اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد بشیر، جامعۃ
المدینہ ناصر روڈ سیالکوٹ
بچے
کل کے معاشرے ہیں اور آج انہیں اچھی تربیت دینا ہماری ذمہ داری ہے ایک اچھا انسان اچھی تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے نیک
اولاد اللہ پاک کا عظیم انعام ہے۔حضرت ابراہیم نے آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کے
لیے یوں دعا مانگی۔ رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ
ذُرِّیَّتِیْ ﳓ (پ 13، ابراہیم:40) اے میرے رب! مجھے
اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا۔
یہی
وہ نیک اولاد ہے جو دنیا میں اپنے والدین کے لئے راحت جان اور آنکھوں کی ٹھنڈک
کاسامان بنتی ہے۔پھر جب یہ والدین دنیا سے گزرجاتے ہیں تویہ سعادت منداولاد اپنے
والدین کے لئے بخشش کا سامان بنتی ہے جیساکہ شہنشاہ مدینہ، قرار قلب و سینہ، صاحب
معطر پسینہ، باعث نزول سکینہ، فیض گنجینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جنت میں آدمی کا درجہ بڑھا دیا
جاتا ہے تووہ کہتا ہے: میرے حق میں یہ کس طرح ہوا؟تو جواب ملتا ہے اس لیے کہ
تمہارا بیٹا تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہے۔ (ابن ماجہ، 4/185، حدیث: 3660)
قرآن
مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود
ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ
الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو
اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
آپ ﷺ نے
فرمایا: کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب
سکھادے۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959)
بچوں
میں اچھی عادات کیسے ڈالی جائیں؟ بچے ایک خالی کاغذ کی مانند ہوتے ہیں، جس پر ہم
جو لکھتے ہیں، وہی وہ بن جاتے ہیں۔ بچوں میں اچھی عادات ڈالنا نہ صرف ان کی شخصیت
کی تعمیر کا پہلا قدم ہے بلکہ ان کی کامیابی کی ضمانت بھی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ
ہم اپنے بچوں میں اچھی عادات کیسے ڈال سکتے ہیں۔
1۔
اپنی مثال پیش کریں: بچے اپنے والدین کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ اگر آپ خود اچھی
عادات پر عمل کریں گے تو آپ کا بچہ بھی آپ کی نقل کرے گا۔ مثلاً اگر آپ خود کتابیں
پڑھنے کے شوقین ہیں تو آپ کا بچہ بھی کتابیں پڑھے گا۔
2۔
حوصلہ افزائی کریں: جب آپ کا بچہ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی تعریف کریں اور اسے
حوصلہ دیں۔ اس سے بچے میں اعتماد بڑھے گا اور وہ اچھے کام کرنے کی کوشش کرتا رہے
گا۔
3۔ سزا
کی بجائے اصلاح کریں: اگر بچہ کوئی غلطی کرے تو اسے ڈانٹنے کی بجائے اسے سمجھائیں
کہ وہ کام کیوں غلط تھا اور اگلی بار اسے کیسے درست کرنا ہے۔
اور
اگر کہیں تربیت کے معاملے میں پیار ومحبت سے سمجھانا مؤثر نہ ہورہا ہو اور معاملہ
فرائض کا ہو تو وہاں بطور تنبیہ ڈانٹ ڈپٹ کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے،چنانچہ
فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال
کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں مارو۔
4۔
کھیل کے ذریعے سیکھائیں: بچوں کو سیکھانے کے لیے کھیل کا استعمال کریں۔ اس سے وہ
بور نہیں ہوں گے اور نئی چیزیں سیکھنے میں دلچسپی لیں گے۔
5۔
قصے اور کہانیاں سنائیں: بچوں کو اخلاقی کہانیاں سنائیں تاکہ وہ اچھے اور برے میں
فرق کر سکیں۔
6۔
مثبت سوچ کو فروغ دیں: بچوں کو ہمیشہ مثبت سوچ رکھنے کے لیے حوصلہ دیں۔ انہیں
بتائیں کہ وہ ہر مشکل کا سامنا کر سکتے ہیں۔
صبر
کریں بچوں میں اچھی عادات ڈالنے میں وقت لگتا ہے۔ آپ کو صبر سے کام لینا ہوگا اور
ہر ناکامی پر مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
یاد
رکھیں کہ بچوں کی تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو اچھا انسان بنانا
چاہتے ہیں تو آپ کو اس پر مسلسل توجہ دینی ہوگی۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت منور حسین، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
اولاد
کی اچھی تربیت کرنا اور انہیں اچھا مسلمان بنانا یہ والدین کی خواہش بھی ہوتی ہے
اور ذمہ داری بھی۔ اس خواہش اور ذمہ داری کو احسن طریقے سے پورا کرنے کے لیے بچوں
کو شروع سے ہی نبی کریم ﷺ کی پیاری پیاری سیرت پر عمل کرنا سکھائیے کیونکہ ہمارے
پیارے نبی کریم ﷺ کی سیرت پر عمل کرنا ہی دنیا وآخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
چنانچہ
امیر المومنین حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ نور
والے آقا ﷺ نے فرمایا: اپنی اولاد کی تین خصلتوں پر تربیت کرو: (1) اپنے نبی کریم ﷺ
کی محبت۔(2) اہل بیت پاک کی محبت۔(3) تلاوت قرآن۔ بے شک قرآن کی تلاوت کرنے والا
انبیاواصفیا کے ساتھ اس روز عرش الہی کے سائے میں ہو گا جس دن عرش الہی کے علاوہ
کوئی سایہ نہیں ہو گا۔ (جمع الجوامع، 1/ 126،حدیث: 782 )
اولاد
کی اچھی تربیت کرنے کے لیے چند طریقے پیش کیے جاتے ہیں اگر ہر والدین یہ جو طریقے
بتائے جانے لگے ہیں اگر اس کے مطابق تربیت کریں گے تو ان شاء اللہ آپ کا بچہ آپ کی
آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔
(1) نماز کا عادی بنانا: بچوں کو نماز کا عادی بنانے کے لیے اس
کی اہمیت اس طرح سکھائیے کہ نماز ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ (نسائی،ص
644، حدیث: 3945) اس لیے ہمیں نماز نہیں چھوڑنی چائیے۔
(2)سچ بولنے کا عادی بنانا: جب بچوں کو سچ بولنے کی ترغیب
دلائی جائے تو یہ بتائیے کہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ نے
کبھی بھی جھوٹ نہیں بولا، اسی لیے آپ کے دشمن بھی آپ کو صادق وامین کہتے تھے۔
(3) دوسرں کو تنگ نہ کرنا: بچوں کو یہ سمجھائیے کہ دوسرں
کو تنگ کرنا بری بات ہے کیونکہ پیارے آقا مدینے والے مصطفیٰ ﷺ نے فرمایا: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے
دوسرے مسلمان محفوظ رہیں( بخاری، 1/15، حدیث: 10)
(4) دوسروں کی مدد کرنا: بچوں کو دوسروں کی مدد کی ترغیب اس طرح
دلائیے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کیا کرتے تھے۔
