دعوتِ اسلامی کے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 4 جولائی 2026ء بمطابق 19 محرم الحرام 1448ھ کو ہفتہ وار  مدنی مذاکرے کا انعقاد کیا گیا جس میں عاشقانِ رسول کی بڑی تعداد نے براہِ راست اور بذریعہ مدنی چینل شرکت کی۔

اس مدنی مذاکرے میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے سوالات کیے جن کے شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے نہایت وضاحت و آسان انداز میں جوابات دیئے۔

مذاکرہ میں شرکاء نے اپنی دینی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے بھی سوالات کیے جن پر امیرِ اہلِ سنت دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے نہ صرف دینی رہنمائی کی بلکہ معاشرتی مسائل کے حل کے لیے مدنی پھولوں سے نوازا جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

سوال:ایک پوسٹ میں لکھا تھا:’’تم جن کی قبروں پر سال بعدجاتے ہووہ ہمارے گھرمیں 10 منٹ لیٹ آنے پرتڑپ جاتے تھے‘‘اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟

جواب:میت جس سے دنیا میں محبت کرتی تھی وہ اس کی قبرپر جائے تو وہ چاہتی ہے کہ وہ اس کی قبرپرزیادہ وقت بیٹھے، اس لیے ہمیں اپنے محبت کرنے والوں کی قبرپر جاناچاہئے اور وہاں جاکر ایصالِ ثواب اوردُعائے مغفرت کرنی چاہئے، زندوں کی طرف سے مُردوں کے لیے سب سے بہترین تحفہ انہیں ایصالِ ثواب اوردُعائے مغفرت کرنا ہے ۔

سوال: کسی کو نیکی کی دعوت دیں اور وہ نہ مانے تو کیا کریں ؟

جواب:سمجھاتےرہیں، سمجھانانہ چھوڑیں، ہمارا کام نیکی کی دعوت دیناہے،نیکی کی توفیق دینا اللہ پاک کےدستِ قدرت میں ہے۔تبلیغ کالغوی معنی پہنچانا ہے، نیکی کی دعوت، نمازکی تلقین وغیرہ جاری رکھیں، نیکی کی دعوت دیتے رہیں گے تو لوگ نیکی کی طرف آتے رہیں گے، سمجھاتے رہیں، سمجھاتے رہیں، سمجھاتے رہیں تو سمجھانے کا فائدہ دیکھ ہی لیں گے۔سُوْرَۃُ الذّٰرِیٰت کی آیت نمبر 55 میں ارشاد ہوتاہے: وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ ترجمۂ کنزالعرفان:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا ایمان والوں کو فائدہ دیتا ہے۔

دعوتِ اسلامی اسی طرح بڑھی ہے ۔اگرکوئی ہماری نیکی کی دعوت سےاپنی اِصلاح نہ بھی کرےتو ہمیں نیکی کی دعوت کا ثواب تو مل جائے گا۔

سوال: کیا نیکی کی دعوت قبول کرنے میں سمجھانےکےانداز کابھی عمل دخل ہوتا ہے ؟

جواب: جی ہاں! عام طورپر سمجھانےکااندازسخت اور رُوکھا(Rough) ہوتا ہے جو درست نہیں ۔حکمتِ عملی کے ساتھ نیکی کی دعوت دینی چاہئے،جس کو سمجھایا ہےاس کی اصلاح کی دعابھی کریں۔مزیدمعلومات کےلیےمکتبۃ المدینہ کی کتاب ’’نیکی کی دعوت‘‘کامطالعہ کریں۔

سوال: ہم تک جو کھانا پہنچتاہے، اس میں کتنےافراد کی کوشش شامل ہوتی ہے؟

جواب: ہم تک جو کھانا اورروٹی پہنچتی ہےوہ بہت سارےمراحل سےگزرکرآتی ہے۔ روایت میں ہے کہ روٹی تمہارے سامنے اس وقت تک نہیں رکھی جاتی جب تک اس میں 360 کاریگر اثرانداز نہ ہوں ۔ ان میں سب سے پہلے حضرت میکائیل عَلَیْہِ السَّلَام ہیں جو کہ رحمت کے خزانے سے پانی کو ناپتے ہیں پھر وہ فرشتے جو بادلوں کوچلاتے ہیں پھر سورج، چاند،اَفلاک اور اس کے بعد ہوا کے فرشتے پھر زمینی چوپائے اور سب سے آخر میں روٹی پکانے والا ہے۔( فيض القدير، 2 / 117، تحت الحديث : 1424)اس لیےاس کی قدرکی جائے،بلکہ جوذرّے دسترخوان پر گِرجاتے ہیں ،یہ بھی کھالیں یا جانوروں کو ڈال دیں۔

سوال:کیامیدانِ کربلامیں حضرت امام زین العابدین بن امام حسین رحمۃ اللہ علیہ کےعلاوہ اوربھی کوئی زندہ بچاتھا؟

جواب:جی ہاں!حضرت حسن مثنّٰیرحمۃ اللہ علیہ شدیدزخمی ہوئے،علاج سےدرست ہوئے، یہ امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہ کے بیٹےاورتابعین میں سےتھے، ان کا نکاح حضرت فاطمہ صغریٰ بنت امام حسین رحمۃ اللہ علیہا سے ہوا۔ان کے بیٹے حضرت حسن محض پہلے حسنی حسینی سیدہیں۔

سوال: ہمیں کس طرح زندگی گزارنی چاہئے؟

جواب:ہرمسلمان کوچاہئےکہ وہ اللہ و رسول کی اطاعت میں زندگی گزارے،اپنی زندگی کے مقصد یعنی اللہ پاک کی عبادت کو پیشِ نظررکھے ،ہماراتعلق جس بھی شعبےسے ہو، ہمیں باعمل مسلمان بن کر جینا اورمسلمان ہی مرنا ہے ۔ان شاء اللہ الکریم

سوال: جانوروغیرہ پالیں تو ہمیں کیاکرنا ہوگا؟

جواب:ان کےکھانے(چارا،پانی وغیرہ)کاانتظام کرنا ہوگا، یہ زیادہ کھاتےہیں، اس لیے ان کےسامنے کھانا رکھنا ہوگا، پانی بھی پلانا ہوگا، کھانا یا پانی ناپاک ہوجائےتو پاک کھانا اورپاک پانی کا اہتمام کرنا ہوگا۔ جانوروں کوآپس میں لڑنے نہ دیں اوردیگربہت سارےمعاملات کا خیال رکھنا ہوگا۔ہرشعبےاورکام کے بارے میں شرعی احکام موجود ہیں، انہیں سیکھنا ضروری ہے۔ہر مسلمان مرد و عورت پر علم دِین سیکھنا فرض ہے، علم سے بقَدَرِ ضرورت شرعی مسائل مراد ہیں، لہٰذا روزے نماز کے مسائلِ ضروریہ سیکھنا ہر مسلمان پر فرض، تجارت کے مسائل سیکھنا ہر تاجر پر،حج کے مسائل سیکھنا حج کو جانے والے پر عَین فرض ہیں۔

سوال: اِس ہفتے کارِسالہ”فیضانِ مُفتی اعظم ہند “ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟

جواب:یااللہ پاک!جوکوئی 26صفحات کارسالہ”فیضانِ مفتی اعظم ہندپڑھ یا سُن لے، اُسے اولیائے کرام کی سچی محبت دے کر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما اور اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راضی ہوجا ۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتم النَّبیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم