اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت شمس پرویز،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بگڑی
اولاد کو اگر پیار و محبت سے سمجھایا جائے ان کی طرف توجہ کی جائے تو یقینا وہ
اپنے والدین کے فرمانبردار بن جائیں گے لیکن ہمارے معاشرے میں بچہ ابھی چھوٹا ہے
کہہ کر لاپرواہی کی جاتی ہے اور پھر جب وہ بگڑ جائے تو پیار سے سمجھانے کی بجائے
اسے ہر بات پر ڈانٹا جاتا ہے جس سے وہ ضدی ہو جاتا ہے اور اکثر ہمارے زیادہ پیار
اور محبت کی وجہ سے بچہ ہر بات پر ضد کرتا ہے ہر بچہ ضد کرتا ہے ایسا نہیں کہ بچے
کا ضد کرنا غلط ہے لیکن بات بات پر اور حد سے زیادہ ضد کرنا غلط ہے اور اس کا اثر
بچے کے مستقبل پڑھتا ہے اس لیے ماؤں کو درج ذیل باتوں پر عمل کرتے ہوئے بچوں کی
تربیت کرنی چاہیے ماں کو چاہیے کہ بچے کی بات بغور سنے اور اگر اس کی بات میں
اچھائی ہے تو اس بار اس کی حوصلہ افزائی کرے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت شکیل،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کے بگڑنے میں سب سے اہم کردار ماں باپ کا ہوتا ہے۔ جب ماں نے بچے کو کسی غلط کام
سے روکنا نہیں تو بچے نے کس طرح سیدھا ہونا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ اور بگڑے گا۔ جب
والدین کا مقصد حیات حصول دولت عیش و آرام بن جائے تو وہ اولاد کی ترتیب کیا کرئے
گے اور پھر جب اولاد کی طرف سے ایسا بگڑا پن دیکھتے ہیں تو ہر ایک سے اسکے بگڑنے
کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایسے
والدین کو غور کرنا چاہئے کہ اولاد کو اس حال تک پہنچانے میں ان کا کتنا ہاتھ ہے
کیونکہ انہوں نے اپنے بچے کو ABC تو سکھا یا مگر قرآن پڑھنا نہ سکھایا مغربی
تہذیب کے طور طریقے بتائے مگر سنتیں نہ سکھائیں، انہیں جنرل سائیں وغیرہ کا بتایا
مگر ان کو فرض علوم نہ سکھائے اسکے دل میں مال کی محبت ڈالی مگر عشق رسول ﷺ کی شمع
نہ روشن کی اسے دنیاوی ناکامیوں کے بارے میں بتایا مگر یہ نہ بتایا کہ اگر آخرت
میں ناکام ہو گئے تو کیا ہوگا اس کی ناکامی کا خوف نہ دلایا تو ایسی صورت میں جب
بچے کو کچھ سیکھانا ہی نہیں اسکی دین کی طرف رہنمائی ہی نہیں کرنی تو اسطرح
اولادنے تو بگڑنا ہی ہے۔
اس
لیے اپنی اولاد کو سیدھے راستے پر چلائیے ان کو دین کی طرف راغب کرے انہیں قرآن سیکھنے
کے لیے بھیجے۔ ان کو حضور ﷺ کی سنتوں کے بارے میں بتائے ایسے میں ہمارا شعبہ دعوت
اسلامی ہمیں بہت سی آسائش فراہم کر رہا ہے۔ بہت سے بچے قرآن کی تعلیم حاصل کر ر ہے
ہیں اور طرح طرح کے کورس کر رہے ہیں اور اپنے ماں باپ کا نام روشن کر رہے ہیں اور
سیدھے راستے پر چل رہے ہیں۔ ماشاء اللہ
اللہ
پاک سبکی اولاد کو فرمانبردار بنائے اور سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین
اولاد
کو سدھارنے کے بہت سے روحانی علاج بھی ہیں۔ جن میں سے چند ایک یہ ہیں:
1۔
نافرمان اولاد کو فرمانبردار بنانے کے لئے تاحصول مراد نماز فجر کے بعد آسمان کی
طرف رخ کر کے کا يا شہيد 21 بار پڑھیں ( اول و آخر ایک بار درود پاک)۔
2۔ ہر
نماز کے بعد ذیل میں دی ہوئی دعا اول و آخر درود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیں۔
انشاء اللہ عزوجل بال بچے سنتوں کے پابندیں گے۔ اور گھر میں مدنی ماحول قائم ہوگا:
رَبَّنَا هَبْ لَنَا
مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا
لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا(۷۴) (پ 9، الفرقان: 74)
اولاد کو سدھارنےکے طریقے از بنت دلاور حسین،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
والدین
کی ذمہ داریوں میں سے سب سے اہم ذمہ داری اولاد کی اچھی تربیت کرنا ہے ان کو اچھے
برے کام کی تمیز سکھانا ہے تاکہ گھر اور معاشرہ پرامن ہو سکے اور بچوں کو بھی صحیح
غلط کی تمیز آ سکے۔ اولاد کو سدھارنےکے چند اسباب بیان کیے گئے ہیں جن کو مدنظر
رکھتے ہوئے ان کی بہترین تربیت کی جا سکتی ہے اس میں سب سے پہلا
اخلاق و کردار: بچے کی پہلی درسگاہ اس کی ماں کی گود
ہوتی ہے یعنی اس کی ماں ہوتی ہے اور پھر باقی گھر والے ہوتے ہیں بچہ جو اپنی ماں
یا اپنے گھر والوں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے وہی طریقہ اپناتا ہے تو بہتر ہے کہ بچوں
کی ماں اپنے اخلاق کو کردار مثبت رکھے تاکہ اولاد کے لیے اخلاق اور کردار بھی بہتر
ہو سکے۔
مثبت گفتگو: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے
سامنے اپنے بزرگوں کی عزت کریں اپنے بزرگوں سے کبھی اونچی آواز میں بات نہ کرے ان
کا ادب و احترام کرے تاکہ ان کی اولاد بھی اپنے بڑوں کی عزت کرے اور ان کے ساتھ
حسن اخلاق سے پیش ائے۔
محبت اور توجہ: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے
ساتھ محبت سے پیش آئے ان کی ہر بات کو اہمیت دے اور توجہ سے سنیں تاکہ بچوں میں
خود اعتمادی پیدا ہو اور والدین کو ان کی تربیت کرنے میں آسانی ہوگی۔
تعلیم و تربیت: والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت
پر توجہ دینی چاہیے دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم پر بھی توجہ دینی چاہیے
بالخصوص فرائض علوم پر تاکہ بچوں میں دنیا کے ساتھ آخرت کی فکر کرنے کی کہ بھی کڑھن
پیدا ہو۔
حوصلہ افزائی کرنا: والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کہ اچھے
کاموں پر ان کی حوصلہ افزائی کرے تاکہ ان میں کام کرنے کا جذبہ پیدا ہو اور اپنے
کام کو خوش اسلوبی سے انجام دے۔
دوست بنائیں: والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے
ساتھ گل مل کر رہے ہیں اور اپنے بچوں کو اپنا دوست بنائیں تاکہ ان کے بچے ان کے
ساتھ کوئی بھی بات کرنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔
ایکٹیوٹیز: والدین کو چاہیے کہ اپنے اولاد کی ایکٹیوٹیز پر نظر
رکھے وہ کب کیا کرتے ہیں یہ کیا کرنا چاہتے ہیں ان کی ایکٹیویٹیز کیا ہے۔
مثالی کردار: والدین کو چاہیے کہ مثالی کردار کے لیے
اپنے بچوں کو نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگی کی مثال دے کر ان کی زندگیوں کو
بھی بہتر بنایا جائے۔
اور
اپنی اولاد کے لیے دعا کریں کہ اللہ پاک آپ کی اولاد کو نیک صالح اور والدین کا
فرمانبردار بنائے۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت بشیر باجوہ، فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بچے
معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں اگر یہی بگڑ جائیں تو معاشرے کا نظام درہم برہم ہوجاتا
ہے۔ فتنہ و فسادات عام ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں ضد اور غلط حرکتیں کرنے کی عادت ہوتی
ہے اگر یہ بڑھ جائے تو انہیں شفقت کے ساتھ سمجھانا چاہیے ورنہ غلط طریقے سے برتاؤ
کرنے کے برے نتائج ہوسکتے ہیں۔
تربیت
میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے، چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی
چاہیے: 1:سمجھانا۔2:ڈانٹ
ڈپٹ کرنا۔3:مارکے علاوہ کوئی سزا دینا۔4:مارنا۔5: قطع
تعلق کرنا۔ یعنی غلطی ہوجانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے، اگر پہلی
مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحۃً برائی کا
ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات
بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی، اس وقت بھی ڈانٹ
ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے، نصیحت اور پیار سے اسے غلطی کا احساس دلایاجائے۔ بچہ کی
پیارومحبت سے تربیت واصلاح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن ابی سلمہ سے منقول ہے،
فرماتے
ہیں کہ میں بچپن میں رسول اللہ ﷺ کی زیرتربیت اور زیرکفالت بچہ تھا، میرا ہاتھ
کھانے کے برتن میں ادھر ادھر گھوم رہا تھا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے
فرمایا: اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور
اپنی طرف سے کھاؤ۔ (بخاری، 3/521، حدیث: 5376) اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے
بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی
جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا کہا جائے۔
ہمارے
پیارے آقاﷺ ہر کام میں ہمارے لیے مشعل راہ ہیں اس لیے بچوں کی تربیت کے معاملے میں
حضور پاک ﷺ کا انداز تربیت پیش نظر ہونا چاہیے۔
رسول
پاک ﷺ کی شفقت کو دیکھا جائے تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے دس سال رسول پاک ﷺ کی
خدمت میں گزارے لیکن کبھی بھی انہیں ڈانٹا نہیں گیاجس کی گواہی حضرت انس رضی اللہ
عنہ خود دیتے ہیں۔ (مسلم، ص 972، حدیث 2309)
نبی
کریم ﷺ اچھی باتو ں کی تر غیب دلاتے،ایک بار حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے
میرے بیٹے! اگر تم سے ہوسکے تو صبح و شام ایسے رہو کہ تمہارے دل میں کسی کی طرف سے
کینہ نہ ہو، اے میرے بیٹے! یہ میری سنّت ہے اور جس نے میری سنّت سےمحبّت کی اس نے
مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ میرے ساتھ جنّت میں ہوگا۔
اگر
اولاد میں گستاخی اور نافرمانی کا رویہ دیکھیں تو فوری اللہ سے رجوع کریں اور یہ
عمل شروع کردیں۔بعد از نماز عشا اول آخر اسم ربی یا نافع اکتالیس سو بار اکیس دن
تک پڑھیں اور اللہ کے حضور اسکے راہ راست پر آنے کی دعا کریں،انشا ء اللہ بگڑے
ہوئے بچوں کی اصلاح ہوگی۔
تربیت
کی دو قسمیں: تربیت دو قسم کی ہوتی ہے: 1:ظاہری
تربیت،2:باطنی تربیت۔ظاہری اعتبار سے تربیت میں
اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول،اس کے دوست
واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور
بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش وغیرہ کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور
اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد ان کے عقیدہ اور اخلاق
کی اصلاح ودرستگی ہے۔ اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ
فرض ہے۔
ماں
باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا
جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت
اور ان کی ضروریات کی کفالت پر انہیں ابھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ
ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ
داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث نبویہ
میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت انعام اللہ بٹ،فیضان
ام عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
قرآن
مجید میں اولاد کی تربیت کے لیے کچھ احکامات اور طریقے بیان کیے گئے ہیں:
حدیث
کے چند احکامات ہیں جو اولاد کی تربیت کے لیے ہدایت فراہم کرتے ہیں۔
نبی
کریم ﷺ نے اولاد کی تربیت کے لیے کچھ احکامات اور طریقے بیان فرمائے ہیں:
1۔
اپنی اولاد کو اچھے راستے پر چلاؤ، اور انہیں برے کاموں سے روکو۔
2۔
بچوں کی تربیت کرو، اور انہیں اچھےراستے پر چلاؤ۔
3۔
بچوں کو نماز کی تربیت دو جب وہ سات سال کے ہوں۔ (ابو داود، 1/208، حدیث: 495)
4۔
بچوں کو محبت کرو، اور انہیں اچھے راستے پر چلاؤ۔
5۔
اپنی اولاد کو شکر گزار بناؤ، اور انہیں اللہ کا فرمان مانیں۔
6۔
بچوں کو صبر اور حوصلہ افزائی کی تربیت دو۔
7۔
بچوں کو حلم اور عفو کی تربیت دو۔
8۔
اپنی اولاد کو اچھےراستے پر چلاؤ، تاکہ وہ اچھے انسان بن جائیں۔
9۔
بچوں کو اچھی صحبت میں رکھو، اور برے لوگوں سے انہیں دور رکھو۔
10۔
اپنی اولاد کی تربیت میں سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ انہیں اللہ کا فرمان ماننا
سکھاؤ۔
یہ
نبی کریم ﷺ کے کچھ فرمان ہیں جو اولاد کی تربیت کے لیے ہدایت فراہم کرتے ہیں۔
اولاد
کی تربیت میں والدین کی کردار اہم ہے یہاں کچھ طریقے ہیں جو آپ اپنے بچوں کو
سدھارنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں:
1۔ مثال قائم کریں: بچوں کو اپنے والدین کی مثال پر چلنا
پسند ہوتا ہے۔ لہذا آپ کو اپنے بچوں کے سامنے اچھا مثال قائم کرنا چاہیے۔
2۔ ہمدردی اور سمجھ: بچوں کو سمجھنے اور ان کی feelings
کو تسلی دینے کی کوشش کریں۔
3۔ سخت اور نرم دونوں رویے: بچوں کو سمجھانے کے لیے سخت اور
نرم دونوں رویے اپنائیں۔
4۔ اعتماد اور حوصلہ افزائی: بچوں کے اندر اعتماد اور حوصلہ
افزائی کریں تاکہ وہ زندگی کی تلخیوں کا سامنا کر سکیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت امجد فاروق،فیضان ام
عطار شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
آج کے دور میں بہت سے والدین اپنی اولاد کے
بگڑتے ہوئے رویوں سے بہت پریشان ہیں لہذا اولاد کو سدھارنے اور انہیں راہ راست پر
لانے کے بہت سے طریقے ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔
اسلامی تربیت: اولاد کی اسلامی تربیت کی جائے ہر
معاملے میں انہیں پیار و محبت سے سمجھایا جائے کیونکہ جو کام نرمی سے ہو سکتا ہو
اسے گرمی سے مت کیا جائے اس طرح اولاد مزید بگڑ سکتی ہے اسکے علاوہ بڑوں کا ادب
سکھایا جائے اپنی غلطی کا اعتراف کرنا سکھایا جائے
دوستانہ ماحول: گھر میں دوستانہ اور خوشگوار ماحول
بنائیں۔ بچوں کو محسوس ہونا چاہیے کہ وہ گھر میں محفوظ ہیں اور ان کی رائے اہم ہے۔
مشکلات کا سامنا: اگر بچے کسی مسئلے کا سامنا کر رہے
ہیں تو انہیں سمجھائیں کہ مشکلات کا سامنا کرنے سے ہی انسان مضبوط ہوتا ہے۔ ان کی
مدد کریں کہ وہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔
مساوی رویہ: اگر دو یا تین بچے ہوں تو کسی کے ساتھ زیادہ
پیار اورکسی کے ساتھ کم ایسا رویہ نہ رکھا جائے بلکہ سب کے ساتھ مساوی سلوک کیا
جائے اس طرح انکے درمیان پیار و محبت بڑھے گا۔
تعلیم کی اہمیت:بچوں کو تعلیم کی اہمیت سمجھائیں۔
انہیں کتابیں پڑھنے کی ترغیب دیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں۔
حدود کا تعین: بچوں کے لیے واضح حدود مقرر کریں۔
انہیں بتائیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط، اور ان حدود کی پاسداری کریں۔
رول ماڈل بنیں: والدین کو چاہیے کہ وہ خود اچھے کام
کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین رول ماڈل بنیں کیوں کہ عموما اولاد وہی کرتی ہے
جو وہ اپنے والدین کو کرتے دیکھتی ہے اس لیے والدین نمازوں کی پابندی کریں اور
اپنے رویے درست رکھیں۔
اچھے انداز میں سمجھانا: اگر بچے کوئی غلطی کریں تو انہیں پیار
سے سمجھایا جائے نا کہ ڈانٹ ڈپٹ اور غصے سے اگر پیار سے سمجھائیں گے تو بچہ سمجھے
گا بھی اور اپنی غلطی جا اعتراف بھی کرے گا اور آئندہ ایسا نا کرنے کا عہد بھی کرے
گا۔
محبت اور توجہ: بچوں کو محبت اور توجہ دینا بہت ضروری
ہے۔ یہ ان کی خود اعتمادی کو بڑھاتا ہے اور انہیں محفوظ محسوس کراتا ہے۔ جب بچے
محسوس کرتے ہیں کہ ان کے والدین ان کی پرواہ کرتے ہیں، تو وہ بہتر رویے کی طرف
مائل ہوتے ہیں۔
قواعد و ضوابط: بچوں کے لیے واضح قواعد و ضوابط بنائیں
اور ان پر عمل درآمد کروائیں۔ یہ ان کو سکھاتا ہے کہ کس طرح صحیح اور غلط میں فرق
کرنا ہے۔
سماجی مہارتیں: بچوں کو دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہنے
کی تربیت دیں۔ انہیں سکھائیں کہ کس طرح دوستانہ رویہ اپنایا جائے، دوسروں کا
