قرآن کریم رب تعالیٰ کا کلام ہے جو کہ اس نے اپنے بندے خاص حضور  آخری نبی محمد عربی ﷺ پر نازل کیا قرآن کریم کا ہر ہر حرف علم و حکمت رہنمائی اور سر چشمہ ہدایت ہی ہدایت ہے لیکن قرآن سے اسی وقت ہدایت لی جا سکتی ہے کہ جب اسے پڑھا جائے اور اس کی آیات میں غور و فکر کیا جائے جس طرح رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)

ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

اس آیت کے تحت مفتی محمد قاسم صاحب لکھتے ہیں: قرآنِ پاک کی آیات سے دینی اَحکام نکالنا ہر ایک کاکام نہیں : قرآنِ پاک کی آیات سے نصیحت تو ہر ایک حاصل کرسکتا ہے لیکن اس سے دینی اَحکام نکالنااور اس کی باریکیوں تک رسائی حاصل کرنا ہر ایک کاکام نہیں بلکہ صرف ان کا کام ہے جو اعلیٰ درجے کی دینی عقل رکھتے ہیں یعنی ماہرعلماء اور خاص طور پر مُجتہدین ا س منصب کے اہل ہیں ، عوام کو چاہیے کہ قرآنِ پاک سے دینی مسائل نکالنے کی بجائے علماء سے مسائل سیکھیں تاکہ غلطیوں سے بچ سکیں۔

بہترین شخص کون ہے :

قرآن پاک پڑھنے کی ترغیب تو ہمیں خود رسول اللہ ﷺ نے دلائی ہے جس طرح حدیث مبارکہ میں ہے: عَنْ عُثْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ خَیْرُکُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَہُ‘‘۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور دوسروں کو سکھایا۔(انوار الحديث، حدیث نمبر : 48 )

قرآن پڑھنے سے کیا ملتا ہے :

1: قرآن پڑھنا اعمال میں اضافے کا سبب ہے کہ ہر ہر حرف کے بدلے دس دس نیکیاں اعمال نامے میں لکھی جاتی ہیں۔

2: قرآن پڑھنے سے اللہ رسول عزوجل و ﷺ کا قرب ملتا ہے ۔ قرآن کلام ہے رب تعالیٰ کا اور جب بندہ قرآن پڑھتا ہے تو گویا کہ وہ رب تعالیٰ سے ہم کلام ہوتا ہے ۔

3: قرآن پڑھنے سے روح کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے : اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸) ترجمہ کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

تو جتنا قرآن پڑھا جائے گا اتنا ہی دل نرم ہوتا جائے گا۔

مطالعہ قرآن نہ کرنے کے نقصانات

1: دین کی تعلیمات سے دوری پیدا کرتا ہے جس وجہ سے

2: آخرت میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

3: بے سکونی و بے قراری پیدا کرتا ہے

4: دل کی سختی اور راہ حق سے دوری کا سبب بنتا ہے

5: اخلاقی زوال کی بوچھاڑ کا باعث بنتا ہے

6: نیکیوں میں کمی، اور برکت کے اٹھ جانے کا باعث بنتا ہے

8: موت میں تنگی اور ایمان کے کمزور ہونے کا سبب بنتا ہے

9: سب سے بڑھ کر یہ کے بندے کے لیے رب کی رحمت سے دوری ہو جاتی ہے اور پھر آفات اور اندھیرے اسے گھیر لیتے ہیں۔

ہمیں چاہیے کہ اللہ سے لو لگائے رکھیں جس کا ایک طریقہ بکثرت قرآن پاک کی تلاوت بھی ہے، اللہ تعالی ہمیں قرآن پڑھنے اور کی تعلیمات کو سیکھ کر عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ


قرآن مجید ، اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم اور بابرکت کلام ہے جو پوری انسانیت کے لیے ہدایت، علم، حکمت اور روشنی کا سر چشمہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو انسان کو خالقِ کائنات سے جوڑتی ہے اور اسے مقصدِ زندگی سے آگاہ کرتی ہے۔ مطالعۂ قرآن دراصل بندگیِ خداوندی کا پہلا زینہ ہے۔ کیونکہ جب بندہ قرآن کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے لگتا ہے تو اس کے دل میں ایمان کی روشنی پیدا ہوتی ہے، اور وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔

قرآن، علم و ہدایت کا منبع:

قرآن کا مطالعہ محض دینی فریضہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کے بارے میں فرمایا:

هٰذَا بَصَآىٕرُ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ(۲۰)ترجمہ کنزالایمان: یہ لوگوں کی آنکھیں کھولنا ہے اور ایمان والوں کے لیے ہدایت و رحمت ۔(سورۃ الجاثیہ: 20)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ قرآن کا مطالعہ زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ چاہے وہ اخلاق ہو یا سیاست، معیشت ہو یا معاشرت، قرآن ہر میدان میں توازن اور عدل کی تعلیم دیتا ہے۔

مطالعہ قرآن کا انسان کی شخصیت پر اثر:

جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کی سوچ پاکیزہ ہو جاتی ہے، اخلاق سنور جاتے ہیں، اور زندگی کے فیصلوں میں بصیرت پیدا ہوتی ہے۔ مطالعۂ قرآن دل سے تکبر، حسد، لالچ، اور نفرت جیسے امراض کو ختم کر دیتا ہے، اور انسان کو عاجزی، صبر، محبت اور تقویٰ کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔

قرآنِ کریم اللہ ربّ العزت کا وہ عظیم کلام ہے جو انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت اور نجات کا سرچشمہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس میں زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔ مطالعۂ قرآن کا مقصد محض الفاظ کی تلاوت نہیں، بلکہ ان کے معانی و مفاہیم پر غور و تدبّر کرنا، اور انہیں اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ یہی مطالعہ دراصل انسان کے دل و دماغ کو منور کرتا ہے اور روحانی سکون کا باعث بنتا ہے۔

قرآن کے مطالعہ کی دینی فضیلت:

