صبر ان
چیزوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے انسان اور جانوروں میں فرق ہوتا ہے۔
انسان
اگر صبر کرے تو بہت بڑے بڑے نقصانات سے بچ جاتا ہے۔ اللہ عزوجل نے بھی قرآن پاک میں صبر کرنے کی
تلقین فرمائی،صبر کرنے والوں کی مدح اور نہ کرنے والوں کی مذمّت ارشاد فرمائی۔ آئیے ان آیات میں سے چند کا مطالعہ کرتے ہیں:
آیت نمبر 1: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
تفسیر
صراط الجنان: اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی
اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں داخل کرے گا اور انہیں ریشمی
لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوں گے ۔
آیت نمبر 2: فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا(۵) ترجمۂ
کنز العرفان: تو تم اچھی طرح صبر کرو۔ (پ29،المعارج:5)
آیت نمبر 3: وَ لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا
حَتّٰى تَخْرُ جَ اِلَیْهِمْ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ-وَ اللہ غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ(۵) ترجمۂ
کنز الایمان: اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ تم آپ اُن کے پاس تشریف لاتےتو یہ
اُن کے لیے بہتر تھا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ26، الحجرات:5)
تفسیر
صراط الجنان: وَ
لَوْ اَنَّهُمْ صَبَرُوْا: اور اگر وہ صبر کرتے۔ اس
آیت میں ان لوگوں کو ادب کی تلقین کی گئی کہ انہیں رسولِ کریم ﷺ کوپکارنے کی
بجائے صبر اور انتظارکرنا چاہئے تھا۔
آیت نمبر 4: اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا
صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے
صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
آیت نمبر 5: الَّذِیْنَ
صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ(۴۲) ترجمہ کنز الایمان : وہ جنہوں نے صبر کیا
اور اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں ۔ (پ14، النحل: 42)
سَلٰمٌ
عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِؕ(۲۴)
ترجمہ کنز العرفان : تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا تو آخر
ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔ (پ13،
الرعد: 24)
تفسیر
صراط الجنان: تم پر سلامتی ہو ، یہ اس کا ثواب ہے جو تم نے گناہوں سے بچنے اور
اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر صبر کیا تو آخر ت کا اچھا انجام کیا ہی خوب ہے۔
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تبارک و
تعالیٰ ہمیں صبر کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی
توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ملک دلبر
(درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کاہنہ نو لاہور ، پاکستان)
اسلام
ایک کامل اور جامع دین ہے جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں راہنمائی فراہم کرتا
ہے۔ قرآن مجید ، جو ہدایت کا سرچشمہ ہے، اس میں صبر کو نہایت بلند مقام حاصل ہے۔ صبر کو مؤمن کی ایک بنیادی صفت قرار دیا گیا ہے، جو انسان کو مشکلات، آزمائشوں اور تکالیف میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآنِ کریم میں صبر کا بارہا ذکر آیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل
کرنے کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ چند آیات پڑھیئے:
اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی خوب تعریف فرمائی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمہ
کنزالایمان: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،البقرۃ:
153)
ایک
اور مقام پر فرمایا گیا: وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمہ
کنزالایمان: اور خوشخبری سنا ان صبر والوں کو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
اللہ
تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں انعامات رکھے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی انبیاء کرام کا ذکر آیا ہے جو شدید آزمائشوں میں بھی صبر کرتے رہے، جیسے حضرت ایوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام،
اور حضرت یعقوب علیہ السلام۔
اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان کا
ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23،
الزمر: 10)
صبر کے
فوائد:
صبر
انسان کو روحانی طور پر مضبوط بناتا ہے۔
صابر
شخص کو اللہ کی معیت نصیب ہوتی ہے۔
آخرت میں صبر کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
صبر
مومن کی ڈھال ہے، جو اسے زندگی کے نشیب و فراز میں ثابت قدم رکھتا ہے۔ قرآن کا پیغام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ہر حالت میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور
صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ جو
شخص صبر کرتا ہے، وہ درحقیقت اللہ کی رضا حاصل کرنے والا بنتا ہے اور دنیا و آخرت
کی کامیابیاں سمیٹتا ہے۔
اللہ پاک
ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ساجد
علی عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ فیضان