احترام کیا جائے، اور مسائل کو حل کیا جائے۔
مثبت حوصلہ افزائی: بچوں کی اچھی عادات اور کارکردگی کی
تعریف کریں۔ جب وہ کچھ اچھا کرتے ہیں تو ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ یہ ان کے اعتماد
کو بڑھاتا ہے اور انہیں بہتر کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
وقت گزارنا: اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، چاہے وہ
کھیلنے کا وقت ہو یا کوئی مشترکہ سرگرمی۔ اس سے آپ کے درمیان رشتہ مضبوط ہوتا ہے
اور بچے خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت اشرف، فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
بگڑی
اولاد کو اگر پیار و محبت سے سمجھایا جائے انکی طرف توجہ دی جائے تو یقیناً وہ
اپنے والدین کی تابعدار بن جائے گی لیکن ہمارے معاشرے میں بچپن میں چھوٹا ہے چھوٹا
ہے کہہ کر اسکی طرف سے لاپرواہی کی جاتی ہے اور پھر جب وہ بگڑ جائے تو پیار سے
سمجھانے کی بجائے اسے ہر بات پر ڈانٹا جاتا ہے جس سے وہ ضدی ہوجاتا ہے۔
اس
بات کو حلیۃ الاولیاء میں وارد شدہ اس حکایت سے سمجھنے کی کوشش کیجئے چنانچہ حضرت
مالک بن دینار علیہ رحمۃ اللہ الغفّار فرماتے ہیں: منقول ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک
عالم صاحب گھر میں اجتماع کر کے اس میں بیان فرمایا کرتے تھے، ایک دن ان کے جوان
لڑکے نے ایک خوبصورت لڑکی کی طرف آنکھ سے اشارہ کیا، جو کہ ان عالم صاحب نے دیکھ
لیا اور کہا: اے بیٹے صبر کر۔ یہ کہتے ہی عالم صاحب اپنے منچ سے منہ کے بل گر پڑے
یہاں تک کہ ان کی ہڈّیوں کے بعض جوڑ ٹوٹ گئے، ان کی بیوی کاحمل ساقط ہو گیا اور ان
کے لڑکے جنگ میں مارے گئے۔ اللہ نے اس وقت کے نبی کو وحی فرمائی کہ فلاں عالم کو
خبر کردو کہ میں اس کی نسل سے کبھی صدّیق پیدا نہیں کروں گا، کیا میرے لیے صرف
اتنا ہی ناراض ہونا تھا کہ وہ بیٹے کو کہہ دی اے بیٹے صبر کر؟ (حلیۃ الاولیاء، 2/422، رقم:
2823)
مطلب
یہ کہ اپنے بیٹے پر سختی کیوں نہیں کی اور اسے اس بری حرکت سے اچّھی طرح باز کیوں نہ
رکھا؟اس روایت میں صدّیق کا ذکر ہے، اولیا ئے کرام کی سب سے افضل قسم صدیق کہلاتی
ہے۔ الحمد للہ ہمارے غوث اعظم علیہ رحمۃ اللہ الاکرم صدّیق تھے۔
جو
والدین بچپن سے ہی اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دیتے ہیں وہ اسکا پھل بھی پاتے
ہیں۔
پیارے
آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا: اپنے بچوں کو تین(3) چیزیں سکھاؤ: اپنے نبی کی محبّت، اہلِ
بیت کی محبّت اور قرآن پاک پڑھنا۔ (الصواعق المحرقہ، ص 172)
صدرالشّریعہ
مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: سب سے مقدّم یہ ہے کہ
بچّوں کو قرآ ن مجید پڑھائیں اور دین کی ضروری باتیں سکھائی جائیں، روزہ و نماز و
طہارت اوربیع واجارہ (یعنی خریدو فروخت اور اجرت وغیرہ کے لین دین) و دیگر معاملات
کے مسائل جن کی روز مرّہ حاجت پڑتی ہے اور ناواقفی سے خلاف شرع عمل کرنے کے جرم
میں مبتلا ہوتے ہیں ا ن کی تعلیم ہو۔ اگر دیکھیں کہ بچّے کوعلم کی طرف رجحان ہے
اور سمجھ دار ہے تو علم دین کی خدمت سے بڑھ کر کیا کام ہے اور اگر استطاعت نہ ہو
تو تصحیح و تعلیم عقائد اور ضروری مسائل کی تعلیم کے بعد جس جائز کام میں لگائیں اختیار
ہے۔ (بہار شریعت، 2/256)
لڑکی
کو بھی عقائد و ضروری مسائل سکھانے کے بعد کسی عورت سے سلائی اور نقش و نگار وغیرہ
ایسے کام سکھائیں جن کی عورتوں کو اکثر ضرورت پڑتی ہے اور کھانا پکانے اور دیگر
امور خانہ داری میں اسکو سلیقے ہونے کی کوشش کریں کہ سلیقے والی عورت جس خوبی سے
زندگی بسر کرسکتی ہے بدسلیقہ نہیں کرسکتی۔ (ردّ المحتار، 5/279)
بہار
شریعت جلد3 صفحہ68 پر ہے: امام ابو منصور ما تریدی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: مؤمن
پر اپنی اولاد کو جود(یعنی سخاوت) و احسان کی تعلیم ویسی ہی واجب ہے جس طرح توحید
و ایمان کی تعلیم واجب ہے کیونکہ جود و احسان سے دنیا کی محبّت دور ہوتی ہے
اورمحبّت دنیا ہی ہر گناہ کی جڑ ہے۔
والدین
اپنی تمام اولاد کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ انکی جائز خواہشات کو قبول کریں۔ ان پر
بے جا غصہ کرنے کی بجائے ہر بات کو پیار سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ ان کو دوسروں کے
سامنے ذلیل نہ کریں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق انکی پرورش کریں۔ اسکے علاوہ ہر طرح
سے انہیں بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ ہر کام میں انکا حوصلہ ابھاریں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت ارشد،فیضان ام عطار
شفیع کا بھٹہ سیالکوٹ
اولاد
کی تربیت اور سدھار ایک اہم ذمہ داری ہے۔ والدین کی محبت، رہنمائی اور کردار بچوں
کے رویے پر گہرے اثرات ڈالتی ہیں۔ ذیل میں اولاد کو سدھارنے کے مؤثر طریقے درج
ہیں:
1۔
محبت اور شفقت کا اظہار کریں۔ اولاد کے ساتھ محبت بھرا رویہ اختیار کریں تاکہ وہ
آپ سے کھل کر بات کر سکیں۔
2۔
اچھی مثال قائم کریں۔ والدین کا کردار اور عمل بچوں کے لیے سب سے بڑا سبق ہے، اس