اللہ پاک نے قرآن مجید فرقان حمید کے اندر ارشاد فرمایا:ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (۲) ترجمہ کنزالایمان: وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورۃ البقرہ: 2)

قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر غور و فکر کرنے والے بندے اللہ کے خاص قرب کے حقدار بنتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔" (بخاری شریف)

قرآن کے الفاظ کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں ملتی ہیں، اور جو شخص قرآن کو سمجھ کر پڑھتا ہے، اس کے دل میں ایمان کی جڑیں مضبوط ہو جاتی ہیں۔ یہ کتاب انسان کو شرک، جہالت، ظلم، حسد اور گناہوں کی تاریکی سے نکال کر ایمان، علم، عدل اور نیکی کی روشنی میں لے جاتی ہے۔

قرآن کے مطالعہ کے دنیاوی فوائد:

مطالعۂ قرآن صرف آخرت کی نجات کا ذریعہ نہیں بلکہ دنیاوی زندگی کو کامیاب بنانے کا بھی بہترین نسخہ ہے۔ قرآن انسان کو تحمل، انصاف، ایمانداری، صبر، شکر اور اخوت کی تعلیم دیتا ہے۔ جو شخص قرآن کے احکامات پر عمل کرتا ہے، اس کی شخصیت سنور جاتی ہے، اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے، اور اس کے معاملات میں برکت پیدا ہوتی ہے۔

قرآن کا مطالعہ دل کی گھبراہٹ کو سکون میں بدل دیتا ہے۔ آج کی تیز رفتار اور اضطرابی دنیا میں قرآن سے تعلق وہ واحد ذریعہ ہے جو انسان کو ذہنی و روحانی اطمینان بخشتا ہے۔

اسی لیے اللہ پاک ایک اور جگہ قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرماتا ہے: اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ (۲۸) ترجمہ کنزالایمان؛ سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (سورۃ الرعد: 28)

مطالعہ قرآن کی افادیت:

قرآن کا مطالعہ صرف زبان تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اس کے پیغام کو سمجھیں، اپنی زندگی میں نافذ کریں، اور دوسروں تک پہنچائیں۔ اگر مسلمان قرآن کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔

مطالعۂ قرآن انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ یہ کتاب ہر دور کے لیے ہدایت ہے، ہر انسان کے لیے پیغامِ زندگی ہے، اور ہر دل کے لیے سکون کا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرے، اسے سمجھے، اس پر عمل کرے، اور دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دے ۔

اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


قرآن مجید  اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم کتاب ہے جو انسانیت کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی۔ یہ کتاب نہ صرف مسلمانوں کے لیے ایک ضابطۂ حیات ہے، بلکہ پوری انسانیت کے لیے روشنی اور نجات کا ذریعہ ہے۔ مطالعۂ قرآن کا مقصد صرف اس کی تلاوت کرنا نہیں، بلکہ اسے سمجھنا، اس پر غور کرنا اور اپنی زندگی میں اس کے احکامات کو نافذ کرنا بھی ہے۔

آئیے مطالعہ قران کے بارے اہمیت کے بارے میں پڑھتے ہیں:

(1)قرآن ہدایت ہے : قرآن مجید ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور اس کا مطالعہ انسان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے ۔ قرآن کی تعلیمات زندگی کے ہر پہلو کو روشن کرتی ہیں، خواہ وہ عقائد ہوں، عبادات، اخلاقیات، معاشرت یا معاملات۔

هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ ترجمہ کنزالایمان : ہدایت ہے ڈر والوں کو ۔ (سورة بقرہ آیت نمبر 2)

(2)قرآن میں غورفکر کرنا: قرآن صرف عربی زبان میں پڑھنے کے لیے نہیں نازل ہوا، بلکہ اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۹)ترجمہ کنزالایمان: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تاکہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔ (پ23،ص29)

(3)ايک حرف دس نیکیوں کے برابر:

قرآن مجید فرقان حمید اللہ ربُّ الا نام عَزَّوَجَلَّ کا مُبارَک کلام ہے، اس کا پڑھنا، پڑھانا اور سننا سنانا سب ثواب کا کام ہے۔ قرآن پاک کا ایک حرف پڑھنے پر 10 نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، چنانچہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمَۃ لِلعالمین ﷺ کا فرمان دلنشین ہے: ” جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھے گا، اُس کو ایک نیکی ملے گی جو دس کے برابر ہو گی ۔ میں یہ نہیں کہتا اللہ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حروف ، لام حرف اور میم ایک حرف ہے۔“ ( سُنَن الترمذى ج 4 ص 418 حديث (2919)

(4)قرآن شفاعت کر کے جنت میں لے جائے گا:

حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، رحمت عالَم ، نُورِ مُجَسَّم ، شاہِ بنی آدم ، رسولِ مُحتشم ﷺ کا فرمان معظم ہے: جس شخص نے قرآن پاک سیکھا اور سکھایا اور جو کچھ قرآن پاک میں ہے اُس پر عمل کیا، قرآن شریف اس کی شفاعت کریگا اور جنت میں لے جائے گا ۔ (تاریخ دمشق لابن عساکر ج 41 ص 3 ، المُعْجَمُ الكبير للطبراني10 ص 198 حديث 10450)

(5)ایک آیت سکھانے والے کیلئے قیامت تک ثواب:

ذوالنورین ، جامع القرآن حضرت سید نا عثمان ابن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار مدینہ منورہ ، سلطان مکہ مکرمہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے قرآنِ مبین کی ایک آیت سکھائی اس کے لیے سیکھنے والے سے دُگنا ثواب ہے۔ ایک اور حدیث پاک میں حضرت سید نا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ خاتَمُ الْمُرْسَلین ، شفیع الْمُذْنِبين ، رَحمۃ لِلعالمین ﷺ فرماتے ہیں: جس نے قرآن عظیم کی ایک آیت سکھائی جب تک اس آیت کی تلاوت ہوتی رہے گی اس کے لیے ثواب جاری رہے گا ۔ (جمع الجوامع ج 7 ص 282 حديث 22455 - 22456)

