2 مئی 2026ء بمطابق 14 ذیقعدہ 1447ھ کی شب عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام ہفتہ وار مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل کثیر عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔

مدنی مذاکرے میں تلاوتِ قرآن اور نعت رسولِ مقبول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے بعد عاشقانِ رسول نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی چیزوں کے بارے میں سوالات کئے جس کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے جوابات ارشاد فرمائے۔

مدنی مذاکرے کے دوران ہونے والے بعض سوالات کے جوابات:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھاہوا تھا:”كسی کی تکلیف کو اس کے گناہوں کی سزا نہ سمجھو“ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

جواب: یہ نہیں سمجھنا چاہیئے، نہ ہی ہم کسی کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں، نہ کسی کی تکلیف پر خوش ہوا جائے بلکہ اس کے لئے دُعائے خیر کی جائے کیونکہ ہر آنے والی تکلیف گناہوں کی سزا نہیں ہوتی ،انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام تو گناہوں سے پاک و معصوم ہوتے ہیں، پھر بھی ان پر تکالیف آتی ہیں، وہ ان کے درجات کی بلندی کا سبب ہیں، البتہ بعض تکالیف اللہ پاک کی جانب سے ہمارے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، یہ مومنین کے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا سبب ہوتی ہیں، البتہ کفار پر سزا کے طور پر آتی ہیں۔

سوال: بعض اوقات جب کسی پر کوئی تکلیف آتی ہے تو لوگ کہتے کہ میرے ساتھ ایسا ایسا کیاتھا تَو اس پر تکلیف آئی ہے، ایسا کہنا کیسا ہے؟

جواب:اس طرح کہنے والا اپنے آپ کو مقبول کہہ رہا ہے، اپنی تعریف کر رہا ہے، اس طرح نہیں کہنا چاہیئے کیونکہ ہمیں یقینی طورپر معلوم نہیں کہ اس پر تکلیف آنے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور!!! ۔

سوال: حرمین نام رکھنا کیسا ؟

جواب: جائز ہے ،حرمین کا معنی دو حرم اور ان سے مراد مکہ مکرمہ اور مدینۂ منورہ مراد لیا جاتا ہے ۔

سوال: کیا بارش کا پانی برکت والا ہے اور بارش برستے وقت دُعا قبول ہوتی ہے ؟

جواب: قرآنِ پاک میں بارش کے پانی کوبرکت والا پانی فرمایا گیا ہے۔(سورۃ ق، آیت :9) جب بارش ہوتی ہے تو بعض اوقات میں کھڑکی سے باہر ہاتھ بڑھا کر اس کے پانی سے برکت حاصل کرتا ہوں۔ بارش شروع ہوتے ہی جو پانی ہوتا ہے اسے نہ پیا جائے کہ فضا گرد آلود ہوتی ہے اور اس کے اثرات اس میں شامل ہو جاتے ہیں ۔بارش کو بُرا نہ کہا جائے ،البتہ دنیا کی ہر نعمت میں زحمت بھی ہوتی ہے ،زیادہ بارشیں باعثِ زحمت بن جاتی ہیں ،تھوڑی بارش سے بھی بعض اوقات سائیکل اور موٹر سائیکل والے گِر جاتے ہیں، بارش ہو تو حتی الامکان سائیکل یاموٹر سائیکل نہ چلائی جائے ۔فرمانِ مصطفی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:”2 دُعائیں رد نہیں ہوتیں، اذان کے بعد اور بارش کے وقت کی دعا“۔(مستدرک للحاکم، حدیث :2534)

سوال: امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے اسلامی بہنوں کو کون سی کتابیں ا ور رسائل پڑھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی ؟

جواب: اسلامی پردہ ، پردے کے بارے میں سوال جواب اور اسلامی بہنوں کی نماز۔

سوال: پھلوں کے چھلکے وغیرہ راستے میں پھینکنے کے کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ؟