لیے خود اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں۔
3۔
دعا کریں۔ اولاد کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، کیونکہ دلوں کا بدلنا
اسی کے ہاتھ میں ہے۔
4۔
تعلیم کو اہمیت دیں۔ دینی اور دنیاوی دونوں طرح کی تعلیم پر زور دیں تاکہ بچے
متوازن شخصیت کے مالک بن سکیں۔
5۔
اچھی صحبت کا اہتمام کریں۔ بچوں کے دوستوں اور ماحول پر نظر رکھیں تاکہ وہ غلط صحبت
سے بچ سکیں۔
6۔
عمر کے مطابق تربیت کریں۔ ہر بچے کی عمر، سمجھ، اور ضروریات کے مطابق تربیت کا
طریقہ اپنائیں۔
7۔
ذمہ داری سکھائیں۔ بچوں کو چھوٹی چھوٹی ذمہ داریاں دیں تاکہ ان میں احساس ذمہ داری
پیدا ہو۔
8۔
وقت دیں۔ اولاد کے ساتھ وقت گزاریں، ان کی باتیں سنیں اور ان کی دلچسپیوں میں شامل
ہوں۔
9۔
نرمی اور سختی میں توازن رکھیں۔ زیادہ سختی بچوں کو باغی بنا سکتی ہے، جبکہ ضرورت
سے زیادہ نرمی انہیں لاپرواہ کر سکتی ہے۔
10۔
سزا اور انعام کا اصول اپنائیں۔ اچھے کاموں پر انعام دیں اور غلطیوں پر مناسب
انداز میں سمجھائیں۔
11۔
اخلاقی تربیت دیں۔ بچوں کو سچائی، ایمانداری، صبر، اور احسان جیسی صفات اپنانے کی
ترغیب دیں۔
12۔
موبائل اور انٹرنیٹ کا استعمال محدود کریں۔ بچوں کے لیے موبائل اور انٹرنیٹ کے
استعمال کے لیے اصول بنائیں اور اس پر عمل کروائیں۔
13۔
مثبت گفتگو کریں۔ اولاد سے ہمیشہ مثبت اور حوصلہ افزا گفتگو کریں تاکہ ان میں خود
اعتمادی پیدا ہو۔
14۔
غلطیوں پر فوری ردعمل نہ دیں۔ اگر بچہ کوئی غلطی کرے تو فوری غصے کا اظہار نہ کریں
بلکہ مناسب وقت پر اسے سمجھائیں۔
15۔
عبادت کی عادت ڈالیں۔ بچوں کو نماز، قرآن کی تلاوت، اور دعا کی اہمیت سکھائیں اور
ان کے ساتھ عبادت کریں۔
16۔
صبر کا مظاہرہ کریں۔ بچوں کی تربیت میں صبر کریں، کیونکہ اصلاح کا عمل وقت لیتا
ہے۔
17۔
روایات اور اقدار سے روشناس کرائیں۔ بچوں کو اپنی تہذیب، دین، اور خاندان کی اقدار
سے آگاہ کریں۔
18۔
حوصلہ افزائی کریں۔ بچوں کے اچھے کاموں کو سراہیں تاکہ ان میں مزید بہتر کرنے کا
جذبہ پیدا ہو۔
19۔
غلط صحبت سے بچائیں۔ اولاد کو برے دوستوں اور بری عادات سے دور رکھنے کے لیے ان پر
نظر رکھیں۔
20۔
خود اعتمادی پیدا کریں۔ بچوں کو اپنے فیصلے کرنے کی صلاحیت دیں تاکہ وہ خودمختار
اور مضبوط شخصیت بن سکیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت محمد انور، جامعۃ
المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
والدین
کے رتبے پر فائز ہونے والے ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی بہترین
تعلیم وتربیت کریں جس کے لیے وہ اپنی محنت صرف کرتے ہیں اور انکی خواہش ہوتی ہے کہ
ہماری اولاد نیک اچھی کامیاب بنے۔
اولاد
کو سدھارنے اور اچھی تربیت کرنے کے لیے انہیں ترغیب دلانے یا صرف نصیحت کرنے پر
اکتفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ اولاد کے لیے ہمیں پہلے اپنے اندر عملی تبدیلی لانی
ہوگی جیسے کہ تجربہ شدہ بات ہے کہ اکثر والدین جو کہتے ہیں بچہ وہ نہیں کرتا بلکہ
جو والدین کرتے ہیں وہ دیکھ کر عمل کرتا ہے۔بڑے کتاب پکڑیں گے تو یقینا بچہ بھی
کتاب پکڑے گا۔ آئیے اس حوالے سے کچھ مشوروں کا مطالعہ کرتے ہیں۔
اپنی
اولاد کی اصلاح کیجیے: اگر بچہ آگ کی طرف بڑھ رہا ہو تو والدین جب تک دوڑ کر آپنے
بچے کو پکڑ نہ لیں انہیں چین نہیں آتا۔مگر افسوس یہی اولاد اگر رب کریم کی
نافرمانی میں لگ جائے جہنم کی آگ کی طرف بڑھنے لگے تو والدین توجہ ہی نہیں دیتے۔ بچہ
اسکول سے چھٹی کر لے تو اسے اچھا خاصا ڈانٹا جاتا ہے لیکن نماز فجر کے لیے سرزنش
نہیں کی جاتی۔ (تربیت اولاد، ص 170)
اولاد
کو سدرھانے کے لیے انکی اصلاح کا انداز ایسا ہونا چاہیے کہ ان کی اصلاح بھی ہوجائے
اور وہ والدین سے باغی بھی نہ ہوں،بچوں کے جذبات بہت نازک ہوتے ہیں ان کو ابھی
تجربات حاصل نہیں ہوتے۔
مومنوں
کی امی جان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: نرمی جس
چیز میں ہوتی ہے اسے زنیت بخشتی ہے اور جس چیز سے نرمی چھین لی جاتی ہے اسے عیب
دار کر دیتی ہے۔ (تربیت اولاد، ص 171)
بچوں
کو دھمکیاں نہ دیں اور نہ ہی غصے میں سزا دیں۔بچے کی غلطی پر مختلف القابات مثلاً
چور مکار جھوٹا وغیرہ ہر گز نہ کہیں کہ بچہ یہ سن سن کر ہی یہ نہ سوچے کہ میں کیوں
نہ ایسا بن جاؤں تو اسکا بہت منفی اثر پڑے گا لہذا یہ سخت غلطی نہ کریں۔
اگر
بچہ بار بار ایک ہی غلطی کو دہراتا ہے تو حکمت سے سمجھایا جائے پھر بھی باز نہ آئے
تو ہلکی سزا دینے میں حرج نہیں۔
دین
کی جانب مائل کریں: والدین کو چاہیے کہ بچوں کو دین کی جانب مائل کریں تبھی وہ
سیدھی راہ پر رہیں گے۔
اس کے
لیے والدین مستقل مزاجی اپنائیں، نماز کی معلومات فراہم کرنے کے ساتھ نماز کے لیے
چستی کا اظہار کریں گھر میں سنتوں کا ماحول رکھیں نیک لوگوں کے واقعات سنائے تاکہ
بچپن سے ہی انکے ذہن میں عبادت گزار اسلاف کے عمل سے ذوق عبادت پیدا ہو۔ نیز تفریح
کے لیے دینی سرگرمیاں رکھیں انہیں ڈرائنگ میں مسجد کتاب تسبیح وغیرہ کی تصاویر