پیارے اسلامی بھائیو! تلاوت قرآن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے معانی، پیغام اور مقصد کو بھی سمجھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں، تاکہ ہم اس کی تعلیمات کو سمجھ سکیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں۔اگر ہم دنیا اور آخرت میں کامیابی چاہتے ہیں، تو ہمیں قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا۔ قرآن کو وقت دیں، اسے سمجھیں، اور اس پر عمل کریں، یہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔

اللہ عزوجل ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


قراٰنِ کریم ربِّ کائنات کی طرف سے نازل ہونے والا ایسا دستورِ حیات ہے جو انسانیّت کے لیے ہدایت، رَحمت اور ‏روشنی ‏کا سرچشمہ ہے۔ یہ محض ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ عدل و انصاف، اخلاق و کردار اور فلاحِ انسانیّت کا کامل منشور ہے۔ ہماری ‏‏دنیاوی و اُخروی کامیابی اسی کتاب سے مضبوط تعلّق رکھنے میں پوشیدہ ہے۔

قراٰنِ کریم کا مطالعہ صرف الفاظ کی تلاوت نہیں بلکہ روح کی غذا اور دل کے اطمینان کا ذریعہ ہے۔ یہ ہمیں مقصدِ حیات ‏سمجھاتا، ‏کردار سنوارتا اور ظلمتوں میں راہِ ہدایت دکھاتا ہے۔ جب ہم غور و تدبر سے قراٰن کو پڑھتے ہیں تو گویا اپنے خالق سے ‏ہم کلام ہوتے ‏ہیں۔ اس کا نور دل کے اندھیروں کو مٹا دیتا ہے اور ہمیں صحیح راستے پر چلنے کی توفیق بخشتا ہے تاکہ ہم دنیا کی ‏حقیقت سمجھ کر آخرت کی ‏کامیابی کے لیے تیّار ہو سکیں۔

تدبّر کا حکم‏:‏ قراٰنِ کریم خود اپنے مطالعہ کرنے والوں کو صرف تلاوت تک محدود رہنے کا نہیں کہتا، بلکہ گہرے غور و فکر، ‏تدبّر اور تفکّر کی دعوت ‏دیتا ہے۔ ‏ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَؕ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا غور نہیں کرتے ‏قرآن میں۔ (پ 5، النسآء: 82)‏

صراطُ الجنان میں ہے:اس سے معلوم ہوا کہ قرآن میں غور و فکر کرنا اعلیٰ درجے کی عِبادت ہے۔ امام ‏غزالی‏ رحمۃُ اللہِ علیہ ‏احیاء العُلوم‎ ‎میں فرماتے ہیں کہ ایک آیت سمجھ کر اور غور و فکر کر کے پڑھنا بغیر غور و فکر کئے پورا قرآن ‏پڑھنے سے بہتر ہے۔ ‏‏(صراط الجنان، 2/258)‏

حضرت اِیاس بن مُعاویہ‎ ‎رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ قرآنِ مجید‎ ‎پڑھتے ہیں اور ‏وہ تفسیر‎ ‎نہیں جانتے ان کی مثال‎ ‎ان ‏لوگوں کی طرح ہے جن کے پاس رات کے وقت ان کے بادشاہ کا خط آیا اور ان کے ‏پاس چراغ نہیں جس کی روشنی میں وہ اس ‏خط کو پڑھ سکیں تو ان کے دل ڈر گئے اور انہیں معلوم نہیں کہ اس خط میں کیا لکھا ہے؟ ‏اور وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہے اور اس ‏کی تفسیر جانتاہے اس کی مثال اس قوم کی طرح ہے جن کے پاس قاصد چراغ لے کر آیا تو ‏انہوں نے چراغ کی روشنی سے خط ‏میں لکھا ہوا پڑھ لیا اور انہیں معلوم ہوگیا کہ خط میں کیا لکھاہے۔‏(صراط الجنان، 1/34) ‏

مطالعۂ قراٰن کی ضَرورت کیوں ہے؟

‏(1) ہدایت کا واحد ذریعہ:ہماری زندَگی میں بے شمار چیلنجز اور سوالات ہوتے ہیں۔ قراٰنِ کریم ہمیں ہر مسئلے میں صحیح راہ ‏دکھاتا ہے، حلال ‏و حرام کی تمیز سکھاتا اور ہمیں زندَگی کے ہر شعبے میں راہنمائی فراہم کرتا ہے۔

‏(2) اخلاقی تربیَت:قراٰنِ پاک بہترین اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، جیسے سچّائی، امانت داری، عفو و درگزر، عدل و انصاف اور ‏دوسروں کے ‏ساتھ حسنِ سلوک، مطالعۂ قراٰن سے ہم اپنے اخلاق کو بہتر بنا سکتے ہیں۔

‏(3) ذہنی سکون اور قلبی اطمینان:‏دنیا کی بے چینیوں اور پریشانیوں کے بیچ، قراٰن کے مطالعہ سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ ‏اللہ تعالیٰ ‏فرماتا ہے:﴿اَلَا بِذِكْرِ اللّٰهِ تَطْمَىٕنُّ الْقُلُوْبُؕ(۲۸)﴾ ترجمۂ کنزالایمان: سن لو اللہ کی یاد ہی میں دلوں کا چین ہے۔ (پ13، الرعد: ‏‏28)‏

‏(4) تاریخی واقعات اور عبرتیں:قراٰن سابقہ اَقوام کے واقعات بیان کرتا ہے تاکہ ہم ان سے عبرت حاصل کریں اور ‏ان کی غلطیوں سے ‏بچیں۔

‏(5) سائنس اور کائنات کے رازوں کی طرف اشارے: ‏قراٰن میں کائنات، انسان کی تخلیق اور قدرتی مظاہر کے بارے ‏میں ایسے ‏اشارے ملتے ہیں جو سائنسی تحقیقات کی بنیاد بنے۔