بغداد کورنگی کراچی ، پاکستان)
قرآن
وحدیث میں صبر کے کثیر فضائل بیان کیے گئے ہیں سب سے پہلے ہم صبر کی تعریف کرتے ہیں
پھر اسکے فضائل کو بیان کرتے ہیں
صبر کی
تعریف:الصبر
حبس النفس علی ما یقتضیہ العقل والشرع أو عما یقتضیان حبسھا عنہ صبر کا
معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا
نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب ،کتاب الصاد ،ص 273)
صبر کی
تعریف سے پتہ چلا کہ نفسانی خواہشات سے رک جانا صبر ہے بندہ اگر اس میں کامیاب ہو
جائے تو کئی گناہوں سے بچ سکتا ہے کیونکہ اکثر گناہ نفسانی خواہشات کی وجہ سے ہی
ہوتے ہیں لہذا بندہ اگر نفس کی خواہشات سے بچ جائے اور صبر کر لے تو عبادت میں بھی
اس کا دل لگے گا یوں بندہ خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اسکے
احکامات کو بجالا سکتا ہے ۔
(1) صبر
کے ذریعے مدد مانگنا: صبر کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا
جاسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے ساتھ صبر کا ذکر فرمایا نیز صبر کرنے والوں
کو اللہ تعالیٰ کی معیت نصیب ہوتی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! صبر اور نمازسے مدد مانگو، بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(2) صبر
کرنے والوں کو بے حساب اجر ملے گا:
قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْؕ-لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا
فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللہ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى
الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰)
ترجمہ کنز العرفان: تم فرماؤ :اے میرے مومن
بندو! اپنے رب سے ڈرو۔ جنہوں نے بھلائی کی، ان کے لیے اِس دنیا میں
بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور
دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر :10)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب
اجر و ثواب دیاجائے گا۔
(3)صبر
کرنے والے اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں : وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ
قٰتَلَۙ-مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌۚ-فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ
سَبِیْلِ اللہ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْاؕ-وَ اللہ یُحِبُّ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶)
ترجمہ کنز العرفان : اور کتنے ہی انبیاء نے جہاد
کیا، ان کے ساتھ بہت سے اللہ والے تھے تو انہوں نے اللہ کی راہ میں پہنچنے والی
تکلیفوں کی وجہ سے نہ تو ہمت ہاری اور نہ کمزور ی دکھائی اور نہ (دوسروں سے) دبے
اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
(4) صبر
کرنے والے کو اس کے عمل سے اچھا اجر ملے گا: - وَ لَنَجْزِیَنَّ
الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۹۶) ترجمہ
کنزالعرفان: اور ہم صبر کرنے والوں کو ان کے بہترین کاموں کے بدلے میں ان کا اجر
ضرور دیں گے۔ (پ14،
النحل:96)
(5) اِلَّا
الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ
اَجْرٌ كَبِیْرٌ(۱۱) ترجمہ کنزالعرفان:مگر
جنہوں نے صبر کیا اور اچھے کام کیے ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے ۔ (پ12،ہود: 11)
اللہ
تعالیٰ ہمیں صبر کا دامن تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
عبدالمجید
عطاری (درجہ سادسہ جامعۃ المدینہ کنز الایمان رائیونڈ ضلع لاہور ، پاکستان)
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے
جو انسان کو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن پاک میں صبر کو بہت بلند مقام دیا گیا ہے۔ صبر کا مطلب ہے: مشکلات، تکالیف، آزمائشوں ، اور ناپسندیدہ حالات میں اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی رہنا، شکوہ
شکایت نہ کرنا، اور ثابت قدمی اختیار کرنا۔
قرآن مجید میں صبر کا حکم : اللہ
تعالیٰ نے متعدد مقامات پر صبر کرنے والوں کی تعریف فرمائی ہے اور ان کے لیے عظیم
انعامات کا وعدہ کیا ہے۔
(1) سورۃ البقرہ، آیت 15: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ
اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ (۱۵۳)ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2،
البقرۃ: 153)
یہ آیت
ہمیں بت آتی ہے کہ مصیبت میں سب سے پہلا سہارا صبر ہونا چاہیے، اور صبر کے ساتھ
اللہ کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے۔
(2) سورۃ الزمر، آیت 10: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
میں صبر کا انعام بیان کیا گیا ہے جو کہ بے حساب ہے۔ یعنی
اللہ تعالیٰ صابرین کو ان کے صبر کا ایسا بدلہ دے گا جس کی کوئی حد نہیں۔
(3) سورۃ البقرہ، آیت 155-15(7) وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ
الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ
الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) -الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ
مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶)