بنانا سکھائیں،اچھے کاموں پر ہمیشہ انکی حوصلہ افزائی کریں، خاص طور پر بچوں کے
دوستوں پر نظر رکھیں کہ صحبت اپنا کافی اثر چھوڑتی ہے۔ گھر میں بچوں کی اصلاح کا
سب سے بہترین ذریعہ مدنی چینل اور اس پر لگنے والے کڈز پروگرامز بھی ہیں اس کے
علاوہ دینی محافل اجتماعات میں بچوں کو ساتھ لے کر جائیں تا کہ وہ دینی تقربیات کو
دیکھیں اور اس کو قبول کریں اور انکی مثبت تربیت ہو۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت سخاوت، جامعۃ المدینہ
تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
1۔ مثالی کردار بنیں: بچوں کی سب سے بڑی درسگاہ والدین ہیں۔
جب آپ اچھے اخلاق، ایمانداری، اور محنت کو اہمیت دیں گے، تو بچے خود بخود آپ سے
سیکھیں گے۔
2۔ محبت اور توجہ دیں: بچوں کو محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی
ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور اس کی باتوں کو اہمیت دیتے ہیں،
تو وہ آپ سے قریب ہوں گے اور آپ کی باتوں پر زیادہ توجہ دیں گے۔
3۔ حدود اور اصول مقرر کریں: بچوں کے لئے واضح حدود اور اصول
بنانا ضروری ہے تاکہ انہیں یہ سمجھ آئے کہ کون سے سلوک درست ہیں اور کون سے غلط۔
4۔ مثبت حوصلہ افزائی: جب بچہ اچھا کام کرے، تو اس کی تعریف
کریں۔ اس سے بچے کی خود اعتمادی بڑھتی ہے اور وہ مزید بہتر کوشش کرتا ہے۔
5۔ سزا اور انعام کا توازن: غلط کام پر مناسب سزا اور اچھے
کام پر انعام دینا ضروری ہے۔ اس سے بچے میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور وہ اپنی غلطیوں
سے سیکھتے ہیں۔
6۔ ان کے ساتھ بات چیت کریں: بچوں کے ساتھ کھل کر بات کریں،
ان کی مشکلات اور خیالات کو سمجھیں۔ اس سے آپ ان کی ذہنی حالت اور ضرورتوں کو بہتر
سمجھ سکیں گے۔
7۔ تعلیمی اور اخلاقی تربیت: صرف تعلیمی ترقی نہیں بلکہ
اخلاقی تربیت پر بھی توجہ دیں۔ بچوں کو ایمانداری، درگزر، اور دوسروں کے ساتھ حسن
سلوک سکھائیں۔
8۔ معمولات کا تعین کریں: ایک نظم و ضبط والا دن بچوں کو
بہتر سلیقے سے زندگی گزارنے میں مدد دیتا ہے۔ بچوں کو وقت کی پابندی سکھائیں اور
انہیں ذمہ داری کا احساس دلائیں۔
9۔ فالتو وقت کی نگرانی: بچوں کو فالتو وقت میں ایسی سرگرمیوں
میں مشغول رکھیں جو ان کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما کے لئے مفید ہوں۔
10۔ صبر اور تحمل: اولاد کو سدھارنے میں وقت لگتا ہے، اس
لئے صبر سے کام لیں اور تحمل کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں۔
اولاد
کی تربیت اور سدھار کے لیے قرآن اور حدیث میں بہت سی ہدایات دی گئی ہیں۔ ان ہدایات
کو اپنانے سے بچوں کی اچھی تربیت ممکن ہے۔ یہاں کچھ اہم نکات پیش کی جا رہی ہیں جو
قرآن اور حدیث کی روشنی میں اولاد کو سدھارنے کے طریقے ہیں:
1۔ محبت اور شفقت: اللہ تعالیٰ نے قرآن میں والدین کو
اپنی اولاد کے ساتھ محبت، شفقت اور ہمدردی کا سلوک کرنے کی ہدایت دی ہے۔ قرآن میں
ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ
اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا
یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ
لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳) (پ
15، الاسراء: 23) ترجمہ: اور تیرے رب نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت
کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس ان میں سے کوئی ایک یا دونوں
بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہنا اور نہ انہیں ڈانٹنا، بلکہ ان کے
ساتھ احترام کے ساتھ بات کرنا۔
اس
آیت سے واضح ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ محبت اور نرم سلوک سے پیش آنا
چاہیے، خاص طور پر جب وہ بڑھاپے کی حالت میں ہوں۔
2۔ تعلیم و تربیت: اولاد کی بہترین تربیت میں تعلیمی اور
اخلاقی دونوں پہلو شامل ہیں۔ حدیث میں بھی بچوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا گیا
ہے: تم میں سے ہر شخص راع ہے اور ہر شخص سے اپنی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے
گا۔ (بخاری، 1/309، حدیث: 893)
اس
حدیث میں والدین کو اپنی اولاد کی تربیت اور ان کے اخلاق و کردار کی نگرانی کی ذمہ
داری سونپی گئی ہے۔
3۔ سزا اور انعام: والدین کو اپنی اولاد کی تربیت میں
توازن پیدا کرنا چاہیے، یعنی اچھے کاموں پر انعام اور غلط کاموں پر مناسب سزا دینی
چاہیے۔ یہ دونوں طریقے بچوں کی تربیت کے لیے ضروری ہیں: جس شخص نے اپنے بچوں کو
اچھی تربیت دی اور انہیں ادب سکھایا، وہ جنت میں داخل ہو گا۔
اس
حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بچوں کو اچھے اخلاق سکھانا اور ان کی تربیت کرنا
والدین کی ذمہ داری ہے، اور یہ عمل بچے کے لیے دنیا و آخرت میں فائدہ مند ہو گا۔
4۔ صبر اور تحمل: اولاد کی تربیت میں صبر بہت ضروری ہے،
کیونکہ بچوں کی تربیت ایک مسلسل عمل ہے۔ قرآن اور حدیث دونوں میں صبر کی اہمیت پر
زور دیا گیا ہے۔ قرآن میں ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا
بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) (پ 2،