(5) بالوں کا اکرام کرنا: جب آپ بچوں کے بالوں میں کنگھا
کریں تو یہ بتائیے کہ ہمارے اچھے اور سچے نبی ﷺ نے فرمایا:جس کے بال ہوں تو وہ ان
کا اکرام کرے۔( ابوداؤد، 4/103،حدیث:4163)
(6) قرآن پاک کی تعلیم کا شوق دلانا: بچوں کو قرآن پاک
کی تعلیم کا شوق اس طرح دلائیے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر
وہ ہے جو خود قرآن سیکھے اور دوسرں کو سکھائے۔ (بخاری، 3/410، حدیث: 5027)
(7) سلام کرنے کا عادی بنانا: بچوں کو سلام کرنے کا عادی
بنائیے اور یہ بھی بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیشہ سلام میں پہل فرماتے تھے۔ (شعب
الایمان،2/155،حدیث: 1430)
(8) خوشبو لگانا: جب بچوں کو خوشبوں لگائیں تو نبی کریم ﷺ
کی پسند کا ذکر کیجئے کہ نور والے آقا مدینے والے مصطفیٰ ﷺ کو دنیا کی جو چیزیں
پسند تھیں ان میں سے ایک خوشبو بھی ہے۔ (نسائی، ص 644، حدیث: 3945)
(9) اخلاقیات کی تعلیم دینا: جب بچوں کو اخلاقیات کی تعلیم
دیں تو یہ کہیں کہ ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ آپ ہمیشہ بڑوں
کی عزت کرتے اور چھوٹوں پر شفقت کرتے تھے۔
محترم
والدین کرام! یہ جو چند طریقے پیش کیے گئے ہیں یہ کام وہ ہے جو ہمارے گھروں میں
صبح شام ہوتے ہیں ہمارے ہاں یہ کام کرتے وقت بعض مائیں بچوں کو برا بھلا کہتی ہیں
کبھی تو بددعائیں بھی دے دیتی ہیں یہ غلط انداز ہے بچے کی ابھی سیکھنے اور سمجھنے
کی عمر ہے لہذا آپ کے صحن میں ہنستی مسکراتی دل لبھاتی ننھی سی صورت محض ایک بچہ
نہیں آئندہ معاشرے کی کامل تصویر ہے انہی بچوں نے اگے چل کر معاشرے کی باگ دوڑ
سنبھالنی ہے لہذا خوب محنت کے ساتھ ایک زندہ قوم کی آبیاری کیجئے عزت دار غیرت مند
باشعور اوت ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل کے لیے بچوں کی اچھی اور احسن طریقے سے
تربیت کی جائے کہ ان کی تربیت کے ساتھ ساتھ عشق رسول ان کی نس نس میں بسا دیجئے ان
شاء الله عزوجل یہ دنیا اور آخرت میں سرخ روہوں گے یقین مانیے! عشق رسول ہی وہ قوت
ہے جو مسلمان کو کبھی پست یا ناکام نہیں ہونے دیتی۔
اللہ
پاک ہمیں اپنی اولاد کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد سلیم، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
تربیت کا درست وقت: ویسے تو تربیت کا تعلق کسی خاص وقت
سےنہیں ہوتا، لیکن خاص طور پر بچے کی تربیت بہت اہم ہوتی ہے کیونکہ بچے کا ذہن
کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے اس پر جو بھی لکھا جائے وہ پتھر پرلکیر کا کام دیتا ہے،
یعنی ابتداءً ہی جو بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جائے وہ مضبوط ومستحکم ہوجاتی
ہے۔لہٰذا والدین کوچاہیے کہ وہ بچپن ہی سے اولاد کی تربیت پر بھر پور توجہ دیں،اسے
بچہ سمجھ کر یا بول کر (Ignore) یعنی نظرانداز نہ کریں۔
بچوں کی تربیت کا انداز کیسا ہو؟ ہمارے پیارے
آقاﷺ ہر کام میں ہمارے لیے مشعل راہ ہے اس لیے بچوں کی تربیت کے معاملے میں حضور
پاک ﷺ کا انداز تربیت پیش نظر ہونا چاہیے۔
بچوں
کو اپنے ساتھ بٹھا کرکھلائیےاور مثبت انداز سے سمجھائیے: رسول پاک ﷺ بچوں کو اپنے
ساتھ بٹھا کر کھانا کھلاتے جس سے بچوں کی دلجوئی کے ساتھ ساتھ تربیت کا سامان بھی
ہوتاتھا۔چنانچہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ رسول پاک ﷺ کے ساتھ
بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پلیٹ میں کبھی ادھر
پڑتا،کبھی ادھر۔رسول پاک ﷺ نے اس انداز سے سمجھایا کہ انہیں محسوس ہی نہیں ہوا کہ
غلطی پر ٹوکا جارہا ہے یا آداب سکھائے جارہے ہیں،چنانچہ آپ ﷺ نے فرمایا: اے بچے! جب
کھانا کھاؤ تو اللہ کا نام لو، اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ (بخاری،
3/521، حدیث: 5376)
تربیت
کرنے والوں کے لیے اس فرمان میں سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہے کہ ابتداءً ٹوکنے کے
بجائے کچھ آداب بیان کرنے کی وجہ سے انداز بھی مثبت رہا اور مقصود بھی حاصل ہوگیا
یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میرے
کھانے کا انداز ویسا ہی رہا جیسا آپ ﷺ نے بیان فرمایاتھا۔
بوقت
ضرورت ڈانٹ ڈپٹ بھی کی جائے: رسول پاک ﷺ کی شفقت کو دیکھا جائے تو حضرت انس رضی
اللہ عنہ نے دس سال رسول پاک ﷺ کی خدمت میں گزارے لیکن کبھی بھی انہیں ڈانٹا نہیں
گیاجس کی گواہی حضرت انس رضی اللہ عنہ خود دیتے ہیں۔ (مسلم، ص 972، حدیث 2309)
اور
اگر کہیں تربیت کے معاملے میں پیار ومحبت سے سمجھانا مؤثر نہ ہورہا ہو اور معاملہ
فرائض کا ہو تو وہاں بطور تنبیہ ڈانٹ ڈپٹ کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہے،چنانچہ
فرمایا: اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب دس سال
کے ہوجائیں تو نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے انہیں مارو۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 495)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد ذوالفقار، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
بعض
اوقات بچوں کی تربیت پر توجہ نہ دینے کے باعث بچے بگڑ جاتے ہیں، اور عموماً
دیکھاگیا ہے کہ بگڑی ہوئی اولاد کے والدین اس کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کر کے
خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں مگر یاد رکھئے اولاد کی تربیت صرف ماں یا محض باپ کی
نہیں بلکہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ
قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور
اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
حضرت
علی نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ: ان (اپنی اولاد)کو تعلیم دو اور ان کو
ادب سکھاؤ۔
بچے
گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں انہیں جس سانچے میں چاہیں ڈھالا جا سکتا ہے اس لیے
والدین کو چاہیے کہ وہ پچپن سے ہی اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں کیونکہ اس کی
زندگی ابتدائی سال بقیہ کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں بچہ جو بچپن میں سیکھتا
ہے وہ ساری زندگی اس کے ذہن میں راسخ رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی اسے
سلام میں پہل کرنے، سچ بولنے کی عادت ڈالی جائے تو وہ عمر بھر اسکے ساتھ رہتی ہیں۔
اپنی
اولاد کو وہ کچھ سکھائیے کہ جس سے قیامت کے دن آپ کو رسوائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
اللہ پاک کے آخری نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا عطیہ نہیں
دیا جو اچھے ادب سے بہتر ہو۔ (ترمذی، 3/383، حدیث: 1959) حکیم الامت مفتی احمد یار
خان رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں: اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار، متقی، پر ہیز گار
بنانا ہے۔ اولاد کے لئے اس سے اچھا عطیہ کیا ہو سکتا ہے کہ یہ چیز دین و دنیا میں
کام آتی ہے۔ ماں باپ کو چاہئے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں
بلکہ انہیں دیندار بنا کر جائیں جو خود انہیں بھی قبر میں کام آئے کہ زندہ اولاد
کی نیکیوں کا ثواب مردہ کو قبر میں ملتا ہے۔ (مراۃ المناجیح، 6/420) لہذا اپنے
بچوں کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم دیا جائے۔ نماز،روزے
کی پابندی کروائی جائے۔
چنانچہ
حضرت عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص سے فرمایا: اپنے بچے کی اچھی تربیت
کرو کیونکہ تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ تم نے اس کی کیسی
تربیت کی اور تم نے اسے کیا سکھایا۔ (شعب الایمان، 6 / 400، حدیث:8662)
بچوں
کو ضروری عقائد سکھائیے: والدین کو چاہیے کہ جب ان کی اولاد سن شعور کو پہنچ جائے
تو اسے اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، انبیاء کرام علیهم السلام، قیامت اور
جنت و دوزخ کے بارے میں بتدریج عقائد سکھائیں۔
حوصلہ
افزائی کیجئے: حضرت امام محمد غزالی رحمۃ الله علیہ کیمیائے سعادت میں فرماتے ہیں:
جب بچہ اچھا کام کرے اور خوش اخلاق بنے تو اس کی تعریف کریں اور اس کو ایسی چیز
دیں جس سے اس کا دل خوش ہو جائے۔ اور اگر ماں بچے کو برا کام کرتے دیکھ لے تو اسے
چاہیے کہ تنہائی میں سمجھائے اور بتائے کہ یہ کام برا ہے، اچھے اور نیک بچے ایسا
نہیں کرتے۔ (کیمیائے سعادت، رکن سوم، ص 532)
بچوں
سے محبت کیجئے: بچوں کی دیر پا تعلیم و تربیت کے لئے ان سے ابتداء ہی سے شفقت و
محبت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ یوں جب ماں کی مامتا اور شفقت پدری کی شیرینی گھول کر
تعلیمات اسلام کا مشروب ان کے حلق میں انڈیلا جائے گا تو وہ فوراً اسے ہضم کر لیں
گے۔
حضرت
عائشہ صدیقہ رضی الله عنہ روایت کرتی ہیں کہ خاتم المرسلينﷺ نے ارشاد فرمایا: بے
شک جنت میں ایک گھر ہے جسے الفرح کہا جاتا ہے اس میں وہی لوگ داخل ہوں گے جو بچوں
کو خوش کرتے ہیں۔ (جامع صغير، ص 140، حدیث: 2321)
اللّہ
کی رضا والے کاموں کا حکم دیجیئے: صحابہ کرام رضی الله عنہم نے عرض کی: یارسول
الله ﷺ! ہم اپنے اہل و عیال کو آتش جہنم سے کس طرح بچا سکتے ہیں؟ سرکار مدینہﷺ نے ارشاد
فرمایا: تم اپنے اہل و عیال کو ان چیزوں کا حکم دو جو اللہ کو محبوب ہیں اور ان
کاموں سے رو کو جو رب تعالیٰ کو نا پسند ہیں۔ (در منثور، 8/225)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت عنایت اللہ، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
بہت
سی باتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے بچے بگڑ جاتے ہیں اور ان کی زندگی پر اور ان کے
اخلاق پر اور ان کی فطرت پر بہت برا اور گہرا اثر ہوتا ہے جیسے کہ اگر بچہ کوئی
غلطی کرے تو ماں کو بچے کے والد یا کسی بڑے کے سامنے دوسرے بچوں کے سامنے اسے اس
کی غلطی نہیں بتانی چاہیے بلکہ اکیلے میں اسے سمجھانا چاہیے تاکہ اس پر برا اثر نہ
پڑے اور وہ بات کو سمجھ سکے اور بچوں کے سامنےتو تڑاک سے بات نہ کی جائے ایک دن
بچے بڑے ہو کر وہ بھی اپ سے تو تڑاك سے ہی بات کرے گا۔
بچے
کو کند ذہنی ہے پڑھائی میں کمزور وغیرہ کہنا اسے مزید کند ذهن بنا سکتے ہیں اسی
لیے ایسا کہنے سے اجتناب کیجیے بلکہ اس کی چھوٹی سی چھوٹی کاوش پر بھی اسے بہت
زیادہ سراہیے اسے کوئی اس کی پسندیدہ چیز دیجیے تاکہ اس کا اس کام میں دل لگے اس
سے بچے کے سدھرنے کے بہت سے امکانات ہیں
کارٹون
دیکھنا گندے بچوں کا کام ہے اچھے بچے مکہ شریف اور مدینہ شریف دیکھتے ہیں بچوں کی
جتنی فرمائشیں پوری کریں گے اتنی بڑھتی جائیں گی لہذا شروع ہی سے کنٹرول کرنا
چاہیے اس سے بچے کم بگڑیں گے بچوں کی شرارت پر والدہ کو چاہیے کہ ڈانٹنے کے بجائے
فورا سنجیدہ ہو جائے اور اپنا موڈ آف کر لیں اس سے بچوں پر ایک تاثر رہ گیا جس کی
وجہ سے وہ بات کو سمجھ سکیں گے کہ ہمارا برا کام کرنے سے ہمارے والدین کو اذیت
ہوتی ہے یا ہمارے والدین ناراض ہوتے ہیں اسی لیے وہ برا کام کرنے سے اجتناب کریں
گے جب وہ برا کام نہیں کریں گے تو وہ بگڑیں گے بھی نہیں۔
صحابہ
کرام اپنے بچوں کو بہادروں کی تربیت دیا کرتے تھے بھوت پری کی کہانیاں بچوں کو
بزدل یعنی ڈرپوک بنا دیتی ہیں اپنے بچوں کو سدھارنے کے لیے اور ان کی بہتر تربیت
کرنے کے لیے اور ان کو معاشرے میں عزت دار بنانے کے لیے اور ان کو معاشرے میں اچھی
طرح اچھا شہری بنانے کے لیے چھوٹی عمر ہی سے اپنے بچوں کو دینی ماحول کے بارے میں
سمجھا دیں ورنہ اگر یہ بڑے ہو گئے تو پھر آپ سمجھا نہیں سکیں گے۔
شروع
سے ہی بچوں کو زیادہ کھانے پینے اور اچھے اچھے لباس سے بے رغبت کیا جائے بچوں کو
بچپن سے جیب خرچی دینا شروع نہ کریں گھر میں کھانے کی چیزیں بنا کر دیا کریں بچوں
سے جھوٹ بولنے والے برے لوگ ہیں ان میں ستارے حماقت تقسیم کرنا چاہیے کہ وہ اپنے
ہاتھوں سے بچوں کے اخلاق تباہ کرتی ہیں۔
بچوں
کے سامنے ہرگز جھوٹ نہ بولا جائے اور نہ ہی بری باتیں کی جائیں کہ بچوں کی نیچر پر
برا اثر پڑے اور وہ ان باتوں کو اختیار کر کے اپنی زندگی بگاڑ لے اس بات کو دلیل
بناتے ہوئے کہ ہمارے بڑے بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے امیر المومنین حضرت علی المرتضی
شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم مذکور ایت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں: ان کو تعلیم دو
اور ادب سکھاؤ۔
دنیا
میں ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے یعنی اللہ پاک نے انسانوں کو توحید اور دین
اسلام قبول کرنے کی صلاحیت کے ساتھ پیدا کیا ہے اور فطری طور پر انسان اس دین سے
منہ موڑ سکتا ہے نہ اس کا انکار کر سکتا ہے کیونکہ یہ دن ہرے اعتبار سے عقل سلیم
سے ہم آہنگ اور صحیح سمجھ کے عین مطابق ہے اور جو گمراہ ہوگا وہ جنوں اور انسانوں
کے شیاطین کے بہکانے سے گمراہ ہوگا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر بچہ فطرت اسلام پر
پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔
عاشقان
رسول بچہ چونکہ خیر و شر دونوں کو قبول کرتا ہے اور اب یہ اس کے والدین پر ہے کہ
وہ بچے کو خیر و شر میں سے کس جانب مائل کرتے ہیں لہذا مسلمان ہونے کے ناطے ماں
باپ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو خیر و بھلائی کی طرف رغبت دلائیں اچھے
اخلاقی تعلیم دے اور ہر قسم کی اچھی اور برى باتوں کا لحاظ رکھیں۔
چونکہ
والدین اور اس کا گھرانہ بچے کی پہلی درسگاہ ہوتا ہے اور اس بات کو مد نظر رکھتے
ہوئے جب بچہ نیا نیا بولنا شروع کرتا ہے اس کو والدین مختلف طریقوں سے نہیں نہیں
الفاظات اور نئی نئی باتیں سکھانے کی کوشش کرتے ہیں اسی طرح جب بچہ کچھ بولنا شروع
کرتا ہے تو اس سے اچھے الفاظ سکھائیے اور بڑے ہونے کے بعد بھی بچے کی وحی عادت
رہتی ہے جو اس نے ماں باپ سے سیکھا یہ انہیں کرتے دیکھا لہذا ماں باپ اور سرپرست
صاحبان کو چاہیے کہ بچے کو ادھر ادھر باتیں کرنے یا کچھ الٹا اور فضول کام سکھانے
کے بجائے اللہ کہنا چاہیے تاکہ اس کے صاف ستھری اور پاکیزہ زبان پر اس کے خالق و
مالک کا نام جاری و ساری رہے ان شاء اللہ اس کی برکتیں بچوں اور سکھانے والے دونوں
کو نصیب ہوں گے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت عبدالستار، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
اولاد
کی تربیت ہر والدین کی اولین ذمہ داری اور دین اسلام کا اہم حصہ ہے۔ بچے والدین کے
لیے اللہ کی امانت ہیں اور ان کی صحیح رہنمائی ایک نیک معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہاں
چند اہم اصول بیان کیے جا رہے ہیں جو اولاد کی اصلاح اور تربیت میں مددگار ثابت ہو
سکتے ہیں۔
سب سے
پہلے والدین کو اپنے کردار کو سنوارنے کی ضرورت ہے۔ بچے عموماً اپنے والدین کو
دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر
ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہوگا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)
یہ
حدیث اس بات کی تاکید کرتی ہے کہ والدین اپنی اولاد کے لیے جوابدہ ہیں، اس لیے وہ
خود نیک عمل اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کریں۔
دوسرا
اصول یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کریں۔ محبت وہ بنیاد ہے جو
بچوں کے دلوں کو والدین کے قریب کرتی ہے۔ نبی کریم ﷺ بچوں سے خاص شفقت فرماتے تھے
اور ان کے ساتھ نرم رویہ رکھتے تھے۔ والدین کو چاہیے کہ بچوں کی اچھائیوں پر ان کی
تعریف کریں اور ان کی چھوٹی بڑی کامیابیوں کو سراہیں۔
تیسری
بات یہ ہے کہ بچوں کو دین اسلام کی تعلیم دیں۔ ان کے دلوں میں اللہ اور رسول ﷺ کی
محبت پیدا کریں اور عبادات کا عادی بنائیں۔ انہیں سچائی، دیانت داری اور انصاف کا درس
دیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا
النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28،
التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس
آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
یہ
آیت اس بات پر زور دیتی ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کی دینی اور اخلاقی تربیت کرنی
چاہیے تاکہ وہ برائیوں سے دور رہ سکیں۔
چوتھا
نکتہ یہ ہے کہ والدین بچوں کے لیے وقت نکالیں۔ ان کے ساتھ وقت گزارنے سے ان کے
مسائل کو سمجھنے اور ان کے جذبات کو بہتر طریقے سے جاننے کا موقع ملتا ہے۔ والدین
کی توجہ بچوں کو احساس دلاتی ہے کہ وہ ان کے لیے اہم ہیں۔
پانچواں
اصول یہ ہے کہ بچوں کی غلطیوں پر سختی سے پیش نہ آئیں بلکہ نرمی اور حکمت سے ان کی
اصلاح کریں۔ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے
بہترین ہو۔ (ترمذی، 4/278، حدیث: 2621)
اس
حدیث سے ظاہر ہوتا ہے کہ نرمی اور اچھا رویہ اولاد کی تربیت میں بہت اہم ہے۔
آخر
میں دعا کو کبھی نہ بھولیں۔ والدین کی دعائیں بچوں کے لیے ڈھال ہیں۔ اللہ سے ہمیشہ
یہ دعا کرتے رہیں کہ وہ آپ کی اولاد کو نیک اور صالح بنائے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ضیاء اللہ، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
حضرت
جابر بن سمرہ نے کہا کہ حضور نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی اولاد کو ادب سکھائے تو
اس کے لیے ایک صاع صدقہ کرنے سے بہتر ہے۔ (ترمذی، 3/382، حدیث: 1958)
اولاد
کی اچھی تربیت والدین کا سب سے پہلا فرض عین ہے والدین کو اپنی مصروفیات سے وقت
نکال کر اپنی اولاد کو وقت دینا چاہیے۔
جہاں
وہ انکو دنیاوی تعلیم دیتے ہیں وہاں انکو دینی تعلیم پر توجہ دیں اپنی مصروفیات
میں کچھ وقت اپنا اپنی اولاد کو دیں تاکہ انکی ذہنی تربیت بھی ہو جب انکو موبائل
وغیرہ کا استعمال کرتا دیکھے تو یہ بھی توجہ دیں وہ کیا دیکھ رہا ہے کیا وہ دین سے
ہٹ کر تو نہیں کچھ دیکھ رہے کیا وہ جو مناظر یا ویڈیوز دیکھ رہا ہے اس کے اس ویڈیو
کی وجہ سے اس کے ذہن پر بڑا اثر تو نہیں پڑ رہا کیا وہ جو دیکھ رہا ہے اس کے اخلاق
اور کردار پر تو اثر انداز نہیں ہو رہا ہے وہ جن دوستوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے وہ
کوئی غیر مذہب تو نہیں یا وہ اس سے ایسی باتیں یا کام تو نہیں کر دتے جن کا اثر ان
کی زبان اور اخلاق پر ہو۔اپنے بچوں کا اچھا سا نام رکھے نام رکھتے وقت پہلے اس معنی
ضرور دیکھ لے کیونکہ اچھے ناموں کا اثر اچھا ہوتا ہے اور برے ناموں کا اثر بڑا
ہوتا ہے جو کہ تربیت قبول نہیں کریگی ماں یا کسی نیک نمازی عورت سے دو سال تک دودھ