‏(6) شیطان کے ہتھکنڈوں سے بچاؤ:قراٰن کا علم ہمیں حق و باطل میں تمیز سکھاتا ہے اور شیطان کے وسوسوں اور فریب ‏سے بچنے میں ‏مدد دیتا ہے۔

آج ضَرورت اس بات کی ہے کہ ہم قراٰن کو صرف بَرکت کے لیے نہ پڑھیں بلکہ سمجھ کر اپنی زندگیوں کا حصّہ بنائیں۔ ‏روزانہ ‏چند آیات پڑھنے اور ان پر غور کرنے کی عادت بنائیں۔ قراٰنِ کریم سے تعلّق ہی دلوں کو زندہ کرتا، معاشرے کو ‏سنوارتا اور ‏اُمّت کو متّحد کرتا ہے۔ اگر ہم نے قراٰن سے دوری ختم نہ کی تو ہم روشنی کے بجائے اندھیروں میں بھٹکتے رہیں ‏گے۔

یاد رکھیں! قراٰن ایک زندہ معجزہ ہے، جو ہماری مُردہ روحوں کو نئی زندگی بخش سکتا ہے۔ اس پر تدبّر کرنا اور اس کے ‏احکامات پر ‏عمل کرنا ہی ہماری دنیا اور آخِرت کی کامیابی کا ضامن ہے۔

اللہ پاک ہمیں قراٰنِ پاک پڑھ کر، سمجھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النّبیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم ‏


ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے حصے کی زندگی گزار کر جہان  آخرت کی طرف روانہ ہو جانا ہے اور آخرت میں ہمیں مختلف مراحل سے گزرنا ہے یعنی پل صراط قبر و حشر وغیرہ سے اور ان سب نازک ترین لمحات میں کامیاب وہی ہوگا جس نے دنیا میں اچھے اور نیک اعمال کیے ہوئے ہوں گے اب دنیا میں کیے جانے والے اعمال بعض ظاہری طور پر اچھے ہوتے ہیں جیسے نماز و روزہ اور بعض باطنی طور پر نیک ہوتے ہیں جیسے اخلاص ۔اب دوسری طرف دیکھیں تو بعض کام ظاہری طور پر اچھے نہیں ہوتے ان پر گناہ ہوتا ہے جیسے نماز نہ پڑھنا جھوٹ بولنا اور بعض کام باطنی طور پر برے ہوتے ہیں جیسے بغض و کینہ وغیرہ۔

بغض و کینہ کی تعریف:

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔

قرآن پاک میں بغض و کینہ کی مذمت: اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے۔

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

صدر الافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمۃ اللہ علیہ خزائن العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خوری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکر الہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے۔

احادیث مبارکہ میں بغض و کینہ کی مذمت :

اللہ کے محبوب دانائے غیوب منزہ عن العیوب عزوجل و ﷺ کا فرمان عالی شان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جب کہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے ۔(شعب الایمان باب فی الصیام حدیث3835)

ایک اور جگہ پر ارشاد فرماتا ہے: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ لیتا ہے یعنی تباہ کر دیتا ہے ۔ (کنزالعمال کتاب الاخلاق حدیث ٥٤٨٦)

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: آپس میں حسد نہ کرو نہ بغض کرو نہ پیٹھ پیچھے برائی کرو اور اللہ عزوجل کے بندے بھائی بھائی ہو کر رہو ۔ (صحیح بخاری کتاب الادب حدیث٦٠٦٦)

حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد اور چغلی اور کہانت نہ مجھ سے ہیں اور نہ میں ان سے ہوں یعنی مسلمان کا ان چیزوں سے بالکل تعلق نہ ہونا چاہیے۔ (مجمع الزوائد کتاب الادب حدیث١٣١٢٦)

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حسد ایمان کو ایسے بگاڑتا ہے جس طرح ایلوا(یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رس) شہد کو بگاڑ دیتا ہے ۔ (الجامع الصغیر للسیوطی حرف الحاء حدیث ٣٨١٩)

حضرت انس سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : حسد نیکیوں کو اس طرح کھاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو کھاتی ہے اور صدقہ خطا کو بجھاتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے ۔ (سنن ابن ماجہ کتاب الزہد باب الحسد حدیث ٤٢١)

اللہ تعالی ہمیں تمام باطنی امراض سے اور تمام باطنی گناہوں سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔ 

محمد مومن خان  

Mon, 13 Apr , 2026
26 days ago

اسلام ایک ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کو ظاہری اور باطنی دونوں اعتبار سے پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن و سنت میں انسان کے دل و دماغ کی اصلاح پر خاص زور دیا گیا ہے، کیونکہ دل ہی تمام اعمال کا مرکز ہے۔ اگر دل صاف اور خالص ہو تو انسان کے تمام اعمال نیک بن جاتے ہیں، اور اگر دل میں بغض، حسد اور کینہ گھر کر لے تو انسان کی نیکیوں کی روشنی بجھ جاتی ہے۔

بغض و کینہ ایسی روحانی بیماریاں ہیں جو انسان کے اخلاق، عبادت اور تعلقات کو تباہ کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو بارہا ان سے بچنے کی تاکید فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان بھائیوں کے درمیان محبت، خیرخواہی اور اتحاد پیدا کرو، کیونکہ بغض و کینہ نہ صرف ایمان کو کمزور کرتے ہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے اتحاد کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اسلام کی یہ تعلیمات ہمیں اس طرف متوجہ کرتی ہیں کہ دلوں کی صفائی، عفو و درگزر، اور باہمی محبت ہی ایک سچے مومن کی پہچان ہے۔

آئیے بغض و کینہ کی مذمت حدیث پاک کی روشنی میں ملاحظہ کیجئے:

