مجلس محض اکٹھے بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک امانت، تعلیم کا میدان، اور دلوں کو صاف کرنے والا زخم ہے۔ جس طرح زراعت میں زمین کی تیمارداری ضروری ہے، اسی طرح دینی مجالس کو بھی حقوق و آداب کے مطابق سنبھالنا لازم ہے تاکہ علم کی روشنی پھیلے اور معاشرتی برکت قائم رہے۔ یہ حقائق قرآن و سنت، اَعمالِ سلف اور دعوتِ اسلامی کی تربیتی کتب میں بارہا واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اس مختصر مگر جامع تحریر میں میں مجلس کے بنیادی حقوق کو قرآن و حدیث کی روشنی اور دعوتِ اسلامی کی رہنمائی کے مطابق پیش کر رہا ہوں تاکہ ہر شریک مجلس اور منتظم اس کو سمجھ کر عمل میں لا سکے۔ (فیضانِ سنت، صفحہ 65؛ آدابِ دین، صفحہ 19)

سب سے پہلا حق نیتِ خالص ہے:جو شخص مجلس میں آتا ہے وہ پہلے اپنے دل میں پختہ کرے کہ اس کا مقصد دکھاوا، بحثِ بے فائدہ، یا دنیاوی مشغولیت نہیں بلکہ اللہ، سنتِ رسول ﷺ، اور اصلاحِ نفس ہے۔ نبیِ پاک ﷺ نے جہاں علم و عمل کو جوڑ کر پیش کیا وہیں امت کو بار بار نصیحت فرمائی کہ نیت صاف ہو۔ جب نیت پاک ہوگی تو مجلس میں بیٹھنے والے کے ہر کلام اور عمل میں اخلاص جلوہ گر ہوگا۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب فیضانِ سنت میں اسی نیتِ صالحہ پر زور دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ محفلِ ذکر و علم کی برکت کا پہلا دروازہ نیت ہے۔ (فیضانِ سنت، صفحہ 65)

دوسرا حق خاموشی، غور و خوض اور باوقار سماعت ہے:قرآنِ مجید نے اجتماعی آداب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(سورۃ المجادلہ:11)

اس میں باہمی احترام اور نظم کا سبق چھپا ہے۔ نبی ﷺ نے بھی مجالس میں نامناسب شور، بے ہودہ قہقہے اور بے جا گفتگو سے خبردار فرمایا؛ اور ایسی مجالس میں جو خاموشی اور ادب برقرار رکھے وہی زیادہ فیض پاتے ہیں۔ خاموشی صرف زبان کی بندش نہیں بلکہ دل کی توجہ ہے یہی بات ایک چُپ سو سُکھ میں واضح کی گئی ہے جہاں خاموشی کو مجلس کا زیور قرار دیا گیا ہے۔ (ایک چپ سو سُکھ، صفحہ 27)

تیسرا حق احترامِ اساتذہ و بزرگانِ دین کا ہے:مجلس میں حضورِ علم و عمل، اَکابر اور علماء کی تعظیم و توقیر لازمی ہے کیونکہ وہی علم رواداروں تک پہنچاتے ہیں اور نسل در نسل ہدایت کا سلسلہ قائم رکھتے ہیں۔ رسولِ کریم ﷺ نے ہمیں بتایا:«الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ»ترجمہ: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا دیکھو تم کس سے صحبت کرتے ہو۔ ( سننِ ابی داؤد/ابن ماجہ)

اسی تناظر میں مجلس میں علم والوں کا احترام محض اخلاقی فعل نہیں بلکہ دین کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب حسنِ اخلاق میں علمائے کرام کی قدر و توقیر اور ان کے ساتھ شائستہ سلوک پر تفصیل دی گئی ہے۔ ( حسنِ اخلاق، صفحہ 34)

چوتھا حق امانتِ مجلس ہے: جو باتیں مجلس میں کہیں گئی ہوں وہ امانت سمجھ کر باہر نہ پھیلائی جائیں۔ امانت داری اعتماد کو بڑھاتی ہے اور لوگوں کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہاں بات کا وقار ہے۔ جب امانت ختم ہوتی ہے تو مجلس زینہ بگڑ جاتا ہے اور لوگ ایک دوسرے سے جھجھک محسوس کرتے ہیں۔ اس پر دعوتِ اسلامی کے متعدد نصوص واضح رہنمائی دیتے ہیں کہ مجلس میں سیکھا ہوا علم اور باتیں مُصلحت کے مطابق وصول کی جائیں اور اَخلاقی تحفظ برقرار رہے۔ ( آدابِ دین، صفحہ 19؛ فیضانِ سنت، صفحہ 65)

پانچواں حق زبان و گفتار کا ہے: مجلس میں بولنے سے پہلے سوچنا، بے جا لطائف سے پرہیز، غیبت و تلمیح سے بچنا، اور بات کا مقصد سامنے رکھ کر کلام کرنا۔ نبیِ کریم ﷺ نے مثال کے ذریعے بتایا کہ نیک ساتھی اور بد ساتھی کی مثال مشک والے اور لوہار کی مانند ہے؛ جیسے مشک کی خوشبو فائدہ دیتی ہے، لوہار کی آگ نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ( صحیح البخاری/صحیح مسلم)

اسی طرح مجلس میں کلام بھی اگر برائے اصلاح ہو تو بھلائی کا سبب بنتا ہے ورنہ بگاڑ کا۔ دعوتِ اسلامی کی کتاب 550 سنتیں اور آداب میں بھی بولنے کے آداب اور مناسب اندازِ تاکید کی مفصل ہدایات ملتی ہیں۔ ( 550 سنتیں اور آداب، صفحہ 10)

