ممتاز اسلامک اسکالر مولانا آصف عطاری مدنی
سپردِ خاک؛ امیرِ اہلِ سنت نے نمازِ جنازہ پڑھائی
کراچی (ویب ڈیسک): دعوتِ اسلامی
کے ممتاز مبلغ، رکنِ مجلس المدینۃ العلمیہ اور ماہنامہ فیضانِ مدینہ کے چیف ایڈیٹر
مولانا ابورجب محمد آصف عطاری مدنی کو گزشتہ رات کراچی کے مقامی قبرستان میں سپردِ
خاک کر دیا گیا۔ ان کی نمازِ جنازہ 16 اپریل 2026ء جمعرات کو رات ہفتہ وار اجتماع کے بعد عالمی مدنی مرکز فیضانِ
مدینہ پرانی سبزی منڈی، کراچی میں ادا کی گئی، جس کی امامت بانیِ دعوتِ اسلامی شیخِ
طریقت امیرِ اہلِ سنت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ
نے فرمائی۔ اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور ہزاروں کی تعداد میں
علمائے کرام، طلبہ کرام اور شہر بھر سے
آئے ہوئے عاشقانِ رسول نے شرکت کی جن میں اراکینِ
شوریٰ، جید علمائے کرام و مفتیانِ کرام
اور جامعۃ المدینہ کے اساتذہ و طلبہ بھی
شامل تھے ۔ امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے نمازِ
جنازہ کے بعد مرحوم کی بلندیٔ درجات کے لئے خصوصی دعا کروائی اور اپنے مخلص
مرید اور دیرینہ رفیق کے جنازے کو خود کندھا
دے کر رخصت کیا۔
نمازِ جنازہ کے بعد میت کو قافلے کی صورت میں سی
ون (C-1) ایریا لیاقت آباد قبرستان، کراچی لایا گیا جہاں
تدفین کے موقع پر بھی عاشقانِ رسول کی اچھی
خاصی تعداد موجود تھی۔ یہ مولانا آصف عطاری
مدنی کی بڑی سعادت اور امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ سے ان کی گہری وابستگی کا ثبوت تھا کہ پیر و مرشد
خود قبرستان تشریف لائے، جانشینِ امیرِ اہلِ سنت ابواُسید الحاج مولانا عبید عطاری
مدنی نے خود قبر میں اتر کر اپنے ہاتھوں سے مرحوم کو قبر میں اتارا۔ تدفین کے
دوران قبرستان کا ماحول تلاوتِ قرآن، نعت خوانی اور ذکر و اذکار سے معطر رہا، جہاں
عاشقانِ رسول نے انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ اپنے پیارے عالمِ دین کو آخری
منزل کی طرف الوداع کیا۔
مولانا آصف عطاری مدنی کے انتقال پر علمی و عوامی
حلقوں میں دکھ و رنج کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اراکینِ شوریٰ سمیت ملک بھر سے جید
علمائے کرام و مفتیانِ کرام نے اپنے تعزیتی پیغامات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے
ذریعے ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ایک بڑا خلا
قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ امیرِ اہلِ سنت دامت
بَرَکَاتُہمُ العالیہ کی مرحوم سے
محبت کا یہ عالم تھا کہ انتقال سے محض دو روز قبل بھی آپ نے ہسپتال جا کر ان کی عیادت
فرمائی تھی۔ مرحوم نے اپنی زندگی کے 25 سال درس و تدریس اور 26 سال تحریر و تحقیق
کے میدان میں صرف کئے، جو ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں۔ ہماری ٹیم اس غم کی گھڑی میں
تمام سوگواروں اور لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔
Dawateislami