اُولٰٓىٕكَ عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ رَحْمَةٌ -وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ(۱۵۷)
ترجمۂ کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر
اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے
والوں کوخوشخبری سنا دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے
ہیں : ہم اللہہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے درود ہیں
اور رحمت اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (پ2، البقرۃ: 155تا157)
صبر کی اقسام : علمائے کرام نے صبر کی تین
اقسام بیان کی ہیں:
1 طاعت پر صبر ۔ عبادات اور نیکیوں پر ثابت قدم رہنا۔
2 معصیت سے صبر۔ گناہوں سے بچنا اور نفس کو قابو میں رکھنا۔
3 مصیبت پر صبر۔ تکلیف دہ حالات میں اللہ کی رضا پر راضی رہنا۔
صبر کرنے والوں کی صفات
وہ اللہ کی رضا پر راضی رہتے ہیں۔
شکوہ شکایت نہیں کرتے۔
آزمائشوں میں مضبوطی سے جمے رہتے ہیں۔
اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔
انبیائے
کرام صبر کا عملی نمونہ : حضرت ایوب علیہ السلام کو بیماری اور مصیبت
میں مبتلا کیا گیا، لیکن انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا۔ قرآن میں ان کا ذکر بطور صابر آیا ہے: سورۃ ص، آیت 4(4) اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًاؕ-نِعْمَ
الْعَبْدُؕ-اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ(۴۴) ترجمۂ کنز العرفان: بے شک ہم نے اسے صبر
کرنے والا پایا ۔ وہ کیا
ہی اچھا بندہ ہے بیشک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔ (پ23، صٓ: 44)
صبر وہ
عظیم صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ قرآن پاک میں صبر کو ایمان کی علامت قرار دیا گیا ہے اور صبر کرنے والوں کے
لیے جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر موڑ پر صبر کو اپنائیں، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔
محمد
شعیب عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
انسانی
زندگی مختلف آزمائشوں کا مجموعہ ہے کبھی بھوک کی آزمائش تو کبھی بیماری
کی آزمائش کبھی مالی نقصان کی آزمائش تو کبھی بدنی آزمائش ان سب آزمائشوں سے بچ جانے کا نام کامیابی نہیں بلکہ کامیابی اس کا نام ہے کہ ان تمام آزمائشوں پر صبر کیا جائے صبر پر ملنے والے انعام کی طرف نظر کرتے ہوئے ان آزمائشوں میں نہ گبھرائے۔ جب
ہم قرآن کا مطالعہ کرتے ہیں تو صبر کے متعلق کئی آیات ہمارے سامنے آتی ہیں ۔
صبر کی
تعریف: صبر کی
لغوی واصطلاحی تعریف یہ ہے: برداشت کرنا اور اللہ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر واویلا نہ کرنا۔ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان نیکیوں کا حریص ہوتا ہے۔ مسلمان ہونے کا تقاضا ہے کہ ہم ہر آزمائش پر صبر کریں اور اللہ کی طرف سے
ملنے والے اجر پر خوش ہوں۔ صبر کرنےپر کیااجر ملتاہے قرآن اس بارے ہماری مکمل راہنمائی کرتا ہے۔ قرآن میں مختلف مقامات پر صبر کا بیان ہےجن میں چند مقامات یہ ہیں :
(1) وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور
بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ (پ1،
البقرۃ:45)
اس آیت
مقدسہ میں صبر کے ذریعے مدد طلب کرنے کی ترغیب دلائی جارہی ہے۔
(2) وَ
لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ
کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ25،الشوریٰ: 43)
اس آیت
مبارک میں صبر کو ہمت والا کام کہا گیا ہے لہذا جو لوگ صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں
وہ باہمت ہیں۔ زمانے کے دکھ اس کو کبھی نہیں تھکا سکتے۔
(3) وَ
جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29، الدھر:12)
اب اس
آیت میں صبر کرنے والوں کے دواجر بیان ہوئے ہیں کہ ایک تو ان کو جنت ملے گی اور
دوسرا ریشمی لباس کا جوڑا۔ ان
دونوں انعامات پر صبر کرنے والا بہت خوش ہوتا ہے۔
(4) اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
آیت کے اس مبارک حصہ میں صابر کے اس اجر کا بیان
ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی وہ اجر یہ ہے کہ صبر کرنے والے کو اللہ تعالی کی معیت
نصیب ہوتی ہے اور جس کو اللہ کا ساتھ نصیب ہو جائے اسے دنیا کا کوئی غم نہیں رہتا۔
(5) وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ
فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ
کنز العرفان: اورآپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور
تکلیف دئیے جانے پر صبر کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
مبارک
آیت کے اس حصہ میں یہ اجر بیان ہوا ہے کہ صبر کرنے والوں کی مدد خود خدا تعالیٰ
فرماتاہے اور جس کی مدد خدا فرمائے اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔
ان آیات
کے علاوہ کئی اور آیات بھی ہیں جن میں صبر کا بیان ہے اور کئی ایسی احادیث بھی ہیں
جن میں صبر کے اجروثواب کو بیان کیا گیا ہے۔
اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ پیارے نبی
رحمت اللعالمین ﷺ کے صدقے اس عظیم الشان صفت کواپنانے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
محمد
انس عطاری (درجہ رابعہ جامعۃ المدینہ
گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ، پاکستان)
انسان
اپنی زندگی میں دیکھتا رہتا ہے کہ زندگی مکمل
آزمائشوں سے خالی ہونا بہت مشکل ہے
ہر انسان کے ساتھ عموماً پریشانیاں دکھ تکالیف و مصیبتیں آتی ہی رہتی ہیں مگر اب
ان آزمائشوں کا رونا رویا جائے ؟ دوسروں کے سامنے اظہار کیا
جائے، گھر چھوڑ دیا جائے، اولاد کو بے آسرا کر دیا جائے ، بیوی کو مار پیٹ کر طلاقیں
دے دی جائیں ، خود کشی کر لی جائے یا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں فریاد کی جائے،
قرآن حمید ہمیں اس بارے میں کیا سوچ اور عمل وجزا دیتا ہے ، آئیے ملاحظ کرتے ہیں:
(1) آزمائشوں پر صبر کر کے اللہ عزوجل سے مدد مانگنی چاہیے اور پھر مایوس بھی نہیں ہونا
چا ہیئے کیونکہ رب عزوجل فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
(2) کسی
نے ایذا دی تکلیف پہنچادی، چار باتیں سنا دیں تو ان پر خاموشی کے ساتھ صبر کر لینا
چھوٹے لوگوں اور ڈرنے والے لوگوں کا کام نہیں بلکہ یہ تو مضبوط اور ہمت والوں کا
کام ہے، جیسا کہ وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ
الْاُمُوْرِ۠(۴۳) ترجمہ کنزالایمان: اور بے شک جس نے صبر کیااور بخش دیاتو
یہ ضرور ہمت کے کام ہیں ۔ (پ 25،الشوریٰ: 43)
(3)
صبر کرنے پر جنت ، جی ہاں، صبر کرنے پر وہ جنت ملے گی کہ جس میں۔ کوئی مشکل اور کوئی آزمائش وغیرہ نہیں جہاں آرام و سکون والی ہمیشہ کی زندگی
ہے۔ قرآن پاک میں ہے : وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲)
ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
(4) آزمائشوں اور تکلیفوں پر صبر کرونے والوں کو اللہ عزوجل نے ناکاموں کی فہرست میں نہیں
بلکہ کامیاب لوگوں کی فہرست میں داخل فرمایا ہے: اِنِّیْ
جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤاۙ-اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىٕزُوْنَ(۱۱۱) ترجمہ کنزالایمان: بےشک آج میں نے اُن کے
صبر کا انہیں یہ بدلہ دیا کہ وہی کامیاب ہیں۔ (پ18، المؤمنون:111)
(5)وَ
لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ
اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَاۚ- ترجمۂ کنز العرفان: اورآپ سے
پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا تو انہوں نے جھٹلائے جانے اور تکلیف دئیے جانے پر صبر
کیایہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی۔ (پ7،الانعام:34)
جو بندہ صبر کرتا ہے پھر الله عز وجل اسے بے یارو
مدد گار اور مشکلوں میں پھنسا ہوا نہیں چھوڑتا بلکہ اللہ عزو جل بھی اس کی مدد
کرتا ہے۔ صبر کرنے والوں کے لیے بخشش کی بھی بشارت و
خوشخبری ہے۔
محمد عامر ( درجہ سابعہ
جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
قرآن مجید میں صبر(بردباری اور ثابت قدمی)کو خلق
عظیم اور مؤمن کی اہم صفت قرار دیا گیا ہے۔ صبر کا ذکر قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر آیا ہے۔ اور اسے ایمان تقوٰی،شکر اور یقین کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اللہ پاک نے صبر کرنے والوں کے لیے دنیا
اور آخرت میں عظیم انعامات کا وعدہ فرمایا ہے :
(1)صبر
کرنے والوں کو اللہ کا ساتھ حاصل ہوتا: قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
)2)صبر
کے بدلے جنت اور انعامات: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ
حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی
کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
اس آیت
اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو
گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں
داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے
ہوں گے اور دنیا کی طرح وہا ں انہیں گرمی یا سردی کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جنتی
درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور جنت کے درختوں کے گُچھے جھکا کر نیچے
کردئیے گئے ہوں گے تاکہ وہ کھڑے ،بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں باآسانی گچھے لے سکیں اور
جیسے چاہے کھا سکیں ۔ (خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 12-14، 4 / 340)
(3)صبر
کرنے والوں کا اجر بے حساب: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
تفسیر
صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ یعنی
جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ
کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی
نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ (ابوسعود،
الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)
(4)انبیاء
کرام کی صبر کی مثال: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ
مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت
والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
قرآن مجید میں اللہ پاک نےبارہا صبر کرنے والوں
کو نہ صرف اللہ کی قربت کی خوشخبری دی گئی ہے بلکہ انہیں ہدایت، رحمت اور جنت کے
وعدے سے بھی نوازا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آزمائشوں میں مضبوطی اور عبادات میں پابندی کریں تاکہ ہم اللہ پاک کے ان بندوں میں شمار ہو سکیں