چھٹا حق عملی امتثال ہے: مجلس کا حقیقی مقصد صرف سننا نہیں بلکہ سن کر عمل کرنا ہے۔ جو علم عمل میں نہیں آتا وہ بوجھ بن جاتا ہے۔ اس لیے بزرگانِ دین نے فرمایا کہ مجلس سے باہر نکل کر کم از کم ایک عمل کر کے دکھاؤیہی مجلس کی اصل کامیابی ہے۔ دعوتِ اسلامی کی تربیتی کتابوں میں معلمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سوالیہ انداز اپناتے ہوئے سامع کو محض معلومات نہیں بلکہ عمل کی تحریک بھی دیں سوال کھڑا کرو، دل ہلاؤ، اور عمل کی طرف بلاؤ۔ ( فیضانِ سنت، صفحہ 65؛ آدابِ دین، صفحہ 19)

ساتواں حق نظم و ترتیب اور صفائی ہے: مجلس کا انتظام، بیٹھنے کی ترتیب، صفائی و پاکیزگی اور خوشبو کا خیال رکھنا بھی حقوقِ مجلس میں آتا ہے تاکہ شریکِ مجلس کو جسمانی تکالیف کا سامنا نہ ہو اور ماحول روحانی رہے۔ دعوتِ اسلامی کے عملی ہدایت ناموں میں مجالس کے انتظام کے باریک پہلوؤں اور ضوابط کا ذکر ملتا ہے جسے منتظمین کو بطور ضابطہ اختیار کرنا چاہیے۔ ( کام کے اوراد، آغاز)

آخر میں یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ مجلس کے حقوق کا اہتمام فردی اور اجتماعی دونوں سطحوں پر ضروری ہے۔ جب ہر بندہ نیت صاف، زبان محتاط، قلب نرم، اور عمل پرکوشا رہے گا تو وہی مجلس زندہ اور بابرکت ہوگی۔ قیامت کی یاد جب اس تربیتی عمل کے پس منظر میں رہے گی تو ہر مجلس ایک موقع بن کر سامنے آئے گی۔ایک موقع جو دل بدل دے، کردار سدھار دے اور امت کو صحیح سمت دکھائے۔ دعوتِ اسلامی کی کتابیں اس فہم کو آج کے دور کے مطابق بیان کرتی ہیں اور عمل پر زور دیتی ہیں؛ اس لئے ہر مدرسہ، مدنی مرکز اور ذاتی محفل میں ہم سب کو چاہئے کہ یہ آداب اپنا کر مجالس کو قرآن و سنت کے مطابق سنواریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی مجالس کے حقوق ادا کرنے اور علم و عمل میں ثابت قدم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔


اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو انسان کو انفرادی واجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کی رہنمائی کرتا ہے ۔انسان چونکہ فطری طور پر سماجی مخلوق ہے اس لیے اسلام نے اجتماعات یعنی مجلسوں کے آ داب اور حقوق بھی  عطاکیے ہیں تاکہ معاشرتی تعلقات میں حسن اخلاق اور محبت قائم رہے ۔

مجلس کے اہم حقوق وآداب یہ ہیں :مجلس کے حقوق میں سے پہلا ہے سلام کرنا یعنی جب بھی کسی مجلس میں داخل ہو تو پہلے سلام کیا کرو۔

مجلس میں جگہ بنانا :مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی مجلس میں آئے اور بیٹھنے کی جگہ نہ ہو تو قریب والے کو جگہ دینی چاہیے جیسے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمۂ کنز العرفان:اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا اور جب کہا جائے: کھڑے ہو جاؤتو کھڑے ہوجایا کرو، اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور ان کے درجات بلند فرماتا ہے جنہیں علم دیا گیا اور اللہ تمہارے کاموں سے خوب خبردار ہے۔(المجادلہ،11)

مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس میں بیٹھنے کے بعد بغیر اجازت گفتگو شروع کرنا مناسب نہیں ہے ۔ بلخصوص علم کی مجالس میں یا کسی خاص بات چیت میں مثلاًاگر کوئی اسلامی بھائی بیان یا درس وغیرہ دے رہا ہے اور آپ جو ہے باتیں کر رہے ہوں یا موبائل چلا رہے ہوں ایسا کرنا درست نہیں ہے ۔

مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ جب کوئی بول رہا ہو تو بیچ میں بولنا یا اس کی بات کاٹنا خلاف ادب ہے ۔مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس کا موضوع مفید ہو اسلامی یاا خلاقی ہو تاکہ لوگوں کو فائدہ ہو اور وقت کا صحیح استعمال ہوا اور مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ اگر کسی مجلس میں کوئی بات اعتماد سے کی گئی ہو تو اسے بغیر اجازت دوسروں تک نہ پہنچا یا جائے ۔

مجلس کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ مجلس کو تسمیہ سے شروع کرنا اور جب ختم ہو جائے تو آ خر میں دعا کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی ختم کرتے تو یہ دعا پڑھتے مجلس کے اختتام پر پڑھی جانے والی دعا درج ذیل ہے: سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ ترجمہ: اے اللہ! تیری ذات پاک ہے اور میں تیری حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔

اللہ پاک ہم سب کو اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آ مین یاربّ العالمین ۔


اسی طرح مجلس کے حقوق بھی انسان کی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ وہ اس وجہ سے کہ جو چیز ہم مجلس میں سیکھتے ہیں وہ ہم اکیلے نہیں سیکھ سکتے ۔اور مجلس کے بہت سے فوائد ہیں ۔آیئے ہم مجلس کے چند حقوق بیان کرتے ہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ-وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْۙ-وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ(۱۱)

ترجمہ کنز الایمان : اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اُٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے۔( پارہ 28، سورۃ المجادلہ ،آیت نمبر 11)

