اللہ
تعالی نے انسانوں کو مٹی سے بنایا پھر ان میں مرد اور عورت کی دو قسمیں رکھیں پھر
ان میں رشتے بنائے میاں بیوی، بھائی بہن، ماں باپ، دوست، وغیرہ اور آپس میں بغض و کینہ سے منع فرمایا ، بغض ایسا گناہ ہے جو ان
تمام رشتوں کے درمیان خلل پیدا کر دیتا ہے بھائی بہن ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں
میاں بیوی کا ایک دوسرے پر اعتماد اٹھ جاتا ہے اور بات طلاق تک جا پہنچتی ہے باپ بیٹی
سے نفرت کرنے لگ پڑتا ہے۔
آئیے آج
ہم احادیث کی روشنی میں بغض و کینہ کہ متعلق پڑھتے ہیں:
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ،
أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي
أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ ،
أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا
وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ
لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
ترجمہ:
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان
کیا انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس مالک رضی
اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے
فرمایا : آپس میں بغض نہ رکھو، حسد نہ
کرو، پیٹھ پیچھے کسی کی برائی نہ کرو، بلکہ اللہ کے بندے آپس میں بھائی بھائی بن
کر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ ایک بھائی کسی بھائی سے تین دن سے زیادہ
سلام کلام چھوڑ کر رہے۔(صحیح بخاری، کتاب:
ادب کا بیان، باب: حسد اور غیبت کرنے کی
ممانعت کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ اور حسد کرنے والے کی برائی سے ( پناہ
مانگتا ہوں) جب کہ وہ حسد کرے، حدیث نمبر:
6065، حدیث نمبر: 6065 )
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،
أَنّ النَّبِيَّ ﷺ ،
قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ
كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، أَوْ قَالَ: الْعُشْبَ
ترجمہ:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ حسد
سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے
یا کہا گھاس کو کھا لیتی ہے ۔ (سنن
ابوداؤد، کتاب: ادب کا بیان، باب: حسد کا بیان، حدیث نمبر: 4903،حدیث نمبر: 4903 )
مذکور
احادیث میں ہم نے یہ جانا کہ مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھنا نیکیوں کو ایسا کہا جاتا ہے جیسے آگ
ایندھن کو ، یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ حسد نہ کرو برائی بیان نہ کرو اور دشمنی کی وجہ سے اپنے مسلمان بھائی سے تین
دن سے زیادہ کلام نہ کرنا یہ شریعت میں جائز نہیں ، ہمیں حسد کرنے سے باز آنا چاہیے
ہمیں صرف اللہ کی رضا کے لیے دوستی رکھنی چاہیے اور اسی کے لیے دشمنی رکھنی چاہیے۔
اللہ تعالی ہمارے دل سے بغض و کینہ دور فرمائے
اور ہمیں مسلمان بھائیوں سے محبت رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
عامر
فرید (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
فون نمبر
03276358728
بغض وکینہ
کی تعریف:
کینہ یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت
کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات،صفحہ53)
(1)آیت
مبارکہ:
اللہ
عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّمَا
یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی
الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ
الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)
ترجمہ
کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے
میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
صدر
الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ
اللہِ الْہَادِی ’’خزائن الرفان ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور
عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے
اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
(2)بغض
رکھنے والوں سے بچو:
اللہ
کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عَزَّ وَجَلَّ و ﷺ کا فرمانِ
عالیشان ہے:’’ اللہ عَزَّ وَجَلَّ (ماہ)شعبان کی پندرہویں رات اپنے بندوں پر (اپنی
قدرت کے شایانِ شان) تجلّی فرماتاہے اور مغفرت چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور
رحم طلب کرنے والوں پر رحم فرماتاہے جبکہ کینہ رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ
دیتا ہے۔‘ (2) ایک
اور مقام پر ارشاد فرمایا: ’’بغض رکھنے والوں سے بچو کیونکہ بغض دین کو مونڈ ڈالتا
(یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔‘](باطنی بیماریوں صفحہ 53)
(3)بغض
وکینہ کا حکم:
کسی بھی
مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔ سیِّدُنا
عبد الغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حق بات بتانے یا
عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے۔‘‘ (باطنی بیماریوں کا علاج
صفحہ 53)
(4)بغض
وکینہ کا علاج:
’اسباب
دور کیجئے۔‘‘ یقیناً بیماری جسمانی ہو یا روحانی اس کے کچھ نہ کچھ اسباب ہوتے ہیں
اگر اسباب کو دور کردیا جائے تو بیماری خود بخود ختم ہوجاتی ہے، بغض وکینہ کے
اسباب میں سے غصہ، بدگمانی، شراب نوشی، جوا بھی ہے ان سے بچنے کی کوشش کیجئے، ایک
سبب نعمتوں کی کثرت بھی ہے کہ اس سے بھی آپس میں بغض وکینہ پیدا ہوجاتا ہے،
نعمتوں کا شکر ادا کرکے اور سخاوت کی عادت کے ذریعے اس سے بچنا ممکن ہے۔
(5)عقلمندی
سے کام
کینے کی بنیاد عموماً دنیاوی چیزیں ہوتی ہیں ، لیکن
سوچنے کی بات ہے کہ کیا دنیا کی وجہ سے اپنی آخرت کو برباد کرلینا دانشمندی ہے۔یقیناً
نہیں تو پھر اپنے دل میں کینے کو ہرگز جگہ مت دیجئے۔(باطنی بیماریوں کی معلومات، صفحہ55تا57)
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
رضوان
مقبول قادریدرجہ: )خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ جوہر ٹاؤن لاہور ،پاکستان)
واٹسیپ نمبر:
03207820628
آپ ﷺ کی پاکیزہ اور اخلاقی تعلیمات ہے، جو دلوں
کو بغض، حسد، کینہ اور عداوت جیسی مہلک بیماریوں سے پاک کرنے کا حکم دیتی ہے۔ دل کی
یہ بیماریاں انسان کے ظاہر و باطن کو خراب کر دیتی ہیں اور اسے خیر و بھلائی سے
محروم کر دیتی ہیں۔ خاص طور پر "بغض و کینہ" ایسی آفتیں ہیں جو نہ صرف دینی
اخوت کو ختم کرتی ہیں بلکہ انسان کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیتی ہیں۔
کثیر
احادیث میں بغض و کینہ کی مذمت بیان کی گئی ہے ۔ جن میں سے چند درج ذیل پڑھتے ہیں
:
(1) گواہی
کا رد فرمانا :
حضرت
عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ:
أَنّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ رَدَّ شَهَادَةَ الْخَائِنِ، وَالْخَائِنَةِ، وَذِي الْغِمْرِ
عَلَى أَخِيهِ، وَرَدَّ شَهَادَةَ الْقَانِعِ لِأَهْلِ الْبَيْتِ،
وَأَجَازَهَا لِغَيْرِهِمْ
یعنی
رسول اللہ ﷺ نے خیانت کرنے والے مرد، خیانت کرنے والی عورت اور اپنے بھائی سے بغض
و کینہ رکھنے والے شخص کی شہادت رد فرما دی ہے، اور خادم کی گواہی کو جو اس کے گھر
والوں (مالکوں) کے حق میں ہو رد کردیا ہے اور دوسروں کے لیے جائز رکھا ہے۔ ابوداؤد
کہتے ہیں: غمر کے معنیٰ: کینہ اور بغض کے ہیں، اور قانع سے مراد پرانا ملازم مثلاً
خادم خاص ہے۔ (سنن ابوداؤد/کتاب: فیصلوں کا بیان/باب: جس شخص
کی گواہی رد کردی جائے اس کا بیان/حدیث نمبر: 3600/ جلد: 3/صفحہ: 335)
(2) مغفرت کا
نہ ہونا :
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے
روایت ہے، حضورِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا :
تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ
فِي کُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّتَيْنِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ
فَيُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ
شَحْنَائُ فَيُقَالُ اتْرُکُوا أَوْ ارْکُوا هَذَيْنِ حَتَّی يَفِيئَا
یعنی لوگوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ پیر اور
جمعرات کے دن پیش کئے جاتے ہیں اور ہر مسلمان بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے سوائے
اس بندے کے جو اپنے بھائی کے ساتھ کینہ رکھتا ہو۔ کہا جاتا ہے ’’اسے چھوڑ دو یا
مہلت دو حتّٰی کہ یہ رجوع کر لیں۔ (مسلم،
کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النہی عن الشحناء والتہاجر، ص1387، الحدیث:
36(2565))
(3) بد خلق
آدمی کون ہے :
حضرت
حارثہ رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ
كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا
أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ
کیا میں تمہیں اہل جنت کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ
آدمی جو کمزور ہوا سے دبایا جاتا ہو لیکن اگر وہ اللہ کے نام کی قسم کھالے تو اللہ
اس کی قسم کو پورا کردے کیا میں تمہیں اہل جہنم کے متعلق نہ بتاؤں؟ ہر وہ بدخلق
آدمی جو کینہ پرور اور متکبر ہو۔ (مسند احمد/کتاب: حضرت حارثہ بن وہب کی حدیثیں/باب:
حضرت حارثہ بن وہب کی حدیثیں/حدیث نمبر: 18730/جلد: 31/ صفحہ: 29)
(4) دین کو
مونڈ دینے والی چیز :
حضرت
زبیر رضى الله عنہ سے مروی ہے کہ جناب
رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ
الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا أَقُولُ تَحْلِقُ
الشَّعْرَ وَلَكِنْ تَحْلِقُ الدِّينَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَوْ وَالَّذِي
نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا
تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِمَا يُثَبِّتُ ذَلِكَ
لَكُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ
یعنی تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں
یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کرگئی ہیں اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز
ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں
محمد ﷺ کی جان ہے تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کامل مومن نہ ہوجاؤ
اور تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ
کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کرلو تو ایک
دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو رواج دو۔ ( مسند احمد/کتاب: حضرت زبیربن
عوام (رض) کی مرویات/باب: حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات/حدیث نمبر: 1412/ جلد:
3/ صفحہ: 29)
بغض و
کینہ نہ صرف انسان کو روحانی تباہی کی طرف لے جاتا ہے بلکہ سماجی تعلقات بھی بگاڑ
دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دلوں کو صاف رکھیں، معافی کو شعار بنائیں، اور اسلامی اخوت
کو فروغ دیں۔ یہی وہ تعلیم ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی سنتوں اور احادیث کے ذریعے
اُمت کو سکھایا۔
اللہ
تعالیٰ ہمیں اپنے دلوں سے ہر قسم کے بغض، کینہ، اور حسد کو نکالنے کی توفیق عطا
فرمائے اور ہمیں سچے مسلمان بننے کی سعادت نصیب فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
محمد
انیس (درجہ سادسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،پاکستان)
رابطہ نمبر :
03245345933
بغض و
کینہ کے بارے میں علم حاصل کرنا فرض ہے ۔ سب سے پہلے بغض اور کینہ تعریف معلوم
ہونا ضروری ہے ۔ جب معلوم ہو گا بغض وکینہ کیا ہوتا ہے پھر ہی انسان اس بچ سکے گا
اور الله پاک کا قرب حاصل کر سکے گا ۔
کینہ کی
تعریف : دل میں دشمنی کو روکے رکھنا اور
موقع پاتے ہی اس کا اظہار کرنا ۔ (لسان
العرب جلد 1 ۔ صفحہ نمبر 888 )
حضرت سیدنا
محمد بن محمد غزالی رحمۃ الله تعالٰی علیہ کینہ کی تعریف کر تے ہوئے فرماتے ہیں : انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ،اس سے دشمنی
و بغض رکھے، نفرت کرے یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رہے ۔ (احیاء العلوم کتاب
ذم الغضب و الحقد و الحسد جلد 3 صفحہ 223
)
مسلمان
سے کینہ رکھنے کا شرعی حکم : مسلمان
سے بلاوجہ شرعی بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 6 صفحہ 526 )
سیدناعبدالغنی
نابلسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حق
بات بتانے یا عدل و انصاف کرنے والے سے بغض و کینہ رکھنا حرام ہے ۔(الحدیقۃ الندیۃ
جلد 1 صفحہ 629 )
(1) : پچھلی امتوں کی بیماری:
صحابہ اکرام رضی اللہ تعالٰی نے حضور ﷺ کی بارگاہ میں عرض کی :
پچھلی امتوں کی بیماری کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : ( ان میں سے ایک ) آپس میں
بُغض رکھنا ، بُخل کرنا ، یہاں تک کے وہ ظلم میں تبدیل ہو جائے اور پھر فتنہ فساد
بن جائے ۔ ( المعجم الاوسط جلد 6 صفحہ 348
الحدیث 9016 )
(2) بخشش
نہیں ہوتی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے
جاتے ہیں ۔ پھر بغض وکینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا
ہے ۔ کہا جا تا ہے ۔ ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس لوٹ آئیں ۔
(صحیح مسلم صفحہ 1388 حدیث 2565 ) ۔
مسلمانوں کا کینہ پالنے والے کے لیے رونے کا
مقام ہے کہ بخشش کا پروانہ تو ہر پیر اور جمعرات کو تقسیم ہوتا ہے مگر یہ محروم
رہتا ہے ۔ یہ صرف اور صرف اس کا اپنا نقصان ہے ۔
(3) ایمان
برباد ہونے کا خوف :
ایک
مسلمان کے پاس سب سے قیمتی چیز اس کا ایمان ہوتا ہے ۔ بغض و کینہ کی وجہ سے یہ چھن
جانے کا خوف ہوتا ہے ۔حضور ﷺ نے فرمایا : تم میں پچھلی امتوں کی بیماری حسد اور
بغض سرایت کر گئی ۔ یہ مونڈدینے والی ہے ۔ میں نہیں کہتا یہ بال مونڈتی ہے ۔ بلکہ یہ
دین کو مونڈتی ہے ۔(سنن الترمذی جلد 4 صفحہ نمبر 228 الحدیث 2518 )
حضرت
مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث
پاک کے تحت فرماتے ہیں : اس طرح کے دین و ایمان کو جڑ سے ختم کر دیتی ہے ۔ کبھی
انسان بغض و حسد میں اسلام ہی چھوڑ دیتا ہے ۔ شیطان بھی انہی دو بیماریوں کا مارا
ہوا ہے ۔ (مراۃ المناجیح جلد 6 صفحہ 615 )
(4) سادات
سے بغض کا نقصان : حضور ﷺ نے فرمایا : جو شخص ہم سے بغض و حسد کر ے گا ۔ اسے قیامت کے دن حوض کوثر سے آگ کے
چابکوں ( کوڑوں ) کے ذریعے دور کیا جائے
گا ۔( المعجم الاوسط جلد 2 صفحہ 33 حدیث 2405 )
(5) شب
براءت میں بخشش نہیں ہوتی :
حضرت
عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے روایت ہے
کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شب براءت میں اللہ پاک تمام بخشش مانگنے والوں کی مغفرت
فرمادیتا ہے ۔ کینہ رکھنے والے کے معاملہ کو مؤخر اور ملتوی فرمادیتاہے ۔ (
کنزالعمال جلد 7447 صفحہ 186 )
کینہ کے
اسباب :
1 :
غصه ۔
2 :
بدگمانی ۔
3 :
شراب نوشی اور جُوا ۔
4 :
نعمتوں کی کثرت ۔
کینہ کے تین علاج:
1 :
سلام و مصافحہ کی عادت بنائیں ۔
2 : مسلمانوں سے اللہ کی رضا کے لیے محبت کیجیئے ۔
3 : مسلمانوں
کے کینہ سے بچنے کے لیے دعا کریں ۔
وَلَا
تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ
رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)
ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان
والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ (پ28، الحشر:
10)
اللہ پاک ہمیں بغض
و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
احمد
رضا عطاری (درجہ ثالثہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
فون نمبر =
03246535883
بغض یہ
ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے ، اس سے غیر شرعی دشمنی رکھے ، نفرت کرے
اور یہ کیفیت ہمیشہ باقی رہے ۔ ‘‘ بغض و
کینہ کی قرآن وحدیث اور بزرگان دین کےاقوال میں شدید مذمت بیان
فرمائی گئی ہےچنانچہ قرآنِ پاک میں ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّمَا
یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی
الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللہ وَ عَنِ الصَّلٰوةِۚ-فَهَلْ اَنْتُمْ
مُّنْتَهُوْنَ(۹۱)
ترجمہ کنزالایمان: شیطان یہی چاہتا ہے کہ تم میں بَیر
اور دشمنی ڈلوا دے شراب اور جوئے میں اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکے تو
کیا تم باز آئے۔ (پ7، المائدۃ:91)
صدرُالافاضل
حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ
الْہَادِی’’خزائن العرفان‘‘ میں اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں
شراب اور جوئے کے نتائج اور وبال بیان فرمائے گئے کہ شراب خواری اور جوئے بازی کا
ایک وبال تو یہ ہے کہ اس سے آپس میں بُغض اور عداوتیں پیدا ہوتی ہیں اور جو ان بدیوں
میں مبتلا ہو وہ ذکرِ الٰہی اور نماز کے اوقات کی پابندی سے محروم ہو جاتا ہے ۔
( 1 )
دعا قبول نہیں ہوتی :
حضرت سید
نا فقیہ ابواللیث سمرقندی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: تین اشخاص ایسے ہیں جن
کی دعا قبول نہیں کی جاتی : (پہلا) حرام کھانے والا (دوسرا) کثرت سے غیبت کرنے
والا اور ( تیسرا) وہ شخص کہ جس کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کا کینہ یا حسد
موجود ہو ۔ ( درة الناصحين :صفحہ نمبر :
70 ) (رسالہ: بغض وکینہ ، صفحہ نمبر : 12 مکتبۃ المدینہ )
(2) بخشش
سے محرومی :
سراج
منیر ، محبوب رب قدیرﷺ کا فرمان عالیشان
ہے: ہر پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں، پھر بغض و کینہ
رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مؤمن کو بخش دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: أَتُرُكُوا أَوِ ارْكُوا
هَذَيْنِ حَتَّى يَفِيئا ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض
سے واپس پلٹ آئیں۔ ( صحیح مسلم شریف ، کتاب البروالصلۃ ، باب النھی عن الشحناء ،
صفحہ نمبر : 1388 ، حدیث نمبر : 2565 )
( 3 )
اللہ کی رحمت سے محرومی :
اللہ
پاک کے محبوب ، دنائے غیوب کا فرمان عالیشان ہے : اللہ عزوجل( ماہ ) شعبان کی
پندرہویں رات اپنے بندوں پر ( اپنی قدرت کے شایان شان ) تجلی فرماتا ہے ، مغفرت
چاہنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے جبکہ کینہ
رکھنے والوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دیتا ہے۔( کتاب : شعب الایمان ، باب فی الصیام
، ماجاءفی لیلۃ النصف من شعبان ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 382 ، حدیث نمبر :
3835 )
( 4 )
بغض نہ رکھو :
حضرت سیدنا
ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب
و سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، تناجش نہ کرو ، ایک دوسرے سے
بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ ( فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مسلمانوں کی
حرمت ، جلد نمبر : 3 ، صفحہ نمبر : 280 ، حدیث نمبر : 235 ، مکتبۃ المدینہ )
( 5
)جنت کی خوشبو سے محرومی :
حضرت سید
نافضيل بن عياض علیہ رحمۃ اللہ الوہاب نے
خلیفہ ہارون رشید کو ایک مرتبہ نصیحت کرتے ہوئے فرمایا "اے حسین و جمیل چہرنے
والے ! یا د رکھ! کل بروز قیامت اللہ عز وجل تجھ سے مخلوق کے بارے میں سوال کرے گا
۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا یہ خوبصورت چہرہ جہنم کی آگ سے بچ جائے تو کبھی بھی صبح
یا شام اس حال میں نہ کرنا کہ تیرے دل میں کسی مسلمان کے متعلق کینہ یا عداوت ہو۔
بے شک رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا : مَنْ أَصْبَحَ لَهُمْ غَاشًا
لَمْ يَرِحُ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پرور ہے
تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔ یہ
سن کر خلیفہ ہارون رشید رونے لگے ۔( حلیۃ الاولیاء ، جلد نمبر : 8 ، صفحہ نمبر : 108 ، حدیث
نمبر : 11536 )
ہمیں
کسی بھی مسلمان کے متعلق اپنے دل میں بغض وکینہ ہرگزنہیں رکھنا چاہیے ، بغض وکینہ
دین کو تباہ وبرباد کردیتا ہے ، بغض
وکینہ رکھنے والا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی
رحمت سے محروم رہتا ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں مسلمانوں کے بغض وکینہ سےمحفوظ
فرمائے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
اذکار
عمر عباسی کشمیری (درجہ خامسہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،پاکستان)
اللہ
قادر مطلق عزوجل نے اپنی حکمت کاملہ سے اس جہاں دید آراں میں نوع انسانی کو مختلف
طبیعتوں میں پیدا فرمایا، ہر طبیعت میں دوسری سے جدا رنگ بسایا، اور دیگر مخلوقات
میں اسے عقل عطا کر کے اشرف المخلوقات کا تاج پہنایا،چونکہ صرف عقل، نور وحی کے بغیر
ہدایت کے لیے کافی نہ تھی تو اپنے چنے ہوئے بندوں کو مبعوث فرمایا تاکہ وہ ان تک
اللہ تعالی کی آیات و احکامات پہنچائیں،اور ان کی جانوں کو بری صفات اور مذموم
اخلاق کی پستیوں سے نکال کر پاکیزگی اور ستھرائی کی اعلی بلندیوں تک پہنچائیں۔
پیارے
پیارے اسلامی بھائیو! بغض و کینہ بھی انہیں بری صفات کی زنجیر کی ایک ایسی کڑی ہے
کہ صوفیا کے نزدیک ہر برائی کی جڑ ہے ( دیکھیے روضۃ العقلاء ونزنۃ الفضلاء ص١١٩) اور قرآن میں ہمیں اپنے دلوں
کو اس مہلک بیماری سے پاک رکھنے کی تعلیم ہے:
وَلَا
تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ
رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)
ترجمہ کنزالایمان : اور ہمارے دل میں ایمان
والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بےشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔
(پ28، الحشر: 10)
نیز
اللہ کے محبوب ، دانائے غیوب ﷺ نے اس کی
نہایت مذمت فرمائی۔ آئیے ان کی فرامین مبین کے نور سے اپنے دلوں کے لیے اس مرض سے
شفا کا سامان کیجیے:
کینہ پروری جہنم میں: نبی رحمت ، شفیع امت، مالک جنت، قاسم نعمت
ﷺ کا فرمان عبرت نشان ہے:"بے شک چغل
خوری اور کینہ پروری جہنم میں ہیں یہ دونوں کسی مسلمان کے دل میں جمع نہیں ہو
سکتے"(المعجم الاوسط ، جلد 3، صفحہ 301، حدیث نمبر 4653، دار احياء تراث
بيروت)
دین کی
بیخ کنی:
دافع
رنج و ملال، شہنشاہ خوش خصال، صاحب جود و نوال، ﷺ نے ارشاد فرمایا:"پہلی
امتوں کی بیماری بغض اور حسد تم میں بھی سرایت کر جائے گی یہ اکھیڑ دینے والی ہے میں
یہ نہیں کہتا کہ بالوں کو اکھیڑ دیتی ہے بلکہ یہ تو دین کی بیخ کنی کر دیتی
ہے"(شعب الايمان للبیہقی جلد6، صفحہ 424، حدیث نمبر 8747، دارالباز مکۃ
المکرمہ)
نیکیوں
کو کھا جانا:
محبوب
رب العزت، محسن انسانیت،صاحب جود و سخاوت ﷺ نے ارشاد فرمایا:"بے شک کینہ اور حسد یہ دونوں نیکیوں کو ایسے کھا
جاتے ہیں جیسے آگ لکڑیوں کو کھاتی ہے"(تنبیہ الغافلین، صفحہ 141، مکتبۃ العلم
الحدیث، المطبعہ العالمیہ)
مغفرت
سے محرومی:
مختلف
احادیث میں آیا ہے کہ بغض و کینہ رکھنے والے شخص کا دامن عظمت و
شرف والی راتوں میں بھی مغفرت سےمحروم ہی رہتا ہے جن کا بیان درج ذیل ہے :
15
شعبان کی شب محرومی:
مخزن
جود و سخاوت، پیکر عظمت و شرافت ﷺ کا فرمان عالی شان ہے:"اللہ عزوجل شعبان کی
پندرہویں شب اپنی مخلوق پر تجلی فرماتا ہے تو مشرک اور بغض و کینہ رکھنے والے کے
علاوہ تمام مخلوق کی مغفرت فرما دیتا ہے"(المعجم الکبیر جلد 20 صفحہ 109 دار
احياء التراث بيروت)
پیر اور جمعرات کے دن محرومی:
دو
جہاں کے تاجور، سلطان بحر و بر، نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور ﷺ کا فرمان عالی
شان ہے:"ہر ہفتہ کے دوران پیر اور جمعرات کے دن لوگوں کے اعمال پیش کیے جاتے
ہیں پھر بغض و کینہ رکھنے والے دو بھائیوں کے علاوہ ہر مومن کو بخش دیا جاتا ہے اور
کہا جاتا ہے ان دونوں کو لمبے عرصے تک چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اس بغض سے واپس پلٹ
آئیں "(صحیح مسلم حدیث 6547، صفحہ 1127، دارالسلام ریاض)
جمعرات اور جمعہ کے دن محرومی:
خاتم
المرسلین، رحمۃ اللعالمین، شفیع المذنبین، انیس الغریبین، ﷺ کا فرمان عبرت نشان
ہے:"جمعرات اور جمعہ کے دن اعمال پیش کیے جاتے ہیں تو مشرک کے علاوہ ہر شخص کی
مغفرت کر دی جاتی ہے مگر دو شخصوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہیں اپس میں صلح
کر لینے تک موخر کر دو"(جامع الاحادیث، جلد 3، صفحہ 12، حدیث نمبر 6975)
بغض و
کینہ ایسی مہلک بیماری ہے کہ جو انسان کے دامن کو نہایت ہی عظمت اور برکت والے
دنوں مثلا جمعہ، جمعرات، پیر شریف حتی کہ 15 شعبان کی شب بھی مغفرت سے محروم رکھتی
ہے، آگ کی طرح نیکیوں کو کھا جاتی ہے اور دین کی بیخ کنی کر کے جہنم کی طرف جانے کا سامان کر دیتی ہے۔
اللہ
تعالی ہر مسلمان کو مطہر قلوب منزہ عن العیوب ﷺ کے صدقے سے بغض و کینہ جیسی مہلک
ترین بیماری سے دائمی حفاظت مقدر فرمائے۔ آمین
علی اسحاق (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
نمبر 03259632216
اللہ
تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔
آئیے
ہم بھی بغض و کینہ کی مذمت حدیث کی روشنی میں ملاحظہ کرتے ہیں:
(1)
اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنا :
حضرت سیِّدُنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے
سے حسد نہ کرو، صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، آپس میں بغض نہ رکھو، قطع
تعلقی نہ کرو، تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر سودا نہ کرے، اللہ کے بندو بھائی
بھائی ہوجاؤ، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے کہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ
اسے رسواکرتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر جانتا ہے۔آپ نے اپنے
سینہ مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا:تقوی یہاں ہے،کسی شخص
کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے، ہر
مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔ (شرح اربعین نووی(اردو)،حدیث
35)
(2)
مسلمانوں کی حرمت :
حضرت سیدنا
ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالیٰ عَنْہُ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و
سینہ ﷺ نے ارشادفرمایا : ’’ایک دوسرےسے حسد نہ کرو ، ایک
دوسرے سے بغض نہ رکھو اورقطع تعلقی نہ کرو۔ (فیضان ریاض الصالحین،جلد 3 صفحہ نمبر
280حدیث 235)
(3)
اللہ تعالیٰ کے لیے محبت :
حضرت سیدنا
براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر ،
محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں
ارشادفرمایا : ’’ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن
سے محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ
عَزَّ وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ ( فیضان
ریاض الصالحین جلد:4 صفحہ نمبر 247حدیث
نمبر:380 )
(4) اچھی
باتوں کا بیان :
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ
کہ بدگمانی بدترین جھوٹ ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں خفیہ سنو اور
نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے
الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ اور ایک
روایت میں ہے اور نہ نفسانیت کرو۔ ( مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد:6 ، حدیث نمبر:5028 )
اللہ
تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی ان احادیث پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
سرفراز
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور ،پاکستان)
نمبر: 0324651688
اسلام
انسانیت کو اخوت، محبت اور خیرخواہی کا درس دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بارہا بغض، کینہ
اور عداوت سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے کیونکہ یہ برائیاں دلوں کو سیاہ اور تعلقات
کو برباد کر دیتی ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بغض و کینہ کی سخت مذمت اور ان کے مضر
اثرات کو واضح کیا گیا ہے۔ ذیل میں پانچ احادیث بمع ترجمہ اور وضاحت درج ہیں:
(1) حدیث: عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ
الْعَوَّامِ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ
رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ
وَالْبَغْضَاءُ، هِيَ الْحَالِقَةُ، لَا أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ، وَلَكِنْ
تَحْلِقُ الدِّينَ (جامع الترمذی، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2510)
ترجمہ:
حضرت زبیر بن عوام سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم پر پچھلی امتوں کی
بیماری چڑھ آئی ہے: حسد اور بغض۔ یہ مونڈنے والی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ یہ بال
مونڈتی ہے بلکہ دین کو مونڈ ڈالتی ہے۔"
بغض و کینہ انسان کے دین کو کمزور اور برباد کر
دیتا ہے، اس لیے اس سے بچنا ضروری ہے۔
(2) حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا
تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ،
حدیث: 2563)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "آپس میں حسد نہ کرو، نہ
بغض رکھو، نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو۔
وضاحت:
اسلام باہمی محبت اور اخوت چاہتا ہے، بغض و کینہ امت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتا ہے۔
(3) حدیث: عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ عنہ ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: لَا
يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، يَلْتَقِيَانِ
فَيُعْرِضُ هَذَا، وَيُعْرِضُ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ
(صحیح
البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6077)
ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین
دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ جب وہ دونوں ملیں تو ایک ادھر اور دوسرا ادھر منہ پھیر
لے۔ ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔
وضاحت:
بغض و کینہ کی بنیاد پر قطع تعلقی سخت ناپسندیدہ ہے، اسلام صلح اور تعلق جوڑنے پر
زور دیتا ہے۔
(4) حدیث: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ:
تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الْخَمِيسِ،
فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا
كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ
حَتَّى يَصْطَلِحَا (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2565)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں
اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، سوائے اس
کے جس کے دل میں اپنے بھائی کے خلاف کینہ ہو۔ کہا جاتا ہے: ان دونوں کو روکے رکھو یہاں
تک کہ وہ صلح کر لیں۔"
وضاحت:
بغض و کینہ مغفرت میں رکاوٹ بن جاتا ہے، اس لیے دل کو پاک رکھنا ضروری ہے۔
(5) حدیث: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رضی اللہ عنہ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ:
لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، فَإِنْ
مَاتَا دَخَلَا النَّارَ (سنن أبي داود، کتاب الأدب، حدیث: 4915)
ترجمہ:
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ دوسرے مسلمان سے
تین راتوں سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔ اگر وہ اسی حالت میں مر گئے تو دونوں جہنم میں
داخل ہوں گے۔"
کینہ
پر مبنی قطع تعلقی آخرت کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔
احادیثِ
نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ بغض و کینہ انسان کی دین و دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتے
ہیں۔ یہ دلوں کی سختی، تعلقات کی خرابی اور اللہ کی مغفرت سے محرومی کا باعث ہیں۔
اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دل کو بغض، کینہ اور حسد سے پاک رکھے اور صلح، محبت
اور بھائی چارے کو اپنائے۔
نعمان
مسعود ( درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ گلزار
حبیب سبزہ زار لاہور ،پاکستان)
Phone : 0320 1056286
اسلام
ایک ایسا دین ہے جو محبت، اخوت، اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ یہ دین انسانوں کے
دلوں کو جوڑنے اور نفرت و بغض کو مٹانے آیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کے دور میں
مسلمانوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف حسد، بغض، اور کینہ پایا جاتا ہے جو امتِ
مسلمہ کی کمزوری کا سبب بن چکا ہے۔ قرآن و حدیث میں اس بیماری کی سخت مذمت کی گئی
ہے کیونکہ یہ دلوں کو سیاہ اور اعمال کو ضائع کرنے والی صفت ہے۔
بغض و كینہ
کی حقیقت: بغض کا مطلب ہے دل میں کسی کے
خلاف نفرت یا دشمنی رکھنا، جبکہ کینہ اس نفرت کو دل میں چھپائے رکھنا ہے۔ یہ ایک ایسی
روحانی بیماری ہے جو انسان کے ایمان کو کھا جاتی ہے۔
اللہ
تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ
صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ(۴۷)اور ہم
نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لیے آپس میں بھائی ہیں تختوں
پر روبرو بیٹھے۔ (سورۃ الحجر: 47)
یہ آیت
جنتیوں کے دلوں کے بارے میں ہے کہ وہاں کسی کے دل میں دوسرے کے لیے بغض یا کینہ نہیں
ہوگا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جس دل میں بغض ہو، وہ جنت کے قابل نہیں۔
احادیثِ
نبوی ﷺ کی روشنی میں:
رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا: "تم آپس میں بغض
نہ رکھو، حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، بلکہ اللہ کے بندے اور بھائی
بھائی بن جاؤ۔ (صحیح بخاری: 6065)
ایک
اور حدیث میں فرمایا: کینہ رکھنے سے بچو،
کیونکہ یہ بھلائیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ (ابو داود: 4903)
اس حدیث
سے معلوم ہوتا ہے کہ بغض و کینہ انسان کے نیک اعمال کو ضائع کر دیتا ہے۔
نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا: "ایک دوسرے سے قطع
تعلق نہ کرو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، اور اے اللہ
کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ (صحیح مسلم: 2560)
یہ حدیث
مسلمانوں کے درمیان محبت اور اتحاد کی بنیاد ہے۔
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا: سب سے بہتر انسان وہ ہے جو دل کا صاف اور زبان
کا سچا ہو۔ صحابہ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ ﷺ! صاف دل والا کون ہے؟ فرمایا:
"وہ شخص جس کے دل میں نہ دھوکہ، نہ کینہ، نہ بغض اور نہ حسد ہو۔ (ابن ماجہ:
4216)
حضرت
علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ "فلاں شخص آپ سے بغض رکھتا
ہے۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا: "یہ اس کا عمل ہے، میرا
نہیں۔ میں تو اس کے لیے بھی خیر چاہتا ہوں۔"
یہی رویہ
اسلام سکھاتا ہے کہ اگر کوئی تم سے دشمنی کرے تب بھی تم دل کو صاف رکھو۔ بغض و کینہ
رکھنے والا انسان خود اپنے دل کو اذیت دیتا ہے۔ اسلام ہمیں معاف کرنے، درگزر کرنے،
اور دوسروں کے لیے بھلائی چاہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہر مسلمان اپنے دل کو کینے
سے پاک کر لے تو امتِ مسلمہ میں محبت، اتحاد اور امن قائم ہو جائے۔
بغض و
کینہ ایمان کی کمزوری اور دل کی تاریکی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو صاف رکھیں، بھائی چارہ قائم
کریں، اور ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔
اللہ پاک ہمیں بغض
و کینہ سے بچائے۔ آمین
احمد محسنی (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور، پاکستان)
فن نمبر 03316551905
اسلام ایک ایسا دین
ہے جو دلوں کی صفائی، اخوت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتا ہے۔ اور اس
بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ مسلمان کے دل
میں بغض و کینہ نہ ہو، کیونکہ یہ انسان کو گناہوں کی طرف مائل کرتا ہے اور خیر سے
محروم کر دیتا ہے۔ کینہ رکھنے والا نہ دنیا میں سکون پاتا ہے اور نہ ہی آخرت میں
کامیابی حاصل کرتا ہے۔
حدیث (1)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ
الْحَدِيثِ، وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا، وَلَا تَنَافَسُوا وَلَا
تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ
إِخْوَانًا (صحیح البخاری، کتاب الأدب، حدیث: 6064)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: "بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ نہ ایک دوسرے
کی ٹوہ میں لگو، نہ تجسس کرو، نہ حسد کرو، نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منہ
موڑو، بلکہ اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ۔"
اس حدیث میں واضح
طور پر بغض و کینہ سے منع کیا گیا اور اخوت و بھائی چارے کی تاکید کی گئی ہے۔
حدیث (2) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقُولُ: لَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا،
وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا، وَلَا يَحِلُّ
لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ (صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ، حدیث: 2560)
ترجمہ: حضرت انس رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: "آپس میں بغض نہ رکھو،
حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں
کہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق کرے۔"
اس حدیث میں بغض و
کینہ کی حرمت اور آپسی تعلقات کی درستگی پر زور دیا گیا ہے۔
حدیث (4) قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: ثَلَاثٌ لَا
يَغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ لِلَّهِ، وَمُنَاصَحَةُ
وُلَاةِ الْأُمُورِ، وَلُزُومُ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ(سنن الترمذی، کتاب الزھد، حدیث: 2658)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا: "تین چیزیں ایسی ہیں کہ مسلمان کے دل میں ان کے ساتھ کینہ نہیں رہ
سکتا: عمل کو اللہ کے لیے خالص رکھنا، حکمرانوں کے ساتھ خیرخواہی کرنا، اور
مسلمانوں کی جماعت سے جڑے رہنا۔"
اخلاص اور خیرخواہی
دل کو صاف رکھتے ہیں اور بغض و کینہ کی جڑ کاٹ دیتے ہیں۔
حدیث (4) عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: لَا يَشِيرُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ
بِسِلَاحٍ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ
فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ (صحیح البخاری، کتاب الفتن، حدیث: 7072)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ
رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے کوئی اپنے بھائی
کی طرف ہتھیار نہ اٹھائے، ہو سکتا ہے شیطان اس کے ہاتھ کو بہکا دے اور وہ آگ میں
جا گرے۔"
احادیث سے معلوم
ہوتا ہے کہ بغض و کینہ دل کی بیماری ہے جو انسان کی نیکیوں کو ضائع کر دیتی ہے،
تعلقات میں نفرت اور دشمنی پیدا کرتی ہے، اور یہ بیماری انسان کو اللہ کی مغفرت سے محروم کر دیتی
ہے۔ اس لیے ایک مسلمان کو چاہیے کہ دل کو
صاف رکھے، دوسروں کے لیے خیرخواہی کرے اور محبت و اخوت کے راستے پر گامزن رہے۔
اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
محمد
شاہ زیب سلیم عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھوکی لاہور
،پاکستان)
اللہ
عزوجل کے آخری نبی محمد عربی ﷺ نے جس طرح ہمیں ظاہری یعنی نماز روزہ حج زکوۃ وغیرہ ان تمام کے احکام
سکھائے اسی طرح باطنی احکام بھی سکھائے جن کے بارے میں سیکھنا ہر مسلمان پر فرض ہے
جیسے کہ ریاکاری حسد تکبر وغیرہ اور انہی باطنی احکامات میں سے بغض و کینہ بھی ہے
بغض و کینہ کے جیسے اخروی نقصانات ہیں ویسے ہی دنیاوی نقصانات بھی بہت ہیں اس کی
وجہ سے آپس میں نفرتیں بڑھتی ہیں اور انسان انسان سے دور ہو جاتے ہیں۔
آئیے سب سے پہلے بغض و کینہ کی تعریف اور حکم
ملاحظہ کیجئے :
بغض و کینہ کی تعریف:بغض وکینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی
کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی وبغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ
باقی رہے۔
بغض و کینہ
کا حکم :کسی بھی مسلمان کے متعلق بلا وجہ شرعی اپنے
دل میں بغض وکینہ رکھنا ناجائز وگناہ ہے۔
آئیے
چند حدیث مبارکہ ملاحظہ کیجئے جن میں حضور ﷺ نے بغض و کینہ کی مذمت فرمائی ہے:
(1)
بھائی بھائی ہو جاؤ:
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِيَّاكُمْ
وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا
تَجَسَّسُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا
تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللہ
إِخْوَانًا
روایت
ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے
ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے کہ اپنے کو بدگمانی سے بچاؤ کہ بدگمانی بدترین جھوٹ
ہے اور نہ تو عیب جوئی کرو نہ کسی کی باتیں
خفیہ سنو اور نہ نجش کرو اور نہ ایک دوسرے
سے حسد و بغض کرو نہ ایک دوسرے کی غیبت کرو اور اے الله کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔(بخاری
،ج4،ح 6066،ص117)
(2)بغض
و کینہ سے باز رہنا :
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللہ ﷺ تُعْرَضُ أَعْمَالُ النَّاسِ فِی کُلِّ جُمُعَۃٍ
مَرَّتَیْنِ یَوْمَ الاثْنَیْنِ وَیَوْمَ الْخَمِیسِ فَیُغْفَرُ لِکُلِّ عَبْدٍ
مُؤْمِنٍ إِلَّا عَبْدًا بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیہِ شَحْنَاءُ فَیُقَالُ
اتْرُکُوْا ہَذَیْنِ حَتَّی یَفِیْءَا
حضرت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بندوں کے
اعمال ہر ہفتہ دو مرتبہ پیش کیے جاتے ہیں۔ پیر اور جمعرات کو ، پس ہر بندہ کی
مغفرت ہوتی ہے سوا اس بندہ کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض و کینہ رکھتا ہے اس
کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو
نہ مٹائیں) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں۔(انوار
الحدیث ،بغض وحسد ، حدیث 1)