جن کے بارے میں فرمایا گیا: اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ (بیشک
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے)
اللہ
پاک ہمیں قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
محمد عبداللہ (درجہ خامسہ جامعۃ المدینہ گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
انسان
کی زندگی خوشی اور غم، راحت اور تکلیف، کامیابی اور ناکامی کا مجموعہ ہے۔ ہر
انسان کو کسی نہ کسی مرحلے پر آزمائشوں ،
مصیبتوں اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسی
صورتِ حال میں جس وصف کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، وہ صبر ہے۔ صبر نہ صرف ایک اعلیٰ اخلاقی خوبی ہے بلکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے
صبر کرنے والوں کو خاص مقام عطا کیا ہے۔ قرآن ہمیں نہ صرف صبر کا درس دینے کے ساتھ ساتھ اس پر ملنے والے انعامات و درجات کا بھی بیان کرتا ہے
:
صبر کا
معنیٰ: صبر کا
لغوی مطلب ہے روکنا، صبر کا معنی ہے نفس کو ا س چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل
اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور
شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ (مفردات امام راغب، حرف الصاد، ص474)
صبر کی
اقسام: بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (1)
بدنی صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا (2) طبعی خواہشات
اور خواہش کے تقاضوں سے صبر کرنا۔ پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو توقابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور
پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان الاسامی التی تتجدد للصبر۔ ۔ ۔ الخ، 4 / 82)
صبر کے فضائل: قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے
اقوال میں صبر کے بے پناہ فضائل بیان کئے گئے ہیں ،ترغیب کے لئے ان میں سے کچھ
فضائل کا خلاصہ درج ذیل ہے:
(1)
صبر کرنے والوں کی جزا دیکھ کر قیامت کے دن لوگ حسرت کریں گے۔ (معجم الکبیر، 12 / 141، الحدیث: 12829)
(2)
صبر آدھا ایمان ہے۔
(مستدرک، کتاب التفسیر، الصبر نصف الایمان، 3 / 237، الحدیث: 3718)
(3)
صبر جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان فضیلۃ الصبر، 4 / 76)
قرآن
پاک میں صبر کی اہمیت:
(1) صبر
کرنے والوں کے ساتھ اللہ کی معیت: وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمہ کنزالایمان: اور صبر کرو بیشک اللہ صبر والوں کے
ساتھ ہے۔ (پ10،
الانفال: 46)
(2) صبر
اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرنا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
تفسیر
صراط الجنان: اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ: بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153،
1/ 169)
اللہ
تعالیٰ نے مشکلات سے نکلنے کا جو نسخہ دیا ہے، وہ صبر اور نماز ہے۔ یہ
دو اعمال مومن کی ڈھال ہیں۔
صبر ایک
ایسا جوہر ہے جو انسان کو نہ صرف دنیاوی مشکلات سے نجات دیتا ہے بلکہ اسے اللہ کا
محبوب بندہ بنا دیتا ہے۔ قرآن مجید ہمیں بار بار صبر کی تلقین کرتا ہے، کیونکہ صبر ہی وہ کنجی ہے جو
ہر بند دروازے کو کھول سکتی ہے۔ ہمیں
چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں صبر کو اپنائیں، خاص طور پر آزمائش کے وقت، اور اللہ کی
رضا پر راضی رہیں، کیونکہ کامیابی انہی کے قدم چومتی ہے جو صبر کے دامن کو تھامے
رکھتے ہیں۔
صبر ایک
ایسی اعلیٰ اخلاقی صفت ہے جو انسان کو زندگی کے ہر میدان میں مضبوط، پُر سکون اور
کامیاب بناتی ہے۔ قرآن مجید نے صبر کو ایمان کی بنیاد اور کامیابی
کی کنجی قرار دیا ہے۔ انسانی زندگی خوشی اور غم، راحت اور مصیبت،
آسانی اور سختی کا مجموعہ ہے۔ ان
سب میں ثابت قدم رہنا ہی اصل صبر ہے۔
قرآن میں
صبر کی اہمیت: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر صبر کی
تاکید فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ترجمہ کنزالایمان ! اے ایمان والو صبر کرو اور
صبر میں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو اور اللہ سے
ڈرتے رہو اس امید پر کہ کامیاب ہو۔ (سورۃ آل عمران: 200)
اس آیت
میں صبر کو فلاح یعنی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ جو
شخص صبر کو اپناتا ہے، وہ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے۔
اللہ کی معیت صبر کرنے والوں کے ساتھ: قرآنِ
کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ
کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
یہ آیت
صبر کرنے والوں کے لیے سب سے بڑی بشارت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہے، یعنی ان کی مدد، رہنمائی اور نصرت ان کے شاملِ
حال رہتی ہے۔
صبر پر اجر و انعام: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اِنَّمَا
یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے
والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
یہ آیت
صبر کرنے والوں کے اجر کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے۔ دوسرے اعمال کا بدلہ حساب کے مطابق ملے گا، لیکن صبر کا بدلہ اللہ تعالیٰ
