور بھی بہت سے گناہوں کا سبب بن سکتا ہے ۔
اللہ
پاک ہمیں بغض و کینہ جیسی مذموم بیماری سے بچ کر اپنی رضا کے لیے مسلمان بھائیو سے
محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
واٹس ایپ نمبر :
03237160866
اسلام
ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو نہ صرف عبادات بلکہ انسانی اخلاق، معاملات اور باہمی
تعلقات کو بھی منظم کرتا ہے۔ دین اسلام محبت، اخوت، رواداری، اور دلوں کی صفائی کا
درس دیتا ہے، جبکہ بغض (دشمنی) اور کینہ (دل میں نفرت یا حسد رکھنا) کی سختی سے
مذمت کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث میں بغض و کینہ کو نہ صرف گناہ کبیرہ قرار دیا
گیا ہے بلکہ اسے ایمان کے منافی بھی قرار دیا گیا ہے۔ اس مضمون میں ہم احادیث کی
روشنی میں بغض و کینہ کی مذمت اور اس کے نقصانات پر روشنی ڈالیں گے۔
بغض و کینہ
کی تعریف: بغض کا
مطلب ہے دل میں کسی کے خلاف دشمنی اور نفرت رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں دبائے
رکھنا اور اس کا بدلہ لینے کی نیت رکھنا ہے۔ یہ دونوں صفات انسان کو نہ صرف روحانی
طور پر تباہ کرتی ہیں بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتی ہیں۔
احادیث
میں بغض و کینہ کی مذمت:
(1) ایمان
کی نفی: ہمارے
پیارے نبی اکرم ﷺ نے مسلمانوں کو ایک دوسرے سے محبت رکھنے کی نصیحت کی ہے ، چنانچہ
فرمایا : وَالَّذِي
نَفْسِي بِيَدِهِ لَاتَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا
تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری
جان ہے : تم جنت میں اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک ایمان نہ لے آؤ ، اور تم ( کامل
) مؤمن نہیں ہو سکتے جب تک کہ تم آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو۔ "
(ابن ماجہ ، 4/200 ، حدیث : 3692)
اس حدیث
سے واضح ہوتا ہے کہ ایمان کی تکمیل آپس کی محبت کے بغیر ممکن نہیں، اور بغض و کینہ
محبت کی ضد ہیں۔
(2) اعمال
کی قبولیت کا انکار: نبی ﷺ نے فرمایا:
صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب النھی عن الشحناء والتھا جر کے تحت سید نا ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ہر جمعرات اور سوموار کو تمام اعمال
پیش کئے جاتے ہیں تو اس دن اللہ تعالیٰ ہر اس آدمی کو بخش دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ
کے ساتھ شرک نہیں کرتا سوائے اس آدمی کے کہ جس کے درمیان اور اس کے بھائی کے درمیان
عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دیجئے۔ یہاں تک کہ صلح کر لیں۔‘‘(صحیح
مسلم 2/317)
اس حدیث
سے ظاہر ہوتا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والوں کے اعمال بھی لٹکے رہتے ہیں اور مغفرت
نہیں ہوتی جب تک وہ آپس میں صلح نہ کریں۔
(3) دل
کی صفائی کی ترغیب: رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا: حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہ فرماتے ہیں : پیارے آقا ، نور والے
مصطفےٰ ﷺ کی پاک بارگاہ میں عرض کیا گیا : اَیُّ النَّاسِ اَفْضَلُ یا
رسولَ اللہ ﷺ ! لوگوں میں اَفْضَل کون ہے؟ فرمایا : کُلُّ مَخْمُوْمِ الْقَلْبِ ،
صُدُوقُ اللِّسَانِ ہر وہ بندہ جو مَخْمُوْمُ الْقَلْب ہے اور سچّی زبان
والا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوَان نے عرض کیا : یا رسولَ اللہ ؤ ! صُدُوْقُ اللِّسَان (یعنی سچّی زبان والا)
کسے کہتے ہیں ، یہ تو ہم جانتے ہیں ، مَخْمُوْمُ الْقَلْب کون ہے؟ فرمایا : وہ متقی شخص
جس پر کوئی گُنَاہ نہ ہو ، اس کے دِل میں نہ سرکشی ہو ، نہ کینہ ہو ، نہ ہی حسد
ہو۔ (ابنِ ماجہ ، کتابُ الزُّہد ، جلد : 4 ، صفحہ : 475 ، حدیث : 4216)
یہ حدیث
ایک مؤمن کے اعلیٰ اخلاق کی نشاندہی کرتی ہے، جو کہ بغض و کینہ سے پاک دل رکھتا
ہے۔
بغض و کینہ
کے نقصانات
(1) دل میں بغض و کینہ رکھنے والا انسان ہمیشہ بے
سکون رہتا ہے، اس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، اور وہ اللہ کی رحمت سے دور ہو جاتا
ہے۔
(2) بغض
و کینہ معاشرتی رشتوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ بھائی بھائی سے، دوست دوست سے دور ہو
جاتے ہیں، جس سے معاشرہ انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔
(3) جیسا
کہ حدیث میں آیا کہ بغض رکھنے والے کے اعمال معلق ہو جاتے ہیں، اور ان کی قبولیت
رُک جاتی ہے، جو کہ ایک مؤمن کے لیے بڑا نقصان ہے۔
(4) مسلسل
بغض رکھنے سے انسان کا ذہن منفی سوچ کا شکار ہو جاتا ہے، وہ خوشی محسوس نہیں کر
پاتا، اور حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے۔
بغض و کینہ
سے بچنے کے طریقے:
(1) :
اس بات کو یاد کرتے رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ بار بار معاف فرمانے والا ہے، اور
اس نے ہمیں بھی معاف کرنے کا حکم دیا ہے۔
(2) نبی
ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! میرے دل کو نفاق سے اور میرے عمل کو ریا سے
پاک فرما۔ ۔۔الخ(مشكوة المصابيح/كتاب الدعوات/حدیث: 2501)
(3) سلام
آپسی محبت پیدا کرتا ہے اور دلوں کی دوری کو ختم کرتا ہے۔
(4) یہ
مجاہدہ (نفس کے خلاف جنگ) کرنا ضروری ہے، اور قرآن کی تلاوت، ذکر، اور صحبت صالحین
سے اس میں مدد ملتی ہے۔
اسلام
ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے جو محبت، رواداری، اور باہمی
احترام پر قائم ہو۔ بغض و کینہ ایسی بیماریاں ہیں جو نہ صرف فرد کی روحانیت کو
تباہ کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرے کو بھی زہر آلود کر دیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات
ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہیں کہ ہم دلوں کو صاف رکھیں، ایک دوسرے کو معاف کریں،
اور محبت و اخوت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو بغض و کینہ
سے پاک کر کے ان اخلاقِ حسنہ کو اپنائیں جن کی تعلیم نبی کریم ﷺ نے دی، تاکہ ہم دنیا
و آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔
اللہ پاک ہمیں عمل
کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
Dawateislami