(1)اپنے آنے والے بھائی کے لیے جگہ کشادہ کرو: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا نبی کریم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے (اس بات سے منع فرمایا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا دیا جائے اور اس جگہ میں دوسرا بیٹھ جائے البتہ تم سرک جایا کرو اور جگہ کشادہ کر دیا کرو یعنی بیٹھنے والوں کو چاہیے کہ آنے والے اسلامی بھائی کے لئے سرک جائیں اور اسے بھی جگہ دے دیں تا کہ وہ بھی بیٹھ جائے ) اور حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا ( اس بات کو ) مکر وہ جانتے تھے کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جائے اور یہ اس کی جگہ پر بیٹھیں ۔ ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہا کا یہ فعل کمال درجہ کی پرہیز گاری سے تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا دل تو اٹھنے کو نہیں چاہتا تھا مگر محض ان کی خاطر جگہ چھوڑ دی ۔( اچھے ماحول کی برکتیں ،صفحہ نمبر 45 پواینٹ نمبر 39 )

(2) دو آدمیوں کے درمیان بیٹھنا : کوئی شخص دو آدمی کے درمیان نہ بیٹھے مگر ان کی اجازت سے اور دوسری روایت میں ہے کہ کسی شخص کے لیئے حلال نہیں کہ وہ دو آدمیوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے جدائی کرے یعنی ان کے درمیان بیٹھ جائے ۔( اچھے ماحول کی برکتیں ، صفحہ نمبر 43، پواینٹ نمبر 27)

اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں ہر چیز کے حقوق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ مجلس کے حقوق بھی ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور دوسروں کو مجلس کے حقوق کے بارے میں بتاتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ خاتم النبیین


اسلام ایک مکمل ضابطۃ حیات ہے جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے واضح تعلیمات فراہم کرتا ہے۔ انسانی زندگی کا ایک بڑا حصہ دوسروں کے ساتھ بیٹھنے، گفتگو کرنے اور اجتماعی ماحول میں وقت گزارنے میں گزرتا ہے۔ ایسی نشستوں کو شریعت میں "مجالس" کہا جاتا ہے۔ ان مجالس کے کچھ مخصوص آداب ہیں جنہیں اختیار کرنا نہ صرف دینی تقاضا ہے بلکہ معاشرتی سکون اور باہمی محبت کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر مجالس کے آداب کو نظرانداز کیا جائے تو بسا اوقات یہ محفل باعثِ فساد اور دل آزاری کا سبب بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ

ترجمہ کنزالایمان: "اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا۔(پارہ 28: سورۃ المجادلہ: 11)

یہ آیت اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ مجالس میں ایک دوسرے کے لیے وسعت پیدا کرنا ایمان دار کی نشانی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى مَجْلِسٍ فَلْيَجْلِسْ حَيْثُ انْتَهَى بِهِ الْمَجْلِسُ۔ ترجمہ: "جب تم میں سے کوئی شخص کسی مجلس میں آئے تو جہاں تک جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے۔"(جامع الترمذی، حدیث: 2725)

یہ حدیث اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ مجلس میں ادب اور انکساری کے ساتھ بیٹھنا چاہیے، نہ کہ بے جا جگہ بنانے یا دوسروں کو دھکیلنے کی کوشش کی جائے۔

مجالس کے آداب

1. نیت کی درستگی: مجلس میں بیٹھنے سے پہلے نیت کرنی چاہیے کہ یہ وقت دینی یا دنیوی اعتبار سے نفع بخش گزرے گا۔

2. سلام کرنا: مجلس میں داخل ہوتے وقت سب کو سلام کرنا اور رخصت ہوتے وقت بھی سلام کہنا سنت ہے۔

3. جگہ بنانے کا ادب: اگر کوئی نیا آنے والا آئے تو اس کے لیے خوش دلی سے جگہ بنانا چاہیے۔

4. بیٹھنے کا طریقہ: مجلس میں بیٹھتے وقت میانہ روی اختیار کرنا چاہیے، نہ تو تکبر کے ساتھ بیٹھنا چاہیے اور نہ ہی بے ادبی سے۔

5. گفتگو میں اعتدال: مجلس میں گفتگو مختصر، مدلل اور بامقصد ہونی چاہیے۔ فضول گوئی اور غیبت سے سختی سے پرہیز کیا جائے۔

6. بڑوں کا ادب: اگر مجلس میں بڑے موجود ہوں تو ان کے احترام کو مقدم رکھنا چاہیے، ان کی بات کو توجہ سے سننا اور ان کی موجودگی میں بے ادبی نہ کرنا لازم ہے۔

7. راز افشائی سے اجتناب: اگر کسی مجلس میں کوئی بات اعتماد کے ساتھ بیان کی جائے تو اسے دوسروں تک پہنچانا خیانت ہے۔

8. اچھے کلمات کا انتخاب: مجلس میں نرم اور اخلاقی گفتگو کرنا چاہیے تاکہ لوگ آپ کے ساتھ بیٹھنے میں راحت محسوس کریں۔

9. وقت کی پابندی: مجلس کو غیر ضروری طول دینا اور دوسروں کا وقت ضائع کرنا مناسب نہیں۔

10. ذکرِ الٰہی و درود شریف: بہتر ہے کہ مجلس کا آغاز اور اختتام اللہ تعالیٰ کے ذکر اور درود پاک سے کیا جائے تاکہ مجلس باعثِ برکت بنے۔

مجالس کے آداب اسلام کی ان خوبصورت تعلیمات میں سے ہیں جو انسان کو باوقار، مہذب اور پرکشش بناتی ہیں۔ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ مجلس صرف وقت گزاری کا نام نہیں بلکہ ایک دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اگر ہم مجالس کے آداب پر عمل کریں تو نہ صرف معاشرتی تعلقات مضبوط ہوں گے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو نہ صرف انفرادی زندگی کے اصولوں کو ترتیب دیتا ہے بلکہ اجتماعی اور سماجی زندگی کے لیے بھی جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں جہاں انفرادی اخلاقیات پر زور دیا گیا ہے، وہیں مجالس (یعنی کسی محفل یا مجلس میں شرکت) کے بھی مخصوص آداب اور حقوق مقرر کیے گئے ہیں۔ مجلس کا مقصد صرف گفتگو نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور، اخوت، ادب، اور نیکی کے فروغ کی فضا قائم کرنا ہے۔ اس لیے مجلس کے کچھ مخصوص حقوق ہیں جن کا خیال رکھنا ہر فرد پر لازم ہے جو کسی مجلس میں شریک ہو۔