البقرة: 153) ترجمہ: اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے اللہ کی مدد لو، اللہ
صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اس آیت
میں صبر کا ذکر ہے جو والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں صبر سے کام
لیں، کیونکہ تربیت کا عمل فوری نہیں ہوتا۔
5۔ دعاؤں کا اثر: والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولاد
کے لیے دعائیں کریں۔ قرآن و حدیث میں والدین کی دعاؤں کا بہت اثر بتایا گیا ہے: جب
والدین اپنی اولاد کے لیے دعا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی دعاؤں کو قبول کرتا
ہے۔
اس سے
واضح ہے کہ والدین کو اپنی اولاد کے لیے دعا کرنی چاہیے، تاکہ اللہ ان کی ہدایت
اور کامیابی کے لئے مدد فراہم کرے۔
6۔ پیدائش سے قبل اچھی منصوبہ بندی: اولاد کی
تربیت صرف ان کے پیدا ہونے کے بعد ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی شروع ہو جاتی ہے،
جیسے کہ نیک زوجہ کا انتخاب اور والدین کا کردار: تمہاری دنیا میں بہترین چیز
تمہاری نیک بیوی ہے۔ (مسلم، ص 595، حدیث: 3643)
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت رضا مصطفی، جامعۃ
المدینہ تلواڑہ مغلاں سیالکوٹ
نیک
اولاد اللہ پاک کا عظیم انعام ہے۔اولاد صالح کے لئے اللہ کے پیارے نبی حضرت زکریا
علیہ السلام نے بھی دعامانگی۔ چنانچہ قرآن پاک میں ہے: رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ
ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸) (پ
3، اٰل عمران: 38) ترجمہ
کنز الایمان: اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بیشک تو ہی ہے دعا سننے
والا۔
اور
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنے والی نسلوں کو نیک بنانے کی یوں دعا مانگی: رَبِّ
اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ ﳓ (پ 13، ابراہیم:40) اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو
نماز قائم کرنے والا بنا۔
سرکار
دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب آدمی مر جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ منقطع ہو
جاتا ہے سوائے تین کاموں کے کہ ان کا سلسلہ جاری رہتا ہے: صدقہ جاریہ، وہ علم جس
سے فائدہ اٹھایا جائے اور نیک اولاد جو اس کے حق میں دعائے خیر کرے۔ (مسلم، ص 886،
حدیث: 1631)
بچے
اپنے والدین اور عزیز و اقارب کی امیدوں کا محور ہوتے ہیں۔ اسلامی معاشرے کا مفید
فرد بنانے کے لئے ان کی بہترین تربیت بےحد ضروری ہے۔ یہی بچے کل بڑے ہوکر والدین،
تاجر اور استاذ وغیرہ بنیں گے اوراس معاشرے کی باگ ڈور سنبھالیں گے، اگر یہ اپنی ذمہ
داریاں شریعت کے مطابق بطریق احسن ادا کرنے میں کامیاب ہوگئے تو یہ معاشرہ امن
وسکون کا گہوارہ بن جائے گا۔
بچوں
کی تربیت کے انداز کو بہتر بنایا جائے: عموماً لوگ یہ بے احتیاطی کرتے ہیں کہ بچے
کے سامنے لوگوں کو یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ شیطانی بہت کرتا ہے، یا ہر وقت
شیطانی کرتا رہتا ہے۔ امام صاحب کو کہتے ہیں کہ مولانا! یہ بہت شیطانی کرتا ہے،
کوئی ایسا دم کردو کہ یہ صحیح ہوجائے۔ اس طرح بچّے کی شىطانى مىں اضافہ ہونے کا
امکان ہوتا ہے۔ آپ بچّے کو سب کے سامنے جھاڑنے کے بجائے شفقت اور پیار دینا شروع
کریں، نیز اپنا انداز تبدیل کریں، اللہ کرے گا کہ آپ خود بہتری نوٹ کریں گے۔
بچّے
کے سامنے کسی کو دعا کےلئے بھی نہ بولیں، کیونکہ اس طرح بچّہ باغی ہوجائے گا کہ
میرا باپ مجھے سب کے سامنے ذلیل کرتا ہے۔ یہ بات اگر بچّے کے دماغ میں بیٹھ گئی تو
پھر بہت مشکل ہوجائے گی۔
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی
میں
ڈوب سکتی ہی نہیں موجوں کی طغیانی میں جس کی کشتی ہو محمد کی نگہبانی میں
بچوں کی اصلاح کرنے کا درست انداز: امیر اہل سنّت
نے فرمایا: ایک واقعہ (نگران شوریٰ) حاجی عمران کے سامنے بھی ہوا تھا۔ ایک اچھا
خاصا تعلیم یافتہ شخص اپنے 15 یا 16 سال کے جوان بیٹے کے ساتھ آیا اور مجھے کہا کہ
مىں اس کو آپ کے پاس لایا ہوں، اس کو صحیح کردو۔ مىں نے اس کو سمجھاىا کہ یہ جوان
خون ہے، آپ نے یہ بات کہہ کر اسے بھڑکا دیا ہے، اب یہ کىسے صحىح ہوگا! بلکہ اب یہ
اور نہیں سنبھلے گا کہ میرے باپ نے میرے پیر کے سامنے مجھے رسوا کیا ہے، اب میں
نہیں چھوڑوں گا۔ حکمت مؤمن کا گم شدہ خزانہ ہے۔ کسی سے دعا کروانے میں حرج نہیں،
لیکن یہ بات تنہائی میں بولیں، یا خاموشی سے لکھ کر دے دیں، ىہ حکمت عملى ہے۔
بچے
کو دوسروں کے سامنے ذلیل کرنا بہت نامناسب اور بے حد خطرناک ہے، اس طرح بچے کے دل
میں زہر بیٹھ سکتا ہے۔ گھر میں جب بچے کو سمجھاتے ہوں گے تو اس کے بہن بھائی بھی
سنتے ہوں گے اور بعد میں وہ باپ کے انداز کا پریکٹیکل بھی کرتے ہوں گے۔
بچوں
کی تربیت کے حوالے سے چند مفید اور اہم باتیں:
(1)بچوں کو دودھ پلانے اور کھانا کھلانے
کا بھی وقت مقرر کرلیں ورنہ بچوں کاہاضمہ خراب اور معدہ کمزور ہو جاتا ہے،نتیجۃً
بچہ بیمار ہوجاتا ہے۔
(2)بچوں کو صاف ستھرا ضرور رکھیں مگر بہت