حضرت سیدنا ابن عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی خدمت میں کچھ لوگ گھبراہٹ کے عالم میں حاضر ہوئے اور عرض کی:ہم حج کی سعادت پانے کے لیے نکلے تھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی بھی تھا جب ہم ذات الصفاح کے مقام پر پہنچےتو وہ انتقال کر گیا۔ہم نے اس کے غسل کفن کا انتظام کیا پھر اس کے لیے قبر کھودی اور اسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اس کہ قبر کالے کالےسانپوں سے بھری ہوئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑ کر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے باہر گئی،چنانچہ ہم نے اسے وہاں بھی نہیں دفنایا اور آپ کے پاس حاضر ہو گئے ہیں۔حضرت سیدنا عبّاس نے فرمایا:يہ اس کا کینہ ہے جو وہ اپنے دل میں رکھتا تھا،جاؤ!اور اسے وہیں دفن کر دو۔ (مو سوعۃ ابن ابی دنيا،كتاب القبور،٦/٨٣)

دافع رنج و ملال ، صاحب جو دونو ال ﷺ کا فرمان با کمال ہے : عنقریب میری امت کو پچھلی امتوں کی بیماری لاحق ہوگی ۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کی : پچھلی اُمتوں کی بیماری کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تکبر کرنا ، اترانا، ایک دوسرے کی غیبت کرنا اور دُنیا میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرنا نیز آپس میں بغض رکھنا ۔۔ (المعجم الاوسط، باب الميم من اسمہ مقدام ٣٤٨/٦٠ الحديث : ٩٠١٦)

سرکار عالی وقار، مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا: إِنَّ النَّمِيمَةَ وَالْحِقْدَ فِي النَّارِ لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ مُسْلِمٍ بے شک چغل خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں، یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔

اللہ پاک ہمیں احادیث پڑھ کر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


فون نمبر: 03062334546

پیارے اسلامی بھائیو!ْ بہت سارے باطنی گناہوں میں سے ایک گناہ بغض و کینہ بھی ہے اس کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لیے ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ کینہ کسے کہتے ہیں۔

کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے دشمنی بغض رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔ کینے کے بہت سارے نقصانات ہیں :" دوزخ میں داخلہ٫ شب برات میں بھی محروم رہنا ، جو کینہ رکھتا ہے جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ، ایمان برباد ہونے کا خطرہ ہے دعا قبول نہیں ہوتی دیگر گناہوں کا دروازہ کھل جاتا ہے۔

آئیے کچھ احادیث مبارکہ سنتے ہیں جن میں پیارے آقا ﷺ نے کینہ کے بارےمیں مذمت فرمائی:

(1) بخشش نہیں ہوتی:

پیارے پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ آئیں"( صحیح مسلم٫ کتاب البرو الصلتہ٫ باب النہی عنہ الشحناء٫ صفحہ نمبر: 1388 حدیث نمبر: 2565)

2) چغل خوری اور کینہ پروری دوزخ میں لے جائیں گے : سرکار علی وقار مدینے کے تاجدار ﷺ نے فرمایا : بے شک چغل خور اور کینہ پروری جہنم میں ہے یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو سکتے ۔ (المعجم الاوسط،با ب العین ،من اسمہ عبدالرحمن،جلد:3 صفحہ نمبر: 301، حدیث نمبر: 4653)

(3) رحمت و مغفرت سے محرومی:

اللہ عزوجل کے محبوب ﷺ کا فرمان عالیشان ہے: اللہ عزوجل ماہ شعبان کی پندرھویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلی فرماتا ہے، مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان،جلد نمبر: 3 ص: 382 ح:3835)

(4) جنت کی خوشبو بھی نہ پائے گا :

پیارے آقا مدینے والے مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ (حیات الاولیاء، جلد نمبر: 8 صفحہ نمبر: 108، حدیث نمبر: 1153)

(5) پچھلی امتوں کی بیماری:

اللہ پاک کے پیارے حبیب ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور بغض سرایت کر گئی یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ یہ بال مونڈتی ہے بلکہ یہ دین کو مونڈتی ہے ۔ (سنن ترمذی، کتاب صفاتہ القیامتہ،جلد نمبر: 3 صفحہ نمبر: 228، حدیث نمبر: 2518)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دل ہی دل میں پلنے والے کینہ کے بارے میں کچھ علاج سنتے ہیں کہ کیسے اس گناہ سے باز رہا جائے:

1: ایمان والوں کے کینے سے بچنے کی دعا کیجئے

2: کینے کے اسباب مثلا غصہ، بدگمانی، شراب نوشی، جوا وغیرہ دور کیجیے

3: السلام و مصافحہ کی عادت بنا لیجئے

4: بے جا سوچنا چھوڑ دیجئے

5: دنیاوی چیزوں کی وجہ سے بغض و کینہ رکھنے کے نقصانات پر غور کیجئے۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ ہمیں اس بغض و کینہ جیسی بیماری سے بچتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 


جس طرح مختلف امراض صحت کے لیے مہلک ہیں اسی طرح باطنی امراض ایک مسلمان کی آخرت اور روحانی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ان بیماریوں میں سے بغض و کینہ بھی ہے، اس سے مراد کسی دوسرے مومن کے بارے میں دل میں بلا وجہ دشمنی رکھنا ہے اور کسی مسلمان سے بلا وجہ شرعی دشمنی رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ آئیں اس سے متعلق قرآن و حدیث سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔

شیطان کی چاہت : اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

سیدی و مرشدی صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی رحمہ اللہ تعالیٰ ’’خزائن العرفان‘‘ میں اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔‘‘(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53،54)

بغض دین کو مونڈ ڈالتا ہے:

حضور جان عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلۃ ۔۔۔الخ، ج3، ص383، حدیث: 3835 )

اس حدیث مبارکہ میں بغض رکھنے والے سے بچنے کا حکم دیا کیونکہ بغض رکھنے والے کا ایمان تباہ ہو جاتا ہے۔

ان تمام سے معلوم ہوا کہ کسی مسلمان سے بغض و کینہ رکھنا شرعاً درست نہیں اس کے بہت سے نقصانات ہے جیسے گناہوں میں اضافہ،بے سکونی،ایمان کی کمزوری، دعاؤں کی عدم قبولیت وغیرہا۔

اللہ پاک ہمیں تمام باطنی بیماریوں سے محفوظ رکھے۔ آمین


بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ،نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد   الخ، 3/ 223)

(1) عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا ‘‘ وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ ‘‘(رَوَاهُ مُسْلِم)

ترجمہ حدیث: حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔(مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث:6541)

(2) وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ

ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (احمد،ترمذی) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(3) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

ترجمہ حدیث:روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو (مسلم،بخاری)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028 )

(4) وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ لِيْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا بُنَيَّ إِنْ قَدَرْتَ أَنْ تُصْبِحَ وَتَمْسِيْ وَلَيْسَ فِي قَلْبِكَ غِشٌّ لِأَحَدٍ فَافْعَلْ ثُمَّ قَالَ: يَا بُنَيَّ وَذٰلِكَ مِنْ سُنَّتِيْ وَمَنْ أَحْيَا سُنَّتِيْ فَقَدْ أَحَبَّنِيْ وَمَنْ أَحَبَّنِيْ كَانَ مَعِيَ فِي الْجَنَّةِ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بچے اگر تم یہ کرسکو کہ صبح اور شام ایسے گزارو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے کھوٹ (کینہ)نہ ہو تو کرو پھر فرمایا کہ اے میرے بچے یہ میری سنت ہے اور جو میری سنت سے محبت کرے اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ (ترمذی)

(5) وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاھِنٍ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

ترجمہ حدیث: روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ) (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 )


بغض وکینہ کی تعریف: کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،ص53)

بغض و کینہ ایک بہت بری بیماری ہے اس کی مذمّت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں اور اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

(1) بغض رکھنے والوں کی مغفرت نہیں :

اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ماہ شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات،ص54)

(2) دین مونڈ دیتا ہے :

حضرت زبیر رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے فرماتے ہیں رسول الله ﷺ نے فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(3) منافقت کی نشانی : حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے ۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215 )

(4) اللہ کی ناراضگی : حضرت براء سےروایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو گا۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6216)

(5) بغض رکھنے سے دین چھوڑ بیٹھو گے :

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ سےروایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گے میں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998 )

پیارے اسلامی بھائیو! سنا آپ نے بغض کتنی خطرناک بیماری ہے اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین


آج کل معاشرے میں لوگ ایک دوسرے سے بغض رکھتے ہیں یہ بیماری بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اگر ہم بطور مسلمان یہ غور کریں کہ ہمارے پیارے اسلام نے ہماری کیا تربیت فرمائی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ کیسے رہیں ایک دوسرے کے بارے میں کیسے سوچیں اور ایک دوسرے کا کیسا خیال کریں ہمارے نبی نے ہماری اس بات پر بھی تربیت فرمائی ہے۔  اس کے بارے میں کچھ حضور کے فرمان سنتے ہیں:

فرمان آخری نبیﷺ: عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ’’لَاتَحَاسَدُوْا وَلَاتَنَاجَشُوْا وَلَاتَبَاغَضُوْا وَلَاتَدَابَرُوْا وَلَايَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَيْعِ بَعْضٍ وَكُوْنُوْا عِبَادَ اللهِ اِخْوَانًا، اَلْمُسْلِمُ اَخُو الْمُسْلِـمِ، لَايَظْلِمُهٗ وَلَايَخْذُلُهٗ وَلَايَكْذِبُهٗ وَلَايَحْقِرُهٗ، اَلتَّقْوٰى هٰهُنَا وَيُشِيْرُ اِلٰى صَدْرِهٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ’’بِحَسْبِ امْرِئٍ مِّنَ الشَّرِ اَن يَّحْقِرَ اَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِـمِ عَلَى الْمُسْلِـمِ حَرَامٌ دَمُهٗ وَمَالُهٗ وَعِرْضُهٗ

حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ آپس میں بغض نہ رکھو، قطع تعلقی نہ کرو تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے رسواکرتا ہے نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (مسلم، كتاب البر والصلۃ والاٰداب، باب تحريم ظلم المسلم وخذلہ واحتقاره الخ، ص1064، حدیث6541(

مذکورہ حدیث پاک میں بعض ظاہری وباطنی بیماریوں سے بچنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ چنانچہ سب سے پہلے ایک مہلک مرض حسد سے بچنے کا حکم ارشاد ہوا کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو.

بغض کی تعریف اور اُس کی مذمت:

بغض یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے۔(احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد الخ، 3/ 223

قرآن وحدیث میں بغض کی شدید مذمت بیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے:

‏اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)

ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)

امُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث شریف میں ہےکہ رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ پاک شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر اپنی قدرت کے شایان شان تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرما دیتا ہے اور رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ بغض و کینہ رکھنے والوں کو اُن کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔‘‘(شعب الایمان، باب فی الصیام، ماجاء فی لیلة الخ،حدیث:3835

حضرت سیِّدُنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ﷺ نے ارشاد فرمایا: بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دِین کو مُونڈ ڈالتا یعنی تباہ کردیتا ہے۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا، کتاب مدارة الناس، حدیث:149)

بغض وکینہ کا حکم:

کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا علامہ عبد الغنی نابلسی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حق بات بتانے یا عدل و اِنصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔ (حدیقہ ندیہ، السادس العاشر من الاخلاق الستین المذمومۃ، 1/ 629)

بلا وجہ شرعی مسلمانوں سے بغض وکینہ رکھنے والوں کی کل بروزِقیامت بہت سخت پکڑ ہوگی، بلکہ بسا اوقات تو دنیا میں ہی لوگوں کو مسلمانوں سےبغض وکینہ رکھنے والوں کا عبرت ناک انجام دکھادیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں کچھ لوگ گھبرائے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کی: ہم حج کی سعادت پانے کے لئے نکلےتھے،ہمارے ساتھ ایک آدمی تھا،جب ہم ذَا الصِّفَاحْ کے مقام پر پہنچے تو اُس کا انتقال ہو گیا۔ ہم نے اُس کے غسل و کفن کا انتظام کیاپھر اُس کے لئےقبر کھودی اور اُسے دفن کرنے لگے تو دیکھا کہ اچانک اس کی قبر کالے سانپوں سے بھر گئی ہے۔ہم نے وہ جگہ چھوڑکر دوسری قبر کھودی تو دیکھتے ہی دیکھتے وہ بھی کالے سانپوں سے بھر گئی، بالآخر ہم اسے وہیں چھوڑ کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوگئے ہیں۔یہ واقعہ سن کر حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:یہ اس کاکینہ ہے جووہ اپنے دل میں مسلمانوں کے متعلق رکھا کرتا تھا۔جاؤ!اور اسے وہیں دفن کردو۔(موسوعۃ ابن ابی الدنیا،کتاب القبور، رقم: 128)

انسان کے برا ہونے کی علامت:

’کسی شخص کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے‘‘یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، 6/ 553)

اللہ پاک کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہمیں حدیث پاک اور اس کی شرح میں موجود مشمولات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین بِجاہِ النّبیِّ الْاَمین ﷺ

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ إِخْوَانًا وَفِي رِوَايَة: وَلَا تَنَافَسُوْا مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کر نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

یہاں ظن سے مراد مجتہدین علماء کا قیاس نہیں بلکہ بلا دلیل بلا ثبوت مسلمان بھائی کے متعلق بدگمانی کرلینا ہے کہ خواہ مخواہ کسی کو اپنا دشمن سمجھ لینا،اس کے ہر قول ہر کام کو اپنی دشمنی قرار دے دینا یہ برا ہے کہ یہ لڑائی فساد کی جڑ ہے،بعض عورتوں کو بلاوجہ شبہ ہوتا ہے کہ فلاں نے مجھ پر جادو کرایا ہے اگرگھر میں کسی کو اتفاقًا بخار آگیا یا جانور نے دودھ کم دیا تو اپنے پڑوسیوں پر جادو تعویذ گنڈے کی بدگمانی کرکے دل میں گرہ رکھ لی یہ ممنوع ہے۔ کیونکہ ایسی بدگمانیاں شیطان کی طرف سے ہوتی ہیں اور شیطان بڑا جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ بھی بڑے ہی ہوتے ہیں، قرآن کریم فرماتاہے اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وہ آیت کریمہ اس حدیث پاک کی تاکیدکرتی ہے۔

کسی کی باتیں خفیہ طور پر سننا کہ اسے خبر نہ ہو۔تجسّس جیم سے کسی کے خفیہ عیب کی تلاش میں رہناحس اورجس میں اور بھی چند طرح فرق کیا گیا ہے۔غرضکہ کسی کی ہر بات پر کان لگائے رہنا،کسی کے ہر کام کی تلاش میں رہنا کہ کوئی برائی ملے تو میں اسے بدنام کردوں دونوں حرام ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ مبارک ہو کہ جسے اپنے عیبوں کی تلاش دوسروں کی عیب جوئی سے باز رکھے۔ یعنی وہ اپنے عیب ڈھونڈنے میں ان سے توبہ کرنے میں ایسا مشغول ہو کہ اسے دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کا وقت ہی نہ ملے۔

نہ تھی اپنے جو عیبوں کی ہم کو خبر ر

ہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر

پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر

تو جہاں میں کوئی برا نہ رہا

نجش کے چند معنی ہیں دوسروں پر اپنی بڑائی چاہنا،دھوکا دینا،نیلام میں قیمت بڑھا دینا خریدنے کی نیت نہ ہو یہ سب حرام ہے۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کی نعمت کا زوال اپنے لیے اس کا حصول چاہنا کہ اس کے پاس نہ رہے میرے پاس آجائے یہ حرام ہے،شیطان کو حسد نے ہی مارا بغض دل میں کینہ رکھنا۔

یعنی بدگمانی،حسد،بغض وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن سے محبت ٹوٹتی ہے اور اسلامی بھائی چارہ محبت چاہتا ہے لہذا یہ عیوب چھوڑو تاکہ بھائی بھائی بن جاؤ۔

تنافس کے بہت معنی ہیں رغبت کرنا،لالچ کرنا،نفسانیت سے فساد پھیلانا یہاں بمعنی نفسانیت و فساد ہے۔ ( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028)

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَن سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُبْغِضُنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ قَلْتُ:يَا رَسُولَ اللہ كَيْفَ أُبْغِضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللہ ؟قَالَ: تُبْغِضُ الْعَرَبَ فَتُبْغِضُنِي رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ

روایت ہے حضرت سلمان فارسی سے فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ مجھ سے بغض نہ رکھنا ورنہ اپنا دین چھوڑ بیٹھو گےمیں نے عرض کیا یارسول الله میں آپ سے کیسے بغض رکھ سکتاہو ں آپ کے ذریعہ تو الله نے ہم کو ہدایت دی فرمایا کہ تم عرب سے بغض رکھو تو مجھ سے ہی رکھو گے۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

حضرت سلمان فارسی یعنی ایران کے رہنے والے تھے،عرب میں رہنے لگے۔بعض طبیعتوں میں صوبائی یا ملکی تعصب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک ہمارا صوبہ اچھا دوسرا صوبہ وہاں کے لوگ برے اس کی پیش بندی فرماتےہوئے یہ ارشاد ہوا کہ یہاں فارسیت اور عربیت کا فرق نہ کرنا۔یہ کلام شریف اگلے کلام کی تمہید ہے ان تعصبوں سے الله بچائے مگر کس نفیس طریقہ سے تعلیم فرمائی سبحان الله! اپنے ذکر سے ابتداء فرمائی تاکہ ان کے قلب پر گہرا اثر ہو۔ یعنی جب انسان اپنے ماں باپ سے عدوات نہیں کرتا جن سے جان ملتی ہے تو حضور سے تو ہم کو ایمان،قرآن عرفان بلکہ رحمان ملا تو کیسے ہوسکتا ہے کہ میں حضور سے بغض رکھوں۔

یعنی عرب سے اس لیے نفرت کرنا کہ وہ عرب ہیں حضور سے بغض ہے کیونکہ حضور سرکار عربی ہیں ،قرآن عربی میں ہے لہذا مدینہ منورہ کے منافقین اور عرب کے یہودیوں،نجد کے وہابیوں سے نفرت کرنا ان سے بعض رکھنا بالکل درست ہےکہ اس میں کفر سے نفرت ہے نہ کہ ان کے عربی ہونے سے،حضور کی ہر منسوب چیز سے الفت رکھنا علامت ایمان ہے،اس نسبت سے نفرت کرنا علامت کفر ہے،دیکھو صفا مروہ پہاڑوں کو حضرت ہاجرہ سے نسبت ہے تو انہیں شعائر الله فرمایااِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنۡ شَعَآئِرِ اللهِ"اور شعائر الله کی تعظیم دلی تقویٰ ہے وَ مَنۡ یُّعَظِّمْ شَعٰٓئِرَ اللهِ فَاِنَّھَا مِنۡ تَقْوَی الْقُلُوۡبِ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:5998)

فرمان آخری نبی ﷺ : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يُحِبُّ عَلِيًّا مُنَافِقٌ وَلَا يُبْغِضُهٗ مُؤْمِنٌ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ:هٰذَاحَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ علی سے منافق محبت نہیں کرتا اور ان سے مؤمن بغض نہیں رکھتا ۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6100)

شرح :سبحان الله! حضرت علی ایمان کی کسوٹی ہیں۔جو اپنے ایمان کی تحقیق کرنا چاہے کہ میں مؤمن ہوں یا منافق وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں غور کرے کہ مجھے ان سرکار سے کتنی محبت ہے۔خیال رہے کہ یہاں محبت علی کا ذکر ہے نہ کہ صرف دعویٰ محبت علی کا،محض دعویٰ محبت کرنا اور ہر طرح ان سرکار کی مخالفت کرنا در حقیقت حضرت علی سے عداوت ہے۔بعض لوگ بے نمازبھنگی چرسی اولاد علی کو،حضرات صحابہ کو جو حضرت علی کے دوست ہیں انہیں گالیاں دیتے ہیں وہ محبان علی نہیں دشمنان علی ہیں،رب فرماتاہے:اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ"اطاعت علی بڑی چیز ہے الله وہ نصیب کرے۔( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6100)

فرمان آخری نبی ﷺ : وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے ۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215)

شرح : یعنی سارے انصار سے عداوت صرف دین کی ہی وجہ سے ہوسکتی ہے کسی خاص انصاری کی مخالفت دنیاوی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اسی لیے یہاں انصار جمع ارشاد ہوا۔انصار حضور ﷺ اور مہاجرین کے ایسے انوکھے میزبان ہیں کہ ان کی مثال آسمان و زمین نے نہ دیکھی تھی۔حضور انور ﷺ نے فرمایا کہ سب کے احسانات کے بدلے ہم نے کردیئے مگر ابوبکر صدیق دوسری روایت میں ہے کہ انصار کے احسانات کا بدلہ نہیں ہوسکا،قیامت میں رب سے دلوایا جاوے گا ان احسانات کو یاد رکھو اور ان سے محبت کرو کہ وہ ہمارے نبی کے محسن ہیں تو ہم سب کے محسن ہیں رضی الله عنہم اجمعین۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215)

اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ایک دوسرے سے بعض کینہ کرنے سے بچائے۔ آمین 


فون نمبر 03009462341

پیارے اسلامی بھائیو !جس طرح احادیث مبارکہ میں ایک دوسرے سے حسن سلوک کی تربیت فرمائی گئی ہے اسی طرح اس کے برعکس بغض وکینہ کی مذمت احادیث مبارکہ میں بیان کی گئی ہے آپ کے سامنے چند احادیث مبارکہ پیش کرتا ہوں :

(1) حسد بغض : روایت ہے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے: تم میں پچھلی امتوں کی بیماری سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5039 )

(2) برے حکمران : حضرت سَیِّدُنا عَوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیم ﷺ کو فرماتے سنا :”تمہارے اچھےحکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہواور وہ تم سے محبت کرتے ہیں ، تم اُن کے لیےدعا کرتے ہواوروہ تمہارے لیے دعا کرتے ہیں اور تمہارے بُرے حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض رکھتے ہو اور وہ تم سے بغض رکھتے ہیں۔تم ان پر لعنت بھیجتے ہواور وہ تم پر لعنت بھیجتے ہیں۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ہم نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ !کیا ہم ان سے علیحدہ نہ ہوجائیں؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا:’’نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں ،نہیں!جب تک وہ تم میں نماز قائم کریں۔‘‘ ( فیضان ریاض الصالحین جلد:5 ، حدیث نمبر:661 )

(3) منافقت کی نشانی : روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے وہ نبی ﷺ سے راوی فرمایا کہ ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے اور منافقت کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ (مسلم، بخاری)(مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6215 )

(4) بغض رکھنے والے سے اللہ ناراض : روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله ﷺ کو فرماتے سنا کہ انصار سے محبت نہ کرے گا مگر مؤمن اور ان سے عداوت نہ کرے گا مگر منافق تو جس نے ان سے محبت کی الله اس سے محبت کرے،جس نے ان سے بغض رکھا الله اس سے ناراض ہو۔ (مسلم،بخاری)( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:8 ، حدیث نمبر:6216 )

(5) کینہ والے کے سوا ساری مخلوق بخش دی جاتی ہے : روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا : الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔(ابن ماجہ)( مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:2 )