پلوائے پاک کمائی سے ان کی پرورش کرے کیونکہ حلال رزق کمانے والوں کی اولاد کی
تربیت اچھی ہوتی ہے اور ان کی اولاد کبھی بھی نا فرمان نہیں ہوتی اگر آپ کی کمائی
میں ایک تنکہ برابر بھی حلال سے حرام شامل ہوگیا تو وہ اولاد کو بگاڑ دیں گی کیونکہ
ناپاک مال نا پاک عادتیں ڈالتا ہے۔
کھیلنے
کے لیے اچھی چیز جو شرعاً جائز ہو دیتے رہے بہلانے کے لیے ان سے جھوٹا وعدہ نہ
کریں جب کچھ ہوشیار ہو تو کھانے پینے اٹھنے بیٹھتے چلنے پھرنے ماں باپ اور استادو
غیرہ کی تعظیم کا طریقہ بتا ئے نیک استاد کے پاس قرآن مجید پڑھائیں اسلام و سنت
سکھائے حضور ﷺ کی تعظیم ومحبت ان کے دل میں ڈالے کیونکہ یہی اصل ایمان ہے جب بچہ
کی عمر سات سال ہو جائے تو نماز کی تاکید کریں اور جب دس برس کا ہو جائے نماز
کیلئے سختی کرے اگر نہ پڑھے تو مار کر پڑھائے وضو غسل اور نماز وغیرہ کے مسائل
بتانے دینی تعلیم دینے کیلئے انہیں مدارس اور جامعہ المدینہ میں داخلہ کروائے بری
صحبت سے بچائے عشقیہ ناول اور افسانے ہرگز نہ پڑھنے دیں جب جوان ہو جائے نیک شریف
النسب لڑکی یا لڑکے سے ان کی شادی کر دے اور ان کو وراثت سے ہرگز نہ محروم کریں
اپنی بیٹیوں کو سینا پرونا اور کھانا پکانا سکھائے سورہ نورکی تعلیم دیں اور لکھنا
ہر گز نہ سکھائے کہ فتنہ کا احتمال غالب ہے بیٹوں سے زیادہ ان کی دلجوئی کریں۔ نو
برس کی عمر میں ان کی خاص نگہداشت شروع کر دے شادی برات میں جہاں ناچ گانا ہو وہاں
ہر گز نہ جانے دیں ریڈیو سے بھی گانا بجانا ہر گز نہ سننے دیں۔
حضرت
ایوب بن موسیٰ اپنے با پ سے اور اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا
کہ اولاد کیلئے باپ کا کوئی عطیہ اچھی تربیت سے بہتر ہے۔ (مشکوۃ المصابیح، 2/ 398،
حدیث: 1951)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت شبیر حسن، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
نیک
اولاد اللہ تبارک وتعالی کی عظیم نعمت ہوتی ہے۔ اولاد صالح کے لیے اللہ تعالیٰ کے
پیارے نبی حضرت زکریا علیہ السلام نے بھی دعا مانگی۔قرآن مجید میں ارشاد ہے: رَبِّ
هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) (پ 3، اٰل عمران: 38) ترجمہ کنز الایمان: اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری
اولاد بیشک تو ہی ہے دعا سننے والا۔
یہی وہ نیک اولاد ہے جو دنیا میں اپنے
والدین کے لئے راحت اور آنکھوں کی ٹھنڈک کاسامان بنتی ہے۔بچپن میں ان کے دل کا
سرور، جوانی میں آنکھوں کا نور اوروالدین کے بوڑھے ہوجانے پر ان کی خدمت کرکے ان
کا سہارا بنتی ہے۔ پھر جب یہ والدین دنیا سے گزرجاتے ہیں تویہ سعادت مند اولاد
اپنے والدین کے لئے بخشش کا سامان بنتی ہے یقیناً وہی اولاد اخروی طور پر نفع بخش
ثابت ہوگی جو نیک وصالح ہو اولاد کی تربیت صرف ماں یامحض باپ کی نہیں بلکہ دونوں
کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا
النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28،
التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس
آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
اولاد
کی تربیت اسلامی ماحول میں کی جائے۔ اولاد کی تربیت کے لئے والدین کا اپناکردار
بھی مثالی ہونا ضروری ہے۔اسکے ساتھ ساتھ گھریلو ماحول کا بھی بچوں کی زندگی پر بہت
گہرا اثر پڑتا ہے۔ اگر گھر والے نیک سیرت، اور خوش اخلاق ہوں گے تو ان کے زیر سایہ
پلنے والے بچے بھی حسن اخلاق کے پیکر باکردار ہونگے۔جب بچہ ذرا ہوشیار ہوجائے اور
زبان کھولنے لگے تو سب سے پہلے اس کے خالق ومالک اور رازق کا اسم ذات اللہ سکھانا
چاہیے انہیں زبان کھلتے ہی کلمہ طیبہ سکھایا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ جب ان کی
اولاد سن شعور کو پہنچ جائے تو اسے اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، انبیاء
کرام علیہم السلام، قیامت اور جنت ودوزخ کے عقائد سکھائے جائیں۔ والدین کو چاہیے
کہ سرکار مدینہ ﷺ کی سیرت کے مختلف واقعات بچوں کو سناتے رہیں تاکہ اس کے دل میں
عشق رسول ﷺ پروان چڑھتا چلا جائے انہیں درود شریف پڑھنے کے فضائل بتاتے رہیں۔
بچوں
کے دل میں صحابہ کرام واہل بیت رضی اللہ عنہم کی عقیدت پیدا کریں۔ اس کے لئے بچوں
کو ان کے نفوس قدسیہ کی سیرت کے نورانی واقعات سنائیں بچوں کا دل و دماغ قرآن کی
روشنی سے آراستہ کیا جائے تو ان شاء اللہ ان کا باطن بھی منوّر ہوجائے گا۔ شاہ بنی
آدم ﷺ نے اپنی اولاد کو تعلیم قرآن سے آراستہ کرنے والوں کو کئی بشارتیں عطا
فرمائی ہیں۔ چنانچہ دوجہاں کے سلطان ﷺ کا فرمان مغفرت نشان ہے: جو شخص اپنے بیٹے
کو ناظرہ قرآن کریم سکھائے اس کے سب اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ (معجم
اوسط، 1/524، حدیث: 9635) جب بچہ سات
سال کا ہوجائے تو اسے نماز پڑھنا سکھائیں اور اسے پانچوں وقت کی نماز ادا کروائیں تاکہ
بچپن ہی سے ادائیگی نماز کی عادت پختہ ہو۔
بچے
کو صبح سویرے اٹھنے اور وضو کر کے نماز پڑھنے کی عادت ڈالئے۔ جب بچہ روزہ رکھنے کے
قابل ہوجائے تو اسے روزہ رکھوایا جائے۔نمازو روزہ کی اہمیت و فرضیت کا بتایا جائے۔اپنی
اولاد کو کامل مسلمان بنانے کے لئے علم دین سے آراستہ کرنا بے حد ضروری ہے۔بچوں سے
سچ بولئے انہیں بہلانے کے لئے جھوٹے وعدے نہ کیجئے والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد
کو ہر ایک سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آنے کی ترغیب دیں ابتداء ہی سے اپنے بچوں کو
کھانا کھانے، پینے کے آداب و سنت، بڑوں کا ادب احترام کرنے گفتگو کے آداب سکھائیں۔
بال کاٹنے،لباس پہننے، گھر میں داخل ہونے،سونےاور جاگنے کے آداب و سنت اور مختلف
دعائیں بھی سکھائیں۔ اپنی اولاد کوان کے جسم وجاں کی ناتوانی کا احساس دلانے کے
ساتھ ساتھ رب تعالیٰ کی بے نیازی سے ڈراتے رہیے۔ان کا ذہن بنائیے کہ جب بھی کوئی
نعمت ملے تو ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ
عنہ سے مروی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند ہے کہ بندہ
ہرنوالے اور ہر گھونٹ پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔
بچے
کو سکھایا جائے کہ کسی مسلمان کی ضرورت پراپنی ضرورت قربان کردینے کا بڑااجروثواب
ہے اور اس سے کہیں اپنی فلاں ضرورت کی چیز فلاں بچے کو دے دے۔ اللہ کے محبوب ﷺ نے
فرمایا: جو شخص اپنی ضرورت کی چیز دوسرے کو دے دے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے۔ اس کے
ساتھ ساتھ انہیں صبر کرنے اسکے فوائد وبرکات بھی بتائیں۔ اپنی اولاد کو والدین کا
ادب و احترام بھی سکھائیے۔ماں باپ کو چاہیے کہ ایک سے زائد بچے ہونے کی صورت میں انہیں
کوئی چیز دینے اور محبت وشفقت میں برابری کا اصول اپنائیں۔بلاوجہ شرعی کسی بچے
بالخصوص بیٹی کو نظر انداز کر کے دوسرے کو ترجیح نہ دیں۔اپنے بچوں اور دیگر اہل
خانہ پر دل کھول کر خرچ کیجئے بچوں کو رزق حلال کھلائیں جب کوئی نیا پھل آئے تو
اپنے بچوں کو کھلائیے کہ نئے کو نیا مناسب ہے۔ پھل وغیرہ بانٹنے میں پہلے بیٹیوں
کو دیجئے کہ ان کا دل بہت تھوڑا ہوتا ہے۔ والدین کو اپنے بچے پرکڑی نظر رکھنی
چاہیے کہ وہ کس قسم کے رسائل یا کتابیں پڑھتا ہے۔ کہیں وہ رومانی ناول یا گمراہ کن
عقائد پر مشتمل بدمذہبوں کی کتابیں پڑھنے کا عادی تو نہیں۔اسے اپنے اسلاف کی
حکایات اور صحیح العقیدہ علماء کی کتابیں پڑھنے کی ترغیب دلائی جائے۔کھیلنے کا
موقع بھی دیں۔
جامع صغیر میں ہے: یعنی بچے کا بچپن میں شوخی
اور کھیل کود کرنا، جوانی میں اس کے عقل مند ہونے کی علامت ہے۔انہیں بڑے کھیلوں پتنگ
بازی کے نقصانات فلموں ڈراموں، آتش بازی کے نقصانات اور اسلام میں انکی ممانعت کے
بارے میں بتائیں۔ گالی دینے وعدہ خلافی، حسد، بغض و کینہ جھوٹ جیسی بیماریوں سے
بچائیں اپنے بچوں کو مبتلائے تکبر ہونے سے بچانے کے لئے انہیں عاجزی کی تعلیم دیں
اپنی اولاد کو قناعت کی تعلیم دیجئے کہ رب تعالیٰ کی طرف سے جو مل جائے اسی پر
راضی ہوجائیں۔
حضرت
جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رحمت عالم نور مجسم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
قناعت کبھی ختم نہ ہونے والاخزانہ ہے۔ (کتاب الزھد الکبیر، ص 88، حدیث: 104) جب بچے بڑے
ہوجائیں تو بستر الگ کردیئے جائیں۔حضرت سیدنا عبدالملک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
مروی ہے کہ رحمت کونین ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تمہارے بچے سات سال کے ہوجائیں تو ان
کے بستر الگ الگ کردو۔ (مستدرک، 1/449، حدیث: 748)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت باقر اعوان، جامعۃ
المدینہ معراج کے سیالکوٹ
قرآن
کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا
قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ
الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو
اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔
فرمایا
کہ اے ایمان والو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی
فرمانبرداری اختیار کر کے، عبادتیں بجالا کر گناہوں سے باز رہ کر اپنے گھر والوں
کو نیکی کی ہدایت اور بدی سے ممانعت کرکے اور انہیں علم وادب سکھا کر اپنی جانوں
اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھرہیں۔
1۔ ہر
مسلمان پر اپنے اہل خانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت لازم ہے۔ آیت سے معلوم ہوا کہ
جہاں مسلمان پر اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے وہیں اہل خانہ کی اسلامی تعلیم و تربیت
کرنا بھی اس پر لازم ہے، لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی بچوں اور گھر
میں جو افراد اس کے ماتحت ہیں ان سب کو اسلامی احکامات کی تعلیم دے یا دلوائے
یونہی اسلامی تعلیمات کے سائے میں ان کی تربیت کرے تاکہ یہ بھی جہنم کی آگ سے
محفوظ رہیں۔ ترغیب کے لیے یہاں اہل خانہ کی اسلامی تربیت کرنے اور ان سے احکام
شرعیہ پر عمل کروانے سے متعلق حدیث ملاحظہ ہوں۔
سید
المرسلین ﷺ نے ارشاد فرمایا: اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو
اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں تو انہیں مار کر نماز پڑھاؤ اور ان کے بستر الگ کر
دو۔(ابو داود، 1/208، حدیث: 495)
2۔ مومن
کی آنکھوں کی ٹھنڈک کون: قرآن مجید میں ارشاد ہے: وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَرَبَّنَا
هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا
لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ 9، الفرقان: 74) ترجمہ: اور وہ جو
عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور ہماری اولاد سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک
عطا فرما اور ہمیں پرہیز گاروں کا پیشوا بنا۔
اس
آیت سے معلوم ہوا کہ نیک اور پرہیزگار بیوی اور اولاد مومن کی آنکھوں کی ٹھنڈک
اوراس کے دل کی خوشی کا باعث ہے نیک اولاد بیٹے ہوں یا بیٹیاں، کے بارے میں حضرت
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب انسان مر جاتا
ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے عمل منقطع ہو جاتے ہیں: (1) صدقہ جاریہ (2) وہ علم
میں سے نفع اٹھا یا جاتا ہو۔ (3) نیک بچہ جو اس کے لیے دعا کرے۔(مسلم، ص 684، حدیث:
4223)
اولاد
آنکھوں کی ٹھنڈک کیسے بنے؟ اس کے لئے یہ بات یاد رکھیں کہ دعا کے ساتھ عملی تربیت
اور انہیں وقت دینا ضروری ہے۔ اولاد کو اگر وقت نہیں دیں گےاوران کی تربیت کو اپنی
ذمہ داری سمجھ کر ادا نہیں کریں گے تو بھول جائیں کہ ایسی اولاد آپ کی آنکھوں کی
ٹھنڈک بنےمزید فرمایا یوں دعا کرو: اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا۔ یعنی ہمیں
ایسا پر ہیز گار، عبادت گزار اور خدا پرست بنا کہ ہم پر ہیز گاروں کی پیشوائی کے
قابل ہوں اور وہ دینی امور میں ہماری اقتدار کریں۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس آیت
میں دلیل ہے۔ کہ آدمی کو دینی پیشوائی اور سرداری کی رغبت رکھنی اور طلب کرنی
چاہئے۔ (خازن، 3/381) لیکن یہ اس صورت میں ہے کہ جب مقصد اچھا ہو نہ یہ کہ حب دنیا
اور حب جاہ کی وجہ سے ہو۔
4۔
بیوی بچوں سے متعلق چا اہم باتیں: (1) جو بیوی بچے اللہ تعالیٰ کی اطاعت، نماز، حج
اور ہجرت سے روکیں وہ ایک اعتبار سے ہمارے دشمن ہیں کہ ہماری آخرت کو نقصان
پہنچاتے ہیں اور دشمن وہی ہوتا ہے جو نقصان پہنچا ئے،لہذا ان کی بات نہیں ماننی
چاہیے۔ (2) ہمارا وہ رشتہ دار جو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ﷺ سے روکے وہ شمن ہے
اور وہ اجنبی اور غیر جو ہمیں اللہ اور رسول کریم ﷺ تک پہنچا ئے وہ ہمارا عزیز ہے۔
(3) اللہ تعالی اور رسول کریم ﷺ کے مقابلے میں کسی کی اطاعت نہیں۔ (4) بیوی بچوں
کے قصور معاف کر دینا اللہ تعالی کو محبوب ہے، جو مخلوق پر رحم کرے گا خالق اس پر
رحم فرمائے گا نیز یہ بات واضح ہے کہ بیوی بچوں کا دینی امور میں رکاوٹ بننے کا
معاملہ زندگی میں کبھی کبھار ہی پیش آتا ہے کہ جبکہ ویسے پوری زندگی انہیں کے ساتھ
گزارنی ہے تو نرمی، شفقت اور عفود در گزر ہی اختیار کر نا چا ہیے قرآن مجید کا عام
حکم یہ ہے: وَ عَاشِرُوْهُنَّ
بِالْمَعْرُوْفِۚ- (پ 4، النساء:19 ) ترجمہ: اور ان کے ساتھ اچھے
طریقے سے گزر بسر کرو۔
مدنی
گلدستہ: اولاد کو سدھارنے کے لیے نماز کی تعلیم دی جائے اور ان کی اسلامی تعلیم
وتربیت پر غور و فکر کیا جائے دینی ماحول سے وابستہ رکھا جائے۔ انہیں اللہ اور اس
کے رسول کریم ﷺ کی اطاعت کرنے کا حکم دیا جائے اور انہیں نیک اعمال کرنے کی طرف
مائل کیا جائے ان کے لیے دعا کرتے رہنا چاہئے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت آصف، جامعۃ المدینہ معراج
کے سیالکوٹ
نافرمان
اولاد ساری زندگی کا روگ ہوتی ہے والدین کے حکم کی تعمیل نہ کرنے والی اولاد کی
رنج سے اچھا بلا انسان پریشان ہو کر بہت سے غلط عقدمات اٹھاتا ہے نافرمان اولاد
گمراہ ہوتی ہے بہت سے والدین ایسی اولاد کے ہاتھوں مارے بھی جاتے ہیں۔ یہ اولاد
جرم میں ملوث ہو جاتی ہیں اور نشہ بھی کرتی ہیں انہیں عدالتوں میں بھی خوار ہونا
پڑتا ہے ایسی اولاد تعلیم سے بھی محروم ہو جاتی ہیں لیکن کئی صورتوں میں پڑھی لکھی
اولاد کے ہاتھوں بھی والدین کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے یہ کتنی ظلم اور شرم کی بات
ہے کہ والدین جنہوں نے پال پوس کر اپنے منہ کا لقمہ اولاد کے منہ میں ڈال کر اس سے
پالا ہوتا ہے وہی ان کے برابر کا سہارا نہیں بن پاتی۔
والدین
کو چاہیے کہ وہ خود ایسے حالات پیدا نہ کریں اگر اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا
رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں بعد ازاں نماز عشاء اول آخر اسم ربی یا نافع
41 سو بار 21 دن تک پڑھیں ان شاء اللہ بچوں کی غلط عادتیں چھوٹ جائیں گی۔
جو
لوگ ذمہ دار ہوتے ہیں ان پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اگر انہیں کوئی کام دیا جائے
اور وہ اس سے اچھی طرح سے اور اچھے وقت پر پورا کرتے ہیں۔
بچوں
کی پرورش کے لیے ماہرین کہتے ہیں کہ جب بچہ 15 مہینے کے ہوتے ہیں تو وہ تب سے ہی
ماں باپ کی بات ماننے کے قابل ہوتے ہیں اور جب بچے 18 مہینے کے ہوتے ہیں تو ان میں
وہی کام کرنے کی خواہش ہوتی ہے جو ان کے ماں باپ ان کے سامنے کرتے ہیں، کئی ملکوں
میں یہ دستور ہے کہ جب بچے پانچ سے سات سال کے ہو جاتے ہیں تو ان کے ماں باپ انہیں
گھر کے چھوٹے چھوٹے کام کرنا سکھانے لگتے ہیں حالانکہ بچے چھوٹے ہوتے ہیں پھر بھی
وہ اچھی طرح سے کر پاتے ہیں۔
ذمہ
دار شخص بننا کیوں ضروری ہے مغرب میں یہ رجحان بہت عام ہے کہ کئی نوجوان اپنے بل بوتے
پر زندگی گزارنے کے لیے اپنے گھر سے الگ رہنے لگتے ہیں مگر پھر کچھ وقت گزرنے کے
بعد وہ اپنے ماں باپ کے پاس لوٹ آتے ہیں بچوں کی ابھی سے تربیت کریں جن بچوں کو
ذمہ دار شخص بنانا سکھایا جاتا ہے وہ بڑے ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو اچھے طریقے سے
نبھا پاتے ہیں اپنی مثال سے بچوں کو سکھائیں کیا میں محنتی ہوں کیا میں سارے کام
اچھے طریقے سے کرتی ہوں کیا میں اپنی غلطی مانتی ہوں۔
ایک
والدہ کہتی ہیں: میرے بچے بچپن سے ہی گھر کے کام کاج میں میرا ہاتھ بٹاتے تھے کہ
جب میں کھانا بناتی تو وہ میری مدد کرتے انہیں میرے ساتھ کام کرنا بہت اچھا لگتا
تھا انہیں اس میں بہت مزہ آتا تھا اسی لیے انہوں نے ایک ذمہ دار بننا سیکھ لیا محنت
مشقت کرنے میں بہت فائدے ہیں چھوٹے بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ کام کرنا اچھا
لگتا ہے لہذا اس بات کا فائدہ اٹھائیں اپنے بچوں کو چھوٹے موٹے کام کرنے کا کہیں
لیکن کچھ ماں باپ ایسا نہیں کرتے کہ بچوں میں تو ویسے ہی پڑھائی کا بوجھ ہے مگر
دیکھا جائے جو بچے گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہیں وہ پڑھائی بھی کر لیتے ہیں گھر
کے کام سے بچے یہ سیکھتے ہیں انہیں جو کام دیا گیا ہے انہیں پورا کرنا چاہیے۔
پھر
یہ ماں باپ کی بات ماننا سیکھ جاتے ہیں انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کے ماں باپ
کے ساتھ وقت گزارنا کتنا اچھا ہوتا ہے۔
اپنی
غلطیوں سے سیکھنے کے فائدے: بچوں سے غلطی تو ضرور ہوگی مگر ماں باپ کو یاد رکھنا
چاہیے کہ بچے غلطیوں سے ہی سیکھتے ہیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد شہباز،فیضان ام
عطار گلبہار سیالکوٹ
والدین
شریعت کے پابند اور علم دین حاصل کرنے کےشوقین ہوں تو ان کی نسلیں بھی نیکیوں کے
راستے پر چلتی ہیں اور والدین کی نجات و بخشش اور نیک نامی کا سبب بنتی ہیں اوراگر
والدین خودبری عادتوں کے شکار ہوں تو اولادمیں بھی وہی برائیاں منتقل ہوجاتی ہیں
اور ایسی اولاد سبب نجات نہیں بلکہ سبب ہلاکت بن جاتی ہے۔یاد رکھئے!اولادکی درست
تربیت کرنا ماں باپ دونوں ہی کی ذمہ داری ہے مگر باپ کمانے کا بہانہ بنا کر تربیت
اولاد کی ذمّہ داری بچوں کی ماں پر ڈال کر خود کو اس ذمہ داری سے بچانے کی کوشش
کرتا ہے جبکہ بچوں کی ماں گھر کےکام کاج کا عذر پیش کرکے تربیت اولاد کا اصل ذمّہ
دار اپنے شوہر کو قرار دیتی ہے،پھر ہوتا یہ ہے کہ ایسی اولادہاتھوں سے نکل کر گھر
والوں کیلئے باعث زحمت بن جاتی ہے۔لہٰذا والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داری
نبھاتے ہوئےاولاد کوبچپن ہی سے نیک اور معاشرے کا باکردار فرد بنانے میں اپنا
کردار ادا کریں کیونکہ بچپن میں جوچیزسیکھی جاتی ہے،اس کے اثرات مضبوط ہوتے ہیں۔
آئیے!