زیادہ بناؤ سنگھار مت کریں کہ اس سے نظر لگ جانے کا خطرہ ہے۔بلکہ ہوسکے تو قرآن پاک
یہ آیت کریمہ کوئی بھی درست مخارج والا یاد کرکے بچوں پر دم کرتے رہا کریں: وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ
یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ(۵۱) وَ مَا هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ
لِّلْعٰلَمِیْنَ۠(۵۲) (پ 29، القلم: 51، 52) ترجمہ کنز
الایمان: اور ضرور کافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی
بدنظرلگا کرتمہیں گرادیں گےجب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضرور عقل سے دور ہیں اور وہ تو
نہیں مگر نصیحت سارے جہان کے لیے۔
ان
شاء اللہ نظر بد سے محفوظ رہیں گے۔بڑوں پر بھی دم کیا جاسکتا ہے۔
(3)بچے کو ہر وقت گود میں لئے رہنا یا
اٹھائے پھرنا مناسب نہیں کہ بچے کمزور ہوجاتے اور دیر میں چلتے ہیں بلکہ پالنے یا
جھولے وغیرہ میں سلائے رکھیں اور جب وہ بیٹھنے کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کو
بٹھانے کی کوشش کریں۔ یوہیں چلانے کی بھی کوشش ہو۔
(4)بچے ٹافیاں، گولیاں، چاکلیٹ،گولاگنڈا
اور دیگر رنگ برنگی میٹھی چیزیں کھانے بلکہ بوتل COLD DRINK
کے بھی شوقین ہوتے ہیں ان سے دانتوں، گلے،سینے، معدے اور آنتوں وغیرہ کو سخت نقصان
پہنچنے کا خطرہ رہتا ہے۔شروع سے ہی یہ چیزیں بچوں کو نظر نہ آئیں۔ اگر بچے ضد کریں
آج ان کا رونا برداشت کرلیں ورنہ بچے کے ساتھ کہیں آپ کو بھی رونا پڑسکتا ہے۔
(5) بچوں کو زیادہ اور ہر وقت کھاتے پیتے
رہنے سےنفرت دلاتے رہیں کہ یہ موٹاپے بلکہ بہت سی بیماریوں سے بچانے کےلیے ضروری
ہے۔
(6)بچوں کی ہر ضد پوری مت کریں کہ اس سے
بچوں کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور وہ ضدی ہو جاتے ہیں اور یہ عادت عمر بھر نقصان دیتی ہے۔
(7)بچوں کے ہاتھ سے اس کے بھائی بہنوں،
دوسرے بچوں کو تحفے یا مسجد کے چندہ میں،مدنی عطیات مہم (telethon)
کے موقع وغیرہ پر،صدقہ وغیرہ دلوایاکریں تاکہ سخاوت کی عادت ہو اور خود غرضی یا
کنجوسی کی عادت سے حفاظت میں رہے۔
(8) چیخ کر بولنے یا جواب دينے سے ہمیشہ
بچوں کو روکیں۔ ورنہ یہ عادت پڑجائے گی جو بڑے ہو کر بھی نہ جائے گی۔
(9)بات بات پر منہ پھلانے، غصہ کرنے، لڑنے
جھگڑنے، چغلی کھانے، گالی بکنے جیسی عادات سے بچپن سے ہی ان کو روکا جائے کہ ان
عادات کا پڑجانا عمر بھر کے لئے رسوائی کا سامان ہے۔
(10)اگر بچہ کہیں سے کسی کی کوئی چیز
اٹھالائے اگر چہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو۔ اس پر سب گھر والے ایسی ناراضی کا
اظہار کریں کہ بچہ عمر بھر چوری سے توبہ کرلے۔
(11) بچے، بچیوں کے تمام کام سب کے سامنے
ہوں، کوئی کام چھپ چھپا کر کریں نظر رکھیں بلکہ روکیں کہ اچھی عادت نہیں۔
(12)بچوں کو پیارے آقا ﷺ،صحابہ کرام علیہم
الرضوان غوث پاک،دیگر بزرگان دین رحمہم اللہ المبین اور نیک لوگوں کے مستند سچے
واقعات سنائیں۔ مگر خبردار خبردار عشق مجازی کے قصے کہانیاں بچوں کے کان میں بھی
نہ پڑیں۔ نہ ہی ایسی کتابیں بچوں کے ہاتھوں میں دیں جن سے اخلاق خراب ہوں۔
(13)لڑکوں اور لڑکیوں کو ضرور کوئی ایسا
ہنر سکھا دیں جس سے ضرورت کے وقت وہ کچھ کما کر بسر اوقات کر سکیں۔مثلا لڑکیوں
کوسلائی آتی ہو۔
(14)بچوں کو بچپن ہی سے اس بات کی عادت
ڈالیں کہ وہ اپنا کام خود اپنے ہاتھ سے کریں اور اپنے سامان کو خود سنبھال کر
رکھیں۔
اولاد کو سدھارنے کے طریقے از بنت خرم، جامعۃ المدینہ تلواڑہ
مغلاں سیالکوٹ
اولاد
ایک عظیم نعمت قرار دی گئی ہے تمام بچوں کی سوچ سمجھنے کی صلاحیت کام کرنے کے
انداز مختلف ہوتے ہیں بچے کے چھوٹے ہوتے ہی اسے جیسی تربیت دی جاے بچہ اسی طرح کام
کو انجام دیتا ہے بچوں کی تربیت میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کا گہرا تعلق ہے
بعض بچے آرام سے بات کو سمجھ لیتے ہیں اور بعض پر محنت کرنی پڑتی ہے لیکن اولاد کو
سمجھانے میں نرمی رکھی جائے اگر نہ سمجھ سکے تو سخت لہجہ بھی اپنایا جا سکتا ہے
کیونکہ والدین اپنی اولاد کے لیے ہمیشہ اچھا ہی سوچتے ہیں اور ہمارے دین اسلام میں
بھی بچوں سے پیار کرنے کی تعلیم دی گئی ہے ہمارے آقا ﷺ بھی بچوں سے بہت محبت
فرماتے تھے۔
اولاد
ہی نہیں بلکہ تمام بچوں کےلئے ایک منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے
اولاد کی بہتر رہنمائی کی جا سکتی ہے: بچوں کو محبت اور توجہ دینا، ان کی تعلیم
اور تربیت کا خاص خیال رکھنا، اولاد کو اخلاقیات اور مذہبی تعلیم سکھائے، ان کو
سماجی اور ثقافتی تعلیم دیں، انہیں کھیل کود اور سیر وتفریح کے مواقع فراہم کریں،
فلموں ڈراموں کی جگہ مدنی چینل دکھائے، انبیاء کرام کے متعلق واقعات سنائیں، بچوں
کے ساتھ ایسا رویہ اپنائے کہ بچے اپنے والدین سے ہر بات بآسانی کر سکیں، سب کے
سامنے بچوں کو نہ جھاڑا جائے کہ بچہ احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے، ہر چھوٹے کام پر
بھی بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تا کہ بچے مزید آگے بڑھ سکیں۔
Dawateislami