(3)بغض
دین مونڈ دیتا ہے :
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَبَّ إِلَيْكُمْ
دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمُ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ لَا
أَقُولُ تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰكِنْ تَحْلِقُ الدِّيْنَ
روایت
ہے حضرت زبیر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله ﷺ نے تم میں پچھلی امتوں کی بیماری
سرایت کر گئی حسد اور بغض یہ مونڈ دینے والی ہے میں نہیں کہتا کہ بال
مونڈتی ہے لیکن یہ دین کو مونڈ دیتی ہے ۔ (مشکوٰۃ المصابیح ج2 ، حدیث:5039 )
(4)
کینہ والا مغفرت سے محروم :
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ عَنْ
رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللهَ تَعَالٰى لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ
النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيعِ خَلْقِهٖ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ
مُشَاھِنٍ
روایت
ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے وہ رسول الله ﷺ سے راوی کہ آپ نے فرمایا الله تعالٰی پندرھویں شعبان کی شب میں توجہ کرم فرماتا ہے تو کافر یا کینہ والے
کے سوا اپنی سب مخلوق کو بخش دیتا ہے۔ (باطنی بیماریوں کی معلومات ،ص54)
(5)
کینہ والے کی گواہی قبول نہیں :
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:
قَالَ رَسُوْلُ اللہ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَجُوْزُ
شَهَادَةُ خَائِنٍ، وَلَا خَائِنَةٍ، وَلَا مَجْلودٍ حَدًّا، وَلَا ذِيْ غِمْرٍ
عَلٰى أَخِيْهِ، وَلَا ظَنِيْنٍ فِيْ وَلَاءٍ وَلَا قَرَابَةٍ، وَلَا الْقَانِعِ
مَعَ أَهْلِ الْبَيْتِ
روایت
ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ نہیں جائز ہے گواہی خیانت کرنے والے کی اور نہ خیانت کرنے والی کی اور
نہ سزا کوڑے مارے ہوئے کی اور نہ کینہ والے کی اپنے بھائی کے خلاف اور نہ ولاءونسب
میں تہمت والے کی اور نہ کسی گھر والوں کے خرچہ پر گزارہ کرنے والے کی۔
شرح حدیث : بھائی سے مراد وہ ہے جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اسلامی
بھائی چارہ مراد ہے یعنی کینہ پرور اور دشمن کی گواہی دشمن کے خلاف قبول نہیں
اگرچہ وہ اس کا سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ یہ بوجہ دشمنی اسے نقصان پہنچانے
کے لیے اس کے خلاف جھوٹی گواہی دے گا اس لیے احتیاطًا یہ لازم کردیا گیا۔(مرآۃ
المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، ج5 ، حدیث نمبر:3781 )
آج کل
ہمارے معاشرے میں یہ بیماری بہت عام ہے یہ ناجائز و گناہ ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ
اس سے بچیں اور اس کی مذمت میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں ان کا مطالعہ کر کے اپنی
زندگی میں بغض و کینہ سے بچنے کی کوشش کریں۔
اللہ پاک ہمیں بغض و کینہ سے بچنے کی توفیق عطا
فرمائے ۔ آمین
محمد
ریان عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ
المدینہ فیضان فاروق اعظم سادھو کی لاہور ،پاکستان)
فون
نمبر:03146177942
بغض و
کینہ ایسی اخلاقی برائی ہے جو انسان کے دل کو زنگ آلود کر دیتی ہے اور محبت و اخوت
کے رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ یہ وہ آگ ہے جو سب سے پہلے انسان کے اپنے دل کو
جلاتی ہے اور پھر دوسروں تک نفرت کی لہر پھیلاتی ہے۔ دینِ اسلام نے محبت عفو و
درگزر اور خیر خواہی کی تعلیم دی ہے۔ جبکہ بغض و کینہ کو سختی سے منع فرمایا ہے۔
جو دل کینہ سے پاک ہوتا ہے وہ سکون ایمان اور اللہ کی رحمت کا مستحق بنتا ہے۔
لہٰذا ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے دل کو نفرتوں سے خالی اور محبت و ایثار
سے لبریز رکھے۔
آئیے بغض و کینہ
کی مذمت پر کچھ احادیث ملاحظہ کیجیے:
(1) انصار
سے بغض کی مذمت :
حضرت سیدنا
براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہماسے مَروی ہے کہ حسن اَخلاق کے پیکر
محبوبِ رَبِّ اکبر ﷺ نے انصارکے بارے میں
ارشادفرمایا : ان سے مؤمن ہی محبت رکھے گا اور منافق ہی بغض رکھے گا اور جو اِن سے
محبت کرےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے محبت فرماتا ہے اور جو ان سے بغض رکھےاللہ عَزَّ
وَجَلَّ اسے ناپسند فرماتاہے ۔ (فیضان ریاض الصالحین جلد:4 ، حدیث نمبر:380)
(2) آپس میں بغض نہ رکھو:
حضرت
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض
نہ رکھو اور آپس میں حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کی طرف (ناراضی سے) پیٹھ نہ پھیرو
اور اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے
بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی کرے۔ (موطا امام مالك روایۃ ابن القاسم/حدیث:
602)
(3) حسد نہ
کرو:
حضرت سیِّدُنا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
رسولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے
سے حسد نہ کرو صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ آپس میں بغض نہ رکھو قطع تعلقی
نہ کرو۔ (شرح اربعین نوویہ(اردو) حدیث
نمبر:35)
بغض و
کینہ ایسی روحانی بیماری ہے جو انسان کے دل سے سکون چھین لیتی ہے اور محبت اخوت
اور بھائی چارے کے رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔ جس دل میں کینہ و عداوت بس جائے
وہاں خیر و بھلائی کے جذبات پنپ نہیں سکتے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو ایک
دوسرے سے محبت عفو و درگزر اور بھائی چارے کا درس دیا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ
دلوں سے بغض و کینہ کو نکال کر اخلاص محبت اور خیرخواہی کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ
حقیقی کامیابی اسی میں ہے کہ ہمارا دل دوسروں کے لیے پاک اور صاف ہو۔
اللہ
پاک ہمیں بغض اور کینہ جیسی بیماری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Dawateislami