1. بیٹھنے کی جگہ کا لحاظ:مجلس میں بیٹھنے کا دوسرا اہم حق یہ ہے کہ کسی کی مخصوص جگہ پر بغیر اجازت نہ بیٹھا جائے۔

2. بات چیت میں عدل اور اخلاق:مجلس میں گفتگو کا ایک بڑا اثر ہوتا ہے، اس لیے وہاں زبان کا درست استعمال نہایت ضروری ہے۔ جھوٹ، غیبت، بہتان، چغلی اور فضول باتیں مجلس کا ماحول خراب کرتی ہیں۔اسلامی مجالس کا مقصد علم، نیکی، خیر خواہی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہونا چاہیے۔

3. مجلس کی بات کو امانت سمجھنا:ایک اور اہم حق یہ ہے کہ مجلس میں کی گئی بات کو باہر نہ پھیلایا جائے، جب تک کہ اس کی اجازت نہ ہو۔یہ مجلس کی رازداری اور افراد کے اعتماد کا تحفظ ہے۔

4. ادب و احترام کا ماحول قائم رکھنا:مجلس میں بزرگوں کا احترام، دوسروں کی بات کو توجہ سے سننا، بغیر اجازت گفتگو میں دخل نہ دینا، اور سب کو موقع دینا کہ وہ اپنی رائے پیش کر سکیں ،یہ سب ادب کے دائرے میں آتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کی مجالس اس ادب کا عملی نمونہ تھیں۔

5. کسی کو شرمندہ نہ کرنا:اسلامی تعلیمات کے مطابق مجلس میں کسی کو طنز و تمسخر کا نشانہ بنانا، مذاق اُڑانا یا اس کی خامیوں کو اُچھالنا سخت منع ہے۔ قرآن کہتا ہے:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ

ترجمہ کنز العرفان:"اے ایمان والو !مرد دوسرے مردوں پر نہ ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں۔(سورۃ الحجرات: 11)

یہ مجلس کے ایک اہم اخلاقی حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

اسلامی معاشرے کی تعمیر میں مجالس کا کردار بہت اہم ہے۔ ان مجالس میں اگر اسلامی آداب و حقوق کا خیال رکھا جائے تو یہ علم، اخوت، اصلاح، اور خیر کے مراکز بن سکتے ہیں۔ اگر ان حقوق کو نظر انداز کر دیا جائے تو یہی مجالس فتنہ، فساد، اور نفاق کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مجلس کے حقوق کا لحاظ رکھے اور ایک مہذب، بااخلاق، اور دین دار معاشرے کے قیام میں اپنا کردار ادا کرے۔


اسلام نے اپنے ماننے والوں کی ہر طرح سے رہنمائی فرمائی ہے ۔مجلس میں بیٹھنے اور ساتھ بیٹھنے والوں کے اداب بھی ذکر کیے تاکہ ہمارا چلنا پھرنا اور اٹھنا بیٹھنا اسلام کے اصولوں کے مطابق ہو۔ جب بھی کسی مجلس میں بیٹھے ہیں تو جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائیں ۔گردنیں پھلانگ کر آگے نہ جائیں کسی شخص کو اٹھا کر اس کی اس کی جگہ بیٹھنا منع ہے۔ اور یہ ادب کے بھی خلاف ہے سنت مبارکہ یہ ہے کہ سرک کر دوسرے اسلامی بھائی کو جگہ دی جائے۔ اور اگر کوئی اسلامی بھائی اجتماع وغیرہ میں بھی کسی ضرورت کی بنا پر اپنی جگہ سے تھوڑی دیر کے لیے مثلا پانی پینے یا کسی اور حاجت کے لیے گیا تو کسی دوسرے کے لیے اس کی جگہ بیٹھنا درست نہیں۔ البتہ اگر وہ اسلامی بھائی چلا ہی گیا اب واپس نہیں آئے گا تو اب اس کی جگہ کوئی بھی بیٹھ سکتا ہے دو آدمی بیٹھے باتیں کر رہے ہوں بغیر اجازت ان کے درمیان نہیں بیٹھنا چاہیے مجلس کو ذکر و درود سے خالی نہیں رکھنا چاہیے کہ ایسی مجلس آخرت میں حسرت اور ندامت کا باعث ہوگی گناہ بھری مجلسوں سے دور رہنا چاہیے مجلس کے اختتام پر مجلس سے اٹھنے کی دعا پڑھ لینی چاہیے۔

آئیے مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے اداب کے بارے میں پڑھتے ہیں۔

(1)مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے:حضرت سَیِّدُنا عبد اللہ ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور وُسعت پیداکرو ۔“(راوی کہتے ہیں)اگر کوئی شخص مجلس میں کھڑا ہو کر حضرت ابنِ عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے ۔(مسلم شریف کتاب السلام باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ الخ ص924 حدیث نمبر 5686 )

چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا واثلہ بن خطاب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ ایک شخص تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ رحمت دوعالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُس کے لیے اپنی جگہ سے سِرک گئے۔اس نے عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!جگہ کشادہ موجود ہے(آپ کو سِرکنے اور تکلیف فرمانے کی ضرورت نہیں)۔آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”مسلمان کا حق یہ ہے کہ جب اس کا بھائی اسے دیکھے تو اس کے لیے سرک جائے۔“

(شعب الایمان ،باب فی مقاربۃ اھل الدین وموادتھم، فصل فی قیام المرء لصاحبہ الخ ج6 ص 468 حدیث نمبر 8933)

(2) حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مجلس:شہنشاہِ مدینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عاجزی و اِنکساری پرقربان!آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے بیٹھنےکی کوئی جگہ معین نہ فرماتے اور مجلس کے آخری حصے میں بھی بیٹھ جاتے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنا امام حسن مجتبیٰ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت سَیِّدُنا علی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے دریافت کیا : تاجدارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس کیسی ہوتی تھی انہوں نے جواب دیا: آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اٹھتے بیٹھتے اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہتے تھے،کوئی جگہ اپنے بیٹھنے کے لیے معین نہ فرماتےاور دوسروں کو بھی ایسا کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔جب کسی قوم کی مجلس میں تشریف لے جاتے تو مجلس کے آخری حصے میں بیٹھ جاتے اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے۔اپنے ہم نشینوں کو علیٰ قدرِمراتب (یعنی ان کے مقام و مرتبہ کے مطابق) نوازا کرتے تھے جس سے ہر ایک یہی گمان کرتا تھا کہ آقائے دوجہان، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے زیادہ نظرِ کرم میرے ہی حال پر ہے۔ جو شخص بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہوتا یا کسی حاجت کے سبب آنا پڑتا تو جب تک وہ فارغ ہو کر چلا نہ جاتا اتنی دیر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس کے پاس تشریف رکھتے۔ جس نے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں اپنی حاجت پیش کی اس کی ضرور آ پ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حاجت روائی فرمائی یا اسے سمجھا کر مطمئن کردیا۔(الشفاء شریف الجزء الاول ص159)

(3)درمیان بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے:حضرت سَیِّدُنا حذیفہ بن یمان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت فرمائی۔ترمذی نےحضرت ابو مِجْلَزْ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت کیا کہ ایک شخص حلقے کے درمیان بیٹھا تو حضرت سَیِّدُنَا حذیفہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا:”حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان پریہ شخص ملعون(یعنی لعنت کیا گیا )ہے۔“یا کہا:” اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زبان سے حلقہ کے درمیان بیٹھنے والے پر لعنت بھیجی ہے ۔“

شرح حدیث:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب کچھ لوگ حلقہ بنا کر بیٹھے ہوں یا سنتوں بھرا اجتماع ہورہا ہے تو آنے والے اسلامی بھائی کو چاہیے کہ مجلس کے کنارے یا اختتام میں جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے یہ نہ ہو کہ سب کے کندھوں کو پھلانگتا ہوا حلقہ کے بیچ میں جا بیٹھے،اس طرح دوسروں کو ایذا بھی ہوتی ہے اور اپنا وقار بھی خراب ہوتا ہے اور ایسا کرنا سخت منع ہےکہ ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی گئی ہے۔(فیضان ریاض الصالحین مترجم ،جلد 6 ،ص368، الحدیث 830)

(4) یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی:حضرت سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھتی ہےاور اس میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکرنہیں کرتی اور نبی پاک صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہوگی، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔“(ترمذی شریف کتاب الدعوات، باب فی القومی یجلسون ولا یذکرون اللہ ، ج5، صفحہ 247، حدیث نمبر 3391)

اللہ پاک سے دعا ہے اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے حقوق کی پاسداری کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضور ﷺ کے فرمائے ہوئے طریقہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اللہ پاک ہم سب کو بری مجلسوں سے محفوظ فرمائے اور گناہوں پر مجلسوں سے دور رکھے۔ آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ 


میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اسلام ایک ایسا پُرامن دین ہے جس نے ہمیں ہر چیز کے حقوق سکھائے ہیں مثلا والدین کے حقوق استاتذہ کے حقوق میاں بیوی کے حقوق راستے کے حقوق وغیرہ آئیے اب ہم قران مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں مجلس کے حقوق سیکھتے ہیں۔

پہلے آ کر بیٹھ چکا ہو اسے اس کی جگہ سے نہ اٹھایا جائے سوائے کسی بڑی ضرورت کے یا یوں کہ اہم حضرات کیلئے نمایاں جگہ بنادی جائے جیسے دینی و دُنْیَوی دونوں قسم کی مجلسوں میں سرکردہ حضرات کواسٹیج پر یا سب سے آگے جگہ دی جاتی ہے اور ویسے یہ ہونا چاہیے کہ بڑے اور سمجھدار حضرات سننے کیلئے زیادہ قریب بیٹھیں ۔

حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’تم میں سے جو لوگ بالغ اور عقل مند ہیں انہیں میرے قریب کھڑے ہونا چاہئے ،پھر جو ان کے قریب ہوں ،پھر جو ان کے قریب ہوں ۔( ابو داؤد ، کتاب الصلاۃ، باب من یستحبّ ان یلی الامام فی الصفّ وکراہیۃ التأخّر، ۱ / ۲۶۷، الحدیث: ۶۷۴)

اور حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ ُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے،حضور پُر نور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں سے ان کے مرتبے اور منصب کے مطابق معاملہ کرو۔( ابو داؤد ، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴ / ۳۴۳، الحدیث: ۴۸۴۲)

فضیلت اور مرتبے والے خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھیں : فضیلت اور مرتبہ رکھنے والے حضرات کو چاہئے کہ وہ خود کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ پر نہ بیٹھیں کیونکہ کثیر اَحادیث میں حضورِ اقدس ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ،جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود ا س کی جگہ پر نہ بیٹھے۔( مسلم،کتاب السلام،باب تحریم اقامۃ الانسان من موضعہ المباح الذی سبق الیہ،ص۱۱۹۸،الحدیث:۲۷(۲۱۷۷))

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ مَا سے مروی دوسری روایت میں ہے،رسولِ کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک شخص کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خوداس کی جگہ بیٹھ جائے البتہ (تمہیں چاہئے کہ )دوسروں کے لئے جگہ کشادہ اور وسیع کر دو۔( بخاری، کتاب الاستئذان، باب اذا قیل لکم تفسّحوا فی المجٰلس۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۷۹، الحدیث: ۶۲۷۰)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو دیکھا آپ نے کہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ نے ہمیں کس طرح مجلس کے حقوق سکھائے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے ہمیں چاہیے کہ ہم قران مجید اور احادیث مبارکہ میں جس جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر بھی عمل کریں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے امین بجاھل خاتم النبیین ﷺ !


اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کے ہر پہلو کی رہنمائی کرتا ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی، ہر موقع پر آداب اور اخلاق کا خیال رکھنا ایک مؤمن کی پہچان ہے۔ اسلام نے "مجلس" یعنی کسی اجتماع یا نشست کے بھی مخصوص حقوق بیان کیے ہیں تاکہ معاشر ہ حسنِ اخلاق، باہمی عزت اور ادب پر قائم رہے۔

1. مجلس میں خوش اخلاقی اور نرم گفتاری:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"من کان یؤمن باللہ والیوم الآخر فلیقل خیرا أو لیصمت"ترجمہ:جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ بھلا کلام کرے یا خاموش رہے۔ (صحیح بخاری: 6475، صحیح مسلم: 47)

مجلس میں خوش اخلاقی اور مثبت گفتگو کا حکم ہے تاکہ دلوں میں محبت اور الفت پیدا ہو۔

2. بیٹھنے کی جگہ کا لحاظ رکھنا:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ کوئی شخص دوسرے کو اُس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھے۔ (صحیح بخاری: 6269، صحیح مسلم: 2177)

یہ حدیث ہمیں مجلس میں موجود افراد کا احترام سکھاتی ہے۔

3. مجلس میں عدل و مساوات:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"إذا أتاکم كريم قوم فأكرموه "ترجمہ:جب تمہارے پاس کسی قوم کا معزز فرد آئے تو اس کی عزت کرو۔ (ابو داؤد: 4843)

5. مجلس میں راز داری:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"المجالس بالأمانة"ترجمہ:مجلسیں امانت ہوتی ہیں۔ (ابو داؤد: 4869، حسن)

یعنی جو بات کسی مجلس میں رازدارانہ ہو، اس کا افشاء کرنا منع ہے۔

مجلس، چاہے دینی ہو یا دنیاوی، اسلام نے اس کے آداب اور حقوق مقرر کیے ہیں تاکہ محبت، امن، اور عدل پر مبنی معاشرہ قائم ہو۔ ہمیں چاہیے کہ مجلس کے ان حقوق کا خیال رکھیں، بزرگوں کا احترام کریں، دوسروں کو بولنے دیں، اور اخلاقِ حسنہ سے اپنے کردار کو سنواریں۔


مجلس میں بیٹھنے کے آداب کو بیان کیا گیا ہے کہ مجلس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ مجلس میں کشادگی اور وسعت پیدا کرنے کا حکم ہے۔

مفسر شہیر مُحَدِّثِ كَبِيرٍ حَكِيمُ الْأُمَّتَ مُفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہ حکم عام ہے کہ کسی کو اُس کی جگہ سے اٹھا کر خود بیٹھ جانا ممنوع ہے ، ہاں اگر وہ شخص ناجائز طور پر وہاں بیٹھا تھا تو اُسے اٹھا دینا جائز ہے۔ جیسے کوئی مسجد میں امام یا مؤذن کی مقرر جگہ بیٹھ جائے یا وہ کسی کی جگہ بیٹھ گیا تھا تو یہ لوگ آکر اٹھا سکتے ہیں کہ یہ جگہ خود ان کی اپنی ہے نہ کہ اس بیٹھے ہوئے کی۔ (مراۃ المناجیح)

آئیے کچھ احادیث ملاحظہ کرتے ہیں۔

(1) دوسرے کی جگہ نہ بیٹھنا :حضرت سید نا عبد اللہ ابن عمر رَضِی الله تَعَالَ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم رؤف رحیم صلی الله تعال علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے کو مجلس میں سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے بلکہ تم مجلس میں کشادگی اور و میں کشادگی اور وسعت پیدا کرو۔ " (راوی کہتے ہیں) اگر کوئی شخص میں کھڑا ہو کر حضرت کا ابن عمر رَضِی اللهُ تَعَالَ عَنْهُمَا کو بیٹھنے کی جگہ دیتا تو آپ اس کی جگہ نہ بیٹھتے۔ (فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد نمبر : 6 ، صفحہ نمبر : 357 ، حدیث نمبر : 825 ، مکتبتہ المدینہ )

(2) مجلس کے آخر میں بیٹھنا : حضرت سیدنا جابر بن سمرہ رَضِی اللهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فرماتے ہیں: "ہم جب حضور تاجدارِ مدینہ صلَّی اللہ تعال عَلَيْهِ وَالہ وَسَلَّم کی مجلس میں جاتے تو جہاں جلس ختم ہوئی وہیں بیٹھ جاتے۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب فی التحلق ، جلد : 4 ، صفحہ نمبر : 339 ، حدیث نمبر : 4825 )

(3) کشادہ مجلس رکھنا : حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِی اللهُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی کریم رؤوف رحیم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔“(فیضان ریاض الصالحین مترجم ، باب : مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب ، جلد : 6 ، صفحہ نمبر : 371 ، حدیث نمبر : 831 ، مکتبۃ المدینہ )

(4) مجلس میں اللہ کا ذکر کرنا : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو قوم کی مجلس میں بیٹھتی ہے اور اس میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر نہیں کرتی اور نبی پاک صلی اللہ تَعَالٰی پر درود پاک نہیں پڑھتی تو یہ مجلس ان کے لیے ندامت کا باعث ہو گی، اگر اللہ چاہے تو انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف فرمادے۔“ (جامع الترمذی ، کتاب الدعوات ، باب فی القوم یجلسون ولا یذکرون اللہ ، 5/ 247 ، حدیث نمبر : 3391 )

(5) مجلس کے اختتام پر دعا پڑھنا : حضرت سیدنا ابو برزہ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: حضور نبی اکرم ﷺ اپنی عمر کے آخری ایام میں جب کسی مجلس سے اٹھنے کا ارادہ فرماتے تو یہ الفاظ کہتے : " سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ اسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ یعنی اے الله تو پاک ہے، تیرے لئے حمد ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ “ ایک شخص نے عرض کی: یارسول الله ﷺ ! اس سے پہلے آپ ﷺ م یہ الفاظ نہیں فرمایا کرتے تھے آپ ﷺ نے فرمایا: یہ الفاظ مجلس میں ہونے والی فضول باتوں کا کفارہ ہیں۔ (ابو داؤد شریف ، کتاب الادب ، باب فی کفار المجلس ، 4 / 348 ، حدیث نمبر : 4859 )


انسانی معاشرت کا حسن اس کی مجالس میں جھلکتا ہے۔ مجالس ہی وہ آئینہ ہیں جہاں اخلاق و کردار کی حقیقت سامنے آتی ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات اور معاملات کی تفصیل بیان کی، وہاں نشست و برخاست کے بھی آداب مقرر کیے تاکہ ہر مجلس خیر و برکت کا ذریعہ بنے۔ سوال یہ ہے کہ مجلس کو صالح اور بامقصد بنانے کے لیے کیا اصول اپنانے چاہییں قرآن و سنت نے اس کا نہایت حسین جواب دیا ہے۔

قرآن میں مجلس کا تصوراللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْۚ- ترجمہ کنز العرفان:"اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ)مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردو، اللہ تمہارے لئے جگہ کشادہ فرمائے گا "(المجادلۃ،58: 11)

یہ آیت سکھاتی ہے کہ مجلس میں ایثار اور وسعتِ قلب اختیار کرو، تاکہ اللہ زندگی اور آخرت میں وسعت دے۔ مجلس صرف ملاقات نہیں بلکہ باہمی عزت، ادب اور اخوت کا آئینہ ہے۔

مجالس کے حقوق:رسول اللہ ﷺ نے مجالس کے آداب پر بارہا تاکید فرمائی آپ ﷺنے مجلس کو کشادہ کرنے کے بارے میں فرمایا:من أَتَى مَجْلِسا ‌فَوسعَ ‌لَهُ حَتَّى يرضى كَانَ حَقًا على الله عز وجل رضاهم يَوْم الْقِيَامَة ۔

"جو شخص کسی مجلس میں آئے اور اس کے لیے جگہ کشادہ کر دی جائے یہاں تک کہ وہ راضی ہو جائے، تو اللہ عزوجل کے ذمہ ہے کہ قیامت کے دن اُنہیں راضی فرمائے۔"(الدیلمی،شیرویہ بن شھردار،الفردوس بماثور الخطاب،ج:3،ص:619،رقم الحدیث:5933،(الناشر:دارالکتب العلمیۃ،بیروت،1406ھ))

رسول اللہ ﷺ نے مجالس کے حقوق کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:إِذَا ‌قَامَ ‌أَحَدُكُمْ ‌مِنْ ‌مَجْلِسِهِ، ‌ثُمَّ ‌رَجَعَ، ‌فَهُوَ ‌أَحَقُّ ‌بِهِ۔"یعنی اگر کوئی اپنی جگہ سے اٹھے اور واپس آئے تو وہی اس کا زیادہ حق دار ہے" ((القزوینی،محمد یزید ابن ماجہ،جامع السنن،ص:783،رقم الحدیث:3713،(الناشر:دار الصدیق للنشر،السعودیۃ ،1435ھ))

اس سے واضح ہوا کہ مجلس میں عدل، مساوات اور ترتیب کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: ‌مَنْ ‌جَلَسَ ‌مَجْلِسًا ‌فَكَثُرَ ‌فِيهِ لَغَطُهُ فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔ "جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا اور اس میں اس کی باتیں زیادہ ہو گئیں (لغو و فضول باتیں ہوئیں)، پھر وہ اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے: سبحانک اللهم وبحمدک، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليكتو اس مجلس میں جو کچھ (لغویات یا کوتاہیاں) ہوئیں، ان سب کی بخشش کر دی جاتی ہے۔" (التبریزی،محمد بن عبداللہ،مشکاۃ المصابیح،ج:2،ص:752،رقم الحدیث:2433،(الناشر:المکتب الاسلامی،بیروت ،1985ء)

مجلس کے آداب:اسلامی تعلیمات کے مطابق مجلس کے بنیادی آداب یہ ہیں:

1. سلام کے ساتھ آغاز اور دعا کے ساتھ اختتام۔

2. دوسروں کے لیے جگہ دینا اور احترام قائم رکھنا۔

3. لغویات اور بے مقصد باتوں سے اجتناب۔

4. گفتگو میں عدل اور ہر ایک کو بولنے کا حق دینا۔

5. ناپسندیدہ یا شرعی طور پر ممنوع موضوعات سے بچنا۔

اسلام نے مجالس کو محض ملاقات کا ذریعہ نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور سماجی تربیت کا مرکز بنایا ہے۔ اچھی مجلس فرشتوں کی دعا اور اللہ کی رحمت کا باعث ہے، جبکہ بری مجلس انسان کو جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی مجالس کو ذکرِ الٰہی، علم و حکمت اور محبت و اخوت سے مزین کرے تاکہ دنیا بھی سنورے اور آخرت بھی روشن ہو۔