اپنی بے پایاں رحمت کے مطابق عطا فرمائے گا۔
مصیبت کے وقت صبر کی تعلیم: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور
پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ: 155)
یہ آیت
واضح کرتی ہے کہ دنیا کی مصیبتیں ایمان والوں کے لیے آزمائش ہیں اور صبر کرنے والے
وہ ہیں جو ان حالات میں اللہ سے راضی رہتے ہیں ۔
صبر کرنے والوں کی پہچان: قرآنِ
کریم نے صبر کرنے والوں کا طرزِ عمل یوں بیان کیا ہے: الَّذِیْنَ اِذَاۤ
اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ
رٰجِعُوْنَؕ(۱۵۶) ترجمۂ کنز العرفان: وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی
ہے تو کہتے ہیں : ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (پ2،
البقرۃ: 156)
یہ
جملہ مؤمن کے دل کی گہرائیوں سے نکلتا ہے، جس میں یقین، رضا اور تسلیم کا جذبہ پوشیدہ
ہے۔ یہی
رویہ مومن کو غم سے سکون اور مصیبت میں صبر عطا کرتا ہے۔
انبیائے کرام کی سیرت میں صبر: قرآن نے انبیاء علیہم السلام کے صبر کو مثال بنا کر پیش کیا: فَاصْبِرْ
كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم
صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
حضرت ایوب
علیہ السلام نے سخت بیماری کے باوجود صبر کیا، حضرت یوسف علیہ السلام نے قید و ظلم
کے باوجود شکایت نہ کی، اور نبی اکرم ﷺ نے طائف کی اذیتیں برداشت کر کے بھی فرمایا:
اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، یہ نہیں جانتے۔ یہی
صبر کا اعلیٰ مقام ہے۔
صبر، نماز اور دعا کا تعلق:قرآن میں ارشاد ہے: وَ
اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى
الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵) الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ
اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶) ترجمۂ کنز الایمان: اور صبر اور نماز سے
مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں۔ جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا۔ (پ1، البقرۃ:45، 46)
یہ آیت
ہمیں سکھ آتی ہے کہ مصیبت کے وقت مومن کا سہارا دو چیزیں ہیں صبر اور نماز۔ صبر دل کو مضبوط کرتا ہے اور نماز روح کو سکون بخشتی ہے۔
صبر کا حقیقی مفہوم: صبر کا مطلب صرف مصیبت پر برداشت نہیں بلکہ
ہر حالت میں اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنا ہے۔
گناہ
سے رکنے میں صبر
عبادت
پر قائم رہنے میں صبر
تقدیر
پر راضی رہنے میں صبر
یہ تینوں
پہلو قرآن کے صبر کے جامع مفہوم کو ظاہر کرتے ہیں۔
صبر ایک
ایسی روشنی ہے جو غم کے اندھیروں میں انسان کو امید دیتی ہے۔
قرآنِ
کریم نے ہمیں سکھایا کہ صبر محض برداشت نہیں بلکہ ایمان کی علامت، اللہ کی رضا کا
راستہ، اور کامیابی کا زینہ ہے۔ جو
صبر کرتا ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ ایسے ہی بندوں کو پسند
فرماتا ہے۔ وَ اللہ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ(۱۴۶) ترجمہ
کنز العرفان : اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے۔ (
پ 4 ، آل عمران : 146 )
اے
اللہ! ہمیں ان بندوں میں شامل فرما جو ہر حال میں صبر کرنے والے، شکر گزار اور تیری
رضا پر راضی رہنے والے ہوں۔ آمین۔
مُحمّد
یاسر عطاری (درجہ سابعہ جامعۃ المدینہ
گلزارِ حبیب سبزہ زار لاہور، پاکستان)
صبر کی
تعریف: صبر کا
مطلب ہے مشکلات اور مصائب کے وقت ثابت قدم رہنا، اور اللہ کی رضا پر راضی رہنا یہ
ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سکون اور اطمینان دیتی ہے۔
صبر کی
اہمیت: صبر کی
اہمیت کو قرآن و حدیث میں بہت زیادہ بیان کیا گیا ہے۔ اللہ
تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللہ
وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ(۱۲۷) ترجمۂ
کنز العرفان:اور صبر کرو اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے اور ان کا غم نہ
کھاؤ اور ان کی سازشوں سے دل تنگ نہ ہو ۔ (پ14، النحل:127)
اسی
طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اُولٰٓىٕكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ
مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا ترجمۂ کنز العرفان: ان کو ان کا اجر دُگنا دیا جائے گاکیونکہ
انہوں نے صبر کیا۔ (پ 20،
القصص: 54)
ان
لوگوں کو دگنا اجر دیاجائے گا کیونکہ وہ پہلی کتاب پر بھی ایمان لائے اور قرآ نِ
پاک پر بھی اوریہ ان کے اس صبر کا بدلہ ہے جو انہوں نے اپنے دین پر اور مشرکین کی
طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں پر کیا۔
ایک
اور جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةً وَّ
حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں جنت اور ریشمی
کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
صبر
کرنے کے بہت سے فائدے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
صبر
کرنے سے انسان کو زندگی کے ہر مرحلے میں سکون اور اطمینان ملتا ہے۔
صبر
کرنے سے انسان مشکلات کے وقت ثابت قدم رہنے کی طاقت حاصل کرتا ہے۔
صبر کرنے سے انسان اللہ کی رضا پر راضی رہنے کی
طاقت حاصل کرتا ہے۔
صبر کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ دگنا اجر دیتا ہے۔
صبر کرنے والوں کو جنت کی نعمتوں سے نوازا جائے
گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں ریشمی لباس پہنایا
جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں تختوں پر تکیہ لگانے
کی نعمت ملے گی۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں گرمی اور سردی کی تکلیف
سے بچایا جائے گا۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں درختوں کے سائے کی
نعمت ملے گی۔
صبر کرنے والوں کو جنت میں گچھوں کی فراوانی ملے
گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر کی توفیق عطا فرمائے اور
ہمیں اپنی رضا پر راضی رہنے کی طاقت دے۔ آمین۔
محمد ثاقب (درجہ سابعہ جامعۃالمدینہ گلزار حبیب سبزہ زار لاہور ،
پاکستان)
صبر
انسان کی زندگی کا وہ قیمتی زیور ہے جو ہر دکھ، آزمائش، اور مشکل گھڑی میں اسے
استقامت اور حوصلے کا درس دیتا ہے۔ صبر دراصل مومن کی پہچان ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہر تکلیف کے پیچھے اللہ
تعالیٰ کی کوئی حکمت پوشیدہ ہے۔ قرآن مجید میں صبر کرنے والوں کی بارہا تعریف کی گئی ہے، اور ان کے لیے
اجرِ عظیم کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ صبر نہ صرف مصیبت میں برداشت کا نام ہے بلکہ یہ ایمان کی پختگی، دل کی
مضبوطی، اور اللہ پر کامل بھروسے کی علامت ہے۔ جس
دل میں صبر کا چراغ جلتا ہے، وہ کبھی ناامیدی کے اندھیروں میں نہیں ڈوبتا جیسا کہ
قرآن میں ہے:
(1)صبر
کرنے والوں کو اللہ کا ساتھ حاصل ہوتا : قرآن مجید میں اللہ پاک فرماتا ہے : یٰۤاَیُّهَا
الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-اِنَّ اللہ مَعَ
الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد چاہو بیشک
اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ (پ2، البقرۃ: 153)
حضرت
علامہ نصر بن محمد سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’اللہ تعالیٰ (اپنے علم و
قدرت سے) ہر ایک کے ساتھ ہے لیکن یہاں صبر کرنے والوں کا بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا
تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مشکلات دور کر کے آسانی فرمائے گا۔ (تفسیر سمرقندی، البقرۃ، تحت الآیۃ: 153، 1 / 169)
(2)صبر
کے بدلے جنت اور انعامات: وَ جَزٰىهُمْ بِمَا صَبَرُوْا
جَنَّةً وَّ حَرِیْرًاۙ(۱۲) ترجمہ کنزالایمان:اور ان کے صبر پر انہیں
جنت اور ریشمی کپڑے صِلہ میں دئیے ۔ (پ29،
الدھر:12)
اس آیت
اورا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ان نیک بندوں کو
گناہ نہ کرنے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور بھوک پر صبر کرنے کے بدلے جنت میں
داخل کرے گا اور انہیں ریشمی لباس پہنائے گا اور وہ جنت میں تختوں پر تکیہ لگائے
ہوں گے اور دنیا کی طرح وہا ں انہیں گرمی یا سردی کی کوئی تکلیف نہ ہوگی اور جنتی
درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور جنت کے درختوں کے گُچھے جھکا کر نیچے
کردئیے گئے ہوں گے تاکہ وہ کھڑے ،بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں باآسانی گچھے لے سکیں اور
جیسے چاہے کھا سکیں ۔ (خازن، الانسان، تحت الآیۃ: 12-14، 4 / 340)
(3)صبر کرنے
والوں کا اجر بے حساب: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
تفسیر
صراط الجنان:صبرکرنے والوں ہی کو ان کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ یعنی جنہوں نے اپنے دین پر صبر کیا اور اس کی
حدود پر پابندی سے عمل پیرا رہے اور جب یہ کسی آفت یا مصیبت میں مبتلا ہوئے تو دین
کے حقوق کی رعایت کرنے میں کوئی زیادتی نہ کی انہیں دیگر لوگوں کے مقابلے میں بے
حساب اوربھر پور ثواب دیا جائے گا۔ (
ابوسعود، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 461)
(4)انبیاء
کرام کی صبر کی مثال: فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ
مِنَ الرُّسُلِ ترجمۂ کنز العرفان: تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت
والے رسولوں نے صبر کیا۔ (پ26،الاحقاف:35)
قرآن مجید میں اللہ پاک نےبارہا صبر کرنے والوں
کو نہ صرف اللہ کی قربت کی خوشخبری دی گئی ہے بلکہ انہیں ہدایت، رحمت اور جنت کے
وعدے سے بھی نوازا گیا ہے۔ چنانچہ ہمیں چاہیے کہ ہم صبر کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں آزمائشوں میں مضبوطی، نافرمانی سے بچاؤ میں استقامت، اور عبادات میں پابندی تاکہ ہم
اللہ پاک کے ان بندوں میں شمار ہو سکیں جن کے بارے میں فرمایا گیا: اِنَّ
اللہ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ بیشک
اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
اللہ پاک ہمیں
قرآنی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
خیر
بخش عطاری (درجہ سابعہ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضان مدینہ کراچی ،
پاکستان)
صبر دینِ
اسلام کا ایک اعلیٰ ترین وصف ہے جو مومن کے ایمان، کردار اور روحانی بلندی کی
علامت ہے۔ قرآنِ کریم میں صبر کا ذکر بار بار آیا ہے اور
اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کو اپنے خاص انعامات اور قرب کی خوشخبری دی ہے
صبر کی تعریف : صبر کے
لغوی معنی رکنے ،ٹھرنے،یا باز رہنے کے ہیں اور نفس کو اس چیز پر روکنا ( یعنی ڈٹ
جانا) جس پر رکنے (ڈٹے رہنے کا ) کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز
سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل یا شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے ۔
صبر کی اقسام : صبر کی دو قسمیں ہیں :
(1)بدنی
صبر جیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا
(2) طبعی خواہشات اور خواہش کے تقاضوں سے صبر
کرنا
پہلی
قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہو تو قابل تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے
قابل صبر کی دوسری قسم ہے ۔ (تفسیر صراط الجنان ،پ2بقرہ،تحت الایۃ
246/1،153)
صبر کا حکم :شریعت نے جن کاموں سے منع کیا
ہے ان سے صبر (یعنی رکنا) فرض ہے اور نا پسندیدہ کام (جو شرعاً گناہ نہ ہو) سے صبر
مستحب ہے ۔
اور
تکلیف دہ جو فعل شرعاً ممنوع ہے اس پر صبر (خاموشی) ممنوع ہے ۔
مثلاً
کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ ناحق کاٹا جائے تو اس شخص کا خاموش رہنا اور صبر
کرنا ممنوع ہے ۔ اور ایسے
ہی جب کوئی شخص شہوت کے ساتھ بُرے ارادے سے اس کے گھر والوں کی طرف بڑھے تو اس کی
غیرت بھڑک اٹھے لیکن غیرت کا اظہار نہ کرے اور گھر والوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے
اس پر صبر کرے اور قدرت کے باوجود نہ روکے تو شریعت نے اس صبر کو حرام قرار دیا ہے
۔ (احیاء العلوم ،206/4)
قرآن مجید میں صبر کی اہمیت:
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ وَ اصْبِرُوْاؕ اِنَّ اللہ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ(۴۶) ترجمۂ
کنز العرفان: اور صبر کرو، بیشک اللہ
صبرکرنے والوں کے ساتھ ہے ۔ (پ10، الانفال: 46)
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ: اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ
اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۱۰) ترجمۂ کنز العرفان :صبرکرنے والوں ہی کو ان
کا ثواب بے حساب بھرپور دیا جائے گا۔ (پ23، الزمر: 10)
اس آیت
سے معلوم ہوا کہ صبر کرنے والے بڑے خوش نصیب ہیں کیونکہ قیامت کے دن انہیں بے حساب
اجر و ثواب دیاجائے گا۔ یہاں ان کے اجرو ثواب سے متعلق حدیثِ پاک
بھی ملاحظہ ہو
حضرت
علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ صبر کرنے والوں کے علاوہ ہر نیکی
کرنے والے کی نیکیوں کا وزن کیا جائے گا کیونکہ صبر کرنے والوں کوبے اندازہ اور بے
حساب دیا جائے گا۔ (
خازن، الزمر، تحت الآیۃ: 10، 4 / 51)
قال اللہ تبارک و تعالیٰ:وَ
لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ
الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ- وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَۙ(۱۵۵) ترجمۂ
کنز العرفان:اور ہم ضرورتمہیں کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور
پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کوخوشخبری سنا دو۔ (پ2، البقرۃ:
155)
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ
اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ- وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا
الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًاؕ-وَ
اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ(۱۸۶) ترجمۂ کنز الایمان: بے شک ضرور تمہاری
آزمائش ہوگی تمہارے مال اور تمہاری جانوں میں اور بے شک ضرور تم اگلے کتاب والوں اورمشرکوں
سے بہت کچھ برا سنو گے اور اگر تم صبرکرو اور بچتے رہو تو یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔ (پ4،آل عمران: 186)
قال
اللہ تبارک و تعالیٰ وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ترجمہ کنز العرفان : اور وہ جنہوں نے اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر
کیا۔ (پ13، الرعد: 22)
یعنی نیکیوں اور مصیبتوں پر صبر کیا اور گناہوں
سے باز رہے
صبر کے 3 مراتب :
علامہ صاوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ’
’صبر کے تین مرتبے ہیں ۔ (1)گناہ سے صبر کرنا یعنی گناہ سے بچنا۔ (2) نیکیوں پر صبرکرنا یعنی اپنی طاقت کے مطابق ہمیشہ نیک اعمال کرنا۔ (3) مصیبتوں پر صبر کرنا۔ ان
سب سے اعلیٰ مرتبہ یہ ہے کہ شہوات یعنی نفسانی خواہشات سے صبر کرنا کیونکہ یہ اولیاء
اور صدیقین کا مرتبہ ہے۔ (جلالین مع صاوی، الرعد، تحت الآیۃ: 3،22
/ 1001)
صبر کی فضیلت پر فرمان مصطفٰے :
حضور نبی رحمت ،شفیع امت ﷺ کا فرمان جنت نشان ہے
کہ اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے کسی بندے کو اس کے جسم ،مال یا اولاد کے
آزمائش کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کروں پھر وہ صبر جمیل کے ساتھ اس کا استقبال کرے
تو قیامت کے دن مجھے حیا آئے گی کہ اس کے لیے میزان قائم کروں یا اس کا نامہ اعمال
کھولوں ۔ ( نوادر الاصول الاصل الخامس و الثمانون والمئۃ
،277/4،حدیث :962)
اللہ
تعالیٰ ہمیں عافیت نصیب فرمائے اور مَصائب و آلام آنے کی صورت میں صبر کرنے کی
توفیق عطا فرمائے، اٰمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ
Dawateislami