کراچی، 6 جون 2026ء:
دعوت ِاسلامی
کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 6 جون 2026ء بمطابق 21
ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔
معمول کے مطابق مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت
سے کیا گیا جس کے بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت
علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف
سولات کے جوابات دیئے اور انہیں مدنی پھولوں سے نوازا۔
کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ
مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ
مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: امیروں کی شاہانہ زندگی اور لائف اسٹائل(Life Style) دیکھ کر عام افراد میں مال حاصل کرنے کا جذبہ
بڑھ جاتا ہے اور جب مال کی لالچ بڑھتی ہے تو انسان حلال و حرام بھول جاتا ہے۔اس
خطر ناک سوچ سے بچنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟
جواب: پیارے آقا صلی
اللہ علیہ والہ وسلم کی پیاری پیاری سیرت پڑھیں،حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کس طرح زندگی گزاری اور دولت سے دُور رہے ،آپ کے ارشاد ات بھی موجود ہیں
کہ مَیں چاہوں تو یہ پہاڑ سونے کے بن کر میرے ساتھ چلیں لیکن آپ نے کبھی ایسا نہیں
کیا بلکہ جب بھی کوئی مال آتا تو راتوں رات اسے راہِ خدا میں تقسیم فرما دیتے، روزانہ
ایک مرتبہ کھانا کھاتے اور دوسرے دن کے لیے بچا کر نہ رکھتے تھے ۔ آپ نے ظاہری
دولت کبھی بھی جمع نہیں فرمائی ۔ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے
ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں مثال دی ہے کہ جب تک کشتی پانی میں ہےتو نہیں ڈُوبے گی،
مگر جب پانی کشتی میں آگیا تو وہ ڈُوب جائے گی ۔ اسی طرح جس
کے پاس مال و دولت ہے، وہ نقصان نہیں پہنچا رہا مگر جس دن یہ مال دل میں آگیا تو سب کچھ لے ڈُوبے گا۔ مال سے
محبت کے بجائے اللہ پاک سے محبت کی جائے ،دُنیا سے محبت کے بجائے میٹھے
مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت کی جائے تو ساری دولت ہمارے قدموں میں ہو گی
۔ورنہ دنیا کی محبت گناہوں کی جڑ ہے ۔
نوٹ:مکتبۃ المدینہ کی سیرت کے موضوع پر کتابیں اور رسائل مثلاً”سیرتِ مصطفیٰ،سیرتِ رسول ِ عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم،آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی پیاری سیرت،مختصر سیرتِ رسول“حاصل کرکے مطالعہ کریں۔
سوال:آپ علمائے کرام سے محبت فرماتے ہیں،علماء سے محبت کی کیا
فضیلت ہے ؟
جواب: علمائے کرام اگر معاشرے سے مائنس ہو جائیں تو کچھ نہیں بچے گا ،قدم قد م پر
علماء سے رہنمائی کی حاجت ہوتی ہے حتّٰی کہ علماء کی حاجت جنت میں بھی ہو گی ۔اللہ پاک جنتیوں سے فرمائے گا !مانگو کیا
مانگتے ہو؟ یہ علمائے کرام کی بارگاہ میں
حاضر ہوں گے ان سے پوچھیں کہ ہم اللہ پاک سے کیا مانگیں؟علمائے کرام قیامت کے دن بھی کام آئیں
گے ،علمائے کرام کو روکا جائےگا کہ پہلے اپنے چاہنے والوں کی شفاعت کریں تاکہ وہ
بھی جنت میں داخل ہو جائیں، علمائے کرام کو اگر کسی نے پانی بھی پلایا ہو گا تو وہ
اس کی بھی شفاعت کریں گے ۔ حدیث پاک ہے کہ عالِم بنو یا طالِبِ عِلْم، عِلْمِ
دین سننے والے بنو یا عِلْمِ دِین سے محبّت کرنے والے بنو،پانچوے مت بننا، ورنہ
ہلاک ہو جاؤ گے۔( جامع بیان
العلم و فضلہ 1/ 158، حدیث:151 )
سوال: اس زمانے میں کسی کا عقیدہ جاننے کا معیارکیا ہے ؟
جواب: اس دور میں
ہمارا معیار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ ہیں ،انہوں نے ہمیں قرآن و حدیث کادرست مفہوم سمجھایا ہے اور ہمیں عقائد واضح کر کے سمجھائے ہیں۔ان سے جو
محبت کرتا ہے وہ ہمارے سرکا تاج ہے اور جو اِن پر تنقید کرتا ہے، ان کا ذکرِ خیرسُن
کر اس کے منہ پر بادل چھا جاتے ہیں، کدورت منہ پر آتی ہے تو ہمیں نہ چلے(یعنی ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں) ،مَیں اعلیٰ حضرت والا ہوں ۔جس کا چہرہ اعلیٰ
حضرت کا نام سُن کر خوشی سے کِھل اُٹھے
تووہ اپنا ہے ۔
سوال: رِیا نہ ہو
جائے، اس لیے کسی نیک عمل کو چھوڑ دینا کیسا؟
جواب: رِیا کے خوف سے
نیک عمل چھوڑ دینا یہ بھی رِیا ہے ،بندہ نیک
عمل کرے اور اللہ پاک سے اخلاص کی دعا کرے ۔
سوال:اگر کوئی توبہ
کرے لیکن پھر گناہ میں مبتلا ہو جائے
تواب کیا کرے ؟
جواب: توبہ کرتے ہوئے دل کی کیفیت کو دیکھنا ضروری ہے ،توبہ
کرتے وقت شرمندگی کے ساتھ اس نیت کے ساتھ توبہ کرے کہ آئندہ یہ گناہ نہیں کروں گا تَو یہ توبہ ہے۔ اگر تذبذب ہے کہ چھوڑوں گا یا
نہیں چھوڑوں گا تو یہ توبہ نہیں ۔بہر حال درست توبہ کی پھر کسی وجہ سے وہی گناہ
ہو گیا تو دوبارہ توبہ کرے ،یہ توبہ کرنا
ایک دن گناہ کی عادت کو ختم کر دے گا ۔
سوال: شماتت کیا
ہے ؟
جواب: دوسرے کی مصیبت کو دیکھ کر خوش ہونا شماتت ہے اوریہ باطنی بیماری ہے ،اس کا علاج ضروری ہے
،حدیث پاک میں ہے کہ اپنے بھائی کی مصیبت
پر خوشی (شماتت)
کا اظہار نہ کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ پاک اس پر رحم فرمائے اور تمہیں اسی آزمائش میں مبتلا
کر دے ۔(سنن ترمذی ،حدیث نمبر
2543)
سوال: کسی کے گھر
جائیں تو انداز کیا ہونا چاہئے ؟
جواب: جب کسی کے گھر میں داخل ہونا چاہیں تو اِس طرح کہیں: السلامُ علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟٭اگر داخلے کی اجازت نہ ملے تو بخوشی واپس لوٹ جائیں۔
ہو سکتا ہے کسی مجبوری کے تحت صاحبِ خانہ
نے اجازت نہ دی ہو٭جب آپ کے گھر پر کوئی دستک دے تو سُنّت یہ ہے کہ پوچھیں: کون
ہے؟ باہر والے کو چاہئے کہ اپنا نام بتائے: مثلاً کہے: محمد الیاس۔ نام بتانے کے
بجائے اس موقع پر مدینہ! میں ہوں! دروازہ کھولو وغیرہ کہنا سنّت نہیں٭جواب میں نام
بتانے کے بعد دروازے سے ہٹ کر کھڑے ہوں
تاکہ دروازہ کھلتے ہی گھر کے اندر نظر نہ پڑے۔
سوال: کیا نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم چھوٹے بچوں کی بھی نعت سنتے ہیں ؟
جواب: جی ہاں ! اللہ پاک نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو سننے کی یہ طاقت دی ہے کہ جب
ہم دُرود شریف پڑھتے یا نعت پڑھتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہماری آواز سنتے ہیں،نعت شریف
پڑھنے والا بچہ ہو یا بڑ اہو ۔
سوال:حدیث پاک میں ہے کہ مومن لعنت کرنے والا، طعنہ دینے
والا، فحش گو اور بےہودہ گفتگو کرنے والا نہیں ہوتا۔( ترمذی، حدیث : 1984) تو صرف اتنا کہنا کہ لاکھ دی(پنجابی
میں لخ دی) ،کیا یہ بھی لعنت
ہے ؟
جواب: جی ہاں! یہ بھی لعنت ہے اور اشارے سے بھی لعنت ہوتی ہے
۔لعنت کرنا گنا ہ ہے، نبی کریم صلی
اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: بے شک بندہ جب کسی چیز کو لعنت کرتا ہے تو
وہ لعنت آسمان کی طرف چڑھ جاتی ہے تو اس کے سامنے آسمان کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں پھر وہ دائیں اور بائیں جانب کی راہ
لیتی ہے۔اگر جگہ نہیں پاتی تو جسے لعنت کی
گئی اگر وہ اس کا اہل ہوتا ہے تو اس کی طرف جاتی ہے ورنہ دینے والے پر لوٹ آتی ہے۔(سنن ابو داؤد، حدیث: 4905)یقینی کافر اور شیطان کو بھی لعنت کرنا صرف مباح
ہے یعنی نہ ثواب ہے اور نہ ہی گنا ہ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ”ذکرُ اللہ کے واقعات“ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
Dawateislami