تربیت اولاد کے بارے میں مدنی مصطفٰےﷺ کےمہکے مہکے 4فرامین سنئے:
1۔ رسول
انور ﷺ نے(جب) یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا
النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28،
التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس
آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔توصحابۂ کرام
علیہم الرضوان نے عرض کی:یارسول اللہ ﷺ! ہم اپنے گھر والوں کو کس طرح آگ سے
بچائیں؟تونبیّ کریم ﷺنے فرمایا:انہیں ان کاموں کا حکم دو جو اللہ پاک کوپسند ہیں
اوران کاموں سے منع کرو جو اللہ پاک کو ناپسند ہیں۔
2۔ ارشادفرمایا:اپنی
اولاد کو تین خصلتوں کی تعلیم دو(1)اپنے نبی(ﷺ) کی محبّت (2)اہل بیت کی محبّت
اور(3)قرآن پاک کی تعلیم۔ (جامع صغیر، ص 25، حدیث: 311)
3۔ ارشادفرمایا:اولادکا
والدپر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اچھا ادب سکھائے۔ (شعب الایمان، 6/400،
حدیث:8658)
4۔ ارشاد
فرمایا: کسی باپ نے اپنے بچے کو ایسا انعام نہیں دیا،جو اچھے ادب سے بہتر ہو۔ (ترمذی،
3/383،حدیث: 1959) حکیم
الامّت حضرت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث پاک کے تحت فرماتے
ہیں: اچھے ادب سے مراد بچے کو دیندار، متّقی، پرہیزگار بنانا ہے۔ اولاد کے لئے اس
سے اچھا عطیّہ (انعام)کیا ہو سکتا ہے کہ یہ چیز دین و دنیا میں کام آتی ہے۔ماں باپ
کو چاہئے کہ اولاد کو صرف مالدار بنا کر دنیا سے نہ جائیں، انہیں دیندار بنا کر
جائیں، جو خود انہیں بھی قبر میں کام آوے کہ زندہ اولاد کی نیکیوں کا ثواب مردہ
کوقبر میں ملتا ہے۔ (مرآۃ المناجیح،6/565ملتقطاً)
اولاد
کو سدھارنے اور ان کی بہترین تربیت کرنا والدین کی بنیادی اور اہم ذمہ داری ہے۔ یہ
ذمہ داری نہ صرف دنیاوی اعتبار سے اہم ہے بلکہ دینی اعتبار سے بھی بہت بڑی نیکی
اور عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث میں اس
کی اہمیت کو بار بار واضح فرمایا ہے۔
اللہ
تعالیٰ فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا
اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (پ 28، التحریم:6) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو
اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو اس آ گ سے بچاؤ جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔اس
آیت میں واضح طور پر والدین کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے اعمال کو درست
کریں بلکہ اپنے گھر والوں، خاص طور پر بچوں کی بھی تربیت کریں تاکہ وہ جہنم کی آگ
سے محفوظ رہ سکیں۔ امام طبری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا کہ والدین کا
فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسی تعلیم دیں جو انہیں گناہوں سے بچائے اور اطاعت الٰہی
پر قائم رکھے۔
رسول
اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگران ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے
میں سوال کیا جائے گا۔ ایک آدمی اپنے اہل خانہ کا نگران ہے اور اس سے ان کے بارے
میں سوال ہوگا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)
یہ
حدیث والدین کی ذمہ داری کو مزید واضح کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے معاملے
میں اللہ کے سامنے جوابدہ ہیں۔
اولاد
کو سدھارنے کے عملی طریقے:
1۔ دینی تربیت: بچوں کو بچپن سے دین کے بنیادی اصول
سکھائیں، جیسے نماز، قرآن کی تلاوت، اور اخلاقی اقدار۔
2۔ اچھے اخلاق کی تعلیم: انہیں سچ بولنے، احترام کرنے، اور
دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی عادت ڈالیں۔
3۔ اچھی صحبت: بچوں کو نیک لوگوں اور اچھے ماحول میں
رکھیں تاکہ وہ مثبت اثرات لے سکیں۔
4۔ عملی نمونہ بنیں: والدین خود اپنے عمل سے بچوں کے لیے
مثال بنیں، کیونکہ بچے باتوں سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔
5۔ تعلیم و تربیت میں توازن: دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی
تعلیم میں بھی ان کی رہنمائی کریں تاکہ وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو
سکیں۔
والدین
کی حقیقی ذمہ داری صرف دنیاوی آسائشیں فراہم کرنا نہیں، بلکہ اپنی اولاد کو دین کی
سمجھ دینا اور انہیں اللہ کی ناراضگی سے بچانے کی کوشش کرنا ہے۔ کیونکہ دنیاوی مال
و دولت عارضی ہے، لیکن آخرت کی کامیابی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔
6۔ دعائیں کریں: اللہ سے ہمیشہ اپنے بچوں کی بھلائی اور
ہدایت کی دعا مانگتے رہیں۔
اولاد
کی تربیت میں محنت اور وقت صرف کرنا والدین کے لیے ایک آزمائش بھی ہے اور انعام
بھی۔ اگر والدین اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں تو نہ صرف بچے نیک اور
صالح بنیں گے بلکہ والدین کے لیے بھی صدقہ جاریہ ثابت ہوں گے۔
رسول
اللہ ﷺ کی ہدایت اور اسلامی تربیت کے اصول بچوں کی اخلاقی، دینی، اور سماجی زندگی
کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی
اللہ عنہ سے مروی حدیث اس بات کی طرف واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اپنے
بچوں کو سات سال کی عمر میں نماز پڑھنے کا حکم دو، اور جب وہ دس سال کے ہو جائیں
اور نماز نہ پڑھیں تو انہیں (نرمی کے ساتھ) مارو اور ان کے بستروں کو الگ کر دو۔ (ابو
داود، 1/208، حدیث: 495)
بچوں کی تربیت کے اصول:
1۔ عمر کے مطابق ہدایات: سات سال کی عمر: اس عمر میں بچوں کو
نرمی، محبت اور اچھے رویے کے ذریعے نماز کی عادت ڈالیں۔ انہیں نماز کے فضائل، اور
اس کے اجر و ثواب کے بارے میں بتائیں۔ دس سال کی عمر: اس عمر تک بچے شعور اور ذمہ
داری کا فہم رکھتے ہیں۔ اگر وہ نماز میں سستی کریں تو مناسب حد تک سختی کی اجازت
ہے، لیکن یہ سختی صرف تربیت کے لیے ہو، نہ کہ ظلم یا زیادتی کے لیے۔
2۔ نرمی اور سختی کا توازن: بچوں کو پہلے نرمی اور محبت سے
سمجھانا چاہیے۔ اگر وہ غلطی کریں تو ان پر سختی تب کی جائے جب وہ بدنی اور عقلی
طور پر اس کو سمجھ سکیں اور برداشت کر سکیں۔
3۔ بری صحبت سے دوری: بچوں کو خراب صحبت سے بچائیں کیونکہ
بری صحبت اکثر ان کے اخلاق اور کردار پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ان کی صحبت کا خیال رکھنا
والدین کی ذمہ داری ہے۔
4۔ مثالی شخصیات کو رول ماڈل بنانا: سلف صالحین کے
اقوال اور طرز زندگی کو بچوں کے سامنے پیش کریں۔ انہیں صحابہ، تابعین اور نیک
لوگوں کے واقعات سنائیں تاکہ ان میں اچھے اخلاق اور نیک اعمال کا جذبہ پیدا ہو۔
5۔ تعلیم و ادب کی اہمیت: بچوں کو قرآن، دین کے ضروری
احکام، ادب اور زبان سکھائیں۔ ان کی زبان اور کردار کو بہتر بنانے پر خاص توجہ
دیں۔
6۔ انعام و سزا کی حکمت عملی: انعام: بچوں کی حوصلہ افزائی
کریں۔ اگر وہ اچھا کام کریں یا اپنی ذمہ داری نبھائیں تو انہیں انعام، تحفے یا
تعریف سے نوازیں۔ سزا: غلط کام کرنے پر پہلے سمجھائیں، پھر دھمکائیں، اور آخر میں
ہلکی جسمانی سزا دیں، لیکن یہ صرف اس صورت میں ہو جب ضروری ہو۔
7۔ ہر بچے کا انفرادی مزاج: بچوں کے مزاج کو سمجھنا ضروری
ہے۔ ہر بچے کو ایک جیسی تربیت نہیں دی جا سکتی۔ جو بچے نرم مزاج ہوں، ان کے ساتھ
زیادہ نرمی اور محبت سے پیش آئیں، اور جو ضدی ہوں، ان کے ساتھ حکمت اور مناسب سختی
اختیار کریں۔
Dawateislami