اسلامی تعلیمات میں مجلس (بیٹھک، محفل یا اجتماع) کے بھی کچھ آداب اور حقوق ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن و سنت میں اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں تاکہ مسلمان آپس میں محبت، عزت اور باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزاریں۔

1. مجلس میں وسعت دینا:اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ (سورۃ المجادلہ: آیت 11 : پ28)

ترجمہ کنز العرفان: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے (کہ )مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کرودو، اللہ تمہارےلئے جگہ کشادہ فرمائے گا۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تنگی نہ کی جائے بلکہ دوسروں کے لیے جگہ بنائی جائے۔

2. سلام اور اجازت کے ساتھ داخل ہونا:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: إِذَا انْتَهَى أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَجْلِسِ فَلْيُسَلِّمْ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَقُومَ فَلْيُسَلِّمْ، فَلَيْسَتِ الْأُولَى بِأَحَقَّ مِنَ الْآخِرَةِ۔ ترجمہ: جب تم میں سے کوئی کسی مجلس میں آئے تو سلام کرے، اور جب وہاں سے جانا چاہے تب بھی سلام کرے۔ پہلی سلامی دوسری سے زیادہ حق دار نہیں ہے۔(سنن ابی داؤد: 5208)

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مجلس میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت سلام کرنا سنت ہے۔

3. مجلس میں برابری کا رویہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لاَ يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ ترجمہ: کوئی شخص کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔(صحیح بخاری: 6269، صحیح مسلم: 2177)

یہ حدیث اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مجلس میں برابری ہو اور کسی کو حقیر نہ سمجھا جائے۔

4. فضول باتوں اور لغویات سے پرہیز:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مِنْ حُسْنِ إِسْلاَمِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ ترجمہ: آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ فضول باتوں کو چھوڑ دے جو اس سے متعلق نہیں۔(سنن ترمذی: 2317)

لہٰذا مجلس کو فضول گفتگو، غیبت اور لغو باتوں سے پاک رکھنا ضروری ہے۔

5. مجلس کے گناہوں کا کفارہ:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا فَكَثُرَ فِيهِ لَغَطُهُ، فَقَالَ قَبْلَ أَنْ يَقُومَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ۔ ترجمہ: جو شخص کسی مجلس میں بیٹھے اور وہاں فضول باتیں زیادہ ہوں، پھر وہ یہ دعا پڑھے تو اس مجلس کی لغزشیں معاف کر دی جاتی ہیں۔(سنن ترمذی: 3433)

اسلام نے مجلس کے ایسے حقوق اور آداب بیان کیے ہیں جو انسان کو اخلاقی، سماجی اور روحانی طور پر نکھارتے ہیں۔ مجلس کو ذکرِ الٰہی، علم کی باتوں اور نیکی کے کاموں کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ غیبت، جھوٹ یا فساد کے لیے۔ اگر مسلمان ان آداب پر عمل کریں تو ان کی محافل سکون، محبت اور خیر و برکت کا مرکز بن جائیں گی۔


اسلام آباد (نیوز ڈیسک)

تحریکِ جوانانِ پاکستان کے سربراہ اور سینئرتجزیہ کار عبداللہ حمید گل نے مدنی مرکز فیضانِ مدینہ G-11 اسلام آباد کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے جانشین و خلیفۂ امیرِ اہل سنت مولانا حاجی عبیدرضا عطاری مدنی مُدَّ ظِلُّہُ العالی سے ملاقات کی اور مختلف ملی و سماجی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔

ملاقات کے کلیدی نکات:

نوجوانوں کی کردار سازی: عبداللہ حمید گل نے نوجوانوں کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت اور ان کی اخلاقی تربیت کے حوالے سے دعوتِ اسلامی کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کے فتنوں سے بچانے کے لیے نوجوان نسل کو دین سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دینی و دنیاوی تعلیم کا امتزاج:

دورانِ گفتگو جانشینِ امیرِ اہلِ سنت نے بتایا کہ دعوتِ اسلامی نوجوانوں کو نہ صرف دینی تعلیمات سے آراستہ کر رہی ہے بلکہ جدید عصری علوم اور ہنر مندی کے شعبوں میں بھی ان کی رہنمائی کر رہی ہے۔

پاکستان کی سلامتی اور اتحاد:

دونوں شخصیات نے ملک کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی ترقی ”اتحادِ بین المسلمین“ اور مضبوط قومی تشخص میں پنہاں ہے۔

فیضانِ مدینہ کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ:

ملاقات کے بعد عبداللہ حمید گل کو فیضانِ مدینہ میں قائم مختلف ڈیپارٹمنٹ کا دورہ بھی کروایا گیا۔ انہیں دعوتِ اسلامی کے تحت چلنے والے فلاحی منصوبوں اور تعلیمی نظام (جامعۃ المدینہ / دارالمدینہ اور دیگر تعلیمی اداروں) کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

تعریفی کلمات:

”دعوتِ اسلامی کا نیٹ ورک اور نظم و ضبط قابلِ تحسین ہے۔ جس طرح یہ تنظیم خاموشی کے ساتھ معاشرے کی اصلاح اور انسانیت کی خدمت کر رہی ہے، وہ تمام محبِ وطن پاکستانیوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔“ عبداللہ حمید گل (چیئرمین تحریکِ جوانانِ پاکستان)

اختتامی دعا اور تحائف کا تبادلہ:

ملاقات کے اختتام پر خلیفۂ امیرِ اہلِ سنت مولانا عبید رضا عطاری نے عبداللہ حمید گل کی ملک و قوم کے لیے خدمات کو سراہا اور ان کی سلامتی کے لیے خصوصی دعا فرمائی۔ اس موقع پر انہیں دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی جانب سے شائع کردہ کتب کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