کراچی، 30 مئی 2026ء:
دعوت ِاسلامی
کے زیرِ اہتمام عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ کراچی میں 30 مئی 2026ء بمطابق 14 ذوالحجۃ 1447ھ کو مدنی مذاکرے کا
انعقاد کیا گیا جہاں عاشقانِ رسول کو اپنے دینی مسائل کو حل کرنےاور ڈھیروں علمِ دین حاصل کرنے کا موقع ملا۔
مدنی مذاکرے کا آغاز تلاوت و نعت سے ہوا جس کے
بعد شیخِ طریقت، امیرِ اَہلِ سنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال
محمد الیاس عطّاؔر قادری رضوی دامت بَرَکَاتُہمُ العالیہ نے حاضرین و ناظرین کی جانب سے ہونے والے مختلف سولات
کے جوابات دیئے۔
کراچی بھر سے کثیر عاشقانِ رسول نے براہِ راست فیضانِ
مدینہ کراچی میں شرکت کی جبکہ بیرونِ شہر اور بیرونِ ممالک کے عاشقانِ رسول نے بذریعہ
مدنی چینل مدنی مذاکرے میں شرکت کی۔
مدنی مذاکرے کے بعض سوال و جواب
سوال: کیا مدینہ پاک کی حاضری میں خواص اور عوام کے ذوق میں کوئی فرق ہوتا ہے ؟
جواب: جی ہاں ! خواص مدینۂ منورہ میں زیادہ مدت رہیں تو ان
کے ذوق میں اضافہ ہوتاہے ،میرے مرشد حضرت مولانا ضیاء الدین احمدمدنی رحمۃ اللہ علیہ
75سال مدینۂ منورہ میں رہے اور اُن میں ذوقِ مدینہ بہت تھا، عوام زیادہ دن رہیں تو ان کاذوق کم
ہوجاتاہے۔اس لیے مسلمانوں کے دُوسرے خلیفہ امیرُالمؤمنین حضرت عمرفاروق ِاعظم رضی اللہ عنہ حج کے اختتام پر لوگوں کو اپنے وطن واپس جانے
کا حکم فرماتے تھے۔ہم اللہ
پاک سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں مقدس مقامات کا باادب بنائے۔
یادرکھئے!بےادب اللہ پاک کے فضل و رحمت سے محروم ہے ۔میرا مشورہ ہے کہ
مکہ ومدینہ میں ملازمت یا کاروبارکے لیے سفرنہ کریں ۔ایسوں کے لیے ذوق وادب برقراررکھنا مشکل ہے ۔
سوال: ہمیں مدینۂ
منورہ کس اندازسے حاضر ہونا چاہئے ؟
جواب:حاضری ِمدینہ کے وقت نعتیں پڑھتے ہوئے ،ہرشے سے بے گانہ
ہوکر ،نبیِ کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تصورمیں ڈُوب کر جانا چاہئے، اس کے لیے پہلے ہی مدینۂ
منورہ کے فضائل پڑھ لے تاکہ ذوق حاصل ہو۔ذوق و رِقَّت کے لیے صحبت بھی مفیدہے، اگر
عاشقانِ رسول بالخصوص جو پہلی مرتبہ گئے ہوں ان کا ساتھ نصیب ہوجائے تو ذوق بڑھے
گا ۔
سوال:حاجی صاحبان یاعلمائے
کرام تشریف لائیں تو ان کو پھولوں کے
ہارپہنانا کیسا؟
جواب: حاجیوں، علمائے کرام کو اُن کی تعظیم کے لیےاوردُولہاکی
خوشی میں اضافے کے لیے ہارڈالے جاتے ہیں ،جب مَیں کہیں جاتاتھا تو مجھے بھی بہت
ہار پہناتے تھے مگر مجھے ان سے کوفت ہوتی
تھی ،ایک تو اس سے کپڑوں پر پھولوں کے داغ لگ جاتے ہیں، دوسرا اس میں کافی ساری رقم خرچ ہوتی ہے اور ہار پہنانا تو
تھوڑی دیرکے لیے ہوتاہے ،پھر مَیں نے سمجھانا شروع کیا کہ آپ لوگ مجھے ہارپہنانے کے لیے جورقم خرچ کرتے ہیں اس کے مکتبۃ المدینہ کے
مختلف رسائل تقسیم کردیا کریں کہ یہ بھی نیکی کی دعوت دینے کا ایک بہترین طریقہ ہے
۔
سوال:آج کل ہمارے معاشرے میں بالخصوص دعوتوں میں کھانا ضائع ہوتاہے ،اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
جواب: دانہ دانہ بچانا چاہئے، جب قِلّت ہوتی ہے تو اس کی قدرہوتی
ہے، کھا نا ضائع کرنا اِسراف ہے اور یہ گنا ہ ہے، میں سمجھاتا رہتا ہوں ،آپ بھی
سمجھاتے رہیں اور سمجھانے میں تھکیں نہیں۔دعوتوں میں جوکھانا بچ جائے اسے پیک کروا
کر غریبوں کو دے دیں ،کسی مدرسے میں بھیج دیں ۔دعوتِ اسلامی کے ذریعے بھی اسے غریبوں
میں تقسیم کروایا جاسکتاہے۔دعوتِ اسلامی کے شعبے FGRF کے
ذریعے بھی کھانا تقسیم کروایاجاسکتاہے ۔
سوال:بھینس اورکٹےکی قربانی کی جاسکتی ہے ؟
جواب: جی ہاں شرائط پائی جانے کی صورت میں بھینس اورکٹے(نر بھینس/Bull Buffalo) کی
قربانی کی جاسکتی ہے، بھینس گائے کی فیملی سے ہے، یہ دودھ کی ٹینکی ہے ،لوگ غلط
فہمی ڈالتے ہیں کہ اس کی قربانی نہیں ہوتی، اس لیے اگلی مرتبہ ہو سکے تو گھرگھربھینس یاکٹے کی قربانی کریں ۔جواسے پال
سکتاہے تو ابھی سے پالنا شروع کردے ۔یہ گائے سے سستی ہوتی ہے ،اس کا گوشت گائےکی
بنسبت مقدار میں زیادہ ہوتاہے ۔
سوال: بھینس کے
گوشت کے کیا فوائد ہیں ؟
جواب: بھینس کے گوشت میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی
ہےجوپٹھوں کے لیے مفیدہے اور اس کی نشوونمامیں مددکرتی ہے۔اس میں آئرن زیادہ
ہوتاہے جوانسانی بدن کےخون کے لیے مفیدہے،اس میں وٹامن بی(Vitamin B) زیادہ ہوتاہے جو مدافعتی نظام(Immune System) کو مضبوط کرتاہے ،اس کا گوشت کھانے سے پیٹ زیادہ دیرتک
بھرا رہتاہے ۔اس میں گائے کے مقابلے میں چربی بھی کم ہوتی ہے ۔
سوال: حج وعمرہ
کرنے والے، لوگوں کے لیے کیا تحفہ لائیں ؟
جواب: سب سے بہترین تحفہ آبِ زم زم ہےجو کہیں اورنہیں ہوتا،یہ
حضرت اسماعیل علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں کی ٹھوکرکی برکت ہے، حاجی کوئی بھی چیزدے
تو شکریہ کے ساتھ اسے قبول کرلیا کریں۔بعض لوگ آب زم زم میں اپنے ہاں کا پانی اور دیگر اپنے وطن کی چیزیں بھی ڈال دیتے ہیں
،اس لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ اس میں وضاحت بھی کردیا کریں کہ کون سی چیزمکہ مدینہ
کی ہے اورکون سی چیزکہیں اور کی ہے ۔
سوال: اِس ہفتے کارِسالہ ” فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت‘‘ پڑھنے یا سُننے والوں کو امیر اہل سنت دامت برکاتہم العالیہ نے کیا دُعا دی ؟
جواب:یاربَّ المصطفٰے!جو کوئی 18 صفحات کا رسالہ”فضول باتوں سے بچنے کی فضیلت“ پڑھ یا سُن لے اُسے فضولیات سے بچا، نیک بنا
اور بار بار حج و دیدارِ مدینہ کا شرف عطا فرما۔اٰمِیْن بِجَاہِ خاتَمِ النَّبیّٖنْ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
Dawateislami