جواب:کیلے (Banana)، پپیتے(Papaya) وغیرہ کے چھلکے اور دیگر تکلیف دہ چیزیں راستوں میں پھینک دینا شرعی ،قانونی اور اخلاقی جُرم ہیں، اس سے چلنے والے گِر سکتے ہیں ،مجھے بتایا گیا کہ میرے بڑے بھائی کیلے کے چھلکے سے پھسل کر ٹرین کے نیچے آ کر کٹ گئے تھے اور ان کا انتقال ہو گیاتھا ۔

سوال: کوّا(Crow) کس طرح لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے ؟

جواب:چیل(Kite) اور کوّے اپنے فائدے کے بغیر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، زخمی کر دیتے ہیں، اوپر کوئی چیز پھینک دیتے ہیں ،چیزیں اُٹھا کر بھی لے جاتے ہیں ،یہ اچھے پرندے نہیں ہیں ۔

سوال: مٹی کے برتن استعمال کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب: مٹی اور لکڑی کے برتن استعمال کرنا سنتِ مُسْتَحَبَّہ ہے، ثواب کی نیت سے رکھیں گے تو ثواب پائیں گےان شآء اللہ الکریم ۔حضرت سیّدُنا خَباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:”میں نے نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کوپختہ مٹّی کے برتن سے پانی پیتے ہوئے دیکھا“۔ (معرفۃ الصحابہ، ج 2،ص174)اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حُضورِ اقدس صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وسلَّم سے تانبے، پیتل کے برتنوں میں کھانا پینا ثابت نہیں۔ مٹی یا کاٹھ(یعنی لکڑی) کے برتن تھے اور پانی کے لئے مشکیزے بھی۔(فتاویٰ رضویہ، ج 22،ص129) مزید فرماتے ہیں: (مٹی کے برتن) میں کھانا پینا بھی تواضُع سے قریب تَر ہے، کھانے پینے کے برتن مٹّی کے ہونا افضل ہے کہ اِس میں نہ اِسراف ہے نہ اِترانا، حدیث پاک میں ہے:”جو اپنے گھر کے برتن مٹّی کے رکھے فرشتے اُس کی زیارت کریں“۔(فتاویٰ رضویہ، حصّہ الف، ج 1،ص336ملتقطاً)مٹی کے برتن استعمال کرنے کا میرا معمول بہت پُرانا ہے،شاید دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے۔مجھے ان سے پیار اور محبت ہے۔ میں جو مٹی کا پیالہ پانی پینے کے لئے استعمال کرتا ہوں اس طرح کا پیالہ عام طور پر نہیں ملتا،کیونکہ مَیں اس کی پیمائش سے پانی پیتا ہوں۔

سوال: آپ سونے کے لئے چٹائی کب سے استعمال کر رہے ہیں ؟

جواب: میراچٹائی پر سونے کا معمول تو دعوتِ اسلامی سے بھی پہلے کا ہے اور میں خود بازار لینے جاتا تھا ،میں کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی چٹائی پسند کرتاہوں اور مُردوں کو نہلانے کے وقت بھی یہ استعمال ہوتی ہے ۔اس میں موت کی یادبھی ہے ،اب کمزوری کی وجہ سے بیڈ استعمال کرتا ہوں ،اس پر عموماً چٹائی بچھائی جاتی ہے ۔

سوال: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ کون تھے ؟

جواب: حضرت علامہ مُلاّ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ حنفیوں(یعنی اِمامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پیروکاروں) کے بہت بڑے عالم تھے ۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ عجیب آزمائش پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہلِ سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب: یا ربّ کریم! جو کوئی 18 صفحات کا رسالہعجیب آزمائش پڑھ یا سُن لے اُسے احسان فراموشی اور ناشکری سے محفوظ فرما اور اس کو ماں باپ اور خاندان سمیت بے حساب بخش دے ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیین صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم